Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 9

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 9

–**–**–

عصر کی نماز پڑھ کر وہ گھر لوٹا تو مسکان نقاب پہن کر تیار کھڑی تھی ۔

”چلیں !….میں آپ ہی کی منتظر تھی ؟“

”کہاں ؟“وہ حیران رہ گیا ۔

”بتاتی ہوں ۔“وہ اس کا بازو پکڑ کر گیراج کی طرف لے گئی ۔ایک ہی دن میں وہ بہت بے تکلف ہو گئی تھی ۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ دانیال کو بہت عرصے سے جانتی ہو ۔

”امی جان سے تو پوچھ لوں ؟“

”میں ان سے اجازت لے چکی ہوں ۔“

اس نے احتجاجاََ کہا۔”مگر مجھے تو ڈرائیونگ نہیں آتی ….کار کون چلائے گا؟“

”بیٹھو تو سہی ۔“ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے اس کے لےے دوسری جانب کا دروازہ کھول دیا ۔

وہ مسمسی صورت بنا کر بولا۔”مِشّی !….مروا نہ دینا،بڑی مشکل سے میری شادی ہوئی ہے ۔ ابھی تک تو میں ہنی مون بھی نہیں منا سکا ہوں ؟“

اس کی بات سن کر مسکان کے حلق سے بلند بانگ قہقہہ برآمد ہوا ۔

”دانی کے بچے !….کبھی سیدھی بات نہیں کرنا ۔“مسکان کے لہجے میں بلا کی چاہت موج زن تھی۔

”اللہ پاک کرے ،میری مشی ہمیشہ ہنستی رہے ؟“دانیال اس کی ہنسی دیکھ کر مبہوت ہو جاتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کی چاہت ہلکورے لینے لگی ۔

مسکان موضوع بدلتے ہوئے بولی ۔

”اچھا یہ دیکھو نا؟….اسے گیئر کہتے ہیں ۔ہمیشہ گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے چیک کر لو، کہ یہ نیوٹرل ہے ، اور یہ اس طرح نیوٹرل ہوتاہے ۔“مسکان اسے ڈرائیونگ کے بارے ابتدائی باتیں بتانے لگی ۔ ”یہ ایکسی لیٹر ہے ، اس کے ساتھ بریک اور ساتھ ہی کلچ۔ان تینوں کے استعمال میں آپ نے دائیں پاو¿ں سے مدد لینی ہے۔ یہ ہینڈ بریک ہے ۔اور ……..“وہ اسے تفصیل سے بتانے لگی جبکہ دانیال مذاق چھوڑ کر دلچسپی سے سیکھنے لگا ۔

اسے ڈرائیونگ کے بارے ابتدائی باتیں بتاکر مسکان کار سٹارٹ کر کے گھر سے باہر لے آئی۔ اس نے کار کا رخ ساحل سمندر کی طرف موڑ دیا۔نسبتاََ ویران سڑک دیکھ کر اس نے دانیال کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا ۔شروع میں دانیال کو تھوڑی سی گھبراہٹ ہوئی ،مگر جلد ہی وہ ڈرائیونگ سے لطف اندوز ہونے لگا۔شام کی اذان سن کر وہ واپس ہوئے۔واپسی پر ڈرائیونگ کی ذمہ داری دوبارہ مسکان نے سنبھال لی تھی۔

گھر میں داخل ہوتے وقت دانیال بولا۔

”ویسے ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مزدور اتنی قیمتی کار میں بیٹھ کر مزدوری کے لےے جائے گا ۔ شاید، اس کتاب میں نام بھی آ جائے ،وہ کیا کہتے ہیں جس میں انوکھی باتیں لکھی جاتی ہیں ۔“

”گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ؟“مسکان نے ہنستے ہوئے لقمہ دیا ۔

”ہاں وہی ۔“

”دانی !….بھول جاو¿ مزدوری کو ۔اب انشاءاللہ آپ مزدوری نہیں کریں گے ؟“

”مزدوری ہی ٹھیک جی !….ڈاکے ڈالنا میرے بس سے باہر ہے ؟“

”ڈاکے ؟‘مسکان نے نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا ۔

”ہاں نا؟….اور کیا کار پر بیٹھ کر بھیک مانگوں گا ۔ہنسیں گے سب لوگ؟“

مسکان کار کو ریورس کر کے گیراج میں کھڑ ی کر رہی تھی ۔اس کی بات سن کر بے تحاشا ہنسنے لگی ۔

”کھی ….کھی ….کھی نہ کرو ۔سچ کہہ رہا ہوں ۔مزدروی کے علاوہ مجھ جیسے بندے کے لےے ، ڈاکے یا بھیک مانگنے کا کام ہی رہ جاتا ہے ۔“

”اتنی جلدی میری ہنسی بری لگنے لگی ؟“مسکان اچھی طرح جانتی تھی کہ اس نے مذاق میں کہا ہے ،مگر جانے کیوں وہ اس کایہ مذاق برداشت نہ کر سکی ۔

”م….مم….میں نے کب کہا ہے ایسا ؟….مم ….مِشّی میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔میں تو …. میں تو….مذاق میں ….تمھاری قسم مِشّی مذاق تھا ۔“

اس کی گھبراہٹ دیکھ کر مسکان کو ندامت ہوئی ۔اسے تسلی دینے کے لےے اسے ایک فہمائشی قہقہہ نچھاور کرنا پڑا۔

”میں بھی مذاق کر رہی تھی نا؟“

دانیال نے اطمینان بھرا سانس لیا ۔”تم نے تو مجھے مار ہی دیا تھا ۔آئندہ ایسا مذاق نہ کرنا ؟“

”آپ کا مذاق بھی تو ……..“وہ کہتے کہتے رک گئی ۔اسے محسوس ہوا وہ کچھ زیادہ ہی دانیال کے قریب ہو رہی ہے ۔

”ہاں ….ہاں کہو ….چپ کیوں ہو گئیں ؟“دانیال نے بے صبری سے پوچھا ۔

”کچھ نہیں ۔“وہ خاموشی سے نیچے اتر گئی ۔عائشہ خاتون دراوزہ بند کر کے آرہی تھی ۔ دونوں کو دیکھ کر چاہت سے بولی ۔

” چاند سورج کی جوڑی لگتے ہو دونوں ۔“

”ہاں امی جان ….بس سورج کو گرہن لگا ہے ذرا ؟“دانیال مسکرا کو بولا۔

مسکان اس کے مذاق پر سنجیدگی سے بولی ….

”دانی !….بڑوں کی باتوں کا مذاق نہیں اڑاتے ؟“

وہ زور دیتے ہوئے بولا۔”یہ مذاق نہیں ہے ؟“

”یہ مذاق ہے ۔“وہ اس کے سامنے تن گئی ۔

”تمھارے یا امی جان کے کہنے سے یہ حقیقت نہیں بدل سکتی ۔“

”میں دوبارہ میں آپ کے منہ سے یہ نہ سنوں اوکے؟“مسکان کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی حکمیہ ہو گیا تھا ۔ ڈیڑھ دن کے تعلق ہی میں اسے اپنی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا ۔

”ارے ….رررے ….آپ دونوں تو لڑنے لگے ؟“عائشہ خاتون گھبرا گئی ۔

”نہیں امی !….یہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔مجھے ایسا نہیں کہنا چاہےے تھا ۔“دانیال کے لہجے میں طنز کے بجائے انکساری اور ندامت کا عنصر نمایاں تھا۔مسکان کی ہر بات بے چوں چراں ماننا شاید اس کا مذہب تھا۔

”اچھا کہاں گئے تھے ؟“عائشہ خاتون نے فوراََ گفتگو کا رخ موڑا۔

”ماں جی !….دانی کو ڈرائیونگ سکھا رہی تھی ۔“

عائشہ خاتون خوش ہو کر بولی۔”ہاں بیٹی !….ٹیکسی چلا نا اس موئی سٹیل مل کی مزدوری سے تو آسان ہو گا ؟“

”ماں جی بتایا تو ہے ….دانیال نہ مزدوری کرے گا اور نہ ٹیکسی چلائے گا ؟“

”تو پھر کیا کرے گا بیٹی ؟“عائشہ خاتون نے فکر مندی سے پوچھا۔

”سوچوں گی ،اِن کے لےے کیا کرنا بہتر رہے گا ؟“

عائشہ خاتون نے کچھ کہنے کے لےے منہ کھولنا چاہا….پھر جانے کیا سوچ کر اس نے ارادہ بدلا اور کہا ۔

”آپ لوگوں نے یقینا نماز نہیں پڑھی ہو گی ؟“

”ہاں ماں جی !….“کہہ کر مسکان واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔جبکہ دانیال کا رخ دوسرے واش روم کی طرف ہو گیا ۔وہ جانتا تھا کہ مسکان اس کے نماز نہ پڑھنے کا بہت سخت نوٹس لے گی ۔اور وہ مسکان کو ناراض کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

٭……..٭

ایک ہفتے کے اندر دانیال اچھی خاصی ڈرائیونگ کرنے لگا تھا ۔ہفتہ گزرنے کا مسکان کو پتا ہی نہیں چلا تھا ۔دن پر لگا کر اڑ رہے تھے ۔دانیال کی محبت میں عقیدت کا عنصر نمایاں تھا ۔وہ اس کا بندہ¿ بے دام اور اشارہ¿ ابرو کا غلام تھا ۔ایک ہفتے کے اندر مسکان کو محسوس ہوا کہ وہ اس کا بہت زیادہ مزاج شناس ہو گیا ہے ۔ ادھر کوئی خیال مسکان کے ذہن میں گزرتا وہ سمجھ لیتا وہ کیا چاہتی ہے ۔

عائشہ خاتون بھی اس سے بہت شفقت سے پیش آتی تھی ۔مسکان کو یقین تھا کہ وہاں سے واپسی کا مرحلہ ،آمد سے بھی دشوار گزار ثابت ہو گا۔وہ مختصر وقت میں دانیال کی جھولی خوشیوں سے بھر دینا چاہتی تھی ۔ اس کے ذہن میں ایک اچھوتی تجویز آئی ۔سکول لائف میں وہ دو مرتبہ گھر والوں کے ساتھ مری اور کاغان وغیرہ کی سیر کو جاچکی تھی ۔حماد سے شادی کے بعد اس نے حماد کے سامنے شمالی علاقہ جات میں ہنی مون کی تجویز پیش کی تھی، مگر حماد کے دلچسپی نہ لینے پر اسے چپ سادھنا پڑی تھی ۔وہ ایسا ہی تھا ،صرف اپنی بات منوانا جانتا تھا ۔مگر اب یہاں کے قیام میں وہ اس فراغت سے فائدہ اٹھا سکتی تھی ۔اور پھر رات کو وہ دانیال سے اسی موضوع پر بات کر رہی تھی ۔

”دانی !….یاد ہے آپ نے اس دن ہنی مون کی بات کی تھی ؟“

”اور اب تم اس مزاحیہ انداز میں کہے گئے فقرے کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہیں ،ہے نا ؟“ وہ ہمیشہ کی طرح تمہید ہی سے اس کا ارادہ جان گیا تھا۔

مسکان کے جی میں آئی کہ اس سے پوچھے آخر تم میری منشا بتاے بغیر کیسے جان جاتے ہو ؟مگر پھر جانے کیا سوچ کر وہ خاموش ہو رہی ۔اور اس کے استفسار کے جواب میں سر ہلادیا ۔

”ٹھیک ہے مِشّی ۔دو تین دن ٹھہر جاو¿ پھر جہاں کہو گی چلیں گے ۔“وہ مسکان کی خواہش رد کرنا جانتا ہی نہیں تھا۔

”دو تین دن کیوں ؟“

”ہے نا…. ایک ضروری کا م؟“

”نہیں مجھے بتاو¿؟“وہ لاڈ سے مستفسر ہوئی ۔

”دو تین دن میں دوسرے گھر کا سودا ہو جائے گا نا ؟تو ……..“

”پر اسے کیوں بیچنا چاہتے ہو؟“مسکان نے قطع کلامی کی ۔

وہ معصومیت سے بولا۔”مِشّی !….کسی دوسرے شہرجانے کے لےے آخر رقم تو ضرورت پڑے گی نا ؟“

”توبہ ….“مسکان نے سر پیٹ لیا ۔”شکر ہے میں نے پوچھ لیا تھا ،ورنہ آپ نے تو کارنامہ سر انجام دے دینا تھا ؟“

”کیا ہوا ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔

”یہ آپ کو کس نے کہا ہے کہ میرے پاس پیسے کی کوئی کمی ہے ۔“

”مگر مشی !……..؟“

”چھوڑو اگر مگر کو ….آئندہ گھر بیچنے کا سوچنا بھی مت ….اور یاد سے کل امی جان سے اجازت لے لینا ،اگر وہ ساتھ چلنا چاہیں توبہ بسرو چشم، ورنہ انھیں ایک ہفتہ اکیلا رہنا پڑے گا۔پرسوں ان شاءاللہ نکل چلیں گے ؟“

٭……..٭

عائشہ خاتون کوئی بچی نہیں تھی کہ بیٹے اور بہو کے درمیان کباب میں ہڈی بننے کی کوشش کرتی۔اس نے بہ خوشی انھیں جانے کی اجازت دے دی تھی ۔اس دن دونوں نے مل کر تھوڑی سی خریداری کی اور پھر اگلے دن وہ تیار تھے ۔صبح سویرے گھر سے باہرکریم کلرکی ایک خوب صورت چمچماتی بی ایم ڈبلیو دیکھ کر دانیال حیرا ن رہ گیا تھا۔

”مشّی یہ کار…. ؟“

وہ اطمینان سے بولی ۔”اپنی ہے ۔لمبے سفر پر جارہے ہیں وہ چھوٹی کار مناسب نہیں تھی ۔“

”مگر یہ کس وقت آئی ہے ؟“

”یہ رات حماد چھوڑ گیا تھا ۔“

اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے ضروری سامان کار کی پچھلی نشست پر منتقل کیا ، مسکان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور وہ چل پڑے۔حماد کو اس نے بے خبر رکھا تھا ۔جانے کیوں وہ اپنے احساسات کو اس سے چھپانا چاہتی تھی ۔یوں بھی دانیال کے لےے اس کے دل میں جو نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا اس بارے اگر حماد کو پتا چل جاتا تو وہ یقینا خفا ہو تا ۔اور اس کی خفگی مسکان کہاں برداشت کر سکتی تھی۔گھر سے چلتے وقت وہ اپنا لیڈیز پسٹل پرس میں رکھنا نہیں بھولی تھی ۔

کراچی سے نکلتے ہی ڈرائیونگ سیٹ دانیال نے سنبھال لی تھی ۔وہ اب اچھی خاصی ڈرائیونگ کر لیتا تھا ۔ مسکان کو یقین تھا کہ مہینے ڈیڑھ میں اس نے مسکان سے کئی گنا زیادہ ڈرائیونگ پر عبور حاصل کر لینا تھا۔ایک خاص بات مسکان نے یہ محسوس کی تھی کہ وہ سیکھنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا تھا ۔ اس نے پختہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ ہنی مون سے واپسی پر اسے پرائیویٹ طور پرتعلیم مکمل کرنے کی تحریک دے گی ۔ اس کے ساتھ اس نے چھوٹے موٹے کاروبار کا بھی سوچا ہوا تھا۔وہ اس کے لےے اتنا کرنا چاہتی تھی کہ وہ بعد میں اسے اچھے لفظوں میں یاد کرتا رہے ۔دانیال کی آواز اسے خیالوں کی دنیا سے باہر لے آئی۔

”مشّی !….ایک بات پوچھوں ؟“

”جی پوچھو ؟“مسکان اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔

”اتنا امیر ہونے کے باوجود آپ نے مجھ جیسے کو شادی کے لےے کیوں پسند کیا ؟“

چند لمحے سچ کر وہ بولی ۔”آپ کا انتخاب حماد نے کیا ہے ۔“

دانیال کا اگلاسوال کافی تکلیف دہ تھا ۔”وہ آپ کا بھائی ہے نا ؟“

”نہیں ۔“مسکان بہ مشکل اسے جھڑکنے سے باز رہ سکی تھی ۔”وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا رہا ہے؟“

”آپ نے اپنے کسی بھی رشتادار کو شادی میں نہیں بلایا تھا ؟“

”میرا خیال ہے ،اس بارے حماد نے آپ کو تفصیلاََ بتا دیا تھا کہ میں اپنے رشتاداروں سے یہ شادی خفیہ رکھنا چاہتی ہوں؟“

”بالکل ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”ویسے مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ حماد نے خود آپ سے نکاح کیوں نہیں پڑھوا لیا ۔گو اس دن میں نے اس کی منگیتر دیکھی تھی ۔مگر کہاں وہ اور کہاں تم؟“

اب حیران ہونے کی باری مسکان کی تھی ۔”حماد کی منگیتر ؟“

”ہاں ….شادی سے پہلے ایک دن ہوٹل میں اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔“دانیال سادگی سے بولا ۔ مسکان کے چہرے پر فکر مندی کے آثار نمودار ہوئے مگر دانیال کی توجہ ڈرائیونگ پر تھی ۔ورنہ وہ ضرور اس کی پریشانی کی وجہ دریافت کرتا۔

”پھر تو اسے مبارک باد دینا چاہےے ؟“مسکان نے ایک لمحہ ضائع کےے بغیر حماد کا نمبر ڈائل کیا ۔

”یس ؟“حماد نے کال رسیو کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔

”حماد !آپ نے منگنی کب کی ہے؟“مسکان نے تیز لہجے میں پوچھا۔البتہ احتیاط کادامن اس نے ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا اور انگریزی میں یہ سوال پوچھا تھا۔

”مم….منگنی ۔کیسی منگنی ؟“وہ گڑ بڑا گیا۔

”دانیال بتا رہا تھا کہ شادی سے ایک دن پہلے آپ نے اسے ہوٹل میں بلایا تھا ۔اس وقت آپ اپنی منگیتر کے ہمراہ تھے؟“

”اوہ !….“حماد نے سکھ بھرا سانس لیا ۔”پاگل !….وہ میری کزن فریحہ تھی ۔میں نے سوچا اگر اسے یہ بتا دوں کہ میری منگنی ہو گئی ہے ،تو اسے یہ اعتبار تو رہے گا کہ ہمارے درمیان کو ئی رشتا نہیں ہے۔“

”تھینکس گاڈ !….میں تو ڈر ہی گئی تھی ۔“مسکان کی پریشانی ایک لمحے میں کافور ہو گئی ۔

”ایسی ویسی باتوں کو ذہن میں نہ لایا کرو سمجھیں ؟“حماد نے اسے پیار سے ڈانٹا ۔

”کیا فریحہ کو اس ڈرامے کی بابت سب معلوم ہے ؟“مسکان کے دماغ میں ایک اور سوال پیدا ہوا ۔

”میں تمھیں احمق نظر آتا ہوں ؟“حماد کے لہجے میں خفگی کا عنصر نمایاں تھا ۔

” فریحہ کو تمھاری منگیتر کہلانے پر کوئی اعتراض کیوں نہیں ہوا ؟“

”مسکان !….بتایا ہے نا،وہ میری کزن ہے ۔بچپن سے کافی بے تکلف ہے ۔بلکہ برا نہ ماننا پہلے ہم دونوں شادی کرنا چاہتے تھے ۔بعد میں اسے کوئی اور مل گیا اور مجھے تم۔باقی جب اسے میں سمجھا بجھا کر اسی مقصد کے لےے لے گیا تھا تو اسے اعتراض کیوں کرہوتا ؟“حماد کو بات سنبھالنا مشکل ہورہاتھا ۔

”اسے کیا بتا کر ساتھ لے گئے تھے ؟….کہ کس کی شادی ہے ؟“

”یہی کہ میری بیوی کی دور پار کی رشتا دار ہے ۔مطلقہ ہے ،اور ماں باپ وفات پاگئے ہیں، مجھے بیوی نے بتایا ہے کہ کسی شریف لڑکے کا رشتا ڈھونڈوں ؟ اس ضمن میں ایک لڑکے کو بلایا ہوا ہے مل کر اس کا انٹرویو کر لیں گے۔اورتمھاری تسلی کے لےے بتاتا چلوں فریحہ ایک لڑکے کو بہت زیادہ چاہتی ہے ۔ اور ہماری شادی سے پہلے وہ اس لڑکے کے ساتھ پیار و محبت کی ساری منزلیں طے کر چکی ہے۔ بس اب اس کی تعلیم مکمل ہونے کی دیر ہے ؟“

”تو اس نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ بیوی کے ساتھ مل کر بھی تو لڑکے کو جانچ سکتے ہیں ؟“

”پوچھا تھا،میں نے کہا بیوی پردہ دار ہے ۔اور سیٹھ زادی کے پاس اتنا وقت کہاں کہ میرے ساتھ چل سکے ؟“

ہاں اب بیوی ہی کو بدنام کرو گے نا ؟اوکے اللہ حافظ پھر بات ہو گی ۔“مسکان نے مسکراتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔دانیال نے اس کا سانس روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔حماد سے بات کر کے اسے دلی سکون محسوس ہوا تھا ۔

”کیا کہہ رہا تھا ؟“دانیال اس سے مخاطب تھا ۔

”وہ کہہ رہا تھا کہ فریحہ کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی اس کی شادی ہو گی ۔“مسکان نے جواب کو گول مول کیا ۔ کہ اسے جھوٹ بھی نہ بولنا پڑے اور دانیال کی بھی تسلی ہو جائے ۔

”اتنی اہم بات سے اس نے تمھیںبے خبر رکھا تھا ؟“

”اب اس کے علاوہ بھی آپ کے پاس کوئی موضوع ہے ؟“

دانیال جلدی سے بولا۔”معافی چاہتا ہوں ؟“

”دانی یاد رکھنا !کچھ رشتے ایسے الجھے ہوئے اور پیچ دار ہوتے ہیں کہ انھیں نہ چھیڑنے ہی میں بھلائی ہوتی ہے ۔ بس آپ یہ یاد رکھیں کہ اس وقت میں آپ کی بیوی ہوں ۔اور یہ کہ آج تک میرے بدن کو کسی غیر محرم نے نہیں چھوا ۔نہ میں اس کی اجازت ہی کسی کو دے سکتی ہوں ؟“

”مشی !….“دانیال نے بے ساختہ کار روک کر اس کا ہاتھ پکڑا اور آنکھوں سے لگا کر اس پر ہونٹ رکھ دےے ۔ ”بہ خدا میرا مقصد یہ نہیں تھا ۔“

جس میں تیرے خلاف ذرا شائبہ بھی ہو

میں اپنے اس خیال کی آنکھیں نکال دوں

”پھر بار بار استفسار کا مطلب ؟“وہ اسے شرمندہ کرنے پر تلی تھی ۔

” میری توبہ !“اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا ۔”آئندہ اس طرح کی کوئی بکواس نہیں کروں گا ۔“

”اچھا اب چل پڑو ۔کیا رات یہیں گزارنے کا ارادہ ہے ۔“

”جب تم ساتھ ہو تو ویرانہ بھی بہشت لگتا ہے ۔“

وہ شوخی سے مسکرائی ۔”اور اگر میں ساتھ نہ ہوں تو ؟“

”اس بات کامیں تصوربھی نہیں کر سکتا ۔کہیں کچھ ہو نہ جائے مجھے؟“دانیال کا چاہت سے لبریز جواب اسے شادمان کر گیا۔ مگر پھر اسے خیال آیا کہ….

” جب وہ سچ مچ اس سے جدا ہو جائے گی تب کیا ہوگا ۔“ یہ سوچ اسے پریشان کر گئی تھی ۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے محبت بھرے جواب سننے کی متمنی ہوتی ۔ایسے جواب اسے وقتی طور پر تو نہال کر دیتے،مگر ان کا انجام اچھا نظر نہیں آرہا تھا ۔ اسے اطمینان تھا تو اس بات کا ،کہ اچھے مستقبل کا لالچ دانیال کو سنبھالا دے دے گا۔ خوب صورت گھر ،کار اور ایک چھوٹا سا کاروبار، ایسی آسائشیں نہیں تھیں کہ کوئی ان سے صرف نظر کر سکتا ۔پھر ایسا شخص جس کی ساری زندگی خواہشات کو روندتے گزری ہو، اس کے لےے تو یہ آسائش بھری زندگی نعمت ِغیر مترقبہ ہی تھی ۔ سب سے بڑھ اس مسئلے کا جوسدباب اس نے سوچا تھا وہ دانیال کی دوسری شادی کا بندوبست تھاتاکہ وہ مسکان کو آسانی سے بھلا سکے ۔

چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے پوچھا ۔”کبھی کوئی، کسی کے لےے مرا بھی ہے ؟“

”شاید میں پہلا فرد ہونے کا اعزاز حاصل کر لوں ،بہ شرط یہ کہ تم جدا ہوئیں تو ؟،اور ان شاءاللہ وہ دن کبھی نہیں آئے گا کہ میری جانِ حیات، مجھ سے جدا ہو جائے ؟اس لےے یہ اعزاز یقینا کسی اور کو جائے گا۔“

”بھوک لگی ہے ؟“مسکان نے موضوع بدلہ۔

”تمھارا کیا ارادہ ہے ؟“

”میرا خیال ہے یہیں کھانا کھا لیتے ہیں ….بڑا اچھا منظر ہے ،تھوڑی چہل قدمی بھی ہو جائے گی ؟“

دانیال نے سر ہلاتے ہوئے کار روڈ سے اتار دی ۔آسمان پر ہلکی ہلکی بدلیاں تیر رہی تھیں۔چاروں طرف پھیلے چھدرے چھدرے درخت عجیب منظر پیش کر رہے تھے ۔ اس نے گھڑی دیکھی،ڈیڑھ بجے کا وقت تھا ۔کھانا کھا کر وہ نماز بھی وہیں پڑھ سکتے تھے۔

مسکان نے قیمہ بھرے پراٹھے ،کدو گوشت اور روغنی نان بنائے تھے ۔ہاتھ دھو کر انھوں نے پلاسٹک کا دستر خواں بچھادیا۔دانیال نے پہلا نوالا اس کے منہ کی طرف بڑھایا ۔وہ شادی کے اول دن سے پہلا نوالامسکان کو کھلاتا تھااس کے بعد خود کھاتا۔اس کی دیکھا دیکھی مسکان نے بھی یہی عادت اپنا لی تھی ۔ وہ بھی پہلا نوالا اسے کھلاتی تھی ۔ البتہ کبھی کبھار وہ بچے کی طرح مچل کر مکمل کھانا ہی اس کے ہاتھوں سے کھاتا۔ اس کا دل رکھنے کے لےے مسکان کو اس کی یہ ضد ماننا پڑتی ۔ مہینا ڈیڑھ محبت کے لےے ترسے شخص کو توجہ دینے سے حماد کے ساتھ اس کی وفا داری پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی تھی ۔

یوں بھی یہ سب حماد کی اپنی مرضی سے ہوا تھا ۔اور وہ بچہ نہیں تھاکہ میاں بیوی کی تنہائی کے رازوں سے بے خبر ہوتا۔اس نے جس مقصد کے لےے مسکان کو دانیال کے حوالے کیا تھا وہ کھانا کھلانے سے بدرجہا بڑھ کے ایک مرد کی غیرت کو للکارنے والا تھا ۔

دانیال کا رخ ،سڑک کی جانب تھا جبکہ مسکان نقاب اتارنے کی وجہ سے سڑک کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھی تھی ۔ کھانا کھا کر وہ گرما گرم چاے سے لطف اندوز ہونے لگے۔

چاے پی کر دانیال نے پوچھا ۔”نماز یہیں پڑھیں گے ؟“

مسکان مسکرائی۔”شادی سے پہلے بھی نماز کا یونہی خیال رکھتے تھے ؟“

”ہاں !….“دانیال نے اثبات میں سر ہلایا۔”جمعہ کی نماز کا ۔“

”فراڈی !“وہ کھل کھلا کر ہنس دی ۔

”پتا ہے مِشّی !….میں تمھاری ہنسی سننے کے لےے ایسی باتیں کیاکرتا ہوں ۔اور جانتی ہو نا تمھاری ہنسی کیسی ہے؟“

”جی جی ….شاعر صاحب !“اس نے ایک اور مسکراہٹ اچھالی ۔

”وہ کیا کہتے ہیں ….

موتیوں کی جھلک دکھاو¿نا؟

پھر سے جاں کھُل کے کھل کھلاو¿ نا؟

”اف !….آپ کی شاعری ۔“مسکان نے منہ بنایا۔

”برا لگا ؟“دانیال نے گھبرا کر پوچھا۔

”نہیں بہت اچھا لگا ۔“مسکان نے بے ساختہ اعتراف کیا۔

”پھر بے زاری ظاہر کرنے کا مطلب ؟“

”پاگل!….بیویوں کا بیزاری ظاہر کرناصرف دکھاوا ہوتا ہے ؟“

”اوہ !….اس کا مطلب ہے ،میں یونہی غلط فہمی میں مبتلارہا؟“

”کون سی غلط فہمی ؟“اس کا معنی خیز لہجہ سن کر مسکا ن چونک گئی۔

”یہی کہ بیویوں کی بیزاری ظاہر کرنے کا مطلب بیزاری نہیں ہوتا؟“

”دانی کے بچے !….باز نہیں آو¿ گے ؟“وہ کھسیا کر اسے گھونسے مارنے لگی ۔

”مِشّی ہاتھ نہ درد کرنے لگیں ،بہتر یہی ہے کہ چپل اتار لو ؟“

”ہاں تو ہے نا بڑا ربورٹ ؟“مسکان نے پھبتی کسی۔مگر اس کا دل کچھ اور کہہ رہا تھا ۔ دانیال کا بدن واقعی لوہے کی طرح سخت تھا ۔وہ جب بھی اسے چھوتی ، عجیب طرح کی خواہشیں اس کے من میں سر اٹھانے لگتیں ۔

”اچھا میں وضو کر لوں ؟“پانی سے بھری بوتل اٹھا کر وہ فریش ہونے کے لےے قریبی جھاڑی کی طرف بڑھ گئی ۔ اس ویران جگہ پر بے پردگی کا کوئی اندیشہ نہیں تھا اور روڈ سے یوں بھی جھاڑی کی آڑ میسر تھی۔

دانیال دستر خواں سمیٹنے لگا ۔ابھی اس نے برتن اٹھا کر نیچے رکھے ہی تھے کہ مسکان کی خوفزدہ چیخ اس کے کانوں میں پڑی ۔وہ اچھل کر جھاڑی کی طرف بھاگا۔جھاڑی دس پندرہ گز سے زیادہ دور نہیں تھی۔

”کیا ہوا مِشّی !….میں آگیا ؟“یہ کہتے کہتے وہ وہاں پہنچ گیا تھا ۔

مسکان شاک کی کیفیت میں کھڑی تھی ۔پانی کی بوتل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرگئی تھی ۔ سامنے دو گز کے فاصلے پر ایک کالا ناگ پھن اٹھا ئے کھڑا تھا ۔

مسکان کو خوفزدہ کرنے والا ناگ اس وقت اسے اتنا قابل نفرت لگا کہ وہ بغیر رکے اس پر چڑھ دوڑا ۔

ایک جانور کسی بھی انسان کے احساسات کا اندازہ با آسانی سے کر سکتا ہے ،کہ آیا وہ اس سے خوفزدہ ہے یا نہیں ۔ دانیال کی طوفانی پیش قدمی سے سانپ جھجکا،اور پھر” شاں“ کی آواز کے ساتھ اس نے دانیال پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔

سانپ کے پھن کو دانیال کے پاو¿ں کی طرف بڑھتے دیکھ کر ۔مسکان نے چیختے ہوئے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔ دانیال کے جسم میں اس وقت بجلی بھر گئی تھی ۔اس نے پھرتی سے اپنا پاو¿ں سانپ کے پھن سے بچایا، اور پھر وہی پاو¿ں اس نے سانپ کے پھن پر رکھنے کی کوشش کی ۔مگر سانپ بھی کچھ کم تیز نہیں تھا ۔ وہ اپنا پھن پیچھے ہٹا چکا تھا ۔دانیال کا پاو¿ں سانپ جسم کے اوپر آیا ۔سانپ شدت سے تڑپا ۔ اور اس سے پہلے کہ وہ دوسرا حملہ کر پاتا دانیال کا دوسرا پاو¿ں اس کے پھن کے اوپر تھا ۔

اس وقت اس نے لیدر کے مضبوط بوٹ پہنے تھے ۔اگلے لمحے اس نے سانپ کا سر بے دردی سے کچل دیا ۔پے در پے اس کے مضبوط جوتے کی ایڑی کی ضربوں نے سانپ کے سر کا کچومر نکال دیا تھا۔

اسے مار کر دانیال نے حقارت سے اٹھایا اور دور اچھال دیا ۔

مسکان کے ساکن بدن میں جنبش ہوئی اور وہ بے ساختہ دانیال سے لپٹ گئی ۔اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا۔

”مِشّی میں ہوں نا ؟….ڈرتی کیوں ہو ؟“اسے بھینچتے ہوئے دانیال نے تسلی دی ۔

”دانی !….کتنا خوفناک تھا ۔آپ کو ذرا بھی ڈر نہیں لگا اس سے ؟“مسکان کے اوسان اعتدال پذیر ہوئے تواس نے جھرجھری لے کے پوچھا۔

”اگر بات میری مِشّی کی نہ ہوتی تو شاید مجھے ڈر لگتا ؟“

” چلو یہاں سے…. آگے کہیں نماز پڑھ لیں گے ؟“اس کا ڈر اب تک ختم نہیں ہوا تھا ۔

”نہیں !….تم فریش ہو جاو¿،میں یہاں ہوں نا ؟“

”اچھا آپ دوسری طرف منہ کریں ۔“وہ شرما کے بولی ۔اور دانیال نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنا رخ روڈ کی طرف پھیر لیا ۔

”چلیں ۔“اسے اپنے بازو پر مسکان کے ملائم ہاتھ کا لمس محسوس ہوا اور وہ کار کی طرف بڑھ گئے۔ مسکان نے وضو کیا تو وہ بوتل پکڑ کر اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالتا رہا ۔شروع میں وہ جب بھی اس کا کوئی کام کرتا تووہ شرما جاتی اور وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہتا۔

”مشی !….جب تم میرے کام کر سکتی ہو تو میں تمھارا ہاتھ کیوں نہیں بٹا سکتا ؟“

وہ ہنستے ہوئے کہتی ۔”کوئی دیکھے گا تو زن مرید سمجھے گا آپ کو ۔“

”تمھارے لےے ہر الزام گوارا ہے ۔اور یاد ہے نا میں نے پہلی رات کیا کہا تھا ،تم میری بیوی نہیں دوست ہو ۔ اور دوست ،سارے کام مل جل کر کرتے ہیں ۔“

وضو کر کے اس نے جاے نماز بچھائی اور نماز نیت باندھ لی، جب کہ دانیال پانی کی بوتل اٹھا کر جھاڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔ جب تک وہ وضو کرتا مسکان نے نماز پڑھ لی تھی ۔

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”اتنی جلدی نماز پڑھ لی ؟“

”دو فرض پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟“

”دو فرض کیوں ؟“

”کیونکہ ہم سفر میں ہیں جناب !“

”یعنی سفر میں صرف دو فرض پڑھے جاتے ہیں ؟“

”ہاں ،ظہر ،عصر اور عشاءکے فرض ،چار رکعتوں کے بجائے دو فرض پڑھتے ہیں ۔ البتہ شام کے تین فرض ہی پڑھے جاتے ہیں ،اور سنتیں اپنی مرضی پر موقوف ہیں پڑھ لو تو بہتر ،نہ پڑھو تو بھی اجازت ہے۔“

”سبحان اللہ ،مجھے پتا ہی نہیں تھا ۔“

”اچھا اب جلدی کرو ،لیٹ ہو رہے ہیں ۔“

دانیال کے نماز پڑھنے تک وہ سارا سامان کار میں منتقل کر کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھا ل چکی تھی۔ دانیال کے بیٹھتے ہی اس نے کار آگے بڑھا دی ۔شام تک وہ کشمور پہنچ گئے تھے۔

ایک اچھے سے ہوٹل کی پارکنگ میں کار روک کر وہ اندر داخل ہو گئے ۔تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میںتھے۔عشاءکی اذان تک وہ نہا دھو کر فریش ہو چکے تھے ۔نماز پڑھ کر انھوں نے کھاناکمرے ہی میں منگایا۔اور پھر آرام کرنے لیٹ گئے ۔

لیٹتے ہوئے مسکان کو پھر وہ سانپ یاد آگیا ۔

”دانی !….اگر اس نے مجھے یا آپ کو کاٹ لیا ہوتا ؟“

دانیال نے برا سا منہ بنایا ۔”ابھی تک اس موذی کا خوف تمھارے دل سے نہیں نکلا ؟“

”دانی !….قسم سے وہ بہت خوفناک تھا ،میں تو سن ہو گئی تھی اسے دیکھ کر ۔“

”میرا خیال ہے زندگی میں پہلی بار سانپ دیکھا ہے ؟“

”ہاں ،پہلی بار دیکھا ہے اور وہ بھی اتنا خوفناک ۔شکر ہے آپ وہاں موجود تھے ۔“

”مِشّی !….یہ تو کیڑے برابر سانپ تھا ۔اگر اس کے بجائے ہاتھی یا اس سے بھی بڑا کوئی جانور ہوتا تو میرے ہوتے ہوئے تمھیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا؟“

”ہاں مجھے یقین ہے ۔“مسکان وارفتگی سے بولی ۔

”اچھا ،مجھے سفر کی نماز کے بارے تفصیل سے بتاو¿ نا ؟مجھے تو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ سفر میں نماز کیسے آدھی ہوتی ہے؟“

”نہیں جناب !….فی الحال سوتے ہیں ،قسم سے بہت تھک گئی ہوں ۔اس متعلق ان شاءاللہ کل رستے میں بات ہو گی ۔“

”خیر میں نے تمھیں سونے تونہیں دینا ۔“دانیال معنی خیز لہجے میں بولا ۔

”تنگ نہ کرو نا ؟دانی ! ….قسم سے سخت نیند آرہی ہے ۔“

وہ اطمینان سے بولا۔”جی نہیں ،ایسی درخواست میں درخور اعتناءنہیں سمجھا کرتا ۔“

”مجھے پتا ہے ،میرا، دانی میری کوئی بات نہیں ٹالتا ۔“مسکان نے مسکہ لگایا۔

”غلط فہمی ہے تمھاری ۔بھلا،دانی ایسی نادانی کیسے کر سکتا ہے ؟“

دانیال کے انداز پر وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی تھی ۔ایسی باتیں ،ایسے چٹکلے اسے نہال کر دیتے تھے۔ دانیال کی ہر بات میں اس کے لےے جتنی چاہت ،جتنی محبت پوشیدہ تھی وہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھی ۔کبھی کبھی اسے لگتا کہ وہ اسے صدیوں سے جانتی ہے۔مگر اسی لمحے حماد کی یاد اسے ماضی میں گھسیٹ کر لے جاتی ۔ اسے یاد آتا کہ دانیال سے اس کا تعلق بہت عارضی بنیادوں پر قائم ہے۔ اسے اپنے حماد کے پاس لوٹنا تھا ۔اپنے محبوب کے پاس ،جو اس کے فراق میں جانے کیسے یہ دن گزار رہا ہو گا ۔صرف بچے کے جنون میں وہ اپنی محبت کو خود سے دور کرنے پر راضی ہوا تھا ۔پھر یہ بات بھی اس کے مسکان پر بھروسے کو ظاہر کرتی تھی کہ اس نے اسے بڑے اعتماد سے ایک غیر مرد کے حوالے کر دیا تھا ۔اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس کے پاس لوٹ آئے گی ۔ اور مسکان اس کا یہ مان کبھی نہیں توڑ سکتی تھی۔ اس کالے کلوٹے کا جادو اتنا پائیدار نہیں ہو سکتا تھا ،کہ اسے اپنے حماد کے پاس جانے سے روک سکتا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: