Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Episode 10

0
جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ – قسط نمبر 10

–**–**–

” اُسکا بھرم ٹوٹ گیا رابی آج اُس نے مجھے توڑ دیا کاش کاش میں وہ نا سنتا جب گناہ کو روک نہیں پایا تو سنا کیوں؟؟ میری سالوں کی محبت آج کرچی کرچی ہوگئی جب آئینے میں اسکا وہ بھیانک چہرہ دیکھا “ وہ راکینگ چیر پر آنکھیں موندے سر سیٹ کی پشت سے لگائے بیٹھا تھا لیکن ان بند آنکھوں سے نمی پھسل کر اسکے کندھے کو بھیگو رہی تھی اور میں دم سادھے آج پہلی بار اسکے ہونٹوں سے ایسا انکشاف اور ان آنکھوں میں نمی دیکھ رہی تھی۔۔۔
” صارم کیا ہوا بتاؤ “ میں نے اسکا کندھا ہلا کر باقاعدہ جنجھوڑا لیکن وہ کسی پتھر کی طرح اپنی اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا۔۔
” میری ایک ہیلپ کردو “ بند آنکھوں سے وہ گویا ہوا
” پہلے بتاؤ تم رو کیوں رہے ہو؟؟ “ میں نے اپنی بات دُہرای لیکن اسے بھی جانتی تھی اب تو وہ بلکل نہیں بتائے گا پر اسکی ایسی حالت مجھے خوفزدہ کر رہی تھی۔۔
” اُس سے بات کرو، سب پوچھو اُس نے ایسا کیوں
کیا؟؟؟ “ ایک پل کے لئے بھی اس نے بند آنکھوں کو نہیں کھولا جیسے ڈر ہوکے میں ان آنکھوں میں لکھی تحریر پڑھ لونگی۔۔
” مجھے سب بتاؤ پہلے “ اب کے میں نے دانت پستے تیز لہجے میں کہا پر اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
” میں تمہیں جان سے ماردوں گی آگر ابھی کے ابھی مجھے سچ نا بتایا تو۔۔۔ “ میری وارننگ کا بھی اُس پر کوئی اثر نہیں ہوا نا میرے غصّے کا۔ یکدم سے وہ اٹھا اور سر جھکائے جیب میں سے فون نکال کر جلدی سے اپنی انگلیوں کو حرکت دینے لگا اور اس سے پہلے کے میں کچھ پوچھتی وہ کار کی چابی لیکر باہر نکل گیا میں پیچھے سے آوازیں دیتی رہی لیکن وہ ان سنی کر کے چلا گیا۔۔۔
شدید غصّے کے عالَم میں میں نے اُسکی فیوریٹ پرفیوم دروازے پر مارنی چاہی تاکے جاتے ساتھ میری حالت کا بھی اندازہ لگاے لیکن اچانک ہی اُس لڑکی کی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔۔۔
” تم اس زندگی سے گزرو تو تمہیں مانوں پچیس سال نفرت میں گزارو تو مانوں نا پسندیدگی کا اظہار اپنے شوہر کے منہ سے روز روز سنو تو تمہیں مانوں۔۔۔۔ “
یا اللّہ کیسے وہ اتنا صبر کر لیتیں ہیں؟؟؟ اتنی ذلت کے بعد بھی کیسے وہ خود کو کنٹرول کرتی ہیں؟؟ یہ صبر مجھ میں کیوں نہیں میں کیوں جذباتی پن میں اپنا ہی نقصان کرتی ہوں؟؟
وہ بےحد عجیب لڑکی تھی میرا ایک اسکیچ دیکھ کر کہنے لگی رشتے تو تب مضبوط ہونگے جب جُڑے ہوں۔ اُسکی بات مجھے اُس وقت تو سمجھ نا آئی لیکن جب اُس نے میرے اسرار کرنے پر اپنی کہانی بتائی تب مجھے اسکے کرچی کرچی دل کا اندازہ ہوا میرا ایک اسکیچ تھا جس میں دو ہاتھ آپس میں جکڑے ہوئے تھے لیکن اسکا وجود مٹی کی شکل میں آہستہ آہستہ ہوا میں بکھر رہا تھا۔۔ اُس لڑکی نے میرے پیج پر اس اسکیچ کو دیکھ کر مجھے مسیج کیا کہنے لگی جب دو انسان ایک ان دیکھے بندھن میں بندھتے ہیں تبھی رشتے کی کچی ڈور ہونے کی وجہ سے ایک ہوا کا ہلکا سا جھٹکا بھی انہیں بھکیر دیتا ہے الگ کردیتا ہے جبکے اسکیچ بناتے وقت میرے دماغ میں بس یہی تھا کے جب اعتبار نہ ہو بھروسہ نا ہو تب ہلکا سا ہوا کا جھٹکا بھی رشتے کی اس کچی ڈور کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے کیوں کہ محبت کی شادی ہو پسند کی یا مجبوری میں کی اعتبار ہی ان رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ جبکے ان دیکھے بندھن کا میں نے سوچا تک نا تھا خیر مجھے اسکی بات بھی غلط نا لگی لیکن اِس کے اُس نظریہ، غم میں ڈوبی باتوں نے مجھے مجبور کیا کے میں نے اُس سے اُسکی کہانی پوچھی کے وہ اتنی غمزدہ کیوں ہے؟؟ میں نے باتوں باتوں میں ہی اس سے باتیں نکلوائیں اُسے سمجھایا بھی لیکن اُسکی نفرت کی انتہا اور اُسکے لفظوں نے مجھے ڈرا دیا وہ اپنی ساس کو بلکل پسند نہیں کرتی تھی جس نے بیٹے کی پسند کو ٹھکرا کر اُسکی شادی ایک ایسی لڑکی سے کردی جو ساری عمر بس زبان پر تالا لگا کر اُنکی جی حضوری کرے اور اِسکے الفاظ مجھے آج تک نہیں بھولتے جنہیں یاد کر کے میرا دل کانپ جاتا ہے اسنے کہا تھا اگر تم میری جگہ ہوتیں میں کانپ کے رہ گئی۔۔۔مجھے آج بھی اُسکا لفظ لفظ یاد ہے۔۔۔
” بہت چالاک ہو تم لفظوں کے جال میں اُلجھا کر سب بُلوانا چاہتی ہو؟ تو سنو میرے شوہر اپنے ایک دوست کی بہن کو پسند کرتے تھے میری ساس کو گوارا نا تھا کے بیٹا ماں کو چھوڑ کر بیوی کی غلامی کرے اسلئے انہوں نے اپنی محروم بہن کی بیٹی یعنی میں میری شادی اپنے بیٹے سے زبردستی کردی اُسے قسمیں دے کر۔۔۔ تاکے دوسری شادی کرے تب بھی غم نہیں فل ٹائم نوکرانی تو مل جائے گی نہ۔۔۔۔ اور کیا کہا تم نے ساس سے نفرت نا کروں؟؟ تم اِس زندگی سے گزرو تو تمہیں مانوں، پچیس سال نفرت میں گزارو تو مانوں، نا پسندیدگی کا اظہار اپنے شوہر کے منہ سے روز روز سنو تو تمہیں مانوں۔ مجھے مشورہ دینے سے پہلے خود کو میری جگہ رکھو تو جانو اور ساس سے نفرت کی وجہ وہ خود ہیں میں اُن کی خدمت تو کرتی ہوں اور مجبوراً احترام بھی لیکن محبت نہیں نہ ہی عزت کرتی ہوں۔۔ انہوں نے اپنی دوست سے ایک دن خود کہا تھا کے وہ لائی ہی مجھے اس لیے ہیں کے بیٹا ان سے منہ نا موڑے انھیں میری آنسوؤں کی پروا نہیں بس اپنے بڑھاپے کی فکر ہے۔۔۔ اور جانتی ہو بی بی بہت شوق ہے نا مشورے دینے کا تو سنو میری ساس کی دوست نے میری تعریف کی تھی کے تمہاری بہو میں کتنا صبر ہے، کتنی ہمت ہے کے شوہر پلٹ کر پوچھتا تک نہیں پھر بھی تمہاری خدمت کرتی ہے اور جانتی ہو پلٹ کر پوچھتا کیوں نہیں؟؟؟ کیوں کے اُس نے اپنی پسند سے شادی کرلی اور میری یہ ساس میری سگی خالہ اپنے بیٹے کی نظر میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے خوشی خوشی اُسکی شادی میں شریک ہوئیں اب بھی بتاؤ کیا نفرت کے قابل نہیں یہ؟ کیوں یہ مائیں شرابی نشئی بیٹے کی شادی کر کے سمجھتی ہیں کے بیوی آئے گی سدھارے گی ارے جو شخص ماں کی عزت نہیں کرتا جسے سالوں کی پرورش نا سدھار سکی اُسے دو دن کی آئی لڑکی کیا سدھارے گی؟؟؟ کیا ہوا؟؟ رحم آرہا مجھ پر نا کھاؤ رحم کیوں کے مجھے خود پر بھی رحم نہیں آتا۔۔۔۔ اب ایک بات بتاؤں میں نے خوابوں کا ایک جہاں دیکھا تھا بہت خوبصورت خواب ان آنکھوں میں سجائے تھے جب سے شادی کا سنا تھا میرے پاؤں زمین پر نا پڑتے تھے مجھے یاد ہے امی کہتی تھیں خوشیاں یہاں نا ملیں تو اس جہاں میں ملیں گی لیکن کبھی زندگی سے مایوس نا ہونا بس یہی ایک جملہ مجھے صبر دیتا ہے میری ماں۔۔۔ میں نو سال کی تھی جب جڑوا بھائی بہن کو مجھے تھما کر خود خالق حقیقی سے جا ملیں ساری زندگی ماں بن کے میں نے اپنے بھائی بہن کو پالتے گزاری ہے ابا نے صرف ہمارے خاطر دوسری شادی نا کی لیکن مجھ پر زمیداری کا بوجھ بہت تھا اور ابا کی غریبی کو دیکھ کر ہی ہم بھائی بہن نے کبھی ان آنکھوں میں خواب نا سجائے خوائشوں کو اپنے اندر مار دیا لیکن میں نے شادی کا سن کر خواب سجاے سارے ارمان پورے کرنے کا سوچا، مجھے دولت کی بھوک نہیں تھی بس وہ خوائشات جو ہر شوہر اپنی بیوی کی پوری کر سکتا ہے، لیکن جانتی ہو میری زندگی میں سب عجیب ہوا بےحد عجیب اتنا بڑا گھر ہے کمرے ہیں لیکن صفائی کے لئے نوکر نہیں، پیسے ہیں لیکن میرے ہاتھ میں کچھ نہیں پائی پائی کی محتاج رہی،، وہ اپنی ماں کی غلطی کا حساب بھی مجھ سے لیتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا میرا تو کوئی نہیں ہے میں کس کے کندھے پر سر رکھ کے روئوں میں نے تو کبھی اُس سے محبت بھی نہیں مانگی بس عزت مانگی جو اسنے کبھی نہیں دی۔۔ خواب سجائے تو نہیں لیکن دیکھو میری ان آنکھوں سے اُس شخص نے خواب نوچ لیے اب تو ان آنکھوں سے ایک قطرہ نہیں بہتا ایک امیر شخص کی بیوی ہوکر بھی مجھے ساس کے سامنے پیسوں کے لیے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں چھوٹی چھوٹی چیز اُن سے مانگنی پڑتی ہے شوہر نہ دیتا ہے نہ پلٹ کے پوچھتا ملنے بھی آئے تو یہ اظہار کرنا نہیں بھولتا کے ایک ناپسندیدہ وجود اُسکی زندگی میں شامل ہوا ہے ارے وہ تو محفل میں بھی نا پسندیدگی کا اظہار کرنا نہیں بھولتا تو عام دن۔۔۔۔ میں نے اب رونا چھوڑ دیا ہے اکیلے اپنے دو بچوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے بس وہی اب میری قل کائنات ہیں میں نے انھیں پڑھایا لکھایا اور آج دیکھو میرا بیٹا کہتا ہے جو بھی ہو آپ جیسی ہو صبر آپ جیسا ہو کوئی اپنے جیسی لڑکی میرے لیے ڈھونڈیں۔۔اور ایک مزے کی بات بتاؤں وہ واپس آگیا ہے معافی نہیں مانگی پر اپنی نو سال کی بیٹی ساتھ لایا ہے جان بوجھ کر بار بار چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بلاتا ہے اسرار کرتا ہے میرے ساتھ باہر چلو گھومو، میرے ساتھ بیٹھو باتیں کرو مجھے اپنا وقت دو لیکن معافی نہیں مانگتا مجھے ہنسی آتی ہے اُسے تڑپتا دیکھتے مجھے کریڈٹس کارڈز دیکر معافی خریدنا چاہتا ہے اب جب میری خود کی اولاد مجھے ہر چیز دے سکتی ہے تو اُسکے آگے ہاتھ کیوں پھیلائوں؟؟ میں اُسکی بےبسی کا خوب تماشا دیکھتی ہوں لیکن کیا کروںن نا اُسکے لفظ، نا اسکا لہجہ نا اسکا لمس مجھے پھگلا سکا میری خواب دیکھتی آنکھیں تو کب کی بند ہو چکی ہیں مجھے اسکے ہونے نا ہونے سے فرق نہیں پڑتا وہ شاید تڑپتا ہے کے میں اس سے اُسکی بیوی کا پوچھوں اور وہ معافی مانگے غلطی کا اقرار کرے لیکن یہ موقع میں اُسے کیوں فرائم کروں؟؟ جب خواب ختم ہوگے سال بیت گئے احساس مر گیا تو اِس معافی کا کیا کروں؟؟؟ اور تم سے ایک بات کہوں جس دن اُس نے مجھ سے معافی مانگی میں اُسے اُس دن چھوڑ دونگی۔۔۔۔ کیوں کے مجھے اب اس پر ہنسی آتی ہے اور میں ہنس کر اسے خود سے نفرت کرنے نہیں دونگی کیوں کے ہجر کے کچھ لمحوں کا مزہ وہ بھی چکھے۔۔۔۔ “
کیا تھی وہ؟؟ اتنا صبر کہاں سے لائی؟؟ کون برداشت کرتا ہے اتنا سب اور اُسی کی خدمت کرتی جس نے آباد ہونے نہیں دیا۔۔ یا الله جب دوسروں کے دُکھ دیکھو تو انکے سامنے اپنے دکھ معمولی لگتے ہیں۔ میں آگر ڈیفیکٹو تھی تو بابا نے مجھے چلنا سیکھایا بات کرنا سیکھایا بھلے میرے پاس دنیا نہیں تھی لیکن میری دنیا میرے ماں باپ تو تھے لیکن وہ کتنا روتی تڑپتی ہوگی نا ماں ہے، نا باپ کو کچھ کہہ سکتی نا شوہر کو اپنا ہم درد بنا سکی۔۔ کوئی نہیں تھا اُسکے پاس لیکن ماں کا بس ایک جملہ اُسے ہمت دے گیا اور آج وہ حکومت کرتی ہے اور شوہر اُسکے پیچھے دوڑتا ہے۔۔۔ میں نے اُسکے لفظوں سے وہ اسکیچ بنایا خواب نوچ لیے ان آنکھوں سے اور آخر میں میں نے وہ آنکھ بند کردی کیوں کے اب اسنے خواب دیکھنے چھوڑ دیے تھے بس جو گزر رہا تھا اس پر شکر کرنا سیکھا تھا۔ مجھے اس سے واقعی ہمدردی محسوس ہوتی ہے کاش میں اسے کبھی دیکھ پاتی کبھی مل سکتی لیکن وہ تو شاید ٹائپ کرتے بھی رو رہی تھی تبھی اپنی داستان بتا کر اسنے پیج سے میسجز اوف کردیے میری بےبسی کی انتہا نہیں تھی کے میں اُسے میسج تک نہیں کرسکتی۔ لیکن مجھے ایک بات کی خوشی تھی کے وہ روتا ہے تڑپتا ہے اولاد تک کے منہ سے بابا سننے کے لئے بےچین رہتا ہے اور مجھے اُس شخص پر رحم نہیں آیا کیوں کے وہ یہی ڈیزرو کرتا ہے اُسنے بھی اُس معصوم پر رحم نہیں کیا تھا۔۔ اُس عورت نے بتایا تھا اُسکا بیٹا اُسے ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھتا ہے، اب خود کماتا ہے تو ماں کو کام کرنے تک نہیں دیتا بیٹی الگ ماں کو آنکھوں پر بیٹھا کر رکھتی ہے اسنے کہا تھا ” ماں کی محبت اس دنیا کی واحد محبت ہے جو دریا کی طرح ہے جو ختم نہیں ہوتی بہتی چلی جاتی لیکن اپنے بیٹے کو دیکھتی ہوں تو اسکی محبت میرے محبت کے آگے اس دریا کے پانی سے بھی کم لگتی ہے میں روتی تھی تو میرے ساتھ وہ بھی روتا تھا میں ہنستی تو میرے ساتھ ہنستا اب بڑا ہوگیا ہے نا اکیلا نہیں چھوڑتا کہیں ڈپریشن کی مریض نا بن جاؤں اور کہتا ہے اپنی پہلی اولاد آپ کو دونگا تاکے آپ کو کسی اور کو سوچنے کا وقت ہی نا ملے اور بس میں اُسکی بات پر ہنس دیتی اُسے سمجھاتی ہوں باپ سے بات کرو لیکن وہ کہتا جب کرنی ہوتی ہے، ہمیں ضرورت ہوتی ہے انکی یاد آتی ہے تب نہیں ہوتے تھے اب آگئے ہیں جب دنیا نے ٹھکرا دیا۔۔“ اسنے جاتے جاتے مجھے دو اسکیجز دئے، صبر کرنا بتایا اور بےغرض بیٹے کی محبت کا بتایا جو قابل تعریف تھا کبھی کبھی بچے بھی وقت سے پہلے بڑے ہوجاتے ہیں شاید اُسکا بیٹا بھی انہی میں سے تھا۔۔۔۔
دوسرا اسکیچ میں نے اس عورت کا بنایا جو آئینے کے سامنے کھڑی تھی وقت سے پہلے اسکے بال سفید ہوگے لیکن خوبصورت وہ اب بھی ویسی ہی تھی اور آئینے میں سے دو ہاتھ نکلے تھے جو اسے پھول دے رہے تھے لیکن وہ ہاتھ زخمی تھے عورت کے وجود کی طرح جو ساری عمر رشتے بنانے میں محبت پانے میں لگا دیتی لیکن وہی جب اسکے پاس لوٹ آتی ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔۔۔۔
اور آج اس وقت جب صارم کے جانے کے بعد میں نے موبائل چیک کیا تو اسنے ایک لنک بھیجا تھا میں نہیں جانتی کیا ہوا ہے لیکن وہ اب صرف یہ لڑکی بتا سکتی ہے۔۔۔۔ اور ٹھیک اگلے دن اس خبر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا جب امی اور مجھے خالا نے صارم کے نکاح پر انوائٹ کیا بہت کم لوگ آئے تھے بس اپنے ہی رشتےداروں میں نکاح کی تقریب سرانجام پائی ۔اس سے اگلے دن رخصتی رکھی پھر ولیمہ میرا تو خون کھول اٹھا اکیلا ملتا تو قتل ہی کردیتی بس اُس دن کے بعد امی نے اسرار بھی کیا کے چلتے ہیں لیکن میں نہیں گئی مجھے صارم سے ایسی امید نا تھی اُس نے مجھ سے اپنی زندگی کی اتنی اہم خوشی چھپائی بس ریسپشن کے بعد میں اُسکے گھر ہی نہیں گئی خالا نے فون کر کے اتنا اسرار کیا پھر بھی نہیں۔ صارم نے بھی کال کی لیکن اس کا نمبر پہلی ہی فرصت میں میں نے بلاک لسٹ میں ڈال دیا پھر بدتمیز نے اپنی بیوی سے فون کرایا میں تو قسم سے منہ توڑ دیتی میری سامنے تو آنکھ نہیں کھول سکتا اور پیٹ پیچھے اپنے ہمدرد بھیج رہا ہے میں نے اُسکی بیوی سے بھی ہلکی پھلکی بات کر کے فون ہی امی کو تھما دیا جنہوں نے اگلے دن انھیں انوائٹ کردیا ” واللہ کوئی ایک کام جو اچھا ہوا ہو اب کل ٹپک پڑے گا کاش ٹرانسپورٹ اسٹرائیک ہو اور پٹرول ختم ہوجاے سڑے گرمی میں باہر بیٹھا رہے سارے بل خود ہی نکل آئیں گئے۔۔۔ “میں کلس کر ہی تو رہ گئی پھر اُس لنک کے بارے میں خیال آتے ہی میں نے اُسے کھولا وہ کسی لڑکی کی پروفائل تھی مجھے شک سا ہوا آگر یہ صارم کی دوست ہے تو ضرور اُسکی طرح الٹے دماغ کی ہوگی اتنی آسانی سے کیوں کچھ بتائے گی مجھے صارم کی باتیں یاد آئیں تو میں نے اپنی آئی ڈی میں کچھ تبدیلیاں کیں اپنا پروفیشن سائیکیٹرسٹ بتایا اور دو تین اور تبدیلیاں کر کے میں نے اُسے میسج کیا۔۔
صارم اگلے دن نہیں آیا اس نے امی سے معزرت کرلی اچھا ہی ہوا مجھے اس پر شدید غصّہ تھا کم سے کم ایک دو سال تو سامنے ہی نا آئے اچھا ہے۔۔۔
” بریانی….. اللہ تیرا شکر‎ شدید بھوک لگی تھی “ میں کچن میں بیٹھی بریانی کھا رہی تھی کے اچانک سے کسی نے ٹیبل پر رکھی میری بریانی کی پلیٹ کھسکا کر اپنی طرف کی میں نے نظریں اٹھائیں تو سامنے آبنوس بیٹھا تھا۔ میں اسکی حرکت پر حیران رہ گئی جو اب میرے ہی جھوٹے چمچ سے بریانی کھا رہا تھا اور ساتھ ہی اپنا فون سامنے نکال کر کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
” آپ۔۔۔۔ “ میں اتنا ہی کہہ سکی اس نے تو جیسے میری زبان تک کو تالا لگا دیا تھا۔۔
” ہاں گھر والے نجانے کہاں بھاگ گئے میں پڑھائی سے بریک لیکر روم سے باہر آیا تو سب غائب تھے اور کچن میں کھانا بھی نہیں تھا۔۔۔ تم دوسری پلٹ نکال کر کھا لو اس طرح گھورتیں رہیں تو بریانی ہضم نہیں ہونی “ بڑا ہی کوئی بتمیز تھا ایک تو منہ اٹھا کر آگیا اوپر سے حکم اور وہ چھوڑو اُسے پتا بھی نہیں سامنے بیٹھی بھوک سے ہلکان ہوتی اِسکی بیوی ہے اور وہ مزے سے ایسے ڈٹ کر کھا رہا تھا جیسے تین سال سے ویجیٹرین ڈائٹ پر تھا۔۔۔
یکدم ہی میرا دماغ الرٹ ہوا ” تم میری جگہ ہوتیں تو “
اللہ‎ بالکل نہیں۔۔
” میں آپ کے لئے چائے بنا دوں “ اس عورت کی باتیں یاد آتے ہی دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہر انسان میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا پہل وہ نہیں کر رہا تو میں ہی کر لیتی ہوں۔۔۔ لیکن کیا وہ ہمارے مابین اس رشتے سے انجان ہے؟؟ میں نے تو خود نکاح کی پیکس دیکھیں تھیں اتنا خوش تھا اور صائم بھائی نے بتایا بھی تھا اکیلے میں خوشی خوشی ہار سے پیسے نکال کر گن رہا تھا۔۔۔
” شیور نیکی کرنے سے پہلے پوچھتے نہیں بڑا سا مگ بھر کے دینا “ وہ موبائل میں دیکھتے انگلیوں پر گن رہا تھا اور میرے اندازے کے مطابق وہ چیپٹرز کی
کیلکولیشن (Calculations) کر رہا تھا کے کون سا چیپٹر کتنے وقت میں مکمل ہوگا واقعی وہ کتابی کیڑا تھا۔۔میں چائے رکھ کے اپنے لئے بریانی نکال کر اسکے پاس ہی بیٹھ گئی اور اگلے لمحے جو ہوا اُس نے میرا خون کھول دیا جب آبنوس نے میرے پلیٹ سے آدھی بریانی نکال کر اپنی پلیٹ میں ڈالی۔۔
” بریانی میرے خون میں دوڑتی ہے اور چچی کے ہاتھ کی لزیز۔۔۔ جو دنیا بھلا دے “ میں بچی بریانی زہر مار کے ہلق سے اتارنے لگی کیوں کے باقی بریانی تھی ہی نہیں اور امی بھی باقی فیملی کے ساتھ پھپھو کے یہاں گئیں تھیں۔ بریانی کھانے کے بعد اسنے چائے میز سے اٹھائی اور نیچے چلا گیا۔۔۔
میں چائے کی چسکیاں لے رہی تھی جب اس لڑکی مومنہ کا میسج آیا میں آہستہ آہستہ ڈیلی اس سے بات کرنے لگی اسے اپنے پیج پر انوائٹ کیا اور وہ تو جیسے اسی کی منتظر تھی میری ایک ایک پوسٹ غور سے دیکھ کر تبصرہ کرتی لیکن ایک اس آنکھ والے اسکیچ پر اس نے کرائینگ فیس بنایا جسے بہت دل سے راتوں رات میں نے بنایا تھا تاکے وہ عورت واپس آئے لیکن وہ نہیں آئی نا اسکی وہ آئی ڈی کھلی میرے لئے وہ ایک خاص لڑکی تھی جسے دیکھنے کی خوائش میں نے دل میں دبا لی۔۔
لیکن یہ مومنہ اس سے میں روز خود سے میسج کرنے لگی اسے بہت حد تک اعتماد میں لیا لیکن اس نے جو انکشاف کیا اس سے میرا زہن پل بھر کو سن ہوگیا۔۔۔۔
” بچپن سے مجھے اپنی کزن سے شدید نفرت تھی یا یہ کہا جائے حسد اور اس حسد کی آگ نے مجھ سے میرا اصل میری خوشیاں تک چھین لیں۔۔ میں۔۔ میں آپ کو کیسے بتاؤں مجھ سے کتنا بڑا گناہ ہوگیا آپ نے اپنے پچھلے اسکیچ میں دکھایا تھا کے شوہر بیوی کی آنکھوں سے وہ خواب نوچ لیتا ہے۔۔ لیکن ایسا نہیں ہر دفع دوسرا شخص آپ کی خوشیاں کا قاتل نہیں ہوتا کبھی کبھی آپ خود اپنے آپ کو اذیت دینے کا باعث بنتے ہیں جیسے میں۔۔ نجانے وہ نفرت کا کونسا جذبہ تھا جس میں آکر میں نے اپنی ہی کزن سے حسد کر کے اسے اپنی جگہ لاکھڑا کرنے کا سوچا۔۔ میں چاہتی تھی وہ میری اور میں اُسکی زندگی جیوں وہ بےحد حسین تھی حسن و جمال کا پیکر اُس پر جو ایک نظر ڈالتا پھر بھولے سے بھی دوسری نظر مجھ پر ڈالنا گوارا نہیں کرتا کے کہیں اُس کے حسن کا اثر مانند نا پڑ جائے۔۔۔ میرا کزن موحد جو اُسکا منگیتر تھا وہ اُسی کی طرح بےحد حسین تھا دونوں پرفیکٹ کپلز تھے ہر کوئی انھیں سرہاتا تھا۔۔ اور جب جب میں انکے لیے تعریف کا ایک فقرہ سنتی اور آئینے میں اپنا سانولا روپ دیکھتی تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ ہم تینوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے موحد، میری کزن افشین اور میں موحد میرا تایا زاد ہونے کے ساتھ خالا زاد بھی ہے اسلئے ہماری بےحد اچھی بنتی ہے لیکن کب یہ دوستی محبت میں بدلی میں جان نا پائی لیکن اس بےجا خوائش نے مجھ سے میرا اصل چھین لیا۔۔ میں حسد کی آگ میں اس انتہا کو پہنچ گئی کے اپنی ہی کزن افشین پر ایسڈ اٹیک کروایا میرا دل کانپ رہا تھا یہ گناہ کرنے سے لیکن میرے خوائش، میرے خواب چیخ رہے تھے میرا دل رو رہا تھا اس خوائش پر لوگوں کے وہ فقرے وہ محبت بھری نظریں جو افشین کی طرف اٹھتیں۔۔ وہ موحد کی محبت بھری نظریں جو افشین کو گلنار کردیتیں سب۔۔۔ ان سب باتوں نے مجھے نچوڑ کے رکھ دیا اور میں نے ایک لڑکی کی ہستی کھیلتی زندگی تباہ کردی لیکن کہتے ہیں نا ہر مقصد انجام کو نہیں پہنچتا اسی طرح میں بھی ناکام ہوئی وہ آج بھی خوبصورت ہے بلکل ویسی ہی لیکن اسکا بازو پورا جل چکا ہے میری نفرت کی طرح وہ بھی راکھ ہو چکا ہے۔۔۔ می۔۔۔ میں آج تک تڑپ رہی ہوں اُس سے معافی مانگنے کے لیے لیکن ہمت نہیں ہوتی۔۔ اس حادثے کے بعد موحد نے اُس سے شادی سے انکار کردیا اُسے اپنی خوبصورت زندگی میں داغ پسند نہیں اور میرے دوسرے کزن صارم نے اُس سے شادی کرلی سب حیران تھے اس فیصلے پر لیکن سب بڑوں نے موحد کو بھی مجبور کیا کے وہ مجھ سے شادی کرے کیوں کے ہمارے یہاں خاندان سے باہر شادی نہیں کی جاتی۔۔ اور پتا ہے میں نے کیوں کہا کے وہ میری میں اُسکی زندگی جی رہی ہوں؟؟؟؟ کاش کاش وہ میرے پاس نا آتا یہ انکشاف نا کرتا۔۔ صارم بھی میری طرح سانولا ہے لیکن بےحد حسین وہ ہمیشہ مجھے اپنی خاص دوست مانتا تھا ہر معملے میں میری مدد اپنا اوالین فرض سمجھتا تھا اُسکی احترام بھری نظریں کب محبت میں بدلی مجھے محسوس تک نا ہوا لیکن جب ریسیپشن کے بعد میں اپنی محبت کو پانے کے بعد بھی اپنی کزن کے ساتھ کی اس حرکت پر ندامت کے آنسوؤں بہا رہی تھی تو وہ میرے پاس آیا تھا۔۔۔ مجھ سے وہ کہنے جس کی خوائش میں نے کبھی موحد کے منہ سے سنے کی کی۔۔۔۔
“ You were precious to me that part of me i’ll always need.. You mean the world to me momi ”
سردیوں کے موسم میں گارڈن میں اس وقت خاموشی تھی وہ عین میرے پاس آن کھڑا ہوا اسکی نظریں سامنے اس درخت پر تھیں۔۔ میں نے بےیقینی سے اُسے دیکھا شاید کچھ غلط اسکے منہ سے نکل گیا ہو لیکن اسکے آنسوؤں نے میرا دل چیڑ کر زخمی کردیا۔۔۔۔۔
” کبھی میری نظروں سے خود کو دیکھتیں مومی تم دنیا کی حسین ترین لڑکی تھیں۔۔ مجھے خود سے قریب لگنے لگیں تھیں تمہاری خاموشی تمہارے دلوں کے راز نے مجھے تمہارا دیوانا بنا دیا تھا۔۔۔۔تمہارا دل صاف تھا تم حسین تھیں بےحد حسین افشین تمہارے سامنے کچھ بھی نا تھی کبھی میری ان نظروں سے خود کو دیکھتیں تو۔۔۔ لیکن تمہاری حسرتیں خوائشیں بےجاں تھیں جو کسی اور کا مقدر تھیں اور تم اسے چھین کے آج یہ آنسوؤں بہا رہی ہو۔۔۔ نو۔۔۔ یہ مگر مچھ کے آنسوؤں انھیں دیکھائو جو تمہیں جانتا نہیں۔۔۔ تم نے ایک خوشی کے لیے تین زندگیاں تباہ کی ہیں میرے بھائی کی اس معصوم کی میری اور اپنی۔۔۔۔ ہاں مومنہ تم میرا حسین خواب تھیں جسے تمہاری ضد نے مار دیا۔۔۔۔ اندر بیٹھی وہ معصوم بھلے میری محبت نہیں لیکن آج سے وہ میری زمیداری میری عزت ہے جسے وقت کے ساتھ محبت دینا میرا فرض ہے کیوں کے وہی حقدار ہے میری اس پاک محبت کی۔۔۔تم نہیں تھیں “ وہ اظہار کیا تھا میری روح کچل گیا وہ رویا تھا اُسکی آنکھوں میں آنسوؤں تھے نجانے وہ بچپن کی محبت تھی یا جوانی کی لیکن میں اتنا جانتی ہوں وہ ٹوٹ چکا تھا ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔
اور میں موحد کے حسن کے پیچھے بھاگنے والی وہ اظہار کیا کرتا وہ تو شاید مجھ سے بےزار ہے مجھے اپنے گناہ کی سزا ملی ہے آج جب اُسکی محبت کی قدر کی ہے تو وہ دور جا چکا ہے اور جس کو پانے کے لئے گناہ تک کر بیٹھی۔۔“ اسے آج حاصل کر کے بھی میں لاحاصل رہی “
صارم نے مجھ سے کچھ نہیں چھپایا تھا کچھ بھی نہیں وہ پاک محبت کو بغیر نام دیے نا عام کر سکتا تھا نا بتا کر بدنام۔۔ میں غلط تھی وہ سہی تھا وہ چاہتا تھا میں مومنہ سے پوچھوں اُس نے ایسا کیوں کیا لیکن شاید وہ میری کوشش سے پہلے ہی سب جان چکا تھا میں نے دیر کردی۔ آج مجھے اُسکی شدت سے یاد آئی جب مومنہ نے کہا وہ رویا تھا۔۔ ہاں میں نے بھی پہلی بار اُسے روتے دیکھا تھا وہ کہتا ہے سب اچھے کے لئے ہوتا ہے کیا یہ بھی اچھا تھا اسکے لئے؟؟ کہ وہ اپنی محبت سے بچھڑ گیا؟؟؟
میں نے کل ہی سوچا تھا صارم سے ملنے جاؤنگی لیکن غصّے میں میں اپنا ہی نقصان کرتی ہوں صارم تو بیوی کے ساتھ اسلام آباد جا چکا تھا تبھی ہمارے گھر بھی کل نہیں آیا۔ اور صارم کے آنے سے پہلے یہاں میری شادی تہہ ہوگئی جس میں خاص میرا انٹرسٹ نہیں تھا بس بابا کو تھا کے جلدی گھر کی ہوجاؤں ویسے ہی اُنکا بہت نقصان کر چکی ہوں اب بابا میں اور حوصلہ نہیں۔۔
اگلے دن میں شام کی چائے کے لئے تایا کو نیچے بلانے آئی تو آبنوس کے وہ الفاظ سنے کے شادی نہیں کرنی میرا تو بس نہ چلتا منہ توڑ دوں اُسکا میں بنا تایا کو بلائے نیچے آگئی میرا مڈ اب آف ہوچکا تھا۔ اسلئے کزنز کے ساتھ گارڈن میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگی اور جب امی کا بلاوا آیا تو کچن سے چائے لینے آئی لیکن آبنوس ڈھیٹ انسان کسی مولانا کا بیان لگاے بیٹھا تھا کے بچوں کی شادی انکی مرضی سے کرائیں یہ انکا حق ہے۔۔ میں سوچ میں پڑ گئی ٹائمنگ اتنی پرفیکٹ نہیں ہوتی اسلئے میں نے ذرا غور سے LCD کو دیکھا تو اس فراڈ نے یو ایس بی کنیکٹ کی تھی۔۔ فراڈی ڈھیٹ میں کزنزس کو چائے دیکر اپنا کپ لیکر روم میں آگئی۔۔ اور کمرے میں بند ہوکر غصّہ ہلکا کرنے کے لئے وہ اسکیچ بنایا۔ کالی اور حسین لڑکی والا جہاں آج وہ ایک دوسرے کی زندگی جی رہے ہیں لیکن وہ جسے پانے کی چاہ تھی آج رو رہی تھی اور جس نے حالات کے ہاتھوں صبر کیا آج وہ صارم کے ساتھ خوش ہے کیونکہ میرا یقین ہے۔ جس لڑکی کی شادی صارم سے ہو وہ لمحے بھر کو بھی ناخوش نہیں ہو سکتی۔ صارم کے جانے کے بعد اور اس سے ناراضگی کے بعد تو کافی اسکیچز بناۓ اور مومنہ کے وہ الفاظ حاصل کر کے بھی لاحاصل رہی اس نے مجھے ایک اور اسکیچ کے ساتھ ایک سبق دیا۔ اسے بناتے ہی میں نے پوسٹ کیا لیکن صارم بدتمیز نے جو ایک بھی کمنٹ کیا ہو مجھے لگا تھا سانولی لڑکی والے پر وہ کمنٹ کریگا لیکن میرا انتظار انتظار ہی رہا۔ اور وہ آبنوس۔۔۔ اس کو تو کوئی اچھا سبق سکھانے کا دل چاہ رہا تھا دیکھتی ہوں محترم اب کرتے کیا ہیں؟؟ آگر شادی کے بعد مجھ پر حکم چلایا یا زور سے بات کی تو بتیسی توڑ دونگی ورنہ صارم کے آدمیوں کے ہاتھوں دُلائی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: