Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Episode 13

0
جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ – قسط نمبر 13

–**–**–

سر کو میل کرنے کے بعد میں گارڈن میں چلی آئی جہاں میں نے وہ اسکیچ غور سے دیکھا جسے میں بنانے جا رہی تھی۔ ” کان کا کچا ہے “ ”عقل کا پیدل “ سچ ہی تو کہا تھا صارم نے اور وجہ اسنے جان بوجھ کر نہیں بتائی وہ سب جانتا ہے یہ بھی کے آبی مجھ سے نفرت کیوں کرتا ہے؟؟ ناپسندیدگی نفرت کا روپ نہیں لے سکتی یہ نفرت ہی ہے لیکن میں قصوروار ہوں تو میرا قصور تو بتائے؟؟ اور آگر بےگناہ ہوں تو کیا گناہ اسکے زمر میں نہیں آئے گا؟؟؟ جو بےقصور کو سزا دے رہا۔۔
میں نے وہ رات دیر تک اس اسکیچ کو مکمل کر کے پینٹ کیا۔ چہرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا ایک سیاہ چہرہ اسکا دوسرا حصہ سفید۔ سیاہ چہرہ وہ دنیاوی چہرہ جسے انسان دنیا کی باتوں میں آکر اپنے منہ پر مل کے چلتا ہے۔ جبکے سفید وہ چہرہ جو اللہ‎ کی طرف سے دی قوت دانائی کو استعمال کر کے اپنے فیصلے خود کرتا نا کے عقل پر پٹی باندھ کر اوروں کے دماغ سے سوچتا۔۔
صبح جب میں اُٹھی آبی روم میں نہیں تھا میں اٹھ کر دادو کے پاس چلی آئی وہیں کچھ دیسی ناشتہ ملنے کے امکان تھے کیوں کے اکثر گھر کے بڑے انگریزی ناشتہ کرتے جبکے دادو ہر جمعرات کچھ نا اسپیشل ناشتہ بنواتیں۔ میں آبی کے جانے تک وہیں رہی پھر روم میں آکر نیٹ سے ڈیشز دیکھ کر کچھ الگ بنانے کا سوچا لیکن کوکنگ کے نام پر چائے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے؟؟ بریانی بنانے کا سوچا لیکن بریانی چاول دونوں اس طرح چپکے ہوے تھے کے امی نے سر پکڑ لیا اوپر والے کچن میں امی زیادہ تر بس چائے بناتیں باقی کھانا وغیرہ سب نیچے ہی بنتا۔ آج وہ میرا حال دیکھ کر سر پکڑ کے رہ گئیں۔۔
” رابی شکر ہے ابھی پاؤں کچن میں نہیں پڑھے ورنہ بھابی کے سامنے میری ناک کٹوا دیتیں “ امی نے میرے کندھے پر ایک چپت رسید کی۔۔
” امی کوشش کر تو رہی ہوں “
” خوب دیکھ رہا کس طرح کوشش کر رہی ہو بریانی سے زیادہ دھیان موبائل کی طرف ہے۔۔۔ “
امی نے مجھے غصّے سے جھڑکا کیوں کے میرا سارا دھیان موبائل پر تھا جہاں ایک طرف بریانی کی ریسپی دیکھ رہی تھی تو دوسری طرف سب کی الگ الگ رائے پیج پر پڑھ رہی تھی جو اسکیچ کے مطلق دے رہے تھے۔۔
بریانی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد امی نے مجھے کچن سے نکال دیا میں نے آکر پہلے اپنی تھوڑی پینٹنگ مکمل کی پھر آفس چلی آئی جہاں سر نے مجھے ایک ساؤنڈ چیک کرنے کے کیے بلایا تھا کے میرے بناۓ گئے کریکٹر پر یہ فٹ ہوگا یا نہیں اور میں نے انکے ریکارڈ تینوں ساؤنڈز ریجیکٹ کردیے کوئی تین گھنٹہ خوار کرنے کے بعد سلیکٹ انہوں نے اپنا ہی کیا اور میں منہ تکتی رہ گئی بھلا مجھے پھر بلایا کیوں تھا؟؟ کوئی بہت ہی بُرا دن تھا گھر آتے وقت پٹرول ختم ہوگیا۔ وہ تو شکر سی این جی قریب ہی تھی فل کروا کر میں گھر چلی آئی جہاں کسی نے میری پینٹنگ کو پھاڑ دیا بورڈ تک توڑ دیا ایسی حالت دیکھ کر میرا چہرہ سُرخ پڑ گیا۔ جب میں کسی کو چھیڑتی نہیں تو کیوں کوئی میرے آشیانے میں آتا ہے یہ وہ پینٹنگ تھی جو میں نے خود کیسے بنائی مجھے علم نا تھا آبی میرا نام الگ الگ پڑا ہوا تھا اور وہ پہلی بار تھا جب میری آنکھیں نم ہوئیں خود با خود گالوں تک پانی بہتا چلا گیا ایسا ہی دن تھا جب بنانا شروع کی تب صارم تھا جس نے حوصلہ دیا اب بھی مجھے لگا کہیں سے نکل آئے گا حوصلہ دیگا لیکن نہیں اِس دن میں تنہا تھی۔۔ کوئی نہیں تھا۔۔ کوئی بھی نہیں اکیلے میرے آنسوؤں اس سرخ دل پر گر رہے تھے جسے نجانے کس ظالم نے دو حصوں میں بانٹ دیا۔۔
آنسوؤں پونچھتے میں نے واشروم میں آکر اپنا چہرہ صاف کیا پھر امی سے آکر پوچھا میرے روم میں کون آیا تھا؟؟ انکا ایک لفظ آبی مجھے اپنی اوقات دیکھا گیا ایک بار پھر اس شخص نے بےمقصد اس گناہ کی سزا دی جسکا مجھے خود علم نہیں۔۔
ناپسندیدگی کی اذیت کیا ہوتی ہے کوئی رابیل سکندر سے پوچھے ایک بااعتماد لڑکی جسکے باپ نے اسے چلنا لڑنا سکھایا تھا وہ اپنے ہی پسندیدہ شخص کے ہاتھ مات کھا گئی بس وہ وقت تھا جب میں نے دعا مانگی رو کے باقاعدہ کے ” اسے مجھ سے محبت ہوجاے “ ” میری قدر ہو “ تب میں اُسے ٹھکرائوں گی۔۔ منہ کے بل گراونگی کوئی ایسا وقت آئے اُسے میری ضرورت ہو اور میں اُسکی بےبسی دیکھوں اور بھیک کے نام پر اُسے مدد سے نوازوں۔ پورا دن گزر گیا وہ نہیں آیا نجانے کیوں میری نیند بھی اُڑھ گئی حالانکہ خاص پروا نہیں تھی پر بےچینی عجیب سی تھی میں نیچے تائی کے پاس آئی انکا ڈور نوک کر کے انھیں اطلاع دی کے آبی اب تک نہیں آیا پر انہوں نے بتایا وہ پرسوں آئے گا اُس لمحے بھی مجھے اُس شخص پر شدید غصّہ آیا۔ اُسے اندازہ نا تھا یہ چھوٹی باتیں ہی تو ہوتیں ہیں جو لوگوں کو میاں بیوی کے بیچ دیوار پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں جب وہی اعلان کریگا تو لوگ تو آئیں گے نا اور آج بھی اُسکی لاپروائی کی وجہ سے تائی کو سوچنے کا موقع دیا۔۔۔ میں نے یہ باتیں صارم تک سے نا کیں لیکن بابا جو پل پل مجھے حفظ کرتے کچھ کھوجتے شاید ہمارے مابین رشتے سے بھی آگاہ ہوں میں جانتی نہیں لیکن شک ضرور تھا۔۔
جس دن وہ آیا میں اُسکا حلیہ دیکھ کر حیران رہ گئی پرفیوم میں نہاتا شخص آج جیل کا قیدی لگ رہا تھا میں نے تو صاف نظرانداز کیا لیکن اُسکا حلیہ دیکھ کر دل کو سکون ملا تھا بیوی کو بےسکون کرکے خود بھی کون سا سکون سے ہے؟؟ ڈائننگ ٹیبل پر تایا نے اُسکی خوب کلاس لی اور میں مسلسل مسکراتی رہی جس پر بابا نے مجھے گھورا اور یہی اُنکا گھورنا مجھے ضد دلا گیا ڈھٹائی سے آبی کا جھوٹا جوس خود پی لیا۔ جبکے وہ اپنی صفائی دیتا تایا کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
دعائیں اس طرح بھی قبول ہوتی ہیں مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ہاں لیکن اُس دن میں روئی تھی اپنی بےبسی پر اور آج وہ چور میرے آسرے کھڑا ہے۔ کوئی سمجھے نا سمجھے پر اِسکے سفید پڑتے چہرے سے میں جان گئی تھی وہی چور ہے۔ میرے خوشی اُچھل اُچھل کے آرہی تھی میری دعا تھی بس ایک بار وہ شرمندہ نظریں جو جھکی ہوئیں تھیں اٹھا کر میری ان آنکھوں میں دیکھے جہاں جیت کی خوشی تھی اور پوچھوں میں اُس سے اب بتاؤ؟؟ ہر جگہ ٹھکرایا ہے مجھے یہاں میں انجان بن جاؤں؟؟؟ پھر تمہاری عزت کا کیا ہوگا؟؟؟ زندگی بھر تمہارا باپ بھی تم پر یقین نہیں کریگا۔ بلکے خود کی نظریں کبھی کسی کے سامنے اٹھ نہیں سکیں گی بولو نا اس پل خاموش کیوں ہو؟؟ کیا کہا تھا ناپسندیدہ چیز کو جلانا بہتر سمجھتا ہوں؟؟؟ اُس دن میں نے اُسے بچا کر احسان کیا تھا۔۔ بھیک میں دی تھی مدد اور بہت بہت پُر سکون تھی ہر ضد ہر بدلے سے آزاد لیکن پھر آبی کی حالت دیکھ کر میں شرمندہ ہوئی کمرے میں آئی تو وہ بخار میں تپ رہا تھا۔ میں نے باقاعدہ چلا کر بابا کو بلایا تھا وہ خود پریشان ہوگے جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا کہیں نا کہیں وہ بھی جان گئے تھے اور انہیں سمجھنے میں دیر بھی نا لگی اور اس پل میں پتھر کی ہوگی جب انہوں نے محبت سے میری پیشانی چوم کر کہا۔۔۔
” آج تم نے اُسکی نہیں اپنی عزت بچائی ہے۔۔ آئی ایم پرائوڈ اوف یو رابی ہر غلطی گناہ نہیں ہوتی وہ شرمندہ تھا شاید وقتی لمحوں نے گہرا حصار اسکے گرد پھیرا تھا ورنہ مدد کرنے والا لُٹیرہ نہیں ہو سکتا۔۔ “ بابا مجھے اپنی پسند سے آگاہ کر رہے تھے یہی خوبی تو مجھے پسند آئی تھی اُسکی۔ بابا کے لفظوں نے مجھے شرمندہ کردیا یہ کیوں نا سوچا میں نے میں خود بھی تو ذلت کا شکار ہوتی۔ میں اتنی شرمندہ تھی کے اسکے سامنے تک نا گئی میں نے بھی تو کسی انسان کی بےبسی کا مذاق اڑایا اس پر ہنسی کیا غلط نہیں تھا؟؟ اگر چپ رہتی خود بھی تو رسوا ہوتی یہ کیوں نا سوچا؟؟
میں کچھ دیر بابا کے پاس بیٹھ کر ٹھنڈا پانی اور پٹیاں اندر لے آئی کافی دیر آبی کے سر پر پٹیاں رکھتی رہی۔ جب باڈی ٹیمپریچر نارمل ہوا پھر دھیرے دھیرے نرمی سے کبھی اسکے بال سہلائے کبھی سر دبایا جب تک خود وہ انجکشن کے زیرِ اثر سو نہیں گیا۔۔۔
صارم کہتا ہے پہل کرو میں نے سوچا کیوں نا میں اُسکے گرد ایسا حصار پھیروں کے صرف میں ہی اُسکی سوچوں کا مرکز رہوں چاہے کسی طریقے سے بھی بُری یا اچھی یاد؟ لیکن میں نہیں چاہتی وہ میری اُس دنیا میں آئے وہ صرف صارم میری اور بابا کی ہے کسی اور پر مجھے ٹرسٹ نہیں نا یہ ضروری ہے کے وہ انسان مجھے سمجھ سکے میں تو نجانے کن کن کے بارے میں لکھتی ہوں؟؟ عام آدمی سے لیکر سیاست دان تک اس چکر میں نجانے کتنے اکاؤنٹس تک بند ہوگے لیکن میں نے انکے گناہ انکے منہ پر مارنا نہیں چھوڑے بابا میری انہی حرکتوں سے ڈرتے ہیں لیکن میں نے اگر یہ سب چھوڑا میں خود بھی رہ نہیں پاؤنگی۔۔ میں پاپِٹ کی زندگی نہیں گزار سکتی جو سوچتی ہوں سمجھتی ہوں دیکھتی ہوں اپنی نظروں سے وہی لکھونگی چاہے انصاف نا ملے وہ انسان تو تڑپے گا سوچے گا کے جن پیسوں سے آج لوگوں کے منہ بند کرا رہا ہے وہی لوگ اسکی گواہی وہاں دیں گئے جہاں پیسے کی اہمیت تک نہیں ہوتی۔۔۔۔
میں نے اب نوٹس کیا تھا وہ بلا ارادہ ہی مجھے دیکھتا رہتا ہے اور میں اُسکے سامنے وہ کرتی جس سے وہ مجھے دیکھے، مجھے جانے، مجھے سوچے اُسکے لئے میں ایک سوال ضرور چھوڑ جاتی ہوں جیسے صفائی کا الحمداللہ مجھے کوئی بھوت نہیں۔ اُسکے دیکھتے ہی جہاں گند نظر آتا ایسے صاف کرتی جیسے نا کیا تو دنیا ختم ہوجاے گی کبھی ڈریسنگ ٹیبل کی سیٹنگ چینج کرتی امی جو ٹوکتی رہتیں جہیز کا سامان نکالو وہ بھی کیا نکال کر ہر روز نیو بیڈ شیٹ لگانے لگی اپنی شکل سے زیادہ میں نے کمرے کو چمکایا۔ پھر آئینے میں خود کو دیکھ کر میں نے سوچا آخر کمی کیا ہے مجھ میں؟ اچھی خاصی دیکھتی ہوں۔ آج بھی رشتے لائن سے میرے لئے کھڑے ہیں کبھی میں نے خود کو کمتر نہیں سمجھا بس محنت کی ہے تعریف، عزت دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ لیکن آبی کی سوچ آتے ہی دماغ اُس چیز پر بٹھایا کے کچھ کمی تو ہے بس پھر یوٹیوب کھولا سرچ کیا راؤنڈ فیس ہیر اسٹائل اب جیسے بھی بالوں کو بناتی وہ مجھ پر ایسے سوٹ کرتے جیسے بنے ہی میرے لئے ہوں اور آبی اسکی نظریں تو مجھے گھور گھور کر پوچھتی ہیں بتاؤ تمہیں اتنا کیوں سوچتا ہوں؟؟؟ یہی نہیں امی نے جو شادی کے لئے کپڑے سلوائے تھے وہ تک پہننے لگی مجھے لونگ شرٹس پسند نہیں لیکن امی کہتیں ہیں لمبے قد پر یہی اچھا لگتا پہلے تو بھنگن جیسا حلیہ بھی چلتا لیکن شوہر کے سامنے کسی تیاری کی کمی نہیں ہونی چاہیے اب یہ دیکھنا پڑتا۔۔
آہستہ آہستہ میرے پہل نے میری محنت نے مجھے کامیابی دی جب وہ صبح کسی پروجیکٹ کا کہہ کر میرا ماتھا چوم کر گیا بار بار مجھے بلاتا رہا میری حیرانگی کی انتہا نہیں تھی اُسکا لمس مجھے اتنا بھلا لگا کے پتا نہیں کیوں میں نے پورے دن اپنا منہ ہی نہیں دھویا پھر شام کو اُسکے خیال سے ویسے ہی فریش ہوکر آئی اور آج ڈریسنگ کی سیٹینگ اپنے حساب سے کی جیسے لڑکی کا روم ہے بیڈ شیٹ تک پنک بھچائی۔ اُس دن میں بہت خوش تھی تبدیلی فائینلی آگئی لیکن میری خوشی دو پل کی رہی جب دادو نے مجھ سے پوچھا۔۔
” آبی تیرے بیچ سب سہی ہے؟؟ “
” جی دادو کیوں کیا ہوا آپ کو کسی نے کچھ کہا؟؟ “
” کلثوم نے بتایا تھا آبی کی جاب چلی گئی اور تم دونوں خوش نہیں “ دادو نے پھپو کا ذکر کیا۔ میرے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں پھپو بول اپنی زبان رہیں تھیں لیکن نشانہ آبی کو بنا رہیں تھیں اور وہ اُسنے نجانے کیا پھپو سے کہا اور پھپو نے بھی نجانے کیسے اُسکے کان بھرے یا اللہ‎ کیا یہ باتیں ہیں جو صارم نے مجھے نہیں بتائیں اور کیا پھپو کی وجہ سے اُسنے اچانک انکار کیا جس نے کبھی منہ نہیں کھولا خاموشی سے نکاح کیا؟؟
میرا اچھا خاصا موڈ خراب ہوا اور میں کمرے میں آتے ہی لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گئی تبھی آبی بھی آفس سے آگیا وہ بہت خوش تھا اور مجھے بھی اپنی اس خوشی میں شریک کرنا چاہتا تھا تبھی باہر لے آیا لیکن وہاں مجھے اسکی سوچ دنگ کر گئی اپنی طرف سے رائے دینے والا وہ کون ہے ضروری ہے ایک بُرا ہو تو دوسرا اسی کے نفشِ قدم پر چلے گا؟؟ اُس دن مجھے صارم کی باتیں یاد آرہیں تھیں کیسے میں نے اُسے دھڑلے سے کہا تھا جہاں کچھ غلط لگا وہیں بولونگی لیکن یہاں وہ بحث کر رہا تھا لیکن سیدھی سی بات نہیں سمجھ پا رہا تھا۔۔
مجھے غصّہ ہی آگیا اسی غصّے میں دوبارہ اُسے جوس لانے کا کہا اور ارد گرد دیکھنے لگی۔ میری نظریں ایک درخت پر آن روکیں کیا خاص تھا اُس میں جو میں دیکھے جا رہی تھی؟؟ کچھ نہیں وہ مضبوط درخت بس لوگوں کو چھائوں دیتا رہا ہے۔ اب بھی ایک دو لوگ درخت کے سائے تلے بیٹھے تھے۔ خود ہی بہت غور سے دیکھتے میں نے اپنی امیجینیشن بنائی ایک عورت اپنے شوہر سے کہ رہی تھی ” جلدی چلو عشاء کی نماز بھی پڑھنی ہے “ عشاء میرا ذہن وہاں تھا لیکن دھیان انکی باتوں کی طرح عکس خود بنتا گیا ایک گرین ٹوپی جیسے پرانے زمانے میں لوگ مسجدوں میں پہنتے تھے پلاسٹک کی ہوتی تھی وہی میرے ذہن میں گھومی اُس درخت میں آدمی دیکھا جو ٹوپی پہنے ہوے تھا بہت غور سے میں اُسے دیکھ رہی تھی اور یکدم اس درخت کی شیپ میں مجھے وہ انسان رکوح میں جاتا دیکھا۔۔۔
بہت خوبصورت لگا مجھے وہ منظر لیکن وہ ایسا تھا نہیں بس لمحے کے ہزارویں حصے نے مجھے اُس منظر میں قید کردیا تبھی آبی نے مجھے متوجہ کیا اور وہیں میرا ذہن الرٹ ہوا ایک سوچ دماغ میں آئی میں نے بس ٹرائے کیا تھا اور ویسا ہوا۔ میں نے اُسے جو بولا اُسنے یقین کرلیا اپنا دماغ نہیں چلایا وہ درخت ویسا نہیں تھا بس میں نے اُسے اپنے نظریے سے دیکھا تھا اور وہی نظریہ میں نے آبی کے دماغ میں بنایا پھر میں نے اُس سے اُسکا نظریہ پوچھا لیکن میری سوچ تب یقین میں بدلی جب وہ مکمل اپنی اُس تصویر سے نکل چکا تھا وہ اِس وقت میرے آنکھوں سے دیکھ اور میرے ہونٹوں کا سن رہا تھا بس اُسکا اپنا دماغ اس وقت جیسے میرے قابو میں تھا۔۔
ایک بار بھی اُسنے میرے حصار سے نکلنے کی کوشش نہیں کی اور آخر تک اُسکا وہ اپنا نظریہ اُسکے پاس واپس نہیں لوٹا۔۔
گھر آکر جب کہیں جاکر اُسے اپنے نظریہ کی جھلک دیکھی اُسنے مجھے سمجھانا چاہا تب میں نے اُسے اُسکا اصل دکھایا جو اب تک وہ اوروں کو سوچ کر اُسکا اثر اپنی زندگی پر ڈال رہا تھا مجھے اندازہ تھا میرے بارے میں بھی اُسکی رائے دوسروں کی پیدا کردہ ہے۔ کتنے ہی پل وہ مجھے دیکھتا رہا اُسکے اُس نظریہ کا جواب بھی میں نے دیا کے وہ بیوٹی میری تھی میری آنکھوں کی تلاش کردہ جسے میں نے خود ڈھونڈا ہے۔ وہ میری باتیں سن کر روم سے نکل گیا۔۔۔
اُسکا اچانک سے بدلتا رویہ وہ سب تو مجھے اُس وقت پتا لگا۔۔ بابا نے میرے ساتھ چالاکی کی ہے اُسے میرے بارے میں سب بتا دیا جب میں نے اُسکی اصل آئی ڈی سے اُسکا لائک اپنے پیج پر دیکھا اور مجھے تبھی یاد آیا اُس دن جب میں باہر گئی تھی واپس لوٹی تو بابا آبی ساتھ تھے آبی کتنی ہی بار مجھے محبت سے دیکھتا رہا لیکن میں نے ہر بار اُسے نظرانداز کیا بھلا باپ کے سامنے کوئی اُسکی بیٹی کو اِس طرح گھورتا ہے؟؟
میرا رونے پیٹنے ماتم کرنے کا دل چاہ رہا تھا بابا نے مجھے دھوکہ دیا اور اگلے ہی پل میں نے پوسٹ لگا کر اُسکا دماغ درست کیا جو میری جاسوسی کر رہا تھا ابھی اسکے دماغ سے میں کھیل رہی تھی اب وہ اپنی چال چل رہا تھا۔۔
آج سہی معنوں میں بابا نے مجھ سے بدلہ لیا دن میں تارے دیکھا دیے۔ ابھی پوسٹ لگاے آدھا گھنٹا ہوا ہوگا کے ایک آئی ڈی نے مجھے پیج پر میسج کیا وہ فضول قسم کی گفتگو کر رہا تھا نجانے کیوں بیوی کے ذکر پر مجھے آبی لگا اور پھر جو ڈھٹائی سے اُسنے میری پہیلی کا پوچھ کر مجھے اپنی تصویر سینڈ کی میرا غصّے سے بُرا حال ہوگیا ٹھرکی انسان ایک تو فیک آئی ڈی اوپر سے خود کو کنوارا بتا رہا تھا؟؟ میں نے بھی اُسکی تصویر کی اچھی خاصی عزت افزائی کی ایسے ڈرپوک کا کنوارا رہنا ہی بہتر ہے۔۔ اور پوری طرح سے تصویر کی عزت افزائی کو ایکسپلین کر کے میسج کا انتظار کیا لیکن جب کافی دیر تک جواب نہیں آیا تو موبائل رکھ کے لیٹ گئی۔۔
☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆
” آپ۔۔ “ مندی مندی آنکھیں مجھے دیکھ کر پوری کھل گئیں میں بیڈ سائیڈ کورنر پر اُسکے بےحد قریب بیٹھا تھا۔۔۔
” بہت سکون سے سوئی ہوگی میں جو پوری رات نہیں تھا “ میں نے کڑے تیوروں سے اُسے گھورتے کہا میری سخت نظریں ہی تھیں جو اُسنے بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر اپنے گرد لپیٹا۔۔
” ایسا کچھ نہیں “ جمائی لیتے منہ پر ہاتھ رکھے وہ اس موڈ میں بولی کے میری آنکھیں سرخ ہوگئیں بھلا ایسی بیویاں ہوتی ہیں جنہیں شوہر کی پروا ہی نہیں؟؟ خود نیند پوری کرلی دوسرے کی حرام کر کے۔۔۔
” تمہارے شکریہ بلکہ تمہاری خوشی جو اُچھل اُچھل کے باہر نکل رہی تھی سب سنا میں نے “ میں نے یہ بات اُسکے گوش گذار کردی کے میں بھی لاؤڈ اسپیکر میں اُسکا اچھلنا سن رہا تھا۔۔۔
” صبح صبح میرا دماغ کھانے کا جواز؟؟ “ وہ چڑ کر بولی۔۔
” میری نیندیں حرام کرنے کا جواز؟؟ “ میں نے اپنا چہرہ اسکے قریب کیا اور دونوں ہاتھ بیڈ پر اسکے دائیں بائیں رکھ کے جانے کے سارے راستے بند کردے۔۔
” کب کی؟؟ “ وہ الٹا حیران تھی۔ اسکے جواب پر میں مسکرا اٹھا۔۔
” تین چار دنوں سے “ مخمور لہجے میں کہا نظریں ان آنکھوں پر جمی تھی جو مجھے کچا کھانے کی حسرت میں تھیں۔۔
” اب ہٹیں گئے مجھے اٹھنا ہے “ وہ میرے لہجے، ان آنکھوں سے، پہلی دفع کنفیوز ہوئی تھی اس کانپتے ہاتھ نے دل کا حال بیان کیا تھا۔۔۔
” چوہے بلی کا کھیل کب تک کھیلو گی؟؟ تمہیں کیا لگتا ہے تم میرے سامنے ایک الگ شخصیت بن کر آؤ گی تو تمہارا اصل میں بھول جاؤنگا؟؟ “ میں نے اُسکا کانپتا ہاتھ اپنی گرفت میں لیکر زور سے دبایا ” سی “ کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔۔۔
” اِس سے کہیں زیادہ تکلیف ہوئی تھی جب میرے بدلتے رویے کو تم نظرانداز کرتی ہو میرے بلانے پر آ تو جاتی ہو لیکن میری نظروں سے بھاگتی ہو جان بوجھ کر کرتی ہو نا؟؟۔۔ “ میں نے اِسکا ہاتھ چھوڑ کر شہادت کی انگلی سے اِسکی ٹھوڑی کو اونچا کیا۔۔۔
” آپ کی کوئی بات میرے پلے نہیں پڑھ رہی “ اس نے اپنی ٹھوڑی سے میرے ہاتھ کو جھٹکتے بےزار کن لہجے میں کہا۔۔
” میرے لائک کرنے کے بعد جو پوسٹ لگائی؟؟ شوہر کی ناکام سی کوشش بیوی کے دماغ تک رسائی حاصل کرنے کی۔۔ کیا سوچ رہے ہونگے چچا اور تمہارا وہ خالہ زاد “
میں نے اِسکے الجھے بالوں میں ہاتھ پھیرنا چاہا جو اِسنے ایک بار پھر غصّے سے جھٹک دیا
” کیا لائک کیا آپ نے؟؟ آپ میرے پاس ایڈ ہی نہیں تو لائک کیسے کریں گئے “ وہ سخت کوفت میں مبتلا تھی کہتے ہی ایک نظر میری ہاتھوں کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش میں تھی اب بھی میرا ایک ہاتھ بیڈ پر دھرا تھا جو اسِکے جانے کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔۔
” تمہارا پیج “ بُرا نہیں لگا تھا اب تو جان چکا ہوں خود سے اعتراف نہیں کرے گی۔۔۔
” کونسا پیج؟؟؟ “ وہ انجان بن گئی۔۔
” وہاں جہاں تم شغل فرماتی ہو “ میں نے آنکھیں سکوڑ کر اسے تنبیہہ کی۔۔
” میں تو اصل زندگی میں بھی نہیں فرماتی میری تو چائے پر بھی پابندی ہے۔۔ “ لہجہ جتایا ہوا تھا میرے پچھلے کارنامے اب گنوا رہی تھی۔۔۔۔
” آئ ایم سوری میں نے۔۔۔ “ میں نے پہل کرنے کے ساتھ معزرت کرنی چاہی لیکن وہ تو اس وقت شیرنی بنی ہوئی تھی میرا ” سوری “ کہنا اسے تیش دلا گیا کارلر کو اپنے ہاتھوں میں جکڑے چیخ اٹھی۔۔۔
” میں نے معاف کرنا نہیں سیکھا آبنوس تم ایک بات بتاؤ کانوں کے کچے انسان کوئی تمہیں کہتا ہے تمہاری بیوی کل اسکے ساتھ ڈیٹ مار۔۔۔ “
” شٹ اپ “ میں چلا ہی تو اٹھا تھا آئینہ دیکھاتے ان لفظوں سے جو مجھے زہر کی مار مار رہے تھے۔ باقاعدہ ان ہاتھوں کو جکڑ کے دور ہٹانا چاہا جو میرا کالر پکڑے ہوے تھے۔۔
” نو ڈونٹ انٹرفیر میں تمہیں سن رہی تھی اب تم سنو۔۔۔ جب مخلص ہوں میں جب اپنی چیز پر کوئی داغ برداشت نہیں کرتی اُسکی حفاظت کرتی ہوں تو سامنے والے سے بھی وہی ایکسپیکٹ کرتی ہوں۔ لیکن تم؟؟ تمہیں لوگوں نے کہا جیل گئی ہے تم نے یقین کرلیا؟؟ تمہیں لوگوں نے کہا سائیکو ہے تم نے یقین کر لیا؟؟؟
تمہاری پاس اپنی عقل نہیں تم نے جو میرے ساتھ سلوک کیا ان دنوں اُسکا حساب وہ دیں گئے یا تم؟؟ میں نہیں جانتی کس عمل نے تمہیں شرمندہ کیا لیکن ایک بات بتاؤ کیا دوسرے انسان کو حق نہیں اِس ناپسندیدگی کی وجہ جانے؟؟؟ کیا کسی انسان کو بدلنے کا حق نہیں ؟ مجھے میری خامی بتاتے لڑتے لیکن تم نے تو خاموشی کی مار ماری اور سب کے سامنے ایک نا پسندیدا شخصیت میری زندگی میں گھسائی گئی ہے اسکا اظہار کرنا نہیں بھولے۔۔ تمہیں ایک بات کہوں۔۔ مسٹر آبنوس بیوی کو بےگناہ سزا دینا اُسکا بھی حساب تم سے ہوگا لیکن وہاں تمہارے پاس افسوس اوپشن نہیں ہوگا پتا ہے کیوں ایک بڑی مثال تمہیں دیتی ہوں۔۔۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے نہیں جانتا کے مسلمان ہے، ہندو ہے، یا کرسچن لیکن پیدا وہ مسلمان ہوتا ہے اور جب یہ قوت دانائی اسے حاصل ہوتی ہے نا وہ چائے ہندو ہو یا کرسچن حساب سیکھانے والے ماں باپ سے نہیں بلکے خود اُس انسان سے لیا جائے گا کیوں کے اب وہ ناسمجھ بچہ نہیں ہے اللہ‎ نے اسُے شعور دیا ہے وہ اپنا بھلا برا جانتا ہے قوت دانائی عطا کی گئی ہے۔ اسکا استمعال وہ کس طرح کرتا ہے؟؟ یہ اُسکا اعمال ہے تم کٹہرے میں لوگوں کو لاکر کھڑا نہیں کروگے کے اُس نے مجھے بہکایا تھا جسے گناہ کر کے ہم خود کو جسٹی فائی کرنے کے لیے کہتے ہمیں شیطان نے بہکایا تھا۔۔۔ تو تم جو غلط کرو گے اُسکا حساب صرف تم سے ہوگا لوگوں کو پوجنا چھوڑدو اپنا دماغ استعمال کرو۔۔ “ اسکے الفاظوں نے مجھے پتھر کا کردیا۔ کڑوے الفاظ مجھے اپنا آئینہ دیکھا گئے تھے لیکن پورا سچ وہ بھی نہیں جانتی میں بھٹکا وقتی تھا اب لوٹ آیا ہوں پہلے سے بہتر بن کر۔ وہ جو میرا کالر چھوڑ کر غصے سے اٹھی تھی میں نے تیر کی تیزی سے اٹھ کر دروازہ لوک کیا اور ایک بار پھر اسے جکڑ کے جانے کے سارے راستے خود کی طرف موڑ دیے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: