Kabi Youn Bhi Ho Mere Robaro Novel by Ayesha Jabeen – Episode 1

0

کبھی یوں بھی ہو میرے روبرو از عاٸشہ جبیں پہلا حصہ

اف شکر ہے اللہ کا!پینسل فارم پیپر پر پھینکتے ہوۓ اس نے بے اختیار شکر ادا کیا۔رانیہ سے اسکا اتنا عاجزانہ انداز ہضم نہ ہوا اور بول پڑی۔
ہو گیا تمہارا نکاح نامہ ساٸن؟اس نے مسکراتے ہوۓ اسکی طرف دیکھا اور پینسل اٹھا کر گال پر رکھی۔
ڈیٸر رانیہ اگر آپ کو چار آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتا تو پھر آپ یا تو اپنی عینک کا نمبر بڑھا لیں یا پھر ڈبل گلاسسز لگا لو کیوں کہ یہ میرا ایڈمیشن فارم ہے نکاح نامہ نہیں۔رانیہ نے شاکڈ انداز میں اسکو دیکھا اور ایک ہاتھ سے کشن اٹھاتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے گلاسسز اوپر کرتے ہوۓ تاک کر نشانہ مارا۔جو سیدھا اسکے سینے پر لگا۔
صبا۔۔۔۔بدتمیز کتنی دفعہ کہا ہے تمہیں میری نظر کو نظر مت لگایا کرو اور تمہیں سکون مل گیا اس کالج کا فارم فِل کر کے؟رانیہ اسکو گھورتے ہوۓ بولی تو وہی کشن اٹھا کر فارم سمیت وہ صوفے پر اسکے پاس آ کر بیٹھی۔
میری جان۔۔۔سکون تو ایسا آیا ہے کہ تمہیں کیا بتاٶں۔صبا نے کہا تو رانیہ نے افسوس سے اسکو دیکھ کر سر ہلایا۔

مجھے پتہ ہے کہ تمہیں کیوں سکون آیا ہے ویسے صبا تمہیں کیا مسلہ تھا جو تم نے وہ یونیورسٹی کے فارم فِل نہیں کیے جو سلجوق بھاٸ لاۓ تھے۔رانیہ نے پوچھا تو اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
بس میری مرضی مجھے نہیں پڑھنا تھا یونیورسٹی سے۔اس نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا ساتھ ہی اس نے آخری نظر فارم پر ڈالی اور اسکو پیکٹ میں ڈالا۔

پتہ ہے مجھے تم نے کیوں ایڈمیشن نہیں لیایونی میں بھاٸ جو لے آۓ تھے فارم تمہارے لیے ورنہ جیسے مجھے پتہ نہیں کہ تمہیں ماسٹرز یونی سے کرنے کا کتنا شوق تھا۔رانیہ نے اسکو ماضی کے شوق میں سے ایک یاد دلایا تو اسکا دکھ جیسے تازہ ہوا۔
ہاں تو تمہارے بھاٸ سے کس نے کہا تھا کہ وہ پورے شہر کی یونیورسٹیز کے فارم اٹھا کر لے آۓ کوٸ ایک بھی نہیں چھوڑی سب کے ہی فارم لے آۓ۔صبا نے کہا تو رانیہ نے بمشکل مسکراہٹ دباٸ۔

دیکھا آ گٸ نہ سچ بات زبان پر پتہ تھا مجھے بھاٸ جس یونی کے نہ لاتے اسی یونی میں تم نے ایڈمیشن لے لینا تھا۔رانیہ نے کہا تو صبا نے اسکے بازو پر اپنی ہتھیلی ماری۔تو وہ ہنسنے لگی۔
اچھا رانیہ۔۔۔۔میری بات سنو۔۔۔دیکھو یہ شہر کا سب سے بہترین کالج ہے تم اسی میں لے لو ایڈمیشن پلیز۔۔۔پلیز۔صبا اسکا ہاتھ پکڑ کر ملتجاٸیہ انداز میں بولی تو رانیہ نے آرام سے ہاتھ باہر نکالا اور بولی۔

وہ۔۔۔صبا بھاٸ جو فارم تمہارے لیے اور میرے لیے لاۓ تھے نہ یونی کے میں نے فل کر کے بھاٸ کو دے دیا تھا اور بھاٸ نے سبمٹ بھی کروا دیا ہے۔رانیہ نے ڈرتے ہوۓ اسکو دیکھا جو منہ کھولے اسکو دیکھ رہی تھی۔
تم نے فارم فِل کر دیے یعنی تم یونی جاٶ گی میرے بغیر؟اس نے دکھ سے انگلی سینے پر رکھی۔

صبا۔۔۔پلیز ناراض مت ہونا وہ سلجوق بھاٸ نے کہا تھا اور میں۔۔۔رانیہ نے اسکو دیکھتے ہوۓ کہنے کی کوشش کی پر وہ آنکھیں بند کر چکی تھی جسکا مطلب تھا کہ اسکو شدید غصہ آ چکا تھا۔
سلجوق بھاٸ ہاں۔۔۔۔۔اللہ پوچھے اس سلجوق بھاٸ کو اور تم آج سے میری بیسٹ فرینڈ نہیں ہو سمجھی۔اپنے اس کھڑوس۔۔۔بند زبان اور سڑے ہوۓ بھاٸ کے ساتھ ہی خوش رہو۔حسبِ عادت غصے کی حالت میں آنکھیں بند کیے وہ بلند آواز میں بولی تھی۔

صبا۔۔۔۔یہ کیا بد تمیزی ہے؟تہذیب بیگم کی غصے سے بھری آواز انکے پھیچے سے آٸ تو جہاں رانیہ نے فوراً مڑ کر دیکھا تھا اور اسکے حواس گم ہوۓ تھے وہیں صبا کا غصہ اڑن چھو ہوا تھا اور پٹ سے آنکھیں کھول کر گردن پھیچے موڑی۔تو نظر سیدھی دادی اور (بند زبان،کھڑوس اور سڑے ہوۓ) سلجوق پرپڑی جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پُرسکون کھڑا تھا(بغیر کسی غصے اور حیرانگی کے)۔
وہ دادی۔۔۔ہم تو بس ایڈمیشن ڈسکس کررہے تھے۔رانیہ نے خود کو سنھبالتے ہوۓ کہا تو صبا نے بھی جلدی سے سر ہلایا

سلجوق آپ کو لینے آیا ہے رانیہ آپ جاٸیں ۔۔۔۔اور صبا آپ۔۔۔۔۔میرے کمرے میں آٸیں۔وہ سنجیدگی سے حکم صادر کرتی واپس مڑی تھیں۔صبا نے سلجوق کی طرف دیکھا تو وہ ایک نظر اسکو دیکھ کر مڑ گیا۔رانیہ اسکے کندھے پر ہاتھ مارتی جلدی سے سلیپر پہن کر اسکے پھیچے لپکی۔
اللہ جی۔۔۔۔اب دادی کا طویل لیکچر میں اکیلی سنوں گی کیا اور۔۔۔۔اس میں سے تو کٸ لفظوں کےمعنی بھی نہیں معلوم ہوں گے ایک تودادی کی اردو۔۔۔وہ آنکھیں بند کیے ماتھے پرہاتھ مارتی صوفے پر بیٹھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم دادی!رانیہ گھرمیں داخل ہوٸ تو نظرسامنے ہی صحن میں قُدسیہ بیگم پرپڑی اور جلدی سے سلام جھاڑتی انکے پاس بیٹھ گٸ۔سلجوق اس کی اِس حرکت پر مسکراہٹ دباتا ہوا سلام کرکے اندر کی طرف بڑھ گیا جبکہ قدسیہ بیگم رانیہ سے پوچھنے لگی۔

ہو آٸ تم۔۔۔اپنی دُم چھلی کےہاں؟
جی دادو۔۔۔۔اس نے آہستگی سے کہا اور منہ انکے قریب کر کےبولی۔

آپ کو پتہ دادو صبا نے ایڈمیشن لے لیا ہے پراٸیوٹ کالج میں۔آج فارم فِل کردیا ہےاب صبح سبمٹ بھی کروا دے گی۔اس نے رازداری سے بتایا۔
اچھا۔۔۔۔کس کالج میں؟انہوں نے بھی اسی کے انداز مں پوچھا تو وہ آنکھ مارتی مسکراٸ۔

اُسی کالج میں جہاں آپ لوگ چاہتے تھے پر۔۔دادو اٹس ناٹ فیٸر ۔۔۔کہ میرا ایڈمیشن یونی میں کروادیا بچپن سے ایک انسٹیٹیوشن میں پڑھتے آۓ ہیں اور اب لاسٹ سٹیج پر الگ الگ انسٹیٹیوٹ۔وہ آخرمیں منہ بناتی بولی تو قدسیہ بیگم ہنس دی۔
چل پگلی۔۔۔۔یہ تمہارے بھاٸ کا فیصلہ تھا اب ہم اسکو رد تو نہیں کر سکتے یہ حوصلہ تو بھٸ بس صبا بیٹی میں ہے۔وہ ہاتھ جھلاتے ہوۓ بولی تو رانیہ ہنس دی۔

دادو آپ کو پتہ ہے آج کیا ہوا میں اور صبا۔۔۔۔پھر رانیہ نے صبا کی اور اپنی ساری گفتگو دادوکو سناٸ فل مرچ مسالوں کے ساتھ تو انکا ہنس ہنس کر حال بُرا ہوگیا یہ سوچ کر کہ انکی اُردو دان دوست کے ہاتھوں صبا کا کیا حال ہورہا ہوگا۔
جبکہ اندر سلجوق لاٶنج کے صوفے پر بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ صبا اسکے بارے میں ایسی راۓ کیوں رکھتی ہے اور اسکے ہرکام سے انکار کیوں کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قُدسیہ بیگم اور تہذیب بیگم دونوں آپس میں گہری سہیلی ہونے کے ساتھ ساتھ دیورانی جیٹھانی بھی تھیں۔”شیرانی ہاٶس “کے مالک دو لوگ تھے۔حیات شیرانی اور ریاض شیرانی۔دونوں آپس میں بھاٸ تھے۔قدسیہ بیگم بڑے بھاٸ حیات صاحب کی زوجہ تھیں اور تہذیب بیگم ریاض صاحب کی زوجہ۔خوش قسمتی سے ایک ہی گھر میں دونوں بھاٸیوں سے بیاہی گٸ۔ساس سسر اور بچوں کے بڑے ہونے تک ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہے ۔بعد میں بچوں کی شادیوں کے بعد الگ الگ گھر میں رہے۔تہذیب بیگم اور قدسیہ بیگم دونوں نے ہی اردو میں ماسٹرز کیے رکھا تھا۔قدسیہ بیگم پر تو انکے مضمون کا اتنا اثر نہ ہوا پر تہذیب بیگم اپنے نام کی طرح اردو زبان کی ایک چلتی پھرتی تہذیب بن گٸ۔قدسیہ بیگم اور حیات صاحب کی تین اولادیں تھیں۔ایک بیٹا شاہد شیرانی اور دو بیٹیاں نازیہ اور سلیمہ تھیں۔دونوں شادی کے بعد باہر سیٹل ہوگٸ تھیں۔شاہد شیرانی کی شادی انکے والد کے جاننے والوں کے درمیان طے ہوٸ تھی۔شاہد اور ذکیہ بیگم کی آگے پانچ اولادیں تھیں۔سب سے بڑا سلجوق ،رانیہ، جواد ،مبشر ،اور دانیہ۔جبکہ تہذیب بیگم اور ریاض صاحب کی ایک ہی اولاد تھی۔صابر شیرانی اور انکی بیوی ساجدہ بیگم انکی چار اولادیں تھیں۔دانیال ،صبا ،اِرم ، ذایان۔ذکیہ بیگم اور ساجدہ بیگم دونوں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔صابر صاحب نے انکو شاہد صاحب کی شادی میں پسند کیا تھا۔چونکہ صابر صاحب اور شاہد صاحب کی آپس میں بنتی بہت تھی اس لیے انکی پسند اور سب کےمشورے کے ساتھ انکی شادی ہو گٸ ایک ماہ کے فرق سے۔ح

رانیہ اور صبا دونوں خالہ زاد بھی تھیں چچا تایا ذاد بھی۔دونوں کی گاڑھی چھنتی تھی۔حیات صاحب اور ریاض صاحب دونوں کی آج سے سات سال قبل ایک سال کے فرق سے وفات ہو گٸ تھی جنکی کمی سارے گھر والے آج بھی محسوس کرتے تھے۔انکے پوتے پوتیاں سبھی پوزیشن ہولڈر بچے تھے۔صرف ایک صبا تھی جو پڑھاٸ میں بس نارمل تھی۔صبا سلجوق سے زیادہ بات نہیں کیا کرتی تھی۔اس بات کو سبھی نے محسوس کیا تھا۔پر وجہ کوٸ نہیں جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا نہ یار اب معاف بھی کر دو کب تک ناراض رہنا ہے؟رانیہ نے بے بسی سے صبا کو دیکھ کر بولی جسکا ابھی بھی منہ غبارے کی طرح پھولا ہوا تھا
اچھا۔۔۔۔معاف کردوں اور وہ جو دادو نے مجھ پر اتنی گولہ باری کی ہے کہ مجھے بات کا کرنے کا سلیقہ نہیں ہے ہر وقت فضول گوٸ کرتی رہتی ہوں۔۔اور۔۔۔مجھے بھول گۓ وہ لفظ۔۔۔لفظ کیا تھے۔اور تمہیں میں معاف کر دوں؟دونوں ہاتھ سینے پر باندھے آنکھیں بند کیے وہ بولی۔تو رانیہ نے اپنی ہنسی دباٸ۔

اچھا۔۔۔۔نہ یہ بتاٶ کب جا رہی ہو کالج؟رانیہ نے بات بدلی۔
نیکسٹ ویک سے اور تم کب دفع ہو رہی ہو یونی؟پاپ کارن منہ میں ڈالتے اس نے پوچھا تو وہ مسکرا دی۔

میں بھی نیکسٹ ویک سے۔۔رانیہ نے بتایا تو اس نے سر ہلا دیا۔
ارے صبا بیٹی۔۔۔تم کب آٸ؟ذکیہ بیگم کسی کام سے لاٶنج میں آٸ تو اسکو دیکھ کر کِھل گٸ۔

خالہ جان۔۔۔۔وہ اٹھ کر انکے گلے لگی۔
بس ابھی ابھی آٸ ہوں۔اس نے بتایا تو وہ مسکرا دی۔

اچھا اور سب کیسے ہیں؟انہوں نے پوچھا۔رانیہ خاموشی سے مسکراتے ہوۓ خالہ بھانجی کی محبت بھرے ملاپ کو دیکھ رہی تھی۔
ٹھیک ہیں سب۔۔۔اوہ شٹ۔۔ آپ کو امی بلا رہی تھیں شاید مارکیٹ جانا ہے اسی لیےتو میں آٸ تھی۔وہ سر پر ہاتھ مارتی ہوٸ بولی۔رانیہ سے لڑاٸ کے چکر میں بھول ہی گٸ تھی۔

اچھا۔۔۔۔کوٸ بات نہیں میں ابھی چلی جاتی ہوں اسی کو فون کرنے تو آٸ تھی میں کہ کب جانا ہے مارکیٹ؟انہوں نے بتایا اور باہر نکل گٸ۔
اچھا رانیہ میں بھی چلتی ہوں۔اس نے پاٶں میں سلیپر پہنتے ہوۓ کہا تو رانیہ باٶل رکھتی اٹھی۔

صبا۔۔۔ابھی تو آٸ ہو رک جاٶ بھاٸ سے آٸسکریم منگواٸ ہے کھا کر جانا بس آتے ہوں گے۔رانیہ نے کہا تو صبا نے رککر اسکو دیکھا۔
اپنے بھاٸ کی لاٸ ہوٸ آٸسکریم تم خود کھا لینا مجھے کوٸ شوق نہیں دادی کے لاڈلے پوتے سلجوق بھاٸ انہی کی وجہ سے ڈانٹ کھاٸ ہے میں نے اب آٸسکریم کی گنجاٸش نہیں مجھ میں۔وہ کہہ کر باہر نکل گٸ تو رانیہ نے افسوس سے سر ہلایا۔

پتہ نہیں اس لڑکی کو کیا مسلہ ہے ؟وہ سوچتی دوبارہ پاپ کارن کا باٶل پکڑ کر بیٹھ گٸ۔
اسلام علیکم دادی!وہ قدسیہ بیگم کو لان میں بچھے تخت پر بیٹھا دیکھ کر انکی طرف آ گٸ وہ اسکو دیکھ کر محبت سے مسکراٸ۔

نماز پڑھ کی آپ نے؟وہ پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھنے لگی۔وہ جب آٸ تھی تو وہ عصر کی نماز پڑھ رہی تھی۔
ہاں بیٹا پڑھ لی تم بتاٶ کہاں جا رہی ہو؟انہوں نے پوچھا۔

بس دادی گھر جا رہی ہوں ماما مارکیٹ جا رہی ہیں تو رات کاکھانا بنانا ہے۔اس نے بتایا تو وہ سر ہلاتے تسبیح کرنے لگی۔
دادی۔۔۔آپ چکر لگا لیں آج رات گھر کا؟کچھ دیر بعد اس نے کہا تو چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

کیوں کیا ہوا؟انہوں نے حیرانگی سے پوچھا۔
وہ۔۔۔دادی ناراض ہیں مجھ سے۔اس نے چہرہ نیچے کرتے ہوۓ کہا تو وہ مسکرا دی۔ہر بار کی طرح وہ اب بھی انکے پاس آٸ تھی سفارش کے لیے۔

اچھا اور وہ کیوں؟انہوں نے پوچھا ۔
وہ۔۔۔دادی آپ کو رانیہ نے بتا تو دیا ہوگا۔اسنے سر جھٹکتے منہ بناتے ہوۓ کہا تو وہ ہنس دی

اچھا۔۔۔۔۔تو بیٹا آپ جانتی تو ہیں کہ سلجوق انکا کتنا لاڈلا ہے پھر کیوں کرتی ہو ایسا؟انہوں نے اسکو سمجھانا چاہا۔
وہ کس کے لاڈلے نہیں ہے گھر میں سبھی کا تو لاڈلا ہے آپ کا پوتا۔۔(سواۓ میرے)یہ بات اس نے دل میں کہی۔

بُری بات صبا۔انہوں نے ٹوکا ۔تو وہ انکا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
اچھا دادو۔۔۔۔اب ایسا نہیں کروں گی بس آخری بار انکو منا لیں وہ کہتی ہیں میں سلجوق بھاٸ سے معافی مانگوں دادی۔۔۔۔اب اتنی سی بات کے لیے کون معافی مانگتا ہے؟معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوۓ بولی تو جواب دادی کے بجاۓ پھیچے سے آیا۔

واقعی۔۔۔اتنی سی بات کے لیے کون معافی مانگتا ہے۔سلجوق کی آواز سن کر اسنے دانتوں تلے زبان دباٸ۔
اچھا۔۔۔دادی۔۔۔میں چلتی ہوں۔اس نے کہا اور بغیر پھیچے دیکھے نکل گٸ۔

وہ تیزی سے باہر نکلی تھی اُتنی تیزی سے کوٸ اسکے آگے آیا تھا۔وہ ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
چلو میں چھوڑ آتا ہوں جب دیکھو اکیلی نکلی ہوتی ہو۔وہ سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتی اسکو سنانے لگی تھی جب گلی میں چار پانچ لڑکے کھڑے دیکھ کر خاموش ہو گٸ۔انکا گھر ویسے تو ساتھ ساتھ ہی تھا پر ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کے لیے وہ گھر کا پچھلا حصہ استمال کرتے تھے کیونکہ سامنے مین روڈ تھا جو ہر وقت مصروف رہتا تھا۔دونوں گھروں کے لان پچھلی ساٸیڈ ہر تھے۔ایک کا دروازہ داٸیں طرف تھا تو دوسرے کا باٸیں طرف اسلیے تھوڑا چلنا پڑتا تھا۔اس طرف آج سے پہلے لڑکے نہیں ہوتے تھے۔ہوں گے کوٸ لفنگے ٹاٸپ۔وہ سوچوں میں گم اس کے پھیچے پھیچے چل رہی تھی۔

خالہ جان سے کہنا میں باہرگاڑی میں انکا ویٹ کر رہا ہوں جلدی آ جاٸیں امی بھی ہوں گٸ ہیں تیار۔سلجوق نے کہا تو وہ مڑے بغیر اثبات میں سر ہلاتی اندر چلی گٸ۔
سلجوق بھی اسکے جانے کے بعد واپس مڑ کر ان لڑکوں کی طرف آ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاسسز کب شروع ہو رہی ہیں بیٹا؟بابا(صابر صاحب)نے کھانا کھاتے ہوۓ اس سے پوچھا۔وہ سب رات کا کھانا کھا رہے تھے۔

کل سے جانا ہے بابا۔اس نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
بیٹا اب آپ نے اپنی پڑھاٸ پر توجہ دینی ہے پہلے ہی ایک سال آپ نے ضاٸع کر دیا تھا بےجا ضد کے ہاتھوں۔تہذیب بیگم محبت بھری شفقت سےبولیں تو اس نے مسکرا کر سر ہلایا۔

ویسے صبا تم نے بڑی جلدی ہتھیار ڈال دیے ورنہ بابا تمہیں باہر بھیج دیتے پڑھنے کے لیے۔اِرم شرارت سے بولی تو اس نے گھور کر اسکو دیکھا۔
اِرم۔۔۔کیوں تنگ کر رہی ہو اُسکو؟دانیال نے کہا تو وہ کندھے اچکاتی کھانے پر جھک گٸ۔جبکہ اسکو پھر سے اپنا دکھ یاد آ گیا۔کتنی ضد کی تھی اس نے کہ مجھے بھی باہر پڑھنے جانا ہے جس طرح سلجوق گیا تھا دانیال گیا تھا اور جواد اور ذایان بھی باہر ہی تھے۔پر نہ تو دادی مانی اور نہ ہی کوٸ اور۔ان کا کہنا تھا وہ سب سکالرشپ پر گۓ ہیں نمبر اسکے بھی بُرے نہیں تھے ”اے گریڈ “ سےپاس ہوٸ تھی۔پر وہ نہیں مانے۔انہی دنوں سلجوق اپنی اسپلاٸزیشن مکمل کرنے کےبعد لوٹا تھا۔ضد میں اس نےایڈمیشن ہی نہیں لیا پر کوٸ نہ مانا اسکی خاطر رانیہ نے بھی اپنا سال ضاٸع کر دیا۔اور اب تھک ہار کر اس نے پراٸیوٹ کالج میں ہی ایڈمیشن لے لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرے کلر کے شرٹ واٸٹ شلوار کے ساتھ واٸٹ دوپٹہ جس پر گرے کلر کی پٹی کناروں ہر لگی ہوٸ تھی اوڑھے شانوں پر چادر ڈالے وہ ایک ہاتھ میں بیگ تھامے اور دوسرے ہاتھ میں موباٸل پکڑے کالج میں داخل ہوٸ۔کالج بہت خوبصورت تھا۔وہ کالج کی بلڈنگ سے بہت انسپاٸر ہوٸ۔چونکہ فارم صابر صاحب خود لینے آۓ تھے اس لیے وہ پہلی بار کالج کودیکھ کر اسکی خوبصورتی کو سراہے بنا نہ رہ سکی۔

صبح سے تین کلاسسز ہوچکی تھیں۔ابھی تک تعارف ہی چل رہا تھا سب ٹیچرز بہت اچھے تھے۔صبا نے پولیٹیکل ساٸینس میں ایڈمیشن لیا تھا۔ثوبیہ اور حنا وہ دو پہلی لڑکیاں تھیں جن سے وہ اینٹر ہوتے ہی کلاس میں ملی تھی۔اب تک انکی کافی بےتکلفی ہو چکی تھی۔ابھی انکا نیکسٹ پریڈ سٹارٹ ہوۓ دو منٹ گزرے تھے جب سیدھی ہو کر یک دم خاموش ہوٸ تھی۔اس نےسر اٹھاکر دیکھا اور بس دیکھتی ہی رہ گٸ۔
اسلام علیکم!سر۔۔۔۔۔۔یک دم پوری کلاس گرمجوشی سے بلند آواز میں سلام لیتے ہوۓ بولی تو اندر آنے والے شخص نے ہلکا سا مسکراتے ہوۓ سر کے اشارے سے جواب دیا۔وہ ابھی تک سر اٹھاۓ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔

بلیک پینٹ کے ساتھ بلیک ہی شرٹ پہنے وہ انتہا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔
جی۔۔۔کلاس میں آپکا آٸ بی( انٹر نیشنل بزنس)کا لیکچرار ہوں۔۔میرا نام سلجوق شیرازی ہے۔اور آج چونکہ آپکا۔۔۔۔

وہ اپنا تعارف کروا رہا تھا اور وہ اسکو دیکھ رہی تھی۔دیکھ تو ساری کلاس کی لڑکیاں بھی رہی تھیں۔صبح سے اولڈ ٹیچرز سے ملتے ہوۓ انہیں ینگ ٹیچر کسی تازہ ہوا کے جھونکے جیسا لگ رہا تھا۔یقیناً اس سبجیکٹ میں وہ سب سے زیادہ دلچسپی لینے والی تھیں۔وہ اب کلاس سے سبکا انٹرو(تعارف)لے رہا تھا۔وہ جو صبح سے بڑی تازہ دم اور تفصیل سے جواب دے رہی تھی اپنا صرف نام بتا کر بیٹھ گٸ۔سلجوق نے اپنے تاثرات نارمل رکھے تھے۔
یار۔۔۔۔سلجوق سر تو بہت ہینڈسم ہیں اب ہم پڑھ کیا خاک پاۓ گے۔ثوبیہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی تو وہ اسکو گھور کر رہ گٸ۔

یہ کیا مصیبت پڑ گٸ یہ تو جاب کرتے تھے۔۔۔تو ؟؟؟ کیا یہ جاب کرتے ہیں؟اس نے حیرانگی سے سوچا۔سلجوق نے اپنا بزنس جواٸن کرنے کی بجاۓ جاب کو ترجیع دی تھی۔اسکا کہنا تھا کہ ”میں کچھ عرصہ اپنی مرضی کی جاب کرنا چاہتا ہوں بزنس کے لیے تو ساری عمر پڑی ہے“ تو کیا انہوں نے لیکچرارشپ جواٸن کر لی ہے۔اس نے سر نیچے گرا کر دونوں ہاتھوں میں تھاما۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اٹھ بھی جاٶ۔۔۔۔صبا کب تک سونا ہے تم نے یار۔رانیہ اسکے کندھے کو ہلاتے ہوۓ جھلا کر بولی۔اس نے سستی سے کروٹ لی اور وقت پوچھا۔
شام کے چھ بج چکے ہیں اور بقول خالہ تم تین بجے کی سو رہی ہو اب اٹھ بھی جاٶ۔وہ اٹھ کر بیٹھی۔اٹھ کر اےسی آف کیا۔ستمبر کا آغاز تھا۔موسم بدل رہا تھا۔کمرہ اچھا خاصا ٹھنڈا ہوگیا تھا۔

کیسا رہا کالج؟رانیہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
ہاں۔۔۔۔ٹھیک تھا۔۔۔رانیہ۔اسکویاد تو چونک کر بولی۔

سلجوق بھاٸ میرے کالج میں لیکچرار ہیں تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟اسکو گھورتے ہوۓ اس نے پوچھا۔
واقعی۔۔۔۔رانیہ چہکی۔

بھاٸ جاب تمہارے کالج میں کرتےہیں؟مجھے تو نہیں معلوم تھا۔رانیہ ہاتھ سے گلاسسز سیدھی کرتے ہوۓ بولی تو اس نے مشکوک نظروں سے اسکو دیکھا۔
صبا۔۔۔۔مجھے واقعی نہیں پتہ یار۔اس نے جیسے یقین دلایا۔تو وہ سرجھٹکتے گہری سانس لیتی اٹھی اور چپل اڑستی سستی سے بولی۔

تم بیٹھو میں فریش ہو کر آتی ہوں۔اسکے جانے کے بعد رانیہ نے بے اختیار شکر اداکیا کہ اس نے مزید جرح نہیں کی۔سلجوق ہی اسکی ضد پر صابر صاحب کے کہنے پر اسکو بے خبر رکھتے ہوۓ فارم لایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج سنڈے تھا وہ صبح سے اٹھی ہوٸ تھی۔چاۓ پی کر وہ دادی کے روم کی طرف آٸ۔ارم اور باقی سبھی ابھی سوۓ ہوۓ تھے۔وہ دروازہ کھول کر اندر آٸ تو انکو بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر مسکرا کر انکے پاس آٸ۔وہ کتاب پر سے نظریں ہٹا کر اسکو دیکھ کر مسکراٸ۔
آپ آ جاٸیں بیٹا۔انہوں نے کہا تو وہ انکے پاس آٸ اور بیٹھی۔”اور تلوار ٹوٹ گٸ“ کتاب کو ساٸیڈ پر رکھتے وہ اسکی طرف متوجہ ہوٸ۔

دادی۔۔۔۔آپ اتنی بکس پڑھ کر تھکتی نہیں ہیں کیا؟اس نے پوچھا۔
بیٹا۔۔۔۔کتابیں پڑھ کر کون تھکتا ہے۔یہ سوال نہیں تھا بس انفارمیشن تھی۔

دادی۔۔۔آپ پوزیشن ہولڈر کیسے بن گٸ جب کہ آپ اتنی بکس پڑھتی تھیں کورس بکس کے علاوہ؟اسنے سوال کیا ۔
بیٹا۔۔۔۔۔پڑھنا اور ٹاپ کرنا میرے بابا جان کی خواہش تھی اور میری خواہش یہ کتابیں پڑھنا تھیں اور جب خواہشیں شوق بن جاٸیں تو پھر انکا حصول نامکمن نہیں رہتا۔سو ٹاپ کرنا میرے لیے کبھی مشکل نہیں تھا۔انہوں نے بتایا۔

لیکن بیٹا۔۔۔۔۔آپ اپنی پڑھاٸ پر توجہ کیوں نہیں دیتی آپ کے سب بہن بھاٸ ماشاءاللہ پوزیشن ہولڈر ہیں سلجوق ،جواد ، ذایان سب کو باہر کی یونیورسٹی نے خود کانٹیکٹ کیا تھا اور ماشاءاللہ دیکھو وہاں بھی انہوں نے اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کیاہے۔انہوں نے شفقت سے کہا تھا۔
چلو جی۔۔۔۔۔تم تو بیٹھ جاٶ دادی جان کے پاس۔اس نے دل میں کہا اور مسکراتے ہوٸ ہوٸ اٹھی۔

دادی میں نہ آپ کے لیے چاۓ لاتی ہوں۔اس نے جلدی سے کہا تو اسکو دیکھ کر رہ گٸ۔
ایک تو جہاں اس لڑکی سے پڑھاٸ پر گفتگو کرو فوراً بھاگ جاتی ہیں۔انہوں نے سر جھٹکتے ہوۓ کہا اور کتاب دوبارہ اٹھا لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کر رہے ہو بیٹا؟ وہ اپنی لاٸیبریری میں بیٹھا تھا جب ذکیہ بیگم اسکے پاس آٸ اور چاۓ اسکے ٹیبل پر رکھی۔

کچھ نہیں ماما بس پاپا نےایک پراجیکٹ کا کام دیا تھا وہی دیکھ رہا ہوں۔فاٸل بند کر کے انکی طرف رخ کرتے ہوۓ بولا تو وہ سر ہلاتی ہوٸ اسکے سامنے چٸیر پر بیٹھی۔
سلجوق۔۔۔۔بیٹا تمہارے کتنے دوستوں کی شادی ہو گٸ ہے ؟انہوں نے پوچھا۔تو وہ حیرانگی سے انکو دیکھنے لگا۔

کیوں ماما آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟اس نے پوچھا ۔
تم میری بات کا جواب دو سلجوق۔وہ اپنی بات پر زور دیتی ہوٸ بولی تو مگ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ سلجوق بولا۔

ماما میرے دو ہی تو دوست ہیں عالیان اور رمیز اور ان دونوں کی شادی ہو چکی ہے آپ جانتی تو ہیں۔
تو پھر بیٹا آپ بھی کچھ خیال کر لیں۔آخر کو ہمارے بھی کچھ ارمان ہیں تمہارے بابا سے کوٸ بات کرو تو وہ کہتے ہیں بھٸ وہ ماشإاللہ اپنے فیصلے خود کر سکتا ہے تم فکر مت کرو اب بتاٶ بھلا میں کیسے فکر نہ کروں؟وہ بولیں تو وہ اٹھا اور گھوم کر انکی طرف آیا گھٹنے پر ہاتھ رکھے وہ انکے سامنے بیٹھا۔

ماما اچھا۔۔۔۔بتاٸیں کیا کروں میں؟اس نےسوالیہ انداز میں انکو دیکھا۔
تم کچھ نہ کرو بس مجھے یہ بتا دو کہ تم شادی ہماری مرضی سے کرو گے یا پھر اپنی مرضی سے؟ناراض لہجے میں انہوں نے پوچھا۔

اچھا۔۔۔۔سر ہلاتے وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔
تو یہ بات ہے ماۓ ڈٸیر مام جیسے آپ کی مرضی آپ کریں مجھے کوٸ مسلہ نہیں ہے۔وہ انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا تو جیسے خوشی سے کھل اٹھیں۔

سچ تم میری پسند کی ہوٸ لڑکی سے شادی کر لو گے؟انہوں نے جیسے اپنی تسلی کے لیے پوچھا۔
جی ماما!وہ انکے ہاتھ پر زور دیتا ہوا بولا تو وہ بےاختیار اسکا ماتھا چوم گٸ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبا۔۔۔۔۔وہ اپنے یونیفارم کو استری کر رہی تھی جب ساجدہ بیگم کمرے میں آٸ۔

جی ماما۔اس نے استری بند کر ساٸیڈ پر رکھی۔
بیٹا۔۔۔ذرا چاۓ تو بنا لاٶ تین کپ سلجوق آیا ہےتمہارے بابا اور دانیال کے لیے بنا لو۔انہوں نےمصروف سے انداز میں کہا تو اسکے ماتھے پر بل پڑے۔

کیوں امی۔۔۔۔یہ اِرم سے کہہ دیں میں بزی ہوں ابھی۔اس نے ہاتھ جھلاتے ہوۓ پاس بیڈ پر بیٹھی ارم کی طرف اشارہ کیا تو وہ فوراً بولی۔
امی۔۔۔میرا تو ٹیسٹ ہے اور آپ جانتی ہیں میں پڑھتےہوۓ کوٸ کام نہیں کرتی۔

صبا۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی ساجدہ بیگم بول اٹھی۔
جاٶ چاۓ بنا کر لاٶ اور خبردار کوٸ بدتمیزی کی ورنہ ابکی بار اماں سے میں تمہاری خلاصی نہیں کرواٶں گی۔وہ اسکو وارن کرتے ہوۓ چلی گٸ تو اس نے غصے سے استری کیا ہوا دوپٹہ ارم پر پھینکا۔

دفع ہو جاٶ تم دیکھنا بلکل اچھا ٹیسٹ نہیں ہوگا۔غصے سے کہہ کر وہ باہر نکل گٸ۔
چاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے چاۓ سلجوق کو دینے کے بے نیازی سے ٹیبل پر رکھی اور باہر جانے لگی۔

باقی دو کپ کس کےہیں؟سلجوق ڈش میں سلیقے سے رکھے چاۓ اور کباب دیکھ کر بولا۔
ابو اور بھاٸ کے لیے۔اسنے مڑ کر جواب دیا۔

چاچو تو پھوپھو کی کال سننے گۓ ہیں اور دانیال روم میں گیا ہے۔سلجوق کپ پکڑتاہوا بولا۔
تو پھر میں کیا کروں؟اس نے لٹھ مار انداز میں کہا تو وہ مسکرایا۔”ہاۓ اللہ ماریہ سر سلجوق کی مسکراہٹ قسم سے دل ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوتا ہے“ کلاس کی لڑکی کی آواز کان میں گونجی تو اس نے أَسْتَغْفِرُ اللّٰه کہتےہوۓ سر جھٹکا۔

تم یہ کرو کہ میرے ساتھ بیٹھ کر چاۓ پی لو ویسے بھی ٹھنڈی ہو کر ضاٸع جاۓ گی۔سلجوق دوستانہ انداز میں بولا یوں جیسے بڑا یارانہ ہو۔
نہیں مجھے آپ کے سر پر سوار ہونے کا کوٸ شوق نہیں ہے۔اس نے کاٹ دار لہجے میں کہا تو سلجوق کی مسکراہٹ سمٹی۔

صبا۔۔۔ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟وہ الجھے انداز میں تھوڑا سخت سا بولا۔
لندن جانے سے قبل آپ نے کہا تھا کہ میں ہر وقت آپ کےسر پر سوار نہ رہا کروں بھول گۓ ہیں آپ؟تیز لہجے میں کہتی بات مکمل کرتی وہ مڑی اور چلی گٸ جبکہ وہ ہکا بکا سا اسکو دیکھتا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔نازیہ پھوپھو اور سلیمہ پھوپھو آ رہی ہیں وہ بھی اکھٹیں۔صبا اور رانیہ دونوں بیک وقت چیخی تو دونوں بہنوں نے ایک ایک عدد گھوری سے نوازنا ضروری سمجھا۔جبکہ قدسیہ بیگم اور تہذیب بیگم دونوں انکا جوش دیکھ کر ہنس دی۔

امی بتاٸیں کب آ رہے وہ لوگ؟صبا نے بے چینی سے پوچھا۔صبا کی اپنی تو سگی پھوپھو نہیں تھی پر رانیہ کی پھوپھو جو کہ اسکے ابو کی چچا زاد تھیں کو ہی پھوپھو مانتی تھی اور وہ بھی ان سب کو سگے رشتوں کی طرح محبت کرتی تھیں۔
اف۔۔۔۔صبر بھی کر لو۔۔۔وہ لوگ اگلے منتھ کے پندرہ کو آ رہے ہیں بچوں سمیت۔

یا ہو۔۔۔پھر تو خوب مزہ آۓ گا میرے بھی پیپرز ختم ہو جاٸیں گے اور صبا تمہارے بھی فاٸنل ہوں جاۓ گے۔رانیہ نے اپنی عینک درست کرتے ہوۓ کہا تو صبا نے اس بات پر شکر ادا کیا۔پھر انکی جو باتیں چلیں تو رکنے کا نام ہی لینا بھول گٸ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا۔۔۔۔ثوبیہ پر میں نے تو ٹیسٹ تیار نہیں کیا؟صبا پریشانی سے بولی۔انکا ماسٹرز کے پارٹ ون کے فاٸنل اگزامز ہونے والے تھے۔
کیا مطلب یار سلجوق سر کا آخری ٹیسٹ ہے اور آج ہم نے فری ہو جانا ہے اور تم نے ٹیسٹ تیار نہیں کیا وہ بھی اورل ٹیسٹ۔ثوبیہ حیرانگی سے بولی۔تو وہ پریشانی سے سوچنے لگی کہ اب کیا کرے۔کل سارا دن رانیہ کے ساتھ مارکیٹ میں گھومتی رہی تھی اسکا یونی میں کوٸ فنکشن تھا۔اسکے بعد تھکن کی وجہ سے وہ بکس کھولے بغیر سو گٸ تھی۔

یا اللہ بچا لیں پلیز۔۔۔۔سلجوق کو لڑکیوں سے کوٸسچن کرتے ہوۓ اس نے دل ہی دل میں دعاکی۔
صبا۔۔۔۔آپ بتاٸیں اس ایشو کو ہم کیسے حل کر سکتے ہیں؟سلجوق نے اس سے سوال کیا تو وہ چونکی۔سوال تو اس نے سنا ہی نہیں تھا۔

آٸم سوری سر میں نے سنا نہیں۔اس نے ہلکی آواز میں شرمندگی سے کہا ۔
کیوں آپ کا دھیان کس طرف ہے ؟کلاس میں کب سے انٹر نیشنل ایشو ڈسکس ہو رہا ہے اور آپکا دھیان ہی نہیں کہاں گیا آپ کا دھیان؟وہ تھوڑے سخت لہجے میں بولا۔

سر آپ کی طرف ہے اس کا دھیان۔کہیں آگے سے آواز آٸ کلاس میں دبے دبے دے قہقے گونجے۔تو اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
یہ کون بولا ہے ؟سلجوق سخت تاثرات لیے بولا۔ساری کلاس خاموش تھی۔پر جانتی تھی کہ کون بولا تھا مہرین۔۔۔کلاس کی مانیٹر اور سلجوق کی سب سے بڑی فین۔

بیٹھیں۔اس نے نام لیے بغیر کہا تو وہ خاموشی سے بیٹھ گٸ جبکہ وہ آگے بڑھ گیا۔اس نے مہرین کو گھور کر دیکھا جو تمسخر اڑانے والی نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی۔پتہ نہیں آجکل وہ اسکے پھیچے کیوں پڑی ہوٸ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما مزے دار سا ناشتہ دے دیں پلیز۔۔۔باہر بیٹھتے ہوۓ اس نے اونچی آواز میں کہا۔
صبا بیٹا۔۔۔۔کوٸ ادب آداب بھی آپ نے سیکھے ہیں دادی کو سلام ہی کر لیتیں آپ۔دادی کی دھیمی آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸ تو وہ فوراً سستی چھوڑ کر انکے پاس آٸ۔

جی دادو۔۔۔۔۔اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ معاف کیجے گ ہم نے آپ کو دیکھا نہیں تھا۔شرارت سے کہتی وہ انکے پاس بیٹھ گٸ تو وہ ہنس دی۔
بہت شریر ہو آپ صبا۔وہ مسکرا کر بولیں تو وہ ہنس دی۔

اور پیپرز ختم ہو گۓ آپ کے؟انہوں نے پوچھا تو اس نے شکر ادا کرتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا۔
چلو اچھی بات ہے اب تھکن اتار لیجے گا آپ اپنی کیونکہ پرسوں تو آپ کی پھوپھو لوگ اور آپ کے بھاٸ تشریف لا رہیں ہیں۔انہوں نے بتایا تو وہ چہکی۔

سچ دادی جان۔۔۔۔آٶووو کتنا مزہ آۓ گا نہ دادی اتنے سالوں بعد آ رہے ہیں وہ لوگ۔وہ خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی۔
ماما۔۔۔۔ناشتہ رہنے دے میں رانیہ کی طرف کر لوں گی۔اس نے جلدی سے کہا اور باہر کو نکل گی جبکہ ساجدہ بیگم اسکو روکتی ہی رہ گٸ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا اچھا لگ رہا ہے نہ یوں اکھٹا ہونا۔سلیمہ پھوپھو بولیں تو ان سب نے تاٸید میں سر ہلایا۔

صیحٕ کہ رہی ہے سلیمہ امی جان۔۔۔۔دیکھے نہ وہاں تو کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا حلانکہ گھنٹے کے فاصلے پر ہیں ہم دونوں بہنں پھر بھی مل نہیں پاتے۔۔۔اسی لیے ابکی بار میں نے تو کہہ دیا احمر کے پاپا سے ہم دنوں بہینں اکھٹے پاکستا ن جاٸیں گے آ پ دنوں جب مرضی آ جاٸیں۔نازیہ پھوپھو بھی بولیں۔
یہ تو بہت اچھا کیا بیٹا آپ لوگ کو ملنے کے لیے ہم تو ترس گۓ تھے۔قدسیہ بیگم بولیں تو وہ دونوں مسکرا دی۔

اچھا چلیں اب کھانا کھا لیں پھر باتیں کرے گے بچوں نے اپنا کھانا لاٶنج میں لگوا لیا ہے۔ساجدہ بیگم اور ذکیہ بیگم دونوں نے کہا تو وہ سب ہنستے ہوۓ اٹھ۔گۓ۔
وہ سب رانیہ لوگوں کی طرف جمع تھے۔جواد ،ذیان لوگ بھی ساتھ ہی آۓ تھے۔نازیہ پھوپھو کی دو بیٹیاں تھیں۔ناجیہ اور اجیہ۔جبکہ سلیمہ پھوپھو کے ایک بیٹااحمر اور ایک بیٹی روزینہ تھی۔اس وقت سب بچہ پارٹی کھانے میں مصروف تھی۔جب اس نے سلجوق اور روزینہ کو کولڈڈرنک کا گلاس پکڑے سیلفی لیتے دیکھا۔اسکے ماتھے پر خوامخواہ بل پڑے۔سلجوق اور روزینہ کے درمیان کافی بے تکلفی تھی۔سلجوق پڑھاٸ کے سسلے میں انکے پاس ہی لندن میں رہا تھا اور اب جواد ذیان لوگ بھی اُدھر اپنی پھوپھو کے ہاں ہوتے تھے۔

اسکا دل یک دم کھانے سے اچاٹ ہوا تھا۔وہ کھانا چھوڑ کر کچن میں چلی آٸ اور چاۓ کا دودھ رکھا۔
بھاٶ۔۔۔کوٸاسکے پھیچے سے آ کر چیخا تھا اپنے خیالوں سے نکل کر وہ اچھل کر مڑی۔

توبہ ہے جواد شرم تو نہیں آتی اس طرح ڈراتے ہوۓ۔وہ اسکے بازو پر مکا مارتے ہوۓ بولا تو وہ ہنس دیا۔
کیا کر رہی ہو؟اس نے ساس پین میں جھانک کر دیکھا۔

اگر نظر آ گیا ہو تو پھیچے ہٹو مجھے چاۓ بنانی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: