Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 10

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 10

–**–**–

شہریار کی سیکرٹری اسکو كھانا کھلا کر چلی گئی . . شہیریار جب واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں بہت سارے شاپنگ بیگس تھے . . اس نے تو دھیان نہیں دیا . . پر شہریار نے کہا یہ تمھارے لیے کپڑے ہے . . وہ جو لڑکی تمھارے پاس آئی تھی اسکو ہی میں نے کہہ دیا تھا تمھارے لیے لیکر آئے مجھے تو کوئی سمجھ نہیں ہے . . دیکھ لو تم کو صحیح رہے گے . . اور تم سارا دن اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوتی ہوں کیا . . جب اس نے پاریشا کو بیڈ سے ہمیشہ کی طرح آج بھی ٹیک لگائے بیٹھا دیکھا تو کہا . .
اس نے جواب نہیں دیا . . . وہ فریش ہوکر باہر آیا ، اس نے كھانا نکالا خود بھی کھایا اور پریشا کو بھی کھلاتا گیا . .
ایک مہینہ ہو گیا تھا . . پریشا تو جیسے صرف بیڈ کی ہوکر رہ گئی تھے . . اسکے چہرے سے وہ شرارت اور ہنسی بالکل ہی جیسے غائب ہوگئ تھے . .ہر وقت خاموش بیٹھی رہتی تھی . . شہیریار نے اسکے لیے ایک میڈ رکھی تھی وہ صبح کے شہریار کے جانے سے پہلے آتی اور شہریار کے گھر آتے ہی چلی جاتی تھی . . . کبھی کا بار مارکیٹ بھی چلی جاتی پریشا کے ضروریات کے سامان لین کے لیے… شہریار کوشش کرتا تھا کہ وہ پہلے جیسا ریئیکٹ کرے پر وہ کوئی ردعمل ہی نہیں دیکھاتی۔۔ اسکو کہتا تھا کا گارڈن واک کرنے چلی جاؤ ، سامنے پارْک ہے وہاں پر جایا کرو . . ، پڑوس میں بہت اچھے لوگ ہے ان سے ملو . . یہ سب نہیں تو کم سے کم ٹی وی ہی دیکھ لو . . اور وہ کچھ جواب نا دیتی . . شہریار آفس کے لیے جاتا تو صرف روتی تھی . . . اور جب گھر آتا تو خاموش پڑھی رہتی . . شہریار کے پاس بھی زیادہ ٹائم نا ہوتا تھا اسکو دینے کے لیے . . آفس کے کاموں سے ہی اسکو فرصت نا تھی رات دیر دیر تک کام کرتا اور صبح سویرے ہی نکل جاتا . .
ایک دن شہریار آفس سے گھر آیا تو بہت غصے میں کسی سے فون پر بات کر رہا تھا . .
یار اتنی بَڑی کمپنی ہے اس کا اکیلا میں تو کام نہیں کر سکتا نا . . سارے میٹنگس میں دیکھو سارے پراجیکٹس میں سیٹ کرو . . باقی یہ ایپملائیز کس کھیت کی مولی ہے . . . میرے اپنے اتنے کام ہے اب کیا مین ایپملائیز کے کام بھی خود کیا کرو کیا… آئی کانٹ انڈر اسٹیند واٹز اِز رونگ ود یو . . اف یو کانٹ ہینڈل دس ٹیل میں آئی ول سینڈ یو جاب ریزائن لیٹر . . او کے اف یو وانٹ دس جاب دین ڈونٹ کال میں آگین . . ہینڈل دس ود یورسیلف . . آئی ایم سک آف دس . .
فون رکھ دیا . . اور ٹائی کو اُتَر کر پھینک دیا . . پریشا ٹوکر ٹوکر اسکو دیکھ رہی تھی . . اس نے مسکرا کر کہا سوری وہ آفس کے ایپملائیز پر تھوڑا غصہ دیکھنا پڑھتا ہے ورنہ یہ کام ٹھیک سے نہیں کرتے… پہلے ہی میرا کام بڑھ گیا ہے . . گھر کو کب سے رینوویٹ کروانے کا سوچا تھا وہ ابھی تک وہی پڑھا ہے . . تھک گیا ہوں . . تمھارا كھانا نکل دیا ہے کھا لو . . مجھے بھوک نہیں . . وہ واشروم گیا تو پریشا نے خود کھا لیا . . آج وہ کمرے سے باہر نکل گیا . . ورنہ وہ اسٹڈی م9ن اپنا کام کرتا رہتا تھا . .
پریشا نے ونڈو سے دیکھا وہ گارڈن میں سگریٹ پی رہا تھا . . اور کسی سے فون پر ہنس ہنس کر بات کر رہا تھا . .
وہ سوچنے لگی پتہ نہیں کس سے اتنا خوش ہو کر بات کر رہا ہے . . اسکی فیملی کو پتہ ہے میں اس کے ساتھ رہتی ہوں . . اور ہمہارا۔۔نکاح ہوچکا۔۔ اتنے دن ہوگئے نا اس اپنی کا بتایا۔۔ نا ہی ان کا کچھ آتا پتا ہے۔۔۔ …
وہ بیڈ پر بیٹھ گئے . . شہریار روم میں آیا تو کافی فریش لگ رہا تھا . . غصہ اور تھکن اتاری ہوئے لگ رہی تھی . . اس نے بتایا کے کل سے آفس نہیں جاؤ گا . . کیوں کے کل میں نے فرنیچر دیکھنے جانا ہے تم بھی ساتھ چلنا . . پھر اس نے ٹی وی آن کی . . بیڈ پر بے تکلف ہوکر بیٹھ کر لیپ ٹاپ اور موبائل یوز کرنے لگا… پریشا گھبرا گئی کیوں کے وہ پہلے دفعہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا…وو اٹھا کر صوفہ پر بیٹھ گئی . . شہریار نے کوئی دھیان نہیں دیا . صبح شہریار نے اسکے لیے اور اپنے لیے ناشتہ بنایا . . کھا کر اسکو کہا
جلدی سے ریڈی ہوجاؤ تاکہ چلیں لیٹ نہیں کرنا ورنہ ورکرز آجائے گے . . وہ اسکو تکنے لگی . . ہیلو میڈم بھول گئی کیا . . آئی ٹولڈ یو لاسٹ نائٹ دیٹ وی ہیو ٹو بائے سمتھنگ فور ہوم . . اٹھو جلدی . .
وہ اٹھی اور تیار ہوکر باہر آئی . . بالکل کمزور ہوگئ تھی . . رنگ بھی پیلا پڑھ گیا تھا… آنکھوں کے گرد ہلکی آگئے تھے . . ہونٹ بھی سفید پڑھ گئے تھے . .
شہریار بھی بالکل تیار تھا . . دونوں نکل گئے . . گھر کے لیے فرنیچر کلرز اور پینٹینگ وغیرہ پسند کر کے آئے . . پریشا تو چُپ تھی . . شہریار نے ہی سب اپنی پسند کا لیا…
واپسی پر شہریار لنچ بھی لے لیا…وہ سارا دن ورکرز کے ساتھ کھڑا کام کرواتا اپنی نگرانی میں تاکے کچھ گڑبڑ نا ہو… آج فرنیچر بھی آنے والا تھا بس وہ سیٹ کر کے پورا گھر ڈن ہوجائے گا . . وہ خوشی خوشی اسکو بتا رہا تھا . . وہ اسکو دیکھتی رہی کے کتنا خوش ہے اپنی زندگی میں . . کوئی غم نہیں . . پریشانی میں بھی اس کے پاس اپنے ہے جن سے بات کرکے اس کے سارے ٹینشن ختم ہوجاتی ہے اور پھر اسکو خوش ملتی ہے۔۔ . . اور ایک میں ہوں جس کے پاس کوئی خوشی کی وجہ ہی نہیں . .
اب شہریار نے پریشا کا روم نیچے کر دیا تھا ، اسکے روم میں ہر چیز ڈلوا دی تھی تاکہ اسکو کوئی پریشانی نا ہو . . پر پریشا رات کو اکیلے سونے سے ڈرتی تھی . . اور یہ بات شہریار کو بتا نہیں پاتی تھی . . اور جب وہ سوجاتا تو اسکے روم میں جا کر سوجاتی تھی . . اور صبح سویرے فجر کے وقت نکل آتی تھی . .

پریشا شہریار کا کب سے انتظار کر رہی تھی کیوں کے اتنی دیر ہوگئ تھی. . وہ تک اسکا ناشتہ نہیں دے گیا تھا . .
وہ باہر آئی کچن میں بھی نا تھا نا ہی ڈائیننگ ٹیبل پر . . وہ اسکے روم میں بھی نہیں جا رہی تھی . . بھوک سے اسکی حالت ہوگئ تھی . . جب بہت دیر ہوگئ تو وہ پریشان ہوگئ کے وہ بھول گیا ہو شاید . . یا پِھر آفس چلا گیا ہوں . . ایک بار روم میں دیکھتی ہوں . . وہ روم میں گئی . . کب سے دروازہ نوک کر رہی تھی پر اندر سے آواز نا آئی تو خود ہے اندر چلی . . شہریار سن پڑھا ہوا تھا . . اسکو دیکھ کر اسکی سانسے رک سی گئی . . شیروو کیا ہو گیا آپکو آپ ٹھیک ہے نا پلیز جواب دے . . کیا ہو گیا آپکو . . ھائے اللہ اب میں کیا کرو ، اسکے آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہہ جا رہے تھے . . شیرو پلیز جواب دے . . کس کو کہو . . پلیز مدد کر . .پریشا کی عادت تھی وہ سب کے نام آدھے لیتی تھی آج پہلی بار وہ شہریار سے مخاطب ہو رہی اسی لیے اس شیرو بلا رہی ورنہ تو وہ بیگڑا ہوا نوابزادا تھا۔۔ شہریار کی آواز نہیں نکل رہی تھی اسکی طبیعت بہت خراب لگ رہی تھی . . پریشا نے اسکا موبائل اٹھایا اور ڈاکٹر کا نو پوچھا . . شہریار نے آہستہ سے کہا ڈاکٹر جمشید ہے . .اس نے جلدی سے کال ملا کر ان کو بلایا . . ڈاکٹر نے شہریار کو انجیکشن لگانے کا کہا پر شہریار نے منع کر دیا کے وہ انجیکشن نہیں لگوایے گا . .
پریشا نے اسکو ڈانٹا کے یہ کیسی ضد ہے پر وہ کہاں مان رہا تھا اور وہی انکی بحث شروع ہوگئ . . ڈاکٹر نے انجیکشن لگا دے . . شہیریار کو پتہ بھی نا لگا . . پاریشا کو ڈاکٹر سے پوچھا کہ اچانک کیا ہوگیا۔۔ کل تک تو ٹھیک تھے۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا مسٹر . شہریار کو فوڈ پوئیسونینج ہوگئ ہے . . باہر کا كھانا کھانے کی وجہ سے انکا پیٹ بہت کمزور ہو گیا . . کوشش کریں ان کو گھر کا كھانا کھلائے . . شہریار نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ڈاکٹر صاحب دیکھیں نا شوہر کا خیال نہیں رکھتی ہے . . پِھر تو یہی حالت ہونی ہے نا . . پاریشا نے اسکو اپنی بلی جیسی تیز انکھوں سے دیکھا . . تو اسکا قہقہ نکل گیا . . ارے شہریار اپنے کب شادی کی بتایا بھی نہیں ۔۔ ویسے many many congratulations to both of you… پریشا پھیکا مسکرائی۔۔ اور شہریار نے آہستہ سے بربادی کی بھی کوئی مبارک باد دیتا ہے۔۔ جس پر شہریار اور ڈاکٹر مسکرا دیے۔
اچھا مسئز شہریار آپ ان کو کھانے میں اب سب کچھ لائٹ دیجیئے گا . . خاص کر ٹھنڈی چیزیں کھلائے۔۔۔ باقی جب بھی آپکو کوئی ضرورت ہو مجھے بولا لیجیے گا۔۔۔ اچھا میں چلتا ہوں اللہ حافظ … وہ ہدایت دے کر چلے گئے۔۔
????????
لو جی . . ہو گیا نا کام اب تم کیسے بناؤ گی لائٹ کھانے . . یاد ہے تمہیں جب ٹرپ پر چلے تھے انڈا تک نہیں بنانا آیا تھا . . پورا کچن اُلٹ پلٹ کر دیا تھا . . صبح کو بچارے کک نے دانٹ کھائے تھی تمھاری وجہ سے . . وہ اسکو چڑھا رہا تھا . . تاکہ کوئی جواب آئے پر وہ کوئی ری ایکشن تک نہیں دے رہی تھی . .
پِھر بولی آپکی دوائی کون لائے گا . . شہریار کو یک دم جھٹکا لگا . . آپ . . آپ . . ہوش میں تو ہو لڑکی کس سے بات کر رہی ہوں اپنے دشمن سے . . تم سے آپ پر کیسے اگئی . . خیر ہے نا طبیعت ٹھیک ہے تمھاری۔۔ اس نے پریشا کے سر پر ہاتھ رکھ کر بھی دیکھا۔۔ . . وہ شرارت کے فل موڈ میں تھا . .
اس نے بات کو اگنور کیا اور کہا جی آپکی دوائی . . پلیز کسی سے منگوا لیجیے گا . . کیوں کے اب تو وہ میڈ بھی نہیں جو آپکے لیے لیکر آئے . .
شہریار نے میڈ کو نکل دیا تھا کیوں کے وہ خود گھر میں ہوتا تھا اسی لیے . .
اچھا منگوا لونگا آپ میری فکر نا کرے . .
شہریار نے بھی اسکے اندازے میں آہستہ اور لڑکیوں کی طرح شرم کر بولا…
جس پر پریشا ہلکا سا مسکرائی…اور نیچی چلی گئی …
شہریار کی آنکھیں پھٹ گئی . . پریشا نے اسکے لیے سوپ اور دال چاول بنائے تھے ۔۔۔ . . اب اسکو تینوں وقت بس یہی كھانا دیتی . . اور وہ مجبورا کھاتا تھا . . کیوں کے کوئی اور چرھا جو نا تھا . . پریشا سے پُوچھتا کے تمہیں کچھ اور بنانا آتا ہے یا صرف مجھے اِس پھیکے کھانوں سے مارو گی . . پریشا نے تو اسے صاف انکار کر دیا کے بابا کی وجہ سے یہ كھانا سیکھا تھا . . باقی کچھ نہیں آتا مجھے۔… ہلکی وہ اب بہت اچھا كھانا پکاتی تھی . . . وہ رات کو شہریار کے پاس ہے سوتی تھی جب تک وہ بالکل ٹھیک ہوجائے . . شہریار نے اسکو کہا کے میں کوئی کک دیکھ رہا ہوں کیوں کے اب وہ یہ مریضوں والا كھانا کھا کھا کر اکتا گیا تھا . . اسکی کھانا دیکھ کر الٹییان آتی تھی. .
شہریار اب آفس جانے لگا تھا کیوں کے آفس کا کام بھی اسے نہیں چھوڑنا تھا . . آفس سے آیا تو پڑوس کا ہاشم اسکے پاس آیا . . شیری . . اس نے پیچھے دیکھا تو خوش ہو گیا . . کیسا ہے بڈی اتنے دن کہاں غائب تھا ہاشم نے گلے ملتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔ . . بس یار آفس کا کام اب گھر سیٹ کروایا . . ٹائم ہے نہیں مل رہا تھا تو بتا۔۔ سب خیر خیریت شہریار نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔ . . ہاں یار آفس کے کام سے باہر جا رہا ہوں ہاشم نے پریشان ہوتے کہا ۔۔۔۔ . . و واہ کب شہریار نے جوش سے پوچھا ؟ بس پرسو نکل جائے گے . . اچھا گڈ پر پریشان کیوں ہے۔۔ شہریار نے اسکی پریشانی جانچتے ہوئے پوچھا۔۔۔ . تو ہاشم نے کہا۔۔. سن یار شیری تیرے سے ایک کام تھا . . امید ہے تو منع نہیں کرے گا . . ارے یار کردی نا غیروں والی بات . . اندر آ آرام سے بات کرتے ہے . . چائے ، کافی پی کر . . نہیں یار پِھر کبھی آؤنگا فل حال جلدی ہے بس سوچا تجھ سے بات کر لو . . ہاں بول بھائی سب خیر ہے نا . . ہاں یار خیر ہے دادی باہر جانے کے لیے نہیں مان رہی ہے . . کہہ رہی ہے بہت بڑا سفر ہے . . اب میں ان کو یہاں اکیلے کس کے پاس چھوڑ کر جاؤ وہ اکیلے گھر میں ہے تم بس اتنا کرنا کبھی کا بار ان کو دیکھ لینا اور جب فون کریں آجانا . . یار میں نہیں جاتا پر جاب بھی ضروری ہے بہت محنت کر کے یہاں تک پونچھا ہوں . . یہ چانس نہیں گوا سکتا۔۔ ہاشم اپنی پریشان شہریار کو بتانے لگا۔۔۔ . . ارے ہاشم یار فکر مت کر تیری دادی میری دادی ہے . . تو ان کو میرے پاس رہنے کے لیے بھیج دے . . وہ اکیلے کیسے رہے گی شہریار نے اسکی پریشانی کو کم کرنا چاہ . . ارے نہیں یار تجھے پریشانی ھوگی . . وہ ویسے بھی نہیں مانے گی . . تم سے ناراض ہے . . بے شرم انسان شادی کر لی بتایا تک نہیں ٹریٹ چاہئے مجھے . . ابحے بھائی سب کچھ بہت جلدی جلدی میں ہو گیا اسی لیے بتا نہیں سکا . . اور بہت سارے ٹریٹ . . جہاں تک دادی کی بات ہے میں ان کو رازی کر لو گا وہ مجھے منع نہیں کرے گی . .شہریار نے پراعتماد لہجے میں کہا۔۔ چل جیسے تیری مرضی ہاشم نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔ . . ہممم چل پِھر . . ابھی . . ہاں ابھی . . اوک… جب شہریار گھر واپس آیا تو ہہت خوش تھا . . گھر آتے ہے وہ اپنے روم میں کام کرنے بیٹھ گیا . . . وہ اسکا دوپہر کا كھانا پیک کر کے دیتی تھی . . تاکہ وہ باہر کا کچھ نہیں کھا سکے . . پریشا سارا دن گھر میں بور ہوتی رہی . . اسکے پاس کچھ نا ہوتا کرنے کو . . اب وہ روتی بھی نہیں تھی بس خاموش رہتی تھی . . ورنہ وہ اسی کہاں تھی . . ہر وقت ہنسی مذاق چلتا رہتا تھا اسکا . .
رات کو شہریار لاونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ٹی وی کا فل کیا ہوا تھا . . پریشا آواز سن کر باہر آئی تو بَڑی ٹی وی پر فٹبال میچ چل رہا تھا . . بارسیلونا اور ریئل میڈرڈ کا . . شہریار میسی جو كے بارسیلونا کا بیسٹ پلیئر تھا اسکو سپورٹ کر رہا تھا اور ریئل میڈرڈ کے بیسٹ پلیئر رونالڈو کو برا بلا کہہ رہا تھا . . وہ وہی اپنے دروازے پر کھڑی ہوکر دیکھ رہی تھی . . اوئے میسی آج اِس رونالڈو کی واٹ لگا دے . . میرے جگر۔۔۔ شہریار نے اپنے میسی کو کہا۔۔۔ . . پریشا کو غصہ آیا وہ بھی صوفہ پر اکر بیٹھ گئی . . شہریار نے اسکی طرف دھیان نا دیا . . . اور میچ میں ہی گھوسا رہا . . پریشا کا فیوریٹ پلیئر رونالڈو تھا . . جب رونالڈو نے گول کیا . . وہ زور سے چیلایی . . یپییییییییییی… . . شہریار تو ایک دم لال پیلا ہوگیا … دشمن ٹیم جیت رہی ہے اور تم خوشی مناع رہی ہوں . . پریشا نے برے آرام سے کہا دشمن ٹیم میری بارسیلونا ہے . . میری ٹیم تو ریئل میڈرڈ ہے شہریار نے تپ کر کہا۔۔۔ اب دونون کے بیچ میں جنگ چھڑ گئی۔۔۔ . . دیکھ لینا ہر جائگی بارسیلونا ہے جیت گا شہریار نے پریشا کو ورن کرتے ہوئے کہا . . ریئل میڈرڈ جیت گا پریشا نے دانت چبا کر کہا۔۔ . . دیکھ لیتے ہے شہریار نے بھی چلینج دیے ہوئے کہا . . او کے ڈن . . لگی بیٹ . . وہ پریشان ہوگئ کے لگاؤ یا نہیں . . پِھر جوش سے اسکے ہاتھ پر تالی ماری اور کہا ڈن . . ٹھیک ہے آگر تم جیتی تو جو تم کہو گی وہ میں کرو گا . . اور اگر میں جیتا تو جو میں کہو گا وہ تم کروگی . . ہممم او کے ڈن پریشا تھوڑا گڑبڑا رہی تھی پر اپنی ٹیم پر اعتبار کرتے ہوئے جوش سے بولی۔۔۔ …
بڑا سا مقابلہ چلا کبھی کوئی اگے تھا تو کبھی کوئی۔۔۔ پریشا کی ٹیم نے گول کیا تو وہ خوش سے جھومنے لگی۔۔ شہریار نے غصے بھری نگاہوں سے اسکو نوازا تو وہ تنزیا کہنے لگی۔۔۔ کہا تھا میں نے رونالڈو ہی جیتے گا پر کوئی میری سنتا کہاں ہے۔۔۔ ابھی ٹائم ہے زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں۔۔ شہریار اپنا غصہ زبت کرتے ہوئے بولا۔۔۔کبھی پریشا چلاتی گول نا ھونے پر تو کبھی شہریار۔۔۔۔۔ بڑا سخت مقابلا چل رہا تھا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: