Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 15

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 15

–**–**–

پریشا بہت دیر رونے کے بعد باہر آئی تو اسکو گارڈن سے چلانے کی آوازیں آرہی تھی۔۔ وہ جلدی سے وہاں گئی۔۔ تو شہریار اور ارحام فوٹ بال کھیل رہے تھے۔۔ شہریار نے بال پر قبضہ کر لیا تھا اور صرف خود ہی کھیل رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔ اور ارحام اس پر چلا رہا۔۔۔
چاچو پلیز ایک دفعا بال پاس کر دے دیں پلیز۔۔۔۔
لیکر دیکھاو تو مانو۔۔۔ ویسے تو بڑی دھمکیاں دے رہے تھے۔۔ اب کیا ہوا نکل گئی۔۔۔
شہریار بال سے کھیلتے ہوئے بولا
چاچووووووو۔۔۔۔۔۔۔پلیز نا۔۔۔۔۔۔۔
ارحام زور سے چلایا۔۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔۔
شہریار نے کھلنے کے بیچ میں انگلی سے اشارہ کر کے کہا۔۔۔
شہریار کا سر نیچے تھا۔۔ اسکا پورا دہاں بال کی طرف تھا کے تب کسی نے بال کو لات مار کر دوسری طرف کی جانب کردیا۔۔۔
What the hell?
شہریار زور سے چلایا۔۔۔
اور سر کو اوپر کے دیکھا تو وہ پریشا تھی۔۔۔
شہریار کو۔ بہت غصہ آیا۔۔۔ جب بھی کوئی اس سے بال چھین کر لے جاتا تھا اسکا خون کھولنے لگا تھا۔۔۔
اس نے پریشا کو چہرا بگاڑ کر دیکھا۔۔۔
تو پریشا نے ہلکا سا مسکارا کر کندھے اچکائے اپنے کالر کو پکڑ کر تنزیا مسکرانے لگی۔۔۔
شہریار دانت چباتا رہ گیا۔۔۔ اور وہ ارحام کے پاس چلی گئی۔۔۔
Wow chachi you are champion…
اپنے کہاں سے سیکھا ہے فوٹ بال۔۔۔
ارحام پریشا کی بال کو کیک کرنے پر اپریس ہوکر بولا۔۔۔
بچپن میں اپنے محلے میں کھیلتی کرکٹ۔۔ وہ آگے کہنے لگی پر شہریار نے طنز سے کہا۔۔۔
چیمپ اسکو بتا دو یے کرکٹ نہیں فوٹ بال ہے۔۔۔ ہہ۔۔۔
ارحام انکو بتا دو جب کوئی بات کر رہا ہوں تو اسکو بیچھ میں نہیں کاٹا جاتا۔۔۔اور بات کرنے سے پہلے میری پوری بات تو ختم ہونے دے تمھارے سو کالڈ چیمپئن چاچو۔۔۔
پریشا نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا۔۔ تو شہریار نے اپنی آبرو اوپر کر کے کہا۔۔۔
مجھے چلینج کر رہی ہو۔۔۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔
پریشا نے چہرے کو بیگار کر کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا ڈر گئی نا۔۔ شہریار عالمگیر کے سامنے ہر کسی کی ہوا ٹائیٹ ہو جاتی ہے۔۔۔
اور ویسے بھی فٹ بال تم بچوں کے لیے نہیں ہے۔ ۔
پریشا نے اسکو انگلی دیکھا کر کہا۔۔۔ آیے مسٹر شہریار ہوگے تم چیمپئن اپنے لیے۔۔ پر ہم پر یے روعب نا ڈالو۔۔۔ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔۔۔ کیو ارحام۔۔ پریشا نے ارحام کے کاندھے پر ہاتھ کر کہا تو۔۔ ارحام نے بھی جوش سے کہا تو چاچو ہوجائے مقابلا۔۔۔
ہاں ہوجائے۔۔ تم دونوں ایک ٹیم میں ہوجاو میں ایک اکیلا۔۔۔
ڈن ہے۔۔۔ پریشا نے زور سے کہا۔۔۔
او میڈم ہار جاوگی۔۔۔
شہریار نے اسکا حوصلہ دیکھا تو تنزیا بولا۔۔۔
پریشا رضا ڈرتی تو کسی کے باپ سے بھی نہیں ہے ۔۔۔
شہریار نے کہا۔۔ او میڈم بے ایمانی نا کرو۔۔۔
پریشا نے اسکو نا سمجھی سے دیکھا تو وہ بولا۔۔۔
پریشا رضا نہیں۔۔۔پریشا شہریار عالمگیر۔۔۔۔
شہریار نے شکل بنا کر اسکو چڑھانے کے انداز میں کہا۔۔۔
آپکا کوئی حق نہیں کے آپ مجھے پریشا شہریار کہے۔۔۔ میری مرضی ہے۔۔۔
پریشا نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔۔
ارے حق کی بات مت کرو۔۔۔ وہ تو پتا نہیں کیا کیا ہے۔۔۔ بتانے پے آیا تو۔۔۔وہ چپ ہوگیا۔۔۔اور اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگا۔۔۔
پریشا کے طوطے اوڑ گئے۔۔ اس نے شہریار کو اپنی آنکھیں دکھائی اور ارحام کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ ( بچے کے سامنے واہییات گیری سے باز اجاو۔۔۔)
شہریار اسکی حالت پر قہقہ لگائے بنا نا رہ سکا۔۔۔
اب پرسنل اٹیکس ہو رہے ہے اس سے پہلے کے گولیاں اور بارود چلاے۔۔ میچ شروع کرے۔۔۔
ارحام نے ان دونوں کا لڑتے دیکھا تو شرارت سے بول اٹھا۔۔
اور وہ دونوں اسکی بات پر مسکرا دیے۔۔۔
پریشا نے اسکو گلے لگا کر سر پر بوسا دیا۔۔۔
چلیں شروع کریں گیم پریشا نے اپنے ڈوپٹے کو اچھی طرح سے باندھتے ہوئے کہا۔۔۔
شہریار نے بال کو اوپر اچھالا اور گیم شروع ہوگیا ۔۔
پریشا اور ارحام دونوں بال کو گول ہونے سے بچا رہے تھے کیونکہ شہریار بال انکے ہاتھ نہیں لگنے دے رہا تھا۔۔۔ تو دونوں نے یہی سوچا کے بال ہاتھ نہیں لگ رہا تو کم از کم بال کو گول کرنے سے بچانا ضروری ہے۔۔۔
شہریار نے بھی کچھی گوٹیان نہیں کھلی تھی۔۔۔
اس نے میدان میں آتے ہی گول کردیا۔۔ اور ان دونوں کو چڑھانے لگا۔۔۔
ارے میرے بچوں رونا مت۔۔ چاہو تو ابھی گیم چھوڑ دو۔۔۔ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا نا ہی تم لوگوں کو زندگی میں کبھی یاد کرواؤں گا۔۔۔شہریار نے دونوں کو ایک موقع دیا۔۔۔
ارے چاچو ابھی تو گیم باقی ہے۔۔۔
ارحام نے اسکو تنزیا کہا ۔۔
ٹھیک ہے پھر رونا نہیں۔۔۔
شہریار نے اتارتے ہوئے کہا۔۔
ہاں ہاں چاچو آپ ریڈی رہیے ہمیں ایس کریم کھلانے کے لیے۔۔
ہمممممممم دیکھتے ہے۔۔۔
شہریار نے ایک آبرو اوپر کر کے شکل بنائی۔
گیم دوبارہ شروع ہوئا۔۔
شہریار نے بال ارحام کی طرف پھینک دی اور اور خود ڈرامائی انداز میں چلایا۔۔۔
Oh shit…..
پریشا ارحام سے کہنے لگی ارحام بال مجھے پھیکو تاکہ آگئے لے جاو پر شہریار نے اسکا ہاتھ تھام لیا اور اپنے ساتھ پیچھے روک دیا۔۔ اور اسکو اشارہ کیا۔۔۔ کے ارحام کو خود کرنے دو گول۔۔۔
پریشا نے بھی اسکی بات مان لی اور ارحام کو گول کرنے کے لیے آگے بھیج دیا۔۔۔
جیسے ہی وہ گول کر گیا۔۔
شہریار جھوٹ موٹھ کے غصے سے چلایا۔۔۔
اور پریشا اور ارحام نے ایک دوسرے کو دونوں ہاتھوں سے تالیان مار کر گول کی خوشی منانے لگے۔۔۔
شہریار ارحام کو دیکھ کر مسکرایا۔۔۔ جب ارحام نے اسکی طرف دیکھا تو وہ شکل لٹکائے کھاڑا ہوگیا۔۔۔
ارے چاچو میں نے کہا تھا نا آپکو ہرا دونگا۔۔۔دیکھ لے۔۔۔
شہریار نے کہا۔۔ یار تم تو اچھے پلیر ہوگئے ہو لگتا ہے تم سے کلاسس لینی پڑہے گی۔۔۔
ارحام نے فخر سے کہا۔۔ دیکھوں گا۔۔۔
شہریار نے اسکو گدگدی کر کے کہا۔۔۔ اچھا بھائی اب مجھ سے ڈرامے صحیح ہے۔۔۔
شہریار اور پریشا ہر بار ارحام سے گول کرواتے۔۔۔ اور خود تھوڑی بہت کوشش کرتے تاکے اسکو محسوس نا ہو۔۔۔
شہریار کا موبائل بجا تو گیم کو بیچ میں چھوڑ کر وہ کال سننے کے لیے چلا گیا۔۔۔
پریشا اور ارحام بھی اندر جانے لگے تو پیچھے سے ماہم کی آواز پر رک گئے۔۔۔
ہیلو گائز۔۔۔
ماہم خوش مزاجی کے ساتھ انکے قریب آئی۔۔۔
ہیلو پھوپھو۔۔
ارحام نے اسکو چڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
ارحام کے بچے تم میرے ہاتھوں سے نہیں بچو گے۔۔
ماہم نے اسکو دھمکی دیتی کہا۔۔۔
ماہم۔۔ میں نے کیا کہا تھا تمہیں۔۔
پریشا ماہم کے آگے آگئی اور اسکو اپنا کیا ہوا وعدہ یاد دلانے لگی۔۔۔
بھابھی۔۔۔ اپنے کہا تھا سمجھائے گی پر اپنے اسکو ابھی تک نہیں سمجھیا۔۔۔
تھوڑا وقت تو دے دو۔۔۔ سمجھائو گی۔۔ پلیز۔۔۔
پریشا کی بات وہ تھوڑا ٹھنڈی ہوی۔۔
اچھا ناراض نا ہوئے میری پیاری بھابھی جی۔۔۔ یے بتائے کھانے میں کیا ہے۔۔بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔
ماہم نے میسنی شکل بنا کر کہا۔۔
کھانا تو میں نے نہیں بنایا
پریشا پریشان سے بولی۔۔۔
ارے میری جان فکر مت کریں کوئی بات نہیں آرڈر کر لیتے ہے۔۔
ماہم نے پریشا کے دونوں گالوں پر پیار کرتے کہا۔۔۔
نہیں باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں ویسے بھی انکو آتے آتے آدھا گھنٹہ لگا جائے گا۔۔۔ جب تک تو میں بھی بنو لونگی۔۔۔
پریشا نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔۔۔
چاچی فکر مت کریں آج تو باہر سے ہی کھانا منگوائے گے۔۔۔ اور ویسے بھی چاچو ہار گئے ہے تو اب انکو ہماری ہر شرت پوری کرنے پڑہے گی۔۔۔
ارحام نے پریشا کا ہاتھ پکڑ کے کہا تو پریشا نے کہا۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔
بھائی کس چیز میں ہار گئے۔۔۔
ماہم نے آن سے سوال کیا تو۔۔ ارحام نے خوشی خوشی اسکو سارا واقعہ بتا دیا۔۔۔
تینوں مل کر اندر گھر میں گئے اور صوفے پر تھپ کر کے بیٹھ گئے شہریار کے انتظار میں۔۔۔
آفففف آج تو بہت تھک گئی پر بہت مزہ ایا۔۔۔۔
پریشا صوفے پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے بولی۔۔۔
ہاں بہت مزہ ایا۔۔۔۔
ارحام نے اسکو گلے لگاتے کہا۔۔۔
اور پریشا کا ڈوپٹہ اپنے منہ پر رکھ دیا۔۔۔
پریشا نے حیرت سے اسے دیکھا اور پوچھا یے کیا کر رہے ہو ارحام۔۔۔
چاچی آپکے پاس سے ماما جیسی خوشبو آتی ہے۔۔۔
پریشا کو اسکی بات پر رونا اگیا۔۔۔ اس نے ارحام کو زور سے گلے لگیا۔۔ اور سر پر بوسا دیا۔۔۔
ارحام۔۔۔
پریشا نے پیار سے اسے بلایا۔۔ وہ اسکے بالوں پر ہاتھ بھی پِھر رہی تھی۔۔۔
جی ماما۔۔۔
ارحام نے اپنی بے دہانی میں کہا تو پریشا کا دل ترپ اٹھا۔۔۔
ارحام کیا میں آپکی ماما بن سکتی ہو اگر آپ چاہے تو۔۔۔ میں آپکی اصلی ماما تو نہیں بن سکتی پر میں کوشش کروں گی کے آپکو آپکی ماما کی کمی محسوس نا ہونے دو۔۔۔۔۔ آپکی ہر چیز کا دھیان رکھوں گی جیسے آپکی ماما کرتی ہے۔۔۔ تاکے ائیندا آپ اس طرح پیڑینٹس میٹنگ سے بھاگ کر نا ائے۔۔۔ آپکی پریشا چاچی نہیں بلکے ماما آپکے پیڑینٹس میٹنگ میں ائگی۔۔۔۔ اگر آپ چاہے تو ارحام ۔۔۔
پریشا نے ارحام سے ڈرتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
ارحام اسکی گود سے اٹھ کر اسے دیکھنے لگا اور تھوڑی دیر بعد بولا۔۔۔
پر میری ماما تو ہے تو میں آپکو ماما کیسے بولا سکتا ہوں۔۔۔
اس کا ایک ہل
ماہم نے تھوڑا سوچ کر خوشی سے کہا۔۔۔
کیا۔۔۔؟
ارحام اور پریشا نے ساتھ ساتھ کہا۔۔۔
وہ یے کے ارحام آپکو چھوٹی ماما بلا سکتا ہے۔۔۔
ماہم نے ان دونوں کو بتا کر اپنی دونوں آبرو کو اوپر کیا۔۔۔
یے ارحام پر ہے۔۔ وہ مجھے کہے یا نا۔۔ پر میں ارحام کو دل سے قبول کرو گی۔۔۔ کیونکہ میں اس درد سے گزر چکی ہو۔۔۔ مجھے اچھے سے معلوم ہے کے ایک بچے کو اپنی ماں کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جس طرح میں نے اپنی ماں کے بغیر اپنی زندگی گزاری میں نہیں چھاتی کے ارحام بھی بھی اسی درد سے گزرے۔۔۔ اسکو اپنی ماما یاد آئے گی۔۔۔ ہم بھی کبھی انکو نہیں بھولے گے پر ارحام کے پاس اپنی چھوٹی ماما ہوگی جو اسکو ہمیشہ خوش رکھنے کی پوری کوشش کرے گی۔۔۔
اور ویسے بھی۔۔جب ارحام خوش ہوگا تب ہی اسکے ماما بابا اللہ پاک کے پاس خوش ہونگے کے ہمارا بیٹا ارحام خوش ہے۔۔۔
پریشا نے ماہم کی طرف منہ کر کے بات کر رہی تھی۔۔۔ اور اب وہ ارحام کو کھالی نظروں سے دیکھنے لگی کے وہ کیا کہتا۔۔۔
ارحام کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔۔
کیا بابا اور ماما مجھے خوش دیکھے گے تو خوش ہونگے۔۔۔
ارحام نے نہایت ہی معصومیت سے کہا۔۔۔ تو پریشا نے سر ہلا کر اسکو یقین دلایا۔۔۔اور اسکے گال کو ایک ہاتھ سے پیار کریا۔۔
او کے چھوٹی ماما۔۔۔ اج سے آپ میری ماما ہے۔۔۔
ارحام نے پریشا کو پھر زور سے گلے لگا کر کہا۔۔۔
پریشا کے خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔۔۔۔
اس نے بھی اپنی باہیں اسکے گرد پھلا دی۔۔۔
چاچی او سوری ماما ا لو یو سو مچ۔۔۔
اب میں اپنے سب دوستوں کو بتاون گا کے میری ماما بھی ہے۔۔
آپ مجھ سے پیار کرتی رہے گی نا۔۔۔
ارحام نے بھرے ہوئی آواز میں پریشا سے پوچھا۔۔
جی میری جان بہت بہت زیادہ کرو گی۔۔۔ سب سے زیادہ۔۔۔
ماہم وہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
پریشا نے اسکو اپنے پاس بلایا تو وہ جھٹ سے اسکے گلے لگ گئی۔۔۔
کیا ہوا میری چندا۔۔۔
پریشا نے ماہم سے پیار سے پوچھا۔۔
کیا آپ مجھے بھی پیار کرے گی۔۔ میرے بھی تو ماما بابا نہیں۔۔۔
ماہم نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا۔۔
تو پریشا کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل ائے۔۔۔
ہاں میری گڑیا کیوں نہیں تم دونوں اب میرے لیے جان سے بڑہ کر ہو۔۔۔ اور جہاں تک پیار کرنے کی بات ہے تو اسکی تمہیں کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
شہریار یے سب کچھ کب سے دیکھ رہا تھا انکو دیکھ کر وہ بھی بولا۔۔۔
اور میں بھی تو اکیلا ہوں مجھے بھی تو پیار کی ضرورت ہے۔۔۔
اسکی آواز میں بھی دکھ تھا۔۔۔
وہ انکے قریب آیا اور ارحام کو پریشا کی گود سے اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔۔۔
ماہم بھی اسکے گلے لگ گئی۔۔۔
شہریار کے ایک طرف ارحام تھا اور دوسری طرف ماہم
پریشا بھی شہریار کی ایک طرف آکر کھڑی ہوگئی جس طرف سے اسنے ارحام اٹھیا ہوا تھا وہ اس طرف ائی۔۔۔۔۔ شہریار نے سب کو زور سے کس لیا۔۔۔
I love you my life lines…
شہریار نے ارحام اور ماہم کو بوسا دیکر کہا۔۔۔۔
سچ کہتے ہے مشکل وقت میں ہمیں ہمارے اپنوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔۔ اگر اپنے ساتھ نا ہو تو ہر کوئی فرد اپنا دکھ غم اور پریشانی لیکر اکیلے میں سسکتا رہے گا۔۔۔ پر جب سب ساتھ ہونگے تو غم بٹانے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوگا۔۔۔ اور زندگی اچھی اور پر سکون گزرے گی۔۔۔ اسی لیے ہمیں ہمیشہ یہی کوشش کرنی چاہیے کے اپنوں کی زندگیوں کو آسان بنائے اور انکے دکھ درد میں شامل رہے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡
پریشا کمرے میں آئی تو آج اتنے دنوں میں پہلی دفعہ اس نے شہریار کے کمرے میں لگے ہوئے پکچرز پر دیھان دیا۔۔۔۔۔
اسکی فیملی پک تھی سب بہت خوش تھے اس فوٹو میں۔۔
پریشا کے دل میں آیا ناجانے کس کی نظر انکو لگ گئی۔۔۔ کتنے خوش تھے۔۔ ایک پل میں سب بکھر گئے۔۔
وہ اپنی ہی خیالوں میں تھی جب پیچھے سے شہریار نے اسکی کان میں سرگوشی کی۔۔۔
کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔
پریشا نے جھٹکا کہا کر اسے سے دیکھا۔۔۔
ڈڑو مت میں ہو۔۔۔
شہریار نے آہستہ سے کہا۔۔۔
Thank you so much…
شہریار نے پھر سے اسکے کان کے آگے کہا۔۔۔
کس لیے۔۔۔
پریشا نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
اج کے لیے۔۔۔
شہریار نے ارحام اور ماہم والی بات کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔
تھینکس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔
پریشا نے نے آہستہ سے کہا۔۔
شہریار نے پریشا کا چہرا اپنی طرف کیا۔۔۔
پری بہت دونوں سے تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔
پر ہر بار تم بات کو بیچھ میں چھوڑ کر چلی جاتی ہو۔۔۔۔
شہریار سنجیدہ اور نرم لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔
اس نے پریشا کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسکو اپنے دل پر رکھ دیا۔۔۔
پریشا آج پھر سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
پر شہریار نے اسکو زور سے اپنی طرف کھینچ دیا۔۔۔
اج نہیں پری۔۔۔۔ پلیز آج مجھے کہنے دو۔۔۔ بہت انتظار کر لیا۔۔۔ اب نہیں
شہریار نے اپنا سر ہلا کر کہا۔۔
کیسے شروع کرو کہاں سے کرو۔۔ بہت کچھ بولنا چاہتا ہوں پر الفاظ نہیں چن پا رہا ہوں۔۔
پری یقین نہیں اتا۔۔ کیسے ہوگئی محبت۔۔۔ پتا بھی نا چلا۔۔
۔ماما بابا کے جانے کے بعد بہت اداس رہنے لگا تھا۔۔ ہر وقت غصہ آتا تھا۔۔ ۔۔۔ پر جب سے لاہور آیا اور تم سے ملا اس دن سے خوش رہنے لگا۔۔ ہلا کے تم پر اور تمھاری حرکت پر غصہ آتا تھا۔۔ پر گھر آکر میں خود کو فریش فیل کرتا تمھاری باتیں یاد کرکے۔۔۔۔۔
اور دل کرتا تھا ہر وقت تم میرے سامنے رہو۔۔۔ تاکے تم شرارتے کرو اور میں خوب ہنسوں۔۔۔اور ساتھ میں تم کو تنگ بھی کرتا رہوں۔ ۔
سب دوستوں سے پھر سے ملنے لگا۔۔ اور ان سے پہلے کی طرح بات کرتا۔۔۔ تو سب کہتے خیر ہے نا۔۔ کہی لاہور میں کوئی پسند تو نہیں آگئی ہے۔۔ پکا یقین ہے۔۔ کوئی تو ہے جس نے تجھے ہنسانے پر مجبور کیا ہے۔ ۔۔۔
اور میں یے کہہ کر ٹال دیتا کے ایسا کچھ نہیں ہے۔۔
اور سچی میں ایسا کچھ تھا بھی نہیں۔۔
پر نکاح جیسے مضبوط رشتے میں بندھ جانے کے بعد میں تم کو نوٹ کرنے لگا۔۔
تم سے نکاح کے بعد مجھے اپنی ذمیداروں کا احساس ہونے لگا۔۔
شاید یے رشتہ اتنی طاقت رکھتا ہے کے اللہ پاک میاں بیوی میں پیار ڈال دیتا ہے۔۔۔ اور وہ دونوں اچھے سے اپنی ذمیداریون کو سمجھنے لگتے ہے۔۔۔
ایک دن میں بھی تم پر اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔۔ مجھے خود پر یقین نہیں آ رہا تھا یے پکا نکاح جیسے پاک رشتے کی وجہ سے تھا۔۔۔۔۔ میرا دل تم کو دیکھ کر بار بار اچھل کود کرتا۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا اور سر کھجاتے ہوئے بولا۔۔
بہت دن یے بات خود سے بھی چھپائی پر چھاپا نا سکا۔۔۔ اور تمھارے پاس آگیا اپنی محبت کا اظہار کرنے۔۔
پر ہر بار تم بھاگ جاتی۔۔۔
پر آج موقعہ ملا ہے تو کہتا ہوں
Pari i love you..
I cant live without you i love you parisha… اس نے پریشا کے سر پر بوسا دیا۔۔۔ اور پھر سے کہا۔۔۔
میں تمہیں مجبور نہیں کرو گا۔۔ جب تک تم اس رشتے کو دل سے قبول نہیں کر لیتی۔۔ جب تک تم اس رشتے کو نئے سرے سے نہیں شروع کرو گی تب تک ہم اس رشتے کو اسے ہی چلاتے رہے گے جیسے چلاتے آرہے تھے۔۔۔
میں نے اپنی محبت کا اظہار کر دیا۔۔۔ تاکے تم اسکے بارے میں سوچو اور اگے بڑھنے کا فیصلہ کرو۔۔۔
میں تمھارا جواب کا انتظار کرتا رہوں گا۔۔۔
پریشا اسکی آنکھوں میں اپنی اپنی آنکھیں ڈالی ہوئی کھڑی تھی۔۔۔
شہریار کو لگا وہ بھی ابھی اظھار کردے گی۔۔
آااااااااااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار زور سے چلایا۔۔۔۔
کیونکہ پریشا اسکے پیر پر اپنا پیر مار کر واشروم کی طرف بھاگ گئی تھی۔۔۔
شہریار نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر چلایا۔۔
چڑیل۔۔۔۔جنگلی بلی ۔۔۔۔۔کہی کی۔۔۔۔
سارے موڈ کا ستیاناس کردیا۔۔۔
شہریار زور سے دہاڑا۔۔۔
پریشا نے منہ نکل کر کہا۔۔
بھوت۔۔۔۔۔۔
پہلے اظہار کرنا تو سیکھ لو۔۔۔۔ پھر کرنا اظھارے محبت۔۔۔ ایسا لگ رہا ہے کوئی اسپیچ رٹ کر آئے ہو۔۔۔
وہ پھر سے اندر چلی گئی۔۔۔
دوبارا پھر سے منہ نکل کر بولی۔۔
کسی نے تھوڑی دیر پہلے کہا تھا میری شرارتے پسند ہے بھگتو اپنے الفاظون پر۔۔۔ ۔۔۔۔
اور ہان تب تک کوششن کرتے رہو جب تک میں نا مان جاو۔۔۔اس نے پھر سے دروازہ بند کردیا۔۔۔
شہریار نے کہا۔۔۔ بیٹا کوششیں جاری رکھو گا۔۔۔
شہریار عالمگیر نے ہار ماننا نہیں سیکھا۔۔۔
اور سن لو پریشا شہریار کوششیں کرو تو ڈر کے بھاگ مت جانا۔۔۔
شہریار نے چلا کر کہا تاکے آواز باتھ روم تتک آرام سے چلی جائے۔۔۔
ارے نہیں ڈرتی پریشا شہریار۔۔۔
بس اظھارے محبت کروا کے دیکھاو۔۔۔۔۔
پریشا نے بھی باتھ روم سے چلا کر کہا۔۔۔
اور دونوں ہنس دیے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
شہریار ان سب کو ایس کریم کھلانے کے لیے آیا تھا۔۔۔
ارحام اور ماہم کے کہنے پر لونگ ڈرائیو بھی کروائی۔۔۔۔
سب اپنے اپنے کمروں میں جاکر سونے لگے۔۔۔
ارحام نے اسکو آج یے کہ کر بھیج دیا کے آرام کر لے آپ۔۔
اج میں سو جاونگا۔۔۔
وہ کمرے میں جانے سے ڈر رہی تھی۔۔ پر ہمت کر کے گئی تو پورا کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر کمرے کی روشنی جلائی۔۔۔اسکی نظر بیڈ پر گئی تو اس نے دیکھا۔۔۔
شہریار بیڈ پر الٹا منہ سویا ہوا تھا۔۔۔
پلیز لائیٹ بند کردو۔۔
مجھے نیند آ رہی ہے۔۔
وہ پریشان ہوگئی ویسے تو دیر تک جاگتا ہے آج کیا ہوگیا۔۔
خیر سوجائے۔۔۔
مجھے کیا۔۔۔
وہ لائیٹ بند کرنے لگی تو
شہریار نے کہا۔۔ کل میرے دوست آئے گے۔۔۔ شام کو تیار رہنا۔۔۔
اور پلیز کھانے کے لیے کچھ تیار کردینا۔۔۔ اپنی بیویوں کے ساتھ ائے گے۔۔
ہہہہ صرف آرڈر چلاتا ہے۔۔۔
میرے دوست آئے گے۔۔۔
وہ اسکی دل میں نکل اتارنے لگی۔۔۔ اور لائٹس بند کردی۔۔

#قسط_12_حصہ_4
#رائیٹر_ماہا_علی
#کیسے_ہوگئ_محبت
پریشا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشا۔۔۔۔۔۔۔۔ پریشا۔۔۔۔
کیا آفات آگئی ہے ۔۔ پریشا چھڑ کر بڑبڑائی۔۔۔۔۔
وہ تینوں ناشتا کر رہے تھے جب شہریار پریشا کو اپنے کمرے سے زور زور سے چلا کر بولا رہا تھا۔۔۔
بھابھی بھائی آپکو بلا رہے ہے جائیے نا۔۔۔
ماہم نے پریشا کو جانے کے لیے زور دیا۔۔۔
چھوڑو انکو کیا کرو گی۔۔۔
سب کچھ سیٹ کر کے رکھ آئی ہو۔۔
بس اب مجھے تنگ کرنے کے لیے بلا رہے ہے تم کھانا کھاو۔۔۔ورنہ دیر ہوجائے گی۔۔
پریشا نے بیزاری سے کہا۔۔۔
بھابھی جائے نا شاید ضروری کام ہو شاید۔۔۔
ماہم نے اپنے بھائی کی حمایت میں کہا تو۔۔۔
پریشا تپ گئی۔۔۔
اور دل میں بولی بھائی کی چمچی۔۔۔تم نہیں جانتی اپنے بھائی کو۔۔۔
اچھا بابا جاتی ہو تم دونوں اچھے سے ناشتہ کر کے جانا۔۔۔ ورنہ۔۔۔
پریشا نے دونوں کو دھمکی دیکر کہا۔۔۔ تو ارحام نے اسکی بات کو بیچھ میں کاٹ کر سوال کیا اور انگلی دیکھا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
ورنہ ٹانگیں توڑ دونگی ہے نا۔۔ ؟؟؟
پریشا کو اسکی بات پر ہنسی آئی پر اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپکو کنٹرول کیا۔۔۔ اور پھر سے غصے میں بولی۔۔۔
ہاں صرف کہہ نہیں رہی کرکے بھی دیکھا گی۔۔۔ ارحام کے بچے۔۔۔ اب
جلدی ناشتا کرو۔۔۔ میں آتی ہو۔۔۔
پریشا۔۔۔۔۔۔ بات سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشا۔۔۔۔۔۔۔
پریشا۔۔۔۔۔ سن رہی ہو۔۔۔۔۔
شہریار پھر سے چلایا۔۔۔
پریشا نے آنکھیں کھول کر سر کو تھام لیا۔۔۔آفففف پتا۔ نہیں کیا افت آگئی ہے۔۔۔
میں ابھی آئی وہ ماہم اور ارحام کو کہہ کر گئی تو دونوں نے زور سے قہقہ لگایا۔۔۔۔
پریشا کمرے میں گئی تو شہریار آرام سے تیار ہو رہا تھا۔۔۔
اور پھر سے چلایا پریشا۔۔۔۔ چڑیل۔۔۔
چڑیل اسنے آہستہ سے کہا اور خود ہی مسکرانے لگا۔۔۔
پریشا نے دروازے کو زور سے کھٹکتیا۔۔۔
شہریار نے اسکو پیار سے دیکھا تو پریشا نے اسکو اپنی خونخوار نظروں سے نوزا۔۔۔
شہریار نے ڈریسنگ کی طرف منہ کر دیا اور ہنس کر اپنی دونوں آبرو اوپر کر دی۔۔۔
اور پھر سے بال بنانے لگا۔۔
وہ مجھے کوٹ پہناو۔۔۔
پریشا کو حیرت ہوئی اتنی سی بات کے لیے کتنا زور سے چلا رہا تھا۔۔۔ اسا لگ رہا تھا۔۔ قبض ہوئی ہو۔۔۔
واہییات۔۔۔
ہاتھوں کی مضبوط مٹھی بنا کر اسنے خود پر قابو پا کر اسکا کوٹ لیا۔۔۔ اور شہریار کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔۔۔
پر شہریار اپنے بال بنانے میں مصروف تھا۔۔۔ جیسے اسکو دیکھ نہیں رہا ہو۔۔۔
وہ کب سے اسکے لیے کوٹ پکڑے کھڑی رہی پر اس صاحب کو کوئی فرق نہیں پرہا۔۔۔
پریشا نے زمین پر زور سے پیر مارا تاکے اسکا دیھان اپنی طرف کر سکے۔۔۔
ارے تم کھڑی تھی کیا۔۔ سوری میرا دیھان نہیں گیا تھا۔۔۔
شہریار نے بھرپور ایکٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
پریشا نے غصے سے لمبا سانس لیا۔۔۔
اور اسکو آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔ کے پہن لو۔۔۔
او ہاں۔۔
شہریار نے اسکا غصہ دیکھ کر جلدی سے کہا ۔۔۔ اور اپنا بازوں کوٹ میں ڈال دیے۔۔۔
او کے بائے۔۔۔
وہ کہہ کر چلا گیا۔۔۔
پریشا نے شکر کا سانس لیا۔۔۔
وہ اپنے کام سے ڈریسنگ میں جانے لگی ۔۔
دروازے پر ناک ہوئا اس نے دیکھا شہریار تھا۔۔۔
وہ میں اپنا موبائل بھول گیا ہو۔۔۔
شہریار بلکل سنجیدہ سے آیا اور موبائل لیکر چلا گیا۔۔۔
وہ پھر سے اپنے کام کے لیے جانے لگی۔۔
شہریار پھر سے دروازہ نوک کر کے ایا۔۔
وہ میں اپنا والیٹ بھول گیا ہو۔۔۔
وہ ڈریسنگ سے اپنا والیٹ اٹھا کر پاکیٹ میں ڈالتے ہوئے چلا گیا۔۔۔
پریشا کو اسکی بات اتنی نا گوار گزری۔۔۔
کے تیسری بار کے لیے وہ دروازے پر ٹیک لگا کر رک گئی کے اب پھر سے کچھ لینے ائگا۔۔۔
اور یہی ہوا شہریار پھر سے ایا۔۔ تو پریشا کو پاکر بولا۔۔۔
وہ میں کچھ بھول گیا ہوں۔۔۔
جی فرمائیے۔۔۔
پریشا نے بہت ہی نرمی سے پر خاصی ناگواری سے کہا۔۔۔
ہائے یے ظلم عدائے آپکی۔۔۔
شہریار نے دل پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کی اور مسکرایا۔۔۔
دیکھاو کیا ادائیں؟
پریشا نے شہریار کے سر پر آنکھوں سے اشارہ کر کے کہا۔۔۔
ہائے آپکی انہیں باتوں پر تو ہم دل ہار بیٹھے ہے ظالم۔۔۔۔
جان سے مار دونگی۔۔۔۔
پریشا چڑ کر بولی۔۔۔
ہائے ظالم ایک بار آپ ہمارے ہوجائے خود ہی آپکے قدموں میں جان دے دیں گے۔۔۔
شہریار اسکو چڑھنے کے لیے ایسی اور بھی باتیں کرنے لگا۔۔۔ جب کے اسکو خود چھچھور پن محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
چھچھور بازی سے باز نا انا۔۔۔
پریشا نے غصے سے مسکرا کر کہا۔۔۔
اپنی بیوی سے چھچھور پن نہیں محبت کی جاتی ہے ظلم۔۔۔
شہریار نے پھر سے اسکو تپایا۔۔۔
پریشا نے اپنی آنکھوں کو اوپر کے بند کیا۔۔۔ غصہ زبت کرتے ہوئے بولی۔۔۔
آفففف یے ظلم کہنا تو بند کرو زہر لگ رہے ہون۔۔۔
تو آپ کونسا شہد لگ رہی ہے۔۔۔
شہریار نے اتنی جلدی میں جواب دیا کے خود بھی پریشان ہوگیا۔۔۔
O i mean to say that…
وہ کہنے لگا۔۔ پر پریشا نے اپنے ہاتھ سے اسکو رک دیا۔۔
پلیز اب نہیں سنی جاتی آپکی بک بک۔۔
جو رہ گیا تھا وہ لے اور جائے ورنہ دیر ہو جائگی وہ دونوں بھی آپکا انتظار کر رہے ہونگے۔۔۔
اج جانے کا موڈ نہیں ہو رہا۔۔
شہریار نے پریشا کی طرح دروازے پر ٹیک لگا کر اداسی والی شکل بنا کر کہا۔۔۔
او تو رک جائے خوب خاطر تواضع کرو گی۔۔۔
پریشا نے تنزیا کہا۔۔۔
ہائے ہماری ایسی قسمت کہا۔۔
شہریار نے پریشا کے قریب ہوتے کہا۔۔ تو اسکا دل زور سے دھڑکا۔۔۔
اور کتنا ڈرما چلے گا۔۔۔ اپنا کام کرے اور جائے بھی۔۔۔
پریشا نے اسکے اگے ہاتھ جوڑے۔۔۔
ارے ہاں ضروری چیز تو لینا بھول گیا۔۔۔
شہریار نے شرارت سے کہا۔۔ تو پریشا کی آنکھیں کھول گئی۔۔۔
لے لو۔۔۔
شہریار پریشا کے قریب اکر بولا تو وہ تھوڑا پیچھے ہوگئی ۔۔۔
ہاں لے لیں۔۔۔
پریشا نے تھوڑا گھبرا کر کہا۔۔۔
لے لوں۔۔۔
شہریار نے آہستہ سے سرگوشی کی۔۔۔
ہاں ہاں لے لیں اور جائے پلیز یہاں سے
پریشا نے بیزاری سا کہا وہ بھاگنے کا سوچا رہی تھی پر یے سوچ کر رک گئی کے شہریار اسکو ڈرپوک نا بول دے۔۔ ۔۔۔
چاچوووووو۔۔۔۔۔۔
ارحام نے شہریار کو نیچے سے آواز دی۔۔۔
ہاں آیا بس۔۔۔۔
شہریار نے بھی چلا کر بیزاری سے کہا۔۔۔
شہریار نے پریشا کی طرف مسکرا کر دیکھا اور جلدی سے اسکے گال پر بوسا دیے کر ایسے بھاگا۔۔ جیسے وہ وہاں تھا ہی نہیں۔۔۔
پریشا کے ہوش ہی اُڑ گئے۔۔۔
تمھاری تو۔۔ واہییات انسان۔۔۔وہ شہریار کے پیچھے بھاگی۔۔
شیروووو کے بچے۔۔۔۔۔۔
شہریار کو بھاگتا دیکھ کر وہ پیچھے سے غصے سے بولی۔۔۔۔
اسکا بدلا تم سے سود سمیت لوگی۔۔۔
پریشا نے انگلی دیکھا کر اسکو دھمکی دی۔۔
ہائے کہی مر ہی نا جائے ظالم۔۔۔۔۔
شہریار نے مسکرا کر کہا تو وہ اور زیادہ تپ گئی اور اسکے پیچھے زور سے بھاگتی ہوئی آنے لگی۔۔۔۔۔
شہریار نے اسکو اپنے پیچھے آتا دیکھا تو۔۔۔ زور سے بھاگا۔۔۔۔
اپنی جان بچا شیری ۔۔شیرنی سے پنگا لے کر آیا ہے۔۔۔
شہریار خود کو کہنے لگا۔۔
وہ دونوں بھاگتے بھاگتے نیچے اوترے تو۔۔۔
ماہم انکو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔۔۔
ہمیں ہر وقت لڑنے سے منع کرتے ہے اور خود بچوں کی طرح لڑ رہے ہے۔۔۔
بھابھی کیا ہوا۔۔۔
ماہم نے پریشانی سے پریشا سے پوچھا۔۔۔
اج تمھارا بھائی میرے ہاتھوں سے زیا ہوجائے گا۔۔
شہریار بھاگتا ہوا ماہم کے پیچھے ٹیبل کے دوسرے طرف اگیا۔۔۔
پریشا نے ٹیبل سے چمچ اٹھایا اور ماہم۔کو ہٹ جانے کا کہا۔۔۔
ماہم معصومیت کے ساتھ ہٹنے لگی تو شہریار نے زور دیکر اسکو وہی روک دیا۔۔۔
او پاگل لڑکی بھائی کی جان بچانے کے بجائے اسکی جان خطرے میں ڈال کر بھاگ رہی ہو۔۔۔
جیسی بھابھی ڈرپوک ہر بار بھاگ جاتی تھی ویسی تم۔۔۔
شہریار نے پریشا کی پرانی بات کا ذکر کر کے کہا۔۔۔
بھابھی بھاگ جاتی تھی۔۔۔ وہ کیو۔۔۔
ماہم نے نا سمجھی سے پوچھا تو شہریار اپنی ہنسی کو دبانے لگا اور پریشا کو دیکھنے لگا۔۔ اسکے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے۔۔۔
اج تو نہیں بھاگی تھی۔۔۔اور ڈرپوک کیسے بولا۔۔۔ پریشا نے چمچ کا نشانہ بنا کر کہا۔۔۔
شہریار نے ماہم کو تھوڑا دوسری طرف کیا اور ساتھ میں خود بھی اسکے پیچھے اگیا۔۔۔
ارے پاگل لگ جائے گی۔۔
شہریار نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں باقی لگا کیو رہی ہو تاکے لگے تو میرے کلیجے کو ٹھنڈک ملے۔۔۔
پریشا نے چہرا بگاڑتے ہوئے کہا۔۔۔
چلو مان لیا نہیں ہو ڈرپوک بس خوش اب تو میری جان بخش دو۔۔۔
شہریار نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔
ارے بھابھی دیھان سے کہی میرا سر نا نا پھاڑ دے اپ۔۔۔۔
ماہم نے اپنے ہاتھوں کو کھڑا کر کے کہا جیسے کوئی چور ہو۔۔۔
ارے میری جان
پریشا کہنے لگی۔۔۔ شہریار نے اسکو بیچھ میں کاٹ کر کہا۔۔۔
جی میری جان۔۔۔
آپ تو چپ کرے اور سر توڑوانے کا انتظار کرے۔۔
پریشا نے دانت چباتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے میری جان تم کو کچھ نہیں کرو گی اسی لیے کہتی ہو ہٹ جاو۔۔
پریشا نے شہریار کی طرف نشانہ بنا کر ماہم کو کہا۔۔۔
بھابھی یے تو بتائے بھائی نے ایسا کیا کردیا جو آپ انکو مارنے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔
ماہم نے بیچارگی سے سوال کیا۔۔۔
اسکو اپنے چہرے کی فکر تھی کے کہی چمچہ اسے منہ پر لگ گیا تو اچھا بھلا چہرا خراب ہوجائے گا۔۔۔
ہاں ہاں گڑیا پوچھو اپنی بھابھی سے ایسا کیا گناہ کردیا ہے میں نے صرف ۔۔۔۔
وہ آگے بولنے لگا تو پریشا نے اسکو وہی روک دیا یے کہہ کر اپنی بکواس بند کریں ورنہ۔۔۔
شہریار کہاں باز آنے والا تھا۔۔۔ جان پر بنی ہوئی تھی پر پھر بھی شیرنی کو بار بار غصہ دلا رہا تھا۔۔۔
اب تو ضرور میرے ہاتھوں سے زیا ہوگے اپ۔۔۔۔
ماہم پریشا کا غصہ دیکھ کر بھاگ نکلی۔۔۔
پیچھے شہریار اکیلا رہ گیا۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کردیے
۔ دیکھو پلیز معاف کردو۔۔ زور سے لگے گا۔۔ شہریار نے چمچ کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔
یہی تو چاہتی ہو زور سے لگے۔۔۔ اور آپکا دماغ ٹھکانے لگے۔۔۔ پریشا دانت پیستےہوئے بولی۔۔۔
ہمیں لیٹ ہو رہا ہے اسکول سے۔۔ پری ماما پلیز اپنی لڑائی بعد میں کنٹینیو رکھیے گا۔۔۔ فل حال ہمیں جانے دیے۔۔۔
ارحام پیچھے سے چلایا۔۔۔
شہریار نے ارحام کو اپنے لیے اللہ کا بھیجا ہوئا فرشتا سمجھا۔۔۔
پریشا اسکی بات پر رک گئی اور چمچ رکھ دیا۔۔۔
اچھا صحیح ہے۔۔۔
پریشا نے ارحام کی طرف شکل بنا کر کہا۔۔۔
شہریار ڈرتا ہوا ارحام کے پاس آیا اور گلے لگا لیا۔۔۔
یار آج تو نا ہوتا تو میرا کیا ہوتا۔۔ ۔۔۔
Thank you so much…
ارے کوئی بات نہیں چاچو۔۔۔ جب جب ضرورت پڑہے آجائے گا۔۔۔
ارحام نے احسان جاتتے ہوئے کہا۔۔۔
تو شہریار نے اسکا کندہ تھپتھپیا۔۔۔
وہ سب جانے لگے تو شہریار نے سب کو روک کر سب سے کہا۔۔۔
شام ہونے سے پہلے اج گھر آجانا گڑیا۔۔۔
اور ارحام آپ اپنی دوسری کلاسس سے چھٹی لے لیجیے گا اور شام سے پہلے گھر پر ہوئے گا۔۔۔ گل شیر تم دونوں کو لینے آجائے گا۔۔۔
اور میڈم آپ کھانا تیار رکھیے گا میرے آفیس کے دوست آ رہے اپنی بیویوں کے ساتھ۔۔۔ آفیشل میٹنگ ہے۔۔۔
شہریار نے سب کو حکم دیتے ہوئے کہا
بھائی میں کیوں او آپکی آفیشل میٹنگ ہے میرا کیا کام۔۔۔۔۔
ماہم نے بیزاری سے کہا۔۔
ایک تو تم سوال بہت کرتی ہو۔۔۔ کہا نا اجانا ہے تو مطلب آجانا ہے۔۔۔
شہریار نے سخت لہجے میں کہا۔۔
اوکے چاچو میں تو اجاونگا۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔
ارحام نے بیفکری سے کہا۔۔۔
ہاں بھائی کلاسس سے جان جو چھوٹ جائے گی۔۔۔
شہریار نے اسکے دل کی بات کہہ دی تو وہ زور سے مسکرایا۔۔۔
چاچو میرے ساتھ رہ رہ کر اپ بھی جینیس ہوتے جا رہے ہے۔۔۔
شہریار نے اسکو گال پر پیار سے ہلکی چپٹ لگائی ۔۔
پریشا کب سے اسکو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ اسکو دیکھ کر مسکرایا۔۔۔
پلیز کھانا تیار رکھنا۔۔۔ 15,16 لوگ ہونگی۔۔۔
شہریار نے نرمی سے پریشا کو کہا تو اسنے شکل بنا کر منہ دوسری طرف کردیا۔۔۔
بھائی بھابھی کو کک رکھ کر دے۔۔ آخر کب تک یے اکیلی سب کچھ کرے گی۔۔۔
ماہم پریشا کے اوپر ترس کہا کر بولی۔۔۔
ہاں ہاں کہہ دیا ہے یار جیسے ہی کوئی اچھا ملا تو اپنی جان کو کام کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دونگا۔۔۔
شہریار نے پریشا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ اور جان لفظ کو آہستہ سے کہا۔۔۔
اچھا چلیں اب دیر ہو رہی ہے۔۔۔
ارحام نے ٹائیم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں چلو۔۔۔
شہریار نے دنوں کو اشارہ کیا باہر چلنے کا۔۔۔
بائے سوئیٹ مام۔۔۔
ارحام پریشا کے گلے لگا کر بولا۔۔۔۔۔
بائے میری جان۔۔۔
بائے بھابھی۔۔۔
ماہم بھی اسکے گلے لگ کر بولی۔۔۔
بائے میری جان۔۔
وہ دونوں باہر نکل گئے تو شہریار بھی اسکے قریب ایا۔۔۔
پریشا نے غصے سے اسکو دیکھا۔۔۔
مجھ سے نہیں ملو گی۔۔
پریشا نے بلی جیسی آنکھیں اسکو دکھائی تو وہ معصوم شکل بنا کر بولا ہمارے ایسے نصیب کہان۔۔
ہائے رے شہریار تیری پھوٹی قسمت۔۔
شہریار بیچارگی سے بولتا ہوئا دروازے پر جانے لگا۔۔۔
پریشا اسکے انداز پر مسکرا دی۔۔۔
شہریار نے پیچھے مڑ کر پریشا کو دیکھا تو وہ ابھی تک اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
شہریار نے پریشا کو فلائنگ کس کیا اور اسکے گال پر رکھنے کو اشارہ کیا۔۔۔
پریشا کو منہ کھل گیا کے ابھی بھی اس میں اتنی ہمت ہے۔۔
شہریار آنکھ مار کر بھاگ گیا۔۔۔
بے شرم۔۔۔ وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
اگئے۔۔۔۔ تم دونوں۔۔۔
پریشا نے ارحام اور ماہم دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔
جی ماما۔۔۔
اچھا جاو فریش ہوجائو میں نے مزے کا کھانا بنایا ہے۔۔۔
میں ابھی فریش ہوکر ایا۔۔۔
ارحام جلدی سے اپنے کمرے کی طرف گیا ۔۔
پر ماہم بولی بھابھی اسے ہی دے دیں نا پلیز۔۔۔
ہاں تاکہ سارے جراثیم تمھارے پیٹ میں چلے جائے۔۔۔
اور تم بیمار پڑھ جاو۔۔۔
چلو جاو شاباش۔۔۔ ماہم میں کچھ نہیں سنو گی۔۔۔
پریشا اسکو انگلی دیکھا کر بولی۔۔۔
اور سنو اج اچھے کپڑے پہننا۔۔۔ شام کو مہمان آرہے ہے۔۔ یاد ہے نا۔۔۔
جی بھابھی یاد ہے۔۔ پہن لونگی۔۔۔
ہمممم جاو شاباش۔۔۔
ائی بھابھی۔۔۔
ماہم تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔
ائی بھابھی کی سکی جاو۔۔۔
پریشا نے مسکرا کر کہا تو وہ اسکے گلے لگ کر اپنے کمرے میں جانے لگی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
واہ بھابھی اپنے سارے کھانے پکا لیے۔۔۔
ہاں پکا لیے ہے۔۔۔ بس جس وقت مہمان کھانا کھائے گے گرم کرکے انکو پیش کر دے گے۔۔۔۔
پریشا کب سے کیچن میں لگی ہوئی تھی۔۔
بھابھی مہمان آنے والے ہونگے آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔۔
ماہم نے پریشا کی بکھری حالت دیکھ کر کہا۔۔۔
ہاں بس جا رہی ہو تمھارے بھائی ابھی تک نہیں ائے ہے انکو کال کر کے پوچھو پلیز۔۔۔
جی بھابھی میں پوچھ لیتی ہوں آپ جب تک تیار ہوجائیے۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
پریشا کہتے ہوئے نکل گئی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: