Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Episode 2

0
جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

” اتنی دیر کیوں لگی؟؟ “
پندرہ منٹ بعد جب وہ پانی لیکر حاضر ہوئی یا یہ کہا جائے آکر میرے سر پر سوار ہوئی تو میں جھنجھلا گیا اسکی غیر موجودگی میں اتنا پُر سکون ہو کر کام کر رہا تھا اور اب محترمہ آٹپکیں اسلیے میں اپنا رُعب جھاڑنا نہیں بھولا تھا۔وہ گلاس لیے میرے سامنے کھڑی میرے تھامنے کی منتظر تھی۔۔
” چائے ختم کر رہی تھی “ بےنیاز سا لہجہ تھا اُسکا۔ میرے گلاس لیتے ہی وہ لاپروا سی واپس لیپ ٹاپ میں مصروف ہوگئی۔۔
” میں نے منع کیا تھا “ میرے تو گویا تن بدن میں آگ لگ گئی میں اتنی کوشش کرتا کے وہ مجھ سے ڈرے لیکن ڈرنے کے بجائے وہ الٹا اپنی فضول حرکتوں سے مجھے بی پی کا مریض بنا رہی تھی۔۔
” کس سے؟ “
” چائے پینے سے “ میں نے اسکے انجان بنے پر دانت پیسے جب کے وہ محترمہ لیپ ٹاپ پر کارٹونز بنانے لگیں۔۔
” نہیں آپ نے اپنے سامنے پینے سے منع کیا تھا پیٹھ پیچھے نہیں۔۔ “ وہ میرے ساتھ لفظوں سے کھیل رہی تھی اسے کوئی پروا ہی نہیں تھی کسی چیز کی۔ میرے دوست کہتے تھے بیویاں تو باقاعدہ ہم پر رہ رہ کر یہاں وہاں سے ٹپک کر پھونکیں مارتیں تھیں کے کہیں شوہر ہاتھ سے نا نکل جائے باقاعدہ گھر میں آتے ہی سب کام چھوڑ کے خدمتیں کرتیں اور ایک یہ محترمہ ہیں فضول اپنے جیسے کارٹونس بناتی ہے میری کوئی پروا ہی نہیں۔ اسکے لاپروائی سے میں ایک پل کو سوچنے پر مجبور ہوگیا کے کیا میرا سرد لہجہ اجنبی پن اسے چبتا نہیں؟؟ میری اگنورینس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا؟؟ میرا رویہ اسکے وجود کی نفی کیا کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا اسے؟؟؟ میں مزید ہائپر ہوتا اس سے اچھا جانا مناسب تھا اس لیے لیپ ٹاپ اٹھا کر نیچے چلا آیا۔
لیپ ٹاپ اسٹڈی میں رکھ کر میں کچھ دیر گارڈن میں ٹہلنے کے بعد امی کے روم میں جاکر سوگیا مجھے فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کیا سوچتیں ہیں مجھے آرام سے غرض تھی۔۔۔ کر کے کام اسٹارٹ کرنا تھا کچھ دیر اپنی تھکن اتارنے کے بعد میں نے کھانا کھا کر کام اسٹارٹ کردیا پوری رات کام کرتے کرتے نجانے کس وقت میری آنکھ لگی اندازا نہیں ہوا لیکن اسکا نتیجہ یہ نکلا کے میں آفس کے لیے لیٹ ہوگیا۔ اسلیے بنا ناشتہ کیے بس جلدی سے ضروری چیزیں اٹھا کر میں آفس پہنچا شکر تھا آج وہ میرے سامنے نہیں آئی ورنہ اس کی منحوس شکل کی وجہ سے پروجیکٹ تو ہاتھ سے جاتا ہی ساتھ میں پورا دن بھی بُرا گزرتا لیکن اب مجھے یقین تھا پروجیکٹ ہمیں ہی ملنا ہے۔۔۔
لیکن میرا یقین اُس وقت مجھے ڈوبا لے گیا جب میرے آتے ہی عادل نے ڈیلیرز کے جانے کا بتایا اور ساتھ یہ اطلاع دی کے باس نے بلایا ہے۔
” جسٹ بیکوز آف یو آج لاکھوں کا کنٹریکٹ میرے ہاتھوں سے نکل گیا نون پروفیشنل نون سیریس کا طعنہ دے گئیں ہیں وہ مجھے ایسے کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ کیا نام تک نہیں جوڑنا چاہتے وہ۔۔۔۔ آبنوس آج تک میں نے ایک امپلوئے تک سے اونچی آواز میں بات نہیں کی فرینڈلی ماحول رکھا ہے تاکہ کام کے ساتھ ناانصافی نا ہو اور آج تم نے۔۔ سب کے سامنے میری اس کمپنی کی بنی بنائی عزت نیلام کردی۔۔۔ دو کوڑی کا بنا دیا مجھے۔۔
نہیں لیکن اب اور نہیں۔۔ انف گیٹ آئوٹ۔۔ آئی سیڈ گیٹ آئوٹ۔۔“ اتنی بےعزتی کے بعد تو کبھی میں بھی وہاں کام نا کرتا لیکن میری جاب؟؟ میرا کریر؟؟ یہ سوچ سوچ کے میرا دماغ پھٹ رہا تھا ایسی سیلری کہاں ملتی آخر؟؟؟ جسم سے کوئی سرد جھونکا تھا جو بار بار نکل رہا تھا۔ ذہن کبھی مائوف ہوتا تو کبھی سوچنے پر مجبور ہوتا کے میرے ساتھ ہوا کیا؟؟ سرد پڑتے ذہن کے ساتھ میں رکشہ لیکر گھر جانے والا تھا کے ایک گاڑی نجانے کب میرے سامنے آن رکی میرا تو دھیان تک نا جاتا اگر پھپھو پکڑ کے مجھے اندر نا بٹھاتیں وہ کب سے نجانے کیا بولے جا رہیں تھیں کے میرا دماغ پھٹنے لگا تھا دل چاہا انکے منہ میں پر کچھ رکھ کے ہمیشہ کے لیے چپ کردوں جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو میں چلا اٹھا ” پھپھو میری جاب چلی گئی “ یہ سنتے تو گویا وہ پھٹ پڑیں میرا ذہن انکے الفاظ انکا لہجہ انکی امیجنیشن سب دیکھ رہا تھا وہ میرے ذہن میں زہریلے الفاظ اتارتیں جا رہیں تھیں
” کہا تھا تجھے شادی مت کر تیرا نصیب بھی کالا کردیا اماں کو بھی نجانے کیا پڑی تھی ہیرا کوئلے کو تھمایا اب کوئلہ تو ہیرا بننے سے رہا ہیرے کو ہی آگ میں پھیکنا ہوگا نا۔۔۔ ارے پاگل ہے وہ کہتے ہیں جن کا سایہ ہے اس پر یہی نہیں جیل بھی جا چکی ہے خود کے ایسے نصیب والی تیرا کیا نصیب روشن کریگی تجهے تو لے ڈوبی “ وہ بہت کچھ کہہ رہیں تھیں لیکن میرا ذہن بس سیاہ نصیب پر اٹک گیا جیسے جیسے گاڑی گھر کی طرف بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے میرا دل نفرت کی انتہا کو پہنچ رہا تھا پہلے میرا روم پھر میرے ماں باپ اب جاب اسکے آنے سے تباہ ہوکر رہ گیا میں۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی پھپھو تو دادو کے روم میں چلی گئیں جب کے میں سلگتے وجود کے ساتھ اوپر اُسکے روم میں آگیا جو اُسی کا تھا میرا نہیں لیکن وہ کمرے میں کہیں نہیں تھیں میں نے گیلری میں جھانکا وہ وہاں بھی نہیں تھی تب اچانک میری نظر گیلری سے نیچے جاتیں سیڑیوں پر پڑی وہاں ایک بڑا سا بورڈ رکھا ہوا تھا اور ساتھ کچھ برشیز بھی یعنی وہ نیچے ہوگی میں دندتا ہوا نیچے پہنچا لیکن عجیب مصیبت تھی وہ وہاں بھی نا تھی تبھی میری نظر بورڈ پر پڑی وہاں اسکا اور میرے نام کا پہلا حرف لکھا تھا اور بچ میں بڑا سا خوبصورت ہارٹ بنا ہوا تھا پاس ہی ایک آدمی کے دو روپ تھے ایک چہرے کا حصہ حسین تھا جب کے دوسرا سیاہ میرا میٹر تو اپنا نام دیکھ کر ہی گھوم گیا میں اسکیچ پر کیا غور کرتا اسلئے پانی کا وہ پیالا جو پینٹنگ کے لیے رکھا تھا سارا کا سارا اس اسکیچ پر الٹ دیا۔۔۔۔۔۔
” زندگی برباد کردی میری اپنی کالی شکل کی طرح میرے نصیب بھی سیاہ کردیے کوئی ایک خوبی کوئی ایک خاصیت نہیں جو میری نظروں میں تمہیں اوروں کے برابر تک کا ثابت کر سکے۔ تم صرف میرے وجود پر لگا سیاہ دھبا ہو جس کے آنے سے مجھ سے سب کچھ چھن گیا سب کچھ۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو رابیل نفرت ہے مجھے تم سے۔۔ شدید نفرت۔۔ “ جنونی انداز میں میں بورڈ کو پیڑ سے ٹھوکر مارتا بڑبڑتا رہا میرا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ سامنے آجائے اور کھڑے کھڑے میں اسکو زندگی و موت کا منظر اپنے ان ہاتھوں سے دیکھاؤں ایسا گلا گھونٹوں کے آواز ہی کہیں دب جائے آنکھیں بھی باہر نکل آئیں اور سرد جسم ساری عمر اس زمین میں دفن رہے نجانے کیوں میں پاگل پن کی انتہا کو چھو چکا تھا جب یکدم سے میرا سر پھٹنے کے قریب ہوا تو مجھے اس ماحول سے بھی خوف محسوس ہونے لگا کچھ لمحے پہلے کے اس کی سانسیں چھینے کا سوچ رہا تھا اور اب میری سانس بُری طرح سے اٹک گئی میں خوف کے مارے جلدی سے گھر سے نکل کر اپنے دوست کے یہاں چلا آیا۔۔۔۔۔
دو دن میں وہیں رہا دن رات جاگنے کی وجہ سے اور ان سوچوں سے میرا سر درد کے مارے شدید پھٹا جا رہا تھا میں نے بس امی کو اطلاع دی تھی باقی مجھ سے ناانصافی کرنے والے خود سے سوچ لیں میں تو زندگی بھر انھیں اپنی شکل نا دیکھاؤں اگر ماں کا خیال نا ہوتا۔۔ اب تو نا پیسے تھے نا کوئی مزہ اس ماہ کی سیلیری بھی اب نہیں ملنی تھی اور باپ کے آگے ہاتھ پھیلا نہیں سکتا ورنہ سارا بھرم ٹوٹ جاتا۔۔۔
” ابھے سن کام ہوگیا جاب مل جانی۔۔۔ لیکن؟؟ “ امان جسے میں نے جاب کے لیے کہ رکھا تھا اس نے میرے اٹھتے ساتھ ہی مجھے اطلاع دی۔۔۔۔
” لیکن کیا؟؟ “ میں نے بےتابی سے پوچھا
” کچھ پیسے لگنے ہیں اب یہی حل ہے ویسے بھی جابز ملنا بہت مشکل ہے “ امان کی بات کوئی نئی نہیں تھی آج کل یہاں یہی حال ہے ملک بھر میں اور جتنی رقم وہ مانگ رہا تھا اس سے ایگ گنا بھی میرے پاس نہ تھی نا میں کسی سے ادھار لے سکتا تھا آخر بھیک مانگنا جھکنا کہاں سیکھا تھا میں نے؟؟؟ ویسے بھی جھکنے سے اچھا تھا جس نے برباد کیا اسی کے گھر ڈاکہ ڈال کر خود کو آباد کرتا ۔ وہ بھی پورا دن میں نے سوچتے گزارا اور اگلے دن جب میں جانے لگا تب امان نے مجھے ایک آئیڈیا دیا میں خوب انکار کرتا رہا لیکن میرا دل خود اس چیز کے لیے پہلے ہی راضی تھا بس ڈر رہا تھا اور اقرار کر رہا تھا کے یہی ایک راستہ ہے۔۔۔
☆………….☆………….☆
گھر پہنچتے ہی فریش ہوکر میں ڈائننگ ٹیبل پر سب کے ساتھ آ بیٹھا۔ امی کو تو مطمئن کر دیا لیکن بابا بس بیوی کا دوسرا روپ ہیں جب تک تفتیش نا کریں نوالہ انکے گلے سے نہیں اُترنا۔۔۔
” دو دن کہاں تھے برخودار؟؟ “ بابا کی بھاری آواز نے میرا رہا سہا موڈ خراب کردیا لیکن میری بےنیازی عروج پر تھی نا دیکھ رہا تھا نا خاص توجہ تھی انکی طرف۔۔۔
” چائینہ میں چنے بھیچنے گیا تھا۔۔ “ میری ہلکی بڑبڑائٹ کسی اور نے سنی ہو یا نہیں لیکن پاس بیٹھی رابیل نے ضرور سنی اور مسکراہٹ دبانے کے لیے میرا آدھا رکھا جوس وہ پی گئی کسی دن واقعی یہ قتل ہوگی میرے ہاتھوں بابا کی وجہ سے اِس وقت بس خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔۔۔
” خود کو جواب دے رہے ہو یا دو دن باہر کی ہوا کھا کر نفسیاتی ہوگئے ہو “ بابا کا طنز بھی میں روٹی کے نوالے کی طرح ہضم کر گیا۔۔
” دوست کی شادی تھی بابا اُسی میں بزی تھا صبح ہنی مون ٹریپ کے لیے آئیر پورٹ چھوڑ کے یہاں آیا ہوں “
” کس دوست کی؟؟ “ پھر تفتیش لیکن میں پُر سکون رہا۔۔۔
” آپ نہیں جانتے ملیشیا میں رہتا ہے “ میں نے کھیرا منہ میں ڈالتے کہا۔۔۔
” تو کنٹیکٹ کیسے ہوا؟؟ “ وہ میری بات پر حیران ہوے یا نہیں لیکن اتنا جان گیا سب نے مجھے حیرانگی سے گھورا تھا جیسے کوئی عجوبہ آبیٹھا ہو۔۔
” فیس بک۔۔ “ بےنیازی سے کہا۔۔
” پہلے پاس کے کنٹیکٹ تو ٹھیک کرو پھر نبھاتے رہنا فیس بک کی دوستیاں “ اب کے بار انہوں نے مجھے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
” اوکے غور و فکر کرونگا “ میں نے ہلکی سے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاتے انھیں دیکھتے کہا پھر بڑے بڑے نوالے لیکر کھانا ختم کر کے رابیل کے آنے سے پہلے ہی کمرے میں چلا آیا۔ تجوری کی چابیاں جس میں اماں نے گھر کی سب عورتوں کا زیور رکھا تھا پورے دن میں وہی ڈھونڈتا رہا اس دوران شکر تھا رابیل نے میرا دماغ نہیں کھایا نا بات کی نا کچھ لے کر حاضر ہوئی بس خاموشی سے نیچے گارڈن میں نجانے کن کاموں کو سر انجام دیتی رہی۔ میں نے اسکی وارڈ روب سے تجوری کی چابی نکالی یہ چابی دادی نے گھر کی سب خواتین کو دے رکھی تھیں جن کا زیور وہاں تجوری میں رکھا تھا۔۔ پہلے میرے دماغ میں چوری کا خیال تھا لیکن میرا خاندان میرا نام میری ریپوٹیشن نے مجھے اجازت نہیں دی پھر یاد آیا نا نام ہے نا پیسا نا عزت اور جھکنے سے اچھا یہ کام کرلوں اور جو چیز لی ہے اسی جگہ اسے واپس رکھ آؤنگا۔ پہلے تو میرا ارادہ تھا امی کے زیور لے جائوں پھر جلد ہی واپس چھڑوالوں گا لکین پھر سوچا اُسکا زیور کیوں ناچُرائوں جس نے میرا سکون چُرایا ہے چالاک لومڑی جیل تک کا ٹور کر آئی ہے ضرور چوریاں کرتی ہوگی اور اب تو اچھا ہی ہے چور کے گھر میں چوری سمجھو ثواب ہی ہے۔۔میں دبے پاؤں دادی کے روم میں پہنچا کمرہ خالی تھا دادو اس وقت سب گھر والوں کے ساتھ لاؤنچ میں شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں۔ میں نے تجوری کا تالا کھولا اور جو تین زیوروں کا سیٹ آگے تھے اُٹھا لیے مجھے یقین تھا یہ رابیل کے ہی ہونگے کیوں کے ولیمے کے بعد دادو نے میرے سامنے یہ زیور امی سے تجوری میں رکھوائے تھے۔۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
” اماں میں نے خود یہیں رکھے تھے اپنے ہاتھوں سے مجھے یاد ہے “ میں نیند سے بیدار ان تیز آوازوں کی وجہ سے ہوا جو نیچے سے آرہیں تھیں آج دوسرا دن تھا مجھے یہاں آئے ہوے میں جب سے آیا تھا کمرے میں منتقل ہوکر رہ گیا تھا نا رابیل سے اس دوران میری کوئی بات ہوئی نا گھر والوں سے بس امی صبح آئیں تھیں میری طبیعت کا پوچھنے اور آرام کی تلقید کر کے چلیں گئیں۔
” تو ٹھیک سے دیکھ کر آ وہیں ہونگے “ دادی کی کرخت آواز میرے کانوں میں گونجی میں آنکھیں مسلتا نیچے آیا تو گھر کے سب بڑے وہاں موجود تھے البتہ ینگ جینیریشن نجانے کہاں تھی۔۔۔
” میں خود دیکھ کر آئی ہوں اماں۔۔۔ وہاں نہیں ہیں “ امی نے پریشان کن لہجے میں کہا تبھی وہاں رابیل کے ساتھ باقی کزنز گھر میں داخل ہوے جو شاید گارڈن میں بیٹھے تھے۔۔۔
” ہوا کیا ہے؟؟ “ فائزہ نے جو میرے چچا کی بیٹی تھی ناسمجھی سے سب کو دیکھتے ہوے پوچھا تبھی امی بولیں۔۔
” میرے دو گولڈ کے سیٹ غائب ہیں اور ایک نوشابہ کا سیٹ بھی غائب ہے “ امی کے منہ سے ادا ہوتے الفاظ میرے سر پر بجلی گرا گئے تھے۔اتنا خوف چوری کرتے محسوس نا ہوا جتنا اب ہو رہا تھا اگر انھیں پتا لگا انہی کے بیٹے نے چوری کی ہے تو؟؟۔۔۔ انکا سر۔۔ عزت۔۔ سب پل بھر میں مٹی میں مل جائے گا وہ کبھی زندگی میں گھر والوں کے آگے سر نہیں اٹھا سکیں گی۔ میری عجلت نے مجھ سے کیا کام کرا دیا میں سمجھا تھا انکے دیکھنے سے پہلے یہ زیور واپس لارکھونگا لیکن جو کام ابھی تک سر انجام نہیں دیا اس سے پہلے ہی اسکی سزا؟؟؟ میں نے تھوک نگلتے امی کو دیکھا ایک پل کے لئے حوصلہ ہوا کے کسی نے دیکھا تو نہیں پھر ڈر کیسا؟؟ تبھی علشبہ کی آواز نے میرے اوسان خطا کر دیے جس نے ابھی دادی کے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔
” آخری بار تجوری کس نے کھولی؟؟؟ “
” دادو آبنوس نے کھولی تھی اور سیٹ بھی اسی نے لیے میں نے خود دیکھا تھا مجھے لگا نوشابہ چچی کے ہونگے انہوں نے منگوائے ہونگے لیکن دو سیٹ تو میری امی کے نکلے “
میرا دل یکدم رک گیا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوکر سفید پڑ گیا جسے میں نے فوراً جھکا لیا۔ کاش اس پل یہاں وقت روک جاتا اور اس فائزہ کے منہ میں کیکڑے بھر بھر کے ڈالتا جہاں میری جان فنا ہو رہی تھی وہیں بددعائیں نکل نکل کے آرہیں تھیں۔۔
” آبنوس ۔۔۔ تم؟؟ “ امی کی بےیقینی میں ڈوبی آواز نے میرے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔ سرخ ہوتی آنکھوں سے جیسے آنسوؤں ٹپکنے کو بےتاب تھے ذلت رسوائی کی سوچ ہی مجھے مار رہی تھی اگر وہ سر انجام ہوا تو شاید آج ہی مجھ پر فاتحہ پڑھی جائے گی۔۔۔ چوری ہی نہیں رشوت جھوٹ۔۔۔آج سب کا اقرار ہونا ہے میری اس زبان سے۔۔ نا دماغ بس میں تھا نا جسم کوئی سوچ کوئی جھوٹ کچھ تو ادا ہو اس زبان سے لیکن نہیں یہ تو کسی برف کی طرح ایک ہی جگہ جم چکی تھی کیونکے میں بھول چکا تھا پھپھو نے میری جاب کا بتایا ہوگا اور اب اس وقت سارے انکشاف میرے دماغ میں مجھ پر قہقے لگا رہے تھے ساتھ سب کی نظریں خود پر جمی دیکھ میری ٹانگیں میرے جسم کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھیں تبھی ایک آواز ۔۔۔۔
” چچی وہ دو آپ کے زیور تھے مجھے لگا تینوں امی کے ہونگے اسی لیے میں نے ہی انہیں کہا تھا تجوری سے نکال کر پالش کرانے کے لیے دے دیں“ وہ بدصورت چہرہ جس سے میں ہر وقت دور بھاگتا تھا لمحوں میں میری کانوں میں زندگی کی نوید سنا گیا بےاختیار میری سرخ نگائیں اسکی طرف اٹھیں وہ بلکل نارمل انداز میں کہہ رہی تھی جبکے میرا رکا سانس پل بھر میں بحال ہوا۔۔۔
” مگر کیوں؟؟ “ دادی کے سوال پر پھر سے سب کی نگائیں اُسکی جانب اٹھیں۔۔۔
” دادو میری فرنڈ کی شادی ہے اور مجھے امی کے زیور بہت پسند ہیں اس لیے میں نے سوچا تینوں فنکشن میں وہی پہنوں اور شوق بھی پورا کر لوں کے بھاری زیور مجھ پر کیسے لگتے۔۔۔ “ وہ اب کے شرارت سے بولی تو دادی نے خفگی سے اسے دیکھا جب کے باقی سب ایک دوسرے کو الزام دینے میں لگے تھے کہ ایک دفع ایک دوسرے سے پوچھ تو لیتے۔۔۔
” دادو مار کیوں رہیں ہیں اچانک سے آپ نے پوچھا تو ایک پل کو میں بھی سوچ میں پڑ گئی کونسے زیور اور ویسے بھی میں نے انہیں اپنی امی کے کہا تھا اب غلطی انکی کہ میری امی کی جگہ یہ اپنی امی سمجھے۔۔ “ دادی اس سے خاموشی کا سبب پوچھ رہیں تھیں کے اسی وقت بتا دیتیں اور وہ اپنے الٹے سیدھے بہانے جو سوج رہے تھے اب آزما رہی تھی۔۔ میں سب کو چھوڑ کے اپنے کمرے میں چلا آیا۔۔۔۔ آج ایک عجیب سی وحشت ہو رہی تھی۔۔ سب کچھ بےمعنی بے مقصد سا لگ رہا تھا۔۔ جس کام کو کرتے وقت نا سوچا اسکے پکڑ جانے کا سوچتے ہی میں کیسے لمحوں میں پسینے سے نہا گیا اگر پکڑا جاتا اور وہ وجہ پوچھتے تو۔۔کیا کہتا یہی کے ضد میں آکر رشوت سے لی نوکری خاندانی بزنس کو جوائن کرنے سے بہتر لگی۔۔ پھر کیا ہوتا تماشہ ۔۔۔ پورے خاندان میں بات پھیلتی۔۔ امی بابا کا سر شرم سے جھک جاتا۔۔ دادو جو صدقے واری جاتیں لمہوں میں پرایا کردیتیں کیا سوچتیں کے دادا آخر تک رشوت خوروں سے لڑتا لڑتا جان کی بازی تک ہار گیا اور یہاں یہ پوتا انہی سے ڈیلنگ کر رہا رشوت دے رہا۔۔۔ میرے ہلق میں کانٹے سے چبنے لگے مجھ میں ہمت نا تھی نیچے جاکر پانی کا ایک ٹھنڈا گلاس تک ہلق سے اتاروں۔۔۔
☆………….☆………….☆
سوچتے سوچتے نجانے کب میری آنکھ لگی میری نیند جسم میں کسی چیز کے چبھنے کے احساس سے ٹوٹی میں نے مندی مندی آنکھیں کھولیں تو میرے سامنے ہی ایک شخص وائٹ کوٹ پہنے کھڑا تھا۔۔۔
” ہیلو آبنوس اب کیسا فیل کر رہے ہو؟؟ “ سفید کوٹ میں ملبوس اس آدمی نے مجھ سے پوچھا۔۔
” آپ؟؟ “ دماغ حاضر نا تھا کے اسے جان پاتا حالانکے وہ اپنی حلیے سے ڈاکٹر ہی لگ رہا تھا
” میں ڈاکٹر ہوں اور اس وقت تمہارے گھر میں موجود ہوں۔۔ تمہیں شاید یاد نا ہو تم بےہوش ہوگے تھے تبھی تمہارے والد نے مجھے کال کر کے بلایا۔۔ اب بتاؤ کیسا فیل کر رہے؟؟ کمزوری محسوس ہو رہی ہے؟؟ “ انہوں نے تھرمامیٹر میرے منہ میں ڈالتے ہوے پوچھا بلا اب کیسے جواب دیتا کچھ دیر بعد انہوں نے میرے منہ سے تھرمامیٹر نکال کر اپنی عینک ہٹا کر غور سے تھرمامیٹر کو دیکھا پھر ایک بار پھر کمزوری کا پوچھا۔۔۔
” نہیں بلکل ٹھیک ہوں “ میرے جواب پر وہ مطمئن ہوکر مسکراے
” ویری گڈ میرا اندازہ سہی تھا اسٹریس اور رات کی نیند نا لینے کی وجہ سے ہوا ہے “ انہوں نے کہتے ہی کچھ میڈیسن پیپر پر لکھیں اور باہر نکل گئے انکے جاتے ہی گھر کا پورا ٹولا دادی سمیت میرے سر پر آن کھڑا ہوا لیکن میری نظروں نے آج نجانے کیوں اُس چہرے کی کمی محسوس کی جسے میں دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا۔۔۔
☆………….☆………….☆
آہستہ آہستہ سب لوگ کمرے سے نکل گئے بابا کافی دیر تک مجھے گھورتے رہے جیسے کچھ کھوجنا چاہ رہے ہوں لیکن میری چہرے پر چھائی بےزاری دیکھ کر چلے گئے بس امی میرے سر ہانے بیٹھیں رہیں۔۔۔
” کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی؟؟؟ دیکھو کیسے مرجھا کر رہ گئے ہو اگر کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ؟؟ “ انہوں نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا۔ اس وقت صرف ماں کے اسی لمس کی خوائش تھی میں نے تکیہ ہٹا کر سر انکی گود میں رکھ دیا وہ آہستہ آہستہ میرے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔۔
” ناراض ہو؟؟؟ “
” نہیں “
” پھر خاموش کیوں رہتے ہو ؟؟ “
” بس ایسے ہی۔۔ “
” رابیل اچھی لڑکی ہے آبی کبھی آزمائش میں ساتھ نہیں چھوڑے گی “ وہ میرے دل کے حال سے کیسے انجان رہتیں۔۔
” آپ کو کیسے پتا؟؟؟ “ میں کہنا چاہتا تھا ” جانتا ہوں “ آج کے اسکے اس اقدام نے مجھے شرمندہ ہی نہیں کیا بلکے جھنجھوڑ کے رکھ دیا ماں باپ سے منہ موڑنے کا نتیجہ بھی آج مل جاتا رسوائی کی صورت میں اگر وہ ہمسفر اس پل ساتھ نا نبھاتی۔۔۔
” تربیت سے پتا چل جاتا ہے نجمہ کو دیکھو آج شوہر ساس سب کے دل کی مکین بن بیٹھی ہے اور مجھے دیکھو اسکا سلوک ہی ایسا ہے کبھی جلن تک محسوس نہیں کی۔۔۔ “ میں غور سے انکی باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا اس پورے ڈرامے کے دوران چچی نے ایک لفظ تک نا کہا جیسے زیوروں کی پروا ہی نہیں پورے لاؤنچ میں بس امی اور دادو کی آواز گونج رہی تھی۔۔
میں انہی سوچوں میں تھا کے وہ کمرے میں ایک باؤل لیکر حاضر ہوئی۔۔۔
” ارے اچھا ہوا تم لے آئیں میں بھی یہی سوچ رہی تھی تم آبی کے سر پر یہ ٹھنڈی پٹیاں رکھو تب تک میں سوپ بنا کر لاتی ہوں۔۔“
امی نے دھیرے سے میرا سر اپنی گود سے ہٹا کر تکیے پر رکھا جبکے رابیل شش و پنج میں مبتلا کچھ پل اسی طرح کھڑی رہی میں غور سے اسے دیکھتے اس پل بھی یہی سوچ رہا تھا کیا ہی ہوتا اگر وہ تھوڑی سی بھی خوبصورت ہوتی۔ میں نے ہونٹ کا کنارہ سختی سے کاٹا نجانے کونسی کیفیت تھی آج سے پہلے اتنا بےبس کبھی نہیں ہوا جسکے نصیب نے میرے نصیب میں سیاہی مل دی آج اسی نے مجھے بچایا اور اب ایسے رویے کے بعد بھی اسے میری پروا ہے۔۔ وہ دھیرے سے آکر میرے پاس بیٹھ گئی ایک کے بعد ایک کافی دیر وہ پٹیاں اسی طرح میرے ماتھے پر رکھتی گئی سردی کے اس موسم میں کمرے میں وحشت ناک خاموشی تھی پانی تک کی آواز میرے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ ہر دو منٹ بعد وہ اپنے بیٹھنے کی پوزیشن بدل رہی تھی کچھ دیر بعد جب اس نے باول سائیڈ پر رکھا مجھے لگا وہ چلی جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا وہ اپنے ہاتھوں سے میرے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی پھر دھیرے دھیرے میرا سر دباتی رہی نجانے یہ عمل کتنی دیر جاری رہا مجھے احساس نا ہوا کیوں کے ایک بار پھر میں انجیکشن کے زیر اثر غنودگی میں چلا گیا۔۔۔
☆………….☆………….☆
میں نیند سے بیدار کمرے میں گونجتی عجیب آواز سے ہوا ایسے لگ رہا تھا کوئی کارٹون کریکٹر میرے کان کے پردے پھاڑ رہا ہے۔۔
” اوکے سر میں دیکھتی ہوں “ ساتھ رابیل کی آواز میرے کانوں میں گونجی اور لمحوں میں مجھے کل کا پورا واقعہ یاد آیا۔۔
” یہ عجیب آواز کہاں سے آرہی تھی؟؟ “ میں نے اٹھتے ساتھ رابیل سے پوچھا جو حسب معمول لیپ ٹاپ گود میں لئے کارٹونز کریکٹر بنا رہی تھی۔۔۔
” سپیکر سے۔۔ “ وہ بےنیازی برتتے اُسی طرح مصروف رہی۔۔
” میری نیند خراب کردی “ اسکا بےنیازی سا انداز نجانے کیوں بُری طرح چُبھا تھا مجھے۔۔
” ہمم۔۔۔ “ اب بھی وہ بےنیاز بنی اپنے کام میں مگن تھی۔ میں کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا پھر یہ میرا معمول بن گیا اٹھتے بیٹھتے میں اُس پر غور کرنے لگا گھر میں اپنی جاب کے متعلق میں نے کسی کو کچھ بھی نا بتایا باقی پھپھو نے بتایا ہو اسکا اندازہ نہیں۔ روز صبح میں انٹرویو کے لئے جاتا اور انٹرویو دینے کے بعد کچھ دیر یہاں وہاں گھوم کر گھر آجاتا پھر میری توجہ کا سارا مرکز رابیل ہوتی۔۔ جیسے جیسے میں اسے جانتا گیا ویسے ویسے میری دلچسبی مزید بڑھتی گئی اسے اپنی ہر چیز صاف رکھنے کی عادت تھی ڈیلی وہ روم سیٹ کو رگڑ رگڑ کے صاف کرتی ڈریسنگ کی سیٹنگ بار بار چینج کرتی کبھی لگتا کسی لڑکی کا کمرہ ہے کبھی لڑکے کا کبھی میری چیزیں سیٹ کرتی کبھی اپنا میک اپ، فیس واش کا سامان آہستہ آہستہ مجھے اسکی حرکتوں سے پتا لگا اسے ابلوٹوفوبیا ہے یعنی ایک طرح سے صفائی کا بھوت ڈیلی نہانا کوئی ایک داغ بھی ڈریس پر برداشت نا کرنا نا آس پاس ماحول کو گندھا دیکھنا یہ مجھے اس دن پتا لگا جب رابیل میری آپی کی دو سالا بیٹی سمیرہ کو گود میں اٹھائے کمرے کا پوچا لگا رہی تھی حالانکہ سمیرہ نے صرف ایک دو چپس ہی نیچے گرائے تھے لیکن رابیل نے لگے ہاتھ پورے کمرے کا پوچا لگا دیا اور میں اُسکی سپیڈ دیکھ کر دنگ رہ گیا جو سمیرہ کو اٹھائے ایسے پوچا لگا رہی تھی جسے بچوں کا ایکسپیرینس ہو اور یہ کام صدیوں سے کرتی آرہی ہو وہ کھڑی ہوکر پیر کی مدد سے جلدی جلدی پوچا لگا رہی تھی اسکے پوچے کی بدلتی ڈائریکشن سے میرا منہ بھی خود با خود اسی ڈائیریکشن میں موو کرتا اس کے بعد ایک کے بعد ایک چیزیں میری نظروں میں آتی گئیں میرے سونے کے بعد رات دیر تک وہ نیچے گارڈن میں ہوتی موبائل پر کبھی کچھ پڑھ کے روتی چلی جاتی پھر خود کو ریلیکس کرنے کے لئے جوکس پڑھ کے ہنستی رہتی۔ کبرڈ کو صاف ستھرا رکھتی ہینگر کے کپڑوں کے درمیان یہ تک دیکھتی کے دونوں ہنگرز کے بیچ ایک انچ کا فاصلہ ہو میں اسکا چلنا بیٹھنا پہنا اوڑھنا حتی کہ ہر چیز پر غور کرنے لگا وہ ہائٹ میں اچھی خاصی لمبی تھی اور اسی لئے وہی ڈریسسز پہنتی جو اس پر سوٹ کرتے نیٹ سے دیکھ کر بالوں پر الگ الگ ایکسپائیرمنٹس کرتی اور نجانے کیوں میں غور کرنے پر مجبور ہوتا کے وہ سارے بالوں کے طریقے اس پر سوٹ کرتے۔ لیکن وہ خاص خوبصورت تو نا تھی پھر بھی اس پر سب سوٹ کرتا؟؟؟ یہ بات مجھے عجیب سی لگی بلکہ وہ مجھے پوری ہی عجیب لگی وہ جو دیکھتی تھی ویسی تھی نہیں مطلب مجھے کبھی کبھی لگتا میں تصویر کا ایک رُخ دیکھ رہا ہوں تصویر کے ہر پہلو سے واقف نہیں اور اُس دن مجھے پتا لگا وہ رابیل جسے ایک عرصے سے میں اپنی نفرت کا شکار بناۓ بیٹھا تھا وہ زندگی کے ایک الگ رخ کو ہی اپنی آنکھوں میں بسائے ہوے ہے جب اسکی وہ تمام چیزیں میرے ہاتھ لگیں۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: