Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 14

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 14

–**–**–

گھر میں داخل ہوتے ہی پریشا حیران ہوکر رہ گئی۔۔۔ گھر جتنا باہر سے شاندار لگ رہا تھا۔۔ اندر سے اس سے سو گنا بڑھ کے شاندار تھا۔۔۔
پریشا اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔۔
وہ جیسے کوئی محل معلوم ہو رہا تھا۔۔
پر پورا گھر ویران اور سنسان تھا
کسی آدمی کا نامون نشان نا تھا۔۔ نہ ہی کوئی آواز تھی۔۔۔ اتنے میں کسی لڑکی کی آواز سنائی دی
۔۔۔۔۔۔شیری بھائی۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چلاتی ہوئی شہریار کے پاس ارہی تھی۔۔
پریشا کا دہاں اسکی طرف مائل ہو۔۔۔
بلکل شہریار کے جیسی لگ رہی تھی گوری چٹی دودھ جیسی رنگت۔۔۔ عمر 20,21 معلوم ہو رہی تھی۔۔۔
پینٹ شرٹ پھنے ہوئے لونگ پونی ٹیل بنائے ہوئے ہاتھوں میں فٹ بال پکڑے کوئی انگریز لگ رہی تھی۔۔۔
بال کو وہی پھنک کر وہ بھاگتی ہوئی شہریار کے گلے لگ گئی۔۔۔
Sheri bhai where you are going? We really missed you…
Please next time dont go for long time… didnt you miss us…..huh.. how careless you are, you dont care about us… you have spent 8 months in lahore…
اس لڑکی کا بولنے کا انداز بلکل انگریزوں کی طرح تھا۔۔۔۔۔اسکی باتوں سے لگ رہا تھا شہریار کی بہن ہے۔۔ ۔۔
گلے لگتے ہی اس نے شکایتوں کے ڈیر لگا دیے۔۔۔
شہریار اسکی باتوں پر صرف مسکرا رہا تھا۔۔۔ اور اسکی آنکھوں میں آنسوں تھے۔۔۔۔
میری گڑیا نے مجھے اتنا یاد کیا۔۔ شہریار نے لاڈ سے اس لڑکی سے پوچھا تو وہ تڑپ اٹھی۔۔۔
Yes bhai…
You have no idea how much we missed you…
Ok mera bacha next time whenever i will go any where i will take you with myself ok
شہریار نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
نہیں آپ ایسا نہیں کرے گے۔۔
اس لڑکی نے شہریار کو روتے ہوئے کہا۔۔
میرے بچے میں وعدہ کرتا ہوں
شہریار نے پیار بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
تو اس لڑکی نے شہریار سے الگ ہوتے کہا۔۔
وعدہ؟
پکا وعدہ۔۔۔
شہریار نے اسکی یقین دہانی کرائی۔۔۔
اور ایندا مت رونا۔۔ میں تمھاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔۔ گڑیا
شہریار نے اسکے آنسو صاف کرتے ہو کہا۔۔۔
جی بھائی اب نہیں روں گی۔۔ آپ آگئی ہے نا۔۔
اس لڑکی نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
ھمممممم یہ ہوئی نا بات۔۔ چیمپ کہاں ہے۔۔۔
۔۔شہریار نے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔
اسکی فکر مت کرے وہ باتھ روم میں ہے آجائے گا۔۔۔
اس لڑکی نے شہریار کو مطمئن انداز میں کہا۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ اسکا خیال رکھا کرو اور مہربانی کر کے اسکو اکیلا مت چھوڑا کرو
شہریار نے اسکو فکرمند ہوتے ہوئے تائید کی۔۔۔
جی بھائی آپکو اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
اس لڑکی نے بے فکری سے کہا تو شہریار نے تنزیا انداز میں کہا۔۔
ہاں ہاں مجھے پتا ہے کے مجھے خیال نہیں رکھنا چاہیے۔۔۔ تم دونوں میں تو جیسے پیار پھوٹتا ہے نا جو میں تم دونوں کی فکر نا کرو۔۔۔
آخر میں وہ تنزیا مسکرایا بھی۔۔۔۔ وہ
دونوں کب سے انگلش میں بات کر رہے تھے ۔۔
تب اس لڑکی نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔۔ یے سب چھوڑے آئے اندر چل کے باتیں کرتے ہے۔۔۔اس نے شہریار کے بازو میں اپنا بازو ڈال کر انگریزی میں کہا۔۔
اچانک اسکا دہاں پریشا پر گیا۔۔
تو اس نے اتنی دیر میں پہلی بار اردو بولی۔۔۔
بھائی یے لڑکی کون اے۔۔۔۔
شہریار اسکی بات پر مسکرا دیا اور بولا۔۔۔۔ اردو سیکھ لی کیا۔۔۔ اور یے اے کیا ہے۔۔۔ اے نہیں ہے کہتے ہے۔۔
آپکو پتا ہے بھائی وہاں پر کوئی مجھ سے انگریزی میں بات نہیں کرتا تھا۔۔۔ سب اردو میں کرتے تھے بھلے ہی میں ان سے انگریزی میں پوچھتی وہ جواب اردو میں دیتے۔۔۔ اور آخری دنوں میں تو انھوں نے ہم دونوں پر پابندی لگا دی کے ہم بھی اردو بولے گے ورنہ وہ ہم کو جواب نہیں دے گے ۔۔
اس نے شہریار کو بتایا تو وہ قہقہ لگائے بنا نا رہ سکا۔۔۔اسکو اپنی ایک یاد تازہ ہوگئی۔۔۔
جب وہ لندن سے آیا تھا تو اسکو اور میکال دونوں کو اردو نہیں آتی تھی۔۔۔ اذان نے بھی اسا ہی کوئی طریقہ ان دونوں کے ساتھ کیا۔۔ اور دونوں نے اذان سے بھی زیادہ اچھی اردو بولا نا شروع کردی۔۔۔۔
پریشا کو اس لڑکی کی بات سمجھ نہیں آئی کے کون لوگ۔۔ کون دونوں اس بات کا مطلب کیا ہے کہنا کیا چاہ رہی۔۔۔ اور اس لڑکی کو پریشان ہوکر دیکھنے لگی۔۔۔
اس لڑکی نے مسکرا کر شہریار سے پھر پوچھا۔۔ ۔ بھائی بتائے نا یے خوبصورت لڑکی کون ہے۔۔۔ ؟؟؟
شہریار نے ہونٹ کانٹتے ہوئے کہا۔۔۔
ماہم تم اسکو روم میں لے جاو میں تم کو سب بتاتا ہون۔۔۔
بھائی ابھی بتائے نا۔۔۔ کون ہے پھر روم میں لے جاونگی۔۔ ماہم نے ضد کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
شہریار نے اسکو آنکھیں دکھائی تو ماہم ڈر گئی ۔۔۔۔
اچھا نا لے جاتی غصہ تو نا کرے۔۔۔ماہم نے ڈرے ہوئے اور نارض لہجے میں کہا۔۔۔
وہ پریشا کو لیکر آگے بڑھی اور رک گئی۔۔
پیچھے مڑ کر شہریار سے پوچھا بھائی۔۔۔ انکو اپنے کمرے میں لے جاؤں۔۔
شہریار نے کچھ سوچ کر کہا۔۔
نہیں میرے کمرے میں لے جاو۔۔۔
پیچھے سے چوکیدار دار نے شہریار کو بلایا۔۔ صاحب آپکا سامان رکھ دو اوپر۔۔
ہاں جاو گل شیر یے سامان اوپر میرے کمرے میں رکھ دو۔۔۔
شہریار نے اسکو آہستہ سے کہا تو وہ جی صاحب کر کے پریشا اور ماہم سے پہلے سیڑیا چڑھتا ہوئا اوپر پھنچا۔۔
♢♢♢♢♢
واہ گل آج کل کیا کھا رہے ہو بڑی طاقت آگئی ہے۔۔ ماہم نے اسکی اسپیڈ دیکھ کر اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں اسے سے پوچھا۔۔۔۔
باجی آج میں بہت خوش ہو صاحب نے پہلی دفعا مجھے ڈانٹا نہیں۔۔۔گل شیر نے اپنے پورے دانت دیکھا کر خوشی سے کہا۔۔۔
تو ماہم کی آنکھیں پھٹ گئی۔۔
ہو۔ ہی نہیں سکتا۔۔ بھائی تمہیں اور نا ڈانٹے۔۔۔
مذاق کر رہے ہونا۔۔۔
ماہم نے اسکو انگلی ہلا کر پوچھا۔۔
گڑیا۔۔۔۔
پیچھے سے شہریار نے ماہم کو پکارا تو وہ گھبرا گئی۔۔
اور اٹک اٹک کر بولی۔۔۔
جی بھائی بس جا رہی ہو۔۔۔ یے اس گل شیر نے اپنی باتوں میں لگا دیا ہے۔۔۔
اچھا بس جاو اب۔۔۔
شہریار نے سخت لہجے میں کہا تو وہ اور گل شیر دونوں وہاں سے بھاگنے میں سپیڈ پکڑ لی۔۔۔
گل شیر سامان کمرے میں رکھ کر چلا گیا۔۔۔
ماہم نے پریشا سے کہا۔۔ یے ہے بھائی کا کمرا۔۔۔
وہ کمرے کو دیکھنے لگی بہت ہی ڈیسینٹ کمرہ تھا۔۔۔ سارا فرنیچر بلیک اور گرئے کلر کا تھا۔۔ ہر چیز اس کمرے میں رکھی ہوئی۔۔ ایک دیوار پر شہریار اور اور اسکی فیملی کی ڈیر ساری پکچرز بھی لگی ہوئی تھی۔۔۔
۔
ویسے آپ بھائی کی دوست ہے یا گرل فرینڈ۔۔۔ماہم نے آنکھ مار کر پریشا سے پوچھا تو اسکی آنکھیں پھٹ گئی۔۔
ارے میں تو مذاق کر ہی تھی ناراض مت ہوئے۔۔۔
ماہم اسکا حیرت زدہ چہرا دیکھ کر جلدی سے اس سے بول پرہی۔۔۔
اب بتائے نا آپ کون ہے۔۔ ؟ ماہم نے شوکھے انداز میں پوچھا۔۔
پر پریشا نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے کہا۔۔ ٹھیک مت بتائے ورنہ بھائی آپکو بھی ڈانٹے گا۔۔ انکی تو عادت ہوگئی سب کے ساتھ غصہ کر نے کی خیر میں ان سے خود پوچھ لونگی۔۔۔
ویسے آپ کی آنکھوں کا کلر بہت پیارا ہے۔۔۔ اور آپ بلکل گڑیا رگ رہی ہے۔۔
پریشا دل میں سوچنے لگی ابھی اس کو گڑیا لگ رہی ہو جب اس کو پتا چلا کے اسکے بھائی نے مجھ سے نکاح کر لیا ہے تو اس وقت پکا مجھے کچا چبا جائے گی۔۔۔ اور یہی کہے گی ڈاین میرا بھائی لے گئی۔۔۔ اللہ میں کیا کرو۔۔۔ وہ اپنے خیالوں سے نکل کر ہلکا سا مسکرائی اور ماہم کو تھینکس کہا۔۔۔ تو وہ یوئر ویلکم کہہ کر چلی گئی۔۔۔
♢♢♢♢♢♢♢
پریشا گھبراہٹ کے مارے کمرے میں ادھر اُدھر چکر کاٹ رہی تھی۔۔
ابھی کوئی شہریار کے گھر کا فرد آئے گا اور اسکو دھکے دے کر باہر نکالے گے۔۔
اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔
اچانک نیچے سے چلانے کی آوازیں ائی۔۔۔ وہ اور زیادہ سہم گئی۔۔۔
یا اللہ میں کہاں جاونگی۔۔
پتا نہیں نیچے کیا ہو رہا ہوگا۔۔ پریشانی میں وہ اپنے ناخن چبانے لگی۔۔۔
اچانک دروازہ نوک ہوا پریشا نے مڑ کر دیکھا تو شہریار منہ لٹکایا ہوا اندر ایا۔۔۔
پریشا نے اپنے سر سے پسینے صاف کیے اور آنکھیں زور زور سے چھپکانے لگی۔۔۔ شہریار اسی کی طرف بڑھ رہا۔۔۔
اتنے میں اسکے پیچھے سے ماہم اور ایک چھوٹا لڑکا آیا۔۔۔
پریشا نے تھوک نگل کر۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کر دی۔۔۔
اسے لگا ابھی ماہم اسکے منہ پر تھپڑ دے مارے گی۔۔۔
پر ماہم نے اسکے دونون کندھوں کو پکڑ کر کہا۔۔۔
آپ نے میرے بھائی سے شادی کر لی اور ہم کو بتایا تک نہیں ۔۔۔اتنی ہمت کیسے ہوگئی آپکی۔۔ ہاں بتائیے۔۔۔ کم سے کم بتا دیتے مجھے کتنا شوق تھا اپنے بھائی کی شادی میں بھنگڑے ڈالنے کا۔۔۔ پر آپ دونوں نے مزا ہی خراب کر دیا۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں ہمہارے بھابھی اتنی پیاری ہے تو ہم یے دکھ برداشت کر لے گے۔۔۔ اس نے جھٹک کر پریشا کو گلے لگایا۔۔۔۔پہلے وہ کافی غصے اور ناراضگی سے کہنے لگی پر اگلے ہی پل وہ خوشی سے بولی۔۔
پریشا نے آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا۔۔۔ اسکو ماہم کی باتیں سن کر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔ وہ بلکل حیران پریشان ہوکر سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔گلے مل کر ماہم نے پریشا سے اپنا تعارف کرویا۔۔۔ بھابھی میں آپکی چھوٹی نند شہریار بھائی کی چھوٹی بہن ماہم۔۔۔ میں میڈیکل کے دوسرے یئر میں ہون۔۔۔۔۔ پریشا مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔
اتنے میں وہ چھوٹا لڑکا ایا۔۔ اور ماہم کو بولا
lady take a side..
I want to meet my chachi…
کیا ساری باتیں تم کرو گی کیا۔۔۔
ماہم نے اسکو ہلکا سا تھپڑ مارا اور تھوڑا دور ہوکر کھڑی ہوگئی۔۔۔
اس نے پریشا کے آگے اپنا ہاتھ آگے کیا۔۔ اور بولا۔۔
Hey chachi i am Arhaam..
Nice to meet you…
پریشا نے مسکرا کر اسے گلے لگایا اور کہا۔۔ مجھے بھول گئے ہوں۔۔
ارحام نے کہا۔۔ نہیں بلکل بھی نہیں۔۔۔
آپ چاچو کی چڑیل ہو نا۔۔۔
پریشا نے شہریار کو گھور کر دیکھا۔۔
شہریار گھبرا کر مسکرایا۔۔
آپ مجھے چاچو کی یونیورسٹی میں ملی تھی۔۔۔ رائٹ؟
پریشا نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا جس پر ارحام نے ماہم کو مخاطب کر کے کہا۔۔۔۔۔
دیکھو۔۔ کتنی شارپ میمری ہے۔۔۔ ماہم نے ہاتھ ہلا کر اسے کہا۔۔ ہاں ہاں پتا ہے۔۔ اب سائیڈ ہو مجھے بھابھی سے بہت ساری باتیں کرنی ہے۔۔۔
ماہم نے پریشا کے ہاتھ پکڑ لیے۔۔ ارحام نے کہا۔۔ یے میری چاچی ہے میں ان سے بات کرو گا۔۔۔
تم جاو یہاں سے۔۔ تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ ڈفر۔۔۔
دونوں کا لڑنا شروع ہوگیا۔۔۔
تھوڑی دیر شہریار ان کو پیار سے سمجھانے لگا۔۔ پر نا جی دونوں نے قسم کھائی ہوئی تھی کے ایک دوسرے کسی صورت نہیں بخشنا۔۔
آخر تنگ اکر۔۔ شہریار نے دونوں کو ایسی دانٹ سنائی کے دونوں کی روح کانپ اٹھی ۔۔۔
اور ان دونوں کو کمرے سے باہر نکل جانے کا کہہ دیا۔۔ اور خود بھی باہر نکل گیا۔۔
پریشا کو غصہ اگیا۔۔ شہریار کا یے روائیا دیکھ کر۔۔
اس نے دونوں کو کہا۔۔۔ پلیز مت جاو بھائی کو غصہ آگیا۔۔ میں ان کو کہو گی تم دونوں کو آئندہ نا ڈانٹے پر وہ دونوں خاموشی سے اپنے اپنے کمروں کو نکل گئے۔۔
آفففف یے بگھڑا ہوا نوابزادا پتا نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے۔۔
اتنی سی بات پر دونوں کی اتنی بے زتی کردی۔۔۔
پتا نہیں خود سمجھتا کیا ہے۔۔
وہ خود سے باتیں کرنے لگی۔۔
پھر سوچا میں ان دونوں کو خود منانے جاتی ہو۔۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر کی طرف جانے اچانک اسے خیال آیا کے گھر کے صرف دو لوگ ملنے آئے ہے وہ بھی چھوٹے۔۔
گھر کے بڑے کیوں نہیں ائے۔۔ کہی وہ نیچے تو نہیں بیٹھے ہے۔۔۔ پر شہریار نے تو بتایا نہیں اگر انکو پتا ہوتا تو وہ ملنے تو اتے۔۔۔ اگر ملنے نہیں تو کم سے کم نیچے بولا لیتے۔۔۔ آفففف کہاں پھس گئی ہو۔۔۔
وہ سر پکڑ کر وہی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد پھر سے دروازہ نوک ہوئا۔۔ شہریار آہستہ سے اسکے پاس آیا اور پوچھا ۔۔
ٹھیک ہو۔۔
پریشا کو شہریار کی ڈانٹ یاد آگئی تو
اس نے غصہ سے کہا ہان۔۔۔
شہریار پریشان ہوگیا۔۔ یے کیوں تپی ہوئی ہے پہلے ہی وہ دونوں منہ سوجا کر بیٹھے ہے اور اب یے تیسری آئے ہے۔۔۔
فریش ہوکر نیچے او, لنچ ریڈی ہے۔۔۔۔۔شہریار نے پھیکے لہجے میں کہا ۔
پریشا پر پھر سے خوف تاری ہوگیا۔۔
نیچے کیو۔۔ اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔۔ ابھی تو بتایا لنچ تیار ہے۔۔۔ شہریار نے بیھوے بیگھارتے ہوئے کہا اور چلا گیا۔۔۔۔۔
اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے۔۔ اپنے گھر آتے ہی اسکے تیور تو دیکھو۔۔ بھونگا انسان۔۔۔ہنہ
اس نے جلدی سے بیگ سے اچھا سا سوٹ نکالا اور بدلنے چلی گئی۔۔
تیار ہوکر وہ باہر جانے کی ہمت بنا کر وہ آہستہ آہستہ نیچے او تری تو سامنے ڈائن ٹیبل پر شہریار, ماہم اور ارحام کے علاوہ کوئی نا تھا۔۔ وہ پریشان ہوکر دیکھنے لگی۔۔۔ آخر کب تک سسپنس چلتا رہے گا۔۔
ڈائیننگ کی ایک کرسی کھینچ کر وہ اس پر بیٹھ گئی۔۔
ماہم اور ارحام کا چہرہ ابھی بھی لٹکا ہوا تھا۔۔۔
پریشا نے غصے سے بھری نگاہ شہریار پر ڈالی۔۔
وہ دونوں کھانا نہیں کھا رہے تھے
شہریار نے دونوں کو انگلی دیکھا کر کہا۔۔ ایک بار دوبارہ کہہ رہا ہوں اگر اب تم دونوں نے نہیں کھایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ھوگا۔۔۔
پریشا نے شکل بیگھارتے ہوئے دل میں کہا۔۔ تم سے برا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔
تم دونوں کو بات سمجھ نہیں آ رہی ہاں۔۔۔۔جب ان دونون نے اس کی دھمکی کا کوئی ردعمل نہیں دیکھایا تو شہریار نے پھر سے ان دونوں کو ڈانٹ دیا۔۔
پریشا کا غصہ اور زیادہ ہوگیا۔۔
اس نے شہریار کو غصہ ذبط کر کے کہا بس کر دے ان کو ڈانٹنا بچے ہے۔۔ اگر غلطی ہوگئی ہے تو کوئی بات نہیں اگلی دفعا نہیں کرے گے۔۔۔۔
اگلی دفعہ اگر ان دونوں نے یے حرکت کی تو ان کا جو حال میں کرو گا ان دونوں کے اچھی طرح سے پتا لگ جائے گا۔۔۔
اگر آپکے اپنے بچے ہوتے تو ان کے ساتھ بھی یہی کرتے۔۔ پریشا نے کرسی سے اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
اگر میرے بچے ہوتے تو انکو پنکھے سے الٹا لٹکا کر۔۔۔ بیٹ سے مارتا۔۔۔
اور پھر بھی میرا دل نہیں بھرتا تو انکو انکو میں کچا چبا جاتا۔۔
شہریار شدید غصے سے بول رہا تھا پریشا نے اس کو بیچ میں کاٹ کر کہا۔۔۔ آپ
ہاتھ تو لگا کر دیکھائے میرے بچوں کو میں آپکا ھمممممم آپکا خون پی جاونگی۔۔۔
پریشا کو بولنے کے بعد ہوش آیا کے غصے اور جلدبازی میں وہ کچھ الٹا بول بیٹھی ہے۔۔
اسی لیے اپنے الفاظون پر خاموش ہوگئی۔۔۔
شہریار اسکی بات پر زیر لب مسکرا دیا۔۔ تو وہ اور زیادہ شرم سے پانی پانی ہوگئی۔۔۔
ماہم نے کہا۔۔ پلیز آپ دونوں تو سچ میں لڑ پڑے۔۔ ہم نے تو آپ دونوں سے صرف چھوٹا سا مذاق کیا تھا۔۔۔
شہریار اور پریشا نے ناسمجھی سے دونوں کو دیکھا اور پوچھا کیسا مزاق۔۔۔۔
وہ چاچو میں نے ماہم پی پی کو آپ دونوں کی یونیورسٹی میں لڑائی کا بتایا تھا۔۔۔ پی پی نے کہا۔۔ مجھے بھی دیکھنا کے کیسے لڑتے ہے۔۔۔ اسی لیے پی پی نے پلان بنایا کے ہم چاچی کے سامنے لڑے گے۔۔ پھر اپ غصہ ہونگے تو چاچی آپ سے ہمارے لیے لڑے گی۔۔۔
ماہم نے پریشا اور شہریار کے آگے کان پکڑ لیے۔۔اور دونوں سے سوری کیا۔۔۔۔۔ اور کہا آپ ہمیشہ ایک دوسرے سے پیار سے رہیے گا۔۔ پلیز ائیندا مت لڑئے گا۔۔ ۔۔
شہریار نے اسکے سر پر تھپکی دے کر کہا۔۔ پاگل ہم دونوں کا مذاق چلتا رہتا ہے۔۔ کیو پری۔۔۔
او۔۔۔۔ پری۔۔۔ ماہم نے شرارت سے شہریار کو چڑھایا۔۔۔
سدہر جاو بدمعاش ورنہ پیٹو گی۔۔
ماہم نے پریشا کو جکے گلے لگیا۔۔
We love you bhabhi.. you are the best….
ارحام نے بھی اسکا ساتھ دیا۔۔
Yes chachi love you.. you are the best..
شہریار نے رونے والی شکل بنا کر ہاں بھائی اب بھابھی آگئی ہے تو بھائی کو تو کوئی لفٹ نہیں کرانی نا۔۔
سب ساتھ مسکرا دیے۔۔۔
پر پریشا کو ابھی بھی شہریار کی فیملی کے بارے میں پریشانی تھی۔

پریشا کو آئے بہت دن ہوگئے تھے۔۔۔
ماہم اور ارحام اس سے بہت قریب ہوگئے ہر وقت اسی کے ساتھ پائے جاتے تھے۔۔۔ اور شہریار اپنی آفیس کے کاموں میں اس طرح مصروف ہوتا تھا کے اس کے پاس سر اٹھانے کا بھی وقت نا ہوتا تھا۔۔۔
اور پریشا بھی اس سے دور بھاگنے کے لیے دیر رات تک ماہم اور ارحام کے ساتھ بیٹھی رہتی تھی۔۔ انکے سونے کے بعد بھی وہی بیٹھی رہتی اسی انتظار میں کے شہریار سوجائے پھر جاونگی۔۔۔
اور آج بھی اس نے یہی کیا تھا۔۔
رات کے تین بج رہے تھے پریشا نے سوچا وہ تاڑو سو گیا ہوگا اب کمرے میں چلی جاتی ہون۔۔۔
وہ اٹھی اور پہلے کیچن میں گئی۔۔ پانی پینے کے لیے۔۔۔
پانی پی کر جب وہ پلٹی تو۔۔۔
شہریار کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر وہ حیران ہوگئی۔۔۔
شہریار نے اسکی حالت دیکھ کر اپنی ایک آبرو اوپر کی اور اپنی ہنسی کو دبانے لگا۔۔۔
پریشا نے اٹک اٹک کر کہا۔۔۔
آپ ابھی تک نہیں سوئے۔۔۔
شہریار اسکے قریب ایا۔۔ اسکی سانسے تیز چلنے لگی۔۔۔
شہریار نے قریب اکر اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کیا۔۔ اور دھیمی آواز میں کہا تمھارا انتظار کر رہا۔۔۔
شہریار نے اب اپنے دونوں بازوں کو سلیب پر رکھ کے اسکے دونون طرف بند کر دیے تاکے وہ بھاگ نا سکے۔۔۔
وہ بہت گھبرا گئی۔۔۔
پری ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ شہریار نے پریشا کے گال کو پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔تو
پریشا نے اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھری۔۔۔ اور آنکھیں دوسری طرف کر کے زور سے چلائی ارحام آپ یہاں۔۔۔
شہریار شرم کے مارے وہی رک گیا اور اپنی بازوں سلیب سے چھوڑ دی۔۔۔
پریشا جلدی سے وہاں سے بھاگ نکلی۔۔۔
شہریار سمجھ گیا کے یے چڑیل میری آنکھوں میں دھول جھونک کر گئی۔۔۔
وہ اسکی شرارت پر مسکرایا۔۔۔
اور روم میں واپس چلا گیا پر وہاں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔
ہلکی لائیٹ میں اس نے دیکھا پریشا نے خود کو چادر کے اندر پوری طرح سے لپیٹ لیا تھا۔۔
اور ہلکی سی چرپر بھی کر رہی تھی۔۔۔
شہریار کو شرارت سوجی تو اس نے سٹی بجانا شروع کردی اور بیڈ پر جاکر ٹیک لگاتے ہوئے بہت دیر تک بجاتا رہا۔۔۔
واہییات, بدتمیز, چیپ انسان, چھچھورا۔۔۔ اگھھھ۔۔۔۔
پریشا دل ہی دل میں اسکو لفظوں سے نواز رہی تھی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
پریشا صبح کو سب کا ناشتہ بنا کر۔۔ ماہم اور ارحام کو اسکول , یونیورسٹی کے لیے اٹھاتی تھی۔۔
شہریار خود ہی سویرے اٹھ جاتا تھا اور واک کرنے کے بعد وہ تیار ہوتا پھر سب مل کر ناشتہ کرتے اور شہریار ماہم اور ارحام کو ڈروپ کرتا ہوا خود آفیس چلا جاتا تھا۔۔۔
پر آج شہریار واک سے ابھی تک نہیں ایا۔۔اسکو لیٹ ہوگئی تو پریشا اسکے لیے فکرمند ہو رہی تھی کے پتا نہیں کہاں رہ گیا۔۔۔
وہ ماہم اور ارحام کو دیکھنے گئی کے تیار ہے تو ناشتہ کرنے اجائے۔۔۔
پر ان دونوں کی جنگ عظیم لگی ہوئی تھی۔۔۔
کتنی دفعا میں نے تمیں سمجھایا ہے کے مجھے پھوپھو مت بولا کرو۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں آتی میری بات۔۔۔ ماہم
نے ارحام کو انگلی دیکھتے ہوئے۔۔لفظوں کو چبا چبا کر کہا۔۔
ہاں تو پھوپھی کو پھوپھی نہیں بلاو گا تو کیا بھینس بلاو گا۔۔۔
ارحام نے چڑھانے والے انداز میں کہا۔۔۔
ارحام تمہیں میں مارا دونگی اپنی حد میں رہو۔۔
ماہم نے اسکا گلا دبانے کی کوشش کی۔۔۔۔
تو پریشا نے جلدی سے اسے روک دیا۔۔
ماہم یے کیا کر رہی ہو چھوٹا بچا ہے۔۔۔
بھابھی مت بچائے اس شیطان کو مار دینے دے مجھے اسکو۔۔۔
ماہم خود کو پریشا کے ہاتھوں سے نکالنے کی کر کے ارحام کی جانب بڑھنے لگی۔۔
پریشا نے اسکو پھر سے روک ماہم۔۔ کیا ہوگیا۔۔۔ مجھے بتاو کس بات پر لڑ رہے ہو۔۔۔
پریشا نے پیار سے اس سے پوچھا تو ماہم نے رونی شکل بنا کر کہا۔۔۔
بھابھی یے مجھے پھوپھو بلا رہا ہے۔۔۔
ہاں تو؟
پریشا نے نا سمجھی سے اسے پوچھا۔۔۔
تو ؟
ماہم کو ایسا صدمہ لگا۔۔۔
بھابھی آپ کو پتا ہے کتنا عجیب لفظ ہے۔۔۔ پھوپھو۔۔۔
ماہم نے پھوپھو لفظ کو کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔
اور میں کیا اسے اتنی بڑی ہو جو یے مجھے پھوپھو بلائے گا۔۔۔
وہ صدمے سے بول رہی تھی۔۔۔
پریشا کو اسکی بات پر ہنسی اگئی۔۔۔
ارے پاگل اتنی سی بات پر تم اسکو مارنے چلی تھی۔۔۔
پریشا نے ہلکا سا مسکرا کر کہا تو ماہم کی آنکھیں پھٹ گئی۔۔۔
بھابھی آپ کے لیے یے اتنی سی بات ہے۔۔۔ آپکو پتا ہے اگر میری دوستوں نے سنا تو سب میرا مذاق بنائے گی۔۔۔ وہ بیڈ پر صدمے سے بیٹھ گئی۔۔۔
اچھا تو بتاو کیا بولا ئے تم کو ارحام پی پی۔۔۔ ہممم بولو۔۔۔
پریشا نے چہرا بگاڑ کر کہا۔۔۔
ہاں پی پی۔۔۔ بولے کم سے کم اس پھوپھو لفظ سے تو اچھا ہے۔۔۔
ماہم نے ہاتھوں سے ریکشن کر کے دیکھایا اور شکل بنا کر اپنا بیگ اٹھانے لگی۔۔۔
نہیں بلاو گا پی پی اور اپکی دوستوں کے سامنے بھی پھوپھو کہو گا جو کرنا ہے کر لے۔۔۔ اوووووو ۔۔۔۔۔
ارحام ماہم کو چڑہا کر باہر کی طرف بھاگ گیا۔۔۔
اور ماہم غصے سے آگ بھگولا ہوگئی۔۔اور سے زمین پر اپنا پیر پٹک دیا۔۔۔
پریشا نے اسکو پیار سے کہا۔۔ پلیز غصہ مت کرو میں سمجھاو گی ارحام کو۔۔۔
وعدہ کرے بھابھی۔۔۔
ماہم نے رونی صورت بنا کر پریشا سے وعدہ لیا۔۔ تو اسنے بھی ماہم کو پکا وعدہ کیا۔۔۔
اب چلو باہر کھانا ٹھنڈا ہوجائے گا۔۔۔ ورنہ بھائی ناراض ہوجائے گے کے لیٹ کروا دیا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
بھابھی بھائی نہیں آئے کیا۔۔
ماہم نے جب شہریار کو کھانے کی ٹیبل پر نا پیا تو پریشا سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
ہمممممممم مجھے بھی نہیں معلوم ویسے تو واک کر کے آجاتے تھے اور آج ابھی تک نہیں ائے۔۔۔
پتا نہیں کہاں رک گئے ہے۔۔ پریشا بھی پریشان ہوگئی۔۔۔۔
گڈ مارننگ گائیز
شہریار کی آواز پر سب نے اسکو مڑ کر دیکھا۔۔۔
ٹریک سوٹ میں ملبوس بکھرے بالوں میں کوئی شہزادہ لگ رہا تھا۔۔۔
گوڈ مارننگ بھائی ماہم نے شہریار کو ہاتھ پر تالی مار کہا۔۔
اور ارحام نے بھی کہا۔۔
گوڈ مارننگ چاچو۔۔
گڈ مارننگ مائے چیمپ۔۔۔
شہریار نے ارحام کو گال پر پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ اور اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
پر پریشا نے کچھ نہیں کہا تو ماہم نے پریشا کو کونی مار کر کہا۔۔۔ بھابھی آپ بھائی کو گوڈ مارننگ نہیں کرے گی۔۔ آپ ہم دونوں سے شرما رہی ہے کیا۔۔ اچھا چلے ہم کان بند کرتے ارحام بند کرو کان۔۔۔ ماہم نے ارحام کو اشارہ کیا تو دونوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ دیے۔۔۔
پریشا نے دونوں کو دیکھ کر کہا اسکی ضرورت نہیں۔۔۔
میں کہنے ہی لگی تھی۔۔۔
شہریار نے نہایت ہی فرمانبردار سے کہا او اچھا بیگم بولے میں سن رہا ہو۔۔۔
پریشا نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
گڈ مارننگ۔۔۔
گڈ مارننگ مائے لو۔۔۔
شہریار نے مائے لو بہت ہی دھیمی آواز میں کہا۔۔۔جیسے کسی کو سنائی نا دے۔۔۔
بھائی کہاں رہ گئے تھے آپ اتنی دیر کردی۔۔۔ اور ابھی تک تیار بھی نہیں ہوئے ہے ہمیں لیٹ کروا دیے گے اپ۔۔۔۔۔ اور اج لیٹ بھی آئے ہے سب ٹھیک تو ہے نا۔۔
ماہم نے شہریار سے پریشانی میں یکا یکا سوالات کی بوچھاڑ کردی۔۔۔ آفففف لڑکی سانس تو لے لو اتنے میں کتنے سارے سوال کردیے۔۔۔ شہریار نے آنکھیں پھاڑ کر اسکو کہا تو وہ پھر سے بولنے لگی پر شہریار نے اسکو ہاتھ کے اشارے چپ کروا دیا۔۔۔ بتاتا ہو۔۔۔ صبر صبر۔۔۔ ہاں میرا گڑیا سب ٹھیک ہے۔۔ فکر مت کرو۔۔
دراصل آج بہت اہم میٹنگ ہے اور میں نے ساری رات پروجیکٹ پر کام کیا ہے بس اس کو دوبارا دیکھنا ہے تو اس لیے تھوڑا لیٹ جاونگا۔۔۔۔۔۔
تم لوگو فکر مت کرو آج گل شیر تم دونوں کو چھوڑ آئے گا۔۔
اور ہاں دونوں کان کھول کر میری بات سنو اگر تم دونوں میں سے کسی نے بھی گل شیر کے ساتھ فری ہونے کی کوشش کی یا پھر اسکو گاڑی تیز چلانے کا کہا۔۔ تو دونوں کی تانگے توڑ کے رکھ دونگا۔۔۔
شہریار کے چہرے پر غصہ تھا پر آنکھوں میں شرارت صاف ظاہر ہو رہی تھی۔۔۔ اسکو پریشا کی اس دن والی بات یاد اگئی۔۔۔
اور ماہم اور ارحام بھی اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر اسکی باتوں کو سیریس نہیں لے رہے تھے۔۔۔
وہان پریشا کے طوطے اوڑ گئے۔۔ ماہم اور ارحام چلے جائے گے تو میں اور یے چھچھورا انسان اکیلے گھر پر ہونگے آفف اب میں کیا کرو کیسے بچائون اس سے اپنے اپکو۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے سوچنے لگی تو ماہم اور ارحام اٹھ گئے کے ہمیں دیر ہو رہی ہے ہم جا رہے ہے۔۔ اللہ حافظ وہ شہریار اور پریشا سے مل کر نکل گئے۔۔۔
پریشا کی گھبراہٹ بڑتی جا رہی تھی۔۔۔
وہ جانے کے لیے آٹھ گئی تو شہریار نے اسکو روک دیا۔۔
پری۔۔۔
وہ اپنے ہونٹ کانٹنے لگی اور پیچھے مڑ کر شہریار کو جی کہا تو۔۔ اس نے پوچھا کہاں جا رہی ہو ناشتہ تو ختم کر لو۔۔۔
نہیں بس میرا ہوگیا۔۔
اچھا پلیز ایک کپ کافی بنا کر مجھے کمرے میں دے جانا۔۔۔ اور ہاں میں نے کک کے لیے کہہ دیا ہے کچھ دونوں میں آجائے گا۔۔ سوری تمہیں تھوڑی تکلیف اٹھانی پڑھ رہی۔۔
شہریار اخبار دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔۔
نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔ میں کافی بنا کر آتی ہون۔۔۔
پریشا جلدی سے کہہ کر وہاں سے بھاگ نکلی۔۔۔
وہ کافی بنا کر شہریار کے کمرے کی جانب آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی جانے لگی۔۔ دروازہ نوک کر کے وہ اندر گئی تو شہریار صوفے پر لیٹ کر لیپ ٹاپ پر اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔ اسکو یے تک دیھان نہیں تھا کے کمرے میں کوئی آیا ہے۔۔۔
آپکی کافی۔۔
پریشا نے سائیڈ ٹیبل پر کافی کا مگ رکھ کر دھیمی آواز میں کہا
شہریار نے کوئی جواب نہیں دیا تو پریشا نے پھر سے کہا آپکی کافی رکھی ہے لے لیجیے گا۔۔۔ اس بار اس نے تھوڑا زور سے کہا۔۔۔ شہریار نے پھر بھی کوئی جواب نا دیا نا ہی کوئی ردعمل دیکھایا۔۔
اسکو بہت غصہ آیا تو قدرے زور سے اس نے کہا۔۔۔
شیروو۔۔۔۔ اپنی کافی لے لینا۔۔۔
شہریار نے اپنے کانوں سے ایئر فونس نکل کر پریشا کو حیرت بھری نگاہ سے دیکھا۔۔
تو اس نے آنکھیں جھکا لی۔۔۔
یے تم نے کیا کہا مجھے۔ ۔۔
شہریار نے باقاعدہ سنجیدگی سے کہا۔۔ تو وہ گھبرا گئی اور جلدی سے بولی۔۔۔
کچھ بھی تو نہیں۔۔۔
شہریار نے چہرہ کو بگاڑ کر کہا۔۔۔ میں نے پوچھا کیا کہہ رہی ہو۔۔
وہ وہ میں آپکی کافی لیکر ائی تھی آپ سے کہہ رہی لے لیجیے گا۔۔۔
پریشا نے جلد سے جواب بنا کر دیا تو شہریار کو یقین نہیں آیا اس نے کہا پکا یہی کہہ رہی تھی۔۔۔
جی جی۔
پریشا نے فٹافٹ جواب دیا۔۔
اچھا مجھے یہاں کافی دو وہاں کہاں رکھی ہے۔۔۔
شہریار نے اسکو اپنے پاس کافی رکھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
خود نہیں اٹھا سکتا۔۔۔
وہ بڑبڑائی۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔۔ جلدی دے کر جاو۔۔
شہریار نے بیزاری سے بولا تو وہ جلدی سے اسکے پاس گئی اور ٹیبل پر رکھ کر بھاگنے لگی۔۔۔ تو اسکے ڈوپٹے میں رکاوٹ آنے لگی وہ آگے جانے کی کر رہی تھی پر ڈوپٹہ کی رکاوٹ کی وجہ سے رک گئی۔۔
آفففف۔۔۔۔ میرا ڈوپٹا چھوڑو پلیز۔۔۔
اس کو پکا یقین ہوگیا کہ یے حرکت اس شیرو کی ہوگی۔۔ اس نے شہریار کو کہا۔۔۔ پر پھر بھی اسکے ڈوپٹے کی رکاوٹ نہیں گئی تو وہ پھر سے بولی۔۔۔
پلیز چھوڑ دو میرا ڈوپٹا۔۔۔
اس نے غصے سے پیچھے دیکھا تو اسکا ڈوپٹا شہریار کی فائل میں اٹکا ہوا تھا۔۔
وہ شرمندہ ہوگئی۔۔۔
پر اسنے دیکھا شہریار کا دھیان لیپ ٹاپ میں تھا۔۔۔ اس نے شکر سے آنکھیں بند کی اور جلدی سے اپنا دوپٹہ چھوڑ ویا اور بڑے بڑے قدم اٹھاتی ہوئی باہر چلی گئی۔۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
شہریار آفیس چلا گیا تو پریشا گھر میں ہر روز کی طرح بور ہو رہی تھی۔۔۔
کیونکہ وہ تینوں شام کو آتے تھے۔۔۔۔
پریشا گارڈن میں پھولوں کے ساتھ کھیل رہی تھی جب کار پارکنگ سے گاڑی کے آنے کی آواز آئی وہ سوچنے لگی اس وقت کون اگیا۔۔
وہ تھوڑا اگے جاکر دیکھنے لگی تو وہ ارحام تھا۔۔ وہ خوشی خوشی اسکے پاس گئی تو وہ بھی بھاگتا ہوا اسکے پاس ایا۔۔
چاچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشا کے گلے لگ گیا۔۔۔
ہیلو ینگ مین۔۔
اج اتنی جلدی آگئے اپ۔۔۔۔
پریشا نے اسکو پیار کرتے کہا تو اسنے اپنے بالوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا۔۔
چاچی سب کچھ چھوڑے پہلے مجھے کھانے کے لیے کچھ دے مجھے بہت بھوک لگی ہے کہی میں بے ہوش نا ہوجاو ۔۔۔
پریشا نے اسکی بات پر قہقہ لگایا۔۔۔
کیا ہوا چاچی۔۔۔ ارحام نے حیرت سے پوچھا تو پریشا نے اسکے بال بیگھار کر بولی۔۔۔
میرا دوست تھا وہ بھی تمھاری طرح تھا۔۔۔ پڑھنے کے بعد اسکو بہت بھوک لگتی اور جب اسکو کھانا نہیں ملتا تھا تو چکر کھا کے گرنے لگتا تھا پاگل۔۔ ۔ بس تمھاری بات سے وہ یاد اگیا۔۔۔
او اچھا۔۔۔چلیں نا۔۔۔ارحام پیٹ کو پکڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ہاں ہاں چلو جلدی۔۔۔۔
پریشا نے اسکو بھوک کے لیے تڑپتا دیکھا تو جلدی سے بولی۔۔۔
وہ دونوں کیچن میں گئے۔۔
تو پریشا نے ارحام سے پوچھا۔۔۔
کیا کھاو گے حکم کرو۔۔۔
ارحام نے کہا۔۔ نوڈلز کھاو گا۔۔۔
اچھا میں بس ابھی بناتی ہوں آپکے لیے۔۔۔
ویسے آپ نے بتایا نہیں اتنی جلدی آنے کی وجہ۔۔۔
پریشا نے نوڈلز کو چولہے پر رکھ کر بولی اور ارحام کے پاس آکر کیچن کی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ارحام اداسی کہنے لگا کے بس آج میرا موڈ نہیں تھا اس لیے جلدی اگیا۔۔۔
اچھا جی۔۔۔ چلیں بہت اچھا کیا اپنے آپکے بغیر میں بہت بور ہو رہی تھی۔۔۔
باتیں کرتے کرتے پریشا اسکے لیے نوڈلز لیکر آئی یے لے چھوٹے میاں آپکے نوڈلز۔۔۔
ارحام نے خوشی سے کہا۔۔
تھینکس ماما۔۔۔۔
ا لو یو۔۔۔۔
پریشا پریشان ہوگئی۔۔۔
مام۔۔۔ کیو کہا۔۔۔شاید بھول گیا ہوگا۔۔ اسکی ماما اسکو اسکول کی واپسی پر بنا کر دیتی ہوگی نا۔۔
پر وہ لوگ کہاں ہے۔۔۔ کسی نے انکا بتایا ہی نہیں نا ہی ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔
کیو نا ارحام سے پوچھ لو۔۔ اس نواب سے تو ہمت نہیں بن پاتی پوچھنے کی۔۔ اور نا ہی ماہم سے پوچھ سکتی ہو کیا کہے گی بھائی نے بھابھی کو نہیں بتایا۔۔۔
ارحام آپکی ماما بابا دادی دادی ۔۔۔
پریشا کی بات آدھے میں رہ گئی۔۔۔
Hey champ…..
پیچھے سے شہریار نے زور سے کہا۔
ارحام نے شہریار کو دیکھا تو اسکی طرف بھاگ کر گلے لگ گیا۔۔
شہریار نے اسکو اپنی گود میں اٹھایا تو وہ پھر سے اسکے گلے لگ گیا۔۔
Chacho i love you…
Chacho loves you too my jaan..
کیا ہو رہا ہے۔۔۔
شہریار نے ارحام کے گال کو کھینچتے ہوئے پوچھا۔۔۔
چاچی نے نوڈلز بنا کر دیے ہے وہی کھا رہا تھا۔۔۔ اور چاچی سے باتیں بھی کر رہا تھا۔۔۔
That great my love…
آج ایک میچ ہوجائے۔۔۔
شہریار نے ارحام کو آنکھ مار کر پوچھا۔۔ تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا۔۔۔ پکا۔۔۔ آپ کھلے گے۔۔
Yes my love i willl….
تیار ہوجائے ہارنے کے لیے۔۔۔
ارحام نے شہریار کو فخر سے کہا تو وہ قہقہ لگائے بنا نا رہ سکا۔۔
لو جی میرا شاگرد مجھے سیکھا رہا ہے۔۔ چلو او میدن میں دیکھتے ہے کون جیتتا ہے۔۔۔
پہلے نوڈلز فینش کرو۔۔۔ جلدی۔۔۔
او کے۔۔۔
ارحام نے جلدی جلدی نوڈلز کھانے لگا تو پریشا اور شہریار اس کو ہنس کر دیکھنے لگے۔۔۔
یا ہوووووو۔۔۔ میں نے ختم کر دیے۔۔ اب میں جا رہا ہوں تیار رہنے چاچو تیار ہوجائے۔۔۔۔
ارحام نے شہریار کو انگلی دیکھا کر کہا تو شہریار نے اسکی انگلی پر بوسا دیا۔۔۔
ہاں جاو۔۔۔ بندر۔۔۔ جب ہار جاو نا تو دیکھ لینا۔۔۔کون چیمپئن ہے۔۔۔
وہ بھاگتا ہو باہر چلا گیا۔۔
بھائی بھابھی کی کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔
شہریار پریشا سے دوسری منہ کر کے بتا رہا تھا۔۔۔
پریشا کو شہریار کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔ وہ بہت شرمندہ ہوگئی۔۔۔
شہریار پھر سے بول پڑا آج سکی پیڑینٹس میٹنگ تھی۔۔۔ سب کے پیڑینٹس آئے تھے پر اسکے پیڑینٹس نہیں اس لیے وہ بہت اداس ہوگیا اور جلدی گھر اگیا۔۔۔
پریشا کی آنکھوں سے آنسو سمندر کی طرح بھنے لگے۔۔۔
شہریار نے اسکی طرف منہ کیا اسکی آنکھیں سرخ لال ہوگئی تھی۔۔۔
اس نے آہستہ سے کہا۔۔۔
پریشا میرے ماما بابا بھی۔۔۔
پریشا کو جھٹکے پر جھٹکا لگا۔۔ وہ وہی رک گئی۔۔۔
اور شہریار اپنے آنسو چھپانے کے لیے۔۔ جلدی سے باہر بھاگ گیا۔۔۔
پریشا سوچنے لگی۔۔ کے کبھی کبھی ہم کتنے
غلط سوچتے ہے اگلے بندے کو خوش دیکھ کر سوچتے ہے اللہ نے ہر کسی کو خوشی دی ہے اور صرف ہمیں ہی دکھوں سے برھ دیا ہے۔۔ یے نہیں دیکھتے کے اس بندے کی ہنسی کے پیچھے کتنا بڑا دکھ چھاپا ہوا ہے۔۔۔
ہم لگتا ہے اللہ نے صرف ہمارے لیے زیادہ آزمائشیں رکھی۔۔ پر دوسروں کی طرف نہیں دیکھتے کے کوئی ہم سے زیادہ بڑی آزمائش میں ہے۔۔۔
میں کتنی غلط تھی یہی سوچتی تھی شہریار کتنا خوش ہے پر اسنے تو اپنی ساری فیملی کو کھو دیا ہے۔۔۔
مجھ سے زیادہ تو وہ درد میں ہے۔۔۔
میں سمجھتی تھی۔۔ میں ہی دکھی ہون۔۔۔ جو میرے بابا مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے پر اصل تو درد میں شہریار,ماہم اور ارحام ہے۔۔۔ پر پھر بھی وہ سب اپنا دکھ ظاہر نہیں کرتے۔۔۔
سب سے زیادہ تو ارحام بیچارے کا نقصان ہوا ہے اتنی سی عمر میں اسکے پیڑینٹس چلے گئے۔۔۔ یا اللہ مجھے معاف کردے میں نے مایوسی کی۔۔۔ میں اپنے گناہ کی معافی مانگتی ہوں۔۔ یقینن میں غلط تھی۔۔۔ اس دنیا میں مجھ سے زیادہ لوگ بڑی بڑی آزمائشوں میں ہے۔۔ میرا دکھ تو انکے سامنے کچھ بھی نہیں۔۔۔
وہ زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ اتنا وہ اپنے بابا کے جانے پر بھی نہیں روئی تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: