Kaho Mujh Se Mohabbat Hai by Iqra Aziz – Episode 1

0

کہو مجھ سے محبت ہے از اقراء خان قسط نمبر 1

ہاں میں بس پہنچ رہی ہوں ۔۔آج زرا کام زیادہ تھا میری ماں ۔۔۔تم میری چھوٹی بہن ہو زرش تو چھوٹی ہی بن کے رہا کرو اور امی کو کہنا پریشان مت ہوں میں ابھی 10 پندرہ منٹ میں آ جاتی ہوں ۔۔۔ وہ پیدل ۔چل رہی تھی شہر اگے ہونے کی وجہ سے کوئی رکشہ وہاں نہیں جاتا تھا اور اسے وہاں سے ہمیشہ پیدل چل کر جانا پڑتا تھا شہوار نے ایک نظر گھڑی کی جانب دیکھا جو رات کے گیارہ بجا رہی تھی گرمیوں کے دن تھے اور اسے ڈر بھی نہیں لگ رہا تھا وہ اکثر جب ۔لیٹ ہوتی تو خود آ جایا کرتی تھی جس پر سکینہ بیگم شہوار کو اچھی خاصی ڈانٹی تھی ۔اور شہوار ہمیشہ کی طرح ۔۔انھیں منا لیتی ۔
آج کچھ زیادہ دیر نہیں ہو گئ ۔۔شہوار اسنے آپ سے کہا وہ نارمل دراز قد ۔۔سفید شلوار قمیض میں ملبوث ایک طرف بازو پر اپنا بلیک کورٹ پکڑے اور ساتھ ہی دوسرے بازو پر اپنا ہینڈ بھیگ لٹکایا ہوا اور ہاتھ میں کچھ فاعلز تھئ ۔۔تیخے نقوش رنگت بھی صاف شفاف ۔۔آنکھوں میں ایک الگ سی چمک تھی ۔جن پر شرم و حیا پردہ اوندھا ہوا ۔۔۔تھا
ائیڈوکیٹ در شہوار ۔اپنے دھیان سے تیزی سے قدم آگے بڑھا رہی تھی ۔۔جب وہ اچانک رک گئ
یہ آج پھر ۔۔آگیا ۔۔۔لگتا ہے یہ ایسے نہیں مانے ۔۔گا جیسے شہوار نے سامنے بائیک پر کھڑے لڑکے کو دیکھا ۔۔اسنے ایک نظر اسکی طرف غصے سے دیکھا ۔۔۔جو پچھلے دو مہینے سے مسلسل اسے ۔۔تنگ کر رہا تھا جب وہ اس راستے سے گزرتی وہ اپنی بائیک لے کے کھڑا ہو جاتا شہوار نے بہت دفع اسے بے عزت کیا لیکن وہ پھر بھی ڈھٹا رہا
لگتا پولیس کمپلین اب کروانی پڑے گی حد ہو گئ ۔ہے ۔بے شرمی کی ۔کیسے غنڈوں کی طرح راستے پہ کھڑا ہو جاتا ہے اب چاہے کتنی بھی دیر ہو جائے شہوار اس بدتمیز کی آج کمپلین کروا کے دم لوں گی
وہ غصے ۔۔سے پولیس تھانے کی طرف بڑھی
_____________________________________

جیسے شہوار نے تھانے میں قدم رکھا وہ وہی دھ رہ گئ ۔وہ تھانا کم ۔پلے گراونڈ زیادہ لگ رہا تھا ہر کوئی اپنی ہی دھن میں مگن تھا ۔اسنے ادھر ادھر نظرئیں دھرائی لیکن کیسی نے اسکی طرف توجہ بھی نہیں دی ۔۔۔شہوار کو یہ نظام دیکھ کر بہت زیادہ افسوس ہوا ۔۔۔

اسی وجہ سے تو ہمارا ملک ترقی نہیں کرتا ۔۔اسنے دھبی آواز میں کہا
جیسے وہ سامنے ٹیبل کی طرف بڑھی جہاں پر چار میل کانسٹبل چئیروں پر بیٹھے لڈو کھیلنے میں مصروف تھے
وہ غصے سے دو چار قدم بڑھاتی ہوئی انکی طرف بڑھی

او ۔۔۔۔۔میری گوٹی ۔۔گئ اندر ۔۔اب دیکھنا تو کیسے تجھے ہراتا ہوں
در شہوار نے غصے سے ٹیبل پر ۔۔ہاتھ رکھا اور کہا
کیا یہ تھانہ ہے ۔۔
جیسے شہوار نے کہا سب کانسٹیبلز نے غور سے اسکو گورا
کیوں میڈم جی آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔پاگل کھانہ ۔۔جیسے ایک میل کانسٹیبل نے کہا سب نے زور سے قہقا لگایا

بکواس بند کرو ۔۔پاگل کھانے سے کم بھی نہیں لگ رہا ۔۔۔آپ لوگوں کو شرم نہیں آ رہی ۔۔اپنی ڈیوٹی کے وقت یہ سب کرتے ہوئے ۔مجھے افسوس ہوتا ہے ۔۔جب گورنمٹ آپ جیسے رشوت خور لوگوں یہاں پر بیٹھا دیتی ہے جو صرف ۔پیسوں کے بھوکیں ہیں شہوار نے غصے سے کہا

م۔۔۔میڈم جی ایسی کوئی بات نہیں وہ تو صاحب اس ٹائم بریک دیتے ہیں ۔۔آپ آئیے بیٹھیں بتائیں کوئی کام ہے ۔۔پولیس والے نے گھبراتے ہوئے کہا

پولیس تھانے میں میرے خیال سے کوئی کام سے ہی آتا ہے اسنے طنزا غصے سے کہا

ہا۔۔۔ج۔۔جی صیح کہا آپ نے پولیس تھانا ہے کام ہی سے لوگ آتے ہیں
جی بتائیے کیا کام ہے ۔۔۔پولیس والے نے ااٹکتئ آواز میں کہا
مجھے کیسی کے خلاف رپورٹ فاعل کروانی ہے شہوار کے غصے میں اب نرمی تھی
پچھلے دو مہینے سے ایک لڑکا مسلسل میرا پیچھا کر رہا ہے ۔۔پلیز آپ اسکے خلاف کوئی ایکشن لیں ۔
شہوار نے بے چینی سے کہا جیسے اس پولیس والے نے سنا اسنے حسب معمول ایک طنزا مسکرا کر اسکی طرف دیکھا
اپ ہنس کیوں رہے ہیں میں آپ کو بتا رہئ ہوں اسنے حیرانی سے پوچھا

Read More:  Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 30

دیکھیے میڈم جی یہ تو آئے دن ۔۔۔ہوتا رہتا ہے کبھی کیسی لڑکے نے ۔۔لڑکی کو چھیڑا تو کبھی تھپڑ مارا تذاب پھینک دیا اب تو یہ عام ہو چکا ہے ۔۔۔۔اس میں لڑکوں کا کیا قصور ۔۔لڑکیوں کو خود ہی دھیان رکھنا چاہیے اس چیز کہا جیسے اسنے کہا
شہوار نے اس قدر بلند آواز سے اسے جواب دیا کہ ۔وہ پوری طرح کانپ گیا
ہر لڑکی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔سنا تم نے ۔۔۔رپورٹ فاعل کرو تو مطلب کرو ۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا

جی۔۔۔جی ۔۔اوئے ارسلان آئف آئی آر والی فاعل لا ۔

میڈم ۔۔ابھی آپ کی ائف آئی آر درج ہو جائے گی ۔

کچھ دیر بعد پولیس کانسٹیبل اس ٹیبل کے نزدیک ایا اور کہا
صاحب ۔۔وہ۔۔۔وہ فاعل ہی نہیں مل رہی جیسے اسنے کہا شہوار نے چونک کر دیکھا
اف خدایا ۔۔کیا یہ واقعی پولیس تھانا ہے ۔۔۔اسنے دل میں سوچا
صیح سے چیک کیا ہے تو نے ۔۔رک میں دیکھتا ہوں ۔۔میڈم جی آپ رکیے میں دیکھ کے آتا ہوں یہ تو ویسے اندھا ہے
اس پولیس والے نے کہا اور چئیر سے اٹھ گیا

شہوار نے جیسے سنئیر آے سی پی کا کمرہ دیکھا اسنے اپنا پرس پکڑا اور اسکی طرف بڑھی

میڈم جی کو روکو صاحب ابھی آرام کر رہے ہیں ۔۔پولیس والا جلدی سے اسکی طرف بڑھے

آئے سی پی روہان علی خان ۔۔در شہوار نے باہر دروازے کے قریب اسکا نام پڑھا اور کمرے میں داخل ہو گئ

میڈم جی روکیے ۔۔۔۔اس سے پہلے پولیس والا روکتا وہ اندر جا چکی تھی

وہ ٹیبل پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھے منہ کو کیپ سے ڈھناپا ہوا تھا ۔۔۔اور اپنی گہری نیند میں تھا ۔۔
اب تو میڈم گئ ۔۔۔۔اس پولیس والے نے بے اختیار کہا جو شہوار کے پہچھے کھڑا تھا
________
جیسے شہوار نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ وہی دھک کھڑی رہہ گئ ۔
کمرے سے سموکنگ کی سمیل آ رہی تھی ۔۔
دیکھیے میڈم جی صاحب سو رہے ہیں آپ کو جو بھی بات کرنی ہے ہم سے کریں ۔ پولیس والے نے مدھم آواز میں کہا
بکواس بند کرو ۔۔اب تو بات تمھارے صاحب کے سامنے ہو گی ۔
اٹھاو انھیں ۔۔در شہوار نے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا جو اپنی چئیر پر ۔میز پر دونوں ٹانگیں دھرے ۔۔منہ کو کیپ سے ڈھانپے سو رہا تھا
میڈم جی آئیستہ بولیں صاحب اگر اٹھ گئے تو بہت غصہ ہوں گے
غصہ ہوتے ہیں تو ہوتےرہے ۔۔اٹھاو انھیں باعث شرم کی بات ہے ۔۔اگر اونر ایسی حرکت کرے گا تو باقیوں کا اللہ حافظ ہے ۔۔
ایک منٹ میں اٹھاتی ہوں ابھی شہوار نے کہا کہ ۔۔۔وہ وہی رک گئ

کون ہے ۔۔۔ارسلان ۔۔کس کو انصاف کے تقاضے یاد آرہے ہیں اسکی گہری آواز تھی ۔۔۔اسنے میز سے ۔۔اپنی ٹانگیں ہٹائی ۔۔
سارے پولیس والے ڈر کے مارے ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے ۔
اب اسنے اپنے چہرے سے ۔۔۔کیپ کو ہٹایا ۔۔اسکی آنکھوں میں ایک گہری تاثیر تھی ہلکے سرمئی رنگ کی ۔۔آنکھیں ۔پر کشش سا چہرہ جس پر داڑھی اسکی پرسینلٹی پر جج رہی تھی ۔۔رنگ سفید ۔۔

کیا چل رہا ہے یہاں جیسے روہان نے کہا ۔۔وہ اسکے نزدیک گئ
واہ ۔۔۔۔گڈ مارنینگ آے سی پی روہان علی خان صاحب ۔۔آپ کی نیند اچھے سے پوری ہو گئ ہے ۔۔
اسنے اچھا خاصا طنزا کیا
جیسے روہان نے سنا ۔اسنے غور سے اسکے چہرے کو دیکھا ۔
میڈم جی ۔۔کیا پروبلم ہے ۔اسنے اکھڑتے ہوئے کہا
آپ اس تھانے کے اونر ہئں ۔۔مجھے افسوس ہو رہا ہے یہ سب نظام دیکھ کر اسئ وجہ سے تو ہمارا ملک ترقی نہیں کرتا جب آپ جیسے ۔ہٹے کٹے رشوت خور لوگ ۔۔سیٹوں پر بیٹھوں ہوں جن کی ذمہ داری صرف ۔۔۔تنخواہ لینے تک ہی ہے ۔
ی
او۔۔۔۔او ۔۔میڈم ۔۔بریک لگائے ۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ

Read More:  Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 1

وہی کہہ رہی ہوں جو دیکھ رہی ہوں یہ پولیس تھانہ لگتا ہے ۔۔خدا گواہ ۔۔ایسا پولیس تھانہ ۔۔جس میں ایف آیی آر فاعل موھود نہیں جہاں پر ۔۔سارے پولیس والے اپنی ہی موج مستیوں میں مگن ہے کہی لڈو کھیلی جا رہی ہے ۔۔تو کہی پر ۔بے ڈھنگے ڈھنکے کی چوٹ ۔پر ۔۔سویا جا رہا ہے یہ ہئ آپ لوگوں کی دیوٹیز اس وجہ سے حکومت اپ لوگوں کو تنخواہیں دیتی ہے ۔۔کہ آپ حلال پیسوں کو حرام بنا کر کھاتے ہو

آواز نیچے رکھیں میڈم آواز نیچے ۔۔۔۔میرا دماغ آوٹ آف کنڑول ہو جائے گا روہان خان نے اس قدر غصے سے کہا کہ شہوار کانپ گئ
آواز آپ بھی نیچے رکھیں مسڑ روہان علی خان ۔۔۔آپ ایک وکیل سے بات کر رہے ہیں شہوار نے بھی ڈھٹ کر جواب دیا
او ۔۔تو میڈم وکیل ہیں میں تب ہی سوچوں یہ انسانیت کا پتلا ۔۔آج ہمارے تھانے میں کیسے آگئا ۔۔۔وکیل ہیں ۔۔تو اپنی حد میں رہیے ۔۔یہاں پر ۔۔وہی ہو رہا ہے ۔۔جو میں چاہتا ہوں ۔۔سن لیا آپ نے ۔۔
اسنے ۔۔بھی ڈھٹائی سے جواب دیا ۔
تم جیسے لوگوں کو آتا بھی کیا ہے غندا گردی کرنے کے علاوہ ۔یہی کچھ تو کرتے ہو ۔اور اسی وجہ سے تو پولیس ڈیپارٹمنٹ بدنام ہے جب تک تم جیسے ۔۔بدتمیز بد لحاظ ۔۔۔بے ایمان ۔۔جیسے شہوار نے ۔۔کہا روہان نے ۔۔اسے پکڑ کر ۔۔پیچھے دیوار کے ساتھ لگایا ۔۔
اپنی بکواس بند رکھو اب ایک اور لفظ تم نے بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔۔اسکی آنکھوں میں طیش طاری تھا غصے کا
کیوں حقیقت سننے کی ہمت نہیں ہے ۔۔اے سی پی روہان علی خاں
کیا چاہیے ۔۔کوئی کیس چاہیے تمھیں ۔۔۔بولو ۔۔پیسوں کی تنگی ہو گئ ہو ۔۔گی ۔میں تمھیں کیس لے دیتا ہوں ۔لیکن اپنی اس زبان کو چپ کرواو ۔۔ویسے بھی وکیل کونسا دودھ سے دھلے ہوتے ہیں ۔ائیڈوکیٹ مس در شہوار ۔
کمینت ان میں بھی گھٹ گھٹ بھری ہوتی ہے سر سے پاوں حرام پیسوں میں ڈوبے ہوتے ہیں ۔۔
وہ اب اس سے دور کھڑا ہو گیا
ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا ۔اور ویسے بھی بندہ وہی سوچتا ہے ۔۔جو وہ خود کرتا ہے ۔۔کمینا پن پولیس والوں میں بھی ہوتا ہے اور اسکی مثال میں نے دیکھ بھی لی ہے آج
ایک بات یاد رکھنا جس دن مجھے تمھارے اور تمھارے اس تھانے کے خلاف کوئی ثبوت ہاتھ آگیا تو کتوں کی طرح گلے میں پٹا باندھ کر گھسیٹتے ہوئے عدالت۔۔لے کر جاوں گی ۔تمھیں ۔اور تمھارے پالتوں کو ۔
جیسے شہوار نے کہا اسنے بے اختیار قہقا لگایا
تم کیا مجھے لے کر جاو ۔۔گی ۔۔وکیل صاحبہ جس دن تمھیں میرے خلاف کوئی ایک ثبوت مل گیا میں خود اپنے اپ کو تمھارے حوالے کرون گا سن لیا ۔۔۔
وہ واپس پلٹی کہ پھر اسے روکا گیا
ابھئ دشمنی شروع ہوئی ہی ہے تو ۔۔۔بڑھاتے بھی ہیں ۔۔آپنے تو اپنا فیوچر پلینگ بتا دی میری بھی سن لیں

وکیل ہیں ۔ہتھ کڑی نہیں لگے گی اسی بات کا گمنڈ ہے ناں آپ کو وکیل صاحبہ
تو آپ بھی ایک بات یاد رکھنا ۔کبھی نہ کبھی کیسی نہ کیسی دن تمھیں چاہیے کچھ سیکنڈ کے لیے کیوں نہ ہتھ کڑی لگاون گا تمھارے ان ہاتھوں پر اور وہ اپنے ہاتھوں سے ۔بڑا ۔دوسروں کو ہتھ کڑیاں لگواتے ہو نہ ۔ایک دن خود ۔وکیل کو ہتھ کڑی لگاوں گا ۔۔جیسے روہان نے کہا
شہوار نے طنزا قہقا لگایا
خدا کرے ۔۔تمھاری یہ خوائش قبول ہو ۔۔شاید ۔یہ تمھاری خوائش ہی رہے گی ۔
اسنے کہا اور پولہس تھانے سے چلی گئ
سب خاموش تھے ۔۔کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا آج پہلی بار پولیس تھانے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا شہوار کے جانے کے بعد وہ فورا چئیر پر بیٹھ گیا اور ساتھ پڑی ڈھبی سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا
اسکو تو دیکھ لوں گا میں اسنے غصے سے دانت پیچتے ہوئے کہا
ص۔۔صاحب ۔۔آپ کے لیے چائے لاوں جیسے ساتھ کھڑے کانسٹیبل نے کہا
اسنے فورا اسکی طرف دیکھا اور اسقدر غصے سے کہا
ایک لڑکی تجھ سے سنبھالی نہیں گئ ۔۔۔کتنی دفعہ تم سب کو سمجھایا ہے جب کوئی باہر سے آئے اپنی اصلی حالت میں آجیا کرو ۔۔لیکن نہیں ۔۔۔پولیس والے ہیں بدنامی ہوتی ہے تو ہوتی رہے ۔۔آج وکیل ہماری بچی عزت کو ۔خاک میں ملا کر چلے گئے ۔۔کمینہ کہا اسنے مجھے ۔۔۔دفع ہو جاو سب لوگ ۔جیسے روہان نے کہا سب پولیس کانسٹیبل کمرے سے چلے گئے
________________________
رات کو اتنی لیٹ کہا رہ گئ تھی شہوار ناشتے ٹیبل پر ۔سکینہ بیگم نے کہا ۔
وہ۔۔۔امی میں تھوڑا کام میں بزی تھی دوبارہ آفس جانا پ4ا ایک کیس کے حوالے سے اسنے بات کو بھلانے والے انداز میں کہا کیونکہ رات کو پیش آنے والا واقع وہ کیسی کو نہئں بتانا چاہتی تھی
جیسے سکینہ بیگم نے سنا وہ پھر اس سے پہلے کچھ کہتی ۔ساتھ بیٹھی شہوار کی تائی بولی

Read More:  Bloody Love Novel by Falak Kazmi – Episode 12

رہنے دو سکینہ ۔۔وکیل ہے وہ کام تو زیادہ ہو گا نہ ۔۔تم اویں بچی کو ڈانتی رہتی ہو میری ہونے والی بہو ہے ۔میں نہیں چاہتی تم اسے ہر روز ایسے ڈانٹو
شازیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے شہوار کی طرف دیکھا
ہاں ہاں ۔۔آپکے لاڈ پیار نے تو اسے بیگارا ہے ۔۔ورنہ ۔میں اسے سیدھا کر دیتی ۔
اچھا بھابی ۔بھائی صاحب کہا ہیں سکینہ بیگم نے سوالیہ انداز میں کہا
او ہاں ۔فراز صاحب اور شیان دونوں کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے ہیں رات تک آ جائیں گے ۔۔شازیہ نے نرمی سے جواب دیا
چلیں آپی جیسے زرش تیار ہو کر آئی ۔۔شہوار جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی
چلو ۔۔۔اسنے اپنا بھیگ اور فاعلز اٹھائیں
ارے ناشتہ شہوار ۔۔۔پیچھے سے سکینہ بیگم نے آواز لگائی لیکن وہ دونوں بہنیں جا چکی تھی
زرش حمید اور در شہوار حمید دونوں سکینہ بیگم کی بیٹایاں تھی شہوار کے والد حمید علی کی وفات ہو چکی تھی جسکے بعدوہ دونوں بہنیں اور انکی والدہ تایا جان فراز علی کے گھر میں رہتے تھے دونوں خاندان کا آپس میں بہت زیادہ پیار ملاپ تھا جس کے باعث حمید نے اپنی وفات سے کچھ دیر پہلے اپنے بڑے بھائی کی اکلوتی اولاد شیان سے شہوار کا نکاح کروا دیا ۔جس کی رخصتی ابھی نہیں تھی
اس وجہ سے بھی ان دونوں خاندان کے رشتے میں اور گہری مضبوطی پیدا ہو گئ
_______________________
آپی آپ کو پتا ہے رات کو شیان بھائی کی کال آئی تھی ۔۔زرش نے ہنستے ہوئے ۔۔چھیڑنے والے انداز میں کہا
تو کیا ؟ شہوار نے اپنی مسکراہٹ دبائی
تو کیا پوچھیں گی نہیں کس وجہ سے کی تھی کال ۔۔زرش نے ہنستے ہوئے کہا
مجھے کیا پتا ۔جواب مختصر تھا
یہ پوچھنے کے لیے کہ مجھے اسلام آباد سے کوئی چیز چاہیے تو نہیں مین نے تو بتایا دیا کہ میرے لیے ایک پیارا اور مہنگا سا فون لے آئیں زرش کے الفاظ ابھی اسکی زبان پر تھے شہوار جلدی سے بولی
تم نے شیان سے فون منگوایا ہے زرش حد ہوتی ہے میں نے منع بھی کیا تھا ۔۔کیوں ایسی حرکت کی ۔۔شہوار نے غصے سے کہا
بس بس حوصلہ رکھیں وہ آپکے منگتر ہیں تو میرے جیجا جی اور بھائی بھی ہیں سنا آپ نے تو اس مین غلط ہی کیا ہے اچھا خاصا کماتے ہیں ایک فون لا دئیں گے تو کوئی قیامت نہئں آ جائے گی ویسے بھی یونی میں مہنگا فون ہی چلتا ہے
زرش نے چڑتے ہوئے کہا
اور ہاں آپ کے لیے بھی کہہ رہے تھے تو میں نے کہہ دیا خود ہی فون کر کے آپ سے پوچھ لیں ۔۔
شہوار بے اختیار مسکرا دی
________________________
صاحب جی آج بریک ہو گی ۔۔جیسے پولیس کانسٹیبل نے کہا
اسنے فورا اسکی طرف دیکھا اور ساتھ ایک اور سگریٹ سلگائی
کیوں آج کیا بات ہے ۔؟ جو بریک نہئں ہو گی
وہ صاحب کل والا واقعہ ۔۔
ابھے چپ کر ۔۔آے سی پی روہان علی خان کیسی سے نہیں ڈرتا دو ٹکے کے وکیلوں سے بھی نہیں اسنے اپنی پیشانی پر کچھ آتے ہوئے بالوں کو ہاتھ سے ہٹایا۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: