Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 16

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 16

–**–**–

پریشا تیار ہوکر نیچے آئی تو دروازے سے آتی لڑکی کو دیکھتی رہ گئی وہ ثانیہ تھی۔۔ بلکل بدل گئی تھی۔۔ وہ بڑھ کے اسکے گلے ملی تو ثانیہ نے بھی خوشی سے اسکو گلے لگا لیا۔۔۔۔۔۔ اور پھولوں کا گل دستہ اسکو تھمایا۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو شادی کی, ویسے تو ہم تھوڑا لیٹ ہوگئے ہے پر تمھارے شوہر صاحب نے ہمیں اب جاکر بتایا تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔۔۔
ثانیہ نے اس سے شہریار کی شکایت لگائی۔۔۔
ارے اسکی ضرورت نہیں تھی۔۔
پریشا نے فرضی تور پر پھولوں کے لیے کہا۔۔ اور اسکی شکایت پر ہلک قہقہ لگایا۔۔۔
اندر چلو۔۔۔
پریشا نے اسکو اشارہ کر کے کہا۔۔۔
ہاں چلو۔۔۔
اور سناو پریشا کیسی ہو سب ٹھیک؟
ثانیہ نے اس سے سوال کیا۔۔۔
ہاں میں بلکل ٹھیک آپ سنائے۔۔۔
پریشا نے پھولوں کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے مجھے پتا ہے میں تم سے بڑی ہو اور تمھاری نند بھی ہو۔۔۔ اسکا یے مطلب نہیں کے تم فارمیلیٹیز میں پڑھ جاو اور آپ اپ کر کے بات کرو۔۔
اب تم بھی ہماری گینگ کا حصہ ہو تو تم کر کے بات کر سکتی ہو۔۔۔
ثانیہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔
پریشا نے اپنے بال کان کے پیچھے کرکے کہا۔۔۔
آپکے ہسبنڈ نہیں آئے ہے کیا۔ ۔
شہریار نے تو کہا تھا سب اپنی بیویوں کے ساتھ ائے گے۔۔۔
پریشا نے ڈرتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔
اور دل میں دعا کرنے گی یا اللہ پلیز اسکی شادی نہیں ہوئی ہو۔۔۔
پلیز پلیز میں کبھی اپنے آپ کو معاف نہیں کر پاوں گی اگر اسکی شادی فاری (فارس) سے نہیں ہوگی۔۔
ہاں میرے ہسبنڈ آتے ہی ہونگے۔۔۔ اصل میں میرے بیٹا اپنے دادی کے یہاں گیا ہوا تھا۔۔۔ تو میرے ہسبنڈ نے کہا میں اسکو لیتا ہوا آؤنگا تم چلی جانا۔۔۔
ثانیہ نے پریشا کے اوپر بم پھاڑ دیا۔۔۔
وہ بلکل رونے والی ہوگئی۔۔ اسکی شادی بھی ہوگئی بچا بھی۔۔۔
کاش میں فاری کی مدد کرلتی ان دونوں کو ملانے میں تو آج یے میرے فاری کی دلہن ہوتی ۔۔۔
سب اس شیرو کی وجہ سے اگر وہ بیچھ میں نا آتا تو یے ممکن ہوجاتا۔۔۔
پر اب کیا۔۔۔
پریشا اپنی سوچوں میں گم ہوگئی۔۔
کہاں کھو گئی پریشا۔۔۔
ثانیہ نے اسکو اپنے خیالوں میں گم دیکھا تو اسکو ہوش دلایا۔۔۔
سوری۔۔۔۔ میں ابھی آپکے لیے ٹھنڈا گرم لیکر آتی ہون۔۔۔
ارے نہیں بیٹھی رہو۔۔۔
ثانیہ نے اسکو ہاتھ سے نا جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
میں جلدی سے لیکر آتی ہو۔۔۔
ارے نہیں سب آجائے تو ساتھ مل کر کھائے گے۔۔ ابھی بیٹھ جاو۔۔۔۔
پکا۔۔۔
ہاں بابا۔۔۔ ثانیہ نے سر ہلا کر کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔
پریشا کہہ کر بیٹھ گئی۔۔۔
دروازہ پھر سے کھولا۔۔۔
میکال اندر آیا۔۔
السلام علیکم بھابھی۔۔۔
اس نے خوش مزاجی کے ساتھ پریشا سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام۔۔
پریشا نے بھی اسکے انداز میں جواب دیا ۔۔
ارے یے ڈاین آگئی ہے کیا۔۔۔
اس نے ثانیہ کو دیکھ کر کہا۔۔ تو وہ غصہ سے اسکو تکنے لگی۔۔۔
ہوگی تمھاری بیوی ڈاین۔۔۔
ثانیہ نے ناک چڑا کر جواب دیا تو پریشا اور میکال ہنس دیے۔۔
بھابھی یے گفٹس آپکے لیے۔۔۔
میکال نے اپنے ہاتھ میں لیے شاپنگ بیگس سوفے پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے اسکی کیا ضرورت تھی۔۔۔
پریشا نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے میری بھابھی آپکا حق بنتا ہے۔۔۔
میکال نے پریشا کو پیار سے کہا۔۔۔
Thank you so much…
پریشا نے دل سے شکریا کہا۔۔۔
اچھا بیٹھے میں آپکے لیے ٹھنڈا گرم لیکر آتی ہون۔۔
ارے نہیں بھابھی اسکی کوئی ضرورت نہیں۔۔ اپ بیٹھے نا۔۔۔ہمارے ساتھ۔۔۔
Hello guyssss……
حفصہ اور اذان نے ساتھ میں کہا۔۔
تینوں نے مڑ کر انکو دیکھا۔۔۔
اگیا۔۔۔ بھوکڑ انسان۔۔۔۔
میکال نے اذان سے گلے ملتے ہوئے کہا۔۔۔
تم لوگ کبھی کوئی موقع نا چھوڑنا میری عزت کا جنازہ نکالنے میں ۔۔۔
اذان نے دانت چبا چبا کر کہا۔۔۔
تیری عزت بھی ہے کیا۔۔۔
میکال نے تنزیا پر شرارت سے کہا تو۔۔۔
اذان بھڑک اٹھا رک جا میکی مائوس۔۔۔
کتنی بار منع کیا ہے میکی نا بلایا کر۔۔۔
میکال نے اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کر اسکو مروڑا۔۔۔
ابحے مارے گا کیا۔۔۔
اذان زور سے چلایا۔۔۔
ہاں مار جا۔۔ منحوس۔۔۔ زمین کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا۔۔۔۔
میکال نے غصے سے کہا۔۔۔
ہاں مار دو جان چھوٹ جائے گی۔۔۔
حفصہ نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے میکال کیا کر رہے ہو۔۔۔
پریشا نے چلا کر اسکو روکا۔۔۔
ہائے میری پیاری بھابھی۔۔۔
اذان نے آنکھوں سے جھوٹے آنسوں صاف کر کے کہا۔۔۔
ارے بھابھی آپ اس آفت کو جانتی نہیں۔۔۔ خیر آج آپکی وجہ سے چھوڑ دیتا ہو۔۔۔
میکال نے اذان کو چھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔
ہیلو پریشا۔۔۔ ان کے چکر میں ہم بھی نہیں ملے۔۔
حفصہ نے پریشا سے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔۔
پریشا نے سب کو بیٹھنے کا کہا۔۔۔ میکال اور اذان کی ابھی بھی لڑئی چل رہی تھی۔۔۔
ابھی وہ سب بیٹھے تھے کے دروازے پر لڑنے کی آوازیں انے لگی۔۔۔
پریشا نے پریشانی سے سب کو دیکھا وہ سب مسکرا رہے تھے۔۔۔
وہ اٹھ کر دروازے پر گئی۔۔۔
تو اسکو اپنی آنکھوں پر یقین نا ایا۔۔۔
جنید اور نعمان دونوں دروازے پر لڑ رہے تھے۔۔۔
اتار میری شرٹ کمینے انسان۔۔۔
احسان فراموش ہو۔۔۔
نعمان نے جنید کے گلے کو پکڑ کر اسکو دھمکی دی۔۔۔
اج تو لڑنا بند کرو۔۔۔
پریشا نے رونے والی آواز میں دونوں سے کہا۔۔۔
تو دونوں نے اپنا دھیان وہاں کیا۔۔۔
ارے میری پٹھانی۔۔۔۔۔
جنید نے خوشی سے چلاتے ہوئے پریشا کو کہا۔۔۔
پریشا مسکرا دی تو اسنے پریشا کی چوٹی کھینچی۔۔۔
آہ جونو سدہر جاو۔۔۔۔
پریشا نے تپ کر کہا۔۔۔
نہیں سدرو گا کیا کرو گی۔۔۔
پریشا نے اسکو آنکھیں دیکھا کر معصومیت سے کہا کچھ نہیں بس تمھارا کھانا بند کردو گی۔۔۔
ارے سدرھ جاونگا میری ماں کھانا بند کرنے کا ظلم نا کرنا۔۔۔
جنید نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا آگئے نا لائن پے
اچھا چلو اب اندر۔۔۔
بھائی میں بھی یہاں ہو۔۔
نعمان کب سے چپ کھڑا انکی باتیں سن کر بیزاری سے بولا۔۔۔
نومی ڈرپوک کیسے ہو۔۔۔
پریشا نے بھری ہوئی آواز میں کہا۔۔۔
ٹھیک ہو شیرنی۔۔۔ دیکھو باڈی بنا لی ہے۔۔ اب کیسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتا۔۔
نعمان نے اپنی باڈی دیکھا کر کہا۔۔۔
ارے میرا بچا کیسی سے نہیں ڈرتا ۔۔۔ ذرا ادھر آنا میرے شہزادے۔۔۔
اذان نے بیچھ میں آکر نعمان پر تنز کیا۔۔۔
ارے میں تو اپنی شیرنی کے ساتھ مذاق کر رہا تھا۔۔ مجھے لگتا ہے تم نے سریئس لے لیا۔۔۔
نعمان نے مسکرا کر کہا۔۔۔ پر اسکی مسکراہٹ میں ڈر تھا۔۔۔
وہ دونوں میکال اور اذان سے گلے ملنے لگے اور دونوں لڑکیوں کو احترام کے ساتھ سلام کیا۔۔
پریشا حیران ہوگئی۔۔۔
یے تم سب لوگوں میں کب سے اتنی دوستی ہوگئی۔۔۔
پریشا نے تعجب سے کہا۔۔۔
کانووکیشن پر ہم نے ان جونیئرس کو نہیں چھوڑا اور اپنے پاس ہی نوکر ا میں دوست بنا لیا۔۔۔
اذان نے شرارت نے کہا۔۔۔
جنید فاری نہیں آیا کیا۔۔۔
پریشا نے اداسی سے پوچھا۔۔
وہ نہیں آئے گا ۔۔
جنید نے بات کو اگنور کردیا۔۔ اور سب کے ساتھ باتوں میں لگ گیا۔۔۔
پریشا کو اپنے اپ پر بہت غصہ ایا۔۔ کے کیسی دوست ہو۔۔ کچھ نہیں کر سکی اسکے لیے۔۔۔۔
وہ انکے ساتھ بیٹھنے لگی کے اتنے میں
وانیزا اور سوہا بھی اگئی۔۔۔۔۔۔
پریشا دونوں کو دیکھ کر چلائی۔۔
اج اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانا نا تھا۔۔۔
وہ تینوں ایک ساتھ گلے لگ گئی۔۔۔ ۔۔۔
کیسی ہو کہاں تھی۔۔۔ کتنا مس کیا تمہیں۔۔۔ وانیزا پریشا کو گلے لگا کر شکوے کرنے لگی۔۔۔۔
توبہ کتنا میلو ڈرامہ کرتی ہے یے لڑکیان۔۔۔
نعمان نے سر کھجاتے ہوئے آہستہ سے کہا۔۔۔۔
آگئی اگئی۔۔۔۔
اذان نے زور زور سے تالیان بجاتے ہوئے کہا۔۔۔
سب نے اسے پوچھا کیا ہوا کون اگئی۔۔۔۔۔۔
بس ویسے ہی دل کیا تالیان بجانے کو تو بجا لی۔۔۔ اس نے بات کو گول کردیا۔۔
اور میکال کو وانیزا کی طرف اشارہ کر کے کونی ماری۔۔۔
میکال نے وانیزا کو دیکھ کر شرم کے مارے منہ نیچے کردیا۔۔۔
ہائے بے غیرت انسان عورتوں والی حرکتیں گئی نہیں تمھاری۔۔۔
اذان نے چڑھ کر میکال کے کان میں کہا۔۔تو اس نے فورن منہ اوپر کر کے اسے دیکھا۔۔۔ اور شکل بنا کر پوچھا۔۔۔ کیا کہنا چاہ رہا ہے تو۔۔۔
کتے منہ نیچے نہیں کرتے اپنی والی کو دیکھتے ہے۔۔ اور تو ہے کے۔۔۔کیا کیا سیکھانا پڑہے گا تجھے۔۔۔
اذان نے سر پیٹ کر کہا۔۔۔
ابہے او۔۔۔ مجھے نا سیکھا۔۔۔۔آنکھیں جھوکا لینے سے عورت نہیں بن جاتا اسکو کہتے ہے شرافت جو تجھ میں دور دور سے بھی نظر نہیں آتی۔۔۔
اور تو کیا مجھے سیکھائے۔۔۔ ہر لڑکی سے چھاپڑین پڑی ہے تجھے۔۔۔ انھیں حرکتوں پر۔۔۔ اگر تھوڑی بھی شرافت دیکھائی ہوتی نا تو ایک لڑکی کے پیچھے تجھے اتنے پاپڑ نہیں بیلنے پڑہتے۔۔۔
میکال نے حفصہ کی طرف اشارہ کرکے طنز سے کہا۔۔۔
ہائے میں لٹ گیا برباد ہوگیا۔۔۔
اذان نے اپنی ایکٹنگ شروع کردی۔۔۔
سب اسکو گھورنے لگے وہ اپنا سینا بھی پیٹ رہا تھا۔۔۔
اب تو حد کردی اسنے سر پیٹ کر زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔
کیا ہوگیا منحوس۔۔۔ کیون منحوسیت پھیلا رہا ہے۔۔۔
میکال نے اسکے بال کھینچ کر کہا۔۔۔
میرے ایک دوست کی شادی ہوگئی ہے دوسرا کرنے جا رہا ہے۔۔ یے دونوں بدل جائے گے میرا کیا ہوگا۔۔۔
اذان چلا چلا کر کہہ رہا تھا۔۔۔
تم جہنم میں جاکے سڑنا۔۔۔ بیکار ادمی۔۔۔
حفصہ نے اسکو جواب دیا۔۔۔
اذان شکل بنا کر اوپر سوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ ۔۔۔
بھابھی شہریار نہیں ایا۔۔۔
میکال نے پریشا سے پوچھا جو لڑکیوں سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔۔
ہائے پاگل انسان عورتیں جب بات کر رہی ہو تو ان سے بیچ میں کوئی بات نہیں پوچھتے ہے۔۔
اذان نے میکال کے کان میں کہا۔۔۔
ہاں یار صحیح کہہ رہا ہے اگر انکو کوئی بیچھ میں کاٹ دے تو کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔۔۔
اب جنید بولا۔۔۔
ہاں بھائی اور پریشا کو تو جانتا ہے, اب تو تیری بینڈ بجے گی۔۔۔
نعمان نے بھی میکال کو ڈرایا۔۔۔
وہ تینوں میکال کو بیوقوف بنا کر اپنی ہنسی کو کنٹرول کر رہے تھے۔۔
پتا نہیں آتے ہونگے۔۔۔ پریشا نے جواب دے کر اپنی جان چھوڑ وائی۔۔
اچھا۔۔۔
میکال انکی باتوں سے واقعی ڈر گیا کے کہی کچھ کر نا دے۔۔۔
پریشا کے جواب دینے پر اسکی جان ہلک میں اگئی تھی۔۔ پر پریشا نے آہستہ سے کہا تو اسنے شکر کا سانس لیا۔۔۔
تو سب لڑکے اس پر ہنسنے لگے۔۔
اور وہ غصہ میں دانت پیستا رہا۔۔
لو جی شیطان کا نام لیا جائے اور وہ آئے نا ناممکن۔۔۔
اذان نے شہریار کو آتا دیکھ کر سب دوستوں کو اسکی طرف متوجہ کیا۔۔۔
شہریار نے آتے ہی کوٹ اور لیپ ٹاپ کا بیگ پریشا کو تھمایا۔۔۔
شہریار نے سب دوستوں پر نظر ڈالی اور سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
میں نے تو ایجنسی کو کہا تھا۔۔ ایک یا دو ملازم بھیجیے گا گھر کے کام کے لیے پر لگتا ہے انھوں نے سارے ملازم بھیج دیے ہے۔۔۔
سب اسکی بات پر قہقہ لگائے بنا نا رہ سکے۔۔۔
سدرہ جا۔۔۔ کمینے انسان۔۔۔
میکال نے گلے لگ کر اسکو کان میں کہا تو اس نے قہقہ لگایا۔۔۔
سب لڑکوں سے مل کر اس نے لڑکیوں کو کہا۔۔
السلام علیکم۔۔۔ چڑیلون۔۔۔۔
وعلیکم السلام بھوت حفصہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
اسکی بات پر شہریار نے مکا بنا کر آہستہ سے اسکے منہ پے مارا اور مسکرایا۔۔۔
پری پلیز پانی پلا دنا۔۔
شہریار نے تھکے ہوئے لہجے میں پریشا سے کہا۔۔۔
جی ابھی لائی۔۔۔
پریشا فرمانبردار کے ساتھ پانی لینے چلی گئی۔۔۔
ہائے۔۔۔ پری۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔
کوئی تو مجھے سنبھالو کہی میں مر نا جاون۔۔۔
اذان قہقہ لگا کر ہنستے ہنستے صوفے پر گر گیا۔۔۔
پری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔
ارے پری نہیں جانو ہوگی اب تو۔۔۔
میکال نے بھی اذان کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔۔۔
بس کر دو کیو حرام خوریون پر اتر آئے ہو۔۔
شہریار نے چڑھ کر کہا۔۔۔
ہائے ری ہماری قسمت ابھی دوست کی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہے۔۔ ابھی سے بدل گیا ہے۔۔۔ میرا کیا بناے گا۔۔۔
میکال ہر بار کی طرح آج بھی اپنے انڈین ڈرامہ پر اتر آیا تھا۔۔۔
ویسے حرام خوریان یے کر رہے ہے یا تم نے کی ہے۔۔
حفصہ نے غصہ میں پوچھا ۔۔
میری ماں معاف کردو۔۔۔ اور کتنی دفعہ مجھے شادی پر نا بلانے کے تعنے سننے کو ملے گے۔۔۔
شہریار نے پہلے حفصہ کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑے پھر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے۔۔ ۔۔۔
شاندار ڈنر کروا دو پھر طعنہ نہیں دے گے۔۔۔ قسم سے۔۔
جنید نے بھکاریوں کی طرح کہا تو اذان نے بھی اسکا ساتھ دیکر کہا۔۔۔ صحیح کہا اس موچی نے۔۔ اچھا سا ڈنر کروا اور اپنی جان بخشوا۔۔۔
شہریار نے جنید کو چبا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔۔
ابحے تو میرے ہاتھوں سے زیا نا ہوجاو۔۔۔
وہ اسکا گلا دبانے کے لیے آگے بڑھا۔۔۔ اور اذان کو دھمکی دی رک تو پہلے اسے دیکھ لو پھر تجھے کتو کے ساتھ کھلاتا ہو۔۔۔
پریشا نے شہریار کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
کیا کر رہے ہے بھائی ہے میرا۔۔۔
پریشا نے اداسی سے کہا۔۔۔
لو جی اب تو پتھر پر لکیر ہے۔۔اب شہریار کی ہمت نا ہوگی بھابھی کے بھائی کو ہاتھ لگانے کی ورنہ بھابھی اسکی ایسی دھلائی کرے گی۔۔
اذان نے تالی بجا کر سنجیدہ انداز میں کہا۔۔۔
تو سب نے قہقہ لگایا۔۔۔۔۔
تو رک تجھے میں بتاتا ہون۔۔۔
شہریار نے پریشا سے پانی کا گلاس لیکر اذان کو دھمکی دی۔۔۔
وہ ایک ہی سانس میں پانی پی گیا۔۔۔
اپنی ٹائے کو ڈھیلا کر کے اذان کی طرف بڑھا۔۔۔
تجھے اچھا سا ڈنر چاہیے نا؟
شہریار نے اسکے گلے کو پکڑ کر کہا۔۔۔
یار نارض نا ہو۔۔۔ میں نے تو اس جنید کے کہنے پر کہا۔۔۔
وہ جنید کی طرف جانے لگا۔۔۔
ارے خدا کا خوف کر بھائی۔۔۔
میرا نام لے رہا ہے تمہاری عقل کیا گھاس چڑھنے گئی ہے۔۔۔ جو میں نے کہا۔۔ تو وہ دہراتا گیا۔۔۔ جنید نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔۔۔
ابحے تو دو دن کا چھوٹا سا چوزا جو میرے ہاتھوں میں پلا ہے وہ مجھے کہہ رہا ہے کے میری عقل گھاس چڑنے گئی ہے۔۔۔
شہریار سن تیرے بھائی کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے ۔۔
اذان نے بھی بات سے بات بنا ڈالی اور شہریار جو اس پر تپا ہوا تھا اب جنید کے پاس ایا۔۔۔ میکال بھی اسکے سر پر کھڑا ہوگیا۔۔۔ اذان بھی اپنا کالر سیٹ کر کے جنید کے اوپر کھڑا ہوگیا۔۔۔ تینوں نے مل کر بیچارے جنید کو گھیر لیا۔۔
کیا بول رہا تھا بے۔۔۔
اب بول۔۔۔
اذان نے جنید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔
او ئے نعمان بھائی مجھے بچا لے ورنہ آج تیرا بھائی گیا۔۔۔
جنید نے سوفے پر بیٹھے نعمان کو ہاتھ مار کر بلایا۔۔۔
تو کون ہے میں تجھے نہیں جانتا۔ ۔
نعمان اپنی جان بچانے کے لیے اسکو پہچانے سے پھر گیا۔۔۔۔
اے پٹھانی اپنے شوہر کو روک نا۔۔ کیا ہوگیا ہے شادی کے بعد شیرنی سے بھیگی بلی کیوں بن گئی ہو۔۔۔
جنید نے چلا کر پریشا کو کہا۔۔۔
شہریار پلیز چھوڑ دے نا۔۔۔
کیون بیچارے کو تنگ کر رہے ہے۔۔۔
پریشا نے نرمی سے کہا تو شہریار مڑ کر غور سے اسے تکنے لگا اور سوچنے لگا یے وہی چڑیل ہے یا مجھے غلط فہمی ہو رہی ہے۔۔ اتنے پیار سے اور تمیز سے بات کر رہی ہے۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہے پلیز چھوڑ دے نا۔۔
پریشا کے روئیے سے سب پریشان تھے۔۔۔ انکو یونیورسٹی والی پریشا یاد تھی جو شہریار کی ناک میں دم کر دیتی تھی۔۔۔ اور اس سے کبھی تمیز سے بات تو کیا۔۔۔ آہستہ بھی بات نہیں کرتی اور اج اتنے احترام کے ساتھ بات کر رہی تھی۔۔۔ اذان کے تو ہوش اڑ گئے وہ سدمے سے بولا۔۔۔
یا اللہ یے کیا دیکھ رہا ہوں کیا سن رہا ہوں میں شہریار کے لیے میں نے دعا کی تھی کے اسکی بیوی اس کا جینا حرام کر دے۔۔ تاکے میرے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کے حساب لے سکے۔۔ پر اللہ یہاں تو الٹا ہوگیا اسکی بیوی تو آپ کر کے بات رہی ہے۔۔ یے سن سے پہلے مر کیوں نہیں گیا۔۔۔
یا اللہ میں نہیں میں تو میکال کی بات کر رہا تھا یے مرے مجھے تو ابھی شادی بھی کرنی ہے۔۔۔
اذان نے میکال کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔
میکال جو اسکی باتوں سے مزے لے رہا تھا اچانک اسکی بات سن کر ہوش میں ایا۔۔۔
خدا کرے تیری شادی نا ہو منحوس بے غیرت۔۔۔
مجھے کیوں مارنے کی بدعائیں دے رہا ہے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہون۔۔۔
میکال نے اسکے سر پر تھپڑین مار کر کہا۔۔۔
اللہ نا کرے میری شادی نا ہوں۔۔۔
گندی شکل والے۔۔۔۔
اور تو اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے تبھی میں کہو ایسا کیوں ہے۔ ۔۔ پکا انکو کسی کی بددعا لگی ہوگی۔۔۔ جو تو پیدا ہوگیا۔۔۔
سب نے مل کر اذان کی بات پر قہقہ لگایا۔۔ اور میکال کی عزت کا فالودہ بن گیا۔۔۔۔۔۔
بہت ہنسی آ رہی ہے نا۔۔ میں بتاتا ہو۔۔۔ میکال نے اپنی غصے کی آگ نعمان سے نکالی۔۔۔ وہ بیچارہ صدمے میں اگیا۔۔۔ میں نے کیا کیا۔۔۔
بتاتا ہون۔۔۔
وہ سب ایک دوسرے کا ہشر نشر کرنے لگے۔۔۔
شہریار جنید کو چھوڑ کر اگیا اور۔ پریشا سے کہا خیر ہے اتنی عزت افزائی۔۔ بات حزم نہیں ہو رہی۔۔ پریشا نے غصے سے اسکو دیکھا۔۔ تو اس نے بات بدل دی اچھا یے بتاو ماہم اور ارحام کہاں ہے۔۔۔؟؟؟
جی میں انکو بلا کر لتی ہو۔۔
شہریار پھر سے پریشان ہوگیا۔۔۔ سورج کہاں سے نکالا ہے۔۔۔ وہ سوچ میں پڑھ گیا۔۔۔
پریشا دونوں کے کمرے میں جاتی تو کیا دیکھتی۔۔ دونوں کان میں ہیندس فری لگائے موبائل میں اندھے لگے پڑہے تھے۔۔۔
یا اللہ یے کیا حالت بنا رکھی اٹھو ۔۔۔ باہر مہمان آگئے ہے ان سے آکر ملو۔۔۔
ارحام نے کہا۔۔ ہمیں تو پتا بھی نہیں چلا۔۔۔
شاباش ہے۔۔۔ کانوں میں یے ڈالے ہوئے ہونگے تو دنیا جھان کی آوازیں کہاں سنائی دے گی۔۔۔
چلو جلدی۔۔۔ فریش ہوکر او میں جا رہی ہون۔۔
Ok bhabhi…
ماہم نے سلیوٹ کر کے کہا۔۔۔
پاگل۔۔۔
پریشا مسکرا کر باہر ائی۔۔۔
سامنے آتے فارس کو دیکھ کر وہ دھنگ رہ گئی۔۔۔
وہ شہریار کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔
فاری۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔ وہ پھر سے اداس پر خوشی سے بھرپور آواز میں بولی۔۔۔
بلکل ٹھیک ہماری شیرنی۔۔۔
تم سناو۔۔۔
بلکل ٹھیک ۔۔۔ یے کون ہے؟
پریشا نے اسکے ہاتھ میں بچہ دیکھ کر حیرت سے سوال کیا۔۔
یے میرا بیٹا آریان۔۔۔۔
کیا تم نے شادی کر لی۔۔۔؟
پریشا کا حیرت کا منہ کھولا رہ گیا۔۔۔
نہیں بچا چوری کرکے لیا ہے۔۔۔۔
جنید نے چلا کر کہا۔۔۔
افف تم تو چپ رہو ہر وقت سستے جوکس مارنا بس۔۔۔
پریشا نے اسکو ہاتھ سے اشارہ کر کے چپ کرویا۔۔۔
ہاں کر لی شادی۔۔۔
فارس نے مسکرا کر کہا۔۔۔
کس سے؟؟
لڑکی سی۔۔۔
اب نعمان بولا۔۔
یا اللہ۔۔۔
پریشا نے غصے سے مٹھیاں بند کی۔۔۔
Sorry sorry… continue rakho..
نعمان نے اسکا لال پڑھتا چہرہ دیکھا تو ٹائیم زیا کیے بنا بولا ورنہ وہ اسکی چمڑی ادھیڑ دیتی۔۔۔
بولو فاری۔۔۔ کس سے کی ہے؟ لے کر کیوں نہیں ائے اسکو؟
پریشا نے تجسس سے پوچھا؟؟
کیا اسکی محبت اتنی ہی تھی کے ثانیہ کو بلا کر دوسری سے شادی کر دی۔۔۔ ڈرپوک کی کا۔۔۔
پریشا نے دل میں فارس کو مخاطب ہوکر کہا۔۔۔
لیکر نہیں آ سکا اسکو پہلے بھیج دیا تھا۔۔۔
فارس نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا تو وہ اور پریشان ہوگئی۔۔
کیا کہنا چاہتے ہو۔۔ صحیح بتاو۔۔
یار کیوں میری بیوی کو تنگ کر رہے ہو۔۔۔ بتا دو۔۔۔
شہریار سے پریشا کی پریشانی والی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی اس لیے جلدی سے بولا۔۔۔
یے تو دیکھیں ۔۔۔ ذرا گھور کیجیے گا ۔۔ بیوی کی کتنی فکر ہو رہی ہے۔۔اللہ جی۔۔
اذان پھر سے بولا۔۔۔۔
تو چپ رہے کیڑے۔۔۔شہریار نے ڈانٹ کر اذان کو چپ کروا دیا۔۔
ہنہ۔۔ جوڑوں کا غلام سالا۔۔۔۔
اذان غصے سے بڑبڑایا۔۔۔
ثانیہ میری بیوی ہے۔۔۔
فارس نے آنکھیں بند کر کے کہا اسکو پتا تھا پریشا پاگل ضرور چلائے گی۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔ سچی۔۔۔
اور واقعی وہ خوشی سے چلائی۔۔۔
ہاں۔۔۔
فارس نے سر ہلا کر کہا۔۔۔
یے تم دونوں کا
O i cant believe this…
تمہیں پتا نہیں مجھے کتنی خوشی ہو رہی۔۔۔
پریشا نے اپنے منہ پر رکھا۔۔۔
پر یے ہوا کیسے۔۔۔؟؟ پریشا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
شہریار اور ہم سب کو پتا تھا۔۔۔ کے یے چوچا ( فارس ) ثانیہ میں انٹرسٹید ہے۔۔۔ میکال نے فارس کے کندھے پر تھپکی مار کر بتایا۔۔۔
پھر؟ پریشا نے سوال کیا۔۔۔
پھر کیا؟ ہم نے اسکو بہت آزمایا۔۔۔ پکنک پر اسکو اتنا ستایا پر یے بے چارہ خاموش رہا۔۔۔ اور ہمارا دل جیت بیٹھا شہریار نے میکال اور اذان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور پھر ہم نے کانوکیشن پر ان دونوں کو ملا دیا۔۔۔ باقی اسکے بعد جو پاپڑ ہم نے بیلے انکی فیملیوں کو ماننے میں توبہ۔۔ بہت حالت ہوئی۔۔
میکال نے سر سے پسینے صاف کرنے کی ایکٹنگ کی۔۔ تو سب ہنس دیے۔۔۔
کیا کیا پاپڑ بیلے مجھے بھی بتاون نا پلیز۔۔۔
پریشا نے التجا سے پوچھا۔۔۔۔۔
ارے وہ اپنے میاں سے پوچھ لینا۔۔ سارے کارنامے اسی کے ہے۔۔۔
جنید نے آنکھ مار کہا۔۔۔
اچھا صحیح ہے۔۔ پریشا نے ایکسائیٹید ہوتے کہا۔۔۔
میرا بیبی او میرے پاس۔۔۔
پریشا نے فارس کی گود سے اس پیارے سے گولوں مولو بچے کو اپنے پاس بلایا۔۔۔
پر اسنے چہرا دوسری طرف کر دیا۔۔۔
یے کیا میں تمھاری پھوپھو لگتی ہوں اور مجھ سے ہی ڈرامے۔۔۔
پریشا نے اداسی کے ساتھ کہا۔۔۔
ارے تم اسکی پھوپھو بھی ہو اور مامی بھی۔۔۔
ثانیہ کے کہنے پر سب نے اسکو دیکھا۔۔۔۔
وہ کیسے؟
اذان نے تجسس سے پوچھا۔۔۔
وہ ایسے شہریار میرا بھائی ہے تو وہ میرے بیٹے کو ماموں ہوا۔۔۔ اسکی بیوی مامی ہوئی ۔۔۔
اور پریشا فارس کی بہن ہے تو میرے بیٹے کی پھوپھو لگی۔۔۔ اور اسکا شوہر اسکا پھوپھا۔۔۔۔
ثانیہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا کیا کیا؟ دوبارہ بتانا۔۔۔ مامی تک سمجھ ایا۔۔۔آگے کیا۔۔۔؟؟؟
اذان کو اسکی ایک بات پلے نا پرہی۔۔۔
رہنے دے بھائی تیرے بس کی بات نہیں۔۔۔
میکال نے اذان کو کندھے پر افسوس کے ساتھ تھپکی مارتے ہوئے کہا ۔۔۔
تو یے مجھے کیا کہہ کر پکارے گا۔۔۔
پریشا نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
پھوپھو بلائے گا۔۔۔
نعمان نے کہا۔۔۔
ایسے کیسے یے شہریار کی بیوی ہے تو مامی بلائے گا۔۔۔
اذان نے اسکی گردن کو پکڑ کر کہا۔۔۔
ہاں صحیح کہا۔۔۔ مامی بلائے گا۔۔
حفصہ بھی چلائی۔۔۔۔
ارے تم لوگوں کی مرضی نہیں چلے گی۔۔۔ پھوپھو بلائے گا۔۔۔
سوہا نے حفصہ کو آنکھیں دیکھا کر کہا۔۔۔
یے آنکھیں کس کو دیکھائی۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ائیندا دیکھائی تو آنکھیں نکال کر انکے ساتھ گوٹیان کھلو گی۔۔۔۔
حفصہ کہاں چپ رہنے والی تھی۔۔۔
اللہ سوہا تمہیں کیسی دھمکیاں دے رہی ہے تمھاری پیاری آنکھوں سے گوٹیان کھیلے گی۔۔۔
جنید نے جان بوجھ کر زیادہ آگ لگائی۔۔۔
ارے جاو جاو۔۔۔ اتنی ہمت کہاں تم میں۔۔
پریشا کے دوست اور شہریار کی گینگ کی ایسی جھنگ چھڑ گئی۔۔۔
ایک کہتے پھوپھو بلائے گا۔۔ دوسرے کہتے مامی۔۔۔یہاں تک کے بچے کے ماں باپ بھی لڑنے لگے۔۔۔
شہریار اور پریشا صرف دونوں ٹیموں کو آنکھیں اٹھا کر دیکھ رہے تھے۔۔۔ اور سوچ رہے تھے ساری اگ ہم دونوں کی لگائی ہوئی ہے نا وہ دونوں لڑا کرتے نا آج یے سب ایسے لڑتے۔۔۔۔۔
بس کرو۔۔۔۔۔۔
پریشا چلائی۔۔۔
کیا ہوگیا ہے یار کیوں کتوں کی طرح لڑ رہے ہو۔۔۔ جو بچے کو بولنا ہوگا بڑا ہوکر خود ہی ڈیسائیڈ کر لے گا تم لوگوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔
شہریار نے سر پکڑ کر کہا تو وہ سب برئے منہ بنا کر چپ ہوگئے ۔۔
انکا پیٹ ابھی بھی نہیں بھرا تھا۔۔۔
بیبی کا نام کیا ہے۔۔۔
پریشا نے فارس سے پوچھا۔۔۔
آریان۔۔
ماشااللہ میرا بچا۔۔۔ پریشا نے قربان ہوتے کہا۔۔
او میلے بچے۔۔۔
وہ پریشا کے پاس نا گیا بلکے سامنے کھڑے شہریار کو مسکرا مسکرا دیکھنے لگا۔۔۔
شہریار نے اپنے ہاتھ سے خود کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔میرے پاس آنا چاہتا ہے اس نے بچے آگے ہاتھ پھیلائے تو جھٹ سے اسکی گود میں اگیا۔۔ ۔
ماموں کی جان۔۔۔ شہریار نے اسکے گل پر بوسا دے کر کہا۔۔
اس سڑے کے پاس جا رہے ہو باقی میرے پاس نہیں۔۔ ماموں کا چمچا۔۔۔
پریشا نے چھوٹے سے اریان کو آہستہ سے کہا۔۔۔۔ اصل میں وہ شہریار کو سنوانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
شہریار نے مسکرا کر اسکی ناک کھینچی۔۔۔
بندریا۔۔۔
فارس ثانیہ کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا تو اذان نے شکل بنا کر کہا۔۔
اگیا دوسرا جوڑو کا غلام۔۔۔۔
کتنا جلتے ہو توبہ ہے۔۔۔
ثانیہ نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر توبہ توبہ کر کے کہا۔۔۔
جلتا ولتا نہیں ہو سچ بیان کر رہا ہو, اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ سکتا تھا پر نا جی بیوی کے پہلو میں جاکر چھپ گیا ہے ۔۔ ہنہ
اذان نے چیڑ کر کہا۔۔۔
ہاں ہاں تمہاری شادی ہوگی تو دیکھ لونگی۔۔ کیسے بیوی کے مرشد بنے پھرو گے۔۔۔
ثانیہ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کہا۔۔۔ تو سب نے اذان کی بے عزتی پر قہقہ لگا۔۔۔
ارے مرشد تو بعد میں بنے گا۔۔۔
پہلے لڑکی کو تو منا لے۔۔۔ وہ تو گھاس بھی نہیں ڈالتی ہے۔۔۔
میکال نے اذان کا مذاق بنا کر حفصہ کو دیکھا۔۔۔
ارے پاگل مرتی ہے مجھے پر بس شرماتی ہے۔۔۔
اذان نے شرماتے ہوئے سامنے بیٹھی حفصہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔
حفصہ جو پانی پی رہی تھی۔۔۔ سارا پانی اذان کے منہ پر پھوک دیا۔۔۔۔
اذان تو ہکا بکا رہ گیا۔۔۔
باقی سب کی بھی آنکھیں پھٹ گئی۔۔۔۔
پر پریشا کو بہت زور سے ہنسی آ رہی تھی اس نے خود پر قابو پانے کے لیے اپنے منہ پر زور سے ہاتھ رکھ ۔۔۔
پر پھر بھی ہنسنے کی ہلکی ہلکی آوازیں نکلی۔۔ سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تو۔۔۔۔ اسکا زور سے قہقہ نکل گیا۔۔ ۔۔ جس پر سب نے مل کر قہقہ لگایا۔۔۔۔۔
So sorry Azaan…
پر تم کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیےتھی ۔۔۔۔ آخر سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو نہیں مرتی میں تم پر کتنی دفعہ بتاون۔۔
حفصہ نے پہلے نرم مزاجی سے پھر غصے سے چلا کر اذان کی ٹکا ٹکا کر بے عزتی کی۔۔۔
میکال اور شہریار بھی اسکی برائی کر رہے اور حفصہ کو اکسا رہے تھے۔۔۔ حفصہ اور تپ گئی۔۔۔
اج ساری بھڑاس اس نے نکل دی۔۔۔
سارے لڑکے خوب مزے لے رہے تھے۔۔ اور اذان کی ہوا نکل گئی۔۔۔
ارے بھائی کنورا ہی ٹھیک ہے شادی کی بعد ذلالت بھری زندگی ہے۔۔
میکال نے اذان کو افسوس سے کہا۔۔۔
کمینے انسان خود وہ شیری شادی کر کے بیٹھا ہے اور تو کرنے جا رہا ہے اور مجھے نا کرنے کے مشورے دے رہا ہے۔۔۔
فٹے منہ تیرا۔۔۔
کچھ بھی ہوجائے سنگل نہیں مرو گا۔۔۔
حفصہ مان جائے گی دیکھنا ایک دن خود آئے گی میرے پاس اور کہے گی مجھ سے شادی کر لو۔۔۔
اذان نے ایک سانس میں سب کہہ دیا۔۔۔
ارے مجھے کیا پاگل کتے نے کٹا ہے جو تم جیسے نکارا انسان سے شادی کرو۔۔۔
حفصہ نے تپ کر کہا۔۔۔
ہاں حفصہ یے پاگل پن کبھی مت کرنا۔۔۔
ثانیہ نے حفصہ کو ہاتھ مار کر کہا۔۔۔۔
ابہے او فارس سمجھا دے اپنی بیوی کو ورنہ بھری جوانی میں رنڈوا نا کردو تجھے۔۔۔
اذان نے فارس کو انگلی دیکھا کر غصے سے کہا۔۔۔
چل کوئی نہیں مار دے ہم فارس کی دوسری شادی کروا دے گے۔۔۔
فارس کے بجائے جنید نے کہا۔۔۔
ابہے تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے بارے میں کہنے کی۔۔۔۔۔ اور اسکی جگا تو دوسری لڑکی لائے گا۔۔ یہاں ایک نہیں مل رہی اور یے چوزا (فارس) دو دو کرئے گا۔۔
اذان پہلے جنید پر بھڑکا پھر اپنی شادی کو لیکر اداس ہوگیا۔۔۔
ہائے میرے بھائی تو مجھ سے اتنا پیار کرتا ہے۔۔۔
ثانیہ نے پیار سے اسے پوچھا ۔۔
آکھ تھو۔۔۔ یے کس منحوس نے کہہ دیا تمہیں؟ جاو بہن غلط فہمی ہوئی ہے تمہیں۔۔۔ میں تو بس اس جنید کو ویسے ہی کہہ رہا تھا۔۔
اذان نے ہاتھ جوڑ کر گندی شکل بنا کر ثانیہ کو کہا۔۔۔
کیڑے پڑہے تمہیں۔۔۔ اگھھھھ۔۔۔۔
ثانیہ کا بس نہیں چل رہا تھا آج اذان کو زمین میں زندہ دفن کردیتی۔۔۔
پریشا کو اذان کی باتوں پر بہت ہنسی آ رہی تھی۔۔۔ اس نے اذان کو کہا۔۔۔
Azaan you are so funny…
ہنسا ہنسا کے پیٹ میں درد کروا دیا۔۔۔
آفففف۔۔۔۔۔
اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
اذان پریشا کے آگے آکر رکا اور اپنا ہاتھ اسکے اگے کر دیا ۔۔۔
چلیں بھابھی جی۔۔۔ دیجیے پھر ۔۔۔
پریشا نا سمجھی سے اسکو دیکھتی ہے ۔۔۔ اور پوچھتی ہے کیا دو؟
پیسے۔۔۔ اذان نے آہستہ سے کہا۔۔
وہ کیوں؟ پریشا سوچتے ہوئے بولی ۔۔۔
اپنے کہا کے میں نے آپکو بہت ہنسایا ہے اس لیے پیسے دے میں کوئی بھی کام مفت میں نہیں کرتا۔۔۔
اذان بے شرم ہونے کے پورے رکارڈ توڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ابہے شرم نہیں تجھے؟
میکال نے اذان کو پیچھے سے کہا۔۔
نہیں۔۔۔
اذان نے آرام سے کہا۔۔ اور چڑھانے والی شکل بنائی۔۔
ڈوب مار بے حیا ادمی۔۔۔
میکال نے اسکو لات مار کر کہا۔۔۔
ظالم انسان آہستہ مارا کر۔۔۔۔
اذان نے میکال کو غصے کہا۔۔۔
آہستہ مارو گا تو لگے گا کیسے۔ ۔
میکال نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
چلیں بھابھی اور کتنا انتظار کروائے گی۔۔
اذان دوبارہ پریشا کی طرف مڑا۔۔۔
ابھی تک تیری بھکاریوں والی عادت گئی نہیں۔۔ بھکاری کہی کے۔ ۔۔
شہریار نے افسوس کے ساتھ کہا۔۔۔
لو جی جو خود بھکاری ہے وہ مجھے بول رہا ہے۔۔۔
اذان نے دھبے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔
کیا بول رہا ہے تو ہاں ۔۔۔ اور بھکاری کس سے کہا۔۔۔
شہریار نے آبرو اوپر کر کے غصے سے کہا۔۔۔
ابحے یار دیکھ مجھے ڈرانے کی نا کر۔۔۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔۔۔
اذان خود کو مضبوط دیکھا رہا تھا پر اصل میں اسکی جان نکل رہی تھی۔۔۔ شہریار کی غصے سے بھری آنکھیں دیکھ کر۔۔۔
ہاں بول نا کس کو بیکھاری کہا تو نے۔۔۔
شہریار نے پھر سے اسے سوال کیا۔۔۔
تم دونوں سے بڑا بیکھاری کون ہوسکتا ہے بھلا۔۔۔
اذان نے اب میکال کو بھی شامل کردیا۔۔
جو آرام سے بیٹھا انتظار کر رہا تھا کے شہریار اذان کی کوٹ لگائے گا۔۔۔
بیکھاری سنتے ہی وہ ایسے اٹھا جیسے اسکو کرنٹ لگا۔۔۔
اس نے اذان کا کلر پکڑا۔۔۔
کس کو بیکھاری کہا۔۔۔ واہییات انسان۔۔۔ ہر بات میں مجھے کیوں گھسیٹ رہا۔۔۔ نامراد ۔۔۔۔ میکال چلایا۔۔۔
بیکھاری تم دونوں۔۔۔بیکھاریون کو بیکھاری نہیں بلاو گا تو کیا رئیس بلاوگا۔۔۔
اذان نے ہمت کر کے کہا اور اپنا کالر میکال سے چھوڑویا۔۔۔
کیون بہے دونوں کو یاد نہیں یونیورسٹی کے دور میں جب کبھی ڈنر کرنے کسی ریسٹورنٹ چلتے تھے تم دونوں فقیر ایک روپیہ نہیں لاتے تھے۔۔
اور سارا بل مجھے بھرنا پڑتا تھا۔۔
اذان نے فخر سے کہا۔۔۔
ہاں تو کون سا ہمارے باپ پر احسان کرتے تھے۔۔
میکال نے شرمندگی کو چھپانے کے لیے کہا۔۔
اور اگر کبھی نکال بھی دیے تو قیامت تو نہیں آ جانی تھی نا۔۔۔ دوست ہے تو ہمارا۔۔ اتنا بھی نہیں کرسکتا ہے۔۔
شہریار نے بھی میکال کا ساتھ دیا۔۔
ہائے شہریار خدا کا خوف کر بہے۔۔۔
تو بات کر رہا ہے کبھی کی ارے احسان فراموش ہر زور نکالتا تھا۔۔۔
بھوکے بیکھاری۔۔۔
اج اذان کی باری تھی اور وہ دونون چپ ہوگئے تھے۔۔ ورنہ ان دونوں کے اندر ایسی بات چھپی تھی جو اذان کو دو کوڑی کا کر سکتی تھی ساتھ میں شہریار اور میکال کو بھی۔۔ اسی لیے ان کا بھانڈا نا پھوٹے اذان کو برداشت کر رہے تھے۔۔۔
وہ بار بار انکو بیکھاری کہہ کر بولتا اور وہ دونوں غصہ ضبط کر کے اس سے سن رہے تھے۔۔۔۔۔۔
بس کر نا بے۔۔۔ کیو اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے۔۔
میکال نے تپ کر کہا۔۔۔
چل بے بیکھاری۔۔۔ میں تم جیسے بیکھاریون سے بات نہیں کرتا۔۔۔
ارے انکو کیا بیکھاری بولتے ہو۔۔۔
تم تینوں ہی سب سے بڑے بیکھاری ہو۔۔۔
حفصہ نے انکی بات میں حصہ ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
شہریار اور میکال ناچنے لگے۔۔۔
بےعزتی بے عزتی۔۔۔ اذان کی بے عزتی۔۔۔
ساتھ گانا بھی گانے لگے۔۔۔
ارے حرام کھوروں صرف مجھے نہیں کہا تم دونوں کو بھی کہا ہے۔۔
وہ دونوں بھی چپ ہوگئے اور پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر حفصہ کو دیکھا۔۔۔
پتا ہے تم سب کو شہریار اور میکال پیسے نہیں لے جاتے تھے پر اذان لے جاتا تھا۔۔۔
اذان نے سوچا ابھی تو کتے والی کر رہی اور ابھی عزت بھی۔۔۔
خیر مجھے کیا۔۔۔
اس نے فخر سے کندے جھٹکائے۔۔۔ thank you hafsa…
تبھی تو تم مجھے اچھی لگتی ہو بھلے ہی مجھے سے لڑتی پر مجھے سے پیار بھی بہت کرتی ہو۔۔۔
میکال اور شہریار نے قہقہ لگایا۔۔۔
What a joke azaan….
شہریار نے اسکے کندھے پر زور سے ہاتھ مار کر کہا۔۔۔
ارے سن تو لو۔۔۔
حفصہ نے انکو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔
ہاں ہاں بولو۔۔۔۔ ہم سن رہے ہے۔۔
ثانیہ نے تنز سے کہا۔۔۔ اصل میں وہ بھی یے قصہ جانتی تھی۔۔۔
حفصہ پھر سے بولی۔۔۔
روز شہریار اور میکال پیسے نہیں لے جاتے اور اذان سے نکلواتے۔۔۔
اور یے بیوقوف یر روز انکو اچھا ڈنر کروا کر اتا۔۔۔
ایک دن یے بیکھاری بھی پیسے نہیں لے گیا۔۔۔ جب بل کی باری آئی تو تینوں کے پاس بٹوئے تک نہیں تھے۔۔۔
اور تینوں نے جم کے ریسٹورنٹ کے برتن دھوئے۔۔
سب نے ایسا زور دار قہقہ لگایا کے وہ تینوں پانی میں ڈوب مرنا چاہتے تھے۔۔۔
شہریار نے اذان کو لات ماری۔۔ کمینے کس دور کا قصہ لے ایا بول بھی رہے تھے کے بکواس بند کر ورنہ بھانڈا نا پھوٹ جائے پر نہیں جی۔۔۔ خامخا بی عزتی کروا دی۔۔۔
ویسے حفصہ ڈاین تمہیں کس نے بتایا ہم تینوں میں سے تو کسی نے نہیں بتایا تھا؟
شہریار نے حیرت سے سوال کیا۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ اس دن میں بھی کھانا لینے آئی تھی اسی ریسٹورنٹ میں ۔۔۔ سب لوگ تم تینوں کا چرچا کر رہے تھے کے کچھ سٹوڈنٹس کھانا کھانے ائے تھے۔۔ لیکن انکے پاس پیسے نہیں تھے تو مینیجر نے ان کا سزا دی ہے۔۔۔ ۔۔۔ مجھے بھی شوق ہوئا کے دیکھو کون ہے یے لوگ۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی دیکھا تو تم تینوں لڑ بھی رہے تھے برتن بھی دو رہے تھے۔۔
میں تم لوگوں کی مدد کرنے آرہی تھی پر پھر مجھے یاد آیا تم تینوں اکیلے آئے ہو۔۔۔ اور مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔
میں نے بھی تم لوگوں کو اپنے ہال پر چھوڑ دیا اور انجوئے کر کے نکل گئی۔۔
ہائے بے شرم لڑکی ۔۔۔ تم سے یے امید نا تھی۔۔۔
میکال نے انگلی دیکھا کر اسکو کہا۔۔
جاو جاو۔۔۔
سب ان پر بہت ہنسے۔۔۔۔
وہ آپس میں لڑنے لگے پر ماہم اور ارحام کو دیکھ کر چپ ہوگئے۔۔
السلام علیکم۔۔۔۔
ماہم اور ارحام خوشی خوشی ان کی طرف ائے۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔
کیسے ہو بڈی۔۔ اذان نے ارحام کو گلے لگا کر کہا۔۔
گڑیا بھول گئی ہمیں اتنے دن رہ گئی تھی اور دو دن میں بھول بھی گئی۔۔
ثانیہ نے ماہم سے شکایت کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
کیا ارحام اور ماہم تم لوگوں کے ساتھ رہے تھے اور تم دونوں کا کہتے تھے کے اردو میں بات کرواتے تھے۔۔۔
پریشا نے ثانیہ اور فارس سے پوچھا۔۔۔
ہاں ہمارے ساتھ رہتے تھے۔۔۔
ثانیہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ دونوں سب سے ملنے لگے تو شہریار پریشا دونوں صوفے پر بیٹھے ننھے آریان سے کھیل رہے تھے ۔۔
ہائے شہریار یے کتنا پیارا ہے نا۔۔۔
پریشا نے شہریار کے بازو کو مضبوطی سے پکڑ کر کہا۔۔۔
بلکل تمھاری طرح۔۔
شہریار کی آنکھوں میں شرارت تھی۔۔
آہستہ بولیں ۔۔ سب بیٹھے ہے کیا کہے گے۔۔
پریشا نے دانت چبا کر کہا۔۔۔
کہنے دو مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔
شہریار نے لا پروائی سے کہا۔ ۔ ۔
وہ آریان کو پیار کر رہی تھی اور شہریار اسکو پیار سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اچھا ابھی مجھے دے اپ اپنے دوستوں کے ساتھ جاکر بیٹھے۔۔۔
پہلے نواب سے اجازت لے لو۔۔۔ پھر لو ورنہ پھر منہ پھیر لے گا۔۔
شہریار نے آریان کو پیار سے گال پر بوسا دے کر کہا۔۔۔
اب آجائے گا مامی سے دوستی ہوگئی ہے۔ ۔
پریشا نے آریان کو لیا تو وہ پریشا کی گود میں اگیا۔۔۔
دیکھئے اگیا مامی کے پاش میلا گوڈا ۔۔۔۔ پریشا نے اسکو پیار کرتے ہوئے شہریار کو کہا۔۔۔
شہریار مسکرا کر پریشا کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔
پریشا نے آبرو اوپر کر کے اسے پوچھا۔۔ کیا ہوا۔۔
کچھ نہیں۔۔۔
شہریار نے ہنس کر نا میں سر ہلایا۔۔
اصل میں اسکو پریشا کا خود کو مامی بلوانا اچھا لگا۔۔
مطلب مسئز شہریار پگل رہی ہے۔۔ وہ دل میں سوچنے لگا۔۔
Boys are you ready to play video games???
شہریار نے سب لڑکوں کو خود کی طرف متوجہ کیا۔۔۔
Yeessssssssss….
سارے لڑکے جیسے انتظار میں تھے۔۔۔سب نے یک آواز میں کہا۔۔۔
چلو پھر نیو لیٹیسٹ گیمس لایا ہو ابھی لیکر ایا ۔۔۔ وہ کہہ کر کمرے میں گیم لینے چلا گیا۔۔۔
میں جب تک کھانا لگاتی ہون۔۔
پریشا نے سب سے کہا۔۔۔
Yooooooooooo………
سب لڑکوں کے دل کی بات کردی وہ سب پھر سے جھوم اٹھے۔۔۔۔
ہاں چلو پری میں تمھاری مدد کرواتی ہون۔۔
وانیزا نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے سب چلتے ہے مل کر کام کرے گے تو جلدی ہوجائے گا۔۔۔
سوہا نے کہا تو حفصہ ,ماہم اور ثانیہ بھی اٹھی۔۔۔
لڑکوں نے وہ شور مچایا تھا کے بس پورا گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا۔۔۔ اتنا زور زور سے لڑتے۔۔۔ کھلتے پھر قہقہ لگاتے۔۔۔
اور لڑکیاں کھانا ٹیبل پر لگا رہی تھی۔۔۔
اور ساتھ ساتھ گپے بھی لگا رہی تھی۔۔
پریشا آریان کو نیند آ رہی ہے سامنے روم میں چلی جاون۔۔
ثانیہ نے پریشا کو کہا۔۔۔
ارے پوچھو مت جاو۔۔۔ بلکے او میں لے جاتی ہو۔۔۔
وہ ثانیہ کو ساتھ لیکر گئی۔۔۔
سنو پریشا
وہ دونوں روم میں گئی تو پریشا واپس لوٹ رہی تھی پر ثانیہ نے اسکو روک دیا۔۔۔۔
کچھ چاہیے تھا۔۔۔
نہیں تم سے بات کرنی تھی۔۔۔
ہاں کہو۔۔۔
پریشا مسکرا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
پریشا شہریار کے پیڑینٹس کی ڈیتھ نے اسے بہت توڑ دیا تھا۔۔ نا کسی سے ملتا تھا نا آتا جاتا تھا۔۔۔ ہمارے پاس تک نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔۔ بس آفس سے گھر۔۔ گھر سے آفس۔۔ پر جب سے لاہور گیا اور تم سے ملا ہر وقت خوش رہنے لگ۔۔۔ سب سے خود بات کرتا۔۔ اج اتنے دنوں بعد وہ پہلے جیسا ہوگیا ہے۔۔ یے سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ تمھاری محبت کی وجہ سے ہمیشہ اسکا اسی طرح ساتھ دینا۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں واپس بس تمھاری محبت کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ ہمیشہ اس سے ایسی طرح محبت کرنا۔۔۔ تاکے وہ ہمیشہ اسی طرح چھکتا رہے۔۔
ثانیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے پر چہرے پر مسکراہٹ۔۔۔وہ پھر سے بولی۔۔۔
Thank you parisha thank you..
تم نے ہمارا وہی نٹ کھٹ دوست واپس دیا۔۔۔ ورنہ ہم تو ترس گئے تھے اس کو پہلے جیسا دیکھنے کے لیے۔۔
پریشا کی آنکھوں میں آنسو آگئی اس نے ثانیہ کو گلے لگا لیا۔۔۔
لو جی تم یہاں ہو اور میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
وانیزا پریشا کو ڈھونڈتے ہوئے ائی۔۔۔
تم دونوں سہیلیاں بات کرو میں چلی۔۔
ثانیہ نے وانیزا اور پریشا اور کہا۔۔۔
ارے تم بھی بیٹھو کہاں چلی۔ ۔
میرا کام ہوگیا۔۔۔ میں چلی وہ ہاتھ ہلا کر نکل گئی۔۔۔
کیسی ہو ونی۔۔۔
پریشا اور وانیزا دونوں بہت کلوز تھی۔۔۔ وانیزا نے ہی اسکو بہت ساری باتیں سکھائی تھی۔۔۔ اسکو اچھا بھالا سمجھاتی ورنہ وہ بلکل ہی لاپرو سی تھی۔۔۔
بلکل ٹھیک۔۔۔ تم خوش ہو نا۔۔۔ انکل کا سن کے بہت دکھ ہوا۔۔۔
وانیزا نے اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کہا۔۔۔
ہاں خوش ہو ونی۔۔۔ بابا نے بہت اچھا فیصلہ کیا۔۔۔ اس وقت میں ان سے ناراض تھی سوچا تھا ٹھیک ہوجائے گے تو خوب لڑو گی پر انھوں نے موقع ہی نا دیا۔۔۔
اسکے ہونٹ کانپ رہے تھے۔۔۔
ارے نہیں میری جان رو مت خوش رہو۔۔۔ ورنہ انکل وہاں پریشان ہونگے۔۔
ہممم۔۔۔ ونی پوچھو گی نہیں کے کہاں گم ہوگئی تھی میں۔۔۔
پریشا کو اصل اس بات کا دکھ تھا۔۔
جانتی ہو سب۔۔۔ ہم سب بہت یاد کرتے تھے تم کو۔۔۔ بہت ڈھونڈا بھی تم کو پر تمھارا پتا نہیں ملا۔۔۔ کبھی کا بار بہت غصہ آتا تھا۔۔ تم پر۔۔ بہت گالیاں دیتے تھے کے کتنی بیوفا نکلی۔۔پر کبھی پریشان بھی ہوتے تھے کے کہاں چلی گئی۔۔ کہی کچھ ہو تو نہیں گیا۔۔۔
سب نے کوششیں چھوڑ دی جب بہت ڈھونڈنے پر بھی تم نا ملی۔۔
ہر پل ہر دم تم کو یاد کرتے تھے۔۔۔ ۔
اور ایک دن شہریار لاہور آیا تو اسکو تم ملی۔۔۔ اسنے ہم سب کو بتایا تو ہم سب تم سے ملنے کے لیے فل تیار تھے۔۔
پر اگلے دن ہی شہریار نے ہمیں آنے سے روک دیا۔۔ اس نے مجھے سارا معاملہ بتایا کے تمھاری سوتیلی ماں نے تم پر کتنے الزام لگائے ہے اسی لیے تم نے دوبارہ کوئی رابطہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ پر باقیون سے دوسروں سے کہا کے وہ پریشا نہیں تھی کوئی دوسری لڑکی تھی۔۔ سب اداس ہوگئے۔۔۔ سب کی امید ٹوٹ گئی۔۔۔ شہریار نے انکو بتانے سے صاف منع کردیا تھا۔۔ پر میں نے انکو بتا دیا تاکے وہ بھی تم سے بدگمان نا ہو۔۔۔ کیون کے سب تم سے ناراض ہوگئے تھے۔۔۔
میرے بتانے کے بعد انکے دلوں میں تمھارے لیے عزت اور بڑھ گئی۔۔۔
وہ سب جاننے کے بعد تمھارے لیے ہر پل دعائیں کرنے لگے کے جہاں بھی رہو خوش رہو۔۔۔ کسی نے بھی تم سے ملنے کی کوشش نا کی۔۔۔ کے کہی ہماری وجہ سے تم مصیبت میں نا پڑھ جاو۔۔۔
پریشا وانیزا کو گلے لگا کر بہت روئی۔۔۔۔
شادی کا تم لوگوں کو کب پتا چلا۔۔۔
وہ سو سو کر بولی۔۔
شہریار نے کل ہی بتایا سب کو۔۔۔
سب ایک ساتھ ائے ہوئے تھے تو اس نے ساتھ میں بتا دیا۔۔۔ سب بہت نارض ہوئے بات چھپانے پر۔۔۔ پر اسنے سب کی ناراضگی دور کردی۔۔۔۔ گفٹس دے کر۔۔ وہ ہنس کر بولی۔۔۔
پریشا پھر سے رونے لگی۔۔۔۔
اچھا چلو باہر۔۔۔ ڈرامی۔۔۔ بس کرو سب باہر ہے۔۔۔۔ اور ہم اندر کیا سوچے گے۔۔۔
تم ڈرامی۔۔۔ پریشا نے آنکھوں سے آنسو صاف کر کے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔

#قسط_13_اخری_حصہ
#کیسے_ہوگئ_محبت
#رائیٹر_ماہا_علی
لڑکوں اجاو ڈنر کرنے۔۔۔۔۔
ارے۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہو ڈنر لگ گیا ہے اجاو۔۔۔۔۔
آفففف اللہ کوئی سن ہی نہیں رہا۔۔۔ بھیرے انسانوں اٹھو جلدی سے۔۔۔۔
سوہا سب لڑکوں کو چلا چلا کر بولا رہی تھی پر مجال ہے جو کسی نے بھی اسکو جواب دیا ہو۔۔۔ جواب تو دور تھا کسی نے اسکو دیکھا تک نہیں۔۔۔
وہ سب اپنی ہی لڑائی میں لگے ہوئے گیم میں مصروف تھے۔۔۔
چلو میں چلتا ہوں جنید جو ہر وقت بھوکا ہوتا وہ چلتا ہوا اگیا۔۔۔
بھائی میری توبہ چلا چلا کر میرا گلا پھٹ گیا ہے پر یے اندھے بیھرے ہوگئے۔۔۔ کسی نے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔۔ بس یے بھوکا جنید اگیا۔۔۔
سوہا روہانسی ہوکر بولی۔۔۔۔
سب لڑکیوں نے جنید کو دیکھ کر قہقہ لگایا۔۔۔
اچھا روکو تم یے اس طرح نہیں اٹھے گے۔۔ ساری رات بھی انکو بیٹھنا پڑے نا تب بھی ایسے ہی بے ہوش بیٹھے رہے گے۔۔ میں بتاتی ہوں انکو۔۔۔۔
حفصہ نے ٹیبل پر پلیٹ رکھتے ہوئے کہا اور لڑکوں کے پاس گئی۔۔۔
لڑکوں اٹھ رہے ہو یا۔۔۔
حفصہ نے دھمکی دی۔۔
ارے جاو یہاں سے۔۔۔
اذان نے بنا دیکھے اسے جواب دیا۔۔۔۔۔
آخری بار بول رہی ہوں پھر جو ہوگا اسکی ذمیدار میں نہیں ہونگی۔۔۔
حفصہ ہاتھ بھانھندتے ہوئے بولی۔۔۔
ہاں ہاں جاو۔۔۔ سر مت کھاو۔۔۔
جنید نے بھی بنا دیکھے ہاتھ سے اسکو جانے کا کہا۔۔۔
نعمان اور اذان کا مقابلہ چل رہا تھا۔۔
حفصہ نے مجبورن ٹی وی سوئچ نکل پھینک دیا۔۔۔۔ورنہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں اٹھنا تھا۔۔۔
O shittttttttttttttt…..
سارے لڑکوں مل کر چلائے۔۔۔
پھر ایک ایک کر کے سب نے حفصہ کو بتائیں سنائی۔۔۔
یے کیا کردیا۔۔۔
ارے پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔
دیکھا نہیں کتنا اہم مقابلا چل رہا تھا۔۔۔
یاررررررر۔۔۔۔ حفصہ کیا کردیا۔۔۔
ارے میں اس نعمان سے جیتنے لگا تھا۔۔۔ کیا کردیا ۔۔ اس روندو کی رونی شکل تو دیکھاتا۔۔۔
اذان چلایا۔۔۔
ارے جاو جاو جھوٹے انسان میں جیت رہا تھا۔۔۔ کتنا جھوٹ بولتے ہو شرم کرو۔۔۔
نعمان بھی جواب دینے سے باز نہیں آتا تھا بھلے ہی بعد میں اسکو اذان کی مار کھانی پڑہے ۔۔
ابحے جواب کس کو دیا۔۔۔ رک تیری تو۔۔۔
اذان نعمان کی طرف بھاگا۔۔۔
نعمان نے بھی وہ تیزی پکڑی۔۔۔
اب نعمان آگے اور اذان پیچھے۔۔۔
کچھ انکے لڑنے کا مزہ لوٹ رہے تھے۔۔۔
کچھ انکو منع کر رہے تھے۔۔۔ تو کچھ اذان کو اور زیادہ اکسا رہے تھے۔۔۔ جس میں شہریار اور میکال شامل تھے۔۔۔
اذان آج اس کو نہیں چھوڑنا۔۔۔ گلا دبا دے اسکا۔۔۔
میکال انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
ارے اذان اسکو پکڑ سیمنگ پول میں پھینک آتے ہے اسکو۔۔۔ اسکو گھسیٹ کر لا۔۔۔۔
شہریار نے دانت چباتے ہوئے کہا۔۔۔
چھوڑنا مت اذان پکڑ اسکو۔۔۔
ارے اذان وہاں سے جا۔۔۔ یہاں سے نہیں۔۔۔
شہریار اور میکال آرام سے صوفے پر بیٹھ کر اس کو اکسا رہے تھے۔۔۔ ۔۔۔ اذان رک گیا اور سانس پھولتے ہوئے بولا۔۔۔
بغیرتون۔۔۔ میری مدد نہیں کرنے آرہے وہاں بیٹھے بیٹھے صرف آرڈر دے رہے ہو۔۔ میری مدد کرو اسکو پکڑنے میں۔۔۔
لو جی اب شکاری تین اور شکار ایک۔۔۔ شہریار اور میکال بھی میدان میں آگئے۔۔۔
یار یے ناانصافی ہے سراسر غلط ہے۔۔۔
تم لوگ تین میں اکیلا۔۔۔ یے کیا بات ہوئی۔۔۔
نعمان ڈر کے بولا۔۔۔۔
بیٹا رک آج تجھے کچا چبائے گے۔۔۔
میکال نے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
کچھ تو رحم کرو بھائی۔۔۔ نعمان رونے والا ہوگیا۔۔۔
وہ تینوں پاگلوں کی طرح نعمان کے پیچھے بھاگ رہے تھے کبھی ایک طرف جاتے تو کبھی دوسری طرف۔۔۔۔۔۔ آخر کار نعمان انکے ہاتھ اگیا۔۔۔ ویسے بھی بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔۔۔
شیرنی۔۔۔۔ مجھے بچاو۔۔۔
نعمان نے پریشا کو چلا کر مدد کے لیے پکارا۔۔۔
نعمان خود جانو۔۔۔میں نہیں بول رہی۔۔۔
پریشا اسکی حالت پر مزے لے رہی تھی۔۔۔ وہ کیوں انکو روکتی۔۔۔
شادی کے بعد تم بھی انکی سائیڈ ہوگئی صحیح بیٹا۔۔۔
نعمان رونے والی واز سے بولا۔۔۔
تو پریشا نے شہریار کو آنکھوں سے اشارے سے کہا کے چھوڑ دے پلیز۔۔۔
پر شہریار نے شرارت سے نا کردیا۔۔۔
میرے دوست تو نامراد ہے دوست مار کھا رہا ہے اور دونوں اٹھ کر بھی نہیں آئے بلکے دیکھا بھی نہیں۔۔
نعمان نے فارس اور جنید کو کہا۔۔جنھوں نے اسکی بات سن کر منہ دوسری طرف کردیا۔۔۔ جیسے وہ وہاں تھے ہی نہیں۔۔۔
جنید کھانے میں لگ گیا اور فارس اپنے بچے سے کھیلنے میں۔۔
سب نے جی بھر کے مسکرایا۔۔۔
چل کیا یاد کرے گا آج چھوڑ دیتے یے کل بدلا لے گے تجھ سے۔۔۔
اذان نے احسان جاتتے کہا۔۔۔
ابہے کیا ہوگیا۔۔۔ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔
میکال اور شہریار چلائے۔۔۔۔۔۔
اذان نے پیچھے سے انکو آنکھ ماری تو وہ دونوں چپ ہوگیا۔۔۔ کیونکہ تینوں کے اندر کھچڑی پک چوکی تھی۔۔۔
چلو اب کھانا کھانے ابھی جاو مسجد میں علان کروئے کیا۔۔۔
حفصہ چڑھ کر بولی۔۔۔
ہاں ہاں او بھائیوں۔۔۔ لنگر کھل گیا ہے۔۔۔ او او فقیروں۔۔۔
اذان نے شرارت سے کہا تو سب نے قہقہ لگایا۔۔۔
یے سب تم نے بنایا ہے۔۔۔
نعمان نے پریشا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
نہیں تمھاری پڑوسن نے۔۔۔
وہ تنزیا بولی۔۔۔۔
ہوگئی بےعزتی خوش۔۔۔۔
جنید نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا۔۔۔ اور ہنسی دبانے لگا۔۔۔
چپ کر بے۔۔۔
نعمان نے ناگواری سے کہا۔۔۔
واہ واہ بھابھی واہ۔۔۔ میں نے تو شیری کو دعا دی تھی کے اسکو ناک میں دم کر بے والی بیوی ملے پر یار اسکی تو قسمت کھل گئی ہے۔۔۔ اذان کھانے کو دیکھ کر بول پڑا۔۔۔
سب نے زور سے قہقہ لگایا۔۔۔۔۔
ہاں پریشا یے سب اذان کی دعا کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔
ثانیہ نے منہ میں نوالا ڈال کر کہا۔۔۔
رکو رکو غلط بیانی مت کرو۔۔۔
صرف اذان نہیں تم سب کی تھی اٹھتے بیٹھتے دعائیں دیتے تھے۔۔۔
شہریار نے انگلی کے اشارہ کرکر اپنے سب دوستوں کو کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ اسکے دوستوں نے قہقہ لگایا۔۔۔
پر پریشا والوں کو انکی بات سمجھ نا ائی۔۔۔
کیا اذان کی وجہ سے ہوا نے پریشا نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔
بھابھی جب جب شہریار اذان کے ساتھ کچھ حرکت کرتا تھا۔۔تو اذان بدلے میں اسکو جتنا بھی تنگ کرتا لیتا تھا شہریار کو تنکے برابر بھی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔ اور ایک دن شیری کو آپ مل گئی جس نے اسکا جینا حرام کر رکھا تھا۔۔۔ صرف آپکی باتوں سے شیری کو غصہ آتا تھا۔۔۔ پھر بس اذان اور ہم سب کو جب بھی شیری کسی شرارت کا نشانا بناتا تھا۔۔۔ ہم سب اسکو دعا دیتے کے اللہ کرے اسکی شادی پریشا سے ہوجائے اور آج ہم سب کی دلی مراد پوری ہوئی ہے۔۔ پر جیسی ہم نے چاہی تھی اسکا جینا حرام کرنے والی بیوی جو ہمارے زخموں کا گن گن کے بدلا لے پر ہمارے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔۔ یے کمینا اس معاملے میں خوش نصیب نکالا۔۔
میکال نے ایک سانس میں سارا قصہ پریشا کو بتا دیا۔۔
شہریار نے زوردار قہقہ لگایا۔۔۔۔
کیونکہ اسکے سارے دوستوں کے خوابوں پر پانی جو پھر گیا۔۔۔۔
ارے جنید تم نے شادی نہیں کی۔۔ اور نعمان تم نے بھی۔۔۔؟؟
پریشا نے ان دونوں سے سوال کیا۔۔۔
ارے منگنی ہوگئی ہے پر اس سست انسان کی وجہ سے شادی لیٹ ہوگئی ہے۔۔۔
نعمان نے چڑھ کر سامنے بیٹھے جنید کا بری شکل سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا مطلب۔۔ ؟
پریشا نے کھانا چھوڑ کر پوچھا۔۔۔
مطلب یے کے ہماری منگیترین بہنیں ہے۔۔۔ اور وہ تب شادی کرے گے جب اس سست اور ناکارہ انسان کو اچھی جاب نہیں مل جاتی۔۔۔
نعمان نے چبا چبا کر کہا۔۔۔
ارے جنید جوب ڈھونڈ نا ابھی تک سست ہو۔۔۔
ارے جاب مل جاتی ہے اس نحوست کو پر ہر بار لیٹ جاتا ہے صبح آنکھ نہیں کھولتی۔۔۔۔ اب تم آگئی ہو نا پہلے جیسے یونیورسٹی میں اسکو کان پکڑ کر پڑھاتی تھی اب بھی اسکو سبق سیکھانا۔۔۔
نعمان نے پریشا سے گزارش کی۔۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں میں بتاون گی۔۔۔پریشا نے انگلی دیکھا کر نعمان کو کہا۔۔۔
جنید نے زور سے قہقہ لگا کر کہا۔۔ یے چیز میری شیرنی بہن۔۔۔ کتنا یاد کرتا تھا۔۔۔تم کو تمھاری باتوں کو۔۔۔ بس اب تم ہی مجھے سدہار سکتی ہو۔۔۔
اج جہاں شہریار کے دوست خوش تھے اسکی اوپس خوش دیکھ کر۔ ۔۔ ویسے ہی پریشا کے دوست خوش تھے اپنی بہترین دوست سے واپس مل کر۔۔۔۔
ارے ہماری سوہا کا بھی رشتا ہوگیا ہے۔۔۔
نعمان نے پریشا کو بتایا۔۔
سچی مبارک ہو سوہا۔۔۔ بتایا بھی نہیں۔۔۔ پریشا سامنے بیٹھی سوہا کو گلے لگا لیا۔۔۔۔
سوہا شرم سے لال ہوگئی تھی۔۔۔
آئے لڑکی ایسے مت شرمایا کرو۔۔۔جنید نے اسکا لال پڑھتا چہرہ دیکھ کر کہا۔۔۔ ویسے شیرنی اس کا شوہر دیکھو گی نا ڈر جاوگی بھوت بھی اسے اچھے ہونگے۔۔۔ اور یے اسکے نام پر شرما رہی ہے۔۔۔
جنید نے پریشا سے تنز کرتے ہوئے کہا۔۔۔
تم نے اپنی منگیتر دیکھی ہے۔۔۔ایسے بولتی ہے جیسے کان میں سیٹی بجا رہی ہو۔۔۔
سوہا کہاں چپ رہنے والی تھی۔۔۔ جٹ سے بولی۔۔۔
جس پر سب نے قہقہ لگایا تو جنید کا منہ بگڑ گیا۔۔۔
ارے ظالمو میرا بھی تو بتاو۔۔۔
میکال شرما کر اور ناراضگی سے بھرے انداز میں بولا۔۔۔
ہاں ہاں بھابھی اگلے ہفتے اسکی رخصتی ہے آجائے گا مل کر دعاؤں میں رخصت کرے گے۔۔۔۔
اذان نے میکال کے بالوں سے ہاتھ پھر کر شرارت سے کہا۔۔۔
تو میرے ہاتھوں سے مر جائے گا ذلیل۔۔۔
میکال نے غصے سے اذان کو کہا۔۔۔ تو اسنے قہقہ لگایا۔۔۔
Wow mikaal congratulations…
پریشا نے اسکو خوشی سے مبارک دی۔۔۔
Thank you so much bhabhi..
میکال نے آداب سے سر جھکا کر جواب دیا۔۔۔
ارے پوچھو گی نہیں لڑکی کون ہے۔۔۔
شہریار نے چمچ سے چاول کھاتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا میں اسے جانتی ہو۔۔
پریشا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
ہاں بہت اچھے طریقے سے۔۔۔
شہریار نے آبرو اوپر کر کے مسکرا کر کہا۔۔۔
Let me guess…..
پریشا نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
کہی وہ وانیزا تو نہیں۔۔۔
تھوری دیر سوچنے کے بعد وہ پھر سے بولی اور منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
I cant believe this..
Is it true???
پریشا نے میکال سے پکا کرنا چاہا۔۔۔
میکال نے مسکارا کر سر ہاں میں ہلایا۔۔
O my God… vaniza…
میسنی مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔
I hate you..
پریشا خوشی کے مارے پاگل ہوگئی تھی۔۔
وہ اپنی کرسی سے اٹھی اور اسکے گلے لگ گئی۔۔۔
Many many congrats..
پریشا نے ان دونوں سے کہا۔۔۔
کب ہے شادی۔۔۔؟؟
اگلے ہفتے کے آخری دونوں میں ۔۔۔
اسی لیے تو ہم سب اپنے اپنے گھروں سے یہاں پہنچے ہے اسکی شادی کے لیے۔۔۔
جنید نے وانیزا کو زبان نکال کر چڑھیا۔۔۔۔
اور پریشا ہم نے ڈھولکی بھی رکھی ہے اجانا۔۔۔
حفصہ نے خوشی سے اسے کہا۔۔۔
ہاں ہاں ضرور اونگی بہت مزہ آئے گا ۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
سب کھانا کھا کر دوبارا سے باتوں میں لگ گئے۔۔۔ کسی نا کسی کی تانگ ضرور کھنچتے۔۔۔
بھائی آج ہمیں گانا سنائے نا پلیز۔۔۔۔
ماہم نے شہریار سے التجا کی۔۔۔۔
ہاں ہاں شیری بہت ٹائیم ہوگیا ہے تیرا گانا سنے۔۔۔
صحیح کہا ماہم نے شیری جلدی سے اچھا سا گانا سنا۔۔۔
شیری پلیز آج منع مت کرنا۔۔۔
سب ایک ساتھ اسے کہنے لگے تو وہ پریشان ہوگیا۔۔۔
اچھا اچھا سناتا ہوں پر میرے پاس گیٹار نہیں۔۔
شہریار نے اداسی سے کہا۔۔۔۔۔۔
ارے بھائی یے لے۔۔۔
ماہم نے صوفے کے پیچھے سے گیٹار نکال کر اسے تھمایا۔۔۔
گڑیا۔۔ یے کہاں سے آیا تمھارے پاس۔۔۔
شہریار نے گیٹار کو چھوتے ہوئے پوچھا۔۔۔
بس بھائی آپکی بہن کا کمال ہے۔۔۔
ماہم نے فخر سے کندے اچکائے ۔۔
وہ شہریار کا سب سے پہلا والا گیٹار تھا جو اسکے بابا اسکے لیے برتھ ڈے پر لے کر آئے تھے۔۔۔
اس نے آنکھیں مند لی۔۔ اور گہرا سانس لے کر ed sheeren کا گانا گیا۔۔
I found a love for me
Darling just dive right in
And follow my lead
Well I found a girl beautiful and sweet
I never knew you were the someone waiting for me
‘Cause we were just kids when we fell in love
Not knowing what it was
I will not give you up this time
اس نے پریشا کو دیکھ کر گانا گیا۔۔ جب گانا ختم ہوگیا تو وہ ابھی بھی اسکو دیکھ رہا تھا۔۔۔
پریشا کی آنکھیں بھی چمک رہی تھی۔۔۔
شہریار نے آبرو اوپر کر کے اسے پوچھا تو پریشا نے ہاتھ نیچے کر کے اسکو اشارہ کیا۔۔۔ بہت اچھا۔۔۔
شہریار نے آہستہ سے thank u کہا۔۔۔
واہ یار دل خوش کر دیا۔۔۔ جگرے۔۔۔
اذان نے شہریار کو کندھے پر تھپکی دیتے کہا۔۔۔
سب چلے گئے تو ماہم نے پریشا کو زور سے گلے لگا لیا۔۔۔
Bhabhi bhabhi i love you so so much…
You are best…
اب میں نے ایسا کیا کردیا جو اتنا پیار آرہا ہے۔۔۔
بھابھی آپ کو پتا نہیں آج میں کتنی خوش ہو۔۔۔
بھائی نے آج اتنے دونوں بعد گانا گیا ہے صرف آپکی وجہ سے ورنہ وہ ماما بابا کے بعد انہوں نے گیٹار کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔۔۔
ماہم کہہ کر چلی۔۔۔ اور پریشا سوچ میں پڑھ گئی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
رات کو بہت دیر ہوگئی تھی, سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔ شہریار اور پریشا بھی آرام کرنے اپنے کمرے میں آگئے۔۔۔
صبح سے دونوں لگے ہوئے تھے۔ پریشا کیچن میں تو شہریار آفیس میں دونوں کا تھکن سے برا حال تھا۔۔۔
اپنے یے اچھا نہیں کیا۔۔۔
ہنہ۔۔۔۔۔ مجھ سے ہو۔۔۔
شہریار بیڈ پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔
ہاں آپ سے کر رہی ہو۔۔۔ نعمان کو آخر میں سومنگ پول میں نہیں پھنک چاہیے تھا۔۔۔
پریشا کو ہنسی بھی آرہی تھی۔۔۔
ارے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔اسکے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔
شہریار نے لا پروائی سے کہا۔۔
ہاہاہاہا آج مزہ بہت ایا۔۔۔
پریشا نے کان سے بالیاں اتارتے ہوئے کہا۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔
شہریار کی ہمت نہیں ہو رہی تھی جواب دینے کی۔۔۔
وہ باتھ روم گئی کپڑے بدلنے جب باہر آئی تو شہریار گہری نیند سو چکا تھا۔۔۔
وہ آہستہ سے مسکرائی اور اسکے پاس جا کر صحیح سے اسکو لٹیا اور چادر اوڑھ لی اس پر۔۔۔
بہت دیر تک وہ اسکو دیکھتی رہی۔۔۔۔ پھر اسکے سر سے بکھرے بالوں کو اوپر کر کے اسکے سر پر بوسا دیا۔۔۔
Sherooo i love you…
آج سے نہیں تب سے جب ہم پہلی بار ملے تھے۔۔۔خود سے بھی چھپاتی تھی پر اب نہیں شیرو ۔۔۔ i love you i love you
وہ آہستہ سے بولی۔۔۔۔
Thank you so much for amzing surprise… and for loving me…
ہولے سے مسکرا کر وہ اسکے پہلو میں جاکر سوگئی۔۔۔
اج پریشا پہلی بار اسکے ساتھ بیڈ پر سوئی تھی ورنہ وہ سوفے پر سوتی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: