Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 17

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 17

–**–**–

پریشا سب کو پیسے بانٹ کر ایسے بیٹھ گئی جیسے اب اس نے اٹھانا ہی نہیں تھا۔۔۔
شہریار کب سے منتظر تھا کے وہ گھر چلے گی۔۔۔
پر وہ تو اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی شہریار غصہ سے بھر گیا ۔۔۔
ماہم اٹھو گھر نہیں جانا۔۔۔
شہریار نے ماہم۔ کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
شہریار آج یہی رک جاتے ہے نا۔۔ بہت تھک گئے ہے۔۔ پریشا نے اپنے پاوں سے سندل اتار کر پیر صوفے پر چارہ کر بولی۔۔۔
ہاں بھائی بہت دیر ہوگئی اس وقت کہاں جائے گا کل چلے جانا۔۔۔ نعمان سر کھجاتے ہوئے بولا۔۔۔
تم تو چپ رہو۔۔۔ شہریار نے غصہ ضبط کر کے کہا۔۔۔
اور کوئی لیٹ نہیں ہوئی چلو اٹھو پریشا۔۔۔
شہریار جلدی مچاتے ہوئے بولا۔۔۔
پریشا بری شکل بنا کر صوفے سے ٹیک لگا کر سو گئی۔۔۔
شہریار کو اور غصہ ایا وہ اسکے سامنے جاکر بیٹھ گیا۔۔ اور آہستہ سے اسکے کان میں غصہ ضبط کر کے بولا۔۔۔
اپنی رخصتی بھول گئی کیا۔۔۔
پریشا جو بلکل ہوش میں نا تھی۔۔۔ بات سن کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر شہریار کو دیکھنے لگی۔۔۔
شہریار کے چہرے پر ہر دفعہ کی طرح شرارت سی مسکراہٹ سجی گئی۔۔۔۔
کچھ تو شرم کرے۔۔ سب بیٹھے ہے کوئی سن لیتا تو کیا کہتا۔۔۔
پریشا ناگواری سے بولی۔۔۔
رخصتی کہا کوسنا۔۔۔ وہ کہتے کہتے چپ ہوگیا۔۔
توبہ ہے بی شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔ پریشا چبا چبا کر بولی۔۔۔
دیکھو اگر دو منٹ میں تم نہیں چلی نا تو میں اپنا آپا کھو بیٹھو گا۔۔۔ پھر جو ہوئا اسکی ذمیدار تم ہوگی۔۔
وہ ہنسی دبا کر پریشا کو تنگ کر رہا تھا۔۔۔
یا اللہ کیا ہوگیا ہے اپکو۔۔ پریشا گھبرا کر بولی۔۔۔
تم نے کہا تھا میں اپنی دولہن کو رخصت کر کے لے جاونگا۔۔۔
میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا تھا تاکہ آپ جائے۔۔ اور آپ نے سریئس ہی لے لیا۔۔۔
پریشا گھبرا کر بولی ساتھ میں ادھر اُدھر بھی دیکھ رہی تھی کے کہی کوئی انکو دیکھ تو نہیں رہا۔۔۔
جو بھی پر آج میں اپنی دولہن لے کر ہی جاونگا
I am waiting for you in car… be there in 5 minutes…
اگر تم خود نا آئی تو گود میں اٹھا کر لے جاونگا۔۔۔
شہریار کی آنکھوں میں شرارت کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی۔۔
پریشا اسے دیکھ کر اپنے دل کی دھڑکن کو بے قابو کر بیتھی۔۔۔
او ماہم گڑیا۔۔۔
شہریار ماہم کو اشارہ سے بلایا۔۔۔
ماہم اٹھ کر اسکے گلے لگ گئی۔۔
بھائی۔۔۔
میری جان نیند آ رہی ہے۔۔۔ شہریار نے اسکے سر پر بوسا دیکر پوچھا۔۔۔۔۔۔
ہمممممم وہ آنکھیں بند کر کے بولی۔۔۔
وہ دونوں آگے بڑھنے لگے۔۔
سنے۔۔۔۔
پریشا نے شہریار کو پیچھے سے آواز دی۔۔۔
شہریار نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔ بولو۔۔۔
وہ ارحام اندر روم میں سو رہا ہے اگر آپ سے گود میں اٹھا کر لے چلتے تو اچھا ہوگا۔۔ ورنہ خامخا اسکی نیند خراب ہوجائے گے صبح اسکو اسکول بھی جانا ہے ۔۔
پریشا دھیمے لہجے میں بولی۔۔۔
ہاں میں لیکر اتا ہون۔۔۔ تم دونوں کار میں بیٹھ جاو۔۔۔
شہریار کہہ کر روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
ماہم اور پریشا دونوں کار کی طرف آئیں تو ماہم پیچھے والی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے دروازہ کھولنے لگی۔۔
روکو ماہی تم آگے بیٹھ جاو میں پیچھے بیٹھو گی۔۔۔
پریشا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا۔۔
پر کیوں بھابھی۔۔۔
ماہم چھوٹی آنکھیں کرکے اسکو دیکھنے لگی۔۔۔
وہ ارحام سو گیا ہے تو میں اسکو گود میں سولائو گی۔۔۔
پریشا نے کار کا دروازے کھولتے ہوئے بولی۔۔
او کے مائے سوئیٹ بھابھی۔۔۔
ماہم نے پریشا کو زور سے گلے لگا لیا۔۔۔
تو پریشا نے بھی اسکے گال پر پیار سے بوسا دیا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
سنے ارحام کو مجھے دے۔۔۔ پریشا نے شہریار کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے آواز دی۔۔۔
ہممممممم۔۔۔۔ یے لو۔۔۔۔ شہریار نے ارحام کو گاڑی میں لیتیا اور پریشا نے اسکو سر اپنی گود میں رکھ دیا۔۔۔
ماما۔۔۔ ارحام پیار سے بولا۔۔۔ میلا بی بی۔۔۔ سوجاو۔۔ پریشا نے اسکے بال اوپر کر کے سر پر بوسا دیا۔۔۔
شہریار نے ان دونوں کو پیار سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
آپ کیا دیکھ رہے ہے چلنا نہیں ہے کیا۔۔۔ پریشا نے اسکو اپنی طرف دیکھا پیا تو بولی۔۔۔
کچھ نہیں۔۔ شہریار نے آنکھیں بند کرکے نا میں سر ہلایا۔۔۔
شہریار ڈراونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔اور اپنا بیک ویو مرر پریشا کی طرف کردیا۔۔۔
شہریار نے اپنی آبرو اوپر کر کے اسے دیکھا۔۔۔ پریشا ناک چڑہا کر مسکرائی۔۔۔۔
شہریار نے اسکو فلائنگ کس کیا۔۔۔ تو پریشا کی آنکھیں کھل گئی اس نے پہلے ارحام کو دیکھا پھر ماہم کو۔۔۔
پریشا نے آنکھیں دیکھا کر الٹے ہاتھ سے تھپڑ مارنے کا اشارہ کیا تو شہریار نے آہستہ سے قہقہ لگایا۔۔
چلیں بھی۔۔۔ پریشا نے شہریار کو اشارہ کر کے کہا۔۔۔
شہریار نے سر نا میں ہلایا۔۔۔
پریشا نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کیون۔۔۔۔
شہریار نے انگلی سے پریشا کی طرف اشارہ کیا پھر اپنے گال پر اشارہ کیا۔۔۔۔
پریشا کا منہ کھول گیا اور اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
بھائی چلیں بھی۔۔ ماہم نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں ہاں۔۔۔ شہریار گڑبڑا گیا اور جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔۔
پریشا اپنی ہنسی دبانے لگی۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔ ماہم نے شہریار کے بازو کو پکڑ کر سر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
جی بھائی کی چھوٹی سی گڑیا۔۔۔
ایک بات کہو آپ ناراض تو نہیں ہونگے۔۔۔ ماہم ڈرتے ہوئے بولی۔۔۔
نہیں میری گڑیا بولو کچھ چاہیے تھا۔۔۔ شہریار پریشانی سے بولا۔۔۔۔
نہیں بھائی آپ نے سب کچھ تو دیا ہے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ ماہم شہریار کو پیار سے دیکھ کر بولی۔۔۔
تو پھر کیا کہنا تھا۔۔۔ شہریار نے مسکرا کر پوچھا۔۔
وہ کل میں یونیورسٹی نہیں جاونگی۔۔۔۔ ماہم ڈرتے ہوئے بولی کیوں کے شہریار اسکو اور ارحام کو ایک دن بھی چھوٹی کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔۔۔۔
شہریار کچھ کہنے لگا تو۔۔۔ ماہم نے کہا بھائی بھائی آ نو آپ کہے گے چھوٹی کرنے سے میری پڑہائی کا نقصان ہوگا پہلے ہی شادی کی وجہ سے تم اپنی سٹڈیز میں دیھان نہیں دیے پائی۔۔۔۔۔ اور کل پھر سے چھوٹی کرو گی۔۔۔
پر بھائی یہ بھی تو دیکھے ساری شادی میں ہم دونوں جتنا مزہ کرنا چاہتے تھے اتنا کر نہیں سکے۔۔۔۔ رات کو ڈولکیان ہوتی تھی اور بھابھی ہمیں سویرے سولا دیتی تھی۔۔۔
اور صبح سب سو رہے ہوتے تھے اور میں اور ارحام سکول یونیورسٹی جاتے تھے۔۔
اسے وجہ سے میں شادی میں ڈانس پریکٹس بھی نہیں کر سکی اور نا ہی شادی والے دن دانس پرفارمنس کی۔۔۔
کتنا شوق تھا مجھے پر میں نے آپکی وجہ سے ایک دن بھی چھوٹی نہیں کی۔۔۔۔۔۔
صرف کل سنڈے تھا تو لیٹ تک جاگے تھے اور آج شادی کی وجہ سے۔۔۔ پیلز پلیز ایک دن کی اجازت دے دیں۔۔۔
ماہم پہلے ناراضگی سے بولی اور پھر التجا سے ۔۔
شہریار اسکی بات مسکرایا۔۔۔
او کے میری گڑیا ۔۔۔ کل مت جانا خوش ۔۔۔۔ اور کجھ۔۔ ؟
thank you thank you thank you thank you so much…. Bhai….
وہ جوش سے بولی۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے گھر آگیا تو وہ سب گاڑی سے نکال گئے۔۔۔
شہریار نے پریشا سے ارحام کو لیا اور گود میں اٹھا کر اسکے کمرے میں بڑھنے لگا۔۔۔
پریشا بھی اسکے پیچھے پیچھے آرہی تھی۔۔۔
شہریار نے ارحام کو بیڈ پر لٹیا اور اے سی چلانے لگا۔۔۔ پریشا نے جب تک اسکے اوپر ہلکی سی چادر اوڑھ لی۔۔۔ اور اسکے قریب بیٹھ کر اس کو پیار سے دیکھنے لگی۔۔۔
شہریار بیڈ کے دوسرے طرف بیٹھ گیا۔۔۔ کیا دیکھ رہی۔۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔
بھائی بھابھی آپ ابھی تک نہیں گئے۔۔۔
ماہم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔۔
نہیں تم جلدی سے جینج کرکے او پھر جائے گے۔۔ پریشا اسکو دیکھ کر بولی۔۔۔
وہ جلدی سے کپڑے بدل کر ائی۔۔۔ اور شہریار کے گلے لگ گئی۔۔۔ شہریار اسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
I love you bhai…
Love you tooo my princess… 😊
شہریار نے اسکے سر پر بوسا دیا۔۔۔
صرف بھائی سے پیار۔۔ پریشا نے شرارت سے کہا۔۔۔
ماہم اسکے گلے لگ کر بولی love you bhabhi ..
آپکو کیسے بھول سکتی ہو بھالا۔۔۔
اچھا چلو اب دیر ہوگئی ہے ڈرامہ بند کرو لڑکیوں سو جاو۔۔۔
شہریار نے چٹکی بجا کر کہا۔۔۔
تو ماہم جھٹ سے بیڈ پر لیٹ گئی اور پریشا نے اس پر چادر اوڑھ لی۔۔۔
گڑیا جو کچھ بھی کہنا ہو آرام سے کہا کرو کبھی ڈرنا نہیں تمھارے بھائی بھابھی ہمیشہ تمھارے ساتھ ہے ۔۔ ۔شہریار نے ماہم کے بالوں پر پیار کے کہا۔۔۔
جی بھائی۔۔۔ وہ مسکرا کر بولی۔۔۔
وہ دونوں کمرے کی لائیٹ بند کر کے نکل گئے۔۔۔
شہریار نے پریشا کو باہون میں پکڑ لیا۔۔۔
وہ بھی اپنا سر اسے سنے پر رکھ کر چل رہی تھی۔۔۔
وہ دونوں چلتے چلتے سیڑیون پر اگئے۔۔ شہریار جلدی سے اپنے آپکو چھوڑوا کر پہلے سیڑیون پر چلا گیا۔۔۔
پریشا اسکو حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔
اسے مت دیکھو سیڑیان چڑتی جاو۔۔۔
شہریار نے اسکو وہی پر رکا دیکھا تو بولا۔۔۔
پریشا نا سمجھی سے دیکھ کر آگے بڑھی۔۔
شہریار نے اسکے اوپر گلاب کی پتیاں پھنکنا شروع کردی۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔ پریشا حیرت سے مسکرا کر بولی۔۔۔
پتھر۔۔۔ شہریار تنز سے شکل بگھار کر بولا۔۔۔
Very funny…
پریشا چبا کر بولی۔۔۔
سارے رومینس کا ستیاناس کردیتی ہو ڈرپوک۔۔۔
شہریار چڑھ کر بولا۔۔۔
ہاں میں کردیتی ہو ہر غلطی تو میری ہوتی ہے نا, صرف اتنا تو کہتی ہوں سب کے سامنے دیھان رکھا کریں۔۔۔ کیا سوچے گے سب۔۔۔ اور بچوں پر کیا اثر پڑہے گے۔۔۔
پریشا اداسی سے بولی۔۔۔
اب اگر تم نے دوبارہ کہا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔ سن لو۔۔۔ شہریار تپ کر بولا۔۔۔
آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں ہنہ۔۔۔۔
پریشا بڑبڑائی۔۔۔
اوکے میں بورا ہوں میری ماں اب او۔۔۔
شہریار ہاتھ جوڑ کر بولا۔۔۔
وہ گھور کر آگے بڑھی۔۔۔ چوڑیل آگئی ہے لائیں پر۔۔۔ شہریار بڑبڑایا اور پھر سے پھول کی پتیاں بیچھانے لگا۔۔۔
وہ دونوں کمرے باہر پہنچے تو شہریار اسکو روک دیا۔۔۔
تم یہی روکو میں ابھی ایا۔۔۔
شہریار جلدی سے کمرے میں گیا اور دروازہ بند کر کے روم کی ای سے چلائی اسکے ہاتھ میں جتنی گلاب کی پتیاں تھی وہ بیڈ پر پھیلا دی۔۔۔
اور اپنا باڈی اسپرے پورے کمرے میں لگا دیا اور اپنے اوپر بھی پرفیوم چھڑک دیا۔۔۔
وہ چہرے پر گہری مسکراہٹ لیے باہر ایا۔۔ پریشا نے چہرے کے تاثرات سے پوچھا۔۔۔ کیا؟
او اندر۔۔۔ وہ اسکے ساتھ کمرے میں گئی۔۔ بیڈ پر پتیاں بکھری ہوئی دیکھ کر اسکے چہرا سرخ لال ہوگیا۔۔ ۔شہریار نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔۔۔
کیسا لگا۔۔۔ سوری اتنا ہی کر سکا اپنی دولہن کے لیے زیادہ نہیں کر پایا۔۔۔ ٹائیم ہی نہیں ملا۔۔۔۔
شہریار شرمندہ ہوا۔۔۔
کوئی بات نہیں اتنا ہی کافی ہے۔۔۔ پریشا نے پیار سے اسکے گالوں کو کھینچا۔۔۔
اچھا چلو بیڈ پر گھونگھٹ لیکر بیٹھو جیسے میکال کی دولہن نے لیا تھا۔۔۔
شہریار نے شرارت بھری آنکھوں سے کہا۔۔۔
شیروو۔۔۔ یہ کیا بچپنا ہے۔۔۔
پریشا منمنائی۔۔۔
اچھا بس بس اب ڈرامے نا کرو میں آتا ہوں۔۔۔
شہریار کہہ کر باہر جانے لگا۔۔۔
اب کہاں جا رہے ہے۔۔۔
تم بیٹھو میں دولہا بن کے او گا۔۔۔ شہریار آہستہ سے بولا۔۔۔
یا اللہ شیروو یہ کیا بچو والی حرکت ہے۔۔۔ پریشا سر پکڑ کر بولی۔۔۔
دل تو بچہ ہے جی تھوڑا کچا ہے جی۔۔۔ شہریار مسکرا کر اسکے قریب اکر شرارت کرنے لگا۔۔۔
اچھا اچھا جائے۔۔۔ پریشا نے قہقہ لگا کر کہا۔۔۔
Thats like a good girl…۔۔ شہریار ہاتھ باندھ کر بولا۔۔۔
اچھا اب ڈائلاگ بازی ہوگئی ہو باہر تشریف لے جائیے گا۔۔۔ پریشا تنز سے بولی۔۔
اتنی جلدی ہے کیا۔۔۔۔ شہریار نے آنکھ مار کر پوچھا۔۔۔
شیرووو۔۔۔۔۔ پریشا شرم سے پھول گئی۔۔۔تو وہ قہقہ لگا کر باہر چلا گیا۔۔۔
پریشا گھونگھٹ لیکر بیٹھ گئی اور چلائی۔۔۔ اندر ائے۔۔۔ میں بیٹھ گئی ہون۔۔۔
پکا۔۔۔ شہریار نے بھی چلا کر پوچھا۔۔۔
ہاں جی۔۔۔ پریشا گھبرا بولی۔۔۔
شہریار لمبا سانس لیکر دروازہ کھٹکھٹا کر ایا۔۔۔
پریشا کی گھبراہٹ بڑھ اگئی تو وہ اپنے ہونٹوں کو کاٹنے لگی۔۔۔
شہریار کمرے میں آیا اور پریشا کے قریب بیٹھ کر مسکرانے لگا۔۔۔ وہ کپکپا رہی تھی۔۔۔
شہریار نے اسکے دونون نرم ہاتھ اپنے میں مضبوط ہاتھوں میں پکڑ کر ان پر بوسا دیا۔۔۔
گھبراو نہیں میں تمھارے ساتھ ہمیشہ رہو گا۔۔۔ اور آج کے بعد یہ رشتا اور زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ پھر اسکے کان کے قریب ہوکر بولا۔۔۔
کیا مجھے اجازت ہے اپنی دولہن کا چہرا دیکھنے کی۔۔۔
وہ مسکرائی اور سر ہاں میں ہلایا۔۔
شہریار نے گھونگھٹ اوپر کیا تو وہ سر جھکا کر بیٹھی تھی۔۔ شہریار نے اپنے ہاتھ سے اسکا منہ اوپر کیا۔۔۔
پری۔۔۔
جی۔۔۔
شہریار نے اسکے سر پر بوسا دیا۔۔۔
اپنا ہاتھ آگے کرنا۔۔
پریشا نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھا اور ہاتھ آگے کیا شہریار نے بہت ہی پیاری انگوٹھی اسکے ہاتھ میں پہنائے اور اپنا سر اسکے ہتھوڑی پر رکھ دیا۔۔۔
I love you parisha….
I love you sheroooo..
اسکی آنکھوں سے ایک آنسون گرا۔۔۔
وہ اپنی قسمت پر یقین نہیں کر رہی تھی کے اتنا پیار کرنے والا ہم سفر اسکو ملے گا۔۔۔ وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: