Kabi Youn Bhi Ho Mere Robaro Novel by Ayesha Jabeen – Last, Episode 2

0

کبھی یوں بھی ہو ہومیرے روبرو از عاٸشہ جبیں دوسرا اور آخری حصہ

اس نے جواد کو پڑے دکھیلتےہوۓ کہا اور دودھ کو چیک کرنےلگی۔

اچھایار۔۔۔۔میرے لیے اور روزینہ کے لیے بنا دینا باقی سب تو تھوڑی دیر بعد پیۓ گے۔جواد نے کہا تو اس نے گھور کر اسکو دیکھا اور چاۓ میں اور دودھ ڈالنے لگی۔
صبا۔۔۔۔تم جانتی ہو اب کی بار دونوں پھوپھو لوگ کیوں اکھٹی وارد ہوٸ ہیں؟جواد کیبنٹ سے بسکٹ نکال کر منہ ڈالتے ہوۓ بولا۔

کیوں۔۔؟اس نے مصروف سے انداز میں پوچھا۔
اب کی بار وہ سب کے رشتے کھونٹے سے باندھ کر جاٸیں گی۔جواد ہلکا سا جھک کر بولا تو اس نے حیرانگی سے مڑ کر دیکھا۔

کیا مطلب؟اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
بھٸ۔۔۔ایک تو تمہارے دماغ کی جگہ۔۔۔۔خیر دیکھو میرا ناجیہ کے ساتھ اور اور ذایان کا رشتہ اجیہ کے ساتھ۔۔۔یہ ہم چاروں کا فیصلہ ہے۔اور روزینہ کا سلجوق کے ساتھ کرنے کا ارادہ ہے احمر کے لیے پھوپھو تمہارا ہاتھ مانگنا چاہتی ہیں۔جواد نےمزے سے بتایا تو وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی۔

جواد بھاٸ آپکو ذایان بھاٸ بلا رہے ہیں۔مبشر کچن میں داخل ہوتا ہوا بولا تو جواد باہر چلا گیا۔
آپی۔۔۔سب چاۓ کے لیے کہہ رہےہیں۔مبشر نے کہا اور باہر چلا گیا۔

اس نے خاموشی سے اور چاۓ رکھی اور سبکو دیکر گھر آ گٸ۔کمرے میں بیٹھی وہ گال پر ہاتھ رکھے سوچ رہی تھی۔اسکو پتہ نہیں کیوں یک دم دل ویران ویران سا محسوس ہو رہا تھا۔وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی۔سرجھٹکتی وہ لیٹ گٸ آج کافی تھک گٸ تھی۔سب بھاڑ میں جھونک کر وہ آنکھیں موندیں لیٹ گٸ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان لوگوں کو آۓ دو ہفتے ہو گۓ تھے۔وہ بہت بُری طرح مصروف رہتی تھی۔کبھی اس گھر کبھی اُس گھر۔گھومنے کے شاپنگ کے پلینز بنتے۔سلجوق اور روزینہ کی بے تکلفی پر وہ کڑھتی رہتی۔حلانکہ روزینہ کی دانیال کے ساتھ اور باقی سبکے ساتھ بھی تھی پر اسکو صرف سلجوق کے ساتھ اسکا بے تکلفانہ انداز اسکو چڑاتا تھا۔احمر کی باتوں کا بھی وہ ہوں ہاں میں جواب دے دیتی تھی۔
صبا۔۔۔۔کیا کر رہی ہو؟رانیہ اسکے پاس آٸ وہ لان میں بیٹھی ہوٸ تھی۔سب اندر مووی دیکھ رہے تھے جب وہ درمیان میں اٹھ کر باہر آگٸ تھی۔

کچھ نہیں بس اتنی دکھی مووی دیکھی نہیں جا رہی تھی۔مسکرا کر اس نے کہا تو رانیہ ہنس دی۔
اچھا۔۔۔۔صبا تمہیں ایک بات بتانی تھی۔رانیہ اسکے پاس جھک کر رازداری سے پُرجوش انداز میں بولی ۔

کیا بات؟صبا نے پوچھا۔
وہ۔۔۔۔احمر نےمجھے پرپوز کیا ہے۔رانیہ شرماتے ہوۓ بولی تو اسکے منہ سے خوشی سے بھرپور چیخ نکلی۔

کیا۔۔۔۔سچی احمر۔۔
آہستہ بولو۔اسکے منہ پر ہاتھ رکھتی رانیہ گھبراہٹ سے آس پاس دیکھتی بولی۔

تم سچ کہہ رہی ہو؟اس نے آہستگی سے پوچھا تو رانیہ نے گلاسسز ٹھیک کرتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا تو اسنے اسکو خوشی سے گلے لگایا۔
اسکے دل س یک دم بوجھ کم ہو گیا تھا۔وہ رانیہ اور احمر کے رشتے پر دل سے خوش ہوٸ تھی یا احمر کا خود سے رشتہ نہ جوڑنےپر اطمنیان ہوا تھا۔فرق کرنا مشکل تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے بیٹا تم نے تو میرے دل کی بات کر دی۔قدسیہ بیگم سلیمہ کی بات سن کر خوشی سے بھرپور آواز میں بولیں تھیں۔

بچوں سے انکی مرضی پوچھی ہےآپ نے؟تہذیب بیگم نے پوچھا تو سلیمہ اور نازیہ دونوں مسکرا دی
آپ بےفکر رہے اماں جان۔۔۔۔ان سب کی مرضی سے ہی یہ ہوا ہے اور دانیال اور روزینہ سے بھی میں نے پوچھا ہے ان ک بھی کوٸ اعتراض نہیں ہے۔احمر کی پسند سے تو آپ سب واقف ہی ہیں۔سلیمہ پھوپھو بولی۔تو ذکیہ بیگم اور ساجدہ بیگم دونوں نے ایک دوسرے کو پرسکون اندازمیں دیکھا۔

لیکن۔۔۔۔بھاٸ صاحب سے آپ نے مشورہ کیا ہے کیا؟صابر صاحب نے پوچھا۔
جی بھاٸ جان۔۔۔ان کے ابو کی اجازت سے ہی سب فیصلے ہوۓ ہیں ان شاء اللہ چند دنوں تک وہ آجاٸیں گے تو پھر باقاعدہ رشتہ مانگے گے ہم۔نازیہ نے جواب دیا تو انہوںنے اطمنیان سے سرہلایا۔

اللہ تیرا شکر ہے میرے بچوں کو یونہی خوش رکھنا۔قدسیہ بیگم بولی تو سب نے آمین کہا۔
اب میری بھی ایک خواہش ہے اور اب سے نہیں بہت پہلے سے ہے اگر بچوں کےماں باپ کو اعتراض نہ ہو تو؟قدسیہ بیگم بولیں۔

ارے اماں یہ کیا بات کی آپ کی خواہش سر آنکھوں پر آپ حکم کریں۔ذکیہ بیگم بولیں تو ساجدہ بیگم نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔
دراصل مں چاہتی ہوں کہ سلجوق اور صبا کی شادی ہو جاۓ اللہ جنت میں جگہ دے انکے دادا کی بڑی خواہش تھی کہ صبا انکےلاڈلے پوتے سلجوق کی بیوی بنے۔نم لہجے میں وہ بولیں تو سب نے ایک دوسرے کو خوشی سے دیکھا۔

یہ تو بہت اچھا خیال ہے اماں جان آپ نے تو میر ے دل کی بات کہہ دی۔ذکیہ بیگم نے کہا ۔
تمہیں تو کوٸ اعتراض نہیں تہذیب؟قدسیہ بیگم نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تو وہ مسکراٸ۔

ارے قدسیہ۔۔۔۔صبا اور سلجوق تو میری آنکھوں کا تارا ہیں اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہوگی۔سب نے شکر اد ا کیا۔اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا بکواس ہے۔دانیہ نے آ کر ان سب کو بریکنگ نیوز دی تو سب سے زیادہ شاکڈ صبا ہوٸ۔رانیہ ،اجیہ،ناجیہ اور روزینہ کو تو معلوم ہی تھا۔
کیا مطلب۔۔۔۔کیا بکواس بھٸ ہم سب کے رشتے طے ہوۓ ہیں اور اللہ کرکے طے ہوۓ ہیں تمہیں کیا پتہ ہم نے کتنی دعاٸیں کی ہیں دامن پھیلاۓ ہیں۔اجیہ ماتھے پر ہاتھ رکھتی بولی تو ان سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گٸ۔وہ سب اس وقت رانیہ کے روم میں بیٹھی ہوٸ تھیں۔

پلیز۔۔۔میں اپنے پرپوزل کی بات کر رہی ہوں تم سے کس نے کہا ہے میرے اور سلجوق کے رشتے کا؟وہ انکو گھورتے ہوۓ دانیہ کی طرف مڑ کر بولی تو دانیہ پھیچے ہوٸ۔
میں نے سب سچ کہا ہے ابھی سب بڑوں کی گفتگو سن کر آ رہی ہوں آپ سب کی قربانی کس کے ساتھ کرنی ہے سب طے کر لیاہے۔کہا اور ساتھ ہی بھاگ گٸ۔

واہ۔۔۔۔یہ تو وہ بات ہوٸ ”میری سہیلی میری بھابھی“ صبا تم تو میری بھابھی بن جاٶ گی واہ۔۔۔اور دیکھو تم نے تو ابھی سے بھاٸ کو سلجوق بھاٸ کے بجاۓصرف ”سلجوق“ کہا ہے۔رانیہ مزے سے بولی تو اسنے تکیہ اٹھا کرپھینکا۔
میں پھر ویسی ہی بھابھی بنو گی جیسے اس گھٹیا ڈرامے تھی سمجھی۔اسنے لفظ چباتےہوۓ کہا جبکہ روزینہ اور ناجیہ اجیہ کا ہنس ہنس کر حال بُرا ہو رہا تھا۔

چلو وہ تو بعد کی بات ہے تم بھابھی تو بن جاٶ۔رانیہ تکیہ واپس اسکی طرف پھیکنتے ہوۓ کہا تو اسنے گھور کر اسکو دیکھا ۔
مجھے نہیں شادی کرنی کسی ایکسX،واٸY ،زیZ سے بتا دو جا کر تم بابا کو۔وہ شدید غصے کی حالت میں بند آنکھوں کے ساتھ بولی۔

توبہ استغفار۔۔۔تمہیں ایکس واٸ زی سے شادی کرنے کا کہہ بھی کون رہا ہے تم بس ایس S سے کر لو۔وہ مسکراہٹ دباتی ”سلجوق“ کے نام کا پہلا الفابیٹ لیتے ہوۓ بولی۔تو اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسکو دیکھا۔
یار صبا کیا ہو گیا ہے دیکھو ہم س کتنے خوش ہیں تم کیا سلجوق کو پسند نہیں کرتی؟روزینہ نے پوچھا تو اسنے چونک کر اسکو دیکھا۔

”روزینہ اور سلجوق تو ایک دوسرے کے ساتھ۔۔۔۔پھر روزنیہ اور دانیال بھاٸ کی شادی کیسے ہو سکتی ہے“ وہ اسکو دیکھ کر سوچ رہی تھی۔
وہ سب اب بہت کچھ کہہ رہی تھی اور وہ خاموشی سے سنتی الجھے ذہہن کے ساتھ سلجوق کو سوچتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکا سب کا نکاح جمعہ کو طے ہو گیا تھا۔دونوں پھوپھا نکاح سے دو دن قبل آ گۓ تھے۔اسکا سامنا سلجوق سے نہیں ہوا تھا۔تمام لڑکیاں صبا لوگوں کے گھر تھیں جبکہ لڑکے رانیہ لوگوں کے گھر۔جواد ،ذایان اور احمر بہانے بہانے سے اُدھر آ کر ان سے ملنے کی کوشش کرتے جو مبشر دانیہ لوگ انکو دیکھتے ہی چیخ چیخ کر ناکام بنا دیتے۔دانیال آتا تو نہیں تھا پر اس نے ان سب سے بہتر کام کیا اور دن میں کٸ بار روزینہ کو ویڈیو کال کر لیتا۔ایک بس سلجوق ہی تھا جو اسکو نہ تو ملنے آیا اور نہ کوٸ کال میسج کرتا تھا۔

اسکا دل خوب اُداس تھا۔بار بار ذہہن میں یہی سوچ آتی کہ شاید اسکی اس نکاح میں مرضی شامل نہں ہے۔وہ اس سوچ کو جھٹک دیتی ۔
آج انکا نکاح تھا۔سب نے واٸٹ غرارہ پر سفید شرٹ کے ساتھ ڈیپ ریڈ کلر کا دوپٹہ لے رکھا تھا جس پر گولڈن گوٹہ لگا ہوا تھا۔نکاح کے لیے مولوی کے ساتھ صابر صاحب اور روزینہ کے ابو اندر آۓ اور جب اسکے آگے نکاح نامہ آیا تو اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ساٸن کر دیے۔

وہ انکے سروں ہر ہاتھ پھیرتے باہر چلے گۓ۔سب سے مل۔ملا کر وہ اب کمرے میں اکیلی تھی۔وہ رانیہ اجیہ ناجیہ اور روزینہ چاروں جواد احمر ذایان اور دانیال سے ملنے گٸ تھیں۔وہ بھی کمرے میں انتظار کر رہی تھی۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکا دل بے چین ہو رہا تھا۔دو گھنٹے ہو گۓ تھے اسکو انتظار کرتے ہوۓ ہر سلجوق نہیں آیا۔یک دم کمرے کا دروازہ کھلا تو اسکا دل خواشگواریت سے یک دم دھڑکا۔نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے رانیہ تھی۔اسکے دیکھنےپر اس نے یک دم پک لی۔اسکی مسکراہٹ سمٹ گٸ۔
یار کیا غضب پک آٸ ہے۔۔۔۔اور یہ کیا تم ابھی تک ایسے ہی بیٹھی ہو بھاٸ نہیں آۓ تھے کیا ؟شرارت سے اسکو دیکھ کر رانیہ نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔

کیا۔۔۔پر کیوں ماماتو کہہ رہی تھی کہ۔۔۔ٹھرو میں کال کرتی ہوں بھاٸ کو۔رانیہ نے کہا تو وہ جلدی سے اٹھی۔
کوٸ ضرورت نہیں ویسے بھی میری آنکھ لگ گٸ تھی ورنہ میں چینج کر لیتی کوٸ شوق نہیں مجھے بھی تمہارے بھاٸ سے ملنے کا۔سخت اندازمیں کہتی وہ آنکھوں کی نمی چھپاتی واشروم میں گھس گٸ۔جبکہ رانیہ اسکو دیکھتی ہی رہ گٸ۔

شیشے کے آگے کھڑی اس نے ایک ایک چیز اتار کر پھینکی۔
”وہ نہیں آیا تھا “اس نے ایک بار اسکادل توڑا تھا اور اب کی بار وہ اسکو معاف نہیں کر سکتی تھی۔آنکھوں سے نکلتےآنسوٶں کو ہاتھ کی ہشت سے صاف کیا منہ دھونے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاٸ۔۔۔۔وہ رات کا نکلا اب صبح گیارہ بجے واپس آیا تھا۔جب رانیہ نے اسکو پھیچے سے آواز دی تو تھکا تھکا سامڑا۔رات والے کپڑے ابھی تک نہیں چینج کیے تھے۔

آپ کہاں تھے فون بھی اٹینڈنہیں کیا آپ نے؟رانیہ نے پوچھا

ہاں وہ۔۔۔بس معیز کا ایکسڈنٹ ہو گیا تھا واپسی پر اسی کے پاس گیا تھا اور وہی سارا وقت لگ گیا۔معیز اسکا فرینڈ تھا نکاح کی تقریب میں شامل تھا۔اور واپسی پر اسکا ایکسڈینٹ ہو گیا تھا اسکو جیسے ہی پتہ لگ گیا وہ جلدی سے نکلا اور بتانا بھی بھول گیا۔
اچھا۔۔۔۔اب کیسے ہیں وہ؟رانیہ نے پریشانی سے پوچھا۔

اب ٹھیک ہے اسکی فیملی آ گٸ تھی اس لیے میں واپس آ گیا ہوں۔سلجوق نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا ۔
اچھا۔۔۔۔آپ بتا تو دیتے صبا انتظار کرتی رہی آپ کا۔۔۔وہ اتنی ہرٹ ہوٸ تھی آپ کے نہ آنےپر۔رانیہ نے اسکو دیکھتےہوۓ کہا تو وہ چونکا۔پریشانی میں تو وہ بھول ہی گیاتھا۔کوٸ اسکا منتظر بھی ہو سکتا تھا ۔

اچھا۔۔۔۔وہ ماتھا مسلتا ہوا بس اتنا بولا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔رانیہ بھی کندھے اچکاتےہوۓ مڑ گٸ۔
کمرے میں آ کر اس نے شاور لیا اور چینج کیا۔بالوں کو ٹاول سے خشک کرتے ہوۓ اس نے فون اٹھایا اور صبا کا نمبر ملایا۔بیل جاتی رہی پر کال اٹینڈ نہ ہوٸ۔تیسری بار کرنے پر دوسری طرف سے کال کاٹ دی گٸ تو اس نے حیرانگی سے سیل کو کان سے ہٹا یا اور د٢بارہ نمبر ملایا۔

آپ کا مطلوبہ نمبر فلحال بند ہے۔۔۔۔کی آواز کانوں میں گونجی تو فون کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ وہ مسکرایا۔
اور فریش ہو کر باہر نکل گیا۔اسکا رخ دوسرے گھر کی طرف تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب رات کے فکنشن کی وجہ سے دیر تک جاگنے کی وجہ سے اب تک سوۓ ہوۓ تھے۔وہ کافی دیر پہلے اٹھ گٸ تھی۔شدید بھوک کے احساس کی وجہ سے کچن میں چلی آٸ تھی۔فون آف کر کے روم میں چھوڑاا ور اپنے لیے ناشتہ بنانے لگی۔

وہ گھر آیا تو سارا گھر خاموشی میں گھرا ہوا تھا۔کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں سن کر وہ کچن کی طرف آ گیا تو سامنے دروازے کی طرف پشت کیے صبا کچھ بناتی ہوٸ نظر آٸ۔
گلا کھنکارتے ہوۓ وہ کچن میں داخل ہوا تو صبا چونک کر مڑی۔اسکو دیکھ کر وہ حیران رہ گٸ۔وہ قدم قدم چلتا اس سے دو قدم دور کھڑا ہو کر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسکو دیکھنے لگا۔

اسکی آنکھوں میں اب حیرانگی کی بجاۓ ناراضگی اور غصہ ہلکورے لینے لگا تھا۔خاموشی سے مڑ کر اسنے چاۓ چاۓ کی نیچے چولہا بند کیا۔
دراصل رات کو میرے ایک فرینڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اس لیے مجھے وہاں جانا پڑ گیا تھا۔اسکی ناراضگی دیکھتے ہوۓ اس نے پہلے اسکی ناراضگی دور کرنا چاہی۔اسکو اب گھبراہٹ ہونا شروع ہو گٸ تھی۔نیا رشتہ ،نیا حوالہ۔۔۔اسکو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔

کچھ کہے بغیر وہ اسکی ساٸیڈ سے نکلی ٹوسٹر سے ٹوسٹ کیے ہوۓ بریڈ نکالے اور ایک بڑی پلیٹ میں ٹوسٹ رکھ کر چاۓ کے مگ میں چاۓ انڈیلی۔
صبا۔۔۔۔سلجوق جو اسکی ساری کارواٸ خاموشی سے دیکھ رہا تھا اسکو بے نیازی سے ڈش پکڑے باہر جاتے دیکھ کر اسکو پکار اٹھا۔

آٸم سوری۔۔۔یار دراصل مجھے واقعی اندازہ نہیں تھا کہ اتنی دیر لگ جاۓ گی اگر مجھے پتہ ہوتا تم میرا ویٹ کر رہی ہو تو میں آ جاتا یا کم از کم کال ہی کر لیتا۔۔۔
مجھے آپ کی جسٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہے۔صبا اسکو ٹوکتے ہوۓ بولی اور کچن سے چلی گٸ جبکہ وہ اسکو دیکھتا ہی رہ گیا۔

”وہ اس سے اتنی ناراض ہو جاۓگی “اس نے سوچا نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر بار میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں اور بعد میں معصوم بن جاتے ہیں۔ناشتہ کرتے ہوۓ بھی اسکے ذہن میں یہی چل رہا تھا۔
اسے اب بھی یاد تھا وہ میٹرک میں تھی جب سلجوق نے باہر جانے کا اعلان کیا۔سب اسکے یوں اچانک جانے پر پریشان تھے۔حیات دادا کی وفات کے بعد ریاض دادا کی وفات نے سارے گھر کو غم کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔تب دانیال اور سلجوق دونوں نے ہی انٹر میں ٹاپ کیا تھا۔اور اب لندن کی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہتے تھے۔پر سب گھر والے مان نہیں رہے تھے۔یونہی دن گزرتے رہے۔ان دنوں اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوتا تھا۔وہ کبھی اسکے پاس بیٹھتی کبھی اُس کےپاس۔رانیہ ہر وقت پڑھنے میں مصروف رہتی۔سلجوق کے روم میں بہت بڑی لاٸیبریری تھی جو اسکو بہت پسند تھی۔وہ اکثرجایا کرتی تھی۔لاٸیبریری کا ایک دوازہ لان کی طرف کھلتا تھا وہ بور ہو رہی تھی جب سلجوق کی لاٸیبریری میں آ گٸ جب ذکیہ بیگم کی آواز سن کے اسکے قدم الماری کے پھیچے ہی تھم گۓ۔

بیٹا یہ تمہارےدادا کی خواہش تھی اور اگر وہ زندہ رہتےتو وہ خود یہ رشتہ کرتے۔
یہ کس کے رشتے کی بات کر رہی ہیں خالہ جان؟اس نے حیرت سے سوچا۔

لیکن ماما آپ جانتی ہیں میں ابھی ایسے کسی بھی قسم کی ریلشن میں نہیں پڑنا چاہتا اور ابھی میری ایج کیا ہے مجھے ابھی اپنی تعلیم اور کیریٸر پر فوکس کرنا ہے جو میرے لیے بہت ضروری ہے۔سلجوق کی آواز آٸ تھی۔
تو ہم کیا کہہ رہے ہیں بس جانے سے پہلے منگی یا نکاح کر لو ہم لوگ صبا کی مرضی سے ہی سب کچھ کریں گے اور تم تو میرے بیٹے مان ہو اپنےا دادا کی خواہش ضرور پوری کرو گے مجھے یقین ہے۔وہ سلجوق کا چہرہ تھام کر بولیں تھیں اور وہ اپنا نام سن کر جیسے تھم گٸ تھی۔وہ کوٸ بچی تو نہیں تھی سترہ سال کی باشعور لڑکی تھی۔

ماما پلیز۔۔۔ابھی کوٸ بات مت کرے کسی سے اور آپ یقین رکھے میں واپس آ کر آپ کی مرضی سے ہی شادی کروں گا اور اُدھر پھوپھو کو بیشک آپ میری نگرانی پر لگوا دیجے گا۔سلجوق نے جھنجھلاۓ انداز میں کہا تو وہ چونکی۔
وہ باہر نکل گٸ تھی۔اور تب وہ لاشعوری طور پر سلجوق کے متعلق سوچنے لگی تھی۔سلجوق کا رویٸہ اسکے ساتھ نارمل ہی تھا پر وہ چینج ہو گٸ تھی۔ایک دن وہ چھت پر جا رہی تھی۔سلجوق اور دانیال چھت پر موجود تھے ۔سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آواز سن کر سلجوق نے پوچھا

کون ہے دانیال؟بیزار سا لہجہ۔
صبا ہے یار۔دانیال نے ہلکا سا دروازے سے جھانک کر دیکھا اور کہا۔تب تک وہ اوپر پہنچ چکی تھی۔

یار کیا مسلہ ہے اسکو ہر وقت پھیچے لگی رہتی ہے۔سلجوق کی بیزار سی آواز اسکے کانوں تک پہنچی تھی۔اسکے قدم تھم سے گۓ تھے۔وہ آگے بڑھے بغیر ایک لمحہ ضاٸع کیے بغیر نیچے چلی گٸ تھی۔اس کو سلجوق کا انداز بہت برا لگا تھا۔پھر جب ایک دن سلجوق سب کے ساتھ بحث کر کے لان میں بیٹھا تھا وہ اسکے پاس آ ٸ۔سلجوق ایسا ہر گز نہیں تھا وہ بہت فرمابردار بچہ تھا۔پر باہر جا کر پڑھنا وہ بھی سکالرشپ پر اسکا خواب تھا جس سے دستبردار ہونا اسکو قبول نہ تھا۔کوٸ ایک مانتا تو دوسرا اڑ جاتا تھا۔وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھا تھا جب وہ اسکے پاس آٸ۔
سلھوق بھاٸ۔۔۔۔کیا ہوا ہے ؟اس نے نرمی سے پوچھا

کچھ نہیں۔سلجوق نے سر اٹھاۓ بغیر کہا ۔
پھر آپ ایسے کیوں بیٹھے ہیں؟اس نے ایک اور سوال کیا اور سلجوق نے غصے سے سر اٹھایا۔

صبا تم ہر وقت میرے سر پر کیوں سوار رہتی ہو پڑھ بھی لیا کرو جب دیکھو دوسروں کے سروں پر سوار رہتی ہو۔سلجوق نے غصے سے بھرپور لہجے میں کہا تو اسکی آواز جیے گم ہو گٸ۔وہ کچھ کہے بغیر آنسو دباتی پلٹی اور باہر نکل گٸ۔
پھر ایک ہفتے بعد سلجوق اور دانیال دونوں باہر چلے گۓ۔تہذیب بیگم نے ہی سب کو منایا تھا۔اور پھر سلجوق چلا گیا اور اسکا غصہ بڑھتا بڑھتا چڑ بن گیا۔وہ سلجوق سے زیادہ بات نہ کرتی اسکا کام ناک بھو چڑھا کر کرتی ۔پر اب نکاح کے بعد اسکے خیالات خود بخود بدل گۓ تھے۔نکاح سے پہلے پورا ہفتہ اس نے سلجوق کو سوچنے میں صرف کردیے اسکو ان باتوں کے لیے معاف کر دیا جنکا سلجوق کو اندازہ بھی نہیں تھا۔پر سلجوق کا رویٸہ کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبر کر دیتا جس طرح آج سے پانچ چھ سال پہلے اس نے انکار کیا تھا کہیں ابھی بھی وہ راضی ہے یا نہیں۔پھر نکاح کے بعد سلجوق کا نہ آنا اتنی بڑی بات نہیں تھی جتنا اس غصے ،بدگمانی اور دل ٹوٹنے نے بنا دیا تھا۔اور وہ غصے میں اس سے بات نہیں کر رہی تھی۔

میری طرف سے بھاڑ میں جاٸیں۔اس نے جھلا کر سوچوں سے دامن چھڑایا اور ٹھنڈی چاۓ پینے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھوپھو لوگ واپس چلے گۓ تھے۔جواد اور ذایان بھی ساتھ ہی گۓ تھے۔رانیہ تو کافی اداس تھی(احمر کے جانے کی وجہ سے)پر وہ نارمل تھی۔اسکا کالج سٹارٹ ہو گیا اور رانیہ کی یونی تو روٹین تبدیل ہو گٸ تھی۔وہ اب رانیہ لوگوں کے گھر سلجوق کی غیر موجودگی میں جاتی تھی۔کلاس میں بھی سر جھکاۓ لیکچر لیتی رہتی۔نہ سلجوق کی کا ریسیو کرتی اور نہ کسی میسج کا رسپانس کرتی پر رانیہ اسکو اکثر چھیڑتی بھی اور وہ جواب بھی دیتی۔پھر رانیہ کا ”احمر نامہ“ بھی سنتی رہتی۔کالج میں انکی کلاس میں ایک گروپ تھا مہرین اور اسکی تین دوستیں وہ کلا س کی مانیٹر تھی۔وہ سٹوڈنٹ کم اور چلتا پھرتا ماڈل زیادہ لگتی تھی۔صباسے اسکو آجکل کوٸ خاص پرخاش تھی۔سلجوق سے خوامخواہ فری ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔
اس دن کوٸ بات بھی نہ تھی جس پر وہ اس سے بحث کر رہی تھی۔ہوا بس اتنا تھا کہ وہ کلاس میں پندرہ لیٹ آٸ تھی سلجوق کلاس میں ہی تھا۔سلجوق اپنی کلاس کی ٹاٸمنگ پر کمپرو ماٸز نہیں کرتا تھا۔سلجوق کے پوچھنے پر اس نے بتایا۔

سر میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس لیے تھوڑی دیر ہو گٸ۔اس نے سنجیدگی سے بتایا توسلجوق نے سر ہلاتے اسکو بیٹھنے کی پرمیشن دے دی۔اس نے کلاس میں کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ کہ سلجوق اسکا منکوح یا کزن ہے حالنکہ ثوبیہ لوگوں کو بھی نہیں۔کلاس کے بعد وہ سر تھامے بیٹھی تھی جب مہرین اپنی فرینڈ کے ساتھ اسکے پاس آٸ۔
چچچ۔۔۔۔کچھ لوگوں کو توجہ لینے کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔مہرین کی تمسخر سے بھری آواز اس کے پاس سے ابھری تو اس نے بمشکل سر کو اٹھایا۔سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔مہرین اسی کو گھور رہی تھی۔

کیا مطلب ہے؟اس نے تحمل سے پوچھا تو مہرین نےہنستے ہوۓ اپنی دوستوں کی طرف دیکھا اور پھر اپنی نظریں اسکی طرف گھماٸ جو ایک ہاتھ سے سر تھامے اسکودیکھ رہی تھی۔
تبھی ثوبیہ لوگ اسکےپاس آٸی۔وہ دوسری طرف بیٹھی ہوٸ تھیں۔

صبا کیا ہوا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری کیاہوا ہے؟ثوبیہ نے پریشانی سے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
کچھ نہیں بس سر میں تھوڑا درد ہو رہا تھا۔اس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔

ثوبیہ چیک تو کرو درد ہو بھی رہا ہے یا نہیں اب سر سلجوق کی کلاس تو لینے یہ آ گٸ تھی اب میم رشنا کی کلاس لینے کے لیے اسکی طبیعت خراب نہ ہو جاۓ ۔مہرین ثوبیہ کو دیکھ کر بولی اسکا انداز صاف صاف مذاق اڑاتا ہوا تھا صبا نے بیزاری سے سر جھکایا۔ثوبیہ کو تو اسکی بات نے طیش دلا یا۔اسکے ذومعنی فقرے تو وہ بہت دنوں سے برداشت کر رہی تھیں آج تو جیسے اسکا ضبط ختم ہو گیا اور وہ مہرین پر چڑھ دوڑی۔صبا نے ایک دو بار روکنے کی کوشش کی پر وہ تو بازو چڑھاتی میدان میں کود پڑی۔اور پھر انکی جو لڑاٸ شروع ہوٸ تو الاامان۔
اف۔۔۔۔۔شرم کرو کچھ تو ماسٹرز کی سٹوڈنٹز ہو اور پلے کلاس کی بچوں کی طرح لڑ رہی ہو۔۔۔اور مہرین یہ لو سلجوق سر ٹیسٹ ریٹرن کر کے گۓ ہیں اور تم لوگوں کو لڑتے ہوۓ بھی دیکھ چکے ہیں۔کلاس کی ایک لڑکی انکے پاس آ کرغصے سےبولی تو ان سب کی بولتی بند ہوٸ۔صبا نے سارے وقت کے دوران سر تھامے رکھا وہ ان دونوں کو نہیں روک سکتی تھی۔سلجوق کا سن کر اس نے بے اختیار سر اٹھایا تھا۔مہرین نے جھپٹ کر ٹیسٹ پکڑے اور ان پر ایک تیز نظر ڈال کر اپنے گروپ سمیت مڑ گٸ تو اس نے بے اختیار شکر اداکیا۔

چلو صبا کینٹین چلو کھا کر پین کلر لے لینا اور اس مہرین کو تو دفع کرو عادت ہے اسکی تو جب سے اسکو پتہ لگا ہے کہ ٹیچرز تمہیں مانیٹر بنانا چاہتے ہیں اسکو تپ چڑھ گٸ ہے۔ثوبیہ دروازے کو دیکھتی ہوٸ بولیں جہاں سے ابھی مہرین لوگ نکل کر گۓ تھے۔
چھوڑو۔۔۔۔میں نے ویسے بھی ٹیچرز کو منع کر دیا ہے تین چار ماہ تو رہ گۓ ہیں اور پلیز مجھے ادھر ہی کچھ لا دو کھانے کو میرا دل نہیں ابھی جانے کو۔اس نے سر دباتے ہوۓ کہا تو ثوبیہ نے سر ہلایا۔

ٹھیک ہے میں ادھر ہی لیکر آتی ہوں ساتھ پین کلر بھی لے آٶں گی۔ثوبیہ نے کہا اور رمیضہ کے ساتھ باہر نکل گٸ۔تو اسنے آنکھیں بند کے سر چٸیر سے ٹکا لیا۔
تبھی سیل کی واٸیبریشن پر اس نے آنکھیں کھول کر بیگ کی پاکٹ سے سیل نکالا۔

صبا۔۔۔۔کیا ہوا ہے طبعیت زیاہ خراب ہے تو میں گھر لے جاتا ہوں؟سلجوق کا میسج تھا۔
میں ٹھیک ہوں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس نے تڑختے ہوۓ انداز میں میسج کا ریٸپلاٸ کیا اور فون بیگ میں پھینک کر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رانیہ یار پلیز کب جاناہے تمہاری اس چپکو دوست نے؟صبا نے رانیہ کی فرینڈ کو دیکھ کر سیل پر میسج ٹاٸپ کیا اور سینڈکر دیا۔رانیہ کی فرینڈ پچھلے دو گھنٹوں سےمسلسل رانیہ کے پاس آٸ بیٹھی تھی۔جس کی نان سٹاپ باتوں کو سن کر اسکا دل اکتا چکا تھا۔رانیہ نے اسکا میسج پڑھا اور اسکو دیکھ کر شرارت سے مسکراٸ۔

ارے زینب۔۔۔ہاں یاد آیاتم کہہ رہی تھی کہ تمہیں میری بھابھی دیکھنی ہے؟رانیہ کی آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸ تو اس نے جھٹکے سے اپنی گردن سیدھی کی۔
ہاں یار دکھا بھی دوپلیز تمہارے بھاٸ تو بہت ہینڈسم ہیں تو انکی مسز بھی کم نہیں ہوگی۔زینب پُرجوش انداز میں بولی تھی۔رانیہ نے مسکراتے ہوۓ صبا کی طرف اشارہ کیا جسا چہرہ لال بھبھو ہو رہا تھا۔

کیا؟زینب نا سمجھی سے دیکھتے ہوۓ بولی۔
بھٸ میری بیسٹ کزن ،بیسٹ فرینڈ صبا ہی تو میری بھابھی ہے۔اس سے نکاح ہوا ہے بھاٸ کا۔رانیہ نے مسکرا کر ہاتھ سے اشارہ کیا تو زینب نے حیرانگی سے اسکو دیکھا۔

صبا۔۔۔سے؟زینب نے اسکی طرف دیکھا تو وہ بمشکل تکلفاً مسکراٸ۔
کہیں محبت وحبت کا سین تو نہیں تھا؟زینب نے شرارت سے رانیہ کو دیکھکر پوچھا اور اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارتی ہنس دی۔صبا نے کھا جانےوالی نظروں سے اسکو دیکھا۔

کوٸ ایسی ویسی۔۔۔جانتی ہو بھاٸ کو تو اس کے نام سے اتنی محبت اتنی عقیدت ہے کہ وہ جو صبا لوڈ والی ہے۔۔ جو میسجز کر کےلوڈ مانگتی ہے اسکو بھی بیلنس کروا دیتے ہیں بس یہ دیکھ کر کہ اسکا نام صبا ہے۔۔۔تو سوچو صبا سے کتنی کرتے ہوں گے۔۔۔۔بھٸ محبت۔رانیہ اسکےہاتھ پر ہاتھ مارتی ہسنتے ہوۓ بولی تو جہاں زینب نے اسکو رشک بھری نظروںسے دیکھا وہیں صبا نے اپنا غصہ بمشکل ضبط کیا۔
یار۔۔۔صبا تم کتنی لکی ہو۔زینب رشک بھرے انداز میں بولی تو صبا نے خود کو گہری سانس لیکر نارمل کیا اور پھر چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ لاٸ اور رانیہ کو دیکھا۔

رانیہ۔۔۔تم ایسا کرو اپنے بھاٸ کو ایک گفٹ پیکرمیں پیک کرو اور زینب کو گفٹ کر دو اسکی برتھ ڈے آرہی ہے نہ اور آپ۔۔۔۔۔زینب کو دیکھا جو اسکو ہی دیکھ رہی تھی۔
آپ جو ابھی رشک سے مر رہی ہیں گفٹ کے طور پر مل جانے کے بعد صدمےکے باعث ہارٹ اٹیک سے مر جاٸیں گی ۔۔۔یار صبا کتنی لکی ہو تم۔۔۔آخر میں اسکے الفاظ چبا کر بولتی باہر نکل گٸ جبکہ زہنب نے حیرانگی سے رانیہ کو دیکھا۔

ہیں یہ کیوں کہہ کر گٸ ہے ؟زینب نے پوچھا۔
چھوڑو اسکو دماغ خراب ہے تم بتاٶ سر داور کا کیا کہہ رہے تھے۔رانیہ نے اسکا دھیان بٹایا اور خود صبا کہ شکل یا د کر کے مسکرا دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے میں لاٶنج سے نکلی تو سیدھا سلجوق کے سامنے رکی جو لاٶنج کے باہر کھڑا تھا۔ایک ہاتھ میں کوٹ تھامے اور دوسرے میں فون پکڑے وہ ابھی کہیں باہر سے آیا تھا۔

اففف۔۔۔انہوں نے سن تو نہیں لیا کہیں؟اس نے جھنجلا کر سوچا۔
اسلام علیکم!اس نے جلدی سے سلام جھاڑا۔

واعلیکم سلام!سلجوق نے بھرپور مسکراہٹ سے جواب دیا۔وہ مڑنے لگی تو سلجوق نے آواز دی۔
صبا۔۔۔

جی۔۔اس نے مڑ کو پوچھا۔
میں کمرے میں جا رہا ہوں میرے لیے ایک کپ چاۓ کا بنا کر کمرے میں لے آٶ۔اس نے حکمیہ انداز میں کہا اور اسکا جواب سنے بغیر آگے بڑھ گیا تو وہ اسکی پشت ک گھور کر رہ گٸ۔

چاۓ بنا کر کمرے میں لے آٶ جیسے ملازمہ ہوں نہ میں انکی۔بڑبڑاتے ہوۓ چاۓ بنا کر اس نے چاۓ کپ میں انڈیلی اور ساسر میں رکھ کر ڈش میں رکھ کر زلیخہ کو آواز دی۔تو وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو گٸ۔
یہ چاۓ لو اور سلجوق کے کمرے میں انکو دے آٶ اور اگر میرا پوچھیں تو کہہ دینا وہ چلی گٸ تھیں اور چاۓ تمہیں بنانے کا کہہ کر گٸ تھیں۔۔۔۔ٹھیک ہے۔ڈش اسے پکڑا کر اچھی طرح سمجھایا تو وہ اسکو حیرانگی سے دیکھ کر سر ہلاتی مڑ گٸ۔

مجھے کوٸ شوق نہیں آپ کی خدمتیں کرنے کا۔اسنے دل میں سوچا اور پھر خود بھی کچن سے نکل گٸ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازے پر دستک سن کر اس نے مسکراتے ہوۓ دروازہ کھولا پر دروازے پر صبا کے بجاۓ زلیخہ کو دیکھ کر اسکو تیوری چڑھی۔
صبا کہاں ہے؟بگڑے موڈ کے ساتھ اس نے پوچھا تو زلیخہ چابی لگی گڑیا کی طرح بولنے لگی۔

وہ بھاٸ گھر چلی گٸ ہیں اور مجھے چاۓ بنا کر۔۔۔مطلب چاۓ بنا کر آپ کو دینے کا کہاتھا۔
ٹھیک ہے۔چاۓ پکڑ کر دروازہ بند کیا اور ہنس دیا۔جانتا تھا چاۓ بناٸ صبا نے ہی ہے جان بوجھ کر زلیخہ کے ہاتھ بھیجی ہے۔

لگتا ہے مجھے اب بات کرنی ہی پڑے گی۔اس نے سوچا اور چاۓ لیے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کافی سردی تھی۔اس نے کالج سے چھٹی کر لی تھی۔
میری لیو مارک کروا دینا اور کوٸ ضروری کام ہو تو مجھے انفارم کر دینا۔۔۔اس نے ثوبیہ اور حنا دونوں کو میسج کر دیا اور فون رکھ دیا۔مہرین لوگوں سے اس دن کے بعد براہ راست کوٸ بات تو نہیں ہوٸ تھی پر وہ انکے گروپ کے پھیچے ہاتھ دھو کر پڑگٸ تھی۔وہ اسکو کوٸ جواب نہیں دیتی تھی۔کبھی کبھی اسکو مہرین کو دیکھ کر ہنسی آتی کہ جس سلجوق سر کے پھیچے وہ پاگل ہے اگر وہ جان جاۓ کہ اسکا نکاح مجھ سے ہوا ہے تو کیا حالت ہوگی اسکی۔اسنے سوچا تو ایک بھرپور قہقہ اسکے ہونٹوں سے نکلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے نو بج رہے تھے۔آج رانیہ لوگ ان لوگوں کے گھر انواٸٹڈ تھے۔کھانے سے فارغ ہو کر وہ چاۓ بنانے آٸ تھی۔رانیہ ابھی باہر گٸ تھی اس نے چاۓ چولہے پر رکھی اور کپ ٹرے میں سیٹ کرنے لگی۔

پھیچے سے گلا کھنکارنے کی آواز سن کر وہ تھم گٸ۔ہلکا سا چہرہ موڑ کر دیکھا تو وہی تھا۔وہ اسکا ہر انداز پہچان جاتی تھی۔۔
کوٸ کام تھا آپکو؟گردن سیدھی کر کے اس نے نارمل سے انداز میں پوچھا تھا(وہ الگ بات تھی دل کی دھڑکن نارمل نہیں رہی تھی)۔

نہیں وہ رانیہ نے کہا کہ تم کچن میں اکیلی ہو تو میں نے سوچا میں تمہارے پاس آ جاتا ہوں۔جواب میں نارمل انداز میں اس نے کہا ۔دل کی آواز دباتی وہ خاموش رہی۔
مہرین لوگوں سے کیا مسلہ چل رہا ہے؟ چند لمحوں بعد اس نے پوچھا۔وہ مڑی اور تھوڑا گھور کر بولی۔

ہمارا ان سے کوٸ مسلہ نہیں چل رہا اور ہاں آپ وہاں پڑھاتے ہیں یا لڑکیوں کو مانیٹر کرتے ہیں؟دونوں بازو سینے پر باندھے اس نے تپانے والے انداز میں اس سے پوچھا۔سلجوق نے اسی کے انداز میں سینے پر بازو باندھے اور مسکراتا ہوا بولا۔
میں وہاں لڑکیوں کو نہیں صرف ایک لڑکی ”تمہیں“(انگلی سے اسکی طرف اشارہ کیا) مانیٹر کرتا ہوں۔کوٸ تپ گیا تھا پر وہ سلجوق نہیں تھا۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتی چاۓ ابلنے کی آواز پر تیزی سے مڑی۔

افف۔۔۔۔اس نے سارا غصہ ساس پین کو سلیب پر پٹختے ہوۓ نکالا۔
صبا۔۔۔۔یہ ناراضگی کب تک قاٸم رکھنے کا ارادہ ہے؟سلجوق اسکے غصے کو دیکھ کر بولا۔

کیوں آپ کو کیا مسلہ ہے میری ناراض رہنے سے؟تڑختے ہوۓ اس نے پوچھا۔(آج تین ماہ بعد انکو یاد آیا ہے کہ میں ناراض بھی ہوں)۔دل میں سوچتی زبان سے بلکل متضاد بولتی وہ اسکا دھیان بھٹکا رہی تھی۔
صبا۔۔۔۔مجھے لگا تھا کہ تم مجھ سے نکاح کے دن تم سے نہ ملنے پر ناراض ہو پر اب لگ رہا ہے کہ تم تو بہت عرصے سے مجھ سے ناراض ہو۔۔۔۔لیکن میں یہ نہیں جان سکا کہ کیوں؟اسکا انداز اب تھوڑا الجھا تھوڑا سنجیدہ تھا۔ اس نے پلکیں جھکاٸ۔

آپ۔۔۔۔۔کو میری ناراضگی اب نظر آٸ ہے؟یہ جواب نہیں تھا ۔

نہیں۔۔۔۔۔جس دن تم نے میرے ساتھ بیٹھ کر چاۓ پینے کی آفر پر کہا تھا ”میں نے تمہیں لندن جانے سے پہلے کہا تھا کہ تم میرے سر پر سوار مت رہا کرو“ اس بات کو لیکر ناراض ہو۔۔۔اسکے بعد تمہارا روٸیہ مجھ سے بدل گیا تھا۔۔۔اور پھر میں جو کہ اتنا خوش اخلاق بندہ تھا تمہیں بد اخلاق،بند زبان اور سڑا ہوا لگنے لگا تھا۔(وہ ہلکاسا ہنسا تھا)پر صبا اُن دنوں میں بہت ٹینس تھا مجھے اپنا کیر ٸیر بنانا تھا۔پرکوٸ مان ہی نہیں رہا تھا اس لیے بس میں تم سے مس بیہیو کر گیا اور اگر تم غور کرتی تو تم جان جانتی کہ ان دنوں رانیہ دانیال یا جواد سب لوگوں کےساتھ میرا ایسا ہی بیہیو ٸیر تھا۔سلجوق اسکی ناراضگی بلکہ خود ساختہ ناراضگی دور کرنے کے لیے بغیر رکا بولا تھا۔وہ اس سے محبت کرتاتھا اور اسکو یقین دلانے کے لیے کچھ بھی کر سکتاتھا۔سلیب کو اپنے ناخن سے کھرچتی وہ خاموش کھڑی تھی۔چولہا جل رہا تھا جبکہ چاۓ ساٸیڈ پر رکھی دوبارہ بننے کا انتظار کر رہی تھی۔
صبا۔۔۔اسکو خاموش نظریں جھکاۓ دیکھ کر بولا تو اس نے بمشکل اسکو دیکھا۔

آٸم سوری۔۔۔اسکو نگاہ میں رکھتے ہوۓ وہ دھیمے لہجے میں بولا تو اثبات میں سر ہلاتی مسکرا دی۔وہ اب مزید خود ساختہ ناراضگی کتنی دیر قاٸم رکھ سکتی تھی۔
شکر ہے۔۔۔اس نے بے اختیار شکر اد ا کیا تو وہ مسکراتی ہوٸ مڑ کر چاۓرکھنے لگی

دادی چاہتی ہیں کہ اب ہماری رخصتی ہو جاۓ۔سلجوق نے کہا تو اس نے چہرہ موڑ کر اچانک اسکو دیکھااورحیرانگی سے پوچھا۔
کیا۔۔۔۔رانیہ نے تو ایسا کچھ ذکر نہیں کیا؟۔

وہ اس لیے کہ رخصتی میری اور تمہاری ہونی ہے ۔ان سب کی نہیں۔سلجوق مسکرا کر بولا تو اسکا منہ کھل گیا۔
کیا مطلب۔۔۔نکاح تو سبکا اکھٹا ہوا تھا تو رخصتی میری اور آپکی ہی کیوں ہو رہی ہے؟اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتے اس نے بڑی مشکل سے اپنی بات کی۔

وہ اس لیے کہ ان لوگوں کا ابھی پلین نہیں جبکہ میرا تو نکاح کے ساتھ ہی رخصتی کا ارادہ تھا پر فرینڈ کے ایکسیڈ نٹ نے موقع ہی نہیں دیا ورنہ اب تک۔۔۔۔وہ ادھوری بات چھوڑتا اسکو دیکھ کر شرارت سے مسکرایا تو اس کو اپنے گال دہکتے ہوۓ محسوس ہوۓ۔سلجوق نے دلچسپی سے اسکو دیکھا اور پھر قہقہ اسکے لبوں سے آزاد ہوا اس نے شرمندگی چھپانے کو اسکی طرف سے منہ موڑ لیا۔
بھاٸ اب میں آ جاٶں۔۔۔۔اُدھر آپ لوگوں کی رخصتی کنیسل ہو رہی ہے۔رانیہ اندر آتی بولی ۔

کیوں؟سلجوق نے حیرت سے پوچھا۔
کیا مطلب کیوں بھٸ۔۔۔سب کا نکاح اکھٹا ہوا ہے تو رخصتی بھی اکھٹی ہونی چاہیے نہ۔رانیہ نے پلکیں جھپکاتے معصومیت سے کہا۔

سلجوق اسکو دیکھتا جلدی سے باہر نکلا تو اس نے سکون کا سانس لیا۔جبکہ رانیہ ہنستے ہوۓ اسکے گلے لگ گٸ۔
مبارک ہو اگلے ماہ رخصتی طے ہوٸ ہے۔رانیہ اسکو گلےلگا کر خوشی سے بولی تو اس نے سکون سے آنکھیں موندیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تین چار دن کی چھٹی کے بعد وہ کالج آٸ تھی۔شاپنگ کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔آج بھی بڑی مشکل سے وہ اجازت لیکر کالج آٸ تھی۔کلاس میں اسکے داخل ہوتے ہی یک دم خاموشی چھا گٸ۔وہ اِدھر اُدھر دیکھتی ثوبیہ اور ارم کے پاس گٸ۔

کیا ہوا؟سب لوگ خاموش کیوں ہو گۓ ہیں؟اس نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔چد لمحوں تک کوٸ نہ بولا تو اس نے ابرو اچکاتے ہوۓ ثوبیہ سے پوچھا۔
تمہیں پتہ ہے سلجوق سر کی شادی ہے چند دنوں بعد؟ثوبیہ نے اپنے تاثرات نارمل رکھے۔

اچھا۔۔۔۔واقعی!اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی دبا کر حیرانگی کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ پوچھا۔ہ
ہاں اور۔۔۔تمہیں پتہ ہے سرکا تو نکاح بھی ہو چکا تھا کب سے؟ابکی بار حنا نے کہا تو وہ ٹھنکی۔

اچھا۔۔۔اسنے بس اتنا کہا۔
اورکمینی تم نے ہمیں بتایا بھی نہیں کہ انکا نکاح تم سے ہوا ہے تم انکی کزن پلس واٸف ہو۔اچانک ساری کلاس کھڑی ہو کر چیختے ہوۓ بولی تھی۔اس نے کانوں پر ہاتھ رکھتے آنکھیں بند کیں۔

اس نے منع کیا تھا سلجوق کو کہ وہ کالج میں کسی کو مت بتاٸیں کہ انکا نکاح ہو چکا ہے اور انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا پر یہ سب۔۔۔
شرم تو نہیں آتی۔۔۔

مٹھاٸ ہی کھا دیتی۔
ٹریٹ دینے سے بچنے کے لیے ایسی گھناٶنی حرکت۔

مختلف آوازیں آتی اور اسکا منہ کیک سے بھر جاتا۔وہ سب اسکے منہ کے اندر اور منہ کے باہر کیک لگا کر پتہ نہیں بدلہ لے رہی تھیں یا پھر اسکو مبارک باد دے رہی تھی۔اچانک مہرین سامنے آٸ اسکا چہرہ مسکرا رہا تھاپر آنکھیں اداس تھیں۔اس نے اسکو گلے لگا کر مبارک باد دی اور کیک منہ میں ڈالا البتہ منہ پر لگانےسے گریز کیا۔وہ بھی خوشدلی سے مبارک باد وصول کرتی رہی۔
بیٹا بہت مبارک ہو آپکو نکاح کی۔میم سلبیہ کی آواز پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔وہ لیکچر لینے آٸیں تھیں۔اس نے لال پیلی نیلی ہوتے ہوۓ بمشکل مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔اور پھر ہر آنے والے ٹیچر نے اسکو مبارک باد دی۔اور وہ شرم سے لال پیلی ہوتی وصول کرتی گٸ۔

سلجوق کے کلاس میں اینٹر ہونے پر پوری کلاس نے اوہ۔۔۔۔کی آوازیں نکالی۔
اس سے تو سر نہ اٹھایا گیا۔اس دن کوٸ پڑھاٸ نہ ہوٸ۔پورا لیکچر وہ کبھی سلجوق اور کبھی اسکو چھیرتی رہیں۔

ٹیچرز کوکس نے بتایا ہے میرے اور انکے نکاح کا؟آخری لیکچر کے بعد اس نے ثوبیہ کا بازو پکڑ کر پوچھا۔
اوہ۔۔۔۔انکے۔۔۔

بکواس نہ کرو اور بتاٶ مجھے۔اس نے اسکا بازو زور سے دبایا تو وہ ہلکا سا چیخی۔
وہ ہم سب نے۔۔۔۔بتایا ہے۔ثوبیہ نے کہا اور بازو چھڑوا کر ہنستے ہوۓ بھاگ گٸ۔وہ بس دیکھ کر رہ گٸ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا؟سلجوق گاڑی ڈراٸیو کرتا سامنے سے نظر ہٹا کر اسکو دیکھتا ہوا بولا۔وہ جو خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی۔واپسی پر اس نے سلجوق کے ساتھ مارکیٹ جانا تھا پسند کا براٸیڈل ڈریس لینے۔

اس نے کوٸ جواب نہ دیا تو سلجوق نے یوں سر ہلا کر گاڑی روکی جیسے وہ سمجھ گیا کہ وہ کیوں چپ چپ ہے۔
اتبی مبارکبادوں کو وصول کر کے کیا خوشی سے زبان بند ہو گٸ ہے؟ اسکی طرف مڑتے ہوۓ اس نے پوچھا۔

آپ کی بند زبان جو بہت چلنے لگی ہے۔آپ کو کس نے کہا تھا کہ آپ سب کو بتاٸیں کہ ہمارا نکاح ہوا ہے منع بھی کیا تھا پر آپ پر میری کوٸ بات سمجھ نہیں آتی آنکھیں بند کیے غصے سے بول رہی تھی۔جب سلجوق نے جواب نہ دیا تو اس نے آبکھیں کھولیں۔تو سلجوق کو ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے مسکراتے دیکھ کر اسکا سارا غصہ اڑن چھو ہوا۔
مجھے اتنی شرمندگی ہو رہی تھی سب کیا سوچ رہے ہوں گے گرلز تک تو ٹھیک تھا۔۔۔پر سب ٹیچرز کو بھی پتہ لگ گیا ہے۔اس نے نظریں جھکا کر کہا ۔

مجھے تو لگا تھا کہ میرا ساتھ تمہیں دوسروں کی نظر میں معتبر کرے گا پر تم تو شرمندہ ہو رہی ہو۔سلجوق کی آواز میں افسوس تھا۔صبا نے فوراً چہرہ اٹھا کر اسکو دیکھا جسکے چہرے پر افسوس صاف نظر آ رہا تھا۔
میرا یہ مطلب نہیں تھا سلجوق آپ۔۔۔سمجھ نہیں رہے۔۔اس نے جلدی سے کہا تھا اسکو سمجھ نہیں آیا کہ کیسے بتاۓ۔

صبا۔۔۔۔وہ اسکا ہاتھ تھامے بولا تھا۔
تم میری خوشی ہو۔۔۔۔اور خوشی کو ہمیشہ شٸیر کرنا چاہیے اور یار کلاس نے مجھ سے پوچھا اور میں نے بتا دیا۔۔بس باقی ٹیچرز کو تو انہوں نے بتایا پر یار تم نے دیکھا نہ سب کتنا خوش ہو رہے تھے۔سلجوق نے کہا تو اس نے نگاہ اٹھا کر دیکھا وہ ہلکا سا جھکا اسکو چہرے کو نگاہ میں رکھتا بول رہا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا تو سلجوق نے مسکراتے ہوۓ اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی۔

ہاتھ چھوڑیں لیٹ ہو رہیں ہے ہم اور آپ۔۔۔۔۔وہ بلش کرتی بولی تو سلجوق نے ہنستے ہوۓ ہاتھ چھوڑا۔
آج صرف تمہاری بات مان رہا ہوں آگے کی امید مت رکھنا۔سلجوق نے مسکراتے ہوۓ کہا تو اس نے سلجوق کو گھور کر چہرہ موڑ لیا۔
وہ اس سے محبت کرتی تھی اور وہ اس سے محبت کرتا تھا۔وہ اسکی عزت کرتا تھا وہ جانتی تھی۔اسکی بدتمییزیوں پر کبھی خفا نہیں ہوا تھا۔وہ ہمیشہ اسکی عزت کرتا تھا۔اور کسی بھی رشتے کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے ”محبت“ اور ”عزت“ اور یہ دونوں انکے درمیان تھیں۔خوشیاں اسکے دل میں رقص کر رہی تھیں۔
ختم شد

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: