Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Episode 9

0
جستجو تھی خاص کی از یسرا شاہ – قسط نمبر 9

–**–**–

” رابی پھپھو کو چھوڑ آؤ۔۔ “
میں جو رات کو دیر سے اسکیچ بنا کر سوئی تھی امی کے پکارنے پر بُرا سا منہ بنا کر رہ گئی۔۔۔
” امی کسی اور کو بولیں نا گھر کے مشٹندوں کو چھوڑ کر آپ کو میں کمزور سی لڑکی ہی ملی تھی؟؟؟۔ “ امی سے چادر چھینتے میں نے کہا جنہوں نے آتے ساتھ چادر ہٹا کر اسے تہہ کرنا شروع کردیا۔۔۔
” تم خود کو لڑکی سمجھتی ہی کہاں ہو؟؟ سارے کام لڑکوں والے ہیں تمہیں دیکھ کر کبھی بیٹے کی دعا ہی نہیں کی ایک ہی کافی ہے ورنہ وہ ہوتا تو تم سے بھی دس گُنا آگے ہوتا اور ایک تو تم باپ بیٹی میرے سامنے ساری باتیں ایسے کورڈ ورڈز میں کرتے ہو جیسے سب سے بڑی دشمن تمہاری میں ہی ہوں “ امی نے میرے ہاتھ پر تھپڑ مارتے ان اسکیچز کو دیکھتے کہا جنہیں میں نے بیڈ کے نیچے رکھا تھا اوپر تو کوئی آتا نہیں تھا اسلئے میں نے رات کو وہیں رکھ دئے۔۔۔
” اچھا جا رہی ہوں “ میں نے اتنی تفصیل کے بعد مزید بحث سے بچنے کے لئے اٹھنا مناسب سمجھا امی نے مجھے لونگ شرٹ اور جینس نکال کے دی ساتھ بڑا سا دوپٹا جسے لاپروائی سے کندھے پر ڈال کر میں نیچے چلی آئی۔۔۔
” السلام عليكم دادو “ میں نے ایک لمبی سی انگرائی لیکر دادو سے کہا جنہوں نے میری حرکت پر مسکراتے ہوے میرا ماتھا چوما جبکے امی نے مجھے سخت گھوری سے نوازا کیوں کے میری ساس صاحبہ بھی وہیں بیٹھیں تھیں۔۔ پھر گھر کی خواتین کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر میں اور پھپھو انکے گھر کی طرف چل دیے۔ پھپھو سے کبھی میری زیادہ بات چیت نہیں ہوئی وجہ یہی ہے کے انہوں نے کبھی پہل ہی نا کی زیادہ تر وہ چپ ہی رہتیں میں بات کرتی تو کرتیں ورنہ نہیں۔۔۔
نارمل سپیڈ سے میں گاڑی چلا رہی تھی اس سخت گرمی میں اے سی تو جان ہے وہ چلا کر مزے سے میں ڈرائیونگ کر رہی تھی کے ایک گھٹیا انسان رونگ وے سے آکر اچانک میری گاڑی کے سامنے آگیا لیکن شکر تھا وہیں سے اسنے کار سیدھی طرف موڑ لی اور نکل گیا لیکن میرا خطرناک ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔ ابھی اس اچانک حادثے سے نا سنمبھلی تھے کے پولیس والے نے روک لیا۔۔۔۔
” دیکھ کر چلائو رابی ابھی تو بچوں کی شادی بھی نہیں کروائی اور تم اوپر بھیجنے کی تیاری کر رہی ہو “ اوپر سے پھپھو کا ایموشنل انداز واللہ۔۔۔۔
” بی بی روکو رونگ وے میں جا رہی ہو اوپر سے میرے روکنے پر رُکی بھی نہیں “ ٹریفک پولیس والا آکر میری کار کے آگے کھڑا ہوگیا اور جیسے ہی میں نے شیشہ نیچے کیا اسنے چلانے کے انداز میں کہتے میرے کان کے پردے پھاڑ ڈالے۔ میں نے اپنے کان کو مسلا اور اسی کے انداز میں منہ پھاڑ کے جواب دیا۔۔۔۔
” اندھے ہو یا عقل سے پیدل یہ تمہیں رونگ وے دیکھتا ہے رونگ وے سے وہ گیا وہ بھی سپیڈ ایسی کے ہائی وے پر سفر کر رہا ہو۔۔ اُسے پکڑو جاکر “ میں نے بھی اسکی عقل ٹھکانے لگائی لیکن وہ کہاں ماننے والا تھا؟؟؟ بحث پر اُتر آیا۔۔۔
” رابی چالان دے کر نکلو کب تک کھڑے رہیں گئے۔۔ “ ایک تو پھپھو کا اچانک بولنا سارا کام خراب کرگیا۔۔۔
” رشوت دے رہی ہو تم لوگ؟؟ ایک تو رونگ وے سے جاتے ہو اوپر سے رشوت “ اب کے وہ غصّے سے بھڑک اٹھا اسکی آواز سُن کر اسکا ساتھی بھی چلا آیا اور میں سر پکڑ کے بیٹھ گئی کیوں کے اسکا ساتھی وہی تھا جس سے پچھلے ہفتے ہی میری بحث ہوئی تھی اور اسی بحث میں اِسکی پٹائی بھی کروائی۔۔۔۔
معملا سارا یہی تھا کے اُس دن میرا موڈ صباء کی وجہ سے خراب تھا جو مجھے اپنے ایک سیمینار میں لے گئی جس میں فیوچر گولز کے بارے میں بتایا جا رہا تھا ساتھ ڈاکٹرز کی فیلڈ کا ڈیٹیل میں انٹروڈکشن۔ جب لیکچر ختم ہوا انہوں نے کہا کوئی مسلہ؟؟ تو میں نے ایک نارمل سا سادہ سا سوال پوچھا۔۔۔
” اینی کوسچن ؟؟ سر کے پوچھنے پر میں نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔ سر صباء کے پیتھولوجی کے پروفیسر تھے جنکو انائونسمنٹ کے لئے کھڑا کیا گیا تھا۔۔
” یس “ انہوں نے میرا ہاتھ کھڑا دیکھ کر بولنے کی اجازت دی۔۔۔
” سر میرا سوال ہے کے جب ہم کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ہارٹ پرابلم یا کڈنی وہ پوری ہمیں ٹیسٹ کی لسٹ دیتا ہے کے ٹیسٹ کروائو وہ سہی ہے پورا روٹین چیک اپ ہوجاتا ہے باڈی کا۔۔ لیکن کوئی نارمل ٹیمپریچر بھی ہو تو لمبی دوائوں کی لسٹ ہمارے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں یہی نہیں ایون ایک بچی تھی آئ تھنک تین سال کی اُسکے دانتوں میں انفیکشن ہوا تھا تو ڈاکٹر نے لمبی دوائوں کی لسٹ اُسکے پیرینٹس کو تھما دی لیکن اُسکی ماں سمجھدار تھی اور خود سرجن تھیں انہوں نے فوراً وہ لسٹ پھاڑ کے خود ایک ٹیوب کے تھرو ٹریٹمنٹ کیا تو میرا آپ سے یہی سوال ہے کے آگر ہر جگہ کریپشن ہوگئی پھر عام آدمی جائے گا کہاں؟؟ ڈاکٹر سے لیکر فارمیسٹ تک کی آپس میں بنی ہوئی۔۔ ایک چیک اپ کرکے دوسرے کے پاس بھیجتا ہے کے میں نے لوٹ لیا اب تمہاری باری،،، آئ ایم نوٹ سینگ سب!!! لیکن شروعات تو ہم سے ہوگی پھر کیوں سینیرز ہسپتال میں موجود ہوتے ہوے بھی کریپشن کو نہیں روکتے؟؟؟ “ میرے سوال پر وہ آدمی مسکرایا اور غور سے مجھے دیکھتے گلا کھنکار کر جواب دیا۔۔
” میں نے کریپشن نہیں کی۔۔ اینڈ اٹس ٹرو بٹ کوئی یقین نہیں کریگا۔۔“ وہ ہنسے پھر سنجیدہ لہجہ میں بولے۔۔۔
” بیٹا میں نے اپنے پچیس سال کے کریر میں ایسے ایماندار بھی دیکھیں ہیں جنہوں نے صرف ٹرانسفر کے دھکے کھاۓ ہیں اس دنیا میں بُرے سے بُرے لوگ بھی ملیں گئے اور سونے جیسا دل رکھنے والے بھی لیکن پہچاننا آپ کو خود ہے کوئلے ہیرے میں فرق کرنا آپ کو خود ہے برُے اچھے لوگوں کو خود پرکھو آج کل انٹرنیٹ ہے بکس ہیں ایون اینجنیرنگ اسٹوڈنٹس بھی میڈیکل کی ٹیبلیٹس آسانی سے دیکھ سکتے ہیں جب علم حاصل ہے تو کوئی شے تمہارے لئے مشکل نہیں خود بھی دماغ لگاؤ اور سوشل میڈیا کا دور ہے میں کہتا ہوں ایسے در در ٹرانسفر کروانے والوں کو بےنقاب کرنا چاہیے۔۔۔ آپکا سوال وہیں رہا بس ہم انسان ہیں ہاتھ پیر سلامت ہے ہر مشکل کام کر سکتے ہیں بس ماحول، حالت کو پرکھیں اور علم
رکھیں کیوں کے آپکے سوال میں آپکا جواب تھا بکس میں کہیں مینشن نہیں ہے کے تین سال کی بچی کا اس طرح ٹریمنٹ کریں “ میرے سوال کی لمبی تفصیل مجھے مطمئن نا کرسگی لیکن بہت کچھ سیکھنے کو ضرور ملا اس پر صباء مجھ پر بگڑ پڑی کے سارے فضول کام تمہیں میری ہی یونیورسٹی میں کرنے ہیں؟؟ کاش تمہارے ساتھ بیٹھتی ہی نہیں کچھ تو میرے سوال سے خوش تھے لیکن دو تین لوگ گھور کے بھی دیکھ رہے تھے۔ بس اُس دن موڈ ایسا خراب ہوا کے اس پولیس افسر سے الجھ پڑی پھر اسکا کار کے پپرز کے بہانے صباء کا ہاتھ پکڑنا مجھے غصّہ دلا گیا اور بس وہیں بھیڑ میں ہنگامہ کر کے دو بائیک والوں سے اُسکی دلائی کروا کر ہم بھاگ نکلے۔۔۔
” میڈم ذرا باہر نکلیے گا پچھلی دفع پپرز نہیں اس دفع رشوت؟؟؟ بہت اندر جائیں گی کم سے کم تین سال “
مجھے دیکھتے وہ دانتوں کی نمائش کر کے بولا چہرے پر ابھی بھی مار کا زخم موجود تھا جیسے دیکھ کر ایک خوشی ضرور ہوئی تھی۔۔
” پڑھے لکھے ہوتے تو آج ڈی ایس پی ہوتے قانون تو یاد نہیں انسپکٹر کس نے بنا دیا؟؟ “ میں نے کار کی سٹرنگ کو سختی سے پکڑ کے غصّہ قابو کر کے نہایت دھیمی سے بولا۔۔
” یہ ایسے نہیں مانیں گی تم بیٹھو انکی کار میں اور مجھے فولو کرو “ اسی انسپکٹر نے دوسرے سے کہا جس نے ہمیں روکا وہ تو خود بوکھلا گیا شاید ایماندار تھا اور اچھا بھی تبھی رشوت پر سبق سیکھانا چاہتا تھا لیکن وہ اسکا سینئر جو کہکر گیا تھا اُس آدمی نے اُسی کو فالو کیا میں نے غصّے سے اسے دو تین بار دھمکی دی لیکن اس پر اثر نا ہوا اور اب حال تھا آج چوتھی بار پولیس ٹیشن میں بیٹھی تھی۔۔۔
” تم کیا بیٹھی چپس کھا رہی ہو فون کرو سکندر کو “
میں گرین لیز سلائس جوس کے ساتھ کھا رہی تھی پھپھو مجھے اسی طرح پر سکون دیکھ کر دبے دبے لہجے میں دانت پیس کر چلائیں۔۔
” پھپھو اتنے سے مسلے کے لئے اب بابا کو فون کروں؟؟ یہ روز کا ہے میں تو آتی جاتی رہتی ہوں۔۔ ڈونٹ وری ایک جو ہمیں لایا نا ایک نمبر کا گھٹیا رشوت خور ہے دوسرا اچھا ہے اسلئے باہر بیٹھا کے رکھا ایک گھنٹے تک فارغ کر دیں گئے۔۔ “ میں نے چپس کھاتے آرام سے جواب دیا جبکے پھپھو کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کتنے ہی پل مجھے بےیقینی سے دیکھتی رہیں پھر ایسے دور ہوئیں جیسے کسی بچھو نے کاٹا ہو۔۔۔
” تم۔۔۔۔ی۔۔۔۔یہاں کب آئیں؟ “ لو میرے جراثیم انہیں ٹرانسفر ہوگے ایسے ہکلا رہیں جیسے کسی نے انکے سر میں چھپے سفید بال ڈھونڈ نکالے۔ ۔۔۔
” ایک دفع صارم کے ساتھ اور دوسری دفع بابا کے ساتھ دونوں کو آفس چھوڑ رہی تھی لیکن جیل میں آپہنچی۔“ میں تفصیل سناتے خود سوچنے لگی۔ ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے میں یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی اُس وقت میں کونسی کلاس میں تھی جب اُس پڑوسی کا سر پھاڑا اور اتنی چوٹ پر اُس موٹی آنٹی نے ہنگامہ کیا؟؟ اور ویسے بھی اصل بات تو بعد میں پتا چلی پولیس والا سارا بابا کا کام تھا جان بوجھ کر ڈر بیٹھا رہے تھے لیکن ڈرنا کیا مجھے تو بعد میں اچھا لگا کبھی پولیس ٹیشن کی سیر جو نہیں کی۔۔
” ہم ویسے جب فرسٹ ایر میں تھی تب بھی آئی تھی ہاں۔۔ تب بھی۔۔ “ میں نے یاد کر کے پھپھو کو دیکھتے کہا جنکی آنکھیں ابھی بھی پوری کی پوری کھلی تھیں۔۔
” پھپھو ڈرنا کیا کسی اور دنیا کی مخلوق تھوڑی ہیں انسان ہی ہیں یہ بھی اور جب دنیا میں آئیں ہیں تو ہر جگہ کی سیر کریں ہر نظارہ دیکھیں “ میں نے اپنا ہاتھ انکے ہاتھ پر رکھ کے تسلی دی لیکن وہ میرا ہاتھ جھٹک کر تیزی سے دور ہوئیں اور پولیس سٹیشن سے ہی بابا کو کال کی میں منع کرتی رہی لیکن وہ کان بند کیے کانپتے ہاتھوں سے نمبر ڈائل کرنے لگیں۔۔۔۔
بابا کے آتے ہی میں اپنی جگہ پر ویسے ہی خاموشی سے بیٹھی رہی چپس اور جوس کے ریپر بھی بیگ میں رکھے کے کہیں مجھے اس طرح دیکھ کر اور غصّہ نا کریں۔۔ بابا نے آتے ہی انسپکٹر کو اچھا خاصا سنایا جس نے پپرز ہونے کے باوجود اس طرح ہمیں رکھا باقاعدہ بابا نے انھیں دھمکی دی کے ڈی اس پی کو کمپلین کریں گئے لیکن اس آدمی نے کہا آپ کی بیٹی ہی بدتمیزی کر رہی تھی اور رشوت بھی اوفر کر رہی تھی جسے سن کر بابا نے انھیں ہی سخت گھوری سے نوازا اور مجھے خون خوار نظروں سے دیکھتے کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کو میری کار لانے کا کہا۔۔۔
” بابا وہ انسپکٹر ہے نا اس نے بہت تنگ کیا اسے ایک دو تھپڑ مار کر آئیں نا “ میں نے انکا موڈ ٹھیک کرنے کے غرض سے کہا لیکن انکے چہرے کے پتھریلے تااثرات دیکھ کر میری بولتی بند ہوگئی۔۔۔
” تمہیں سدھارنے کی میری ساری تدبیریں الٹی مجھ پر پڑتیں ہیں جیل کو تم نے اپنا سسرال سمجھا ہے جو منہ اٹھا کر ہر کسی سے الجھ کر پہنچ جاتیں؟؟ آج تمہارا بھائی یا باپ نہیں تھا تمہارے ساتھ۔۔ پھپھو تھیں تمہاری۔۔میں اور صارم منہ بند رکھ سکتے ہیں لیکن تمہارے سگے چچا،تایا،ماما ان میں سے کوئی نہیں اور کہیں چار دیواروں میں ہوئی بات بھی باہر نکل جاتی تو یہ کیا سب کو پتا نہیں لگنی تھی؟؟ “ آج بابا پھر اُسی دن کی طرح مجھ سے ناراض ہوگے اور انکی باتیں میرے دل کو تب لگیں جب واقعی ایسا ہوا اور مجھے اسکا ادراک بعد میں ہوا۔۔۔۔
” کیا ہوا اداس کیوں ہو؟؟ “ ماموں آج گاؤں سے خالا اور امی سے ملنے آئے تھے۔ بابا کے آفس جاتے ہی میں امی کو لیکر یہاں آگئی اب دونوں بہنیں کچن میں بھائی کی پسند کے کھانے بنا رہی ہیں جبکے ماموں اور خالو گارڈن میں چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔
” کچھ نہیں آج کا پیپر پڑھا؟؟ “ میرا موڈ سخت اوف تھا بےزاری سے جواب دے رہی تھی۔۔
” روز پڑھتا ہوں واٹس نیو؟؟ “ میرے ہاتھ سے ریموٹ لیکر صارم نے ڈسکوری چینل لگا دیا جو وہ اکثر دیکھتا ہے۔۔
” آج ایک امیر آدمی نے ایک معصوم بچے کا بےدردی سے قتل کیا وجہ آدمی شرابی تھا بچہ اسکا غلام شاید بچے سے ڈرنک آدمی کے کپڑوں پر گڑ گئی اور وہ اسے نشے میں مارتا رہا یہاں تک کے بےجان ہوگیا تب بھی“ میں نے مٹھی بھینچ لی وہ آدمی سامنے ہوتا تو قتل ہی کر دیتی۔۔
” تم نے جاب کا کیا سوچا “ صارم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا شاید اسنے بھی پڑھا تھا لیکن ڈسکس نہیں کرنا چاہتا۔۔
” کیا سوچنا ہے؟؟ الٹا دن گن رہی ہوں کب باس بدلہ لیں گئے “میں نے ناگواریت سے کہا جیسے باس لفظ سے بھی نفرت ہو۔۔۔
” ساری انفارمیشن تو کلیر کروا دی اُسے تو تمہارے گھر کا اڈریس تک نہیں پتا “ صارم نے نارمل انداز میں نظریں ٹی وی پر گاڑھتے کہا اور اسکی بات سن کر میرے ہونٹ خود با خود مسکرا اٹھے۔۔
” مجھے پتا تھا تم نے بھی اسے دھمکی دی ہے۔۔ میرا شک سہی نکلا میں نے تو تمہیں ڈیٹیل کچھ بھی نہیں بتایا “ میرے بات سن کر صارم سر کھجاتے بڑبڑایا ” چالاک لومڑی “ اور خاموشی سے مین vs وائلڈ دیکھنے لگا۔۔۔
”صارم میری اسٹرنتھ کیا ہے؟؟ “ میں نے اچانک ہی اسے مخاطب کیا وہ چونکا اور حیران بھی ہوا۔۔
” تم نے ابھی تک نہیں پہچانا؟؟ “ اسکی حیرانگی مجھے اپنی بیوقوفی کا الارم دے رہی تھی اب مجھے کیا پتا اسٹرنتھ ہے کیا؟؟
” کونسا ایسا کام ہے جو تم چوبیس گھنٹے نون اسٹاپ کر سکتی ہو یا ایسا کام جس سے تم تھکنا چاؤ بور ہونا چاہو لیکن ہو نہیں پاؤ۔۔ تمہارا گول تمہارا پیشن سب سے ہٹ کر وہ جس پر دل و دماغ راضی ہو اور غلامی سے بھی نا اکتائو “ وہ بول رہا تھا اور میرا سویا دماغ جاگ رہا تھا میرا شوق، میرا ہنر، میری اسٹرنتھ وہ جسے کرتے میں ایک الگ ہی دنیا کی مسافر بن جاتی ہوں۔۔۔ یعنی میری دنیا۔۔۔ ” My world of Creativity “ اور ” میری کہانیاں سبق اموز “ صارم کی نظریں مجھ پر ہی تھیں جو میری ہنسی کو بغور دیکھتا ہنس رہا تھا میرے بھی دماغ میں اچانک کلک ہوا ایک شک سا گزرا تو میں نے پوچھا۔۔
” صارم تمہاری اسٹرنتھ یہی ہے جو تم کرتے ہو؟؟ “
میرے ابرو اچکانے پر اس نے ایک گہرا سانس لیا اسکا موڈ یکدم خراب ہوگیا جیسے میں نے اسکے چہرے کے بدلتے تااثرات سے بھانپا۔۔۔۔
” بلکل سات ماہ میں نے ایک کپمنی میں جاب کی لیکن میرا دل مطمئن نہیں تھا اور آج تک بس ایک یہی افسوس ہے میرے سات ماہ میں نے ویسٹ کر دئے۔۔ “ دانت پستے اسنے ناگواری سے کہا لیکن اسکا اگلا جملا خود اسے مطمئن کر رہا تھا۔۔
” انسان غلطی سے ہی سیکھتا ہے میں نے سیکھ کر آگے بڑھنا جانا ہے “ اچانک صارم کا فون بجا جسے اٹھانے کے بجائے اسنے فوراً کاٹا پھر ایک میسج ٹون کی بیپ ہوئی صارم نے اپنے رسٹ واچ میں ٹائم دیکھا اور تیر کی تیزی سے چینل بدل کر نیوز چینل لگایا جہاں ایک ہی خبر ہیڈ لائن بنی ہوئی تھی ایک فلیٹ سے ڈرگز برآمد ہوئیں ہیں جسے آج رات لاہور سے اسلاماباد لے جایا جا رہا تھا یہی نہیں ائیرپورٹ پر ایک آدمی پکڑا گیا تھا جسکے پیٹ میں ڈرگز رکھ کر باہر سے یہاں لایا گیا تھا یہی ایک خبر اینکر باربار بتا رہی تھی جبکے مجھے صارم کی فتح مند مسکراہٹ نے بہت کچھ سمجھا دیا۔۔۔۔
” یہ ہے میری اسٹرنتھ “ اسنے مسکراتے ہوے مجھے کہا ساتھ انگلی سے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا۔ وہی جیت کی خوشی میں دمکتا چہرہ میں ایک پل ہی دیکھ سکی کیوں کے اگلے ہی پل وہ فون اٹھا کر اپنی جیکٹ پہن کر باہر چلا گیا۔۔۔
صارم ان انسانوں میں سے ہے جو ناامید ہوکر واپس امید باندھ کر ایک نئی راہ میں چل پڑتا ہے زندگی کی تلاش میں لیکن مایوس نہیں ہوتا۔ صارم نے بہت کوشش کی اسکا آرمی میں سلیکشن ہوجاے لیکن ایک بائیک ایکسیڈنٹ میں بازو کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے اسکا سلیکشن نہیں ہوا اور آج تک وہ اس ایکسیڈنٹ کا زمیدار خود کو سمجھتا ہے کیوں کے وہ بھی میری طرح جذباتی تھا جو ہر چینلچ کو قبول کر کے اپنے لئے مصیبت کھڑی کرتا ہے۔۔ ایک دن رات کو دوستوں کے ساتھ بائیک ریسنگ کے دوران یہ ایکسیڈنٹ ہوا اگر وہ اس دن وہاں جاتا ہی نا تو شاید یہ سب نہیں ہوتا لیکن میں اکثر اُسے کہتی ہوں کیا پتا اس رات نہیں ہوتا پھر کہیں کسی اور جگہ ہوتا آگر قسمت میں سلیکشن نہیں لکھا تو نہیں ہونا اسکا زمیدار وہ خود کو کیوں ٹہراتا ہے؟؟؟ لیکن ایک بات تھی جلدبازی میں نقصان اپنا ہی ہوتا ہے۔۔
میں نہیں جانتی وہ کیا کرتا ہے؟؟ کس کرح کرتا ہے؟ کیسے کرتا؟ کون کون لوگ شامل ہے؟ یا کسکے انڈر وہ کام کرتا کچھ نہیں وہ ایک ایسی پہیلی ہے جس نے خود کو چار پردوں میں چھپایا ہوا ہے۔۔ شاید خبری ہے؟ یا شاید پولیس افسر؟ میں نے اسکے پاس الگ الگ کوسٹیومز، الگ فونز، سم کارڈز دیکھے ہیں وہ خود کو اس طرح محفوظ کیے بیٹھے تھا کے آج تک خالو کو بھی پتا نہیں چل سکا کے انکا بیٹا کرتا کیا ہے؟؟؟ اور میں یہ بھی جانتی ہوں وہ سب میں نے خود نہیں دیکھا صارم نے مجھے دیکھائیں ہیں کچھ باتیں وہ خود ہی بتا دیتا ہے لیکن جو میں پوچھتی ہوں وہ ہر گز نہیں بتاتا مجھے یاد ہے ایک دفع کوئی آدمی جرم کر کے پاکستان سے بھاگ رہا تھا صارم نے ہی اُسکی مدد کی بھاگنے میں۔۔ یہاں تک کے اس سے ڈیلینگ کر کے لاکھوں پیسے کمائے اسے ہر طرح سے سپورٹ کیا اسکی سکی فیملی کو سیف جگہ پر پہنچایا لیکن ایر پورٹ میں سرے عام اسے پکڑوا دیا مجھ سے کہا کے ” وہ مجرم تھا، سزا کا حقدار تھا، لیکن فیملی بےگناہ تھی مدد بھی اُسکی نہیں اسکے گھروالوں کی کر رہا تھا میری طرف سے تو وہ جیل میں جائے یا جہنم میں “ آج تک صارم کبھی پکڑا نہیں گیا نا پکڑنے والے آج تک صارم کو ڈھونڈ سکے اور یہی چیز میں نے اس سے سیکھی ہے صفائی ایسے کرو کے کانوں کان کسی کو خبر نا ہو۔ صارم کے ابو خود ایک ہارٹ سرجن ہیں جب کے ایک چچا واکیل ہیں تو دوسرے سیاست میں۔۔ واللہ پوری فیملی میں ایک سے بڑھ کے ایک انسان ہے اور اکثر میں سوچتی ہوں کیا پتا صارم انکو سب بتاتا ہو؟؟ لیکن وہی اسکی شکل پر جو بڑا سا لکھا ہوتا ہے ” میں بیوقوف نہیں “ میرے سوچوں کو جھٹک دیتا۔۔۔
آرمی میں سلیکشن نا ہونے کے بعد ہی صارم نے ایک کمپنی میں جاب کی لیکن وہاں دو سال مشکل سے گزارنے کے بعد اسنے توبہ کرلی اسکا کہنا تھا ” میں کسی کے انڈر کام نہیں کر سکتا “ کبھی کبھی وہ کہتا ” رابی شاید سب اچھے کے لئے ہوتا ہے آگر میں آرمی میں ہوتا تو رسٹریکشنز (restrictions )ہوتیں لیکن یہاں بلکل
نہیں “ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے میں اُسے اِس دنیا میں سب سے زیادہ جانتی ہوں لیکن میں اُس دن غلط ثابت ہوئی جب پہلی بار میں نے اُسے روتے دیکھا۔۔
صارم کے کہنے کے بعد میں نے ایک کمپنی میں جاب شروع کی میں انہیں کارٹونس بنا کر دیتی جس میں وہ ساؤنڈ موومنٹ وغیرہ خود کرتے ہیں اور اسٹوری میری لیتے ہیں ساتھ ہی میں نے اپنا ایک پیج بنایا یہ بات میں نے صارم کو نہیں بتائی تھی لیکن بعد میں اسے خود ہی پتا لگ گی۔۔ کیونکہ مجھے شک تھا جس کام کے لئے بنا رہی ہوں آگر اُسے پتا لگا تو ڈانٹ پڑنی ہے۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں وہ خود بھی چاہتا تھا میں گھر رہ کر جاب کروں ” جذباتی انسان اکثر خود کو بڑی مصیبت میں پھنساتے ہیں “ یہ صارم اکثر میرے لئے کہتا ہے اور پہلی بار تب کہا جب میرا اسکیچ ایک پیج پر دیکھا۔۔
جب میری ایک پوسٹ کی وجہ سے میرا اکاؤنٹ پیج سب بند ہوگیا تب سے بابا کو میری حرکتوں سے ڈر لگنے لگا اور جب میں حق سچ کی بات کرتی وہ سر پکڑ لیتے۔ میں نے پیپر میں ایک نیوز پڑھی تھی جس میں آدمی اپنے سات آٹھ سال کے نوکر کا قتل کرتا شراب کے نشے میں اسے ہی میں نے اسکیچ کی فارم میں وائرل کیا ایک ایموشنل پوسٹ لگا کر۔ اسکیچ میں دو ایک جیسی تصویریں تھیں ایک میں ایک عورت اپنا زخمی بچہ جو تقریباً ساتھ آٹھ سال کا لگتا تھا اپنی گود میں لئے رو رہی تھی چہرہ پر تکلیف کا سایہ تک نا تھا بس آنسوؤں کا سیلاب بہتا نظر آرہا تھا سامنے ہی ایک آدمی خون سے لدی تلوار ہاتھ میں لئے کھڑا تھا جس سے اسنے سامنی بیٹھی اس عورت کے بیٹے کا بےدردی سے قتل کیا تھا بچے کے پیٹ میں ہوا زخم اور خون صاف واضع کر رہا تھا آدمی نے اسکا قتل کیا ہے۔۔۔ جبکے خود وہ شخص اس پوزیشن میں کھڑا تھا کے کوئی بھی شخص محسوس کر سکتا تھا کے وہ تکلیف میں ہے وہ ایک ٹانگ اوپر کیے ہوے تھا اور چہرے پر واضع کربناک تکلیف کے سائے لہرا رہے تھے۔۔ جبکے دوسرا اسکیچ اس سے تھوڑا مختلف تھا وہی عورت ریگستان کے بجاۓ ایک خوبصورت باغ میں بیٹھی تھی اور اپنی گود میں سوتے بیٹے کو محبت سے دیکھ رہی تھی جسکے ارد گرد کہیں بھی خون نہ تھا سفید لباس میں وہ بےحد حسین لگ رہا تھا جب کے سامنے وہی آدمی ہاتھ میں تلوار لیے کھڑا تھا اس ریگستان میں تپتی دھوپ میں اور پیڑوں کے نیچی سے تپتی آگ زمین کے اوپر آرہی تھی جس سے وہ خود کو بچانے کی مکمل کوشش کر رہا تھا۔۔ اپنے پیروں کی مدد سے جنکو وہ کبھی اوپر کرتا تو کبھی نیچے پہلی تصویر میں دایاں پیر اوپر تھا اور دوسری تصویر میں بایاں جس سے کوئی بھی انسان اس تصویر کی صورت حال کا اندازہ لگا سکتا ہے اسکی سزا صرف یہاں نہیں اُسی زندگی میں شروع ہو چکی تھی بس فرق یہ تھا وہاں وہ جھٹلاتا تھا لیکن یہاں نا دنیا تھی نا لوگ تھے بس کربناک سزا تھی ۔۔۔
” جسم سے نکلے اس لہو کا حساب تو روز قیامت کے دن دیگا۔۔ “ اس تحریر کے ساتھ میں نے آدمی کے اصلی نام سے لیکر ایک ایک چیز وہاں مینشن کی گاؤں تک کا نام اور اگلے چوبیس گھنٹے میں اسے دو سو شیئرز ملے لیکن جب صبح میں اٹھی تو اکاؤنٹ آئی ڈی سب بند ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
اُسکے بعد تو مجھے کھلی چھوٹ مل گئی میں رکی نہیں تھی ہر دوست سے الگ جگہ ہر گروپ میں میں نے پوسٹ لگوائی جسکا آخر تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا البتہ پیج پر بس میں نے اپنے اسکیچز لگاے تھے کیوں کے اس حرکت کے بعد بابا سائے کی طرح ہر جگہ میرے ساتھ تھے اور اب اڈمن بن کر جاسوسی کرتے تھے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: