Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 13

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 13

–**–**–

شہریار اسے اپنے آفیس روم لیکر آیا اور خوشی خوشی اسکو بتا رہا تھا ۔۔۔۔
یے ہے میرا آفیس کی چھوٹی سی بیرانچ لاہور میں۔۔۔۔ مین برنچ اسلام آباد میں ہے۔۔۔ سال میں ایک آدھ بار یہاں چکر لگاتا۔۔۔
دیکھو کیسا ہے۔۔۔؟
شہریار نے پریشا کو اپنی بوس والی سیٹ پر بیٹھا تے ہوئے پوچھا۔۔۔
شہریار کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نا تھا۔۔۔ وہ دنیا جھان کی خوشیاں پریشا کے قدموں میں رکھا دینا چاہتا تھا۔۔۔
پریشا صرف اسکے بدلتے روایے کو غور کر رہی تھی۔۔۔
وہ پریشا سے کچھ کہنے لگا۔۔ پر دروازے پر کسی نے ناک کیا۔۔ تو شہریار کرسی کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔۔۔ جس پر پریشا بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
اور آہستہ لہجے میں بولا۔۔۔
Yes come in…
آئیے مسٹر جمشید۔۔۔۔
اپنے آفیس کے مینیجر کو دیکھ کر شہریار نے مسکرا کر اسے کہا۔۔۔
پریشا ان سے ملو یے مسٹر جمشید ہے۔۔ ہماری آفیس کے مینیجر۔۔۔
پریشا نے آہستہ سے انکو سلام کیا۔۔ اور اپنی کرسی سے اٹھنے لگی۔۔۔
شہریار نے جلدی سے پوچھا۔۔ کہا جا رہی ہو۔۔۔
وہ اپ اپنی کرسی پر بیٹھے آپ باس ہے۔۔ میں وہاں صوفے پر بیٹھ جاتی ہو۔۔۔ پریشا نرم انداز بولی۔۔
شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے وآپس اسی کرسی بیٹھیا اور مسٹر جمشید سے مخاطب ہوتے بولا۔۔۔
جمشید تم کو کوئی مسئلہ ہے۔۔ اگر میری بیوی میری کرسی پر
بیٹھے؟ ۔۔۔ جمشید نے کہا نہیں بلکل نہیں جی۔۔۔
بس پھر۔۔ اور ویسے بھی باس کی باس تو انکی بیوی ہوتی ہے نا۔۔۔
بلکل صحیح کہا اپنے جمشید نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
تو شہریار بھی ہنس دیا۔۔۔
ویسے سر آج سے پہلے آپکو اتنا خوش نہیں دیکھا۔۔۔ لگتا ہے بھابھی کے آنے کا اثر ہے۔۔۔
شہریار ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
تو جمشید نے کہا۔۔۔ ہمیشہ خوش رہے اللہ آپ دونوں کی جوڑی کو ہمیشہ سلامت رکھے۔۔۔
آمین۔۔۔۔ شہریار کے دل سے نکلا۔۔۔
اچھا سر پہلی بار بھابھی آفیس آئی ہے۔۔ اور آپ بھی اسلام آباد جا رہے ہے۔۔۔ اسی لیے آج کا لنچ آپ ہمارے ساتھ کرے گے پوری آفیس والوں کی طرف سے ۔۔۔جمشید نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تو شہریار نے کہا۔۔ یار اسکی کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ اگلی بار آئے گے تو ضرور کرے گے۔۔ کیو مسئز شہریار۔۔۔ اس نے پریشا کو مخاطب ہوتے پوچھا۔۔۔
پریشا جو کب سے خاموش تھی اس بات پر ہلکا سا مسکرا کر شہریار کی بات سے اتفاق کیا۔۔۔
جمشید بھی جیسے ڈٹ ہوا تھا اور بولا میں کیسی کی نہیں سنو گا۔۔۔ اج تک سر اپنے ہمارے لیے بہت کچھ کیا ہے آج ایک اور کر دے اور ہم سب کی ریکویسٹ اکسیپٹ کر لے۔۔۔ہم سب کو بہت خوشی ہوگی باہر سب آپکے جواب کے منتظر ہے۔۔۔۔۔۔ اور جہاں تک دوبارہ آنے کی بات ہے۔۔ آپ ہر روز آئے ہم ہر روز آپکی خدمت میں حاضر ہونگے۔۔۔ جیتنے اپنے ہم پر احسان کیے ہے۔۔ اسکے بدلے تو ہم جتنا بھی کر لے کم ہے۔۔۔
ائیندا اسا کہا نا تو دانت توڑ دونگا۔۔۔ ہر بار یے کہہ کر تم مجھے شرمندہ کرتے ہو اور غصہ دلاتے ہو۔۔۔ میرا کوئی احسان نہیں جو کچھ بھی ہے سب تم لوگوں کی محنت کا نتیجہ ہے ۔۔۔ سنا تم نے۔۔ ۔۔۔ شہریار تپ کر بولا۔۔
سوری سر پلیز ناراض مت ہوئے۔۔
اج آپکے لیے کچھ کرنے کا دن آیا ہے تو اسی لیے یے موقع گوا نہیں سکتا۔۔۔ آپ دونوں کو ہر صورت میں منانا پڑے گا۔۔ ورنہ باہر سب مجھے گالیاں دے گے۔۔
بھابھی آپ ہی سمجائیے سر کو۔۔
آپ ان کے دل کی باس ہے آپکو منع نہیں کرے گے ۔۔
پریشا نے حیرت سے جمشید کو دیکھا۔۔ اور شہریار مسکرا رہا تھا۔۔۔اور سوچ رہا تھا اب تو مجھ سے خود بات کرے گی۔۔
پریشا نے کہا میں کیسے کہہ سکتی ہوں انکی اپنی مرضی ہے۔۔۔
شہریار نے جمشید سے کہا۔۔ یار اگر تیری بھابھی نے مجھ سے کہا کہ رک جاو تو میں روک جاؤنگا ۔۔۔۔
جمشید کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔ اس نے پریشا سے کہا بس بھابھی ابھی تو سر بھی کہہ رہے ہے آپ کہے نا سر کو۔۔۔
جمشید نے التجا بھری نظروں سے پریشا کو کہا۔۔۔
شہریار نے جلدی سے دوسرے طرف کی کرسی کھینچ کر پریشا آگے رکھی اور اس پر بیٹھ گیا۔۔۔ اور پریشا سے بولا۔۔
چلیں مسئز شہریار کیا روقئسٹ ہے۔۔ بندہ حاضر ہے۔۔ اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ اور اپنی ایک آبرو اوپر کر کیے ہوا تھا اور ساتھ میں ہلکا مسکرا بھی رہا تھا ۔۔۔
پریشا نے اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھری اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کہوں۔ ۔۔۔پریشانی میں وہ اپنے ہاتھ بھی مروڑ رہی تھی۔۔۔
شہریار اسکی حالت پر اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
جمشید ان دونوں کی کیمسٹری دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔
پریشا جب بہت دیر نا بولی تو شہریار نے ناراص ہونے کا ڈرامہ کر کے کہا۔۔۔ اگر کچھ نہیں کہنا تو چلے۔۔۔
جمشید نے کہا پلیز بھابھی کچھ کہے نا۔۔
پریشا نے جمشید کی اتری شکل دیکھ کر شہریار سے کہا۔۔
سنے۔۔۔۔
شہریار کا منہ دوسری طرف تھا اس نے جلدی سے چہرہ پریشا کی طرف کیا اور بولا جی بیگم۔۔۔حکم کرے۔۔۔
پریشا کا دل زور سے دھڑکا۔۔ وہ لگ بھی بہت ہینڈسم رہا تھا۔۔۔
وہ یے اتنا کہہ رہے ہے تو پلیز رک جائیے نا۔۔۔
اوکے جو آپکا حکم۔۔۔
جاو جمشید کیا یاد کرو گے لنچ تم لوگوں کی طرف تیاری کرو۔۔۔۔۔ میں اپنی بیوی کی بات کبھی ٹال نہیں سکتا
جمشید نے کہا شکریا سر آپکا اور بھابھی آپکا بھی۔۔۔
ارے پاگل جا۔۔۔ شکریے کے سکے۔۔۔شہریار نے اسے نرمی سے کہا۔۔۔
وہ جانے لگا تو شہریار نے کہا جمشید پلیز جلدی سے وہ فائل لیکر او تاکے میں وہ چیک کر لو۔۔ لنچ کر کے ہم نکل جائے گے۔۔۔۔
او کے سر۔۔۔ کہتا وہ نکل گیا۔۔۔
شہریار پریشا کی نظروں سے بچنے کے لیے۔۔ جھوٹ موٹھ کا موبائل میں لگ گیا۔۔ کہی وہ اس سے لڑنے نا بیٹھ جائے۔۔۔ شہریار نے آج ہمت بھی اتنی دکھائی تھی۔۔ صبح سے بھر پور رومینس کر رہا تھا۔۔ اسکو ڈر بھی لگ رہا تھا کے کہی سب کے سامنے سر نا پھوڑ دے۔۔ سچ میں میری باس ہے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جمشید دوبارہ ایا۔۔ ان دونوں کو لنچ دینے کے لیے۔۔۔ تو شہریار نے کہا۔۔ یار شرمندہ نا کر۔۔ تم لوگوں نے لنچ کیا ہے تو تم لوگوں کے ساتھ مل کر کرے گے نا۔۔۔ اب ہم اندر اکیلے میں کرے تو کیا فائدہ۔۔۔ پریشا نے بھی اسکی بات پر اتفاق کیا۔۔۔ تو اسنے جلادی سے آفس کی کینٹین میں پریشا اور شہریار کے لیے ٹیبل لگوا دی۔۔۔ سب کی ٹیبل ملا کر رکھی تھی باقی شہریار اور پریشا کے لیے اسپیشل ٹیبل لگوائی تھی۔۔۔۔ جس پر شہریار نے کہا۔۔۔ سب کرسیاں ساتھ میں لگاو ہم دونوں کو کیوں الگ کیا ہے۔۔ تو انھوں نے خوشی خوشی اس کا کہنا مان لیا۔۔ کیونکہ شہریار اپنی بات صرف ایک دفعا کرتا اور نا مانی جاتی تو سب کا برا حال ہوتا تھا۔۔۔ اسی لیے بنا سوال جواب کیے وہ سب کچھ وہی کر رہے تھے جو شہریار آرڈر کر رہا تھا ۔۔
سب شہریار کے بدلتے روایے سے بہت حیران تھے۔۔ ورنہ وہ تو ہر وقت ان پر روب جاڑھتا تھا۔۔۔ کسی کی ہمت نا ہوتی تھی اسکے سامنے بولنے کی۔۔ لڑکیاں تو اس سے سو میل دور رہتی تھی کہ کہیں کسی بات پر غصہ میں کچھ کر ہی نا دے ۔۔
جب سب ساتھ بیٹھے تو ان میں سے ایک لڑکی نے پریشا سے کہا۔۔
میڈم اپنے تو سر کے سارے نخرے اور غصے کو نکل دیا ہے۔۔ ۔۔۔
ورنہ انکو سنبھالنا مشکل ترین کام تھا۔۔۔ مان گئے اپکو۔۔ کاش آپ پہلے آجاتی انکی زندگی میں۔۔
جس پر شہریار نے غصے سے اس لڑکی کو دیکھا۔۔ اس نے اپنی آنکھیں بڑی کردی۔۔۔ اور اٹک اٹک کر کہا سوری سر خوشی میں منہ سے نکل گیا۔۔۔
شہریار نے بے سخت قہقہ لگایا تو سب پریشان ہوگئے کہ کیا ہوگیا۔۔
شہریار نے کہا چلو جی شکایتوں کا سلسلہ شروع گیا باس کی بیوی کے ساتھ صحیح ہے بھائی پارٹی بدل لی۔۔۔
تو سب ہنس دیے۔۔۔
اور ویسے بھی باس کی شکایت اسکے باس سے کرتے ہے۔۔ پہلے تو باس کا باس نہیں تھا اب اگیا ہے۔۔اسی لیے اب جی بھر کے شکایتوں کے انبار لگا دینا۔۔۔
کیونکہ اب تمھارا باس اپنے باس سے ڈرتا ہے۔۔۔شہریار نے پھر سے کہا۔۔تو
سب نے مل کر پھر سے قہقہ لگا۔۔
شہریار نے پیار بھری نظروں سے پریشا کو دیکھا۔۔ جس پر ناگواری صاف ظاہر تھی جس کو وہ جانتا تھا کے یہی ہوگی۔۔۔ پریشا نے اسکو آنکھیں دکھائی تو وہ پھر سے قہقہ لگائے بنا نا رہ سکا۔۔۔
شہریار آج سب میل امپلائز کے ساتھ پہلی بار فری ہوکر باتیں کر تھا۔۔ اور پریشا کو فیمیل امپلائز کے ساتھ چھوڑ دیا ۔ وہ سب لڑکیاں اسکو گھرے ہوئی تھی۔۔۔ اور اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔۔ اور یے بھی بتا رہی تھی کہ شہریار نے انکی بہت مدد کی ہے۔۔ ان سب کو اپنے کمپنی میں جاب دی جب کے ان لوگوں کو کہیں بھی جاب نہیں مل رہی تھی۔
وہ سب شہریار کی بہت تعریف کر رہی تھی دل کے بہت اچھے ہے۔۔۔
بہت خیال رکھتے ہے۔۔۔
پر کبھی ظاہر نہیں کرتے۔۔۔صرف ظاہری غصہ ہے۔۔
اور بھی زیادہ اسکی تعارف کے قصے بیان کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے شہریار کی طرف دیکھا تو۔۔ شہریار کی نظریں بھی اس پر پڑہی وہ۔دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔ شہریار نے مسکرا کر پریشا کو آنکھ ماری تو وہ وہ ٹھٹک کر رہ گئی اور جلدی سے اپنی آنکھیں نیچے کر دی۔۔۔
شہریار سر ہلا کر مسکرا نے لگا۔۔۔
پریشا نے پھر سے شہریار کو دیکھا تو وہ ابھی بھی اپنی آنکھیں اس پر جما بیٹھا تھا۔۔۔
پریشا نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔۔ اور انگلیوں کے بیچ میں سے اسکو دیکھنے لگی۔۔ وہ ابھی بھی اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
پریشا نے دل میں کہا تاڑو کتنا تاڑے گا۔۔۔
شہریار نے اپنے آفیس کے سارے کام نپٹا دیے اور سب سے اجازت لی کے پھر ملاقات ہوگی۔۔
اج ساری آفس والوں کی خوشی ڈبل ہوگئی تھی شہریار کے روئیے سے۔۔۔ اور ساتھ ہی
شہریار نے ان پر ایک اور عنایت کردی تھی آن سب کو بونس سلری بھی دلوا دی۔۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
شہریار نے بہت ساری شاپنگ کرلی پریشا اسکو دیکھ رہی تھی پتا نہیں کس کس کے لیے گفٹس لے رہا تھا اور ساتھ میں پیک بھی کروتا جا رہا تھا۔۔۔
اب پریشا کی باری تھی وہ اسکو بہت فورس کر رہا تھا کے لے لو۔۔ پر وہ کسی چیز کو دیکھتی تک نہیں۔۔۔ اس لیے شہریار نے اپنی پسند کی ساری چیزیں اس کے لیے لی۔۔۔ اور شاپنگ بیگس کے ڈھیر لگا دیا۔۔۔ اور سارے بیگس خود ہی اٹھائے ہوئے تھے۔۔۔ پریشا نے لینے کے لیے ہاتھ بڑھیا پر اس نے صاف انکار کردیا کے میں ہو نا تم آرام سے چلو۔۔۔ میرے دل کی شہزادی اس نے اتنے آہستہ سے کہا کے پریشا کے کانوں تک نا پہنچا ۔۔
واپسی پر دونوں نے ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر بھی کیا۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
یار میں کیا کرو تو ہی بتا۔۔۔ ابحے بھائی فل حال تم تو ناراض نا ہون۔۔۔پہلے ہی یے سوچ سوچ کر مجھے ہول آٹھ رہے ہے۔۔ کہ سب کا کیا ریکشن ہوگا۔۔۔ بہت جلدی میں نکاح ہوگیا مجھے خود بھی پتا نہیں چلا۔۔
اب اتنے دن سب سے چھپا رکھا ہے آخر کب تک چھپاؤں گا۔۔
کبھی نا کبھی تو بتانا پڑہے گا۔۔۔
پہلی بار سب کے لیے گفٹس لی ہے تاکے ان سے شاید کوئی کام بن جائے۔۔
شہریار گارڈن میں کھڑا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا پریشا اسکے لیے اسکا نشا کافی لیکر ائی تھی تو اس نے سب باتیں سن لی اور جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔
پہلے ہی اسکو شہریار کی فیملی کا سوچ کے خوف آرہا تھا کے ایا انکو پتا ہے یا نہیں۔۔
پر اب تو پکا ہوگیا کے انکو نہیں پتا۔۔۔ شہریار خود ڈر رہا ہے تو پتا نہیں اسکی فیملی کتنی اسٹرکٹ ہوگی۔

فون بند کر کے جب وہ کمرے میں آیا تو پریشا کو سوتا پاکر اسنے کافی کا مگ لیا اور لائٹس آف کرکے سٹڈی روم میں بیٹھ کر کام کرنے لگا۔۔۔۔۔۔ پریشا سوئی نہیں تھی بلکے صرف شہریار کے وجہ سے ڈراما کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ابھی بھی اسکو وہی ٹینشن ستاع رہی تھی آخر ہوگا کیا۔۔۔
♡♡♡♡♡
ناشتہ پر شہریار نے پریشا سے پوچھا کیا تمھاری تیاری پوری ہوگئی۔۔۔
زیادہ تر ہوگئی ہے۔۔ باقی تھوڑی بہت رہتی ہے وہ کر لونگی۔۔
او کے کوئی مسئلہ نہیں آرام سے کر لو آج کا پورا دن ہے تمھارے پاس۔۔ کل صبح ہی ہم یہاں سے نکل جائے گے تیار رہنا۔
پریشا کا دل ڈوب رہا تھا۔ وہ کچھ پوچھنا چاہتی تھی پر اسکا سوال منہ میں ہی رہ گیا۔۔۔
شہریار نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔۔ وہ اصل بات تو پوچھنا ہی بھول گیا۔۔
پریشا نے خالی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
تم کار میں سفر کر لو گی ورنہ میں جہاز کی ٹیکسٹس کروالو۔۔۔
مجھے کوئی مسئلہ نہیں تم صحیح بتانا جس میں تم کمفرٹیبل رہو۔۔۔
پریشا نے بلکل دھیمی آواز میں کہا۔۔۔ جیسے آپکی مرضی۔۔۔
شہریار جو کب سے سنجیدہ طریقےسے بات کر رہا تھا۔۔
یکدم اس پر شرارت تاری ہوگئی۔۔۔
کیا کہا تم نے میں نے سنا نہیں
پریشا نے پھر سے کہا جیسے آپکی مرضی مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔
شہریار نے تین بار پھر سے پوچھا۔۔ ہر بار وہ وہی جواب دیتی۔۔۔
شہریار نے پھر سے اس سے پوچھا تو وہ پھر سے اسکو جواب دینے لگی تھی پر اس نے شہریار کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ دیکھ کر وہ رونے والی ہوگئی۔۔۔
شہریار اسکے بدلتے روایے سے پریشان ہوگیا۔۔ so sorry i was just kidding with you…..t… میرا کوئی مقصد نہیں تھا تمہیں ہرٹ کرنے کا۔۔ اصل میں
صبح سے تم نے رونے والی شکل بنائی ہوئی تھی تو میں نے سوچا تھوڑا تنگ کرو تم کو شاید تمھارا موڈ ٹھیک ہوجائے پر تم تو زیادہ اداس ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔ ڈاکٹر کو بلاو۔۔۔ یا کوئی اور پریشانی ہے۔۔۔
وہ بہت نرم لہجے میں بول رہا تھا۔۔ پریشا کی آنکھوں سے آنسو نکل ائے۔۔
وہ اور زیادہ پریشان ہوگیا۔۔۔
پلیز پری بتاو کیا ہوئا ہے۔۔ کوئی چیز پریشان کر رہی ہے کیا۔۔ پلیز بتاو میں ہو نا تمھارے ساتھ۔۔۔
پریشا نے سر ہلا کر نا میں جواب دیا۔۔۔
پھر ایسے کیسے رو رہی ہو۔۔۔
آخری کوئی تو وجہ ہوگی۔۔۔
اس نے اپنے مضبوط میں پریشا کے نرم ہاتھ پکڑ لیے۔۔ جو کانپ رہے تھے۔۔
بابا یاد آرہے ہے۔۔ شہریار نے آہستہ سے پوچھا۔۔۔ پریشا نے اپنی آنکھیں اوپر کر کے اسکو دیکھا تو شہریار کی آنکھوں میں بھی کوئی غم نظر آرہا تھا۔۔۔
پریشا نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا۔۔ وہ اس سے اپنی پریشانی نہیں بیان کر پا رہی تھی۔۔۔
شہریار نے کہا۔۔ پلیز رو مت اگر تمھارے بابا اس طرح تمہیں دیکھتے تو کیا مجھ سے لڑتے اور کہتے ۔۔ آئے شیری کے بچے میری بیٹی کو کیوں رولا رہے ہو۔۔۔
وہ ناک چڑھا کر بول رہا تھا۔۔ ساتھ میں انگلی سے بھی ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔
میں کیا کہتا۔۔۔ سر میں نے تو آپکی بیٹی سے تھوڑا سا مذاق کیا تھا یے رو پڑہے گی مجھے معلوم نا تھا۔۔ اب وہ ہاتھ جوڑ کر ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔
پریشا کی ہنسی نکل گئی۔۔
شہریار اسکے مسکرانے پر جی اٹھا اس کو جیسے ہنسنے کی وجہ مل گئی۔۔۔
شہریار نے نرمی سے اسکے آنسو صاف کیے اور ناک کو کھینچتے ہوئے بولا۔۔ اور پھر سے اسکے ہاتھ تھام لیے۔۔
اچھا شام کو تیار رہنا میری نئی نویلی دولہن شنو ڈارلنگ سے مل کر آنا ہے۔۔ ورنہ وہ پھر سے ناراض ہوجائے گی۔۔
کے مجھ سے ملے بغیر چلے گئے۔۔۔
وہ کہہ رہا۔۔ پریشا اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی وہ اسکے بلکل قریب تھا۔۔ شہریار بھی اسکی آنکھوں میں گم گیا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہی شہریار نے پریشا کے ہاتھوں کو اوپر کر کے بوسا دیا۔۔ پھر
پریشا کے سر پے بوسا دینے لگا تھا پر پریشا اپنے ہاتھ اسکی مضبوط گرفت سے چھوڑتی ہوئی نکل گئی۔۔۔
شہریار نے گہرا سانس لیا اور آنکھیں سکھتی سے بند کردی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
اج شہریار نے مالی کو بلوایا تھا۔۔ سارے پودوں کی اتروانے کے لیے۔۔ اسکو آفیس بھی نہیں جانا تھا اور کل وہ اسلام آباد کے لیے نکل رہے تھے اسی لیے اب پتا نہیں کب چکر لگتا تو بس اس نے یہی سوچا خامخا پودے خراب ہو جائے گے اس سے اچھا انکو کسی کو دے دیا جائے۔۔
وہ ہر بار آتا تو یہی کرتا تھا۔۔۔ پریشا اوپر کھڑکی سے اسکو دیکھ رہی تھی۔۔۔
شہریار کی آنکھوں میں آج اس نے جو دیکھا تھا اپنے لیے وہ اسکو بہت بیچیں کر رہا تھا۔۔ ساتھی ہی اسکی آنکھوں میں پہلے جیسی شرارت نہیں تھی۔۔ بہت درد تھا۔۔۔ ان آنکھوں میں ۔۔۔
بار بار اس حقیقت کو وہ جھٹلا رہی تھی جو شہریار کی آنکھوں میں اس نے اپنے لیے دیکھا۔۔ پر شہریار کی دارک برائون کلر کی آنکھیں اسکے سامنے بار بار آرہی تھی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡
شہریار جب روم میں آیا تو پورے کمرے میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں پریشا کی پرفیوم کی ہلکی سی مہک تھی۔
پریشا ڈریسنگ روم سے بال بناتے ہوئے نکل رہی تھی شہریار کو دیکھ کر اپنے ڈوپٹے کو ڈھونڈنے لگئی۔۔اس نے وہی ڈریس پہنا تھا جو شہریار نے اسکے لیے خاص طور پر لیا تھا۔۔۔۔۔ وائٹ کلر کی لانگ شرٹ جس پر ہلکا سا گولڈن کلر کا کام کیا ہوا تھا ۔۔۔۔ پجامہ کے ساتھ ۔۔
جب ادھر ادھر دیکھنے پر بھی اسکو دوپٹ نا ملا تو اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ دیا۔۔
شہریار کو اسکی ہر ادا فدا کر رہی تھی..
اس نے ڈوپٹا بیڈ پر پڑہا دیکھا تو جلدی سے اٹھا کر پریشا کی طرف بڑھا۔۔۔
اور پیچھے سے اس پر لپیٹ دیا ساتھ ہی پریشا کو اپنی بانہوں کی مضبوط گرفت سے پکڑ لیا۔۔ وہ گھبرا گئی اور اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔ شہریار تھوڑی دیر تک اسکو اسی طرح پکڑ کے رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔وہ اسکو یے احساس دلانا چاہتا تھا کے وہ اکیلی نہیں شہریار کا مضبوط سہارا اسکے پاس ہے۔۔
شہریار نے اپنا گال اسکے گال پر رکھا۔۔ اور اپنی آنکھیں بند کر کے اسکو محسوس کرنے لگا۔۔۔ پھر آہستہ سے بولا۔۔ پری۔۔۔
پریشا لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اور بولی۔۔۔ ہمممممممم
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔ شہریار کی آواز اسکے اندر رس گھول گئی۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا دی۔۔
شہریار یے کہہ کر باتھ روم چلا گیا اور پریشا وہی رک گئی۔۔۔ بہت دیر بعد وہ اپنے حواسوں میں آئی تو شہریار کے لفظ بار بار اسکے کانوں میں گونج رہے تھے۔۔ آئینے میں خود کو دیکھ کر وہ مسکرانے لگی۔۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
شہریار باتھ روم سے نکلا تو پریشا نے وائٹ پجامہ شرٹ پر گولڈن ہلکے سے جھمکے پھنے تھے اور ساتھ ہی گولڈن کلر کی نازک چوڑیاں اپنی نازک کلائی میں پہن رکھی تھی ۔۔۔۔ اور اب وہ لاکیٹ چین پھننے کی کر رہی تھی پر بہت کوششوں کے بعد بھی وہ ناکام رہی۔۔ شہریار اسکے قریب آیا اور ہاتھ آگے کر کے اس سے لاکیٹ چین مانگنے لگا۔۔ پریشا نے آہستہ سے اسکے ہاتھ میں رکھ دیا تو شہریار پریشا کے پیچھے کھڑا ہوکر پہنانے لگا۔۔ پر بہت کوششوں کے بعد وہ بھی ناکام ہوگیا۔۔
اسکا چہرے پر پسینا آگیا اور غصہ صاف ظاہر ہو رہا تھا۔۔۔
پریشا نے اسکو آئینے سے دیکھا تو ۔۔ اس نے بھی اسکو شرمندگی سے بھری مسکراہٹ سے دیکھا۔۔ اپنی شرمندگی کو کم کرنے لیے۔۔دل میں سوچنے لگا۔۔ سارے رومینس کا ستیاناس ہوگیا۔۔۔ ساتھ ساتھ لاکیٹ چین کو خوب گالیاں دینے لگا۔۔
بہت منتوں سماعتوں کے بعد جاکر شہریار اپنے ٹاسک میں کامیاب ہو گیا۔۔ اور پریشا کے بال پیچھے کردیے۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اپنی شرمندگی کم کرنے لگا۔۔ پر پریشا کے چہرے پر شرارت بھری مسکان تھی جس کو اسنے خوب اچھے طریقے سے چھپا رکھا۔۔ پر شہریار سے وہ چھپی نہیں تھی۔۔
شہریار سر کھجاتے ہوئے خود کو بھی دل ہی دل میں برا بھلا بکنے لگا۔۔۔ یار سب صحیح جا رہا تھا۔۔ ایک لاکیٹ نے پورا کھیل بگاڑ دیا۔۔۔شٹ۔۔۔
دونوں تیار ہوکر نکل رہے تھے تب پریشا نے اپنے آپکو اچھی طرح سے ڈوپٹے میں لپیٹ لیا۔۔ شہریار ہلکا سا مسکرایا اور پوچھا گفٹس لے لیے ہے۔۔
جی۔۔ پریشا نے دھیمی آواز میں کہا ۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
او یار اتنی دیر کردی کب سے تیرا ویٹ کر رہے تھے۔۔ ہاشم شہریار سے گلے لگتے ہوئے شکوے کرنے لگا۔۔۔
ایک تو تم لوگ۔۔ شہریار کہنے لگا پر ہاشم نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں ہاں پتا ہے ہم لوگ عورتوں کی طرح گلے شکوے کرتے۔۔ کمینے بندہ تجھ سے گلے شکوے کرتا اور تو ہمیشہ یہی طعنہ دے کے آگے سے چپ کروا دیتا ہے۔۔
دونوں ساتھ مل کر ہنسنے لگے۔۔۔
ہاشم کی بیوی پریشا سے مل رہی تھی۔۔ شہریار نے پریشا سے کہا یے ہاشم کی وائف ہے۔۔ پریشا نے مسکرا کر اسے سے دیکھا اور گفٹس اسکو تھما دی۔۔ ارے اتنا تکلیف کرنے کی کیا ضرورت تھی ہاشم کی بیوی نے کہا۔۔ ارے بیگم لے لو۔۔۔ اس شیری کے بچے سے کچھ تو نکلا۔۔ ورنہ ہر بار صرف ڈوسنے آتا تھا۔۔ شہریار نے اسکو غصے سے گھورا اور مسکرایا۔۔۔۔ اچھا بھابھی یہ میری بیوی پریشا۔۔۔ جی دیور جی۔۔ ہاشم کی بیوی کھلکھلا کر کہنے لگی۔۔۔ آپکی سب کی خواہش تھی نا کے شادی کر لو کر لی۔۔
ہاشم کی بیوی نے کہا بہت اچھا کیا۔۔
ہاشم نے پریشا کو سلام کرتے ہوئے پوچھا۔۔ بھابھی مجھے تو اپ جانتی ہونگی۔۔
جی آپکو جانتی ہو پریشا نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
شہریار نے آہستہ سے ہاشم کے کان میں کہا۔۔ ہاں اس بےغیرت آدمی کو کون نہیں جانتا ہوگا۔۔ دو نمبری سالا۔۔۔۔۔ ہاشم نے شہریار کی پیٹھ میں چیونٹی کاٹی تو وہ پریشا سے ٹکرا گیا۔۔ دونوں مل کر ہنسنے لگے۔۔
ہاشم کی بیوی نے پریشا سے کہا اندر چلیں ان دونوں کے گپے کبھی ختم نہیں ہونگے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
پریشا اور شہریار کو دیکھ کر دادی نے زور زور سے کہا۔۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔
میرے بچوں کیسی کی نظر نا لگے ہمیشہ خوش و آباد رہو۔۔۔
دونوں نے مسکرا دادی کو دیکھا۔۔ پریشا آگے بڑھ کر دادی کے گلے لگی۔۔۔
سدا سہاگن رہو میری بچی۔اور سر بوسا بھی دیا۔۔۔
شہریار نے کہا صرف بہو سے ملنا ہے ہم بھی آئے ہے۔۔ ۔
یار شیری شرم کر پیار تو کرنے دے اتنا جل رہا ہے جلنے کی بو یہاں تک آرہی ہے۔۔ہاشم نے شہریار کو پیچھے سے ہاتھ مار کر کہا۔۔۔
سب زور سے مسکرا دیے۔۔۔
شہریار نے بھی مسکرا کر کہا۔۔
میرے حصے کا پیار اگر میری روح کو مل رہا ہے تو مجھ تک بھی پہنچ جائے گا پیار نہیں چاہیے ۔۔۔(پریشا کی طرف اشارہ تھا)
بس شنو نے جو میری روح مجھے واپس کی ہے۔۔۔ اسکا شکریا کرنا ہے۔۔۔
شہریار کی بات۔۔۔
ہاشم اور اسکی بیوی کو سمجھ نہیں آئی کے کیا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔۔ پریشا کو بھی کچھ کچھ سمجھ ایا ہے۔۔۔پر دادی خوب اچھے طریقے سے جان گئی۔۔۔
اور شہریار کو گلے سے لگا لیا۔۔۔
کیسے ہو لڑکے۔۔۔
بہت خوش۔۔۔شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہمیشہ خوش اور آباد رہو میرے بچوں میری دعائیں ہمیشہ تم لوگوں کے ساتھ ہے۔۔۔
او بیٹھو۔۔ دادی نے دعائیں دینے کے بعد دونوں کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
تو دونوں بیٹھ گئے۔۔۔
سب باتیں کر رہے تھے جب ہاشم کی بیوی نے اس سے کہا۔۔ پلیز موئیز کو دیکھ کر آئے گا۔۔ اٹھ گیا ہو تو لیکر بھی آیے گا۔۔۔ ہاشم فرمانبردار شوہروں کی طرح سر ہلا کر جانے لگا۔۔۔
شہریار نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا۔۔ جوڑوں کے غلام۔۔۔ اور طنزیہ مسکرانے لگا۔۔
ہاشم بھی کہا چپ رہنے والا تھا۔۔۔ دانت پییستی ہوئی بولا۔۔۔۔ ابہے اگلی بار تو آئے گا نا تو تیرا بھی یہی حال ہوگا۔۔۔
شہریار نے زوردار قہقہ لگایا اور کہا۔۔ انشاءاللہ۔۔۔ بڈی۔۔۔۔ تیرے منہ میں گھی شکر۔۔۔ ہاشم حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔ اور کہنے لگا۔۔ کیسا شوہر ہے تو بیوی کا غلام بنے کے لیے دعائیں کر رہا ہے۔۔ شہریار نے کہا۔۔ محبت کے خاطر جان بھی حاضری ہے۔۔ ہے غلامی کیا چیز ہے۔۔
بیٹا تو تو گیا۔۔۔ابھی تیرا یے حال ہے مستقبل میں تو پتا نہیں تیرا کیا ہوگا یار۔۔ میں سوچنا بھی نہیں چاھتا۔۔۔سچ ہی کہتے ہے پیار اندھا ہوتا ہے۔۔۔۔ ہاشم نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا۔۔ تو شہریار پھر سے ہنس دیا۔۔
پریشا ہاشم کی بیوی کے ساتھ باتوں میں لگی ہوئی اور ہاشم کے جاتے ہی دادی نے شہریار کو سائیڈ دے دی۔۔ ساری باتیں جو جاننی تھی۔۔
♡♡♡♡
تم نے پیار کا اظہار کیا۔۔ دادی نے شہریار سے ایکسائیٹید ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔
کہاں شنو۔۔ ابھی کچھ کہنے لگتا ہو تو بھاگ جاتی ہے۔۔
اور کبھی کا بار تو میں ڈر جاتا ہو کہیں آنکھ ناک نا سوجا دے۔۔ دنیا والوں کو کیا کہو گا۔۔ کے بیوی سے اظھارے محبت کرنے پر اسکے گھوسے اور لاتے کھائی ہے۔۔۔
شہریار نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔۔ تو دادی پھٹ پڑی ڈرپوک کہی کے۔۔
صحیح کہا تھا تمھاری بیوی نے چھ فٹ کا بلڈوزر ڈرپوک ہے۔۔
ارے شنو تم جانتی نہیں ہو اسکو۔۔ دیکھنے میں معصوم معلوم ہوتی ہے۔۔ اصل میں بہت بڑی غنڈی ہے۔۔ میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑہی تھی ایک لڑکے کو ٹرپ پے ایسا دوھیا تھا ایسا دوھیا تھا۔۔ وہ بیچارا پیر پڑھ کر معافیاں مانگ رہا تھا۔۔۔
کچھ نہیں کرے گی تم اپنے مشن پر لگے رہو۔۔ اور خدا کے لیے محبت کا اظہار تو کر لو۔۔۔ باقی وہ خود ہی مان جائے گی۔۔۔ دادی چڑھ کر بولی۔۔۔
ہاں یار کوششن کر تو رہا ہوں اپنی جان پر کھیل کر۔۔۔پر وہ شرما کے بھاگ جاتی ہے تو میں اس میں کیا کرو۔۔ شہریار منمنایا۔۔
اچھا بس تم اسکو اپنے پیار کا احساس دلاتے رہو۔۔ ویسے بھی اسکو تھوڑا وقت لگے گا۔۔ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔
دادی نے شہریار کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ھمممممم بس اللہ کرے وہ جلدی مان جائے۔۔۔ شہریار نے ٹھنڈی سانس لتے ہوئے کہا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ڈنر کر کے وہ سب پھر سے گپے لگانے لگے تو ہاشم کی بیوی نے شہریار سے کہا کے دیور جی اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھے ایک یادگار پکچر بنانی ہے۔۔
شہریار نے خوشی خوشی کہا ہاں ضرور بھابھی۔۔
وہ پریشا کے قریب اکر بیٹھ گیا تو پریشا تھوڑا دور ہوکر بیٹھ گئی۔۔
ہاشم کی بیوی نے کہا۔۔ پریشا تمھارا شوہر ہے شرمانے کی ضرورت نہیں آرام سے ساتھ میں بیٹھو۔۔
پریشا شکی ہوگئی اور نا چاہتے ہوئے بھی اس کو شہریار کے قریب بیٹھنا پڑہا پر تب بھی اسنے تھوڑا فاصلا رکھا۔۔۔
پکچر نکل کر ہاشم کی بیوی نے ماشاءاللہ ماشاءاللہ پڑہنا شروع کردیا۔۔ بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔ پرفیکٹ کپل ہے ۔۔
پریشا کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ تھی پر شہریار دل سے کہنے لگا۔۔ شکریا بھابھی۔۔۔ شہریار نے دادی سے کہا آپ بھی آئے نا ایک آپکے ساتھ بھی ہوجائے دادی نے بنا کوئی دیر کیے شہریار کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔
شہریار کے ایک طرف دادی تھی اور دوسرے طرف پریشا۔۔۔
شہریار نے دونوں کی پیٹھ پر اپنے بازوں پھیلا کر پکچر نکلوائی۔۔۔
پریشا کی تو سانسے تھم گئی تھی جب تک اس نے دور نہیں کردی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
شہریار نے گھر آتے ہی پریشا سے پوچھا۔۔ کافی پیو گی؟ نہیں
آپ جائے چینج کر لے میں بنا کر لاتی ہوں۔۔ پریشا نے اسکو دیکھ کر کہا
شہریار نے کہا
Ok as you wish…
وہ ویسے بھی اس کے ہاتھ کی بنی کافی پینا چھتا تھا پر بول نہیں پایا۔۔۔ پر پریشا نے خود اوفر کی تو جھٹ سے تیار ہوگیا۔۔۔
وہ روم میں گیا اور فریش ہوکر پلین ٹی شرٹ اور ٹاوزر پہن کر سٹڈی روم میں بیٹھ کر کام کرنے لگا۔۔۔
پریشا کافی لیکر ائی تو سائیڈ ٹیبل پر رکھانے لگی پر شہریار نے اسکو آواز دی پری پلیز یہاں لیکر انا۔۔۔
وہ اسکے پاس گئی تو شہریار کام میں بلکل اندھا لگا پڑہا تھا۔۔
وہ مگ رکھ کر جانے لگی تو شہریار نے پیچھے سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔ پریشا کا دل پھر سے بے قابو ہو گیا۔۔۔۔جیسے ابھی نکل آئے گا۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ چھوڑانے لگی پر شہریار نے آج مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھا تو اسکی آواز پر پریشا کا دل تیز تیز چلانے لگا۔۔
اس نے مضبوطی سے آنکھیں بند کر دی۔۔
شہریار پری۔۔ پریشا نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ اس نے پھر سے کہا۔۔ پری۔۔۔
پھر بھی کوئی جواب نا ایا تو۔۔
شہریار خود ہی بول پرہا۔۔
Thank you so much۔۔
I really feel good that you wear this dress that i bought for you.. you were looking so beatiful.. i want to say something to you…
Pari i..
وہ کہنے لگا تھا پر پریشا نے زور سے اپنے آپکو اس سے چھوڑ ویا۔۔ اور بھاگ گئی۔۔۔
شہریار کو بہت غصہ ایا کے وہ اپنی بیوی سے اظھارے محبت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ آنکھیں بند کر کے اس نے ٹیبل میں اپنا ہاتھ کا مکا بنا کر زور سے مار۔۔۔ پھر اپنے بالون کو ہاتھ سے جھگڑتے ہوئے خود سے پریشا کو مخاطب ہوتے بولا ۔۔۔ آخر کتنے دن اس طرح بھاگو گی۔۔۔ کیسی دن خود بھاگ کر اوگی۔۔۔ دیکھ لینا۔۔
مسئز شہریار۔۔۔۔ وہ مسکرا کر پھر سے کام میں لگ گیا۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
پریشا کپڑے بدل کر باہر آئی تو شہریار کو سامنے صوفے پر بیٹھا پاکر گھبرا گئی۔۔۔ شہریار اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ اسکے سونے کی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ اس نے آنکھیں نیچے کر لی۔۔ اور۔سوچنے لگی اب اسکو یہاں سے کیسے ہٹاون کیسے کہو کے میری جگا سے ہٹو۔۔۔
شہریار بول پڑا آج تم بیڈ پر سو جاو میں اس صوفے پر سو جاونگا۔۔ تمہیں کتنی تکلیف ہوتی ہوگی یے تو بہت چھوٹا ہے۔۔ مجھے دھیان نہیں گیا۔۔ تم ہی بتا دیتی اتنے دنوں سے کیسے سو رہی تھی۔۔
اج آرام سے سو لو صبح بھی سفر کرنا ہے زیادہ لمبا نہیں ہے پر پھر بھی سفر تو سفر ہے نا۔۔ میں ایڈجسٹ کر لونگا صوفے پر ۔۔
پریشا بنا سوال جواب کیے بیڈ پر سو گئی اور شہریار صوفے پر۔۔۔
پریشا نے کمرے کی لائیٹ بند کردی تھی پر ایک چھوٹی سی لائیٹ ان کر رکھی جس سے کمرے کی ہر چیز ہلکی ہلکی ظاہر ہورہی تھی ۔۔ پورا کمرا خاموش تھا۔۔۔
شہریار کے ہلنے چلنے کی آوازیں آرہی تھی۔۔۔
پریشا نے چادر سے اپنی ایک آنکھ باہر نکل کر دیکھا تو شہریار اس صوفے پر ایڈجسٹ کرنی کی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔۔ کبھی کوئی سائیڈ بدلتا تو کبھی کوئی۔۔۔ کبھی الٹا سوتا کبھی سیدھا۔۔۔ بہت دیر یہی سلسلہ چلا۔۔۔ وہ چھ فوٹ کا اس تین فوٹ کے سوفے پر کیسے اسکتا ہے۔۔۔ پریشا نے آٹھ کر لائیٹ ان کی۔۔ تو شہریار نے سر اوپر کر کے اسکو دیکھا۔۔۔
تم ابھی تک سوئی نہیں
شہریار نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
آپ بیڈ پر سو جائے۔۔۔ میں یہاں سوفے پر سو جاونگی ویسے بھی مجھے عادت ہے۔۔۔ پریشا نے اپنے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
تو وہ مسکارایا۔۔۔
نہیں تم آرام سے سوجاو میں نیچے چلا جاتا ہو۔۔ اس نے معصوم شکل بنا کر کہا۔۔۔ تاکے وہ اسے روکے۔۔
نہیں پلیز نیچے مت جائیے گا۔۔۔ وہ ڈر کے بولی جب سے اسکے بابا کی ڈیتھ ہوئی تھی اسکو اکیلے سونے سے ڈر لگتا تھا۔۔۔ اس کی آواز میں خوف تھا۔۔
شہریار نے کہا۔۔ اچھا اچھا نہیں جاتا فکر مت کرو۔۔ یہی ہو۔۔ تم آرام سے سوجاو۔۔ شہریار نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
آپ پلیز ضد نا کریں یہاں اجئے۔۔۔
شہریار بھی اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا۔۔
دونوں کی بہت دیر بھس ہوئی نا وہ مانتی نا ہی شہریار پیچھے ہٹتا۔۔
آخر میں شہریار نے کہا۔۔ آفففف لڑکی بہت ضدی ہو۔۔ میری توبہ پر میں بھی کم نہیں ہو۔۔۔
اسی لیے آدھے بیڈ پر تم سو جاو آدھے پر میں یہی حل ہے اگر تم مان جاتی ہو تو ویل اینڈ گوڈ ورنہ میں چلا نیچے۔۔۔
پریشا سوچ میں پڑھ گئی دونوں راستے اسکے لیے مشکل تھے وہ کیا کرتی۔۔۔
اگر تم مجھ سے ڈر رہی تو قسم اٹھوا لو تمھاری طرف نہیں بڑھوں گا۔۔۔
پریشا نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو اسکے چہرے پر صاف شرافت ظاہر تھی۔۔۔
پریشا نے سوچا میں اکیلی نہیں سو سکتی۔۔ اگر کہہ رہا ہے تو عتبار کر کے دیکھتی ہوں اسکے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔۔۔
وہ سوچ کر کہنے لگی ٹھیک ہے۔۔ آپ یہاں اجائے۔۔۔
شہریار شریفوں کی طرح بیڈ کے دوسرے طرف بیٹھ گیا۔۔ اور اپنے اور پریشا کے بھیچ میں تکیے کے ذریعے فاصلا رکھا۔۔
پریشا تھوڑی بہت مطمئن ہوگئی۔۔۔
شہریار نے لائیٹ بند کی اور دوسرے طرف منہ کر کے سوگیا۔۔۔
اس نے شہریار سوتا دیکھ کر وہ خود بھی سو گئی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
صبح دونوں جلدی اٹھ گئے پریشا نے اپنی پیکنگ مکمل کی اسکا دل صبح سے ڈر رہا تھا کے آج کچھ برا ہونے والا ہے۔۔۔ وہ بار بار خود کو سمجھتی کے سب بہتر ہوجائے گا۔۔۔ پر پھر بھی اسکو عجیب عجیب خیال آرہے تھے۔۔۔
شہریار نے سارا سامان گاڑی میں رکھ دیا۔۔۔
شہریار بھی صبح سے خاموش تھا۔۔ ویسے اسکے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ ہوتی تھی پر آج اسکے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے۔۔ پریشا اسکو دیکھ کر بھی پریشان ہو رہی تھی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
پورے سفر میں دونوں کی کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ شہریار نے پورے سفر میں ہلکی آواز میں گانے لگا رکھے تھے۔۔
اور پریشا پورا رستا اللہ سے بہتری کی دعائیں کر رہی تھی۔۔
شہریار نے اسکو اپنی فیملی کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔۔ نا ہی اسکی ہمت بن رہی تھی کہ وہ پوچھے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
جیسے تیسے کر کے سفر اچھا گزر گیا۔۔ وہ اسلام آباد پونچھ گئے۔۔۔ پریشا بہت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی بار بار پانی پینے لگی۔۔۔
شہریار نے اسے سے کچھ نہیں پوچھا۔۔۔
گاڑی آکر اکے بہت بڑے اور شاندار گھر کے آگے روکی۔۔۔شہریار نے گاڑی کا ہارن بجایا تو گیٹ پر چوکیدار اگیا۔۔۔
سلام شہریار صاحب کیسے ہے۔۔
ٹھیک گل شیر تم سناو۔۔
اللہ کا شکر ہے صاحب۔۔
گوڈ۔۔۔شہریار نے مسکرا کر کہا۔۔۔
گل شیر نے گیٹ کو کھولا۔۔ اور شہریار نے گاڑی اندر بھگائی پریشا نے وہ گھر دیکھا تو اسکو خواب لگا۔۔ اتنا بڑا تو صرف گارڈن تھا۔۔۔
ہر طرف ہریالی چھائی ہوئے تھی۔۔۔
شہریار گاڑی سے اوترا تو چوکیدار نے خوشی سے اسے ہاتھ ملایا۔۔
شیری صاحب کہاں چلے گئے تھے بہت یاد کیا اپکو۔۔۔
بس یار تم تو جانتے ہو کام کا۔۔۔
جی صاحب اللہ آپ کو خوش رکھے۔۔۔
گل شیر نے دل سے دعا دی تو شہریار مسکرا دیا۔۔ اور اپنی جیب میں سے کچھ پیسے نکل کر اسکو دیے تو۔۔ وہ خوشی سے جھوم اٹھا۔۔
سلامت رہے صاحب۔۔ گل شیر سارا سامان گاڑی میں پڑا ہے۔ یے اندر میرے کمرے میں لیکر انا۔۔۔ شہریار نے چوکیدار کو اشارہ کر کے کہا۔۔
پریشا گاڑی میں سے نہیں نکلی تو شہریار نے خود اسکے سائیڈ کا دروازہ کھول کر اسے گاڑی میں سے نکالا۔۔
گل شیر نے پوچھا صاحب یے کون ہے ۔۔
شہریار نے مسکرا کر کہا۔۔ میری بیوی ہے۔۔۔تمہیں شوق تھا نا میں شادی کر لو اور ایک عدد بیوی لے او لو جی لے کر اگیا۔۔
گل شیر نے خوشی دلی سے کہا۔۔
ویلکم میم صاحبا۔۔۔
پریشا ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
اندر چلو پری۔۔۔۔ شہریار نے پریشا سے خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔ اور وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: