Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 12

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 12

–**–**–

اب ہر روز پریشا تیار ہوکر بیٹھتی اور شہریار کے لیے نئے نئے کھانے پکاتی ساتھ ہی اسکے سارے کام بھی خود اپنے ہاتھوں سے کرتی۔۔۔۔ . . آج بھی وہ تیار ہوکر بیٹھی ہوئی تھی دادی کے کہنے پر بال بھی کھلے ہوئے رکھے تھے… ریڈ کلر کا سمپل سا ڈریس پہنا ہوا اور لائٹ سا میک اپ کیا ہوا تھا . . شہریار جیسے ہی گھر میں داخل ہوا . . اس نے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے بیگ لیا… اور پوچھا کیسا گزرا آپکا دن… شہریار جو تھکن کی وجہ سے بیزار تھا . . یک دم پریشا کی بات سن کر اسکو دیکھنے لگا… جس پر پریشا نے آنکھیں نکل کر اسکو دادی کی طرف اشارہ کیا…
شہریار سمجھ گیا کے دادی کو دیکھنے کے لیے ہو رہا ہے سب کچھ۔۔۔… . شہریار نے شرارت سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا … یس ڈیئر وائف . . بہت اچھا دن گزرا۔۔۔… بہت کام تھا تھک گیا ہوں پلیز کافی بنا دینا… پریشا کو ڈیئر وائف سن کر ایسے غصہ ایا۔۔ جیسے ابھی کھا جائے گی… وہ ہنسی دباتے ہوئے دادی کے پاس جا کر بیٹھ گیا … پاریشا دانت پیستی رہ گئی … آیا بڑا ڈیئر وائف کا سکا۔۔… اس نے دل میں اسکی نقل اتاری اور جھوٹی مسکان چہرے پر سجا کر دادی کو دیکھا اور اُس نے پوچھا کے آپ کافی پئے گی . … . دادی نے بھی مسکرا کر کہا نہیں بیٹا تم اپنے شوہر کا لیے بنا کر لاو… اور جاؤ شہریار فریش ہوکر آو… وہ ” او کے ” شانو کہہ کر نکل گیا . . پریشا کچن کی طرف چلی گئی…
شہریار باتھ کر کے باہر آیا ، اور ڈریسنگ ٹیبل پر بال بنانے کے لیے برش اٹھانے لگا تب اسکی نظر چوڑیوں اور میک اپ پر پڑھی جو پریشا کے تھے … پہلی دفعہ اس نے اپنے کمرے میں لڑکیوں کا سامان دیکھا تھا اسکو بہت عجیب لگ رہا تھا… بال بناتے وقت اسکو پریشا کا آج والا چہرہ یاد آ رہا تھا . . ریڈ ڈریس اور میک اپ اس پر بہت سوٹ کر رہا تھا… شہریار کا دل کر رہا تھا اسکے چہرے سے اپنی نظاریں نا دور کری… وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا تو خود ہی پریشان ہو گیا کے کیوں اسکا دل پریشا کو دیکھ کر دھڑکتا ہے۔۔ . .اس کو ایک عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی . . اور اب بھی میرا ذہن میں اسکا چہرہ گھوم رہا ہے . . یہ کیا سوچ رہا ہو میں … پریشا اسکے لیے کافی لیکر ائی … وہ مرر سے دیکھ رہا تھا . . اس نے کافی ٹیبل پر رکھی . . اور طنزیہ اندازِ میں کہا یہ لین آپکی کافی ڈیئر حزبینڈ… . . شہریار اسکی بات پر مسکرا دیا . .
تم پِھر سے غصہ ہو رہی ہوں . . . . میں بھی غصہ ہو سکتا ہوں تمھارے تیار ہونے پر . . پر میں نہیں ہوتا… اور تم میرے کچھ الفاظ پر اتنا چڑھ جاتی ہون…
رات ہی تم نے کہا تھا کے یہ سب تم دادی کی وجہ سے کر رہی ہوں تو میں بھی دادی کی وجہ سے کر رہا ہون… وہ برش ڈریسنگ پر رکھ کر مڑا …
اسکی نظر پِھر سے اسکے چہرے پر رک سی گئی۔۔۔ اور اسکے چہرہ پر گہری مسکراہٹ آگئی۔۔۔
اس نے کہا اپنی کافی پی لے . . ورنہ ٹھنڈی ہوجائے گی… . وہ اسکی بات پر ہوش میں آیا اور وہ چلی گئی…
شہریار بکت اچھا فیل کر رہا تھا جیسے اسکو کوئی خوشی مل گئی ہوں . . وہ اپنا دل اس چوڑیل پر ہار بیٹھا تھا۔۔۔
پریشا کو شہریار کا رویہ عجیب لگ رہا تھا کچھ دنوں سے شہریار کی آنکھوں کی تپش اپنے اوپر پڑھتی اسکو یہ احساس دلا رہی تھے کے جیسے وہ اس کو ہی دیکھنا چاہ رہا ہو۔۔ وہ پہلے بھی اسکو مسکرا کر دیکھتا تھا۔۔ پر اس مسکراہٹ میں طنز یا مذاق ہوتا پر اب شہریار کی مسکراہٹ سے کچھ الگ ہی داستان بیان ہوتی تھی۔۔ جس کو وہ خوب اچھے جان چکی تھی پر خود سے چھاپا رہی۔۔ کہ میرا وہم ہوگا۔۔ اور ہمیشہ یہی کہ کر ٹال دیتی کے میں اسکے کچھ نہیں ہو۔۔۔۔ ورنہ شہریار نے تو کبھی بھی مجھے جی بھر کر بھی نا دیکھا ہوگا… پر حقیقت یہی تھی شہریار اب پریشا میں انٹرسٹ لینے لگا تھا… دادی کا تیر صحیح نشانے پر لگ رہا تھا…دادی شہریار کے بدلتے رویئے سے بہت خوش اور مطمئن تھی… .
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
اگلے دن شہریار آفس سے بہت لیٹ آیا تھا ڈنر کا ٹائم بھی ہو گیا تھا۔۔. . ویسے تو شام کے وقت آجاتا تھا . . اسی لیے دادی کو سلام کر کے اپنے روم میں چلا گیا . . ادھر اُدھر دیکھا پر اسکو وہ نظر نا ایی… اس نے دادی سے بھی نہیں پوچھا نا ہی دادی نے کچھ بتایا… روم میں داخل ہوتے دیکھا پریشا اپنی ہی دوں میں تیار ہو رہی تھی . . اسکو اردھ گرد کا پتہ نہیں تھا . . شہریار کے دور نوک کرنے پر وہ ہوش میں ائی تو جیسے ٹھٹھک گئی . . جلدی سے اپنا دوپٹہ بیڈ سے اٹھایا اور خود پر لپیٹ لیا… شہریار کو اسکا اِس طرح شرمانا اچھا لگا . . . اس نے سلام کیا . . کیسی ہوں مائی بی لوڈ وائف . . اسکو چیڑنے کے اندازِ میں کہا . . جواب میں اس نے نے دانت پیستے ہوئے کہا وعلیکم السلام … دادی کے ساتھ کہی جا رہی ہوں . . میرے لیے تو اتنا تیار نہیں ہوتی ہوں . . پاریشا نے کوئی جواب نہیں دیا تو کہا تم سے بات کر رہا ہوں میڈم … وہ دادی نے آپکو نہیں بتایا کے ہم کہاں جا رہے ہے پریشا نے دھیمے لہجے میں کہا . . نہیں دادی نے تو مجھے کچھ نہیں بتایا اگر بتایا ہوتا تو تم سے کیوں پوچاتا .شہریار نے نا علمی ظاہر کرتے ہوئے کہا
۔۔ .
وہ آپ فریش ہوکر آئی . . دادی ہی آپکو بتائے گی کے ہم کہاں جا رہے ہے . . ارے دادی کیوں بتائے گی تم کیوں نہیں بتا سکتی ہوں . . میں کونسا تمہیں کھا جاؤ گا شہریار مسکرا کر کہا . . پلیز ضد نا کریں وہ آپکو بتا دین گی… پریشا ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی…اچا چلو میں دادی سے ہی پوچھ لیتا ہوں . . وہ دادی کے پاس گیا . . تو انہوں نے شہریار کو بتایا کے تم دونوں آج ڈنر پر جا رہے ہو… اچھے سے تیار ھونا . . شادی کے بعد پہلی دفعہ ڈیٹ پر جا رہے ہوں . . وہ زور سے مسکرا دیا . . اسکو یہ بات بہت اچھی لگی کے وہ اور پریشا اکیلے ہوں گے . . اسکے دل نے چاہا کے آج وہ اسکے چہرے کو اچھی طرح سے دیکھ سکتا ہے اور وہ بھی بالکل قریب سے۔۔ کبھی کا بار دل سے کی ہوئی دعا جلدی قبول ہوجاتی ہے ۔۔۔ …
♡♡♡♡♡♡♡♡
وہ واپس اپنے روم میں گیا اور کپڑے چینج کر کے باہر آیا . . پریشا ابھی تک تیار ہونے میں مگن تھی اسنے ابھی تک کپڑے بھی نہیں بدلے تھے۔۔ . . شہریار جیسے ہی باہر آیا پریشا کی نظاریں اس پر جم گئی ہر بار کی طرح آج بھی وہ قیامت داڑھ رہا تھا۔۔ بلیک کلر کا فل سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔ پریشا نے دل میں اس پر نظر سورۃ پڑھ کر پھونک دی… نا جانے کیو اسکو لگا کہیں میری ہی نظر نا لگ جائے۔
جب پریشا کی نظاریں اپنے اوپر شہریار نے جمی ہوئی دیکھی تو اس نے شرارت سے کہا لڑکی نظر لگاؤ گی کیا… پتہ ہے ہینڈسم لگ رہا ہوں . . پر تمہیں اگر دیکھنا ہی ہے تو کم سے کم فیل تو نا کرواؤ نا… جس پر اس نے جھٹکا کھا کر منہ دوسری طرف کر دیا . . اور شہریار نے قہقہ لگایا۔۔۔ پھر کہا اچھا پلیز تھوڑا سائیڈ ہوجاو۔۔ میں نے بھی تیار ہونا ہے تم بعد میں جتنی دیر بھی تیار ہو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔ ویسے بھی تم لڑکیاں بہت ٹائیم لگاتی ہوں۔۔۔ وہ تھوڑا سائیڈ ہوگئی۔۔ شہریار آج پہلی دفعہ جلدی تیار ہوگیا۔۔ ورنہ اسکو جب تک شیشے سے کوئی نہیں ہٹاتا تھا وہ ہلتا نہیں تھا۔۔۔شہریار کے جانے کے بعد پریشا پھر سے جدوجہد میں لگ گئی۔۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
شہریار کب سے تیار ہوکر نیچے بیٹھا پریشا کا بےصبری سے انتظار کر رہا تھا… پر وہ ابھی تک نا آئی . . وہ بار بار سیڑیون کی طرف دیکھ رہا تھا… دادی اسکی بےچینی دیکھ کر بول پڑہی … . شیری میاں آجائے گی تھوڑا بندہ صبر کر لیتا ہے پر تم تو… انکی بات آدھے میں کاٹ کر شہریار نے کہا… . ارے نہیں یار مجھے بہت بھوک لگی ہے . . اور واپسی پر لیٹ ہوجائے گے اسی لیے سوچ رہا ہوں جلدی نکلے پر وہ ہماری بیگم صاحبہ کو ہمارا کوئی خیال ہی نہیں … اتنے میں پریشا سیڑیون سے آ رہی تھی اسکی سینڈل کی ٹک ٹک نے شہریار اور دادی کا دھیان وہاں کر دیا . . وہ اسکو دیکھا کر آنکھیں جھپکانا بھول گیا۔۔… پریشا نے بلیک کلر کی فروک پہن رکھی تھے اپنے گولڈن برائون بال کھولے رکھے تھے… دادی نے اسکو دیکھ کر یکدم سے کہا ماشااللہ گڑیا لگ رہی ہے ہماری دلہن … کسی کی نظر نا لگ جائے … انہوں نے شہریار کو دیکھ کر کہا لو جی … دلہا تو ابھی سے لٹو ہوگیا… شہریار اپنے حواسو میں واپس آیا پر بولا کچھ نہیں … اور آنکھیں جھکا لی…پریشا کا سیڑیون سے اتارتے وقت فروک میں پیر پھنس گیا اور وہی گرنے لگی… . شہریار نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا تھا پریشا کی انکہے اور اسکی انکہے ملی تو شہریار دیکھتا ہے رہ گیا … پریشا پزل ہوگئے اور جلدی سے اپنے کو شہریار کے ہاتھوں سے چھڑوا کر دادی کی طرف بڑھ گئی… .
شہریار نے اپنے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کیے ، اسکے اندر پیار کی گھنٹیاں بجھ گئی تھی…
پریشا نے دادی کو چلنے کے لیے کہہ رہی تھی کے آپ بھی ہمہارے ساتھ چلیں ڈنر پر اکیلے کیسے رہے گی . . پر دادی نے صاف انکار کردیا… اور وہ دونوں گھر سے نکل گئے۔۔۔…
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
گاڑی میں بیٹھتے ہی شہریار کا دل کر رہا تھا خوشی جھومے ناچے۔۔ … پ
پریشا کی حالت بھی کم نا تھی . . پوری کار میں اے سی کی ہلکی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی تھے اور ساتھ میں شہریار کی پرفیوم کی خوشبو جو ہمیشہ اسکو اپنے حصار میں لے لتی تھی ۔۔۔
شہریار نے کار میں اسٹیریو آن کیا۔۔۔ سنگر کی خوبصورت آواز شہریار اور پریشا کے دل کا ہال بیان کرہی تھی۔۔۔
Bheegee see aik raat yeh lay aayee kyaa saath yeh
Dharkanein kya hamain kehnay lagee hain
Khamoshee kay darmyan kya chaahee thee baat yeh
Dharkanein kya hamain yeh kehnay lagee hain
Na kaho na suno
Khamoshee guftugoo honay lagee hai
Taabeerain lay aaoon main tum sapnay day do mujhay
Aisa kya hai itnay kyun achay lagtay ho mujhay
Tum hee jeevan kee aarzoo
Tum hee jeevan kee aarzoo
Na kaho na suno
Khamoshee guftugoo honay lagee hai
Zindagee khuwab main khonay lagee hai
Har aahat pay dharkay dil karwat karwat raat dhalay
Chaaron aor chehra tiara yun sapnon kay deep jalay
Sapnay hain apnay pyar kay
Sapnay hain apnay pyar kay
Na kaho na suno
Khamoshee guftugoo honay lagee hai
♡♡♡♡♡♡♡♡
رات ڈنر کیسا رہا دادی نے شہریار کے چہکتی ہوئے چہرے کو دیکھ کر پوچھا . .
پریشا کچن میں تھے . . شہیریار نے دادی کا ہاتھ چوم کر کہا بہت اچھا . . تھینک یو سو مچ …
مطلب انجوئے کیا تم دونو… دادی نے خوش ہوتے پوچھا۔۔
شہریار نے کہا اسکا پتہ نہیں پر میں نے بہت انجوئے کیا یار شانو یو آر بیسٹ . .
خیر ہے نا اتنا خوش ہو . . دادی نے شرارت سے پوچا…
یار شانو تم نے میرا دل خوش کر دیا . . پتہ ہے میں اپنا دل اس پر ہار بیٹھا ہوں بس اب اظہارِے محبت کرنا ہے کچھ وقت ہے . . سچ بتاؤ گا ہم دونوں کی شادی کے بعد کوئی ہسبنڈ وائف والا سین نا تھا بلکہ میرے دل میں اسکے لیے کوئی فیلنگس نا تھی۔۔۔ بلکل پسند نہیں کرتا تھا میں اسے۔۔۔ یقین نہیں اتا۔۔ اپنا دل اس کو دے بیٹھا ہو۔۔ کیسی نے سچ ہی کہا ہے۔۔ نکاح ایک خوبصورت بندھن ہے۔۔ اس خوبصورت رشتے سے دو میں خود ہی محبت ہوجاتی ہے۔۔۔
دادی کے دل بہت خوش ہو گیا اسکی بات سے . . واہ میرے بچے۔۔ بہت دل خوش ہوا تم نے اس پاک رشتے کو سمجھا۔۔۔۔ اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔ دادی آخر میں دعا بھی دی۔۔۔
پر یار شنو وہ مجھے سے دور بھاگ رہی ہے۔۔۔ میں کیا کرو۔۔۔ شہریار نے دکھ بڑھے لہجے میں کہا تو دادی نے کہا تو اسکو احساس دلاو کے کتنی محبت کرتے ہو اس سے۔۔ خود ہی تمھارے سامنے اظہار کرے گی۔۔۔
سچی دادی پر اسکو کس طرح احساس دلاو۔۔۔ وہ پریشانی سے کہنے لگا۔۔۔
اب یہ تو تمہیں خود کرنا پڑہے گا۔۔۔ میرا کام ہوگیا اب تمھارا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔ میں دیکھ لونگا۔۔۔
وہ خوش ہوکر بولا۔۔۔
دادی نے کہا کل ہاشم والے آ رہے تو میں چلی جاونگی۔۔۔
اچھا اس نے مجھے نہیں بتایا۔
ہاں مجھ سے کہا کہ شیری کو بتا دینا۔۔۔ دادی نے آرام سے کہہ کر سیب کو منہ ڈالا۔۔

ہاشم والے آگئے تھے اسی لیے دادی اپنے گھر چلی گئی تھی . .
پریشا اپنا سامان سمیٹ رہی تھی تاکہ وہ اپنے روم میں شفٹ ہوجائے …
شہریار کا دل اداس ہوگیا اسکو لگ رہا تھا جیسے اسکا دل ابھی نکل آئے گا . .
اس نے خود کو سنبھلتے ہوئے پریشا کو کہا . .
سنو . .
پریشا نے بنا دیکھے اسکو کہا جی…
وہ ہم ایک دو دن میں اسلام آباد میرے گھر ہمیشہ کے لیے چلے گے . . ایک دو دن کی بات ہے تم وہاں کیوں جا رہی ہوں یہی رک جاو…
پریشا کا دل وہی تھم گیا کے شہریار اسکو اپنی فیملی سے ملوائے گا . .شہریار نے تو کبھی اپنے گھر والوں کے بارے میں بتایا بھی نہیں . .
کیا شہریار نے میرے بارے میں اپنے گھر والوں کو بتایا ھوگا . . اگر نہیں تو انکا کیا ری ایکشن ہوگا… وہ کیا کہے گے۔۔
وہ اپنی سوچوں میں گم ہوگئی…
اور شہریار کی دوسری بات پر دھیان نہیں دیا
شہریار اسکا منتظر تھا کے وہ جواب دے…
جب بہت دیر بھی اس نے جواب نا دیا تو شہریار نے اس سے دوبارہ پوچھا . . پریشا کیا سوچ رہی ہون…
ہممم ٹھیک ہے . . میں یہی رک جاتی ہوں . .
او کے شہریار خوش ہوگیا کہ وہ اس سے دور نہیں جا رہی ہے۔۔ … .
اور دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا…
پِھر اس نے کہا تمہارے پاس دو دن ہے سارا سامان پیک کر لینا۔۔۔
پریشا نے سَر ہلا کر ہاں میں جواب دیا . .
شہریار اس سے اور بھی بتائے کرنا چاہ رہا تھا پر وہ جواب دینے کے بجائے گم ہوجاتی تھی۔۔۔ اسی لیے وہ خاموشی سے سو گیا۔ ۔
اج سنڈے کا دن تھا۔۔ شہریار گھر پر تھا۔۔۔
صبح کے 11 بج رہے تھے پر وہ ابھی تک نہیں اٹھا تھا۔۔۔ پریشا بار بار اسکو دیکھنے آتی کہ وہ جاگ گیا ہو تو اس کے لیے ناشتہ بنا دو۔۔۔
اب کی بار وہ شدید غصہ میں ائی کے اسکو اٹھا کر رہے گی۔۔۔۔۔۔ میں یہاں اسکے لیے خوار ہو رہی ہوں اور وہ آرام سے نیند کے مزے لے رہا ہے۔۔۔
شہریار ابھی اٹھنے کی کر رہا تھا۔۔
اس نے اپنی آنکھوں کو آہستہ آہستہ کھولا۔۔تو پریشا کو سامنے پاکر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
تمہیں کوئی کام تھا۔۔۔ سوری آج اتنی دیر تک آنکھ لگی پتا نہیں چلا۔۔۔
شہریار نے شرمندگی سے کہا ۔۔۔
پریشا نے دل میں اس کی نکل کی۔۔۔ پتا نہیں چلا اتنی دیر تک آنکھ لگئی نواب کہی کا ۔۔ میں جیسے اسکی نوکر ہو صبح سے اٹھی ہوں تاکے اس نواب کا ناشتہ بناو اور یہ دوھت سو رہا ہے۔۔ جیسے نشا کر کے ایا ہو۔۔۔
شہریار نے جواب نا پا کر , پریشا سے کہا۔۔ کہاں گم ہوجاتی ہو۔۔ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہو۔۔۔
پریشا نے شکل بنا کر کہا۔۔۔ آپ فریش ہوکر آئے میں جب تک آپکا بِریک فاسٹ لیکر آتی ہو۔۔۔
بریک فاسٹ بنانے کی ضرورت نہیں صرف کافی بنا کر لانا۔۔۔شہریار نرم لہجے میں بولا۔۔۔
پریشا دانت پییستی ہوئی نکل گئی۔۔۔اور دل میں کہنے لگی کافی کا نشئی۔۔ ہر وقت کافی کافی۔۔۔
شہریار کا موڈ خوشگوار ہوگیا۔۔ اٹھتے ہی اپنی دشمن جان کے چہرے کا دیدار نصیب ہوگیا اسے۔۔۔
پریشا کوفی لیکر آئی تو وہ ابھی بھی بیڈ میں پڑا ہوا , موبائل استعمال کر رہا تھا ۔۔۔ پریشا نے غصے سے کافی کا مگ زور سے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔۔ اسکی آواز پر شہریار کا دھیان پریشا پر گیا۔۔
۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ وہ جانے کے لیے مڑی تو شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔ پریشا دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے ابھی نکل آئے گا۔۔ ساتھ ساتھ سانس بھی تیز چلنے لگی۔۔۔۔
تھوڑی دیر تو وہ سمجھ نہیں پائی کہ ہو کیا رہا ہے ۔ پر جلدی ہی شہریار کی طرف چہرہ کرکے اپنی بلی جیسی تیز انکھوں سے اس کو گھورے سے نوازا۔۔۔۔
شہریار کی جان ہلک میں اگئی۔۔ اس نے جلدی سے اسکا ہاتھ چھوڑا دیا۔۔
اور اٹک اٹک کر بولا وہ میں یے کہنا چاہ رہا تھا کے آج شاپنگ پر چلے گے۔۔۔
مجھے شاپنگ کی ضرورت نہیں آپ چلے جائیے گا۔۔ پریشا نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے اسلام آباد جا رہے ہے۔۔ مجھے سب کے لیے گفٹس بھی لینے ہے۔۔ اور تم اپنے لیے کپڑے اور ضرورت کا سامان لے لینا۔۔۔ ویسے بھی تمھارے پاس زیادہ کپڑے نہیں۔۔۔ پریشا کچھ بولنےلگی پر اس نے جلدی اسکو خاموش کردیا۔۔
او پلیز اب نا مت کرنا۔۔۔ ہم جلدی نکلے گے۔۔۔ پہلے میں آفس سے اپنے کچھ فائلز اور سامان لونگا۔۔۔ پھر شاپنگ پر چلے گے۔۔ رات کا کھانا بھی باہر کھاے گے۔۔۔ یہ کہہ کر وہ چپ ہوگیا اور اپنی کافی پینے لگا۔۔۔
پریشا جانے لگی تو اسنے پھر سے کہا۔۔۔
اپنا وہ ریڈ ڈریس پہننا جو پرسوں تم نے پہنا تھا۔۔۔ اور تھوڑا اچھا سا تیار ہونا۔۔۔۔۔ پریشا نے ناگواری سے اسکو دیکھا تو شہریار نے کہا۔۔آج آفس والوں سے تم کو انٹروڈیوس کرواؤں گا۔۔۔ شہریار عالمگیر کی بیوی ہو۔۔۔ سمپل جاوگی تو کیا کہے گے کہ خود کتنا بن ٹھن کے گھومتا ہے اور بیوی کو کچھ نہیں دیتا۔۔ یو نو پیپلز۔۔۔
پریشا چلی گئی تو۔۔ شہریار کی جان میں جان آئی۔۔ شکر اللہ نے بچا لیا۔۔ ورنہ رکھ کر دیتی۔۔۔۔
پر یار میں کیوں اس سے ڈر رہا ہو۔۔۔ ساری آفس مجھے سے لرزتی ہے اور میں اپنی بیوی سے ڈر رہا ہو۔۔۔
کچھ غلط تو نہیں کیا میں نے بیوی ہے وہ میری۔۔
وہ کافی پیتے ہوئے سوچ کر شکل بھی ساتھ میں بنا رہا تھا۔۔
وہاں پریشا کو جھٹکا لگا۔۔کہ تاڑو کہی کا۔۔۔ پرسوں والا ریڈ ڈریس پہننا۔۔ مجھے لگا وہ دیکھتا تک نہیں ہے پر اس نے تو دن بھی تاڑ رکھا ہے کہ کس دن پہنانا تھا۔۔۔۔۔ پریشا کو اسکو شہریار عالمگیر کی بیوی کہنا اچھا لگا۔۔۔ پر یہ بات اسنے خود سے بھی چھاپا لی۔۔۔
پریشا اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے سکھاتی ہوئی واشروم سے بھر نکل رہی تھی اور شہریار باتھ روم میں جا رتھا۔۔ دونوں کا آپس میں زوردار ٹکراؤ ہوگیا۔۔۔ پریشا تو ہل کر رہ گئی شہریار کے مضبوط جسم اسکے سر پر ایسے لگا جیسے وہ کیسی لوہے سے ٹکرا گئی ہو۔۔۔
پریشا کے ہاتھ سے ٹولیاں چھوٹ گیا اور وہ سر پکڑ کر شہریار کو خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
چوٹ پریشا کو لگی پر دل شہریار کا دکھا۔۔۔
اس نے جلدی سے پریشا کے دونوں ہاتھ اپنے میں مضبوط ہاتھوں میں پکڑے اور جلدی سے اسکو بیڈ پر بیٹھا کر اسکا سر دیکھنے لگا۔۔۔ زیادہ لگ گئی کیا۔۔ سوری مجھے پتا نہیں تھا کہ تم واشروم میں ہو۔۔۔ اسکی آواز میں درد اگیا۔۔ جس کو سن کر پریشا نے اسکو جلدی سے کہا۔۔ پریشانی کی بات نہیں زیادہ نہیں لگا ٹھیک ہو میں آپ نھا لے۔۔
پکا نا۔۔ شہریار نے پھر سے پوچھا۔۔۔ جی۔۔۔ اس نے آہستہ سے کہا تو وہ تھوڑی دیر اسکو تکنے لگا۔۔ پریشا اپنی آنکھیں جھکا لی تھی۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر اسکے بلکل قریب اگیا۔۔ پریشا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ پریشا نے اپنی آنکھیں اوپر کر کے اسکو دیکھا تو شہریار نے اسکے گیلے بالون کو اہستہ سے کان کے پیچھے کیا۔۔ اور اسکے کان کے قریب ہوکر کہا۔۔۔۔۔ پلیز میرے لیے اپنی پسند کی کوئی بھی شرٹ نکل کر رکھنا۔۔۔ پریشا بیڈ سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل پر چلی گئی۔۔۔ شہریار اسکی حالت دیکھ کر مسکرا دیا۔۔ اور سٹی بجاتے ہوئے واشروم چلا گیا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
پریشا کو تیار ہوتے ہوئے بیچ میں یاد آیا کہ شہریار کے لیے شرٹ نکالنی ہے۔۔۔ تو وہ ڈریسنگ روم میں اسکی شرٹ نکلنے کے لیے گئی تو باتھ روم سے زور زور سے آوازیں آرہی تھی پہلے تو وہ پریشان ہوگئی کہ پتا نہیں کیا ہے۔۔ جب کان لگا کر سننے کی کوشش کی تو وہ شہریار کی آواز تھی جو زور زور سے گانے گا رہا تھا۔۔۔
پہلی پہلی بار محبت کی ہے
کچھ نہ سمجھ میں آئے میں کیا کرو
عشق نے ایسی حالت کی ہے کچھ نہ سمجھ میں آئے میں کیا کرو۔۔۔
پریشا شکل بیگھارتے ہوئے بولی پاگل۔۔۔
شہریار کی شرٹ نکل کر وہ باہر پھر سے تیار ہونے میں لگ گئی۔۔۔
تھوڑی دیر میں شہریار شاور لیکر نکلا تو دیکھتی رہ گئی وائٹ کلر کی شرٹ اور بلو جینز میں بہت ہی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔۔ ہر بار کی طرح آج بھی وہ اسکے دل کی دھڑکن کو بگاڑ رہا تھا۔۔
پریشا نے جلدی سے اپنی آنکھیں اس سے موڑ لی۔۔ اور پھر سے تیار ہونے میں لگ گئی ۔۔۔۔
شہریار اپنی استحینو کو تھوکنیون تک فولڈ کرتا ہوئا اسکے پیچھے کھڑا ہوگیا۔۔ پریشا اسکے اس طرح کھڑے ہونے پر پزل ہو رہی تھی۔۔۔
شہریار کی نظریں اپنی استحینو پر تھی جیسے ہی اس نے اپنی نظریں اوپر کی پریشا کو ہر بار کی طرح آج بھی دیکھتا رہ گیا۔۔ وہ دن بہ دن اسکے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔
پریشا نے کہا پہلے آپ تیار ہوجائے پھر میں ہوجاونگی۔۔۔
اُممم نہیں۔۔۔ ساتھ ساتھ تیار ہوتے ہے ٹائم نہیں۔۔۔ دیر ہوجائے گی۔۔۔
شہریار بال بناتے ہوئے بولا۔۔۔
پریشا اپنے ہونٹ چبانے لگی۔۔۔ اور سوچ میں پڑھ گئی کہ اسکے سامنے تیار ہونا مشکل ہوجائے گا۔۔۔ کیسے کرون۔۔
شہریار نے اسکی حالت خوب جانچ لی اور بولا۔۔۔
جلدی کرو پلیز ٹائم نہیں۔۔ دیر ہوجائے گی۔۔۔
وہ تیار ہونے لگی تو شہریار اسکو اپنی بازوں کو باندھ کر صرف دیکھتا رہا۔۔۔ اسکی خوشی اور پیار اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی شکل میں نظر آرہے تھے۔۔۔جس کو اسنے اپنے ہاتھ سے چھاپا رکھا تھا۔۔۔
پریشا اسکو صاف اگنور کر رہی تھی۔۔۔
شہریار اپنی واچ لینے لگا تو پیچھے سے پریشا کو شہریار کا دکا لگا وہ گھبرا گئی تو شہریار نے آہستہ سے اسکے کان میں کہا اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ اسی ہی رہا کرو اچھی لگتی ہو۔۔۔
پریشا کی آنکھیں پھٹ گئی وہ شہریار کو آئینے سے دیکھنے لگی تو شہریار اپنی واچ پہننے میں مصروف تھا اور آئینے کی دوسری طرف دیکھ کر اپنے آپکو سیٹ کرنے لگا۔۔۔
پریشا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر پسینے کو صاف کیا۔۔۔ ای سی میں بھی اسکو پسینے آ رہے تھے ۔۔۔۔
اس نے جلدی سے اپنے بال باندھے تاکے وہ جلدی سے شہریار سے بچ کر نکلے۔۔ پر شہریار نے اس کی کیٹ کیلپ نکل کر اسکے بال کھولے چھوڑ دیے۔۔
وہ پوچھنے لگی پر شہریار نے کہا کھلے بالوں میں اچھی لگتی ہو۔۔۔ انکو اسے ہی رہنے دیا کرو۔۔
پریشا کو جھٹکوں پر جھٹکے لگ رہے تھے۔۔ وہ شہریار کے بدلتے روایے سے بہت پریشان ہوں رہی تھی کہ آخر یہ سب کوئی خواب ہے یا سچ میں کوئی حقیقت ۔۔۔ ورنہ وہ تو اسے نفرت کرتا تھا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
وہ آفیس پہنچے تو سب نے انکا بہت اچھا سا ویلکم کیا۔۔۔
سب لوگ بہت تعارف کر رہے تھے ان دونوں کی جوڑی کو دیکھ کر آفیس کی ورکنگ لیڈیز کے منہ سے صرف یہی نکل رہا تھا۔۔۔ پرفیکٹ کپل۔۔۔
بہت پیاری جوڑی ہے۔۔۔
جیتنے سر خوبصورت ہے اتنی ہی انکی بیوی خوبصورت ہے۔۔
شہریار نے پریشا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اسکو اپنے ساتھ اپنی آفیس لے گیا۔۔۔ پریشا صرف دیکھتی رہی پر کچھ بولی نہیں ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: