Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 11

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 11

–**–**–

بارسیلونا نے یکایک تین گول کیے۔۔ شہریار خوشی سے جھوم رہا اور پریشا اسکو اگنور کرنے کی کر رہی اور اپنی آنکھیں نیچے جھکا لی پر وہ اس کے آگے آکر عجیب و غریب کرتب کر کے ناچ رہا تھا۔۔۔
. . آخر ایک گول پر پریشا کی ٹیم کو گول کرنا تھا پر وہ ناكام ہوگئ . . اور شہریار کی ٹیم جیت گئی . . وہ خوب بھنگڑے ڈالنے لگا . . پریشا کے اگی ناچ ناچ کر اسکو چیئر رہا تھا . . وہ دانت چباتی رہ گئے . . کیوں چوڑیل کہا تھا نا . . اب کیا ہوا بولتی بند ہوگئی … و بلے بلے شاوا شاوا . .
وہ اسکو دیکھ رہی تھی جو بالکل بچوں کی طرح جھوم رہا تھا . . آج وہ پِھر اسکا دل دھڑکا رہا تھا . . وہ اپنی حالت سے پریشان ہوکر اٹھ کر اپنے روم میں بھاگ گئے . . شہریار نے پیچھے سے آواز لگائے . . ہار گئی . . اب شرط پوری کرو میڈم کہاں بھاگی . . اس نے روم کا دروازہ زور سے بند کیا اور وہ پِھر سے ناچنے لگا . .
دونوں ڈنر کر رہے تھے جب شہریار نے اسے کہا باقی اور کتنے دن مجھے یہ مریضوں جیسا كھانا کھانے کو ملے گا . . تنگ اگیا ہون میں وہ بچوں کی طرح بول رہا تھا . . ڈاکٹر نے کہا ہے کے ایک مہینے تک اپنے یہ كھانا ہے . . کیا ایک مہینہ۔۔۔ اس ڈاکٹر کی اسی کی تیسی میں اسکی ہڈیاں توڑ دونگا . . میں نہیں مانتا اسکی کوئی بات کل سے ہم . . بلکہ ابھی میں کچھ آرڈر کرتا ہوں . . وہ پاکٹ سے موبائل نکل رہا تھا جب پریشا نے کہا پلیز ڈاکٹر نے بہت سختی سے منع کیا ہے . . کچھ دن تک تو احتیاط کریں پِھر دیکھیں گے . . . . اچھا چلو ٹھیک ہے ویسے تم شرت ہر گئی ہو اس کا مطلب ہے اب جو میں کہو گا وہ تمہیں ماننا پرے گا . . آخر میں اس نے ایک آئی برو اوپر کی . .
اس نے آنکھیں شہریار کے اوپر جمع لی . . دیکھو اب پلٹ مت جانا… بتائے کیا کرنا ھوگا مجھے پریشا نے بے دلی سے کہا۔۔۔ . . تم اپنا سارا سامان میرے روم میں شفٹ کرو اور خود بھی ہوجاؤ . . اس نے حیرت سے شہریار کو دیکھا . . یہ اسا کیوں کہہ رہا ہے . . ویسے بھی تم رات کو میرے روم میں سوتی ہوں اِس سے اچھا میرے روم میں شفٹ ہوجاؤ . . وہ بالکل شرمندہ سی ہوگئ کے اسکو کیسے پتہ چلا . . رات کو تو تب جاتی ہوں جب یہ بالکل سوجاتا . . . اب ینگ سے میچور ہو گیا ہوں اتنی بیہوشی نیند بھی نہیں سوتا کے دُنیا جہاں کا پتہ بھی نا چلے . . شہریار ہلکا سے طنزیہ مسکرا رہا تھا . . جب کے پریشا نے آنکھیں نیچے کر لی . . ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا یار مذاق کر رہا تھا . . وہ اصل میں پڑوس میں آیک فیملی رہتی ہے بہت اچھے لوگ ہے جب بھی میں لاہور اتا تھا تو میں كھانا ان کے یہاں کھاتا تھا ، ان کے ساتھ بالکل فیملی جیسا رلیشن ہے . . میرا دوست ہے وہ ہاشم . . جاب کے سلسلے میں باہر جا رہا ہے ود فیملی . . اور اسکی آئی مین میری ڈارلنگ شنو کچھ دن یہاں رہنے آئے گی . . میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا پر اب وہ ہماری شادی کا سن کے وہ بہت غصہ ہے ، میں نے بہت مشکلوں سے اسکو منایا ہے وہ گھر میں اکیلی ہوگی اسی لیے میں نے اسکو اپنے گھر رہنے کے لیے انوایئٹ کیا ہے۔۔۔ وہ یہاں کچھ دن رہنے آئے گی۔۔۔ اگر تمہیں کچھ کہہ دے تو برا مت ماننا . . اور تمھارا روم میں اسکو دونگا . . کیوں کے اوپر اسکو پسند نہیں ہے . . تم وہ کمرا اسکے لیے خالی کرو کل شام تک آ جائے گی میری شانو…وہ اپنی ہنسی کو بہت کنٹرول کر رہا تھا . . یہ کہہ کر وہ اپنے روم چلا گیا کے کہی اسکا قہقہ نا نکل جائے . . پر پِھر سوچا مین کیوں اسکو جلانے کی کوشش کر رہا ہوں . . اسٹرینج . .
پیچھے پریشا کے اوپر جیسے پہاڑ گر گیا . . اس لڑکے نے اپنی پسند کو چھوڑ کر مجھ سے نکاح کر لیا . . پر اب ہماری شادی ہو گئے ہے تو اس چڑیل کو شانو ڈارلنگ کہہ رہا ہے بے شرم انسان . . کوئی ڈر نہیں اسکو کے اپنی بِیوِی کے سامنے اسکو شانو ڈارلنگ کہہ رہا ہا . . ہو ویسے بھی پتہ نہیں اسکی کتنی اور لڑکیاں دوست ہونگی . . آنے دو اس چڑیل کو دیکھتی ہوں۔۔۔ وہ بھی اپنی حالت پر پریشان تھی کہ جب ھم دونوں کے بیچ میں کوئی رشتہ نہیں ہے تو مجھے کیوں اس کی محبوبہ سے جلن ہو رہی ہے۔۔ اف اللہ۔۔۔
شہریار صبح سے بے صبرا ہوکر اپنی شانو ڈارلنگ کا ویٹ کر رہا تھا . . پریشا کا دل کر رہا تھا اِس شیرو ٹیرو کا گلا دبا دے . .
دروازے پر جب بیل ہوئے تو وہ جلدی سے بھاگا اور دروازہ کھولا . . سامنے ایک لڑکا تھا اور اسکے ساتھ بوڑی عورت تھی تھوڑی صحت مند تھی پر اسٹائلش لگ رہی تھی . . . . پریشا ادھر اُدھر دیکھنے لگی . . اسکی ڈارلنگ کہاں ہے راستے میں فوت ہوگئ کیا . .
خیر مجھے کیا . . وہ آگے بڑھی ان دونوں کو سلام کیا . . . شہریار نے اسکو ہاشم سے انٹرڈیوس کروایا . . پِھر آیا اپنی شانو کی طرف یہ ہے میری شانو ڈارلنگ . . پریشا کی آنکھیں نکل آئی . . اس نے ناک چڑھا کر شہریار کو دیکھا . . . جو مسکرا رہا تھا . . اوئے بے شرم کتنی دفعہ منع کیا ہے مجھے شانو ڈارلنگ نا بلایا کر . . کوئی شرم لحاظ نہیں تمھارے اندر . . وہ ہاشم کی دادی تھی . . ہاشم نے کہا بھابی ڈونٹ مائنڈ یہ دادی کو اِس نام سے پکارتا ہے ایون دادی کو شادی کے لیے پروپوز بھی کرتا ہے . . شہریار نے کہا ابحے یہ کس لحاظ سے تجھے دادی لگتی . . ابھی بھی کتنی ینگ لگتی ہے . .
پاریشا کی ہنسی چھوٹ گئی . . دادی نے اسکو غور کر دیکھا اور شہریار کا کان مروڑا . . ہنسا دیا نا اپنی بِیوِی کو کہا تھا . . میرا مذاق مت بنواو … پریشا نے جھٹ سے کہا سوری دادی مین آپ پر نہیں ہنسی ویسے یہ کہہ تو سچ رہے ہے آپ بالکل ایک ڈول ہے … کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کے آپ دادی بھی ہے . . خیر آئے اندر . .( پریشا کے دل کو جیسے سکون مل گیا ) ہاشم نے اِجازَت لی کہ میں جا رہا ہوں . . آپ لوگ انجوئے کیجیے پر پریشا نے کہا بھائی پلیز چائے ، کافی پی کر جائے . . شہریار نے بھائی بچ کے نکل جا ورنہ کافی کے بجائے زہر مانگے گا تو . .
وہ مسکراتا ہوا نکل گیا . . دادی نے شہیریار کو پِھر سے ڈانٹا تم مت سدھرنا ہر وقت بس مذاق کرنا . . خیر بیٹا تمھارا نام کیا ہے . . پریشا سے پوچھا گیا . . اس نے مسکرا کر بتانا چاہا پر شہریار نے اسکو موقع ہی نہیں دیا اور جھٹ سے بولا چوڑیل . . لڑکے تم اب میرے ھاتھوں سے پیٹو گے . . اس نے مسکرا کر کہا . . شانو ڈارلنگ تمھارے لیے جان حاضر . . یہ پیٹائی تو کچھ بھی نہیں . . پریشا نے شکل بنا لے اور دل ہے دل من کہنے لگی . . چیپ انسان… کتنے واہیات ڈایلوگس مار رہا ہے . .
بیٹا بتاؤ تم . . اور اب تم اپنی زبان پر قابو رکھ نا . . شہریار نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا . . اور سَر ہاں ایم ہلایا . .
پریشا رضا … پریشا رضا پر اب تو تمہیں پریشا شہریار کہنا چاہئے کیوں . . شہری . . دادی نے شہریار سے کہا . . اس نے کہا جیسے اسکی مرضی . . ویسے بیٹا اِس بندر کے ساتھ کیسے شادی کر لی…
شانو چائے پیو گی یا کافی آج میں تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے بناون گا۔۔۔ ؟ چائے پیو گی دادی نے فورن خوش ہوتے کہا۔۔ . . او کے اور تم کیا پیو گی شہریار نے پریشا سے پوچھا تو اس نے آہستہ سے کہا۔۔۔ . . چائے . . گڈ میں ابھی بنا کر لایا . . تم ان کو اپنا روم دکھاؤ نا وہ پریشا سے کہہ کر کچن کی طرف بڑھ گیا . . پریشا نے کہا آئے میں آپکو آپکا روم دیکھاوں وہ دادی کو کمرے میں لے گئی … واہ بھائی ویسے اِس لڑکے کو سکون نہیں ہر پانچ مہینے بعد گھر کو چینج کرواتا ہے… ابھی آیا تھا لاہور تو کروایا تھا اب پِھر سے کروا دیا . . ویسے پسند اچھی ہے اسکی کتنا خوبصورت بنا دیا ہے . . دادی شہریار کے بات کر رہی تھی۔۔۔
پریشا مسکرا کر کہا اچھا آپ آرام کریں میں آتی ہوں

دادی کو کچھ دن ہوئے تھے . . پریشا کو ہر وقت سمپل دیکھ کر انہوں نے ایک دن اسے سے پوچھ لیا . . پریشا بیٹا . . جی دادی . . ایک بات پوچھو بچے . . جی دادی کیوں نہیں آپ اِجازَت کیوں لی رہی ہے . . بیٹا برا مت ماننا … نہیں نہیں میں کیوں برا مانو گی آپ پوچین نا . . وہ دونوں صبح کے وقت گرڈن میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔
تم دونوں میاں بِیوِی آپس میں خوش ہوں ؟ مطلب سب ٹھیک ہے نا ؟ دادی نے سنجیدہ اندازِ میں سوال کیا… پریشا گڑبڑا گئی اور تھوڑا اٹک اٹک کر بولی جی دادی سب ٹھیک ہے… آپ اسے کیوں پوچھ رہی ہے . . بس بیٹا تم دونوں آپس میں نا بات کرتے ہوں نا ایک ساتھ بیٹھتے ہوں اسی لیے پوچھا اور
بیٹا ابھی تمھاری شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہے . . تم اِس طرح بالکل سمپل بن کر گھومتی ہو . . . . مجھے تو شک ہوتا ہے تم دونوں میں میاں بِیوِی والا کوئی رشتہ ہی نہیں لگتا… پریشا نے جلدی سے کہا نہیں نہیں اسی کوئی بات نہیں ہے بس وہ آفیس میں بزی رہتے ہے نا کام کی وجہ سے اسی لیے . . اور آفس سے گھر آتے ہے تو تھکے ہوئے ہوتے ہے اسی وجہ سے آپکو یہ لگ رہا ھوگا . . پِھر اس نے اپنے حَل کو دیکھا اور معصومیت سے پوچھا دادی یہ کپڑے ٹھیک تو ہے اور کیسے ہونے چاہئیے . …اور جہاں تک سمپل رہنے کی بات ہے ، مجھے تیار ھونا اچھا نہیں لگتا . .
او پاگل لڑکی . . بھلے تم کو تیار ھونا اچھا نہیں لگتا ہو… پر اب تم کو اپنے شوہر کے لیے تیار ھونا پرے گا . . تمھارا شوہر سارا دن آفس میں ہوتا ہے گھر آکر اسکو وہی پھیکی پھیکی بِیوِی ملے گی تو اسکا دل تمھاری طرف نہیں ھوگا . . مطلب دادی اس نے پھر سے معصوم کی طرح پوچھا۔۔۔. . بالکل بیوقوف ہو . . اپنے آپکو ہمیشہ تیار ہوکر رکھا کر میک اپ کیا کیا کرو . . اچھے اچھے ڈارک اور برائٹ کلرز پہنا کرو اسکے لیے اچھے اچھے کھانے بناؤ . .
ورنہ جب تم اسکو اِس طرح ملو گی سمپل سمپل تو اسکا دل تمھاری طرف نہیں بلکہ دوسری لڑکیوں کی طرف بڑھ جائے گا اور وہ تمھاری طرف نا دیکھے نا توجہ دے گا . . اب بھی دیکھو آفس سے آتے ہے روم میں چلا جاتا ہے . . تمہیں دیکھ کر مسکراتا بھی نہیں . . جیسے اسکو کوئی خوشی ہی نہیں۔۔۔ مرد جتنا بھی آفیس سے تھک کر اتا ہوں جب گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو سجا سنوارا دیکھتا ہے تو ساری تھکن بھول جاتا ہے۔۔ . . پریشا سوچ میں پڑھ گئی . . کے جن حالت میں ہمارا نکاح ہوا ہے وہ کہاں مجھ میں انٹرسٹ لے گا . . اسکی تو پتہ نہیں کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے اس نے مجھ سے نکاح کر کے بہت بَڑی قربانی دی. .
جاؤ جا کر برائٹ کلر کا پیارا سا ڈریس پہنو اور اچھا سا میک اپ کرو . . پِھر اسکے لیے لنچ بناؤ . . من ایندا تمہیں اِس حال میں نا دیکھو . . دادی نے آرڈر کیا پر دادی میرے پاس نا برائٹ کلر کے ڈریس ہے نا ہی میک اپ ہے . . کیا ؟ کوئی مسئلہ نہیں کل ہم شاپنگ پر جائے گے . . او کے . . ٹھیک ہے دادی . . جاؤ کچن دیکھو میں آج لنچ بنا دیتی ہوں . .آئندہ تم بنا دینا۔۔ مرد ہے دل کا رستا اسکے پیٹ سے ہوکر جاتا ہے سمجھی۔۔ پریشا سر ہلا کر چلی گئی
دادی کو شہریار نے اپنے اور پریشا کے نکاح کا صرف اتنا بتایا تھا کے اتنی جلدی میں ہُوا کے ہم دونوں خود بھی پریشان تھے . . دادی بھہت ناراض ہوئی تھی شہریار نے نکاح کر لیا تھا اور مجھے بتایا تک نہیں … اسی لیے شہریار نے ان کو بس اتنا بتانا ہے مناسب سمجھا تاکے وہ مان جائے … . . دادی نے ان دونوں کو ایک دوسری سے الگ الگ دیکھ کر اندازہ لگایا کے جن حالت میں بھی نکاح ہوا ہو…پر یہ دونوں آپس میں میاں بِیوِی کی طرح نہیں رہتے . . وہ سارا دن آفس میں پِھر گھر آکر آفس کا کم لیکر بیٹھ جاتا ہے اور یہ لڑکی بالکل ہی خاموش اور چُپ رہتی ہے . . اوپر سے نا تیار ہوتی ہے پتہ نہیں کیا حالت بنا کر پھرتی ہے . . جو بھی ہو ان دونوں کو احساس تو دلانا ہے کے انکا آپس میں کیا رشتہ ہے اور اِس رشتے کو کیسے نبھانا ہے… دادی نے بھی ٹھان لیا کے ان کو ملا کر رہنا ہے . .
سب ڈنر کر رہے تھے جب دادی نے شہریار سے کہا لڑکے مجھے کل تمھاری کار چاہئیے مجھے بازار جانا ہے … . شانو یار میری ایک ہی کار ہے میں کس پر جاؤ گا . . جو کم ہے آپ مجھے بتا دو میں کروا دونگی . . شہریار دادی کی بات سن پریشان ہوکر بولا۔۔۔
ارے نہیں تمہیں لڑکیوں کی چیزوں کا کیا پتہ . . مجھے نہیں پتہ کل کار بھیجو . . اور اپنا کریڈٹ کارڈ بھی دو . . وہ کیوں بھائی شہریار کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کو میرے کارڈ کی کیا ضرورت پڑھ گئی۔۔۔ . . تمھاری بِیوِی بھی ساتھ چلے گی . . دادی نے پریشا کو دیکھ کر بولی جو اپنے كھانا کھانے میں مگن تھی . . یہ شاپنگ کرے گی . . اسکو کیا ضرورت پڑھ گئے شہریار نے اپنی دونوں بھنووے چڑہا کر بولا. شہری شادی کے بعد شوہر کا فراز ہوتا ہے اپنی بِیوِی کو اپنی سیلری کے حساب سے کچھ رقم دینا . . اور یہ تمھاری بِیوِی ہے اسی لیے اب تمھارا فراز ہے سمجھے دادی شہریار کو پیار سے سمجھانے لگی۔۔۔ . . یار شانو تم تو سریس ہوگئ . . لی جاؤ کریڈٹ کارڈ میں نے تو ویسے ہی پوچھ لیا تھا . .
اور سنو ہر ماہ تم اس کے ہاتھ میں پیسے رکھو گے تاکہ ایندا اسکو مانگنے کی ضرورت نا پڑے دادی نے اسکو آرڈر دیا۔۔ . . شہریار نے سلیوٹ کر کے کہا او کے شانو بوس…اور کار آپکو کل مل جائے گی ڈونٹ وری اور مس پریشا آ مین مسئز پریشا رضا کو ہر ماہ پیسے مل جائے گے انکے کہنے سے پہلے۔۔ . . اور کچھ میڈم شانو . . کچھ نہیں بس . . دادی نے ہنس کر کہا۔۔۔ … شیطان کہیں کا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡
اگل دن شہریار نے آفس سے کار بھیجی پریشا اور دادی شاپنگ کر کے آئے . . دادی نے پریشا کو پیارا سا گرین کلر کا ڈریس پہنایا . . ساتھ ہی ہلکا سا میک اپ کروایا . . تھوڑی سی چوڑیاں بھی پہنایی . . ساتھ ہے ڈنر میں شہریار کی فیوریٹ ڈشز بھی بنوائی . . جب وہ آفس سے واپس آیا . . پریشا شرم کی وجہ سے اسکے سامنے نہیں آ رہی تھی كھانا ٹیبل پر لگا کر وہ کچن میں چُپ گئی . . شہریار فریش ہوکر ڈنر کرنے آیا تو دادی بھی بیٹھی ہوئی تھی . . شہریار نے كھانا دیکھا تو خوش ہو گیا . . واہ یار آج تو دل خوش ہو گیا . . اپنے بنایا ہے۔۔ آپکے ہاتھوں کا مزا وہ وہ۔۔۔ .اس نے دادی سے پوچھا انہوں نے کہا نہیں میں نے نہیں بنیا ہے . . پہلا نوالا ڈالتے ہی کھانے کو چومنا شروع کیا . . واہ واہ کیا بنایا ہے مزہ اگیا۔۔ ایسے ہاتھ چومنے کا دل کر رہا ہے کیا بنایا ہے بنانے والے نا خوب لذیذ . . کیا جادو ہے . . بتائے نا دادی اسکو گھر کا کک رکھ لیتے ہے . . پریشا آؤ نا باہر کہاں رہ گئے . . پریشا تھوڑا جھجک رہی تھی جب آئے تو دادی نے بتایا اس نے بنایا ہے . . شہریار نے ایک آئی برو اوپر کر کے پریشا کو دیکھا… اس نے جلدی سے آنکھیں جھکا لی…دادی نے پاریشا کو چیئر پر بیٹھنے کا کہا تو وہ بیٹھ گئی شہریار اسکو ہی دیکھ رہا تھا…اسنے پریشا کے کان میں آہستہ سے کہا سچ بتانا یہ كھانا شانو ڈارلنگ نے پکایا ہے نا… ورنہ جہاں تک مجھے یاد پڑھتا ہے تم کو انڈا تک بنانا نہیں اتا تھا . . اس نے مذاق اڑایا تو… پریشا نے تیز نظروں سے اس کو دیکھا . . شہریار گھبرا گیا… اور جلدی سے کھانے کی طرف دھیان کر دیا . . ویسے شانو ڈارلنگ یہ تم نے اسکو انسان کیسے بنا لیا . . اسکا پریشا کی طرف تھا…
شہری کتنی غلط بات حہے… اچھا یار مذاق کر رہا تھا… ویسے کیسی لگی تمہیں تمھاری دلہن دادی نے شہریار سے سوال کیا…… .
شہیریار نے حیرت سے دادی کو دیکھا…
پاریشا کھانے کھاتے ہوئے وہی رک گئی … جیسے کسی نے اسکو اسٹاپ کر دیا ہو…
دادی نے دونوں کی گھبراہٹ دیکھ کر کہا . . ارے کیا ہو گیا تم دونوں کو سہی تو کہہ رہی ہون… ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہے تم دونوں کی شادی کو… ابھی تک تو تم دونوں دولہا دولہن ہو۔۔۔
پر تم دونوں اتنے الگ الگ رہتے ہو جیسے ایک دوسری کو جانتے تک نا ہو…
ارے شانو ڈارلنگ اسا کچھ نہیں ہے . . بس آفس کے کاموں میں مصروف تھا… ورنہ خود پوچھ لو میری نئے نوالی دلہن سے کتنا پیار کرتا ہوں اور کتنے حد تک رومینٹک ہوں ، یہ ہی پریشان ہوجاتی ہے . . … اس نے آنکھ مار کے پریشا کو دیکھا… جس کا چہرہ شرم سے لال ہوگیا تھا… اس نے شہیریار کو گھورا… اور سَر نیچے کر لیا… شہریار نے کہا دیکھا … اب بھی شرما رہی ہے …
شہریار نے جھٹ سے بات کو سنبھال لیا…
تب دادی نے کہا اچھا اسے ہے رومینٹک رہا کرو یہی دن ہوتے ہے نئے نئے پیار کے… بعد میں بچہے ہوجاتی ہے تو کہاں ٹائم مل پاتا ہے . . پریشا نے آنکھیں پھاڑ کر دادی کو دیکھا… جس کو دیکھ کر شہریار کی ہنسی نکل گئی . . پِھر اسکو مذاق سوجی تو کہا میں بھی یہی کہتا ہوں اسکو پر یہ کہاں سنتی ہے… پریشا نے شہریار کو دیکھا… وہ آج بھی ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا اس نے پہلی بار اسکو ہستے ہوئے دیکھا… اور وہ ہلکا سا مسکرائی … اور اسکے خیالوں میں گم ہوگئ . . دادی کی آواز پر ہوش میں ائی… جو کہہ رہی تھی . . پریشا بیٹا ایندا میں نا سنو کے تم اس کے رومینٹک ہونے پر چرتی ہون… ٹھیک ہے . .
پاریشا نے ہاں من سَر ہلایا … اور شہریار کو اگ برساتی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ شہریار نے پھر سے کہا دادی آپ فکر مت کریں میں اسکو بارہ بچوں کے ہونے بعد بھی پیار کرو۔۔۔ جس پر دادی نے زوردار قہقہ لگایا۔۔۔ اور کہا۔۔ شریر کہیں کے۔۔۔
دادی جانتی تھی کے شہریار صاف جھوٹ بول رہا تھا پر انہوں نے اسکو کہا نہیں …
جب وہ دونوں کمرے میں آئے تو پریشا کا منہ بنا ہوا تھا . . شہریار اپنی ہنسی کو کنٹرول کر رہا تھا کے کہی اسکے سامنے نکل نا جائے …
کنٹرول کرتے کرتے اسکا زور دَر قہقہ نکل ہی گیا . . جس پر وہ اور زیادہ غصہ میں آگئی . . … اور اس پر پھٹ پڑی . . یہ کیا بدتمیزی تھی . . دادی کے سامنے وہ کیا کہہ رہے تھے اپ… اور تم کیوں تیار ہوئے تھی… . میرے لیے اپنے ھاتھوں سے كھانا بنایا ہے… جب کے دو مہینوں سے باہر کا كھانا کھا کھا کر میری طبیعت خراب ہوگئ پر تم نے مجھے گھر کا كھانا نہیں دیا . . ہلکے تمہیں سب کچھ بنانا بھی اتا ہے . . شہریار نے بھی اسکے اندازِ میں بات کی… تو وہ چپ ہوگئی… پِھر کچھ سوچ کر کہا . . میں نے دادی کی وجہ سے کیا ہے ان کو شک ہو رہا ہے کے ہم دونوں میاں بِیوِی کی طرح نہیں رہتے ہے . .شہریار نے کہا ہاں تو میں نے بھی ان کو یقین دلانے کے لیے کیا ہے . . وہ اپنی ہنسی دھبا کر اسٹڈی روم میں چلا گیا… اور وہ صوفہ پر بیٹھ کر کسی سوچ میں پڑھ گئی … بیٹھیے بیٹھیے کب اسکی آنکھ لگ گئے اسکو پتہ بھی نا چلا…شہریار نے دیکھا وہ ٹھنڈ کی وجہ سے نیند میں تڑپ رہی تھی. . وہ اسکو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا پھر اس پر چادر ڈالی… اے سی کی کولنگ بڑھ گئی تھی اسی وجہ سے پہلے اس نے اے سی کا ٹمپریچر کم کیا . . پِھر خود بھی سوگیا… پریشا کی بات اسکو یاد آئے آج کتنے دنوں بعد اس نے پہلے کی طرح غصہ کیا… اسکے چہرے پر پِھر سے مسکراہٹ آگئی … اس نے آہستہ سے کہا… چوڑیل … . . جو بھی ہو شہریار اسکی خاموش رہنے سے بور ہو گیا تھا . . اور یہی چاہتا تھا کے وہ پہلے جیسی ہوجائے۔۔۔…
شہریار باہر لان میں دادی کے ساتھ گپے مر کر ابھی روم میں آیا تھا . . پریشا واشروم گئے ہوئے تھی… وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ سے واچ اترتا ہوا آ رہا تھا جب پریشا زور سے چلاتی ہوئے واشروم سے نکلی …
کوکرواچ…اور بیڈ پر اوپر چڑھ گئی … شہریار کے ہوش ہی اُڑ ہوگئی… کے کیا ہوگیا…
وہ پریشا کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کیا ہُوا اتنا کیوں چلا رہی ہون… اس نے پریشانی سے پوچا…
پریشا نے باتھ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کوکرواچ کوکرواچ… شہریار کے ٹوٹے ہی اوڑ گئے۔۔۔…
کیا کوکرواچ… وہ جھٹ سے بیڈ پر چڑھ گیا . . اور چلانے لگا کوکرواچ… پاریشا نے حیرت سے دیکھا اور بولی جاؤ اسکو مارو یہاں کیوں کھڑے ہوگئے ہو… شہریار نے ڈرنے والی شکل بنا کر کہا پاگل ہوگئ ہو کیا . . میں نہیں جا رہا . . مطلب تم کوکرواچ سے ڈرتے ہو . . پاریشا نے طنزیہ کہا . . اور ہنسی دبانے لگی… جس پر شہریار نے اٹک اٹک کر کہا ڈرتا نہیں ہو بس ویسے ہی… پریشا نے اسکی بات کو کٹ کر کہا کیا ویسے ہے ہاں بولو… ڈرپوک کہی کے . . ارے ڈرتا نہیں ہوں بولا نا . . وہ بس اڑتا ہے نا اسی لیے تھوڑا ڈسٹنس رکھتا ہون…
پریشا کی آنکھیں کھل گئی . . سچ بتاؤ وہ اڑتا بھی ہے کیا . . شہریار کہا ہا تمہیں نہیں پاتا…
پِھر ہمیں کون بچے گا . . وہ زور زور سے چلانے لگی کوکرواچ کوکرواچ… . کبھی شہریار اسکے پیچھے چھپتا تو کبھی وہ شہریار کے پیچھے چھوپتی…
اتنے میں وہاں دادی آگئی . . انھوں نے ان دونوں سے پوچھا کیا آفَت آگئے ہے کیوں چلا رہے ہوں . .
یار شانو باتھ روم میں کوکرواچ آگیا ہے . . شہریار نے ڈرتے ہوئے کہا …
دادی اس بات پر مسکراہا دی . . اور کہنے لگی تو کیا ہُوا اگر کوکرواچ آگیا ہے جا کر اسے مارو… اتنا چلا کیوں رہے ہوں . .
پریشا غصے سے بولی دادی یہ 6 فوٹ کا بلڈوزر اِس اتنے سے کوکرواچ سے ڈرتا ہے . . شہریار نے کہا مییسنی چُپ ہوجاؤ خود کی ہوا کیسے نکل گئی ہے … اور مجھے کہہ رہی ہوں . .
ہاں تو تم مرد ہو میں معصوم لڑکی ہوں پریشا تپ کر بولی…
ارے مرد کیا انسان نہیں ہوتے ان کو ڈر نہیں لگتا . . شہریار روہانسا ہوگیا…
اوہو تم دونوں بچو کی طرح لڑنا تو بند کرو . . دادی نے چڑھ کر کہا…
تو دونوں خاموش ہوجاو …
میں دیکھتی ہوں اس کوکرواچ کو…
دادی نے بہادری سے کہا . .
جس پر شہریار نے کہا آئے شانو وہ تمہیں کچھ کر نا دے مت جاو…
دادی نے سَر پیٹ لیا اور کہنے لگی… شیری وہ اتنا سا کیڑا میرا کیا بیگھاڑے گا… تم بھی نا…
وہ واشروم میں گئی تھوڑی دیر بعد انکی آواز آیی… یہ مل گیا کوکرواچ . . شہریار اور پریشا نے آنکی آواز سناتے ہی ایک دوسری کو زور سے جھپٹ لیا . . پریشا شہریار کی سینے پر سَر رکھی ہوئے اپنے آنکھیں ڈَر کے مارے مضبوطی سے بند کی ہوئی تھی . . اور اپنے دونوں بازوں اسکے گرد پھلا لیے تھے… اور شہریار نے بھی اپنے دونوں بازوں سے اسکو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا…
جب دادی واشروم سے وہ مرا ہوا کوکرواچ لیکر نکلی تو دونوں نے آنکھیں کھولی پر جب دادی کے ہاتھ میں کوکرواچ دیکھا تو پِھر سے آنکھیں بند کر کے چلانے لگے . .
دادی انکی حالت پر خوب ہنس رہی تھی . . اور کہا کہ میں اسکو باہر پھینک کر آتی ہون…
جب وہ کمرے سے نکل گئی . . شہریار اور پریشا نے آہستہ سے آنکھیں کھول کر ان کو جاتا دیکھا… اور لمبی سانس لی . . دونوں نے ساتھ میں کہا جان چھوٹی…
پریشا ابھی بھی شہریار کی بانہوں میں تھی اسکو ہوش نا رہا وہ شہریار کی مضبوط بانہوں میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھے . . شہریار کے دل کی دھڑکنے سن کر اتنے دنوں بعد جیسے اسکو محفوظ ہونے کا احساس ہو رہا تھا…
شہریار کے اندر پہلی بار اسکے لیے کچھ محسوس ہُوا . . اسکا دل چاہ ا تھا کے وہ پریشا کو اپنے سے دور نا کرے . . اسکا دل یہی کہہ رہا تھا . . یہ پل یہی تھم جائے وہ اسکے سلکی بالوں کے ساتھ کھیل رہا۔۔ .اور پریشا تھوڑی دیر بعد اپنے آپکو اسکے حصار سے چوڑا کر بھاگ نکلی اور شہریار اپنی حالت پر حیران ہوتا رہ گیا… یہ سب نکاح جیسی مقدس رشتے کی وجہ سے تھا جو شہریار کو آج پہلی دفعہ پریشا کا ساتھ اچھا لگانے لگا تھا…ورنہ آج سے پہلے اسکے دل و دماغ میں بھی اسکے لیے کوئی احساس نا جاگا تھا . . اور آج اسکا دل یہی دعا کر رہا تھا کے وہ ہمیشہ میری ہی رہے۔۔۔ …
?????????
اب سے شہریار کا دل بس ہر وقت پریشا کا منتظر رہتا تھا . . وہ ہر وقت اسکو دیکھنا چاہتا تھا . . نا اسکا آفس جانے کو دل کرتا نا ہی آفس میں کام کرتے وقت… وہ جلد سے جلد کوشش کرتا کے آفس سے واپس گھر آجائے . .
پریشا جو بھی پہنتی اوڑتی وہ سب اسکو اچھا لگنے لگا تھا . . وہ اپنی حالت کو بالکل سمجھ نہیں پا رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: