Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 2

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 2

–**–**–

ہاسٹل میں گرلز بتائے بھی کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ بس کا ویٹ بھی کر رہی تھے . . ان کے یونیورسٹی کی بس تھی جو ان کو ہاسٹل سے یونیورسٹی تک پک اینڈ ڈروپ کرے گی . .
بس آگی تو . .
وہ سب لڑکیاں اس میں بیٹھ گئیں . .
یونیورسٹی پہنچتیے ہی وہ تینوں ساتھ میں کلاس ڈھونڈنے لگی . . تبھی سوہا کو ایک لڑکی نے آواز دی وہ اسکی فرینڈ تھی سوہا اسکے پاس چلی گئی ساتھ ساتھ وانیزا اور پاریشا کو بھی روک لیا . . وانیزا تھوڑا ویٹ کرنے کا بعد پاریشا کو یہ کہہ کر چلی گئی کے میں کلاس ڈھونڈنے جا رہی ہوں تم اِس کے ساتھ رکو اور وہ وہاں سے نکل گئے . .
وانیزا کب سے کلاس ڈھونڈ رہی تھے پر اسکو کلاس مل نہیں رہی تھی . . پر پِھر بھی اس نے ہمت نا ہاری پِھر سے ڈھونڈنے میں لگ گئی . . ایک لڑکی اسکے پاس آئی جو بالکل ٹام بوئے لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ پینٹ اور شرٹ پہن رکھی تھی بال بھی بالکل چھوٹے تھے۔۔۔۔ … اس نے پوچھا کے کیا ڈھونڈ رہی ہیں اپ… وانیزا نے کہا میں بیچلرز کی کلاسز ڈھونڈ رہی ہوں تو اس لڑکی نے کہا اچھا اچھا آپ نیو ایڈمیشن آئی ہے . . وانیزا نے کہا ہاں جی . . چلیں میں آپکو کلاس دکھاتی ہوں میرا نام حفسہ ہے یہاں ایم بی اے کے دوسری سال میں ہوں . . . وہ دونوں بتائے کرتے کرتے کلاس تک پونچھ گئی . .
وانیزا نے اس کا شکریہ کیا اور وہ لڑکی چلی گئے . . وانیزا جیسے ہی کلاس روم میں اینٹر ہوئے وہ ٹھٹھک کر رہ گئے . . وہ کوئی کلاس روم نا تھا بلکہ یونیورسٹی کا واشروم تھا… وہ غصے سے باہر نکل آئی تو سارے سینیرز اس پر ہنس رہے تھے اور ساتھ میں وہ لڑکی حفصہ بھی تھی…
♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢♢
پریشا اور سوہا نے کلاس ڈھونڈ کر نکلی اور وہاں جا کر بیٹھ گئی تھی. . کلاس میں ادھر اُدھر دیکھنے لگی کے شاید وانیزا وہی ھوگی . . پر وہ وہاں نا تھے ۔۔ دونوں پریشان ہوگئی کہ ہم سے پہلے گئی تھی اور ابھی تک نہیں پہنچی . . تھوڑا ویٹ کرنے کے بعد وانیزا بھی کلاس روم میں اینٹر ہوئے اس نے دیکھا کے پریشا اور سوہا بیٹھی تھی تو انکے پاس چلی آئی . .
سوہا نے پوچھا کہاں رہ گئے تھی اتنی دیر سے . . وانیزا نے سارا قصہ اسکو بتا دیا . . پریشا کو غصے آگیا اس نے کہا مجھے بتاؤ کہاں ہے وہ لوگ میں ان کی خبر لیتی ہوں کسی کی ہمت کیسے ہوئے تم کو تنگ کرنے کی اور تم کچھ کہے بنا واپس آگئی . . وانیزا نے کہا کے کوئی بات نہیں ریگنگ تو ہوتی ہے یونیورسٹی میں نیو اسٹوڈنٹ کے ساتھ۔۔۔پریشا نے کہا پر ایسے کیسے چلو میں ان کو سبق سکھاتی ہو پر دونوں نے مل کر اس کو ٹھنڈا کیا۔۔تو وہ چپ ہوگئ ۔۔ . . سب اسٹوڈنٹ کلاس میں آگئی تھے اور اپنی اپنی چیئرس پر بیٹھ کر گھپے لگا رہے تھے . . تھوڑی دیر کے بعد
کلاس میں ٹیچر اینٹر ہوئے تو ساری کلاس چُپ ہوکر بیٹھ گئی . .
ٹیچر کو سب اسٹوڈنٹ نے سلام کیا . . انہوں نے وعلیکم السلام کہا اور کہنے لگے ویلکم ٹو آل یونیورسٹی . . بہت خوشی ہوئی آپ سب کے آنے کی . . میں اسا تیچل ہو جو آپ سے بالکل دوستو کی طلحہ رہو گا جو بھی آپکو مجھے سے پوچھنا ہو وہ آپ پوچھ سکتی ہے . . میں آپکی ہمیشہ ہیلپ کالو گا . . سر تھوڑا توتلا بولتے تھے . . ساری کلاس دھبی دھبی ہنسی ہنس رہے تھے . . اچانک ایک لڑکے کا زور سے قہقہ نکل گیا . .
سر سمجھ گئے کے وہ انکے بولنے پر ہنس رہا ہے . .
سر نے اسکو اسٹینڈ اپ کہہ کر اسکا نام پوچھا اس لڑکے نے ڈرتے ڈرتے اپنا نام نعمان بتایا . . سر نے اسکو کہا مجھ پل ہنس لاحے ہوں اس نے کہا نو سر . . سر نے کہا پھر کس بات پل ہنسی آ لاحی تھی میں نے تو کوئی جوک نہیں سنایا ہے . . نعمان کی پھر سے ہنسی نکل گئے . . تبھی سر نے غصے سے اسکو اپنے پاس بلایا . . اور اسکو ٹیبل پر اوپر کھڑا ہوکر اٹھک بیٹحک کرنے کا کہا نعمان نے سر کو کہا سوری سر ایندا نہیں کرو گا سر نے کہا نو ایکسیوز اگل نہیں کالنا ہے تو نکل جاؤ کلاس سے نعمان کلاس سے جانے لگا سر نے اسکو روک دیا . . اور کہنے لگے یہی لوکو اور ٹیبل پل چالح کے اٹھاک بیحٹھاک کالو…
نعمان نے اٹھاک بیحٹھک اسٹارٹ کی اور سر تیزی سے ایگزیٹ والے دروازے سے بھاگ کر نکل گئے۔۔۔ وہ پریشان ہوگیا کہ یہ ٹیچر ایسے کیوں بھاگ گئے . . اور ایک دوسرا آدمی آیا . . اس نے نعمان سے پوچھا کے یہ کیا کر رہے ہو . . نعمان نے کہا وہ سل کہہ کر گئے تھے آئی مین سر کہہ کر گئے ہے . . نعمان کی زبان بھی پھسل رہی تھی . .
ساری کلاس ہسنے لگی . . تبھی ٹیچر نے کہا کے وہ ٹیچر نا تھا تمھارا سینیر تھا . . نعمان تو جیسے تپ گیا . . اور اپنی چیئر کے پاس جانے لگا تبھی سر نے اسکو روکا اور کہا ادھر آؤ نعمان پیچھے مڑا اور ان کے پس گیا سر نے اسکو کہا ٹیبل کے اوپر چڑھو نعمان پریشان ہو گیا کے اب کیا کر دیا میں نے سر نے کہا ھری وپ… وہ جلدی سے ٹیبل پر چڑھ گیا . . . سر نے کہا اب مرغا بنے رہو پورا پیریڈ . . نعمان تو جیسے شرمندہ ہو گیا پوری کلاس کے سامنے تھوڑی دیر کے بہ8د سر پِھر بھاگ گئے . . اور اسکو ایک دم جھٹکا لگا کے پِھر سے کوئی سینیر تھا . . وہ ٹیبل سے اُتَر کر اپنی چیئر پر چلا گیا اور اپنے دوستوں کو کہنے لگا یہ مجھے ملے نہیں چھوڑو گا میں ان کو اور ساتھ ساتھ گلیاں کسنے لگا . . ساتھ بیٹھے اسکے دوست جنید اور فارس ھسنے لگے جنید تو خوب ہنس رہا تھا اور اسکو تنگ کرنے لگا بیٹا دیکھتے ہے کیا کرتا ہے تو . . فل حال تو تیری ہوا نکل کر گئے ہے پوری کلاس کے سامنے ساری لڑکیوں کے سامنے بے عزتی ہوگئ تیری اب میری کوئی بھابی نہیں بنے گی . . کون پسند کرے گی تجھ جیسے پیندو کو۔۔۔ ہائے رے نعمان تو لٹ گیا برباد ہوگیا۔۔…وہ پوری ایکٹنگ کر رہا تھا فلمی ہیروئین کی طرح۔۔ اور پھر فارس اور جنید اس ایکٹنگ پر زور سے ہسنے لگے جس پر نعمان اور تپ گیا . . وہی اسکو گھوسو سے نوازنا شروع کیا پر سر کا لحاظ کر کے رک گیا . . کیوں کا اِس بار ریئل ٹیچر آگئے تھے… دھمکی دینے لگا تم دونوں ملو مجھے باہر دونوں کی خبر لونگا… . . جنید نے کہا چل چل . . کلاس پوری ہونے کے بعد وہ کینٹین ڈھونڈنے کے لیے تینوں ساتھ میں نکلی ہوئی تھی وہی پر پریشا کا موبائل بجا اس نے پرس سے نکل کر دیکھا تو بابا کا فون تھا . . وہ سائڈ ہوکر بات کرنے لگی دیکھتے دیکھتے سوہا اور وانیزا دور نکل گئے . . اس نے جلدی سے بابا کو اللہ حافظ کہا اور موبائل پرس میں ڈَلا کر انکی طرف چلنے لگی . . کہی پر اسکا پیر اٹک گیا اور وہ وہاں ڈھرم سے سیدھے منہ زمین پر گر پڑھی . . پھر سے وہی سینیئرز اس پر ہنس رہے تھے جن میں شہرییار ، میکال ، اذان ، حفصہ اور ثانیہ تھی…
پریشا کو بہت غصہ ایا. . . اس نے دیکھا پوری یونیورسٹی کے جتنے بھی اسٹوڈنٹ تھے سب اس پر ہنس رہے تھے غصے سے وہ آگ بحاگھولا ہوگئ . . . وہاں سے جنید اور فارس گزر رہے تھے وہ دونوں اسکی ہیلپ کے لیے آگئے اور اسکی کتابیں اٹھا رہے تھے جو اسکے ہاتھ سے گر گئے تھی . .
پریشا اٹھی اور اپنی تیز نظروں سے ان سب سینیئرز کو دیکھا تھا جنہوں نے وہ رسی دونوں طرف سے ٹائیٹ کر کے باندھ رکھی تھی جس سے وہ زمین پر گر گئی . . وہی پر اسکی نظر شہیریار پر گئے . . جس کا چھ فوٹ کا نکلتا قد تھا کلین شیو گہرے نقوش رف طریقے سے بال بنے ہوئے آنکھوں پر بلیک سنگلاسس لگائے ہوئے تھے گرے جینس پر وائٹ شرٹ پہنی ہوئی جس کی استحینو کو تھوکنیون تک فولڈ کر رکھا تھا بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا اسکا اک بازو میکال کے کاندھے پر تھا اور زور زور سے ہنس رہا تھا پہلے تو وہ اسکو دیکھتی رہ گئے کتنا معصوم اور کیوٹ لگ رہا تھا پر اگلی ہے پل وہ اسکو زہر لگنے لگا وہ اپنی ہی خیال میں گم تھی تب جنید نے اسکو اسکی بکس دے تب شہریار کے خیالوں سے باہر آئی فارس نے اس سے پوچھا کہ آپکو کہیں چوٹ تو نہیں لگی پریشا نے کہا نہیں شکر ہے بچ گئی اور انکا شکریہ ادا کیا . . وہ سب سینیرز کو اگنور کرتے ہوئے آگے نکل گئے جنید نے بتایا کے وہ بھی بیچلرز کے اسٹوڈنٹ ہے ، پریشا نے پوچھا اچھا کس سبجیکٹ میں . . انہوں نے بتایا کے میتھس میں پریشا نے کہا اچھا میں بھی میتھس میں بیچلرز کر رہی ہوں . .
جنید فارس اور پریشا تینوں ساتھ ہی کینٹین پر گئے . .
وہاں پر سوہا اور وانیزا مل گئی تو پاریشا نے ان کو بتایا کے یہ بھی ہماری کلاس کے ہی اسٹوڈنٹ ہے. . اور ان دونوں نے اسکی ہیلپ کی ان سینئر سے۔۔۔۔۔ وہی پر نعمان بی جنید اور فارس کو دیکھ کر اگیا . .
ان چھ کی وہی دوستی ہوگئ بتائے کرتے انہوں نے کینٹین میں كھانا منگوایا اور کھانے لگے تھے کہ اچانک سے کچھ کاکروچ ان کے کھانے میں آ گرے . . وہ سب اپنی چیئرس سے اٹھ پڑھے اور سامنے دیکھا تو وہاں پر وہی سینیرز تھے اور شہریار بھی تھا ، سب زور زور سے ہنس رہے تھے۔۔
اب پریشا کی برداشت پھٹ پڑھی وہ ان کے پس جا رہی تھے تب ہی وانیزا نے اسکو روکا کے مت جاؤ خامخا پنگا ہوجائے . .
فل حال تو وہ چُپ ہوگئ
وہ سب کینٹین سے نکل کر اپنی کلاس کی طرف آگئے تھے . . انکا کلاس روم اوپر تھا . . وہ سب اپنی کلاس سے باہر آپس میں باتیں کر رہے تھے اور نیچی جھانک رہے تھے تب ہی پاریشا نے نیچے دیکھا وہاں پر کچھ سینیرز کھری تھے ان میں شہریار بھی شامل تھا پریشا کو بھی موقع مل گیا . . اس نے اپنے آس پس دیکھا سامنے ہے اسکو ٹیبل پڑھی ہوئے نظر آئے جس پر بکس اور پانی کا جگ گلاس پڑھا ہوا تھا پہلے پریشا پانی کا گلاس بھر رہی تھے پھر اس نے سوچا گلاس سے کام نا ھوگا . . اور پورا کا پورا جگ لیکر آگئی . . باقی سب اسے دیکھ رہے تھے کے آخر کر کیا رہی ہے . . پریشا نے جلدی سے وہ پانی نیچے پھینک دیا جو شہیریار اور میکال کے اوپر گر گیا . . پرریشا کے دوستوں کی آنکھیں نکل آئی کہ یہ کیا کر دیا اس نے پر جنید کا قہقہہ نکل گیا۔۔ پھر سب ساتھ میں ہنس دیے . . تب ہی شہریار نے اوپر دیکھ تو وہ سب ہنس رہے تھے اور وہ آگاہ بر ساتی نظروں سے پریشا کو دیکھنے لگا۔۔ . . پریشا اک آئی برو اوپر کر کے طنزیہ مسکرانے لگی۔۔۔ سر ہلا رہی تھی۔۔۔ . .
واپسی پر پریشا اور اس کے دوست یونیورسٹی سے ساتھ نکلے تب ہی پاریشا پر اک بلیک ہیوی بائیک نے کیچڑ اچھل دیا جس سے اسکے کپڑے خرب ہوگئ . . پریشا نے اپنے کپڑے دیکھے پھر اسکو کہنے لگی اندھے ہو کیا . . جاہل انسان . . ہیوی بائیک والے نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا بائیک تھوڑا آہستہ ہوئے اور بائیک والے نے ہیلمٹ کا شیشہ اوپر کیا اور طنزیہ مسکرانے لگا وہ کوئی اور نا تھا وہ شہریار تھا . . پریشا تو آگ بحاگھولا ہوگئ . . شہریار بائیک زور سے ہوا میں اُڑاتا لے گیا . . پریشا نے بی زور سے کہا ڈرپوک بھاگتے کہان ہو . . سامنا کرو تو مانو . . اور ساتھ ساتھ اسکی بائیک کا نمبر بھی نوٹ کر لیا
وہ ہاسٹل آئے تو پاریشا کا غصہ تھم نہیں رہا تھا سوہا اور وانیزا اسکو ہر ممکن کوششیں کر رہی تھی کہ وہ چُپ ہوجائے . . پر بار بار اسکو وہی بات یاد کر کے غصہ آ رہا تھا…
دوسری دن تو ان سب کی حالت ہوگئ سینیرز نے ان سب جونئرس پر پانی کی برسات کردی تھی . . جہاں کھڑے ہوتے پانی پھینک مرتے . . پریشا والے بچ بچا کر کے کینٹین آئے . . کینٹین میں شہریار اور اسکی گینگ بیٹھی ہوئے تھے پر پاریشا والے آگے جا رہے تھے تب ہی ثانیہ نے فارس کو اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا . . وہ اسکے پاس گیا تو ثانیہ نے حکم دیا کے ہمہارے لیے 5 سینڈوچ بناوا کے لاؤ جلدی اور ہاں ساتھ میں کافی کے 5 کپس بھی . . . .
فارس نے سَر ہاں من ہلایا اور سینڈوچ, کافی لینے چلا گیا . . ثانیہ کو یہ کر کے برا لگ رہا تھا کیوں کا وہ شہریار والوں کے اِس طرح مذاق کرنا اور دوسرو کو تنگ کرنا پسند نہیں کرتی تھی . . پر شہیریار کی دھمکیوں کی وجہ سے اسکو کرنا پڑھتا تھا…ورنہ وہ اسے ہفتوں بات نا کرتا… پریشا کو پھر سے غصہ آگیا کہ ہم انکے نوکر ہے کیا, یا پھر اللہ نے ان کو ٹانگیں نہیں دی۔ وہ فارس کے پاس گئی تاکہ اسکو ڈانت سکے پر پھر کچھ سوچ کر چُپ ہوگئ . . پریشا نے باقی دوستوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ ٹیبل پر بیٹھو میں آتی ہوں . . پریشا سیدھا فارس کے پاس گئی جو کاؤنٹر پے سنڈویچیس اور کوفیز کا ویٹ کر رہا تھا . . پریشا ساتھ کھڑی ہوگئ جیسے ہی ویٹر نے فارس کو ساندویچیس اور کافی کے بھرے کپ دیئے وہ اٹھنے لگا تب ہی پریشا نے اپنے بیگ سے لال مرچ اور نمک نکالا فارس پوچھنے لگا یہ کیا کر رہی ہو . . پریشا نے اسکو خاموش رہنے کا کہہ دیا . . اور فارس کو کہا یہ لے جاؤ ان کے پاس . . فارس ڈرتے ڈرتے وہ ٹرے ان کے پس لے گیا . . شہریار اور اسکی گینگ نے فارس سے ٹرے لیکر اسکو بھاگا دیا . . پریشا اپنے فرینڈز کے ساتھ بیٹھ گئی تھی فارس بھی واپس اپنے دوستوں کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔ . . پریشا نے اپنے دوستوں کو کہا اب آئے گا مزہ . . سب اسے پوچھ رہے تھے کے کیسا مزہ . . پر پریشا نے کاندھے اچھکا کر کہا جسٹ ویٹ اینڈ واچ . .
جیسے ہی شہریار اور اسکی گینگ نے سینڈوچ کھائے جھٹ سے سب نے پھینک دیا کیوں کہ ان میں لال مرچ بہت تھی پھر انہوں نے کافی کا سپ لیا تاکہ مرچیں کم لگے پر کافی بھی جیسے زہر تھے جلدی سے . انہوں نے منہ سے نکل باہر پھینکی . . سب لوگ انکی حالت پر پر ہنس رہے تھے . . . . شہیریار کی نظر پریشا پر گئے جو طنزیہ مسکرا رہی تھے . . وہ سمجھ گیا یہ اِس چوڑیل کا کام ہوگا ورنہ کسی میں اتنی ہمت کہاں تھی… پر اس نے فل حال پریشا کو اگنور کیا اور جلدی سے کاؤنٹر پر گئے کولڈ ڈرنک مانگوا کر جلدی جلدی اسکے گھونٹ پینے لگے . .
چھٹی پر پریشا اور اسکے فرینڈز ساتھ نکل رہے تھے نعمان اپنی ہیوی بائیک لیکر کھڑا ہوا تھا ساتھ میں پاریشا ، سوہا اور وانیزا بھی کھڑی ہوئی تھی اور اپنی بس کہ آنے کا انتظار کر رہی تھی . . نعمان جنید کا ویٹ کر رہا تھے جو واشروم میں کب سے مر گیا تھا… پاریشا کو سامنے ایک بلیک ہیوی بائیک نظر آئئ اس نے پلیٹ نمبر دیکھا تو اسکا دل خوش ہو گیا . . جنید کو آتا دیکھ کر اسے اور خوشی ہوئے جیسے ہی جنید آیا . . پریشا نے اسکے کان میں کچھ خوسر پھوسور کی پِھر . .
پریشا اور جنید کام پر لگ گئے . . کام کر کے وہ اپنی اپنی جاگا پر کھڑے ہوگئ . . جیسے ہی شہریار اور اسکی گینگ آئی سب نے ایک دوسری کو اللہ حافظ کیا اور اپنی اپنی کارز میں بیٹھنے لگے . .شہریار بائیک پر تھا۔۔۔ جیسے ہی کار اور بائیکس اسٹارٹ ہوئی جنید اور پریشا نے ایک دوسرے کو ہائی فائیو کی . .
سب سے پہلے میکال اپنی کار پارکنگ سے نکالی ساتھ ساتھ دوسری بھی نکلنے لگے . . تھوڑا اگی جاکے میکال کی کار رک گئے . . شہریار اور وہ سارے دوست اسکو کو ہارن کرنے لگے وہ کار سے نکل آیا اور ٹائر چیک کرنے لگا کار کے ٹائر کی ہوا نکلی ہوئئ تھی شہریار نے پوچھا کیا ہوا یار . . تو جواب میں اس نے بتایا کے کار کا ٹائر پنکچر ہے . . شہیریار نے کہا چل کار کو سائڈ کر کے کھڑا کر دے میرے ساتھ چل اس نے وہی تھوڑا اگے کار پارک کردی اور
وہ شہریار کے ساتھ اسکی بائیک پر بیٹھنے لگا تو اسکی نظر شہریار کی بائیک کے ٹائر پر گئے . . جس کی ہوا نکلی ہوئی لگ رہی تھی اس نے شہریار سے کہا یار میرا تو ٹائر پھس ہے تیرا کونسا سیٹ ہے . . سب نے وہی کار میں سے بیٹھ کر قہقہ لگائے . .
شہریار نے نا سمجھی سے اسکو دیکھا تو میکال نے اسکے ٹائر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔وہ بائیک سے اتارا اور چیک کرنے لگا کے یہ کب ہوا . . کیوں کا وہ بائیک کا بہت خیال رکھتا ہر وقت بائیک سیٹ ہوتی تھی کے کہی کوئی پروبلم نا ہو ریس کرتے وقت میں کیوں کے شہریار ویک اینڈز کی راتوں میں اکثر ہی کامپیٹیشن رکھتا تھا کسی نا کسی کے ساتھ . . یا پِھر روز رات کو وہ تینوں لڑکے آوارہ گاردیا کرتے پھرتے تھے…اسی لیے پریشا اس کو بگھڑا ہوا امیر زدا کہتی تھی۔۔۔۔ وہ پریشان ہوگیا کہ دونوں کہ ایک ساتھ ٹائر کیسے پنکچر ہوگئے ہے۔۔
وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا اسکی نظر پھر سے پریشا اور اسکے دوستوں پر گئے جو طنزیہ ہنس رہے تھے… شہریار کی آنکھوں میں خون آگیا… . وہ ان کے پاس جانے لگا کے میکال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر رک دیا یہ کہہ کر کے جلدی چلو اج, کل دیکھ لے گے آج لیٹ ہوگئے ہے . .
اگلے دن شہیریار فل تیاری کے ساتھ آیا تھا کے پاریشا اور اسکے دوستوں کو سبق سکھا کر رہنا ہے… . .
بہت ہنسی آ رہی تھے ان کو…اج میں بتاؤ گا کے کس سے پنگا لیا ہے چوڑیل نے اور اسکے ان چامچو نے . .
وہ اپنے گروپ کو سارا پلان بتا رہا تھا وہ سب خوب لطف اندوز ہو رہے تھے . .
پریشا ، سوہا اور وانیزا یونیورسٹی پونچی تھی کے وہی پر ان کو جنید ، فارس اور نعمان مل گئے وہ بھی سب مل کر کلاس روم میں جا رہے تھے ساری یونیورسٹی کا جتنے بھی اسٹوڈنٹ اُن سے راستے مین مل رہے تھے سب ان کو دیکھ کر ہنس رہے تھے . .
پہلے تو سب نے اگنور کیا پر بعد میں جنید نے کہا ہم سب جوکرس تو نہیں لگ رہے ہے پھر یہ سب ہم کو دیکھ کر کیوں ہنسے جا رہے ہے
نعمان نے کہا باقیون کا تو پتہ نہیں پر تجھے دیکھ کر ضرور ہنس رہے ہوں گے تم سے بڑا جوکر یہاں کون ہو سکتا … . جنید نے نعمان سے پوچھا کیوں بے مجھ پر کیوں ہنسی گے . . بیوقوف وہ دن بھول گیا جس دن تم کو اٹھک بیحٹھک کروائے تھے . . سب اسکی بتاؤ پر ہنس رہے تھے اور نعمان اپنے بکس لیکر جنید کی طرف بھاگا جنید نے بھی سپیڈ پکڑی پر نعمان کے ہاتھوں سے بچ نا سکا اور بکس اسکے سر پر جا لگے گئے . .
بتائے کرتے ہستی مسکراتے وہ سب کلاس روم میں پونچے وہاں پر بھی سب ان پر ہنسے جا رہے تھے کلاس پوری ہونے کے بعد وہ سب کینٹین گئے تب ہی پریشا والوں کو سامنے شہریار اور اسکی گینگ دیکھ کر ہنسی اور باہر کی طرف نکل گئے . . ان کو اگنور کر کے وہ سب اک ٹیبل پر بیٹھ گئے پھر نعمان نے اپنی اک کلاس فیلو سے پوچھا یہ تم لوگ ہمیں دیکھ کر ہنسی کیوں جا رہے ہوں ہمہارے منہ پر جوک لگے ہوئے ہے کیا . . تبھی اس لڑکی نے نعمان سے کہا کیا تم لوگوں نے نوٹس بورڈ نہیں دیکھا . . نعمان نے نا میں سَر ہلایا . . تو اس لڑکی نے کہا جا کر نوٹس بورڈ چیک کرو نعمان اور جنید وہی کینٹین پر رک گئے ان کو بہت بھوک لگی تھی تو پریشا ، فارس ، وانیزا اور سوہا وہاں گئے . ان کے چہرے دیکھنے والے ہوگئ تھے شرم سے پانی پانی ہوگئ تھے . . پریشا نے جلدی سے نوٹس بورڈ سے وہ پکچر اتاری جس پر اسکی اور اسکے دوستوں کا کسی نے اسکیچ بنایا تھا چہرہ انہی کے تھا پر جسم جانوروں کے جیسا تھا ساتھ میں انکے نام بھی لکھے تھے . . وہ سب سمجھ گئے کے یہ کس کی حرکت ہوسکتی . .
پریشا کا غصہ بی آسْمان پر چڑھ گیا وہ جلدی سے آڈِیٹورِیَم کی طرف بھاگی اسکو پتہ تھا ان سب شیطانو کا ٹولا وہی ھوگا . . جیسے ہی وہ وہاں پونچی سامنے ہی شہریار کھڑا تھا ساتھ میں میکال اور حفصہ بھی تھے کسی سے بتائے کر رہے تھے پاریشا بڑے بڑے قدم اُٹھاتی اسکے پاس گئی . . پیچھے سے فارس اور سب اسکو آوازیں دیتے رہے کے رک جاؤ . . پر وہ کسی کی کہان سننے’ والی تھی . . شہریار کے ہاتھ میں چارٹ پیپر تھا شاید کوئی اسائنمنٹ تھا . . پریشا نے اسکے ہاتھ سے کھینچ کر اسکے تکڑے تکڑے کر دیا . . اتنا جلدی ہوا کے شہریار کو بچانے کا موقع تک نا میلاا… شہریار کا چہرے غصے کی وجہ سے بالکل لال پڑھ گیا . . اس نے پریشا کے دونوں بازوں اپنے ھاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیے . . پریشا اپنے آپکو چوڑوانے کی کوشش کر رہی پر اسکی مضبوط گرفت سے خود کو نہیں نکل سکی آخر تھی تو ایک نازک سی لڑکی… شہریار نے کہا کیا حرکت کی تم نے ہاں . . تمھارے کیے کا بدلہ دیا میں نے . . تم نے ہماری فگرس بنا کے نوٹس بورڈ پر لگائے میں نے تمھارا چارٹ پھاڑ دیا . . وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی تھے . . پر تھوڑی ہی دیر میں پریشا نے آنکھے نیچے کر لی… شاید شہریار کی آنکھوں سے اسکو کوئی کشش نظر آہی تھی جس کو وہ برداشت نا کر سکی… شہریار کی آنکھوں میں آگ برس رہی تھی اس نے کہا میڈم ہم سینیرز ریگنگ کر سکتی ہے ہمیں یونیورسٹی سے اِجازَت ہے پر تم جونیئرس کو اِجازَت نہیں کے ہمہارے ساتھ بدتمیز کرو تم لوگوں کو ہم کچھ نہیں کہہ رہے اور نا ہی پرنسپل کو تمھاری کمپلین کر رہے ہے . . اس کا یہ مطلب نہیں ہے کے تم لوگ ہمہارے سَر پر بیٹھ کر ناچو . . پر اب لگتا ہے مجھے پرنسپل سے کمپلین کرنی پڑھے گی… . . اتنے میں فارس نے شہریار کو کہا سوری پلیز غلطی ہوگئ ایندا اسا نہیں ھوگا اور چور دینے کو کہا پر وہ غصے سے پریشا کو دیکھتا جا رہا تھا . . وہ اسکے اتنے قریب تھا کے پریشا کو اسکی خسوحبو محسوس ہو رہی تھے جو اسکو ایک عجیب سا احساس دلا رہی تھی… آخر شہریار نے پاریشا کو چھوڑا اور زور س دھکا دے کر پیچھے کیے . . فارس نے اسکو پکڑا . . شہریار نے اسکو کہا ایک بٹ پر معاف کرو گا . . فارس اور پریشا نے نا سمجھی سے اسکو دیکھنے لجی تو اسنے کہا اگر یہ لڑکی پریشا کی طرف اشارہ کر کے کہا مجھ سے سب کے سامنے سوری بولی گی . . چلو اگر سب کے سامنے نہیں . . تو یہی بول دے تو میں اسکو معاف کردو گا . . پریشا پہلے چُپ ہوگئے پِھر دل من کہا ہوں سوری اور اِس کمینے کو بالکل نہیں میری جتی کرتی ہے اسکو سوری . . وہ تھوڑی دیر یہ سوچنے کے بعد اسکے قریب آنے لگی اور بالکل اسکے سامنے آکر رکی اور جھوٹ سے اپنا ہیل والا صندل شہریار کے پیر پر دے مارا . . اور شہریار نے زور سے . .او شٹ کہا۔۔۔… پریشا نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا سوری وہ بھی تم سے مائی فوٹ۔۔۔. جو کرنا ہے کرلو… اور وہاں سے نکل گئی…
پریشا اور اسکے دوست کلاس روم کے باہر کی سیڑیون پر بیٹھے تھے نعمان یہاں وہاں چکر لگا رہا تھا اور ساتھ ساتھ بول بھی رہا تھا کے . . اِس شہریار کے بچے کی ہمت کیسے ہوئے تم سے یہ سب کرنے کی میں وہاں ہوتا تو اسکی آنکھیں نکل دیتا اور اسکو مار مار کر اسکا منہ سجا دیتا اسکے دانت توڑ دیتا… جنید نے زور سے قہقہ لگایا اور کہنے لگا ہو تم اسکو گھوسے مارتے . . وہ تمھارے سامنے آتا ہے تو تمھاری ہوا نکل ہوجاتی ہے اور بات کر رہے ہو اسکے دانٹ توڑ دینے کی . . سب اسکی بات پر سب ہسنے لگے۔۔۔
نعمان نے آرام سے جنید کے کان میں کہا کمینے اپنی زبان کو قابو میں رکھ ہر وقت تیرا بکواس کرنا ضرور نہیں ہوتا . . میں تو ان کو امپریس کرنے کے لیے کہہ رہا تھا . . اس نے دانت پیستے ہوئے کہا . .
اب تو روز پریشا اور اسکے فرینڈز . . شہریار اور اسکی گینگ کے ہر وقت پانگے لگے رہتے تھے . .
دونوں طرف سے کوئی موقع نہیں چھوڑا جاتا اگلوں کا خون جلانے کا . . خاص کر شہریار اور پریشا کے۔۔۔۔۔
شہریار نے تو پاریشا کا نام چوڑیال رکھ دیا ہر وقت کوئی نا کوئی آیسا کام کرتی تھی کے شہریار کا دل کرتا وہ اپنے بال نوچے یا اس چوڑیل کا گلا دبا دے . . کبھی اسکی بائیک کا کوئی پارٹ توڑ کر جاتی تو کبھی اسکی کار کو اسکریچ دے دیتی… آج تو شہریار بہت تاپا ہوا تھا . . کیوں کے ابھی ابھی اسکے بابا نے برانڈ نیو سپورٹس کار امپورٹ کروائی تھی اسکے لیے جس پر پاریشا نے یہ بڑے بڑے اسکریچز کردیئے تھے . .
وہ کارز کا بہت دیوانہ تھا جس وجہ سے میکال اسکو کہتا تھا کارز اسکی بیویاں ہے ۔۔

شہریار اپنے پیرینٹس کا بڑا لاڈلا تھا
اسکی ہر خواہش پوری کی جاتی تھے . . ہلا کے اسکا بڑا بھائی بھی تھا اور چھوٹی بہن بھی۔۔۔ پر گھر کا لاڈلا وہ تھا . . کوئی اسکو کچھ نا کہتا تھا تبھی شہریار دُنیا جہاں کی فکر کیے بنا ہر وہ چیز کرتا تھا جو اسکو اچھی لگتی تھے . . اسکی ماں اسکے بابا سے لڑتی تھی کے انہوں نے شہریار کو بگھار رکھا اور مسٹر عالمگیر مسز سارا عالمگیر کو کہتے کے بہت لاڈ کرتی ہوں‌ اپنے بیٹے سے تب ہی بگھار گیا ہے . . پر سچ تو یہ تھا کے دونوں نے ہے اسکو بہت لاڈ پیار دے کر بگھار رکھا تھا…شہریار کے پیڑینٹس لندن میں رہتے تھے اسکے بابا مسٹر . عالمگیر کا اپنا بزنس تھا ، شہریار کا بڑا بھائی روحیل بھی ان کے ساتھ ہی کام کرتا تھا انہوں نے شہریار کو بھی ایم بی اے کرنے کا کہا تاکہ اگی چل کے دونوں بھائی مل کر ان کے بزنس کو اگے لی کر چلے . . پہلے پہلے تو شہریار نہیں منا کیوں کے اسکو سنگر بنے کا بڑا شوک تھا یا پھر وہ اپنا کار اور بائیک کا شوروم کھولنا چاہتا تھا پر وہ اپنے بابا سے بہت پیار کرتا تھا اور کوشش کرتا تھا کے انکی ہر بات مان لے کبھی انکی بات کا انکار نا کرتا تھا پر بدلے میں کوئی سپورٹس کار ، بائیک یا گیٹار ضرور لیتا تھا… اس نے اپنے بابا کی خواہش کو ترجیح دی اور ایم بی اے کا لیے رازی ہو گیا پر شہریار اور میکال نے مل کر ڈیسائیڈ کیا کے وہ دونوں پاکستان سے ایم بی اے کرے گے جو کے میکال کے بابا مسٹر عالمگیر کے کالج فرینڈ تھے اب انکا بزنس بی ساتھ ساتھ تھا اسی وجہ س شہریار اور میکال کی بی گہری دوستی ہوگئ تھی وہ دونوں ساتھ ہی اسکول کالج پڑھے گھر میں بھی آنا جانا لگا رہتا تھا۔۔۔۔۔اور اب اگی بے انہوں نے ساتھ ہی سب کچھ کرنے کا اِرادَہ کیا . . مسٹر عالمگیر نے شہریار کو اِجازَت دے دی کے وہ پاکستان سے پڑھ لے کیوں کے وہ جانتے تھے اگر وہ شہریار کو لندن سے پڑھنے کی ضد کریں گے تو کہی اسکا موڈ نا بَدَل جائے اِس لیے وہ خوشی خوشی رازی ہوگئ شہریار کی ماں مسز سارا عالمگیر بالکل نہی رازی تھی کیوں کے وہ اپنے لاڈلے بیٹے کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتی تھی پر ان کو شہریار نے راضی کردیئے یہ کہہ کر کہ جب آپکا مجھ سے ملنے کا دل ہو میرے پاس آجائیے گا۔۔۔. . . . . شہریار کو پڑھنے میں کوئی انٹرسٹ نا تھا ہر وقت نیو کارز ، بائیک خریدنا ، ریسنگ کرنا ، پارٹیز ، لیٹ نائٹ گھر انا . . سنگِنگ کا جنون تھا اس پر . . ہر گیدرنگ مین اسکا اک سونگ سنا جاتا تھا . . اور وہ بھی تیار ہوتا تھا سنانے کے لیے . .
لڑکیاں اسکے اگی پیچھے گھومتی تھی اور وہ بھی کسی لڑکی کو اگنور نا کرتا… ہر کسی کے ساتھ کوشش کرتا کے اچھے سے بات کرے . . جہاں تک پریشا کی بات تھے تو وہ اسکے لیے نا ممکن سا تھا… کیوں کا وہ پہلی لڑکی تھی جو اسکو بالکل پسند نا تھی… سب سے زیادہ وہ اپنے گروپ کی لڑکیوں ثانیہ اور حفصہ کے ساتھ بالکل فری تھا… وہ دونوں بھی شہریار کی کمپنی بہت انجوئے کرتی تھی…
پریشا اور اسکے فرینڈز آپس میں بہت گُھل مل گئے تھے وہ سب ساتھ پڑھتے بی تھے تو مزے بی کرتے تھے . . پریشا کے بابا بھی کبھی کا بار مل کر جاتے اور وہ بی اک دو بار گئی تھی . . پر پڑھائی زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر ویکنڈ نہی جا پاتی تھی . . پریشا نے اپنے سارے فرینڈز کو دھمکی دے رکھی تھی کے کوئی بی اسکے بابا کو اسکی اور شہریار کی گینگ سے پانگے کا بھول کر بھی نہی بتائے گا اور نا ہے ان کو کانوں کان پتہ چلنا چاہیی…سب نے وہ بات پریشا کے بابا مسٹر رضا سے چھپا کر رکھی تھی…
پریشا اور اسکے سب دوست کینٹین میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے جب نعمان نے کہا یار ان دونوں کے پانگو کے چکر میں میں کنوارا مر جاؤ گا ابھی تک کوئی لڑکی مجھے نہیں ملی ہے . .
سوہا نے کہا تم یہاں پر پڑھنے کے لیے آئے ہو یا پھر لڑکی ڈھونڈنے . .
جنید برگر کا ایک بائٹ لیتے ہوئے بولا پہلے تو اس شہریار سے تو نپٹ لے . . اسکے سامنے تیری ہوا نکال جاتی ہے اور یہاں تجھے لڑکی چاہئے . .
تبھی پریشا نے کہا سہی کہہ رہا ہے پہلے تم اسکو سبق تو سکھاؤ بعد میں لڑکی بی ڈھونڈ لینا . .
نعمان نے اپنا سَر دونوں ھاتھوں میں رکھ لیا . .
اور کہنے لگا تم لوگ دشمن ہو میرے میں یہاں اپنی لائف بنانے کا سوچ رہا ہوں‌ اور تم لوگ مجھے ڈائریکٹ اللہ کے پاس پہنچانے کے طریقے بتا رہے ہو‌ . . زالیمو…
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا جنید نے کہا اسکی ہوا تو اسکے نام سے ہے نکال جاتی ہے…
جو بھی تھا جنید ، نعمان اور فارس کی جان نکلتی تھے سینیرز سے خاص کر شہریار سے . . . . وہ تو پاریشا تھی جس کی وجہ سے وہ بچے ہوئے تھی… باقی سب بھی اب لڑنا نہیں چاہتے تھے, پر پریشا اور شہریار دونوں ہی اب صلح صفائی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔
سب ہنسی مذاق کر رہے تھے . .
پیچھے سے شہریار اور اسکی گینگ بیٹھی ہوئی تھی . .
اذان نے پریشا کو دیکھ کے کہا یہ چوڑیل ویسے تو گنڈی بنی پھرتی ہے پر ہستی ہوئے بالکل اک معصوم بچے کی طرح لگتی ہے اور دیکھا جائے تو خوبصورت بی بہت ہے انکہے تو دیکھ اسکی . . میکال نے کہا کیوں تم معصوم بچوں کا نام خرب کر رہے ہوں . .
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا شہریار نے زور سے قہقہ لگا کر کہا جنگلی بلیوں کے جیسی انکہے ہے اسکی . .
حفسہ نے کہا بیٹا اسکی طرف دیکھنا بے مت آنکھیں نکال کر انسے کھیلے گی . . سب اسکی بتاؤ پر ہسنے لگے . . اذان نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نہیں بھائی میری توبا کے میں اسکی طرف دیکھو یا سوچو . . اللہ کرے شہیریار کو اِس پریشا سے پیار ہوجائے اور انکی شادی ہوجائے . . آمین . . میکال نے بی زور سے کہا آمین آمین . . اور شہریار کے کاندون پر ہاتھ مارا . . شہریار نے اذان کے سَر پر چپیٹ ماری اور میکال کے شوز کے اوپر کیچپ گرا دی . . دونوں خوب ہنسے جا رہے تھے انکی ہنسی کو بریک نہیں لگ رہا تھا اور شہریار کا بس نہیں چل رہا تھا کے ان دونوں کو اُلٹ اُلٹ کر پھینکی…
اور حفصہ نے کہا کتنا اچھا لگے گا . . وہ اپنے ہاتھ اٹھا کر کہہ رہی تھےی شہریار ویڈس پریشا
شہریار نے اسکے بال زور سے خینچی . . جس پر حفا نے اوووو کہہ کر پھر ہسنے لگی اور شہرییار
کہنے لگا ظالموں تم لوگ میرے پیچھے کیوں پڑے ہوں‌ جس کتے نے خواہش ظاہر کی تھی اسکو منع کر رہے ہو اور مجھے بد دعا دیئے جا رہے ہوں‌ کے میری اس چوڑیل س شادی ہوجائے . . ثانیہ کب سے چُپ تھی پھر ثنیہ بے کیوں پیچھے رہتی اس نے بی کہا ویسے تم دونوں کی جوڑی پرفیکٹ رہے گی . . دونوں ہی خوبصورتی کی مثال ہو۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔۔
شہیریار غصے سے وہان سے اٹھا اور سب کو انگلی دیکھا کر دھمکا کر گیا کے مر جاؤ گے تم سب میرے ھاتھوں سے پیچھے سے سب اس پر ہنس رہے تھے اور میکال نے کہا پہلے وہ تجھے مارے گی اگر تو بچ گیا تو بیشاک آجانا ہمیں مارنے. . اور اذان نے اسکے جانے کے بد کہا یار یہ تو مذاق تھا اسکو اتنا غصہ چڑھ گئے اگر انکی سچ مچ میں شادی ہوگئ تو یہ دونوں تو اک دوسری کا سَر پھور دینگے پھر سب نے قہقہ لگایا . .
پاریشا کو اپنا اسائنمنٹ سبمٹ کروانا تھا وہ سبمٹ کروا کے لوٹ رہی تھی کے کنٹین کی طرف اسکی اچانک نظر گئے کیوں کے کینٹین کھلی ہوئے تھے چیئرس اور بینچیس وغیرہ سب باہر ہوتے تھے تو سب نظر آجاتا تھا . . پریشا گئے وہاں پر اک لڑکی چھوٹے سے بچے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی بچا بہت شرارتی تھا سکوں سے نہیں بیٹھ رہا تھا ۔۔۔۔ پریشا کو بچے بہت پسند تھے خاص کر شرارتیں کرنے والے پریشا نے اس لڑکی سے پوچھا کے کیا وہ اسکا بچہ ہے تو لڑکی نے سَر ہلا کا یقین دہانی کروائے . .
پریشا نے کہا کیا میں اسکو گود میں لے سکتی ہوں‌ تو اس لڑکی نے کہا وائے ناٹ . . وہ بچہ 4 یا 5 سال کا لگی رہا تھا گول مٹول تھا گورا رنگ . . سلکی بال آنکھوں تک آ رہے تھے پریشا نے اسے سے ہاتھ ملایا تو اس نے بی جلدی سے اپنا ہاتھ بڑھایا . . پریشا نے اسکا نام پوچھا تو اس نے بی فل کانفیڈینس کے ساتھ کہا ارھام روحیل . . پریشا نے کہا واٹ آ نائس نیم . . مائی نیم اِز پریشا . . ارحام نے کہا یو آر بیوٹیفُل . . پریشا نے تھینک یو کہا سوچنے لگی کتنا کونفیڈنٹ ہے۔۔۔ پھر اسکو گود میں اٹھا لیا اور اسکے گال پر کس کی پھر اس سے بتائے کرنے لگی . . وہاں شہریار ایا پریشا کی نظر اس پر گئے تو اسکا منہ بن گیا کے بس . .
شہریار سامنے آگیا اور اس لڑکی کو اسلام علیکم نینا بھابی کہنے لگا پریشا کے تو جیسے ہوش ہی اُڑ گئے . . یہ پیاری سی لڑکی اسکی بھابی ھ . . اور یہ کیوٹ بچہ اس کا بھتیجا . . شہریار کی بھابی نے اسکو وعلیکم السلام کہا اور کہنے لگی شہری اتنی لیٹ کردی تم نے کب سے تمھارا ویٹ کر رہے تھے ہم . . شہریار نے جٹ سے سوری کہا اور بزی ہونے کا بتا دیا . . شہریار نے پریشا کو دیکھا جو ارحام کو پیار کر رہی تھی . . اس نے اگنور کرتے ہوئے ارحام کو کہا ہے چیمپ اور اپنا ہاتھ آگے کیا ارحام نے بے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں مارا اور شہریار نے اسکے ہاتھ کو چوما . . اور اسکو پریشا کی گود میں سے لینے کو اپنے ہاتھ اگی کیے پر پریشا نے نا کہہ دیا . . اور اپنا منہ دوسری طرف کر دیا تو شہریار نے کہا یہ کیا بدتمیزی ہے . . شہریار کی بھابی نینا نے کہا شہری کوئی بات نہیں بیچاری کو پیار کرنے دو . . شہریار نے طنز سے کہا بے چاری۔۔ بھابھی میری پیاری بھولی بھابھی آپ اسکو جانتی نہیں ۔۔۔۔ نینا کو کچھ سمجھ نا آیا تو وہ چپ ہوگئی کہ پتا نہیں کیا کہنا چہا رہا ہے۔۔ شہریار نے پریشا آگے بڑھ کر کہا آئے لڑکی یہ میرا بھتیجا اسے مجھے دو . . اور بھابی اپنے اِس چڑیل کو ارحام کیوں دیا ہے آپکو پتہ نہی یہ کتنی خطرناک ہے۔۔۔
پھر شہیریار نے نینا کو آنکھ مر کے چُپ رہنے کو کہا . . . پریشا نے یکدم اپنا چہرہ شہریار کی طرف کیا اور کہنے لگی اوئے چوڑیل کس کو بولا . . بیگھری ہوئے ناواب زادے . . شہریار کو پتہ نہی کیوں اسکی بٹ پر غصہ نہی آیا . . وہ اسکی بات کو بی سمجھی سے سوچنے لگا کے پہلے بار اسکو کسی نے بیگھرا ہوا نواب زادہ کہا . . پھر پاریشا نے نینا سے کہا بھابی . . و سوری آپکا نام کیا ھ ؟ نینا نے پریشان ہوکر آہستہ آواز میں کہا نینا . . تو اس نے کہا نینا جی یہ آپکا بیٹا ھ تو پہلے اِس پر آپکا حق ہوا نا… ایم آئی رائٹ ؟ نینا نے کہا ہاں . . . اسی وجہ سے نینا جی نے اپنا بچہ مجھے دیا ہے . . تو اِس لیے ارحام میرے پاس ھوگا . . شہریار نے کہا چلو ماًن لیا پہلا حق بھابی کا ہے اور شاید تم بھول رہی ہو دوسرا میرا ہے۔۔۔ جلدی سے دو مجھے میرا ارحام . . پریشا اور شہریار بچو کی طرح لڑ رہے تھے . . تب ہی شہریار نے کہا ارحام سے پوچھتے ہے وہ کس کے پاس جائے گا ارحام سے پریشا نے کہا تم میرے رہو گے اس بگڑے ہوے کو بتا دو۔۔۔ . . شہریار کہا و پلیز چوریال تم تو چُپ کرو ہر وقت پاٹر پاٹر کرتی رہتی ہوں‌ . . پریشا نے اسکو آنکھیں دکھائے اور وہ مسکرا دیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: