Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Episode 4

0
جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ – قسط نمبر 4

–**–**–

میں نے اچانک سے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو پونے نو ہو رہے تھے مطلب وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے میں نے چارٹس کا وہ بنڈل فولڈ کر کے ترتیب سے اندر رکھا اور ڈرور بند کر کے باہر آیا تبھی میری نظر اپنے روم سے نکلتے میرے چچا پر گئی۔۔۔
” کیسا فیل کر رہے ہو اب؟؟ طبیعت ٹھیک ہے؟؟ “ انہوں نے آکر محبت بھرے لہجے میں مجھ سے پوچھا۔۔۔
” چچا مجھے آپ کی بیٹی عجیب لگتی ہے “ ان سب تحریروں کا اثر تھا یا وہ سانولی لڑکی میں رابیل کا گمان میں بلا ججک انھیں کہ اٹھا۔۔۔۔
” تبھی تو پوچھ رہا ہوں اب کیسے ہو؟؟؟ “ چچا کی عجیب نہیں بلکہ فتح مند شاطرانہ مسکراہٹ مجھے خوفناک لگی جو شاید میری ایسی ہی حالت کی تواقع کر رہے تھے۔۔۔۔
” جی کیا کہا آپ نے؟؟؟ “ میں سن تو چکا تھا لیکن اندھا گونگا بہرا بنا رہا مجھے یکدم سے انکی شاطرانہ مسکراہٹ سے خوف محسوس ہو رہا تھا جو مسکراتی نظروں سے میرے خوف سے لطف محسوس کر رہے تھے۔
نجانے کیوں میری چھٹی حس مجھے بھاگنے کا الارم دے رہی تھی نجانے باپ بیٹی دونوں پاگل ہیں ایک جہنم تک پہنچا آئی دوسرا خوف سے جان نکال رہا تھا اب شک ہو رہا تھا جو اب تک ہوا ہے کیا ہوا بھی ہے یا یہ سب میرا خیالی پلاؤ ہے؟؟؟ میں نے ارد گرد دیکھا انکے اور میرا علاوہ کوئی نہیں تھا کہیں میں کسی بھوتیا حویلی میں تو نہیں آگیا؟؟؟ تھوک نگلتے میں نے چچا کو دیکھا جنہوں نے اب کے خوفناک قہقہ لگایا۔۔۔
” جب تک رابی نا چاہے کوئی اسکے سائے کو بھی چھو نہیں سکتا۔۔ تم ڈر کیوں رہے ہو کوئی خوفناک جن نہیں میں“ وہ جیسے میرے چہرے پر لکھی تحریر پڑھ چکے تھے۔۔۔
” پھر یہ عجیب سے انداز میں مسکراے کیوں؟؟ “ میں نے پھٹی پھٹی آواز میں نہایت معصومیت سے پوچھا بابا کتنا کہتے تھے نماز پڑھ لو بلاؤں سے محفوظ رہو گئے لیکن لعنت ہے مجھ پر جو انکی ایک نا سنی۔۔۔۔
” دو منٹ میں آتا ہوں “ وہ زور سے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر (دوستانہ انداز میں بھاری ہاتھ )اندر چلے گئے میں اپنی جگہ سن سا کھڑا رہا اب تو دنیا جہاں کا ہوش تک نا تھا آخر مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے تھے؟؟؟ میں جب تک سوئے ذہن کو الرٹ کرتا وہ میری طرف آتے دیکھائے دیے۔۔
” آپ کہاں گئے تھے؟؟ “ انہیں اپنے روم سے نکلتا دیکھ مجھے حیرت نے آن گھیرا بے شک جاتے ہوے نہیں دیکھا لیکن اب کے نظریں وہیں اٹکیں تھیں۔۔۔
” جب کسی کی جاسوسی کرتے ہیں تو خاص خیال رکھتے ہیں کوئی چیز ادھر سے ادھر نا ہو تم نے چارٹ پپرز کا بنڈل دائیں طرف رکھا تھا رابی کو اگر تھوڑا سا بھی شک ہوتا وہ کبھی مجھے اپنے رازوں کا امین نہیں رکھتی۔۔۔ “ میں ان کے قریب آتے ہی دور کھسکا جنہوں نے پھر ایک بار خوفناک قہقہ لگایا۔۔۔
” یار ڈرو نہیں پانچ وقت نمازی ہوں نا ہی کوئی میری بیٹی پر جن کا سایہ ہے اندر میرے کمرے میں چلو سب بتاتا ہوں “
میرے کھسکنے کے ساتھ خوفزدہ انداز پر وہ چوٹ کر گئے اور مجھے اپنے ساتھ لیکر بلکے باقاعدہ کھنچتے ہوئے کمرے میں چلے آئے۔۔۔
” کون سے راز؟؟ اور آپ کو کیسے پتا؟؟ “ میں نے اندر آتے ہی تسبیح اور جانماز کو دیکھتے بلکل نارمل انداز میں پوچھا۔ جن کا سایہ نہیں ہے لیکن سائیکو کیس دونوں لگ رہے تھے۔۔
” میں ساری زندگی اس کی حفاظت نہیں کر سکتا آبی وہ اب تو مجھے خاص بتاتی بھی کچھ نہیں میرا دل بہت کمزور ہے میں نے اسے مضبوط بنایا تھا اب ڈر لگتا ہے کہیں کوئی غلطی تو نہیں کی؟؟ دوسروں کے لئے وہ ہمیشہ خود کو مصیبت میں ڈالتی ہے۔۔۔ “ انکا انداز بلکل کسی ہارے ہوے جواری کی طرح تھا جب کے لہجہ فکرمند، محبت سے لبریز بیٹی کی چاہت میں۔۔۔
” مجھے ایک لفظ سمجھ نہیں آرہا۔۔ اور کیا آپ چاہتے تھے وہ سب میں دیکھوں “ ذہن میں اچانک سے جھماکہ ہی تو ہوا تھا باہر انہوں نے ایسا ہی کچھ کہا تھا۔ انکے اثبات میں سر ہلانے پر میں چونکا بیٹی کی طرح انہوں نے بھی میرے لیے پہیلیاں بٌھجانے کو رکھ دیں۔
” کیوں “
” تاکے اگر کل کہیں وہ پھنسے تو تم اسکا ساتھ دو “
انکا یہ اعتماد مجھے عجیب لگا بھلا اتنا بھروسہ؟؟؟ اس شخص پر جسے وہ جانتے بھی نا تھے؟؟؟
” آپ کو کیوں لگا میں اسکے لئے سہی بندا ہوں “ دل میں امڈتا سوال زبان پر آہی گیا۔۔
” جس دن تمہارا نانتھ کا فائنل پیپر تھا یاد ہے تمہیں؟؟ تم نے ایک بوڑھے آدمی کی جان بچائی تھی بلاخوف و جھجک ایک پولیس آفسر کی پٹائی بھی کی تھی کیوں کے اُسے اُس آدمی کی جان سے زیادہ چالان کی فکر تھی؟؟؟ اس دن اس لمہے میں نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں تمہارے لئے پسندیدگی دیکھی تھی جب تم نے کہا تھا ” یہ دنیا بھی جنّت بن سکتی ہے اگر لوگ احساس کریں تو “ گھر آکر تم نے یہ کہہ کر سب کا منہ بند کرادیا پھر کتنے ہی پولیس سٹیشن کے چکر لگے تم ڈرے نہیں منہ پر جواب دیا۔۔ تم وہ ہو جو اپنوں نہیں بلکے دوسروں کے لئے بھی احساس رکھتے ہو تو ایسے ہیرے کو میں کیسے گنوا سکتا تھا؟؟ اور جانتے ہو اس دن رابی کی پوری زندگی میری آنکھوں کے سامنے گھومی میری بیٹی پر جو الزام لگیں ہیں صرف تم ہو وہ جو انکو سمجھ سکتے ہو بس تبھی اماں سے میں نے کہہ دیا اگر آپ چاہتیں ہیں میں یہاں رہوں تو آبنوس اور رابیل کا نکاح پڑھوا دیں “ کیسا انکشاف تھا میں سن سا انہیں دیکھے گیا میری اتنی محنت کی بربادی کے پیچھے یہ بات تھی؟؟ تبھی سب نے صاف جواب دے دیا کے شادی ہوکر رہے گی اور میں اتنے دن امی بابا اور دادو کو بےقصور سزا دیتا رہا۔۔۔
” کیا رابی جیل جا چکی ہے؟؟؟ “ انکا چہرہ بلکل پہلے کی طرح نارمل رہا کسی قسم کا کوئی ڈر خوف پریشانی نا تھی۔۔۔
” ہاں “ یعنی پھپھو کا کہا لفظ لفظ سچ تھا پہلے یہ بات پتا چلتی تو شاید طوفان کھڑا کر دیتا اب میں اس وقت اس پل سوچ رہا تھا ضرور کوئی وجہ ہوگی ورنہ کوئی لڑکی اس طرح ماں باپ کو ذلیل نہیں کرتی۔۔۔
” آبی رابی کو بس اسکی ایک عادت نے پھنسایا اور وہ ہے اسکا حد سے بےحد غصّہ جسے صرف صارم قابو کر سکتا ہے بہت چھوٹی تھی رابی جب میری ایک غلطی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
کتنی ہی دیر میں منہ کھولے انھیں تکتا رہا یہ لڑکی تھی یا کوئی آفت کسی چیز کا کوئی ڈر نہیں بس ایک سہارا ملنے پر اچھل اچھل کر لوگوں کو اپنی انگلی پر نچا رہی تھی۔ میں تو اسے عام معصوم ہی سمجھتا تھا، آسرے میں بیٹھا تھا ایک دن اور بیویوں کی طرح مجھ پر بھی پڑے گی پھونکے گی لیکن یہ پڑھنے والوں میں سے نہیں بلکے خود شوہر کو پڑھانے والیوں میں سے تھی۔۔۔۔ میں سر ہاتھوں میں دیے بیٹھا رہا پھر کچھ پل جیسے ان باتوں کے حصار سے نکلا تو اس بےچینی کو ختم کرنے کے لئے بھی پوچھا لیا۔۔۔
” وہ جو اسکیچز بناتی ہے کیا انکا حقیقت سے تعلق
ہے؟؟ “
” بلکل وہ سب سچ ہے “ پانچ سو پانچ ولٹ کا جھٹکا مجھے اسکی کہانی سن کر بھی نہیں ہوا تھا جو اس جواب پر ہوا۔۔۔ یعنی رابی نے اس لڑکی کے ساتھ غلط کیا ہے؟؟؟میں آگے پوچھنے والا تھا کے ہارے رے میری قسمت۔۔
” پاپا “ اچانک سے رابی کی آواز سن کر ہم دونوں چونک اٹھے اور چاچا جو کچھ دیر پہلے مجھے ڈرا رہے تھے اب بیٹی کے سامنے خود بھیگی بلی بن بیٹھے۔۔۔
” ہا۔۔۔ ہاں بیٹا۔۔ “ چہرے پر ہوائیاں اڑیں تھیں کہیں بیٹی نے سن تو نہیں لیا۔۔
” کنٹرول چچا ایسا نا ہو اگلا اسکیچ آپکا ہو غداری کی سزا موت کے کنویں میں الٹا لٹکا ہوا انسان “ میں نے انکی لڑکھڑاہٹ پر چوٹ کی جو خود کچھ دیر پہلے میرے خوف سے لطف اٹھا رہے تھے۔ انہوں نے گھور کے مجھے دیکھا اور اٹھ کر رابی کے ہاتھ سے بھاری شوپرز لئے اور ان کے اس عمل سے ہی مجھ میں عقل آئی کے کاش میں اٹھا کر اپنا نمبر بڑھاتا۔ خیر اب وہ اپنی لائی ایک ایک چیز چچا کو دیکھا رہی تھی میں تو جیسے کسی تابوت میں قید تھا یا غائب ہو چکا تھا جو اسے دکھائی ہی نہیں دے رہے تھا محترمہ مزے سے میری موجودگی فراموش کر چکی تھیں۔۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
مال سے آنے کے بعد وہ تو لیٹ چکی تھی لیکن میں بےچینی کے عالَم میں کمرے میں چکر لگاتا پھر رہا تھا اب تک وہ اسکیچ میرے دماغ میں گھوم رہا تھا دل چاہا اسکی میٹھی نیند کو جھنجوڑ کر توڑ دوں پھر اگلے پل چچا کی باتیں یاد آجاتیں تو یہ خیال خود ہی دماغ میں آتا کے کہیں کل کے اخبار میں میری تصویر نا فرنٹ پیج پر آجاے ٹائٹل کے ساتھ کے معصوم بیوی کے ہاتھ شاطر شوہر کی موت۔ ہائے میں نے سرد آ بھری اور کل کے انٹرویو کی تیاری کرنے لگا کیوں کے یہ محترمہ تو اب نو لفٹ کا بورڈ چڑا چکیں تھیں۔۔۔
” رابی میری شرٹ “
وہ منہ پھلائے شرٹ میرے ہاتھوں میں تھامے ڈریسنگ کو ترتیب دینے لگی جسکی حالت میں خراب کر چکا تھا۔۔۔
” رابی میری ٹائے “
” رابی میرا ناشتا “
” رابی میری فائل “ صبح سے اٹھتے ساتھ میں نے شرٹ سے لیکر بالوں کی کنگی تک اسے اپنے آگے پیچھے دوڑائے رکھا ایک پل کو بھی اسے بیٹھنے نہیں دیا میں چاہتا تھا اب وہ میری عادی بنے اور میں اسکا میری نظر میں ایک یہی راستہ تھا بہترین شروعات کا۔ اب سر سے پاؤں تک وہ مجھے میرے دل کے بےحد قریب محسوس ہوتی ہے میں خود نہیں جانتا ایک ہی دن میں کیوں وہ مجھے اتنی الگ اتنی خاص لگی اور اب اسکے سانولے روپ میں بھی مجھے کوئی برائی نظر نہیں آتی ایک ہی دن میں نجانے میں کیسے اتنا بدل گیا؟؟ میرے لئے خود حیران کن تھا دوسری اسکی بے اعتنائی؟؟ کالج سے یونی تک کافی نہیں تو کچھ لڑکیاں تو میری پرسنالٹی گڈ لکس پر فدا تھیں لیکن یہ تو فدا کیا ہوتی جھوٹے منہ حال چال بھی نہیں پوچھتی شوہر بیماری سے لوٹا ہے تھوڑی خدمت ہی کرلوں لیکن ہائے یہ میری حسرتیں۔۔۔۔۔
” آج امپورٹنٹ میٹنگ ہے دعا کرنا مل جائے “ میں نے اسکا لایا ہوا ناشتہ ڈٹ کر کیا اور چائے کے سپ لیتے ایک التجا کی۔۔۔
” پروجیکٹ “ رابی کے ناسمجھی سے دیکھنے پر میں نے جملا مکمل کیا۔صبح سے آج میں اسے حیران کر رہا تھا کتنی ہی دفع وہ مجھے بےیقینی سے دیکھ چکی ہے اور ہر بار میں بُری طرح شرمندہ ہوا ہوں ساتھ یہ بھی سوچتا ہوں جب اتنی آسائیشیں ہیں بیوی کے ہوتے ہوے بیٹھے بیٹھائے منہ میں کھانے کا نوالہ تک پہنچ جاتا ہے تو اب تک اس سے انجان کیوں تھا بےنیازی کیوں برتتا تھا؟؟؟
” محنت کی ہوگی تو ملے گا “ اسکا ٹکا سا جواب مجھے مسکرانے پر مجبور کر گیا میں آخری گھونٹ لیکر اٹھا فائل ہاتھ میں تھامتے ہی نجانے کونسا جذبہ تھا جس نے مجھے رابی کی طرف کھنچا اور میں نے اسکے قریب جاتے ہی اسکی بےداغ پیشانی چومی اسکے بعد ایک نظر اسکے کھلے منہ اور سرخ چہرے پر ڈال کر میں قہقہ لگاتا روم سے نکل گیا۔۔۔
انٹرویو میری سوچ سے زیادہ اچھا ہوا اور میرے لئے حیران کن تھا کے وہیں کھڑے کھڑے ایکسپیرنس کی بنا پر مجھے سلیکٹ کرلیا یہی نہیں یہ جاب اس پہلی سے بھی اچھی تھی کیوں کے اس میں سیلیری ڈبل تھی۔ میں خوشی خوشی مٹھائی لیکر گھر پہنچا امی کو یہی بتایا پروجیکٹ مل گیا اور انکا میٹھا منہ کر کے رابیل کو ڈھونڈتے کمرے میں چلا آیا۔۔
” السلام عليكم کیسی ہو؟؟؟ “ میں نے کمرے میں آتے ہی رابیل کو مخاطب کیا جو حسب معمول لیپ ٹاپ گود میں رکھے بیٹھی تھی۔۔
” ٹھیک۔۔۔ “ اسکی ہمیشہ کی طرح وہی بےنیازی میرا سارا موڈ خراب کرگئی۔۔۔
” آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔ “ میں گرنے کے انداز میں اسکے برابر ایک ہاتھ سر پر رکھے لیٹ گیا نظریں اس پر جمائے میں نے پھر سے اسے اپنی طرف متوجہ کیا جسکے ہاتھ تیزی سے لیپ ٹاپ کے مائوس پیڈ پر چل رہے تھے۔۔۔
” گڈ “ وہ نظریں لیپ ٹاپ پر گاڑھے مصروف سے انداز میں بولی جب کے میری رگوں میں دوڑتا خون اسکی بےنیازی دیکھ کر اُبل پڑا جسے میں ناچاہتے ہوے بھی پی گیا۔۔۔
” یہ تم کیا ہر وقت بچوں کی طرح کارٹونس بناتی ہو؟؟ مجھ سے پوچھوگی نہیں کونسی خوشی؟؟ “ میں نے مائوس پیڈ پر چلتا اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اسے شاید مجھ سے ایسی حرکت کی امید نہ تھی لمحوں میں یہ ہوا تھا وہ پوری آنکھیں کھولے حیرت سے میری ان آنکھوں میں دیکھنے لگی جو کب سے اسی کا دیدار کر رہیں تھیں۔۔۔
” کیا ہوا؟؟ ہاتھ پکڑنے کا پرمٹ ہے۔۔۔ “ میں نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے مسکرا کر کہا اور نرمی سے اسکے ہاتھ پر اپنا انگھوٹا پھیرنے لگا اور پل بھر میں نے اس کا چہرہ سرخ ہوتے دیکھا پھر اس نے نظریں جھکا لیں لیکن ہونٹوں سے ایک لفظ تک ادا نہ کیا۔۔
” میری اس خوشی میں شریک ہوگی “ میں نے ایک جھٹکا دیکر اسے خود کے اور قریب کیا اسکی نظریں پھر اٹھیں وہ آنکھیں سیکوڑ کر تنبیہی انداز سے دیکھتے اپنا اعتماد بحال کر کے بولی۔۔۔
” آپ کریں گئے تو ہونگی “ وہ اپنے مخصوص سنجیدہ لہجے میں بولی اور پیچھے ہوئی۔۔
” تو پھر چلو۔۔ “ میں اسکا ہاتھ چھوڑ کے اٹھا وہ بھی اسی کے انتظار میں تھی جلدی سے اپنا کام وائنڈ اپ کرنے لگی۔۔ میں اسے نیچے آنے کا کہکر خود باہر کی طرف چل دیا تاکے گاڑی نکال سکوں ۔۔۔
” وہ دیکھ لڑکی اکیلی ہے چل چلکر ساتھ بیٹھتے ہیں “ ہم دونوں ابھی ڈھابے پر پہنچے ہی تھے کے میں نے دو لڑکوں کو کہتے سنا جو وہیں بیٹھے آوارہ گردی کر رہے تھے۔۔۔
” شرم کر بہن تیرے گھر میں بھی ہے “ ایک لڑکے نے میں منہ میں روٹی کا نوالے لیتے کہا میں نے رابیل کا ہاتھ پکڑا اور دوسری سائیڈ آگیا کیوں کے وہ انکے پاس والی کرسی پر بیٹھنے لگی تھی۔۔
” ایسے لوگوں سے دوستی ہی کیوں کرتے ہیں “ میں نے ایک سخت گھوری سے انہیں نواز کر چلتے ہوے رابیل سے کہا وہ بھی انہی کی باتیں سن رہی تھی۔۔
” مطلب اس میں دوستی کا کیا کنیکشن یہاں تو سوچ آتی ہے جسکی جیسی سوچ؟؟؟ “ ٹیبل کے قریب آتے ہی میں بے اسکا ہاتھ چھوڑا۔ ہم دونوں جب چیر پر آکر بیٹھے تو رابیل نے کہا۔۔۔
” جب پتا ہے اگلا بندہ خراب ہے تو لعنت بھیجیں اس پر “ اسے بحث کرتا دیکھ اب کے میرا لہجہ تھوڑا سخت ہوگیا تھا تبھی ایک آدمی آرڈر لینے آیا جسے دیکھ کر رابیل جو کچھ کہنے والی تھی چپ ہوگئی لیکن آدمی کے جانے کے بعد واپس شروع ہوگئی۔۔
” کیوں؟؟؟ اگلا بندہ کوئی بھی ہو سکتا کیا پتا وہ اسکا دوست نہیں بھائی ہو؟؟ یو نیور نو کچھ بھی ہو سکتا اسلئے دوست نہیں دوست کی سوچ بدلو “ وہ عام سے لہجے میں بولی۔۔۔
” سیدھی بات یہ ہے ایسے دوست ہی نہ پالو “ میں نے بات ہی ختم کرنا چاہی لیکن آگے بھی ” وہ “ تھی چپ کیسے رہتی؟؟
” اگر اپنا ہی ایسا نکلے تو؟؟؟ غلط گائیڈ کرے تو؟؟ اسلئے ذہن ہے آپ کے پاس خود سوچ کر سہی راستہ اختیار کرو “
میری اتنی بات پر وہ لڑنے کو آگئی اسکا لہجہ نارمل تھا لیکن ایک بات تھی وہ جیسے منوانے کو تھی اور میں اپنی ہار کیسے برداشت کرتا؟؟ تبھی ایک آدمی دو گلاس شیک کے لے آیا۔۔۔
” دفع کرو انھیں ایسوں سے کنیکشن ہی کاٹ دو۔۔۔ “ میں نے ایک طریقے سے شکر ادا کیا اور بات ہی ختم کردی ویٹر کا لایا ایک شیک اُسکی طرف بڑھایا دوسرا خود پینے لگا۔۔۔
” ویسے تم ہر وقت کارٹونز کیوں بناتی ہو “ میں نے شیک پیتے سوال پوچھا ۔۔۔
” وہ کارٹونز نہیں جاب ہے میری۔۔ “ اسٹرو کو شیک میں گھماتے وہ نرمی سے بولی۔۔
” لائک سریسلی؟؟ ایسی کونسی جاب ہے؟؟ “ میری حیرانگی بجا تھی۔۔
” ایکچولی میں یہ کارٹونز بنا کر اپنے سر کو بھیجتی ہوں آگے انکا کام ساؤنڈ وغیرہ ڈالنا لیکن ہاں سٹوری میری ہوتی ہے لیکن میں رائیٹر نہیں جسٹ آئیڈیا دیتی ہوں اور وہ یہ سب یوٹیوب چینل پر چلاتے ہیں جیسے مورل اسٹوریز وغیرہ ہوتی ہیں اسی طرح آپ نے دیکھی ہونگی۔۔ “ ہلتے لبوں کی داستان میں حیرانگی سے سن رہا تھا جب کے اسکا انداز نارمل تھا جیسے کوئی بات ہی نہیں تھی اور میں یہاں بیٹھا سوچ رہا تھا آخر میں اسکے نام کے علاوہ جانتا ہی کیا ہوں؟؟؟
” مجھے آج تک کچھ پتا کیوں نہیں چلا؟؟ “ میرے لبوں سے بےاختیار نکلا
” آپ نے انٹرسٹ جو نہیں لیا “ اسکی آنکھوں میں ویرانی تھی ہاں چہرہ یکدم بجھ سا گیا جسے اگلے ہی لمحے وہ مہارت سے چھپا گئی۔۔
” ایسا نہیں۔۔۔۔ اچھا تم بتاؤ میرے بارے میں کیا جانتی ہو؟؟ “ میں نے اپنا دفاع کرنے کے لئے اسے پھنسا دیا مجھے یقین تھا وہ بھی میرے نام کے علاوہ مجھ سے واقف نہیں ہوگی۔۔۔
” سافٹ ویئر انجینیر ہیں عمر تیس سال کھانے میں بریانی پسند ہے پیزا خون میں دوڑتا ہے۔۔ بچے بلکل نہیں پسند شادی کرنا نہیں چاہتے تھے یہاں وہاں سارے حربے آزمائے یہاں تک کے شام کے چھ بجے کسی مولانا کا پروگرام نہیں آتا پر آپ نے بہت کوشش کر کہ چلایا بھی لیکن قسمت میرے ساتھ پھوٹی۔۔ بس اُسکے بعد کبھی دلچسپی نہیں لی۔۔۔ “ میں ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا جو ایک کے بات ایک میری زندگی میں آنے کے بعد انکشاف کر گئی میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا اسے حفظ کر رہا تھا جو پر اعتمادی سے مجھ سے نظریں ملائے ہوئی تھی کتنے ہی پل میری نظریں اس سے ہٹ نہیں پا رہیں تھیں یہاں تک کے تنگ آکر اسنے خود نظریں جھکا لیں۔۔۔
” کیوں؟؟؟ “ تجسس تھا وہ پیچھے کیوں ہٹ گئی؟؟ دل میں کہیں ایک چبھن سے ہوئی تھی جبکے اسکے انکشاف کے بعد میں شرمندہ ہوا تھا لیکن ظاہر نہیں کیا۔۔۔
” جب ایک انسان سے نفرت ہو وہ چاہے کچھ بھی کرلے کبھی آپ کی پسند نہیں بن سکتا یہ میں جان گئی تھی۔۔۔ “ مسکراتے ہوے وہ اسٹرو کو گلاس میں گول گول گھما رہی تھی جس سے اسٹرو گلاس کے سائیڈ والس کو لگ رہی تھی اور یہ کھوکھلی مسکراہٹ مجھے اذیتوں کی سمندر میں دھکیل گئی۔۔۔۔
” ایسا نہیں ہے غلط کہا تم نے میں۔۔۔۔ “ میں نے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی لیکن میری بات آگے بڑھنے سے پہلے اسنے آدھا جوس کا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کر کے مجھے آرڈر دیا۔۔۔۔
” مجھے ایک اور شیک پینا ہے “ میں اسکی شکل دیکھتا رہا پھر سر اثبات میں ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میں کبھی اسے سمجھ نہیں سکتا اسکا رویہ پل بھر میں بدلتا موڈ حالانکہ سب تو جان چکا ہوں رہا کیا ہے؟؟ میں دوسرا شیک بنوا کر لیا تو وہ بہت غور سے سامنے بنے درخت کو دیکھ رہی تھی میں نے اسے تین چار بار بلایا لیکن وہ تو گویا کسی اور دنیا میں تھی بہت غور سے درخت کو دیکھتے وہ مسکرا رہی تھی میں نے اب کے بار اسکا کندھا ہلایا۔۔
” کہاں ہو کب سے بلا رہا ہوں “ وہ چونک کر حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگی پھر آس پاس ایک نظر گھما کر دیکھنے لگی شاید ماحول سے مانوس ہونے کی کوشش کرنے لگی ایسے لگا جیسے یاد کر رہی ہو کے وہ کہاں ہے۔۔۔۔میں ہونق سا اسے دیکھے گیا۔۔۔
” میں درخت کو دیکھ رہی تھی “کچھ دیر کی محویت کے بعد بولی۔۔۔۔۔جب میں آکر اسکے سامنے بیٹھا
” پہلی دفعہ دیکھا ہے ؟؟ “ میں نے شیک کا ایک سپ لیتے کہا
” جی “
” دنیا میں درخت تو تمہارے آنے سے پہلے آئے تھے چلتے پھرتے کبھی نظر نہیں پڑی “ میں نے اسکے تابعداری سے جی کہنے پر طنز کیا ظاہر ہے نجانے وہ کیوں فضول باتوں پر بحث کرتی پہلے دوست اب درخت۔۔۔
” پڑی ہے لیکن اللہ‎ کو سجدہ کرتا ہوا درخت پہلی دفع دیکھ رہی ہوں۔۔۔“ مجھے اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔۔۔
” کیا؟؟ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے “ میں نے بھرپور حیرانگی سے پوچھا ساتھ ایک نظر درخت کو دیکھا۔۔۔
” جی آپ بھی غور کریں “ اس نے عام سے انداز میں کہا
” نہیں مجھے تو درخت ہی دیکھ رہا “ میں نے ابرو اچکا کے ایک بار پھر اسکے کہنے پر ایک نظر سامنے بنے درخت کو دیکھا لیکن مجھے وہ عام درختوں جیسا ہی لگا۔۔۔
” میں بتاتی غور کریں صرف درخت کو دیکھیں آس پاس سب بھول جائیں اور صرف مجھے سنیں “ شاید وہ سمجھ چکی تھی دو بار دیکھنے سے بھی مجھے وہ نہیں دیکھا جو اُسکا ” نظریہ “ تھا تبھی اب وہ خود مجھے سمجھا رہی تھی۔۔۔
” وہ دیکھیں درخت جھکا ہوا ہے نہ جیسے انسان رکوح میں جھکتا ہے اسکی ٹہنیاں بھول جائیں اوپر کی بس وہ دیکھیں دو ٹہنیاں جو گھٹنوں پر رکھیں ہیں ویسے جیسے انسان اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتا اور۔ اسکا رخ دیکھیں کس طرف ہے۔۔ سمجھ آیا غور کریں گے تو صرف وہ دیکھے گا جو میں دیکھا رہی “ وہ سامنے اشارہ کرتے مجھے سمجھا رہی تھی میں بہت غور سے بس اسے ہی سن اور دیکھ درخت کو رہا تھا اور کافی دیر غور کرنے کے بعد مجھے خود حیرانگی ہوئی کیوں کے مجھے وہ ایک انسان لگ رہا تھا جو اللہ‎ کو سجدہ کر رہا تھا۔۔۔
” دیکھا؟؟؟ “ میں نے نظریں نہیں ہٹائیں ڈر تھا اس منظر سے ہاتھ نا دھو بیٹھوں۔۔
” اب دیکھا؟؟؟ “ ایک بار پھراسنے پوچھا شاید بہت بےتابی تھی۔۔
” ہاں تم سہی کہ رہی انفکٹ دیکھو وہ
“curve”
انسان بلکل ایسے جھکتا۔۔۔“
” بلکل لیکن میری سمجھ میں نہیں آیا آپ کو وہ نارمل درخت کیوں لگا؟؟؟ “ رابیل کی بات پر میں ٹھٹکا اب کے میری باری تھی اسے سمجھانے کی۔۔۔
” وہ اس لئے کے میں اسے اپنے نظریے سے دیکھ رہا تھا روکو تمہیں بھی دیکھاتا ہوں سامنے دیکھو “ میں نے کہتے ساتھ اسے سامنے دیکھنے کا اشارہ کیا رابیل نے تابعداری سے سر ہاں میں ہلایا میں نے جیسے ہی کہنے شروع کیا تو میری زبان اٹک گئی کیوں کے اب بھی وہ مجھے سجدہ کرتا نظر آرہا تھا ایک منٹ دو منٹ کتنی ہی دیر میں اسے دیکھتا رہا لیکن وہ ویسے ہی رہا۔۔۔۔
” بتائیں نا؟؟ “ رابی کے مخاطب کرنے پر ایک پل کو نظریں ہٹیں پھر وہیں جم گئیں۔۔۔
” نظر ہی نہیں آرہا نجانے کیوں؟؟ “ میں نے اسی پیڑ کو دیکھتے کہا۔۔
” کیوں کے جب تک آپ کے ذہن سے نیا عکس نہیں مٹے گا پرانا واضع نہیں ہوگا “
” ایک منٹ “ میں کتنی ہی دیر غور کرتا رہا رابیل کے اس عکس کو مٹانے کی کوشش بھی کی لیکن پہلے کی طرح مجھے وہ عام درخت نہیں دیکھا میرا وہ نظریہ واپس آہی نہیں رہا تھا جب کافی دیر میں اسی طرح بیٹھا رہا تو رابیل نے مجھے پکارا۔۔۔
” چلیں؟؟؟ اپ تصویر لے لیں اسکی گھر میں غور کرنا “ میں نے اسکی بات پر غور کرتے عمل کیا اور اسے لیکر گھر آگیا۔۔پورے راستے میں ایسے ہی الجھا رہا اور سوچتا رہا کاش پہلے پک لیکر سیو کرتا لیکن کیا فائدہ ہوتا؟؟ نظریہ وہ تھوڑی آنا تھا مجھے خود بدلنا تھا نظریہ۔۔۔
گھر آکر وہ جیسے ہی لیٹنے لگی تو میں جو کب سے پریشان بیٹھا تھا فوراً سے اٹھ بیٹھا کیوں کے اب وہ درخت مجھے پہلے کی طرح دیکھ رہا تھا۔۔۔
” رابیل یہ دیکھو میں کیوں کہہ رہا تھا یہ عام درخت ہے دیکھو اس میں۔۔۔ “ میں نے پر جوش ہوکر اسے بتانا شروع کیا لیکن اسکی اگلی بات سے بےاختیار چلتی زبان کو بریک لگی۔۔
” مجھے نہیں دیکھنا “ وہ چادر گردن تک تان کر لیٹ چکی تھی۔۔
” لیکن تم نے ہی تو پوچھا تھا عام کیوں دیکھا مجھے بھی بتاؤ “ میں نے اسے یاد دلایا ساتھ اسکی حاضر جوابی پر قسمے شدید غصّہ آیا۔۔
” نہیں میں نے کہا تھا یہ عام کیوں دیکھا آپ کو؟؟؟ یہ نہیں کہا تھا دکھاؤ۔۔ ویسے بھی مجھے میرا نظریہ پسند ہے میں کسی کو اجازت نہیں دیتی کوئی میرے ذہن سے کھیلے کیوں کے میری سوچ میرا نظریہ میری قوت گویائی اسکا حساب مجھ سے لیا جائے گا میری گناہ کا کوئی اور شخص گہنگار نہیں بنے گا میں ہی ہونگی اسلئے سوچ بدلو نظریہ بدلے گا دوست نہیں چھوڑو دوست کی سوچ کو بدلو “ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اسنے مجھے بیوقوف بنایا؟؟ لیکن اسکے لفظ اور مزید جو وہ کہہ رہی تھی میرے ذہن کو سن کر گئے آج مجھے میرے سوالوں کے جواب مل گئے۔۔
” اور دوسری درخت والی بات تو۔۔۔۔
“ Always remeber beauty is in the eye of the beholder. The person who is observing gets to decide what is beautiful???
Beauty doesn’t exist on its own but is created by observers….”
بلکل سہی کہا اسنے ایک ایک لفظ سہی کہا مجھے اب سمجھ نہیں آرہا تھا آخر میں نے پھپھو کی باتیں کیوں ذہن میں بیٹھائیں؟؟
میں نے ان کی بات سنی ہی کیوں؟؟
سنی بھی تو دھیان کیوں دیا ؟؟
دھیان دیا بھی تو انکی سوچ کے مطابق عمل کیوں کیا؟؟ وہ کیوں کیا جو وہ چاہتی ہیں؟؟؟ خوبصورتی تو دیکھنے والے کی آنکھوں اور بنانے والے کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔ خوبصورتی کی تو پہچان کی جاتی ہے ان آنکھوں سے لیکن حسن دیکھ کر نہیں اخلاق تعلیم، تربیت، سیرت، اور ” خاصیت “ یہی تو ہے حسن کی پہچان اور یہ بنانے والا ” اللہ‎ “ میرے مولا میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آیا میں نے آج تک رابیل میں نہیں اُس کے بنائے گئے حسن میں نقص نکالے کتنے ہی دیر میرا وجود کانپتا رہا میں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی میری ذہن کے پردے اب کھل رہے تھے خوبصورتی ہے کیا؟؟ وہ نہیں جو سیکڑوں انسان حسن میں تراشتے ہیں بلکے وہ جو انکی آنکھیں حسنِ اخلاق میں تراشتی ہیں نفرت تو مجھے سفید بیوی سے بھی ہوجاتی اگر اخلاق سے عاری ہوتی پھر کیا فائدہ ایسی خوبصورتی کا؟؟؟
مجھے اب سمجھ آیا ایک دن میں کونسا جذبہ بیدار ہوا میں نے کل اُس نظریہ کو جھٹلایا تھا اپنی سوچ پر خود کو قابض کیا تھا نا کے دوسرے کی سوچ پر خود قابض ہوا تھا میری مثال واقعی وہی ہے ” عقل کا اندھا “ اب جب خود کی عقل سے کل رابیل کا اصلی چہرہ دیکھا تو وہ مجھے خوبصورت نہیں خاص لگا۔۔ اور اس خاص میں وہ مجھے الگ لگی اچھی لگی اور اسکی بےعتنائی مجھے اسے سوچنے پر مجبور کرتی اور نا ہوتے ہوئے بھی آج وہ میرے ذہن پر اپنی سوچوں سمیت قابض ہوگئی جیسے کل اسنے مجھے قابو کیا۔۔۔
میں عقل کا اندھا دوسروں کے نظریہ سے دیکھتا رہا اور ایک رابیل ہے کیسے اسنے منہ پر منع کردیا کیوں کے اسے وہ سوچ اچھی لگتی ہے اور وہ اس اچھے میں برائی کا عکس ڈالنا تک نہیں چاہتی اپنے اسی نظریہ میں خوش ہے۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Jaan e Jaana Novel by Asra khan – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: