Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Last Episode 30

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – آخری قسط نمبر 30

–**–**–

وہ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا ،کمرہ بھینی بھینی خوشبو سے مہک رہا تھا ۔یقینا وہ خوشبو مسکان ہی کی تھی۔اس کے ساتھ فریحہ کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تھا ۔

”لیں جی !….دانی صاحب معرکہ سر کر کے آ گئے ہیں ۔“فریحہ اسے دیکھتے ہی چہکی ۔

”ایسا ہی ہے اور اب تمھاری باری ہے ۔“

”میری باری ….؟“فریحہ کے لہجے میں حیرانی تھی ۔مسکان کے چہرے پر بھی حیرت چھلکنے لگی تھی ۔

”جی محترما !….وسیم بھائی کہہ رہے تھے کہ وہ فریحہ بی بی کاجواب انھی کی منہ زبانی سننا پسند فرمائیں گے۔اب سوال کیا تھا اس سے بندہ غریب لاعلم ہے ۔“

”مم….مگر ….میں کیسے….باجی !….یہ بات ….انھیں آپ بتا دیں نا ؟“اس نے مسکان کا سہارا لینا چاہا۔

”میں کیوں بتاو¿ں؟جبکہ موصوف آپ کی منہ زبانی سننا چاہتے ہیں ۔“مسکان نے صاف انکار کر دیا۔

”ہاں ….آپ نے اپنے شوہر نامدار سے گفت و شنید کرنا ہو گی نا ؟“فریحہ نے منہ بنایا۔

”اس میں شک ہی کیا ہے ؟“مسکان بے باکی سے بولی ۔

”مگر میں کیسے ان کا سامنا کروں گی ؟“فریحہ کا سرخ و سفید چہرہ لال ہو گیا تھا ۔

”یقینا….میری لاعلمی میں اندر ہی اندر کوئی نئی بات چل رہی ہے ….اورجہاں تک میں سمجھا ہوں محترما فریحہ رباب صاحبہ اور وسیم بھائی کو ایک کرنے کا چکر ہے ….کیا ایسا ہی ہے مشی ؟“دانیال سوچ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے مسکان سے مستفسر ہوا ۔

”آپ ٹھیک سمجھے ہیں جناب !“مسکان مسکرائی ۔

”واہ ….تو میڈم فری !….ایسا ہے ،آج آپ کی جگہ مشی بھائی کے پاس چلی بھی جاتی ہے کل کلاں کو تو آپ نے اکیلے ہی ان کا سامنا کرنا ہے ۔“

”شٹ آپ دانی !….“فریحہ شرما گئی تھی ۔

مسکان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔”فری!….جب تک بھیا آپ کے منہ زبانی آپ کا فیصلہ نہیں سن لیتے انھیں چین نہیں آئے گا ۔“

”ہانکیں جی دل کھو ل کر گپیں ہانکیں ….جا رہی ہوں میں ۔“فریحہ پاو¿ں پٹختے ہوئے بولی ۔

”کہاں جا رہی ہیں ؟“دانیال نے بے ساختہ پوچھا ۔

”انھی کے پاس ….جن کا پیغام آپ بہ نفس نفیس لے کے آئے ہیں ۔“فریحہ منہ بناتے ہوئے مسکان کے کمرے سے باہر نکل گئی ۔

٭……..٭

مسکان کا گھر فریحہ کا دیکھا بھالا تھا اوروہ جانتی تھی کہ سیٹھ وسیم کی خواب گاہ کون سی ہے …. خواب گاہ کے دروازے تک تو وہ بڑے اعتماد سے چل کر گئی تھی ،لیکن دروازہ کھٹکھٹانے وقت اس کے ہاتھ کانپنے لگے ،ٹانگوں میں بھی واضح لرزش پیدا ہو گئی تھی ۔اپنی یہ حالت خود اس کے لےے حیرانی کا باعث بنی تھی۔وہ ایسی تو نہیں تھی کہ کسی مرد کا سامنا نہ کر سکتی ؟

چند لمحے تو وہ دروازے پر کھڑی رہی پھر ہمت کر کے ہاتھ اٹھایا مگر اس کے دستک دینے سے پہلے دروازہ بے آواز کھلتا چلا گیا ۔

دروازہ کھولنے والا وسیم تھا ۔وہ نرم لہجے میں بولا۔”پلیز !….تشریف لائیں ۔“

”آ….آپ کو کیسے پتا چلا میری آمد کا ؟“وہ حیران رہ گئی تھی ۔

وسیم مسکرایا۔”اونچی ہیل کے سینڈلوں کی ٹکا ٹک جب کسی کے دروازے کے سامنے معدوم ہو جائے تو یقینا اس کا مطلب یہی بنتا ہے کہ کوئی خصوصی مہمان تشریف لایا ہے ۔“

فریحہ جھینپ کر نیچے دیکھنے لگی ۔

”میں نے کوئی درخواست کی ہے ۔“اسے ساکت دیکھ کر وہ دوبارہ بولا ۔

”جج….جی ….جی ۔“اس نے جھکا سر اٹھایا،اوراسے اپنی جانب دیکھتے پا کر دوبارہ نیچے دیکھنے لگی ۔

”بندے نے عرض کی ہے کہ اندر تشریف لے آئیں ۔“وسیم نے اپنی بات دہرائی ۔

”تو بندہ سائیڈ پر تو ہو جائے نا۔“فریحہ کا شوخ لہجہ وسیم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا ۔

”اوہ سوری!….“وہ خفیف ہوتا ہوا جلدی سے ایک طرف ہو گیا تھا ۔

”تھینکس ۔“کہہ کر فریحہ اندر گھس گئی ۔

خواب گاہ کے فرش پر دبیز قالین بچھا ہوا تھا ۔فریحہ نے ایک طائرانہ نگاہ چاروں طرف گھمائی ، خواب گاہ قیمتی اور خوب صورت سامان سے سجی ہوئی تھی ،دیواروں کے ساتھ قیمتی پینٹنگز لٹک رہی تھیں ۔ ڈبل بیڈ کے سامنے والی دیوار پر بڑی سکرین کی ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی ۔خواب گاہ میں ایئر فریشنر کی پھیلی خوشبو فریحہ کو مدہوش کرنے لگی ۔ ایسی سجی ہوئی خواب گاہ اس نے کبھی سپنے میں بھی نہیں دیکھی تھی ۔گو مسکان بھی سیٹھ زادی تھی مگر انتہائی سادہ اور زندگی کی رنگینیوں سے دوراس لےے اس کی خواب گاہ بھی بہت سادہ سی تھی ۔وہ سحر زدہ سی ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی ۔

”شاید زندگی کی ساری رنگینیاں دولت کے دم قدم سے ہیں ؟“ایک تلخ سوچ اس کے دماغ میں ابھری اور اس کے دل میں اپنی ذات کی بے بضاعتی کا احساس پھیلتا چلا گیا ۔

”مس فریحہ !آپ بیٹھیں نا ۔“وسیم کی آواز اسے خیالوں سے باہر لے آئی تھی ۔وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔

”وسیم صاحب !….میں بس یہ کہنے آئی تھی کہہ ….کہہ….باجی نے مجھے مجبور نہیں کیا، بلکہ میں …. میں ….“ اس سے آگے وہ کچھ نہیں کہہ پائی تھی اور شرما کر نیچے دیکھنے لگی ۔

”ہاں جانتا ہوں ….“وسیم بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا ۔”آپ تشریف تو رکھیں ۔“

بیڈ کے ساتھ پڑی قیمتی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے آہستہ سے پوچھا ۔”پھر بلانے کا مقصد؟“

”پہلے یہ بتائیں ،کچھ پینا پسند فرمائیں گی ؟“

”نو تھینکس ۔“اس نے انکار میں سرہلایا۔

”کیا میں آپ کو فری،کہہ سکتا ہوں ؟“

وہ شرماتے ہوئے بولی ۔”جس رشتے میں ہم منسلک ہونے جا رہے ہیں ….اس کے بعد آپ کسی بھی نام سے پکارنے کا حق رکھتے ہیں ۔“

”لیکن وہ حق نکاح کے بعد حاصل ہوگا نا محترما !“

”شاید آپ نے صرف گپ شپ کرنے کے لیے بلایا ہے ۔“

”نہیں ….“وسیم انکار میں سر ہلاتے ہوئے سنجیدہ ہوگیا ۔”زندگی رہی تو گپ شپ کا بہت وقت پڑا ہے ،اس وقت زحمت دینے کا مقصد ایک تو،آپ کو اپنے ماضی سے روشناس کراناتھا ،تاکہ بعد میں کوئی غلط فہمی نہ جنم لے…….. “

”میرا خیال ہے آپ کے ماضی کے بارے باجی مجھے سب کچھ بتا چکی ہیں۔“فریحہ نے قطع کلامی کی۔

”بہت خوب ….اب یہی درخواست میں آپ سے کرنا چاہوں گا ۔“

”میں سمجھی نہیں ۔“فریحہ کے لہجے میں حیرانی تھی ۔

”مطلب ….میں آپ کے بارے سب کچھ جاننا چاہوں گا ،وہ بھی جو سب کو پتا ہے اور وہ بھی جو صرف آپ کو پتا ہے ۔“

”بہت تلخ سوال ہے سیٹھ صاحب !….“ اس مرتبہ فریحہ کے لہجے میں شرم و حیا کے بجائے تلخی کی آمیزش تھی ۔ ”حالانکہ جس نے مجھے آپ کے شب و روز سے مطلع کیا ، یقینا اس نے میرا ماضی بھی آپ کے سامنے دہرایا ہوگا ….لیکن آپ شاید میری منہ زبانی ہی سننا چاہتے ہیں ….جانے کیوں ؟“

”اگر آپ نہیں بتانا چاہتیں تو ……..“

”ضرور بتاوں گی ….سیٹھ صاحب! ….ضرور….میرا نام جیسے آپ جانتے ہی ہیں، فریحہ رباب ، ابو بینک میں کیشیر ہیں ….ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اللہ نے شکل اچھی بنائی ہے اس لیے چاہنے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی ….البتہ میں نے صرف حماد کو پسند کیا اور کوشش کی کہ ہماری شادی ہو جائے ،مگر اللہ پاک کو منظور نہیں تھا اسے روپے پیسے کا لالچ لے ڈوبا گو پہلے پہل میں بھی اس کے ساتھ شامل تھی مگر باجی سے ملنے کے بعد میں نے یہ خیال دل سے نکال دیاتھا …. باجی کی موت کی جھوٹی خبر پر میں نے دانیال کو پرپوز کیا ، کیونکہ ایک تو میں باجی کی موت کا بدلہ لینا چاہتی تھی اور دوسرا وہ بہت مخلص شخص ہے ۔اور اللہ گواہ ہے کہ میں آج بھی ان دونوں مردوں سے نگاہ ملا کر بات کر سکتی ہوں، نقاب اوڑھنے سے پہلے بھی میں اس حد تک جانے کو کسی قیمت پر تیار نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے میں اپنا وقار اور فخر کھو دوں ….آپ کے سامنے بھی نقاب اسی لیے نہیں اوڑھا کہ آپ نے مجھے پرپوز کیا ہے…. اس کے علاوہ اگر آپ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو بہ خدا میں صحیح جواب دوں گی ….؟“نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی انکھوں میں نمی بھرتی چلی گئی ۔

”نہیں بس اتنا ہی سننا تھا ….“

”اوکے تھینکس….“اس نے ہاتھ کی پشت آنکھوں پر پھیری اور دروازے کی طرف چل دی ۔

”کیا میں توقع کر سکتا ہوں کہ اس سوال جواب نے ہمارے درمیاں کسی غلط فہمی کو جنم نہیں دیا ہوگا۔“

وہ رکی اور پیچھے مڑے بغیر بولی …. ”نہیں سیٹھ صاحب ….بلکہ غلط فہمی دور ہوئی ہے ۔“

”فری !….ایک منٹ ۔“سیٹھ وسیم نے اس کی طرف قد م بڑھائے ۔

”میرا نام فریحہ رباب ہے سیٹھ صاحب ۔“وہ اس کی جانب مڑتے ہوئے نارمل انداز میں بولی۔

”واٹ !….ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ مجھے اجازت دے چکی ہیں ……..“

”وہ لمحات گزر گئے ہیں سیٹھ صاحب !….“ وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔اس کے ساتھ اس نے دروازہ کھولنا چاہا،مگر غیر متوقع طور پر سیٹھ وسیم نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی تھام لی۔

”چھوڑیں مجھے ….“فریحہ نے اپنی کلائی چھڑانا چاہی ۔

”جس دن آپ مسکان کے مرنے کی خبر سن کر ہمارے گھر آئی تھیں اس دن آپ نے پنک کلر کے کپڑے پہنے تھے ،گلے میں کالا دوپٹا اوربالوں میں نیلے رنگ کی پونی تھی ….اور اسی رنگ کے پتھر کی انگھوٹھی تمھارے دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں تھی ……..“

”کیا مطلب ہے اس سب کا ؟“اس نے تلخ لہجے میں قطع کلامی کی ۔

”فری !….میں ٹھکرایا ہوا مرد ہوں۔یقینا میرے سوالات نے آپ کی عزت نفس کو مجروح کیا ہے ،لیکن معاف کرنا بھی تو تمھارے بس میں ہے ۔“اس کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ فریحہ ایک دم ڈھیلی پڑ گئی تھی ۔

”سیٹھ صاحب !….“

”وسیم ….آپ وسیم کہہ سکتی ہیں ۔“

اچانک فریحہ کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ ابھری۔”اچھا ٹھیک ہے،نہیں ہوں خفا ،اب مجھے جانے دیں ۔“

”جب خفا تھیں تو جانے نہیں دے رہا تھا ….اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔“

وہ ملتجی ہوئی۔”باجی منتظر ہو ں گی نا ۔“

”وہ مجھ سے اہم ہے ۔“

”ہاں ….“فریحہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی ۔”کیونکہ اسی کی وجہ سے مجھے وسیم ملا ہے ۔“

”سچ ….‘سیٹھ وسیم خوشی سے چلایا۔اس نے دونوں ہاتھوں سے فریحہ کے کندھے تھام لیے تھے ۔

وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی ۔”اس دن آپ نے بلیک پینٹ ،سفید شرٹ اور بلیک کلر ہی کا کوٹ پہنا تھا ….گلے میں نیوی بلیو کلر کی ٹائی تھی ،بال بکھرے تھے ،پاوں میں براون شوز تھے ….اور آپ بالکل کھوئے کھوئے سے نظر آ رہے تھے ، باجی کی موت کی خبر نے آپ کو بہت دکھی کر دیا تھا….“

”فری !….ان باتوں کا مطلب ….؟“وہ حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔

”بچہ چاند کو دیکھ کر مچلتا تو ہے نا ؟“

وہ شکوہ کناں ہوا ۔”اگر ایسی بات تھی تو کبھی اپنی باجی ہی سے ذکر کر دیا ہوتا ؟“

”اپنی اوقات نے دامن ِ سوال دراز نہ کرنے دیا ۔“

”تمھاری اوقات….آئندہ ایسا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا ۔“

”اس میں شک ہی کیا ہے ؟“

”شاید تمھیں اپنی شکل و صورت کا احساس نہیں ہے ؟“

وسیم کے ہاتھوں کو آہستگی سے اپنے کندھوں سے ہٹاتے ہوئے وہ دھیرے قدموں سے چلتی ہوئی بیڈ کے ساتھی رکھی منقش کرسی پر بیٹھ گئی ۔”وسیم !….“اس کا لہجہ خواب ناک سا تھا ۔”بالی عمر ہی سے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ میں کتنی خوب صورت ہوں…. سکول ،کالج اور پھر یو نیورسٹی میں کئی دل پھینک ایسے تھے جو میری ایک نظر کرم کے لےے ترستے تھے ….مگر میری آنکھوں میں کوئی نہ جچا ….یہاں تک کہ میں نے حماد کو دیکھا اور دیکھتے ہی دل نے کہا یہی ہے جو میرے خوابوں کا شہزادہ ہے ….میری عمر کی لڑکی صرف محبت ہی کو سب کچھ سمجھتی ہے وہ دیکھتی ہے تو محبوب کی آنکھ سے ،سوچتی ہے تو محبوب کے دماغ سے ،فیصلہ کرتی ہے تو محبوب کی مرضی کے مطابق، میں بھی ایسی ہی تھی ۔میں اس کے خوب صورت چہرے کے پیچھے چھپے گھناو¿نے پن کو نہ دیکھ پائی ۔مسکان کی قسمت پر رشک کرتی رہی کہ وہ اس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا ….پھر ایک دن مسکان یونیورسٹی نہیں آئی تھی میں یونیورسٹی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ حماد نے مجھے موٹر سائیکل پر لفٹ کی آفر کی ….مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہونے لگا ،اسی دن ہم نے اظہا رو اقرار کی ساری منزلیں طے کر لیں ….اس کے ساتھ حماد نے مجھے اس بات پر بھی راضی کر لیا کہ وہ وقتی طور پر مسکان کے ساتھ محبت کاناٹک کھیلتا رہے گا ،کیونکہ اسی طرح وہ اپنے مستقبل کو روشن بنا سکتا تھا …. میں بھی بچپن ہی سے بہت سی ادھوری خواہشات کا بوجھ دل میں چھپائے پھر رہی تھی ….اور پھر میں نے سوچا کہ حماد یہ سب کچھ میرے ہی لےے تو کر رہا ہے ….اس کی مسکان سے شادی ہوگئی، میں اس پر زور دیتی رہی کہ وہ جلد سے جلد مسکان سے تعلق توڑے تاکہ ہم دونوں ایک ہو سکیں ….مگر پھر جب ہم نے سوچا تو مسکان کو ختم کےے بغیر اس کی دولت کا حصول ناممکن نظر آیا ۔میں کسی بے گناہ کی موت پر کبھی تیار نہ ہوتی لیکن حماد نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مجھے آمادہ کر لیا کہ وہ مسکان کو قتل کرے گا ۔اسی دوران ہماری تگڈم میں دانیال کی انٹری ہوئی۔ اس کی مسکان باجی سے جنونی محبت کو دیکھ کر میں دوبارہ حماد کے سر ہو گئی کہ وہ سب کچھ ٹھکرا کر میری طرف لوٹ آئے۔پھر میری مسکان باجی سے ملاقات ہوئی ۔اس ملاقات کے بعد میں اس مخلص لڑکی کی گرویدہ ہو گئی ۔ میں نے سختی سے حماد کو منع کر دیا کہ مسکان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ کرے ،مگر اس شخص کے نزدیک ہرچیز ،ہر رشتا ،ہر احساس دولت کے بعد آتا تھا ۔میرے زور دینے پر اس نے وقتی طور پر تو حامی بھر لی کہ مسکان کو کچھ نہیں کہے گا، لیکن در پردہ وہ اپنے منصوبے پر عمل پیرا رہا ۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ مسکان بھی دانیال کی محبت پا کر اس سے برگشتہ ہو گئی ۔نتیجتاََ اسے کسی مجر م تنظیم کا سہارا لینا پڑا۔میں اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی سوائے اس کے کہ اسے اس کی محبت سے محروم کر دوں ۔پس میں نے دانیال کے نزدیک ہو گئی ۔کیونکہ مسکان کی موت کے بعد وہ بالکل بکھر گیا تھا ، دوسرا مجھے حماد سے بھی بدلہ لینا تھا۔ مسکان باجی کی موت کی خبر سن کر میں یہاں آئی تھی اور اس دن آپ کو دیکھامگر مجھ میں اتنی جرات نہیں تھی کہ آپ کے خواب ہی دیکھ سکتی اور اب جبکہ باجی اللہ پاک کے کرم سے واپس آ گئی ہے تو اس نے جانے کیسے آسمان سے چاند کو توڑا اور میری گود میں پھینک دیا ۔“

وسیم مسکرایا ۔” میرے کہنے پر تو نے اپنی کہانی سنائی اور خفا بھی ہو گئیں۔اب بغیر میرے کہے اتنی تفصیل سے سب کچھ بتا دیا ۔“

”آپ کے لہجے نے میرے دل میں غلط فہمی کا بیج بو دیا تھا،لیکن یقینا میں غلط تھی ۔“

”نہیں غلطی میری تھی ۔“وسیم نے اس کا ملائم ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیج تھامتے ہوئے سہلایا۔ ”سوری ، مجھے معاف کر دو۔لیکن بہ خدا میرا مقصد وہ نہیں تھا جو آپ نے سمجھا ۔ہر آدمی کے ماضی میں کئی اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں ۔یقینا میرے بھی ہوں گے ۔اگین سوری فری!….مجھے معاف کر دو ۔“

فریحہ نے اپنا دوسرا ہاتھ وسیم کے ہاتھوں پر رکھا ۔”وسیم !….مجھ پر اعتبار ہے نا ؟“

وہ چاہت سے بولا۔”دل و جان سے ….“

”تو یقین رکھو ….مجھ پر ،میں نے اپنا سارا ماضی آپ کے سامنے کھول دیا ہے ….اور میں ایک دفعہ پھر کہتی ہوں ،کہ اس دنیا میں کوئی ایسا مردنہیں ہے جس کے سامنے مجھے نظریں جھکانا پڑیں ، میں حماد کو چاہتی تھی کیونکہ وہ مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا لیکن اس کی غلاظت بھری سو چ نے مجھے اس سے متنفر کر دیا اور پھر میری زندگی میں دانیال آیامیں اس پر خلوص شخص سے متاثر ضرور تھی مگر نہ تو وہ مجھے چاہتا تھا اور نہ مجھے اس سے کوئی محبت تھی ،ہمارے بیچ بس ہمدردی کا رشتا تھا ۔البتہ حماد کا متبادل اس کے علاوہ کوئی نظر نہ آیا اور پھر حماد سے باجی کا انتقام بھی تو لینا تھا۔“

”فری !….اتنی صفائیاں دینے کی وجہ….؟“

وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی ۔”کیوں کہ آپ کو کھونا نہیں چاہتی ۔“

پگلی !….مجھے بس ایک ہی ڈر تھا ۔“

”وہ کیا ؟“فریحہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔

”یہی ،کہ آپ یہ حامی کہیں مسکان کے دباو کی وجہ سے تو نہیں بھر رہیں ۔“

وہ شوخی سے مسکرائی ۔”واہ !میں پڑھی لکھی ہوں کسی کے دباومیں آکر میں اپنی زندگی داو پر کیسے لگا سکتی ہوں ؟“

”اجی!….پڑھے لکھوں کا بھی کوئی بھروسا نہیں ہوتا ۔“سیٹھ وسیم نے کہا اور فریحہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔

٭……..٭

مسکان سرخ کپڑوں کی ڈھیری بنی آنے والے خوشگوار لمحات کے بارے سوچ رہی تھی ۔آخر کار دانیال نے اسے جیت ہی لیا تھا ۔یہ وہی خواب گاہ تھی جس میں چند ماہ پہلے وہ دلہن بن کر آئی تھی۔ گویا دلہن کے ساتھ خواب گاہ بھی نہیں بدلی تھی ۔دولھا بھی وہی تھا….بس بدلے تھے تو اس کے احساسات ….پہلی مرتبہ جب وہ دانیال کی دلہن بنی تھی تواس کا دل اندیشوں سے پر تھا اور وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کےے آنے والے وقت کوٹالنے کے لیے دعا گو تھی اس کے برعکس، آج وقت گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔سیکنڈز کی سوئی نے گھنٹوں کی سوئی سے ساز باز کر کے اس کی جگہ سنبھال لی تھی ….اور منٹوں اور گھنٹوں کی سوئیوں کی باری تو یوںبھی سیکنڈز کے بعد آتی ہے۔لمحہ لمحہ سال بن گیا تھا ۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لمحہ لمحہ صدی کیوں نہ بن جائے وقت نے آخر گزرنا ہی ہے ….

دروازہ کھٹکھٹاکر دانیال اندر داخل ہوا ….

”اسلام علیکم!….“

اس کی بھاری آوازمسکان کی سماعتوں میں پڑی اوروہ گھونگٹ الٹتے ہوئے بولی۔”وعلیکم اسلام! …. محترم وقت دیکھا ہے ؟“

دانیال نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”ارے منہ دکھائی سے پہلے دلہنیں باتیں نہیں کیا کرتیں؟“

مسکان نے منہ بنایا۔”بس کرو جی !…. بڑا آیا منہ دکھائی والاپچھلی بار کتنی دیر تک گردن جھکائے بیٹھی رہی اور بدلے میں جناب نے ایک رومال پکڑا دیااب بھی کوئی ایسی ہی چیز اٹھا لائے ہوں گے محترم!“

”اگرمیرا تحفہ اتنا ہی برا لگا تھا تو اسی وقت بتا دیا ہوتا۔“

”اب بتا رہی ہوں نا ۔“

”اچھا جی !….اب تو سونے کا لاکٹ ،ہیرے کی انگوٹھی اور سونے ہی کی چوڑیاں لایا ہوں ۔“

”دانی !….منہ دکھائی میں تین تین تحفے یہ خوب رہی ؟“

”تو کیا کروں ،پچھلی بار ایک تحفہ دیا تھا اور نتیجہ بھگت رہا ہوں….“

وہ ہنسی ….”کیا ہوا جی۔“

”یہ دوسری شادی اسی وجہ سے تو کرنی پڑ رہی ہے نا محترما !….غریب آدمی کہاں بار بار خرچہ کرسکتا ہے یہ تو سیٹھوں کے چونچلے ہیں۔“

”اچھا ….یہ بات ہے ؟“مسکان نے آنکھیں نکالیں ۔

”جی ہاں اورخفا ہونے سے بچت نہیں ہو سکتی ۔“دانیال اس کا ہاتھ پکڑ کر سہلانے لگا ۔

”دانی !….مجھے چوڑیاں پہناو نا ۔“ مسکان کھسک کر اس کے قریب ہوئی اور اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا ۔

دانیال اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔”مشی !….جانتی ہو تم مجھے کتنایاد آتی رہی ہو۔“

مسکان اس کی پیٹھ پر مکے برساتے ہوئے بولی ۔”جی ہاں اسی لیے تو میری قبر کی مٹی سوکھنے سے پہلے جناب نے ایک دوشیزہ ڈھونڈ لی تھی ۔“

”اب تک معاف نہیں کیا۔“دانیال نے اس کی ناک پکڑ کر آہستہ سے کھینچی ۔

”پہلے سزا تو کاٹو ۔“

”کاٹ تو لی ہے ،جانتی ہو ایک ایک لمحہ صدیاں بن گیا تھا ۔مشی !….تمھارے ساتھ ہی بہاریں تھیں اور تمھی سے خوشیاں تم چلی گئیں ،کچھ بھی باقی نہ رہا ۔“

”مجھ پر کیا گزری ہو گی ،یہ کبھی سوچا ہے؟۔“مسکان آرزدہ ہو گئی تھی۔

دانیال نے خاموشی سے سر جھکا دیا تھا ۔

وہ سسکی ۔”جانتے ہو دانی !….انھوں نے میرے ساتھ کیا کیا ….میرے غرور ، خوداری،عصمت اور عزت نفس کی کیسے دھجیاں اڑائیں میں ہر پل موت کی دعا مانگتی رہی مگر موت بھی روٹھ گئی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ یہ سزا مجھے تمھارا دل دکھانے کی وجہ سے ملی ہے میں ……..“

”بس جان !….“دانیال نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب گھسیٹ لیا ۔”وہ خبیث اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں اور یاد رکھنا گلاب کے پھول پرگندگی کے چھینٹوں کی حقیقت بس اتنی ہے کہ با رش کے چند قطروں سے دھل جاتے ہیں۔کبھی سنا ہے کہ گرد و غبار نے پھول سے خوشبو چھین لی ہے….؟نہیں نا….پھر میرے پھول سے وہ کیسے کچھ چھین سکتے ہیں ….مشی جان!….تم میرے لیے آج بھی اتنی ہی پاکیزہ ،مقدس اور اجلی ہو جتنی اپنی پیدائش کے وقت تھیں ۔“

”دانی !….آپ نے مجھے بگاڑ دیا ہے ۔“مسکان نے اس کی کشادہ چھاتی پر سر رکھ دیا ۔

”پگلی !….تمھیں کیا معلوم اس دل میں تمھاری کتنی چاہ ہے ۔“

”اچھا زیادہ مکالمہ بازی کی ضرورت نہیں ….مجھے چوڑیاں پہناو۔“مسکان نے ریشمی کلائیاں سامنے کرتے ہوئے لاڈ سے کہا۔

اور دانیال بڑی چاہت سے سونے کی چوڑیاں اس کی کلائی میں ڈالنے لگا ۔

”دانی !….ایک بات مانو گے ۔“

”مشی !….ہر بات منوا سکتی ہے ۔“

”مجھے ہنی مون منانے کے لیے لے جاوگے ….؟“

”ہاں ….مگر ایک شرط پر۔“

”وہ کیا ؟‘مسکان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔

و ہ شرارت سے بولا۔”وہاں سے ایک دم واپسی کے لیے نہیں کہو گی ….کم از کم مجھے ایک دن پہلے بتاوگی کہ کل واپس جانا ہے ۔“

مسکان کے چہرے پر خفت بھری ہنسی پھیلی اور وہ بولی ۔”دانی !….اب طعنے بھی دینے لگ پڑے۔“

”طعنے نہیں جان!….درخواست ہے ….یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنی مشی کو طعنے دوں۔“

”ٹھیک ہے کل ہم جا رہے ہیں اوراس بار پورا مہینا وہیں بِتائیں گے ۔“

”مشی !….زندہ باد۔“دانیال نے نعرہ لگایا اورمسکان نے طمانیت سے آنکھیں موند لیں۔

٭……..٭

پھٹے پرانے کپڑے ،پاوں میں جوتے ندارد،جھاڑ جھنکار داڑھی،الجھے ہوئے بال جن میں میل کچیل بھرا تھا ،یقینا اس نے کئی ماہ سے جسم پر پانی کا قطرہ نہیں بہایا تھا۔

چوکیدار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے گیٹ کے سامنے سے ہٹنے کو کہا ۔مگر وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے چوکیدار کو گھورتا رہا ۔

”اچھا بابا!….یہ لو اور پھوٹو یہاں سے ….“چوکیدار نے پانچ روپے کا سکّانکال کر اس کی طرف بڑھایا۔مگر پیسوں کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر وہ اسے گھورتا رہا۔

”باباجی !….صاب لوگوں کے آنے کا وقت ہو گیا کیوں مجھے بے عزت کرانے پر تلے ہو۔“اس مرتبہ چوکیدارنے اسے بازو سے پکڑ کر آگے کی طرف دھکیلا۔

”چھوڑو مجھے ….“وہ ہتھے سے اکھڑ گیا تھا ۔”جانتے نہیں یہ میری کوٹھی ہے ۔“

”بابا !….تم نے بیچ دی ہے نا ….؟“ چوکیدار نے اسے بہلا پھسلا کر وہاں سے ہٹانا چاہا۔

”مسکین خان !….یہ میری کوٹھی ہے ….کس نے کہا کہ میں نے بیچ دی ہے ؟“ مجنون شخص نے چوکیدار کو اس کے نام سے پکارا۔

چوکیدار نے اسے غور سے دیکھا ….اور اس کے وحشت زدہ چہرے پر اسے شناسائی کی جھلک نظر آئی ،

”ارے حماد صاحب!….آپ ….یہ کیا حال بنا رکھا ہے ؟“مسکین خان نے ترحم آمیز لہجے میں پوچھا ۔

”ہا….ہا….ہا….یہ تو بس یونہی حلیہ بدل رکھا ہے ۔تم دیکھنا جلد ہی میں ان سیٹھوں پر کیس کر رہا ہوں ،انھوں نے میری کوٹھی اور کاروبار ہتھیا لیا ہے ۔“

اس سے پہلے کہ مسکین اس کی بات کا کوئی جواب دیتا اچانک روڈ سے ایک کار نمودار ہوئی ۔

”اوہ !….یہ لازماََ مجھے پکڑنے آ رہے ہیں ؟“حماد متوحش آواز میں بولا اور مخالف جانب دوڑ پڑا ۔ جبکہ مسکین ترحم آمیز نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا ۔اچانک کار کے ہارن نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا وہ دانیال اور مسکان تھے ۔

مسکان پوچھنے لگی ۔”چچا !….کون تھا؟“

”کوئی پاگل تھابیگم صاحبہ!….“مسکین خان نے کہااورآنکھوں میں آئی نمی چھپانے کوگیٹ کی طرف مڑ گیا ۔

٭٭٭

عائشہ خاتون نے ننھے داود کو گود سے نکال کر بے بی کاٹ پر لٹایااور وہ زور زور سے رونے لگا۔

”اَلّے ….کیا ہوا میرے لال کو….؟“وہ اسے پچکارنے لگی۔”میں بس دودھ گرم کر کے ابھی آئی ۔“مگر بچے پر کوئی اثر نہ ہوا وہ اسی طرح روتا رہا ۔

”یہ بد معاش کیوں رو رہا ہے بھئی !….؟“ دانیال آنکھیں ملتا ہوا بیڈ روم سے برآمد ہوا ۔دفتر سے واپسی پر سونا اس کا معمول تھا ۔

”دانی !….ایک منٹ اسے سنبھالو ،میں اس کے لیے دودھ گرم کر لوں ۔“

”معافی چاہتا ہوں امی جان….اپنی بہو کو آواز دے لیں۔“دانیال بہ ظاہر منہ بناتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا ۔

”آئے ہائے ….باولا ہوا ہے کیا ….وہ غریب سو رہی ہے ۔“

”تو نہ سوئے ….اس کا کام ہے وہ خود ہی کرے گی ۔“دانیال کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا ۔

”ماں جی !….کیا بحث ہو رہی ہے ؟“ مسکان جمائی لیتے ہوئے دروازے پر نمودار ہوئی۔

دانیال نے جلدی سے وضاحت کی ۔”امی جان !….کہہ رہی تھیں کہ کاکے کے لیے دودھ گرم کرنا ہے تو مشی کو جگا دوں،میں نے کہا کہ میں خود سنبھال لوں گا ،آپ دودھ گرم کر لیں۔بس اتنی سی بات ہوئی ہے۔“

عائشہ خاتون نے ہنستے ہوئے کہا ۔ ”دانی !….کچھ خدا کا خوف کرو۔“

”امی جان !….آپ تو کہہ رہی تھیں نا ،کہ مشی کو جگا دوں ورنہ لوگ مجھے زن مرید سمجھنا شروع کر دیں گے اور میں نے کیا کہا ،یہی نا کہ کہتے رہیں۔اب بتاو نا مشی کو؟“

”ڈرامے بازنہ ہو تو ۔“عائشہ خاتون کی ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔

”ماں جی !….یہ کس نے کہا تھا کہ بچے کو سنبھالنا میری ذمہ داری ہے ۔“مسکان ہنسی ضبط کرتی ہوئی عائشہ خاتون کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔

”دانی سے پوچھو بیٹی !….“

”مم….میں کیا بتاوں امی جان!….اب آپ کی چغلی کھاتا اچھا لگوں گا ؟“

”ارے بھئی یہ کیا ،آپ لوگ گپیں ہانک رہے ہو اور میرا بھانجا رو رو کر ہلکان ہوا جا رہا ہے ؟“اچانک فریحہ نے اندر داخل ہو کر انھیں حیران کر دیا تھا ۔اس نے آتے ساتھ داود کو بے بی کاٹ سے اٹھا کر سینے سے لگا لیا ۔

دانیال نے جلدی سے پوچھا۔ ”فری !….ایک بات بتاﺅ؟“

وہ بولی ۔”پوچھو….؟“

”بچے کو سنبھالنا ماں کی ذمہ داری ہے یا باپ کی ؟“

فریحہ اطمینان سے بولی ۔”اگر بچے کی ماں کا نام مسکان عرف مشی ہو تو پھر یہ کام باپ کا بنتا ہے….کیونکہ ماں نے آخر کچن بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔“

دانیال نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ”اور اگر بچے کی ماں کانام فریحہ عرف فری ہو تو ؟“

وہ اطمینان سے بولی ”پھر تو بچے کے ساتھ کچن سنبھالنا بھی باپ کی ذمہ داری ہو گا ۔“

”ادھر کرو میرا بیٹا….شکر ہے میں سیٹھ وسیم نہیں ہوں ؟“دانیال اظہار تشکر کرتا ہوا فریحہ کی جانب بڑھا ….اور تینوں خواتین بے ساختہ ہنسنے لگیں ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: