Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 1

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 1

–**–**–

وہ کب سے سونے کی کوشش کر رہی تھی
پر پریشانی کی وجہ سے نیند اسکی آنکھوں سے بہت دور تھی
پریشانی تھی بھی تو اس
وہ ایک اسکول میں پڑھتی تھی
جہاں پر غریب اور یتیم بچوں کو فری تعلیم دی جاتی تھی ایک ٹرسٹ کا اسکول تھا
جس کو میر الله و دین نے بنوایا تھا اور اسکے سارے اخراجات وہی اٹھاتے تھے انہوں نے اسکول کو بہت شاندار بنوایا تھا
ایک پرفیکٹ اسکول تھا
ہر طرف پینٹینگ کی ہوئی تھی
گارڈن میں بہت ہی خوبصورت پودے پھول درخت تھے ہر جگہ کو دیکوراٹڈ کیا ہوا تھا
میر الله و دین صاحب کی ڈیتھ ہونے کے بعد اسکول کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑھا کیوں کے میر الله و دین صاحب کی موت کے بعد ان کے بیٹوں نے اسکول کو چلانے سے صاف انکار کر دیا
اور جیسے تیسے کر کے اسکول کی پرنسپل میڈم نے کچھ عرصے کے لیے اک انسٹیوٹ ڈھونڈا جو کچھ وقت کے لیے اسکول کے اخراجات اور ضروریات کے کام میں
مدد کر دے
جب تک اسکول کو کوئی اچھا اور پرمنینٹ سپورٹ کرنے والا نا مل جائے
اور بہت کوششوں کے بعد اب جاکے ایک ٹیم ملی تھی جو ٹرسٹ کو چلنے کا ذمہ لے رہی تھی پر انکی شرط تھی کے پہلے وہ کچھ ٹائم کے لیے اوبسرو کرے گے کے یہ اسکول واقعی میں ضروریات نہیں اٹھا سکتا اور اسکو ہیلپ کی ضرورت ہے
اِس لیے وہ پہلے اوبسرو کرے گے بعد میں یہ فیصلہ کرے گے کے وہ اِس تروستی اسکول کی ذمہ داری اوٹھے گے یا نہیں
وہ ٹیم اسکول کے * غریب اور یتیم بچوں * کی تعلیم کے لیے کم کرے گی
انکی سڑی روایات پوری کرے گی جو جو چیز ان کو ڈر کر ہونگی وہ موہیا کرے گی
جیسے میر الله و دین صاحب کرتے تھے
ان کے اسکول کی پرنسپل میڈم سائقہ سخت عورت تھی
اور ہر چھوٹی چھوٹی بات پر دانٹ دیتی تھی اور پاریشا تو انکا شکار تھی
کیوں کے پاریشا ہمیشہ کچھ نا کچھ ایسا کام کر دیتی تھی کے ان کو غصہ آجاتا تھا
کبھی لیٹ آنا
کبھی فائل وقت پے نا پونچھنا
تو کبھی بچوں کے ساتھ مل کر شرارتیں کرنا
بچوں کے ساتھ مل کر وہ بالکل بچی بن جاتی تھی اور ایسے ہی چھوٹی چھوٹی اور غلطیاں بھی پاریشا سے اکثر ہوجاتی تھیں
پر میڈم سائقہ کو پاریشا بہت اچھی لگتی تھی کیوں کے وہ اک بہت ہوشیار تھی اور بیسٹ ٹیچر تھی اور وہ اسکے بابا کی کلاس فیلو بھی تھی اسی وجہ سے پاریشا کو بچپن سے ہی جانتی تھی
اسکی غلطیوں کو سودارنے کے لیے وہ اسکی دانٹ ڈاپٹ کر دیا کرتی تھی
اور اسکو دھمکی دیتی تھی کے اسکول سے نکال دیا جائے گا تمہیں اور کبھی کا بار اسکو پیار سے بھی بتاتی تھی کے نیو ٹیم میری جیسی نا ہوگی کے تمھاری غلطیوں کو اگنور کرے
یہی بات تھی جو پاریشا کو اداس کر رہی تھی کے کہی یہ نیو ٹیم سٹریک نا ہو
اگر ایسا ہوا تو اسکی شامت آنی تھی
اور نیو ٹیم نے اسکو اسکول سے باہر پھینک دینا تھا
اور وہ اب ایسا کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی کے اسکی سیلری کم ہو یا وہ نوکری سے ہی ہاتھ گوا بیٹھے کیوں کے یہ جاب اس کے لیے بہت ضروری تھی گھر میں بیٹھی بیٹھی وہ بور ہو جاتی تھی
اگر یہ جاب چلی گئی تو اسکے بابا اسکو دور کسی اسکول میں جاب کرنے کی پرمیشن نہی دیں گے
اور اگر سیلری کم ہوگئ تو کیا فائدہ پورا ماہینہ محنت کر کے بھی کچھ ہاتھ میں نا آئے
اِس وجہ سے آج ساری رات اسکو نیند نہیں آئی تھی یہی سوچ سوچ کے
اور آلارم کے بجنے سے پہلے ہی وہ بیڈ سے اٹھ پرہی
جب سے وہ یونیورسٹی سے آئی تھی صبح سویرے اٹھنا اسکی عادت ہوگئ تھی حسب معمول وہ فجر کی نماز کے لیے وضو کر کے نماز کو کھڑی ہوگئ اور اللہ سے دعا کرنے لگی کے یا اللہ سب بہتر کرنا پِھر قرآن پاك کی تلاوت کر کے سارے گھر کا کام نبٹانے میں لگ گی
ناشتہ بنانے کے لیے کچن میں گئی تاکہ جلدی جلدی كھانا بنا کے وہ اسکول کے لیے ٹائم پر نکلے خھانا بنانے کے بعد اپنے بابا کے روم میں انکا ناشتہ لیکر گئی وہی پر اس نے ایک دو نوالے کھا لیا اور جلدی سے تیار ہونے اپنے روم میں چلی گی
وہ کبرڈ کی طرف بڑھی اور اک پرنٹڈ شرٹ ساتھ ہی ہم رنگ دوپٹہ اور پجامہ نکالا
جلدی سے واشروم میں گھس گی
جیسے ہی وہ واشروم سے نکلی وال کلاک پر نظر پڑھی جلدی جلدی میں بالوں کا جوڑا بنا کے ہیر کلپ اس میں ڈالی
سَر پے سہی سے دوپٹہ سیٹ کیا اور اک لمبی چوڑی شال اپنے اوپر اوڑ لی
پرس اٹھا کے اپنے بابا کے روم میں گئی ان کو اللہ حافظ کہنے کے لیے
پِھر جلدی سے باہر کی طرف بھاگنے لگی
کیوں کے جلدی سے بس اسٹاپ پر اسکو پوچھنا تھا ورنہ بس چلی جاتی
اور ہر روز کی طرح وہ آج پھر بس مس کر چکی تھی
جس کی وجہ سے اس کو اسکول تک پیدل جانا پڑھا کیوں کے کوئی رکشہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا اور اسکو بہت لیٹ ہو رہی تھی
جیسے ہی وہ اسکول پونچی سانسے پھول رہی تھیں
تیز سپیڈ سے چلی تھی جیسے اسکے پیچھے کتے پڑھ گئے ہوں
چوکیدار کو سلام کر کے وہ اندر داخل ہوئی
اور دبے دبے قدموں کے ساتھ اسٹاف روم میں جانے لگی تاکہ کوئی ٹیچر اس کو دیکھ نا لے اور پھر سے اسکو میڈم سے لیکچر سنا پڑھ جائے
صبح صبح اسکو لمبا سا لیکچر نہیں سنا تھا
پر جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا
پیچھے سے صباء کی زور داَر چیخ آئے ھائے پاریشا !
آج پھر لیٹ آئی ہو میڈم کو پتہ چلا تو تمھاری خیر نہیں
صباء کے چہرے پر شیطانی بھری مسکراہٹ تھی اور اس نے سَر پکڑ لیا اور دل ہی دل میں کہنے لگی کس شیطان سے ٹکرا گئی
پھر اس نے شکل بنا کر صباء کو دیکھا جو شیطانی مسکراہٹ سے اسکو دیکھ رہی تھی
پاریشا نے کہا کے اگر تم نے یہ کیا تو میں میڈم کو بتا دونگی تم نے اس دن علی محسن کو منہ پر تھپڑ مارا تھا
وہ بے چارہ بچہ رَو رہا تھا تمیں تو پتہ ہے پرنسپل کو یہ بالکل پسند نہیں کے بچوں پر ہاتھ اٹھایا جائے
اور تم نے تو اسکے منہ پر مار دیا
پھر دیکھنا تمھاری کیسی شامت آتی ہے
صباء کے تو جیسے ہوش ہی اُڑ گئے وہ ہکا بقا رہ گئی کے اسکو کس نے بتایا
اور وہ الٹے منہ چلی گی
پاریشا نے سکھ کا سانس لیا
شکر کرنے لگی کے یا اللہ تو نے بچا لیا ورنہ اِس ناگن سے میں کیسے بچتی
* ناگن کہی کی کوئی موقع نہی چوڑتی مجھے مروانے کا * اس نے منہ بنا کر آہستہ سے کہا
وہ جیسے ہی اسٹاف روم میں گھسی کچھ ٹیچرز ہی بیٹھی ہوئی تھی باقی سب کلاس لینے گئی ہوئی تھیں
پاریشا نے سب کو سلام کیا اور جلدی سے بَڑی چادر اتاری اور دوپٹے کو سیٹ کیا
اب اسکی نظر اسٹاف روم کے ارد گرد گھوم رہی تھی وہ اپنی فرینڈ شفاء کو ڈھونڈنے لگی جب وہ نظر نا آئی تو سمجھ گئی کے وہ کلاس لینے گئی ہوگی
اس نے بھی اپنی چیئر پر چادر رکھی اور بیٹھ گی
نو بج رہے تھے آج اسکی کلاس نو بجے اسٹارٹ ہونی تھی اِس لیے وہ ٹائم دیکھتے ہی اٹھ پڑی اور کلاس کی جانب رخ کر لیا
جیسے ہی وہ کلاس روم میں اینٹر ہوئی پوری کلاس نے گرم جوشی سے ہر روز کی طرح استقبال کیا
گڈ مارننگ میم
ہائو ار یو میم؟
اس نے بھی سب کو گڈ مارننگ کہا اور فائن کہہ کر سب بچوں کو سیٹ ڈاؤن کہا سب بچے اپنی چیئرس پر بیٹھ گئے اور سب بچوں نے
تھنک یو میم بولا
وہ بھی اپنی چیئر پر بیٹھ گی
دو گھنٹے کی کلاس لیکر جب وہ باہر نکلی تو اچانک اس کو یاد آیا کے آج ٹِیم آئے گی یا نہیں
11 : 30 پر بِریک ھوگی شاید وہ لوگ ( ٹِیم ) بِریک کے بعد آیے
میں شفاء سے معلوم کرتی ہوں‌ پکا وہ اسٹاف روم میں ھوگی
وہ جیسے ہے اسٹاف روم میں داخل ہوئی کچھ کچھ ٹیچرز بیٹھیں تھیں
ساتھ ہی اسکی فرینڈ شفاء بھی بیٹھی ہوئی تھی جس نے جلدی سے پاریشا کو ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنے پاس والی چیئر پر بیٹھنے کا کہا
پاریشا نے بھی دیر نا کی اور جلدی سے جاکے بیٹھ گی اور پھر شفاء نے خاصی اسکی دانٹ لگائی کے اتنا لیٹ کرتی ہو
عزت پیاری نہی ہے کیا تمیں
روز انسلٹ کروانے کے موقع ڈھونڈتی ہو
تب ہی پاریشا نے معصوم شکل بنا کے جوب میں کہا میں کیا کروں کام کرتے کرتے لیٹ ہو جاتی ہوں
اور بس بھی نکل جاتی ہے اوپر سے پیدل آنا پڑھتا ہے میں بیچاری ننھی سی جان کیا کیا کروں
شفاء نے کہا اچھا اچھا بس سن لیا ڈرامہ کوئین کہی کی
پاریشا نے اسکو بازو پر تھپڑ مارے
اور دونوں ہسنے لگیں
تب ہی پاریشا نے پوچھا کے آج وہ ٹِیم والے آ رہے ہیں کے نہیں
شفاء نے اسکو بتایا کے وہ آج نہیں آ رہے ہیں کیوں کے ان کے باس کا بہت بڑا بزنس ہے کوچ بزنس کی ڈیلینگس کی وجہ سے مصروفیت ہیں ان کی
اِسی وجہ سے وہ سب یہاں آرام سے آئے گے تاکہ وہ یہاں کا سارا کام چیک کر سکیں
سنا ہے بہت امیر لوگ ہیں پاریشا نے صرف ہممم کہہ کر چہرہ بگھڑا
ابھی بِریک ٹائم ہونے لگا تھا وہ اور شفاء دونوں چائے کی چکیاں لے رہی تھیں اور ساتھ ساتھ لنچ کرنے لگی تھیں
پاریشا تو لنچ نہی لیکار آتی تھی پر شفاء ہمیشہ اپنا اور اسکا لنچ لیکر آتی تھی
پاریشا اسکو منع کرتی تھی پر وہ نہی مانتی تھی
دونوں لنچ کرنے لگیں اور ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگیں ٹائم نکل گیا اور بِریک ٹائم پورا ہو گیا
دونوں اپنی اپنی کلاس لینے چلی گیں
ایک بجے پاریشا اپنی کلاس لیکر آجاتی اور ساتھ ساتھ شفاء بھی آ جاتی آج دونوں جلدی فارغ ھوگئیں تھیں
پھر چھٹی ہو گئی دونوں واپسی پے گھر اک ہی بس مین نکلتی تھیں
بس میں سے پہلے شفاء کا گھر آتا تھا وہ پہلے اُتَر جاتی تھی پھر پاریشا جاتی تھی
پاریشا گھر آتے ہی اپنے روم میں چلی گئی اور
فریش ہوکر اپنے بابا کے روم میں چلی گئی
انکا حَل احوال لیا اور ان کو میڈیسن وغیرہ دیں
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
پاریشا کی ماں بابا کی پسند کی شادی تھی اور ماں پٹھان تھی
کسی شادی پر اسکے بابا کو پسند آیی تھی خاندان میں کوئی رازی نا تھا کیوں کے پاریشا کی ماں یتیم تھی اپنے چچا کے یہاں رہتی تھی پر پھر پاریشا کی دادی شادی کے لیے رازی ہوگئ اپنے بیٹے کی خوش کے لیے
پاریشا کی ماں پاریشا کو جنم دے کر اِس دُنیا سے چلی گئیں پاریشا چھوٹی سی جان کا کوئی نا تھا جو اسکا ماں جیسا خیال رکھے اسکے بابا اسکی دیکھ بھال کرتے تھے پر ان کو بھی کام پر جانا ہوتا تھا دادی بھوڑی تھیں تھوڑا بہت کر لیتی تھیں اور ایک چچی تھی پر وہ دیکھتی تک نا تھی
تبھی اسکی دادی نے پاریشا کے بابا کی شادی اپنی بھانجی سے کروانے کا سوچا اور اسکے بابا سے بات کی پر پاریشا کے بابا نے منع کر دیا
دادی نے ان کو سمجایا کے پری ابھی بہت چھوٹی ہے اسکی دیکھ بھال کون کرے گا اسکو ابھی سے ماں مل جائے گی
اور ماں کا پیار ملے گا بس پھر اسکے بابا رازی ہوگے
شادی سادگی سے کر دی
دوسری ماں کے آنے کے بعد بھی پاریشا کو دادی نے پالا اسکی سوتیلی ماں اسکو دیکھتی تک نا تھی
وہ دادی کے ساتھ بہت خوش رہتی تھی انکا خیال رکھتی تھی ان کو تنگ بھی کرتی تھی کیوں کے شرارت کے جراثیم اسکے اندر جو تھے تبھی اسکی دادی اسکو شیتانوں کی نانی کہتی تھیں
وقت کے ساتھ اسکے چچا کی فیملی بھی الگ ہوگئ اسکے بابا گورنمنٹ ایڈوکیٹ تھے اچھی خاصی انکی سیلری تھی ساتھ ساتھ چھوٹی سی سائڈ بزنس بھی کرتے تھے اور ان کے کچھ شوپس رینٹ پر دے ہوئے تھے وہاں سے بھی کرایہ آتا تھا
کسی چیز کی کمی نا تھی ان کو ہر سکھ تھا گھر ھی بہت اچھا تھا اسکے بابا کو گھر بنانے کا بہت شوک تھا وہ اپنے گھر کو ہمیشہ سیٹ رکھتے تھے
ہر چیز تھی ان کے گھر میں ہر آرائِش تھی
وہ اپنے بابا کی بہت لاڈلی تھی
وہ ہر چیز اسکو لاکر دیتے تھے تاکہ اسکو کبھی اپنی ماں کی کمی محسوس نا ہو
پر جب وہ سات سال کی ہوئی تو دادی بھی اللہ کو پیاری ہوگیئں
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
پاریشا بہت ہی ہوشیار اور ذہین بچی تھی پر شرارتی بھی بہت تھی
شروع سے ہی اسکو پڑھنے لکھنے کا بڑا شوق تھا
ساتھ ساتھ شرارتیں کرنا بھی نا بھولتی تھی پڑوس میں کوئی ایسا نا تھا جو اسکی بدماشیوں سے تنگ نا ہو
پڑھائی وہ جی جان سے کرتی تھی اور ہر بار اچھے نمبرز سے پوزیشن لیتی اور اچھے مارکس لینے پر بابا اسکو بہت پیار کرتے تھے اسکی تعریفیں کرتے تھے اسی وجہ سے اسکےسوتیلے بھائی بہن اور ماں غصے سے آگ بھگولا ہوتے تھے انکی نفرت میں دوگنا اضافہ ہوجاتا تھا
خیر سے پاریشا نے میٹرک مکمل کر لیا تھا اور اب میٹرک کے رزلٹ کا ویٹ کر رہی تھی
اسی دوران اسکے بابا نے اس سے پوچھا کے آگے کا کیا اِرادَہ ہے میں سوچ رہا ہوں تم میں بی بی ایس کرو تب ہی اس نے بابا سے کہا کے بابا مجھے سائنس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے میں ایم بی اے کرنا چاہتی ہوں تو اسکے بابا نے کہا کے ٹھیک ہے تم پہلا ایئر انٹر میتھس میں کر لو تو اس نے بھی یہی کیا
اسکے بھائی بہن اُس سے بہت جلتے تھے ہر کوشش کرتے تھے کے وہ نا پڑھ سکے
اور اسکی ماں اسکو ہر وقت کام پر لگا دیتی تھی
جب جب اسکے بابا گھر پر نا ہوتے تھے وہ اسکو ہہت اَذِیّت دیتی تھی کبھی کا بار تو مار بھی دیتی تھی اسکے بھائی بہن اسکو کھیل کھیل میں بہت مار دیتے تھے اور وہ بھی کچھ کم نا تھی اپنا بدلہ پورا کر دیتی تھی اپنے بابا سے شکایت نا کرتی تھی پر کوئی آیسا طریقہ کار نکال لیتی تھی کے ان کو سبق مل جاتا تھا
کبھی اپنے بابا کے سامنے جان بوجھ کر شیشے کا مگ توڑ دیتی اور اسکے بابا اسکی سوتیلی ماں کو کہتے کے اسکو صاف کر دو
اور وہ صاف کر دیتی تھی کیوں کے وہ اپنے شوہر کے سامنے پاریشا کو کچھ نا کہتی تھی
اور ایسے ہی کہی شرارتیں وہ کرتی تھی
انٹر کے ایگزام دینے کے بعد اس نے بابا سے فرمائش کی کے وہ آگے بھی پڑھنا چاہتی ہے تو اسکے بابا نے اسکو کہا کے وہ میتھس میں بیچلر کرے
اسکی دل کی خواہش پوری ہوگئ بابا مان گئے تھے
آخر وہ میتھس میں بہت اسٹرونگ تھی اس نے جی جان لگا کے ٹیسٹ کی تیاری کی اور بیچلرز کرنے کے لیے ٹیسٹ کلیئر کیا اور اچھے نمبرز حاصل کر کے اسکو اسلام آباد کی بیسٹ یونیورسٹی میں ایڈمیشن مل گیا
وہ بہت خوش تھی
تب ہی بابا نے اسکو بہت شاپنگ کروا دی کیوں کے دو یا تین مہینوں کے بعد اسکو یونیورسٹی کو جوائن کرنا تھا
اور وہ وہاں ہاسٹل میں رہے گی
دیکھتے ہی دیکھتے اسکے یونیورسٹی جانے کا ٹائم قریب آ گیا۔۔۔۔۔

بابا سے مل کر وہ ابھی اپنے روم میں آئی
اور بیڈ پر گر گئے اسکے بابا کی پینشن آتی تھی کیوں کے اب وہ بیمار رہنے لگے تھے اسی لیے انھوں نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی ان کے دوکان بھی تھے وہاں سے بھی کرایہ اچھا خاصا آجاتا تھا وہ سب پیسے اسکی ماں لیتی تھے اور ہر تیسری دن وہ اور اسکی بیٹی شاپنگ کرنے جاتی کبھی اون لائن آرڈر ، کر کے مانگواتی . . پریشا کو اک پیسہ نہی دیتی تھی پر ہر بار یہی جاتاتی تھی کے ہم تمھارے خارچے پورے کر رہے ہے مہنگے مہنگے موبائل اسکے دونون سوتیلی بھائی بہن کے پاس تھے . .
پر پھر بھی وہ اسکے سامنے ہر وقت روتی تھی پیسے نہیں کیسے ھوگا تاکہ پریشا پیسے نا مانگ لے . . پریشا کو بھی جاب کرنے کی ضرورت نا تھے پر وہ گھر میں بور ہوتی تھی تو اسکے بابا نے اسکو کہا کے اسکول میں جاب کر لو . . اسکی سوتیلی بہن اور ماں صرف پلنگ توڑتی رہتی تھے . . پر پریشا کے بابا کچھ نا کہتے تھے جب بی وہ اکیلے سارے گھر کا کم کرتی تھی یا پھر اس کے ساتھ وہ اچھا سلوک نا کرتی تھے کیوں کے وہ بیمار رہنے لگے تھے اور ان کو اپنی زندگی پر بھروسہ نا تھا اِس لیے وہ نہیں چاہتے تھے اسکی ماں اور بہن بھائی اس سے لڑے اور ان کے مرنے کے بعد پریشا کے رکھوالے وہی تو تھے …
پریشا بیڈ پر لایٹتے ہی نیند کی وادیوں میں اُتَر گئے شام کو وہ اٹھی وضو کیا اور نماز پڑھنے لگی نماز پڑھ کے کچن میں گئے لنچ کرنے لگی کیوں کے اس نے نہی کیا تھا . . وہ روز شفاء کے ساتھ 11:15 بجے لنچ کرتی تھی اسکول میں اسی وجہ سے اسکو گھر آکر بھوک نا لگتی تھے گھر آکر بابا کا حَل احوال لینے کے بعد بابا اسکو آرام کرنے کے لیے بھیج دیتے تھے… اِس وجہ وہ پھر شام کو لنچ کر لیتی تھی . . لنچ کرنے کے بعد وہ اپنے بابا کے روم میں گئے ان سے بتائے کرنے لگی اور ان کو بتانے لگی کے اسکول میں کیا کیا ہوا . . وہ ان کو اسکول اور اسٹوڈنٹ کی بتائے بتاتی تھی تو وہ خوب ہستے تھے پریشا کی بتائے اور حرکتیں ان کو بہت اچھی لگتی تھی وہ اسکو دیکھ کر خوش ہوتے تھے دیکھتے ہے دیکھتے 8 بج گئے وہ کچن میں گئی اور كھانا بنانے لگ گئے جلدی سے 3 ، 4 ڈشز بنائی اور اپنے روم میں جانے لگی تبھی اسکی بہن نے پیچھے سے اسکو آواز دی… . آئے رک وہ پیچھے موڑی تو اسکی بہن کھڑی تھی ھما جو اس س اک سال چھوٹی تھی . . پریشا نے اس سے پوچھا کوئی کام تھا تب ہی اس نے کہا کے یہ ڈریس تم رکھ لو مجھے بہت ٹائیٹ ہو رہا ہے تو پریشا سوچ میں پڑ گئی کہ اتنا نیا ڈریس مجھے کیسے دے رہی ہے۔۔۔ خیر مجھے کیا۔۔ . . تب ہی پریشا نے کہا ہاں دو مجھے میں پہن لونگی . . جب سے اسکے بابا کی طبیعت خراب ہوئی تھی پریشا کے بابا کہی آتے جاتے نا تھے . انکا گھر سے نکلنا بالکل نہیں ہوتا تھا . . اسی وجہ سے پاریشا کو کپڑے اسکی بہن دے دیتی تھی جو ان کو پسند نا عطا تھا پھر اسکی ماں اسکے بابا کو جاتاتی تھے کے دیکھو تمھاری بیٹی کا کتنا خیال رکھتی ہوں۔۔۔ . . پریشا روم میں گئی اور دیکھنے لگی سوٹ بالکل نیا تھا فل وائٹ کلر کا تھا بس تھوڑا سا اوپر سے پھٹ گیا تھا پر اس نے تعغہ لگا کے سیٹ کر دیا . . اور اسکو اپنے اوپر رکھ کے شیسے میں دیکھنے لگی . . پھر اسکو سیٹ کر کے کبرڈ میں رکھ دیا … اسکو اسکول کے کچھ ٹیسٹ تھے وہ چیک کرنے لگی بچو کی فیئر کاپیس بھی تھے وہ بھی چیک کی اسکے بعد ڈنر کر کے سونے لگی…
آج صبح بھی وہی کم کر کے گھر سے جلدی نکلی کیوں کے کچھ دن اسکو سویرے پونچھنا تھا اسا نا ہو ٹیم والے آئے اور اسکو لیٹ ہوجائے یا پھر نیو ٹیم کے سامنے اسکول کی پرنسپل سے بیزتی ہوجائے …
وہ وہاں بس کا ویٹ کر رہی تھی بس آئی تو اس میں چڑھ گئے اور اسکول پونچھ گئے . .
آج بھی وہی روٹین تھے جیسی ہر روز ہوتی ہے . . اور جیسے تیسی کر کے یہ ہفتہ گزر گیا اور ویکنڈ بھی پُورا ہو گیا . .
آج منڈے تھا سب کو بےصبری سے انتظار تھا کے کب نیو ٹیم آئے گی . . انکی طرح پریشا کو بھی بےصبری سے انتظار تھا کے کب آئے گے . .
تبھی بریک کے دوران پوئن اِسْٹاف روم میں آیا اور سب ٹیچرز کو کہتا گیا کے نیکسٹ پیریڈ فری ہے ، میڈم نے میٹنگ رکھی ھ کوئی بی ٹیچر پیریڈ لینے نا جایے… سب ٹیچرز نے اسکو ہاں کر کے اسکو بیحج دیا…
تبھی شفاء نے پریشا سے پوچھا اب میڈم کو کونسا کم پڑھ جیا… پریشا نے بولا کونسا کیا کام وہی نیو ٹیم کا بتانا ھوگا . . تو شفاء نے کہا اچھا۔۔۔
بریک کے بد سب ٹیچرز وہی پرنسپل کا انتظار کرنے لگی۔۔
پرنسپل میڈم سائقہ آئی اور اِسْٹاف روم میں سب س پہلی چیئر پی بیٹھ گئے اور سب کو کہنے لگی کل انشااللہ نیو ٹیم آجائے گی اور سب ٹیچرز کو تَعْقِید کی جاتی ہے کہ سب ٹائم پر پونچھ جائیے گا کل اور وہ لوگ آپکا پڑھانا بے چیک کریں گے تاکہ وہ دیکھ سکے کے آپ قابل ٹیچر ہے اپنے سبجیکٹ میں یا نہیں . . اور آپکو اپنے سبجیکٹ کی کتنی معلومات ہے۔۔۔ انکو دیکھنا ہے کہ ہم نے قابل استاد رکھے ہے یا ۔۔۔ وہ وہی چپ ہوگئ . . سب ٹیچرز کو ٹینشن ہوگئے . . کے اللہ رحم کرے . . پتہ نہی کیا ھوگا
پر پریشا فل کونفیڈنٹ تھی کے وہ اپنے سوبجیکتس من بیسٹ ہے . . پریشا بی بہت سوبجیکتس پڑھا لتی تھی اور خاص کر میتھس تو اسکا امپورٹنٹ سبجیکٹ تھا وہ اس امیں بہت ماہرِ تھی ، اور وہ ڈرائنگ میں بے کچھ کم نا تھی اسکول میں ہر بار جب بے کوئی کمپٹیشن ہوتا تھا وہ پہلا پوزِیشَن آتی تھی… اینڈ کیمسٹری بی اس نے پڑھی ہوئے تھی تو وہ بھی اسکو اچھی طرح س آتی تھے . . جب پرنسپل نے اپنی بات مکمل کی اور جانے لگی تبھی انہوں نے پریشا کو خاص طور پر کہا کے مس پریشا آپ پلیز ٹائم پر آنے کی کیجیے گا . . ساری ٹیچرز ہنسنے لگی اور وہ شرمندہ ہوگئ پر ان کے سامنے جھوٹی مسکراہٹ چہرے پے سجا لی. … میڈم سائقہ کے جانے کے بد سب ٹیچرز آپس ایم ڈسکس کرنے لگی…
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
آج جب وہ گھر آئ تو کام نپٹا کے اپنے روم میں گئے اور بیڈ پر لیٹ گئ… لیتی تو اسکو یاد آیا کے کل ٹیم والے آئے گے . . اسکے پس کوئی نیا ڈریس نہی تھا . . اب وہ کیا کری… فرسٹ امپریشن تو اچھا پڑھے نا . . جب وہ کبرڈ کو کھل کے دیکھنے تو اسکو وہ وائٹ کلر کا ڈریس یاد آگیا کی اسکی بہن نے اسکو دیا تھا وہی پہن لونجی . . اس نے وہ ڈریس نکالا اور پریس کرنے کے لیے لی گئے . . پریس کر کے اس نے وہ ڈریس ہینگر میں کر کے کبرڈ میں ہینگ کر دیا
پھر سو گئے . .
رات کو وہ نماز پڑھ کے جلدی سوگئے . . صبحا سویرے اٹھ کر نماز پڑھ کے قرآن پاك کی تلاوت کی اور
گھر کا سارا کم وہ جلدی جلدی پورا کر کے اپنے روم ایم گئے کپڑے چینج کیے اور وائٹ فروک پہنا اور اپنے آپکو مرر ایم دیکھنے لگی خوبصورت تو وہ پہلے سے ہی تھی آج اسکی خوبصورتی میں چار چند لگ گئے تھے . .
پریشا بالکل اپنی ماں جیسی تھے . . گورا چٹا دودھ جیسا رنگ بڑی بڑی شرارت بھری آنکھے ، آنکھوں کا کلر بے لائٹ گرے کلر تھا . . چھوٹی سی پیاری ناک ، پیاری سے ہونٹ اسکے بال بے گولڈن برائون کلر کے کمر تک آتے تھے اسٹریٹ اور سلکی بال اسکی خوبصورتی کو اور نکھار دیتے تھے . . معصوم سا چہرہ پر شرارت کوٹ کوٹ کے بھری ہوئے تھی بالکل ہے پتلی جسامت تھی . . جو بے اسکو دیکھتا تھا تعریف کیے بنا نا رہ سکتا تھا… وائٹ کلر اس پر بہت جاج رہا تھا…
اس نے دیکھا ابھی ٹائم ہے جانے میں تو اس نے جلدی س اپنے بالوں کی فرینچ چوٹی بنائی . . ہلکا سا لپ گلوس لگایا ، سَر پر دوپٹہ لیکر لمبی شال اُڑ لے . .
گھر س نکال کر بس تک پونچی ، اپنی منزل کا انتظار کرنے لگی ، جب اسکول ایا وہ اتاری اور اندر کی طرف داخل ہوئے اِسْٹاف روم کی جانب بھرنے لگی وہاں دیکھا تو وہاں کا ماحول ہے الگ ہُوا ہوا تھا . . اسا لگ رہا تھا کوئی فنکشن ہو رہا ھ اس نے جلدی س شال اتاری اور دوپٹے کو سیٹ کرنے لگی تب ہی پیچھے سے شفاء نے اسکو بلایا پریشا آگئی تم . . پاریشا نے سلام کیا اور پوچھنے لگی یہ کیا ہو رہا ھ اتنی تیاریان اور تم بی اتنا تیار ہوکر آئے ہو خیر ھ نا . . شفاء نے کہا پاگل تم اتنا سمپل ہوکر کیوں آئے ہوں اور یہاں سب اِس لیے اچھا تیار ہوکر آئے ھ تاکہ ٹیم کا اچھا سا ویلکم کر سکے اور ان پر اچھا امپریشن پرے . . پریشا نے طنزیہ جواب میں کہا کونسا وہ لڑکیاں پسند کرنے آ رہے ہے . . شفاء اسکی بات پر قہقہ لگائے بنا نا رہ سکی . . اور پریشا کو کہنے لگی پاگل اب چلو اندر میرا میک اپ پڑھا ھ وہ کر لو ، پریشا نے صاف انکار کر دیا میک اپ کرنے سے . .
پریشا اِسْٹاف روم مین سائڈ لیکر بیٹھ گئے باقی سب ٹیچرز میک اپ کرنے امین گھپے لگانے مین مگن تھی اور شفاء بی ان کے ساتھ ہے لگی ہوئے تھے . . .
پریشا اور باقی سب ٹیچرز کلاس لینے گئے ہوئے تھے . . جیسے ہے وہ کلاس لیکر فارغ ہوکر باہر آئے تو دیکھا پرنسپل سائقہ اپنے آفیس سے باہر نکال رہی تھے اِسْٹاف روم اور میڈم کی آفیس ساتھ ساتھ ہے تھے . . دو بلڈنگس تھے اک بِلڈنگ میں میل اِسْٹاف روم اور کلرک آفیس تھا اور دوسری بِلڈنگ میں فیمیل اِسْٹاف روم اور پرنسپل کی آفیس تھی…
وہ اِسْٹاف میں چلی گئے بہت ٹیچرز پیریڈ لیکر آگئ تھی پریشا بی آکر بیٹھ گئے شفاء نے آتے ہے سب کو بتایا کے وہ آگئ ہے جلدی س باہر چلو ، سب انکا ویلکم کرنے کے اِسْٹاف روم سے نکال آئے اور وہی کھڑی رہی . . پرنسپل بھی وہی آگی . . پہلے اک وائٹ کرولا اینٹر ہوئے تھوڑی دیر کے بعد اک بلیک کلر کی اودی اینٹر ہوئی …
وہ کار سیدھا ہے اندر آرہی تھی پریشا کا دل پتہ نہیں کیوں زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے کوئی خاص اسے ملنے والا ہو . . پھر اس نے سوچا شاید ایکسائٹمنٹ کی وجہ سے ھ . . پر مجھے کیسی ایکسائٹمنٹ ہے۔۔۔
وائٹ کرولا سے 2 آدمی نکلے اک ایجڈ آدمی تھا اور اک نارمل ایج کا آدمی اور ایک 30 سال کی عورت ساتھ میں 2 لڑکیاں بی تھی . . پیچھے گری کا دروازہ کھولا تو پریشا کو لگا اسکا دل ابھی باہر نکال آئے گا . . پتہ نہی اسکو کیوں بیچینی سی ہو رہی تھے . .
تبھی پیچھے سے پریشا کو اک ٹیچر بولا رہی تھے وہ وہاں ان کے پاس چلی گئی . . . اوڈی سے ایک ینگ اینڈ ہینڈسم لڑکا نکالا ڈیشنگ پرسنیلیٹی تھے 6 فوٹ کی ہائیٹ ، گورا رنگ ، آنکھوں پر بلیک کلر کے سن گلاسس لگائے ہوئے تھے جس کو کار من سے نیکلتی وقت اُتَر دیا… ڈارک برائون کلر کی انکہے جن من کوئی کشش محسوس ہو رہی تھے ، تیخے نین ناکوش… داڑی بی ہلکی سی بڑھی ہوئی تھےی جو اسکی پرسنیلیٹی کو چار چند لگا رہی تھے ، جیل سے بال سیٹ کیے ہوئے تھے جس مین وہ اور بی خوبصورت لگ رہا تھا بلو کلر کا فل سوٹ پہنا ہوا تھا وائٹ شرٹ اور بلو ٹائی پر . . رولیکس واچ پہنی ہوئے تھی… کوئی بی لڑکی اسکو دیکھتی تو فدا ہوجاتی ساتھ میں دو دوسرے بھی لڑکے تھے وہ اس سے عمر ایم تھوڑے بڑے لگ رہے تھے . . شفاء نے تو دل پر ہاتھ رکھ دیا اور اسکی زبان سے ھائے ! نکال گیا . . پریشا کو ٹیچر نے بلایا تھا اور اسکو ( پھولوں کا گل دستہ ) تھما دیا کے ٹیم کے باس کو دے دینا کوئی ٹیچر نہیں آ رہی تھی اسی لیے انہوں نے پریشا کو بولا لیا . .
پریشا ( پھولوں کا گل دستہ ) لیکر نکلی تو سامنے اسکو دیکھ کے اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئے اور اسکا جسم وہی آکر گیا . . کہی وہ خواب تو نہیں دیکھ رہی تھے یا یہ واقعی سچ تھا . . … اور وہ سوچنے لگی کیا یہ ہینڈسم لڑکا وہی کمینا ہے یا من کوئی خواب دیکھ رہی ہوں
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ?????? ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
اسکے بابا آج اسکو یونیورسٹی چھوڑنے جا رہے تھے وہ بہت ایکسیکیٹڈ تھے . . وہاں وہ نیو فرینڈز بنائے گی پڑھائی بی آرام سے کر لے گی… . اور خاص کر اسلام آباد دیکھنے کا موقع ملے گا اسکو . .
لاہور سے پریشا کے بابا اسکو خود چھوڑنے آئے تھے یونیورسٹی . .
اسلام آباد پونچتے ہی انہوں نے پریشا کو ہاسٹل چھوڑا اور لاہور کے لیے روانہ ہوگئ اس کے روم میں دو اور روم میٹس تھے . . وانیزا اور سوہا . . . دونوں ہے اچھی لڑکیاں تھے وانیزا گوجرانولہ کی تھی جب کے سوہا اسلام آباد کی ہے رہنے والی تھے پر اسکا گھر مین پڑھنا مشکل ہو گیا تھا تب ہی اس نے ہاسٹل من رہنا اسٹارٹ کیا… . پریشا ایک دن مین ہی ان کے ساتھ سیٹ ہوگئ . . کیوں کے وہ ہر کسی کے ساتھ گل مل جانے والی تھے . .
اور اک دن میں ہی پریشا نے سوہا اور وانیزا کو ہنسا ہنسا کے ان کے پیٹ مین دَرْد کر دیا . .
سوہا اور وانیزا دونوں بہت خوش تھی کے ان کو پریشا جیسی روم میٹ مل گئی تھی۔۔۔
انکا آج پہلا دن تھا یونیورسٹی مین دونوں صبح جلدی اٹھ گئے . . پر سوہا کی آنکھ کھل ہی نہیں رہی تھی . .
پریشا بار بار اسکو اٹھا رہی تھے پر وہ طس سے مس نا ہوتی تنگ آکر اسکے منہ پر پانی کا گلاس اُلٹا کر دیا . . سوہا کو غصہ تو بہت آیا . . پر پھر تینوں اِس بات پر بہت ہنسی . . اور اگے کے لیے ڈن کر دیا کے ایندا جو بھی نہیں اُٹھے گا ، اس پر پانی پھینکا جائے گا . . بعد میں پریشا کو ٹینشن ہونے لگی کے یہ اس نے کیا کر دیا کیوں کے آج تو اتفاق سے اسکی آنکھ جلدی کھل گئی تھی پر باقی دن کیسے ھوگا کیوں کے وہ بہت سوتی تھی اور اسے سوتی تھی جیسے گدھے گھوڑے بیچ کر سوئے ہو . . .
پریشا کا موڈ ہے خرب ہو گیا یہ سوچ کر کے ہر صبح اگر اسکی آنکھ جلدی نا کھلی تو اس پر پانی ڈَلا جائے گا . .

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: