Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Episode 6

0
جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ – قسط نمبر 6

–**–**–

” قسم سے یار مجھے معلوم نہیں تھا “ صائم جس نے ابھی میری پیٹھ پر جھانپڑ رسید کیا معصوم شکل بنا کر میرے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
” یہ آگے کے دو بٹن ناگ کی طرح ڈسنے کے لئے ہیں؟؟؟ جاہل آدمی پچاس ہزار کا فون تھا “ میں نے ٹب میں سے اپنا فون نکالا اور شرٹ سے بُری تک رگڑا ساتھ خونخوار نظروں سے اپنے بھائی کو نواز۔۔۔۔
” میں کل ہی ریپیر کرا دوں گا ویسے شکل تو نہیں پچاس ہزار والی ڈاکا ڈالا ہے کیا؟؟ “ صائم نے شاید میرا موڈ بدلنے کو کہا لیکن میرا غصّہ عروج پر تھا۔۔۔
” ڈالا بھی تو انشااللہ پہلا گھر تیرا ہوگا ابھی کے ابھی ٹھیک کرا کے دو “ میں نے فون اون نا ہونے پر غصّے میں اسکے طرف اُچھالا جسے صائم نے فوراً سے کیچ کرلیا۔۔
” بھائی بولا نا کل۔۔ آج تو ثمن بھی گھر میں نہیں میں اکیلے بور ہو رہا ہوں تم آجاؤ آج میرے روم میں ہی سوجاؤ “ صائم نے معصومیت سے فون جیب میں رکھا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے منت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔
” سیدھا بولو نا فراڈ آدمی بیوی کے جانے کی خوشی میں ہارر موی دیکھ کر ڈر گے ہو اب کوئی بکرا ڈھونڈ رہے ہو جسکی موجودگی میں رات کٹ جائے۔۔ ویسے بھی میں نہیں آونگا میری بیوی تھوڑی ڈرپوک ہے میرے بغیر نیند نہیں آتی اسے “ میں نے اسکا ہاتھ جھٹک کر غصّے سے کہا آخر میں میرے انداز میں فخر تھا۔۔۔
” میرے پاس ھل ہے نا “ صائم تو بس پیچھے پڑ چکا تھا میں جانتا ہوں وہ ڈرا ہوا ہے ہر حال میں مجھے ساتھ لیکر جائے گا لیکن میں کسی طور اس کمرے میں نہیں جاؤنگا جہاں سے رخصت کر کے مجھے اوپر بھیجا ہے۔
” ہیلو رابی “ ہائے گھٹیا آدمی مجھے لگا کسی کزن کو فون کر کے بلائے گا کے آج رات پارٹی کرتے ہیں لیکن یہ تو رابیل کی دوسری بہن نکلا۔۔۔
” ہیلو “ نیند میں ڈوبی آواز میرے کانوں سے دھواں اڑا گئی معصوم، میسنی، چالاک لومڑی سو رہی ہیں پیج پر کیا اسکی روح بیٹھی پھیرے لگا رہی میں دانت پیس کر رہ گیا یہ لڑکی میرے ہاتھوں کسی کا قتل کروائے گی۔۔
” سوری سو رہی تھیں وہ مجھے کہنا تھا آج آبنوس میرے روم میں سوئے گا تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہوگی “ صائم کے سوال کے جواب کا انتظار اُس سے زیادہ مجھے تھا۔۔۔
” بلکل نہیں “ میری رگوں میں دوڑتا خون اُبل پڑا اچھی خاصی عزت کردی اس میسنی نے۔۔۔
” تھنکس “ صائم کا تو خوشی سے چہرہ روشن ہوگیا بتیسی تک باہر نکل آئی میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔۔۔
” نہیں بھائی تھنک یو اینڈ فی امان اللہ‎ “
رابیل کا تو جیسے بس نہیں چل رہا تھا ابھی خوشی سے ناچنا شروع کردے میں غصّے سے بھناتا کمرے میں آگیا رابیل کے نہیں اپنے اسی کمرے میں جہاں سے رخصتی ہوئی تھی اور پہلی ہی فرصت میں صائم کو دھمکی دے کر فون چھینا اور وہ آئی ڈی کھولی۔۔۔۔
” یہ پک بھیجنی تھی؟؟ نا اس میں کالی لڑکی ہے نا سانولی اور یہ میں نے ڈرا نہیں کی اتنی اچھی آرٹسٹ نہیں “ وہ نا چونکی تھی نا غصّہ کیا تھا بلکل نارمل انداز میں رپلائے دیا۔۔۔
” غلطی سے دوستوں کی تصویر آگئی میں وہ براؤن شرٹ والا ہوں “ میں نے تصویر بھیجنے کی وجہ بتائی ساتھ صاف مکر گیا کے آبنوس ہوں جو گرین شرٹ میں تھا۔۔
” یہاں میں نے میرج بیرو کھولا ہے؟؟ جو رشتے کے لئے پکچر بھیجی ہے؟؟ اور ڈھٹائی سے حلیہ بتا رہے ہیں “
وہ الٹا بھرک اٹھی۔ جبکے میرا خراب موڈ پل بھر میں سہی ہوگیا یعنی چوہے بلی کا کھیل خود شروع کیا ہے، ڈرامہ بھی خود کیا، میں کروں تو غصّہ واہ بی بی واہ۔۔۔
” نہیں وہ غلطی سے آگئی اور گرین شرٹ والا میرا بسٹ فرنڈ ہے وہ کنوارا ہے “ میں نے تپانے کو خود کو کنوارہ بتایا جل جل کر راکھ ہو رہی ہوگی۔۔
” تو اسکے لئے پیج پر تصویر دیکر اعلان کروں بندہ کنوارہ ہے جسے شادی کرنی ہے رابطہ کرے اس سے “ میری توقع کے مطابق آگ کے شعلے برس رہے تھے۔۔
” نہیں ایسے ہی آپ کو بتا رہا ہوں ویسے آئیڈیا اچھا ہے “
میں نے ٹائپ کر کے سینڈ کیا۔۔
” کیوں بتا رہے ہو اس بندے کو دیکھ کر میری عقل میں اضافہ ہوگا؟؟ میرے خیال سے نقصان ہی نقصان ہوگا “
” کیوں؟؟ “ اسکی بات سن کر سلگ ہی تو اٹھا تھا۔ ابرو اچکا کر میسج کیا اور ٹی وی پر نظری گاڑھ دیں جہاں صائم نے ہارر موی چلائی تھی۔۔ تبھی کچھ منٹوں میں مسنجر ٹون بجی میں نے بےتابی سے میسج کھولا۔۔۔
” اول درجے کا ڈرپوک۔۔ تصویر کو دیکھو سارے دوست پہاڑ پر بلا خوف و جھجک کھڑے ہیں ہاتھ اوپر کر کے ایک یہ صاحبزادے پیچر اچھی ہو پرسنیلٹی بھی خراب نا ہو اس لئے ایک ہاتھ اوپر کیا ہے دوسرا ڈر سے اوپر کر کے اپنی ایک شہادت کی انگلی سے دوست کی انگلی پکڑی ہے یہاں تک کے اپنا پیر بھی اسکے پیر کے پیچھے پھنسایا ہے وہی مثال ہم ڈوبے تو صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گئے۔۔۔ “ میں نے تصویر کو غور سے دیکھا جس میں سن گلاسز لگاے میں ہنستے ہوے پوز مار رہا تھا ساتھ ڈر کی وجہ سے دوست کی انگلی پکڑ رکھی تھی وہ تینوں مجھے بھی پہاڑ پر زبردستی گھسیٹ کر لے گئے تھے میں نے تو صاف انکار کیا تھا بھائی زندگی روز تھوڑی ملتی ہے نا میں پاگل ہوں جو ایسے جنونی شوق پالتا ہوں زندگی عزیز ہے مجھے لیکن انہیں پکچر نکال کر روعب جو جمانا تھا مجھے ساتھ لے گئے میں نے ڈر کے مارے پوز بھی مارا تصویر بھی بنائی لیکن یہ کسی نے خاص نوٹ نہیں کیا لیکن یہ میسنی میں نے غصّے سے لاگ آئوٹ کیا اور صائم کے منہ پر موبائل مار کر لیٹ گیا اب کل آمنا سامنا ہوگا دیکھتا ہوں بھیگی بلی میرے آگے کیسے شیر بن کے رہتی ہے۔۔۔۔
☆………….☆………….☆
میں نے ہنستے ہوے فون رکھا۔ میں رابیل ہاں وہی جسے دنیا ” سائیکو “ کہتی ہے لیکن اس میں دنیا کا بھی قصور نہیں مجھے ملے ہی زندگی میں ایسے لوگ جنہیں دیکھ کر میرا خون کُھولتا ہے اور انکا حشر میں اپنے ان ہاتھوں سے کرتی ہوں جن میں سے ایک میرا ” انٹیلیجنٹ شوہر + کتابی کیڑا آبنوس“ ہے جو ڈگریاں لیکر خود کو ساتویں آسمان پر بیٹھی کوئی انوکھی مخلوق سمجھتا ہے زمین پر تو میں اسے اسی وقت لے آتی جب تایا کے سامنے اسنے مجھ سے شادی سے انکار کیا تھا میں تو اسی وقت سامنے رکھی شیشے کی ٹیبل پر اسکا سر ماردیتی پر میری یہ حسرتیں کاش سسر سامنے نا ہوتے بس انکی وجہ سے ان ہاتھوں کو آرام دیا ورنہ کیا کہتے ابھی تشریف بھی نہیں لائی تو یہ کارنامے ہیں اگر آگئی تو پہلی فرست میں میرے بیٹے کی اوپر کی ٹکٹ کٹائے گی ویسے مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی انکار کی وجہ کیا تھی؟؟ میں نے تو آج تک خود کافی لڑکے ریجیکٹ کیں ہیں جو مجھے پیسوں کی مشین سمجھ کر گھر لے جانا چاہتے تھے پر یہ پہلا بندہ تھا جس نے مجھے ریجیکٹ کیا حیرت کا مقام تھا میرے لئے اب تو رخصتی ہو کر رہنی تھی میری بھی ضد بن چکی تھی لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے میرے جیل جانے کی بات سن کر گھبرا گیا ہو؟؟ یا سمجھتا ہو جن عاشق ہوا ہے اللہ‎ میری ہنسی نہیں رک رہی تھی واقعی کمال ہے ایک بات جو بس اتنی سی نکلی کے غصّہ کرتی ہے آگے جا کر آنٹیوں نے کیا بنا دیا ایک نے دوسری کو دوسری نے تیسری کو اور غصّے سے ہوتے ہوے یہ جن کا سایہ بن گیا سلام ہے ویسے۔۔۔
تو میں ہوں رابیل اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی۔ میرے بابا سانس بھی مجھے دیکھ کر لیتے تھے انکے لب ہر وقت بس شکر کرتے تھے کے میں پری میچور ڈیلیوری سے ہوئی تین ماہ انکیوبیٹر میں رہ کر آخر کار زندگی کی طرف آئی لیکن کہتے ہیں نہ آزمائشوں کا دور ختم نہیں ہوتا میرا بھی نہیں ہوا۔میں مما بابا کی لاڈلی سارا دن انکی گود میں رہتی بہت مشکل سے مما مجھے سلاتی تھیں پھر بابا دبے پاؤں سارے کام کرتے کے کہیں اٹھ نہ جاؤں مما کو بھی یہی تلقین کرتے کیوں کے میں ان کے لئے پل پل مشکل پیدا کرتی بچپن سے ہی سوتی بھی تب جب بابا کمرے کے سو چکر لگا کر مجھے جھلاتے نہیں دودھ بھی اپنے پسندیدہ فیڈر میں پیتی تھی یہ بابا نے مجھے بتایا تھا بچپن سے وہ کہتے تھے میں ہر چیز کو اوبزرو بہت کرتی ہوں جب فیڈر ٹوٹ گیا میں نے پورا دن دودھ نہ پیا جب تک کے بابا سیم کلر کا فیڈر نا لے آئے۔۔ میں دن با دن انکے لئے مشکلات بڑھاتی جاتی جس کا اندازہ مجھے خود نہیں تھا اور پھر ایک حادثے نے مجھے بدل کے رکھ دیا میں غصّہ تو پہلے بھی بہت کرتی تھی لیکن اس محرومی کے بعد میں چڑچڑی سی ہوگئی دوستوں کی آوازیں انکا مذاق اڑانا ہنسنا مجھے پاگل کر دیتا میں باقاعدہ دانت پیستے دونوں ہاتھ کا مکا بنا کر چلاتی ہماری پڑوس کی آنٹی یہ تک کہتیں کے مجھ پر جن کا سایہ ہے اور اپنی بچوں کو باقاعدہ سورت الناس یاد کروا کر کہتیں پڑھا کرو میرا رویہ میرا لہجہ ان لوگوں کی وجہ سے بدلا اور بابا کہتیے ہیں اپنوں کی دوری کی وجہ سے کیوں کے بابا کے بقول ہماری اماں کی ایک چپل تھی اور سارے نخرے پل بھر میں غائب انکے پاس ہوتیں تو ایک ماہ میں سدھر جاتیں اور میں انکی بات سن کر منہ بسورکہ رہ جاتی۔۔۔
تین سال کی تھی میں جب بابا اور مما مجھے نانی کے ہاں چھوڑ گئے میں بہت روئی باقاعدہ چیختی چلاتی رہی لیکن انکا جانا ضروری تھا میرے چچا کی شادی تھی اور چاچا نے بابا سے کہا تھا یہی ایک موقع ہے جب تم آکر ابا کو منا سکتے ہو آج کل وہ بہت خوش ہیں بس تب سے بابا کے پاؤں زمین پر نہ ٹک رہے تھے لیکن وہ مجھے ساتھ نہیں لیکر گئے سردیوں کا موسم تھا اور ان دنوں میں بخار میں پھنک رہی تھی بابا کو ڈر تھا کہیں ٹھنڈے سفر کے دوران بخار نہ بڑھ جائے وہ جلد ہی ایک ہی دن میں آجائیں گئے انھیں یقین تھا تبھی مما کو ساتھ لیکر چلے گئے میں جب نیند سے بیدار ہوئی پورے گھر میں مما مما بابا کی رٹ لگائے رکھی انھیں ڈھونڈتی رہی لیکن وہ نہ ملے میں روتے ہوئے چیختی رہی لیکن گھر کے کسی کونے سے انکی خوشبو تک محسوس نہ کر سکی نانی مجھے سنمبھالتے سنمبھالتے ہلکان ہوگئیں لیکن میرے آنسوؤں میری چیخیں نہ رُکیں۔ صرف وہ دن نہ تھا ایک ہفتہ پورا ایک ہفتہ میں دیوانوں کی طرح مما بابا کو گھر میں ڈھونڈتی رہتی اور وہ وہاں پھسنے میری فکر میں ہلکان ہوتے رہے ملک کے حالت خراب ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند تھا وہ دونوں گھر سے دور ہوٹل میں رہ رہے تھے نہ دادا مانے تھے نہ دادی اسلئے وہ دونوں مایوس لوٹ آئے اور پھر ایک ہفتے بعد جب انھیں بس کی ٹکٹ ملی وہ دونوں دوڑے چلے آئے اس دوران
امی مجھے بتاتی تھیں کے میں انکی خوشبو تک کسی کو محسوس کرنے نہ دیتی ایک دن میرے مامو میری امی کے جھولے جو گارڈن میں ٹنگا ہوا تھا اس پر بیٹھے تو میں نے روتے ہوے انھیں اٹھنے کا کہا۔۔۔
” لے میلی مما تا ہے اوتھو۔۔۔۔۔ “ امی مجھے روتے ہوئے بتاتی ہیں کے انھیں ذرا بھی علم ہوتا یہ سب ہوگا وہ کبھی نہ جاتیں اس دوران وہ جب فون پر بات کرتے میں انکی آواز سن کر اور روتی گزرتے دن رات میں میرا بخار مزید بڑھتا گیا اور وہ ایک دن جب دونوں بھاگتے ہوے آئے اور مما نے مجھے اپنی آغوش میں لیا تو منٹوں میں میرا بخار اُتر گیا لیکن میری زبان مجھے دغا دے گئی۔۔۔
” م۔۔۔۔ م۔۔۔مما۔۔۔۔ “
” رابی۔۔۔ ہاں۔۔ مما “ انعم نے دیوانہ وار رابی کو چومتے کہا۔۔
” م۔۔۔ م۔۔ما۔۔ “ لفظ اٹک اٹک کے ادا ہو رہے تھے۔ انعم جو روتے ہوے اسے پیار کر رہی تھی رابی کو اس طرح خود سے لڑتے دیکھ پریشان ہو اٹھی کیوں کے وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن بول نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
” سکندر یہ ایسے کیوں بول رہی ہے۔۔۔ “ خوف سے پوری آنکھیں کھولے انعم نے سکندر سے پوچھا۔۔۔
” لاؤ مجھے دو تمہیں تنگ کر رہی ہے “ سکندر نے اسکے سرخ گال چومے۔۔
” رابی “ محبت سے سر پر ہاتھ پھیرا رابی بس منہ کھولے بولنے کی کوشش کرتی۔۔
” با۔۔۔۔با “ ٹوٹ کے لفظ ادا ہو رہے تھے۔۔۔
اگلے ہی پل بابا کو کچھ کھٹکا وہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے آئے جنہوں نے سکین کے بعد بتایا کے میرے دماغ کی ایک نس دب چکی ہے جسکی وجہ سے میری زبان میں یہ ہکلاہٹ ہے۔۔۔۔
” مسٹر سکندر کچھ ڈیفکٹز بائے برتھ ہوتے ہیں کچھ کسی ٹروما یا انجیری کی وجہ سے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے آپ کی بیٹی کے کیس میں النیس + ٹروما ہے جیسا کے آپ نے کہا آپ کی بیٹی آپ کو گھر میں نہ پا کر روتی،چیختی،ڈرتی اور اسی وجہ سے اُسکا بخار مزید بڑھتا گیا نتیجہً ڈیفیکٹ کی صورت میں آیا آپ کی بیٹی کی دماغ کی ایک نس دب گئی ہے اب صرف فیزرکل ایکسیزائز اور دوائیں ہی اسکا علاج ہیں “
ڈاکٹر نے تو اپنے پیشے وارانہ انداز میں کہہ دیا لیکن جن کے سروں پر بم پھوڑا وہ کافی عرصہ اس ٹروما سے نا نکل پائے امی نے بتایا تھا وہ پہلا دن تھا شادی کے بعد جب انہوں نے بابا کو روتے ہوے دیکھا بےبس ہوتے دیکھا ایک ہی پل میں جیسے برسوں کی محنت گنوا بیٹھے کیسا لگتا ہے جب ہنستا کھیلتا بچا بلکل نارمل چائلڈ اچانک سے کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا یا نعمت سے محروم ہوجائے؟؟ میرے ساتھ بھی یہی ہوا میں پہلے ہی پری میچور ڈیلیوری کی وجہ سے بہت اگریسو تھی اور یہ ہکلاہٹ اسنے جیسے کھلے عام مجھے چھوٹ دے دی۔۔۔
اس حادثے کے بعد بابا بہت چُپ رہنے لگے گھنٹوں مجھے دیکھتے جیسے میرا دماغ کھول کر اس دبی نس کو ٹھیک کردیں گئے مما انھیں بار بار دیکھتیں جنکی تڑپ چیخ چیخ کر کہتی کوئی مجھے میری رابی لادو اسی دوران مما نے میرا ایڈمشن اسکول میں کرایا پہلے تو سب ٹھیک رہا لیکن آہستہ آہستہ میرا غصّہ ساتویں آسمان کو پہنچا جب میری ہی دوست نے میری نقل اتاری ۔۔۔
” لابی تم کیا لائی ہو لنت میں؟؟ “
(رابی تم کیا لائی ہو لنچ میں؟؟) ثنا نے چیونگم چباتی رابی سے پوچھا اس سے پہلے رابی جواب دیتی یشفین بول پڑی۔۔۔
” م۔۔۔م۔۔مما۔۔۔ن۔۔۔ن۔۔۔نے۔۔۔شین۔۔۔۔۔شینڈوچ۔۔۔۔د۔۔۔دیا۔۔۔ ایشے بولے گی “ یشفین کہتے ہی کھکھلا کر ہنس پڑی۔
رابی نے دانت پیستے مٹھی بھنچی اور کس کے ایک زور دار تھپڑ یشفین کے منہ پر لگایا۔۔۔
” م۔۔۔می۔۔۔۔میلی۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔نق۔۔۔۔۔نقل۔۔۔۔۔ک۔۔کلتی “ رابی نے منہ میں چباتا چیونگم یشفین کے بالوں پر لگایا اور کَس کے ایک اور تھپڑ لگایا اور منہ بسورتی تن فن کرتی اپنی سیٹ پر جا بیٹھی یشفین وہیں بیٹھی سسکیوں ہچکیوں سے رودی ثنا ہقا بقا رابی کی کاروائی دیکھتی رہی پھر یشفین کی مدد کی جو روتے ہوے بالوں سے چیونگم نکال رہی تھی۔۔
” تم نے یشفین کو مارا؟؟؟ اوپر سے اسکے بال بھی خراب کردیے اس طرح کا بیہیویر ہے تمہارا کلاس میں؟؟؟ “ ٹیچر کو جیسے ہی رابی کی کاروائی کا پتا لگا انہوں نے کلاس کے سامنے اسے سنایا اور وہیں ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر لگایا۔۔۔
” ام۔۔۔امی۔۔ت۔۔۔۔تحتی۔۔۔د۔۔دو۔۔۔ما۔۔۔۔ماشوم۔۔۔پ۔۔۔پر۔۔ظ۔۔ظلم۔۔۔ترتا۔۔۔اسے۔۔۔۔۔ک۔۔کتا۔۔۔ک۔۔کاٹتا۔۔ “
(امی کہتیں جو معصوم پر ظلم کرتا اسے کتا کاٹتا )
رابی نے گال پر ہاتھ رکھے ٹیچر کو آنکھیں دیکھائیں جس نے سارا الزام بس اسی پر لگا دیا جب کے ٹیچر جسے یہ سانوالی لڑکی ہکلاہٹ اور سانولے پن کی وجہ سے ایک آنکھ نا بھاتی خون خوار نظروں سے گھورنے لگیں۔…
ٹیچر نے پھر تو مجھے کچھ نا کہا لیکن بابا کو فون کر کے سب بتا دیا بابا نے مجھ سے پوچھا بھی یہ کتا لفظ کہاں سے سیکھا میں نے صاف بتا دیا صارم سے سیکھا جو میرا خالہ زاد تھا۔ بچپن سے مجھ میں ایک بُری عادت تھی جھوٹ بولنے کی جھوٹ ایسے میری زبان سے نکلتا جیسے منہ میں نوالہ چبانا ہو ٹیچر کو بھی میں نے ملا جھلا کر جھوٹ ہی بولا تھا لیکن ” کتا “ لفظ مجھے صارم نے ہی سکھایا تھا جو میرا خالا زاد ہونے کے ساتھ رضائی بھائی بھی ہے صارم کی پیدائش کے وقت خالا کو کافی پیچدگیاں آئیں خالا کے ہوسپیٹیلائز عرصے میں امی نے ہی صارم کو سمبھال اسے پالا اسکا خیال رکھا۔۔ خالا کو ریکور ہونے میں کافی ٹائم لگا لیکن پھر انکی کوئی اولاد نا ہو سکی اور اس طرح میری امی اور خالا کی بہن سے زیادہ اب اور بڑھنے لگی اور آنا جانا ہونے لگا خالا مجھے اپنی بیٹی مانتیں تھیں اور امی صارم کو دیکھ کر بیٹے کی حسرت پوری کرتیں لیکن ہے بھی تو آخر بیٹا ہی۔ صارم نے ہی ایک دن کسی کو یہ گالی دی تھی اور میرے حفظ کرنے کی عادت میں نے حفظ کیا اور ٹیچر کو بولا۔ پھر ٹیچر کی خون خوار نظریں مجھ پر جمی رہتیں اور ایک دن انہوں نے مجھے جس ذلت سے نوازا میں آج تک نہیں بھولی کیوں کے میں نے خود کو بھلانے ہی نہیں دیا لوگوں کے دیے زخم میں نے تازہ رکھے ہیں ایک ایک زخم تازہ رکھا ہے جسکا حساب یہاں نہیں تو وہاں تو ہوگا۔۔
لاسٹ پپر تھا میرا میں مزے سے اپنا پیپر کر رہی تھی کے یشفین نے پیچھے سے ایک چٹ میرے پاس پھینکی میں تھی تو بچی ایک بیوقوف بچی جسکا آج تک مجھے افسوس ہوتا میں نے جیسے ہی چٹ کھولی اپنے سر پر ایک وجود کھڑا محسوس کیا جس نے ہاتھ سے چٹ لیکر پےدر پے تھپڑ میرے منہ پر مارے میں اس وقت جان نا پائی کے کچھ لوگوں کو رنگ عزیز ہوتے کونفیڈنٹ خوبصورت بچے عزیز ہوتے جس کا وہ منہ چومتی رہتیں اور میں نا خوبصورت تھی نا زہین کے مجھے سراہا جاتا میں تو معمولی تھی عام سے بھی عام اور اس عام شکل و صورت اور زہین نا ہونے کی وجہ سے میں ہار گئی پوری کلاس کے سامنے ہوئی بےعزتی سے پاگل ہوگئی جب جرم۔ کیا قبول بھی کیا تھا لیکن جب جرم کیا ہی نہیں اسے کیسے قبول کرتی؟؟ چیختے چلاتے میں نے کہا میں نے نہیں کیا لیکن وہ میرا ساتھ دیتی کیوں انہوں نے تو تب بھی یشفین سے کچھ نا کہا جب اسنے میری نقل اتاری میں اس دن پیپر چھوڑ کے کلاس کے باہر کھڑی رہی مجھے پر ویسا ہی غصّہ ویسا ہی جنون سوار ہوگیا دانت پیستے میں چھٹی تک ایسے ہی کھڑی رہی ٹیچر نے بلایا بھی اندر آؤ میں نہیں گئی میرا ہاتھ پکڑ کے گھسیٹنا چاہا میں وہیں کھڑی رہی کسی برف کی مانند جمی رہی چھٹی ٹائم جب بابا مجھے لینے آئے تو میں اتنا روئی کے آس پاس بچوں کے ساتھ جاتے پرنٹس بھی مجھے دیکھنے لگے مجھے پتا نہیں تھا میرے رونے کی وجہ سے یہ ہکلاہٹ اور تماشا بنائے گی میں اپنے بابا سے ایک لفظ تک نا کہہ پائی بس روتی چلی گی بابا نے پریشان ہوکر ٹیچر سے پوچھا تو انہوں نے جھٹ سے کہ دیا چیٹنگ کرتے پکڑی گئی ہے آپ کی بیٹی۔۔ میں جو بابا کے کندھے پر سر رکھے رو رہی تھی بابا کو دیکھنے لگی۔ جو چیٹنگ کا سن کر عجیب انداز میں مسکرائے میں آج تک وہ مسکراہٹ نہیں بھولی نا وہ الفاظ۔۔۔
” یہ میرا کوہِ نور کا ہیرا ہے نا جس ماحول میں جاتا میں اس جگہ ان لوگوں ان ہوائوں تک کو حفظ کر لیتا ہوں آپ کی دوستی اچھی طرح جانتا ہوں جن شخصیت سے ہے آخر وہ دوست ماں بھی تو ہے بیٹی کے منہ پر پڑھنے والا نا تھپڑ بھولی ہوگی نا اسکے بال جو کاٹنے پڑے غلطی کی شروعات وہاں سے ہوئی تھی میری بیٹی میری بیوی تک نے معافی مانگ لی پھر ایسا گھٹیا الزام؟؟؟ خیر وقت آنا سب کا آتا میری بیٹی کا بھی آئے گا اور رہی چیٹنگ کی بات میری یہ بیٹی میری جان ہے روز اپنی ماں سے قرآن کا ترجمہ سنتی ہے چیٹنگ تو دور کی بات یہ بلاوجہ کسی کو مخاطب تک نہیں کرتی اور آپ میں ذرا سی عقل ہوتی اگر پرچی دیکھی ہے تو لکھائی بھی دیکھتیں۔۔۔ “
بابا کے الفاظوں سے جہاں ٹیچر کا منہ دھواں دھواں ہوا وہیں میں پر سکون رہی لیکن گھر آکر بابا کافی دیر پریشان رہے پریشانی کی وجہ الزام نہیں میری حالت تھی جو میں بغیر کھائے پیے بس روتی رہی مجھے ہر گناہ قبول ہے لیکن وہ نہیں جو میں نے نہیں کیا پورے گھر میں میں نے چیزیں یہاں وہاں پھنکنا شروع کی مجھے یہ الزام قبول نہیں تھا بلکل بھی نہیں۔ بابا نے میری حالت دیکھ کر سب سے پہلے خود کو سمبھالا ایک تعلیم اور تربیت ہی ہے جو جاہل اور گنوار میں فرق سمجھاتی بابا نے یہی کیا میری یہ ہکلاہٹ ختم کرنے کے لئے میرے ساتھ بھر پور محنت کی۔۔
وہ رات میں اگر بھولی نہیں تو بابا نے بھی مجھے بھولنے نہیں دی نجانے رات کے کس پہر میں اٹھی سوئی تو تھی نہیں بس روتے روتے آنکھ لگ گئی تھی لیکن جب ذہن بیدار ہوا تو بیگ سے ڈرائنگ کاپی نکال کر اس پر ڈرئینگ کرنے لگی اُس وقت میری آنکھیں جنونی انداز میں بس اس ڈرائینگ پر اٹکی تھیں مجھے علم نا ہوا نجانے کب سے بابا وہاں بیٹھے مجھے غور سے دیکھ رہے تھے یا میری ڈرائینگ ختم ہونے کے انتظار میں تھے اور جیسے ہی میں نے میری کلر پنسل ٹیبل پر رکھی بابا تیر کی تیزی سے میرے پاس آئے اور ڈرائینگ دیکھی۔۔
میں نے اسی ٹیچر کو ڈرا کیا تھا اور ساتھ یشفین کو بھی لیکن انکے ہاتھ کاٹے اس طرح کے دونوں منہ کھولے رو رہیں تھیں اور انکے ہاتھ زمین پر پڑھے تھے اور بازوں سے خون بہ رہا تھا میں اس وقت تقریبآ ساڑے پانچ سال کی تھی ڈرائینگ ہمیں بچپن سے سیکھاتے تھے اور میرا خاص انٹرسٹ بھی اسی میں تھا لیکن اس وقت بچکانہ ڈرائینگ کی تھی آنسوؤں زمین تک بلو کلر سے بنائے تھے اور چہرے بھی جیسے بنے لیکن بابا کو اس ڈرائنگ کا مقصد سمجھ نہیں آیا۔۔۔
” یہ انکے ہاتھ کیوں کاٹے؟؟ “ سکندر کو پوری ڈرائنگ سمجھ آئی تھی مسلہ بس وہیں تھا مقصد۔۔۔
” ی۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ تو۔۔۔تول۔۔۔ہے “
” یہ چور ہے “
سکندر کو بھی یہ ہکلاہٹ اتنی نہیں چُبی جتنی آج چُبی ہے۔۔
” لیکن انہوں نے کوئی چوری نہیں کی “
” ت۔۔تی۔۔۔ہ۔۔۔ہے۔۔۔۔آ۔۔۔آپ۔۔۔تی۔۔۔اول۔۔۔۔می۔۔۔میلی۔۔۔
ن۔۔نیند “
(کی ہے آپ کی اور میری نیند )
سکندر سمجھ چکا تھا یہ اسکی ” زبان “ نہیں۔۔
” یہ کس نے کہا تم سے “ سکندر نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا
” ا۔۔۔ام۔ ۔امی۔۔۔۔نے “
” چوری میں ہاتھ کاٹے جاتے ہیں یہ بھی امی نے بتایا ؟ “
رابی کے سر ہاں میں ہلانے پر سکندر نے ایک گہرا سانس لیا ان سب میں واقعی دونوں باپ بیٹی نیند بھوک سب بھلا چکے تھے اور اگلے ہی دن سب معمول سے ہٹ کر ہوا۔۔۔
M….My….tu……un….tuntry….. Name… is P….Pa……tis…..tish……patishtan
رابی بک پر انگلی رکھے پڑھ رہی تھی جبکے سکندر اسے ایک ہی چیز بار بار ریپیٹ کرا رہا تھا
Again….
سکندر کے کہنے پر رابی نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا
M….My….tu……un….tuntry….. Name… is P….Pa……tis…..tish……patishtan
Again….
رابی نے عمل کرکے دوبارہ اسٹارٹ کیا
M….My….tu……un….tuntry….. Name… is P….Pa……tis…..tish……patishtan
Again…..
M….My….tu……un….tuntry….. Name… is P….Pa……tis…..tish……patishtan
No again…..
M….My….tu……un….tuntry….. Name… is P….Pa……tis…..tish……patishtan
مسلسل کوشش کے بعد بھی جب وہ ویسی ہی اٹکتی رہی تب سکندر نے اسے اٹھا کر ٹیبل پر بٹھایا اور خود زمین پر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
” رابی میری جان سوچ کے بولو اسے دماغ میں بٹھاؤ کے یہ الفاظ مجھے بولنے ہیں پھر تم نہیں اٹکو گی دیکھو یہ سب دماغ کا کھیل ہے انسان برباد آباد اپنی اس عقل کی وجہ سے ہوتا ہے اب سوچنا پھر بولنا اوکے؟؟؟ اب کے میری گڑیا نہیں اٹکے گی ہے نا؟؟؟ “
سکندر نے پر امید نظروں سے اسے گھورتے کہا رابی نے ایک بار پھر بولنے کی کوشش کی۔۔
M….My….tu……un….tuntry….. Name… is P….Pa……tis…..tish……patishtan
ایک بار پھر وہ اٹک اٹک کے بولتی رہی لیکن ہار نہیں مانی ان الفاظوں کو غور سے دیکھتے وہ انہیں حفظ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
My tuntry Name is Patishtaan….
بہت غور سے دیکھتے سکندر کی دھڑکنیں یکدم رک گئیں اور رابی کے بولتے ہی سکندر نے بےختیار رابی کو اٹھا کر گھوما ڈالا۔
اسکے بعد دعائیں تعویز ہر حربہ آزمایا۔امی روز رات کو سورتیں دعائیں پڑھا کے سلاتیں اور بابا ڈیلی پریکٹس کراتے ساتھ ایک ایک چیز سمجھاتے پھر اچھی طرح اسکا رٹا لگواتے تاکہ وائیوا میں ایک لمحے کے لئے بھی میں نا اٹکوں اور یہی محنت تھی وہ دن بھی آگیا جو میری جیت کا دن تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: