Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 4

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 4

–**–**–

یونیورسٹی میں ایگزامس اسٹارٹ ہونے والے تھے سب پڑھائی مے لگ گئے . . جی جان لگا دی تھی گروپ اسٹڈی کرنا سارا دن لائبریری من گزر جاتا تھا۔۔ دیر رات تک پڑھنا۔۔۔ . .
شہریار تو اپنی موج مستیوں میں پورا تھا سنگِنگ ریسنگ کرنا . . تھوڑی بہت پڑھائی کر لیتا تھا وہ بھی اپنے دوستوں کے کہنے پر . . پہلے پاریشا والوں کے ایگزام ہو گے ان کے ایگزامس ختم ہونے کے فوراً بعد ہی شہریار والوں کے اسٹارٹ ہونے تھے . .
پریشا اور شہریار والو کے ایگزامس ختم ہوگئ تو وہ سب اپنے اپنے گھر چلے گئے کیوں کے یونیورسٹی سے ان کو چھٹیاں مل گئی تھی . . چھٹیاں گزرنے کے بعد جب سب یونیورسٹی آئے تو کچھ دنوں کے بعد ہی سب کے رزلٹس شیٹس لگنی تھی…
سب کے زبان پر یہی تھا یا اللہ اچھے مارکس دلوا دے . . پر جنید کی دعا تھی یا اللہ پاس ہے کوا دے . . میرا کام بن جائے گا . .
اور آخر کار رزلٹ کا دن اگیا . . وانیزا نے ٹاپ کی تھی فارس دوسری نمبر پر آیا تھا اور پریشا تیسری نمبر پر باکیون کے رزلٹ بھی اچھے آئے تھے . . لسٹ دیکھنے کے بعد وہ سب وانیزا سے ٹریٹ مانگ رہے تھے کے وہاں پر میکال ایا اسکے ہاتھ میں پھولوں کا گل دستہ تھا اس نے وانیزا کو وہ گل دستہ دیا اور مبارکباد دی اسکے ٹوپ کرنے پر . . پاریشا نے وہ گل دستہ وانیزا سے لیکر میکال کو تھما دیا . . اور ساتھ ساتھ کہنے لگی تمھاری ہمت کیسے ہوئے اسکو یہ پھول دینے کی . . میکال کچھ کہنا چاہ رہا تھا کے پریشا نے اسکو چُپ کروا دیا . . اور وانیزا بھی کچھ نا بول سکی . . میکال وہی سے چلا گیا . . پیچھے سے وانیزا نے پریشا کو کہا صرف مبارک تو دنے آیا تھا اتنی بدتمیزی کرنے کی کیا ضرورت تھی پریشا نے ایک آئی برو اوپر کر کے چہرے پر شرارتی مسکان سجائے اسکو دیکھا اور پوچھنے لگی خیر ہے نا . . وانیزا نے کہا یار غلط مت سمجھو میں تو بس یہ کہہ رہی تھی. . وہی جنید نے کہا اچھا چلو چھوڑو اِس بات کو وانیزا ہمیں ٹریٹ دو . . وہ سب کینٹین کی طرف بڑھ گئے وہاں پر پتہ چلا کے شہیریار کے دوست بے اچھے نمبرز سے پاس ہوگئ تھے اور ثانیہ نے ٹاپ کیا تھا پوری کلاس میں . . اسکو یہ سن کر جھٹکا لگا کے شہریار ۔۔۔۔۔ شہریار نے بھی ٹوپ کی ہے . . سب ان کو کنگریٹس کرنے آ رہے تھے . . پریشا دل من سوچنے لگی اِس جنگلی نے کیسے ٹوپ کر لیا . . پورا وقت تو۔موجے کرنے میں مگن تھا اس نے کیسے کر لی۔۔۔ کہی میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔۔ یا پھر میں نے نام غلط سنا ہے
۔۔۔۔پِھر اپنے آپکو ہے کہنے لگی بیگھرا ہوا امیرزادا ہے باپ کے پیسے کی مستی ہے پیسے دے کر کام کروا دیا ھوگا۔۔۔۔ ویسے بھی سارے ٹیچرز کا لاڈلا ہے۔۔ . . پریشا اور اسکے دوست کلاس کے باہر والی سییریون پر بیٹھی ہوئے تھے تب ہی فارس نے ان کو بتایا کے اسکو ثانیہ پسند ہے سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے . . پریشا نے کہا اوئے چشمش تو تو ہم سے بے زیادہ فاسٹ نکالا . . . فارس بہت چُپ رہتا تھا اور کسی بھی حرکت مین شامل نا ہوتا تھا بلکہ سب کو سمجھتا تھا کے نا کرو خامخا کے پانگے… . جنید نے کہا ابھے وہ تجھ سے عمر میں بڑی ہے اپنی دادی کی عمر کی لڑکی سے شادی کرے گا تو نعمان اور جنید نے اک دوسری کو تالی ماری اور زور زور سے قہقہے لگانے لگے … فارس نے جواب میں کہا تم لوگ ہسنا تو بند کرو ہر وقت فضول ہستے رہتے ہوں اور رہی بات ثانیہ کی تو پاگل ہوگئ ہو کیا وہ 1 ، 2 سال ہے بڑھی ھوگی مجھ سے زیادہ تھوڑی . . نعمان نے کہا پھر بھی یار بڑھی تو ھوگی نا۔۔۔ دادی اماں دونوں پِھر سے ہسنے لگے۔۔. . سوہا نے کہا تمھاری فیملی مان جائے گی . . جنید نے کہا پہلے اس کے سالے تو مان جائے اور اسکو زندہ سلامت چھوڑ دے اسکی فیملی تو بعد میں آئے گی . . پریشا نے پوچھا اس کے کونسے سالے ہے ؟ نعمان نے کہا وہی شہریار ، میکال اور وہ اذان . . انکی ہمت نہیں ھوگی میرے دوست کو ہاتھ لگنے کی پریشا نے ہاتھ کا مکا بناتے ہوے کہا۔۔۔۔۔ . . اور جب میاں بِیوِی رازی تو کیا کریں گے ہم قاضی وانیزا بولی۔۔ . . سب نے پِھر قہقہ لگایا . .
دوسرا سمسٹر پورا ہونے کے بعد یونیورسٹی والے سب اسٹوڈنٹ کو مری اور آزاد کشمیر لیکر جا رہے تھے . . پریشا نے اپنے بابا سے پرمیشن لی اور اسکے سب دوستو کو بے پرمیشن مل گئی سب ساتھ نکل پڑھے . . شہریار والے نہیں جا رہے تھے کیوں کے وہ شہر ان کے گھومی ہوئے تھے . . پر میکال کے کہنے پر وہ سب بھی تیار ہوگئ . . اور شہریار کبھی میکال کی بات نہیں ٹالتا تھا . . دونوں شہر میں ایک ایک دن کا اسٹے تھا . . شہریار والے بے اسی بس میں بیٹھے تھے جس من پریشا اور اسکے دوست بیٹھے تھے . . پورے سفر من شہریار نے گیٹار لیکر سب کو اپنی سریلی آواز سے انٹر ٹین کیا… سب اسکی آواز میں مدھوش ہوجاتے . .اور بہت ساری دات دیتے۔۔۔.
سب سے پہلے وہ آزاد کشمیر گئے وہاں کی وادیوں کو دیکھ کر تو پریشا پاگل ہوگئ اتنے خوبصورت نظارے اس نے پہلی دفعہ دیکھے تھے . . اس نے اپنی موبائل سے بہت سارے پکچرز بے کِلک کی . . . اتنے لمبا سفر کرنے کے بعد سب بہت تھک گئے تھے پر وہاں کا ماحول دیکھ کر ان کے چہرے کھل اٹھے . . سب ہوٹل میں آرام کرنے کے لیے چلی گئے . . تاکہ پِھر لنچ کرنے کے بعد وہ سب گھومنے کے لیے نکل پاڑے… لنچ کرنے کے بعد سب بس من دوبارہ تیار ہوکر بیٹھ گئے . . بھوت سارے جگہوں کی وزٹ کرنے کے بعد وہ سب ایک کھلے میدان میں آئے تھے . . جہاں ہر طرف سبز ہریالی چائے ہوئے تھی . . سب ادھر اُدھر چل پہل کر رہے تھے کے وہاں پر کچھ آدمی آئے ان کے ساتھ گوڑے بھی تھے . . پریشا ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوگئ اسکو بہت شوک تھا ہورس رائیڈنگ کرنے کا اس نے ساتھ کھڑے نعمان سے کہا اوئے نومی انسے بات کرو نا ہمیں ایک رائڈ دے دین . . نعمان نے کہا تم کس کے ساتھ کرو گی اس نے کہا تمھارے ساتھ کر لو گی نا . . نعمان نے انکہے پھر لے . . میرے ساتھ مجھے خود نہیں آتی تمہیں کیا کرواؤ گا . . ساتھ ہے کھڑے جنید نے کہا . . پریشا یار فکر کیوں کرتی ہوں میں ہوں نا . . من تمیں اچھی سی رائڈ کرواؤ گا . . پریشا نے غصے سے اسکو انکہے دکھائے اور انگلی کو اوپر کر کے اسکو کہا اوئے جنید کے بچے یہ یار کس کو بولا تم نے . . ایندا بولا نا تمھاری ساری ہڈیاں طور کے رکھ دونگی… جنید نے فٹافٹ کہا یار مذاق کر رہا تھا سریس کیوں ہو رہی ہوں . . . پریشا نے پھر سے اسکو انکہے دیکھیں اور کہا پھر سے یار کہا تمھاری تو . . اچھا میری ماں مجھے ماں معاف کردو غلطی ہوگئ . . ایندا نہی کہو گا . . اب چلیں . . پریشا نے کہا میں تمھارے ساتھ نہیں چلو گی . . جنید نے کہا کیو… کیو…میری ساتھ کیوں نہیں اِس ڈرپوک جنید کے ساتھ جانا چاہتی ہوں پر میرے ساتھ نہیں۔۔ وہ اس کی بات پر تپ گیا۔۔۔ . . اس نے بھی کہا میری مت تھوڑی ماری گئی ہے کے تمھارے ساتھ ہورس رائیڈنگ کرو تمہیں کہی سے كھانا نظر آگیا تم تو گھوڑا چھوڑ کر سیدھا وہاں بھاگو کے پھر میرا کیا ھوگا . … سب دوستوں نے مل کر قہقہ لگایا… جنید کی شکل بن گئے اس نے مقا بنا کے نعمان کے بازو پر دے مرا… ابھی سب ہنس رہے تھے کے . . وہاں پر ایک نوجوان لڑکا آیا جس کے ساتھ ایک وائٹ کلر کا گھوڑا تھا پریشا نے پھر سے نعمان سے ضد کی کے چلو . . پر نعمان نہیں مناً رہا تھا پریشا نے کبھی رائیڈنگ نہیں کی اسی لیے وہ چاہتی تھی کہ کوئی اس کے ساتھ بیٹھ۔۔۔ وہ اکیلے میں ڈر رہی تھی۔۔۔. . تب ہی اس لڑکے نے پریشا سے کہا ہم آپکو اِس گھوڑے کی سیر کرائے گا . . پریشا نے کہا تم کروا سکوگی . . اس نے کہا ہاں ہاں ہم نے بہت سے لوگوں کو کروایا ہے . . پہلے وہ خوش ہوگئ بد میں کسی سوچ میں پڑھ گئی . . شہریار بھی اک گھوڑے پر سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا اس کو وہ لڑکا اچھا نہیں لگا ، بڑے عجیب طریقے سے پریشا کو دیکھ رہا تھا پر وہ اسکو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا کیوں کے اسکا پریشا پر کوئی حق تھوڑا نا تھا کس حق سے اسکو منع کرتا . . . . . اذان کو بھی وہ لڑکا سہی نہیں لگا اس نے شہریار سے کہا ابحاے شہری تو لے جا نا پریشا کو . . شہریار نے غصے بھری نظروں سے اذان کو دیکھا . . اذان نے اسکو آہستہ سے کہا یار سمجھا کر لڑکی ہے . . اور مجھے اِس لڑکے کی نظر اچھی نہیں لگ رہی ہے . . شہریار نے کہا تو نا جائے خود ہی جانا چاہتی ہے . . یار شوک ہو رہا ہے کرنے دو بیچاری کو . . شہریار نے کہا تجھے ترس آ رہا ہے تو تو لے جا نا . . مجھے کیوں پھنسا رہا ہے . . یار لے جاتا پر اچھا تو نہیں لگتا نا اپنی بھابی کے ساتھ جانے میں جب اسکا . اذان یہ کہتے وہی چُپ ہو گیا اور اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگا . . . میری وہ چڑیل ( حفصہ ) میرا خون پی جائے گی . . شہریار کو اسکی بات پر غصہ چڑھ گیا . . اذان زور زور سے ہسنے لگا . . شہریار جو گھوڑے پر بیٹھا ہوا تھا وہی سے اذان کو لات دے ماری اور وہ اور زیادہ ہسنے لگا . . شہریار نے کہا مر جا کمینے انسان۔۔۔ اذان نے پریشا کو بلایا اور کہا اس کے شہریار کے ساتھ جاو۔۔ . . اذان کی بات سن کر پریشا نے کہا میں اِس جانور کے ساتھ کیوں جاؤ . . شہریار نے بھی کہا تو من کونسا مارا جا رہا ہوں تم جیسی جنگلی بلی کے ساتھ جانے کو اس نے بھی ٹکا کر جواب دیا۔۔ابھی انکی جنگ شروع ہونے والی تھی کے اذان نے نرم اور اطمینان بھرے لہجے میں پریشا سے کہا چلی جاؤ بہت اچھا رائڈر ہے۔۔۔ مجھے اِس پر بھروسہ نہیں کچھ کر دیا یا مجھے گرا دیا تو۔ میں رسک نہیں لے سکتی پریشا ڈرئے ہوے لہجے میں بولی ۔۔ . . . . اذان نے کہا میں نے کہہ دیا ہے کچھ نہیں کرے گا . . تم جاؤ . . پریشا بھی اس لڑکے کے ساتھ نہیں جانا چاہ رہی تھے کیوں کے وہ لڑکا اسکو بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا . . اسی لیے اس نے سوچا کے بس چھوڑ دیتی ہوں رائیڈنگ کو پِھر کبھی نصیب میں ہوا تو کر لونگی… اب اسکو اذان نے آفر دی تو اور یہ بھی کہا کے وہ بیگھرا ہوا امیرزادا کوئی حرکت نہیں کرے گا تو وہ راضی ہوگئ کے یہی موقع کے ہے کر لیتی ہوں . . پریشا شہریار کی طرف بھری جہاں وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھا ہوا تھا اور اسے وعدہ لینے لگی کے کوئی حرکت نہیں کرو گے … شہریار نے آکر کر کہا یہ وعدے مجھ سے نہیں ہوتے ہے . . انا ہے تو آؤ ورنہ میں چلا . . پریشا نے شکل بنائی . . اور آہستہ سے کہا بیگھرا ہوا امیرزادا اب اٹیٹیوڈ دیکھا رہا ہے . . خیر ہے رائڈ ہونے کے بعد بتاؤ گی اسکو . . پریشا نے پوچھا میں اِس پر کیسے چڑہو . . اس نے کہا جیسے چڑھتے ہے ویسے چاڑحو… اس نے نے کہا و وائو تھینک یو بتانے کے لیے مجھے تو جیسے پتہ نہیں تھا جیسے چاڑتے ہے ویسے چڑھنا ہے . . چُپ چاپ بتاؤ کیسے چڑنا ہے. . شہریار نے کہا چوڑیل میرا سر مت کھاؤ . . جو کرنا ہے خود کرو . . . . وہی پر اس لڑکے نے آواز دی میں آپ کو بیٹھتا ہوں… شہریار نے اپنے غصے بہرے چہرے سے اس لڑکے کو گھورا اور اس سے کہا وہی رکو تمہیں تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں . . اِس چوڑیل کو میں ہی چڑھا سکتا ہوں تم سے کسی نے مدد نہیں مانگی جاو یہاں سے ۔۔۔۔ بھلائی کا تو زمانہ نہیں رہا ھم مدد کر رہا تھا الٹا ھم کو ہی دانٹ رہا ہے وہ لڑکا یہ کہہ کر نکل گیا. . پھر وہ گھوڑے سے نیچی اتارا اور پریشا کو ہاتھ دے کر گھوڑے پر بیٹھیا پھر اسکے اگے بیٹھ گیا . .وہ پریشا کے اتنے سامنے تھا کے اسکا دل زور زور دھک دھک کرنے لگا . . اور اسکی خوشبو پریشا کو اپنے احساس مین لے رہی تھی . . پاریشا اپنی ہے سوچ میں گم تھے اچانک اس نے کان من سرگوشی کی . . چوڑیل کس کر پکڑنا ورنہ گر جاوگی . . وہ اپنے ہوش میں واپس آئی تو کہنے لگی کس کے پکڑا ہے . . فکر مت کرو ۔۔۔ پریشا نے شہریار کو نہیں پکڑا تھا بلکہ سیٹ کے تھوڑے سے حصہ کو پکڑ کر رکھا تھا ۔۔۔. . شہریار نے پھر کہا ڈَر تو نہیں جاوگی . . اس نے شہریار کو پیچھے سے گھوسا مارا۔۔ . . شہریار نے کہا چوڑیل یہ کیا حرکت ہے اترو میرے گھوڑے سے . . اس نے کہا ڈرتی تو میں کسی کے باپ سے بھی نہیں ہوں یہ گھوڑا کیا چیز ہے اپنی زبان بند رکھو گے تو اسا دوبارا نہیں ھوگا . . شہریار نے کہا دیکھتے ہے… وہ ڈر گئی کے کہی یہ بیگھرا ہوا امیرزادا پھر سے کوئی حرکت نا کرے . . کیوں کے وہ ہمیشہ اسکی شرارت کا جوب دیتا تھا . . اور انکی دشمنی بھی بہت گہری تھی. . پریشا نے اپنے اوپر آیت ال کرسی اور جو جو دعائیں یاد تھی سب پڑھ کر دم کر لے . . وہ گھوڑا آہستہ آہستہ چلنے لگا . . پریشا کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ آگئی . . بچو کی طرح وہ کہنے لگی وائو کتنا مزہ آ رہا ہے . . شہریار نے سوچا اب اسکو بتاتا ہوں کتنا مزہ آ رہا ہے . . اس نے گھوڑے کی سپیڈ بڑھانی چاہی پر پریشا کے مسکرانے کی آواز سے نہیں بھڑا سکا . . کیوں کے اسکے ہسنے سے شہریار کو پتا نہیں کیوں اچھا لگ رہا تھا . . وہ بھی اسکے مسکرانے پر آہستہ سے مسکرا پڑھا . . پر واپسی پر شہریار بھی شہریار تھا اسکو شرارت سوجی اور اس نے گھوڑے کی سپیڈ بڑھا دی اتنی کے پریشا چلانے لگی اور شہریار کو کس کے پکڑ لیا۔۔۔ پلیز آہستہ کرو مجھے ڈر لگ رہا ہے کہی ہم گر نا جائے وہ رونے والی ہوگئ . . شہریار نے اسکی ایک نا سنی اور زور زور سے قہقہے لگانے لگا . . چوڑیل میں نے کہا تھا نا ڈَر جاوگی . . ڈر گئی نا . . اب غلطی منو اور جلدی سے سوری بولو اور کہو کے تم ڈر گئی . . پریشا نے پریشانی کے مارے جلدی سے سوری بولا اور کہا میں ڈر گئے پلیز اب آہستہ کرو . . شہریار نے سپیڈ کم کی اور وہ رائڈ کر کے واپس آگئے . . تب پاریشا کی جان میں جان آئے اس نے شکر کیا اللہ کا . . ورنہ آج وہ مر جاتی . . شہریار نے ہاتھ دے کر اسکو نیچے اتارا اور وہ جانے لگی . . تب ہی شہریار نے پیچھے سے اسکو آواز دے . . آئے چوڑیل . . وہ مڑی اور شہریار کو دیکھنے لگی جو اسٹائلش ڈریسنگ کیے ہوے تھا۔۔ر رف طرح سے بال بانے ہوئے تھے. . دل دھڑکا دینے کی حد تک خوبصورت شہزادہ لگ رہا تھا . . پاریشا نے سوچا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو اِس میں اسا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ابھی کیوں یہ پھر اس نے اپنے دل کو قابو میں کیا . . اور سوچا یہ وہی ڈھیٹ انسان ہے ، مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتا . . جینا حرام کر رکھا . . اور شہریار کو مخاطب کیا… کیا ہے بھوت کہی کے . . اس نے کہا کتنی احسان فراموش لڑکی ہو رائیڈنگ کروائی یے تھینکس تک نہیں بولا اوپر سے مجھے بھوت بولا رہی ہوں چوڑیل اور زور سے قہقہ لگایا . . . . پریشا نے کہا رائیڈنگ کے بچے من تمیں بتاؤ گی رائیڈنگ کا . . . اور تم نے مجھے چوڑیل کہا اسی لیے میں نے تمیں بھوت کہا جنگلی . . . وہ جلدی سے اپنے دوستوں کی طرف بھاگی . . کچھ لڑکیاں اس پر ہنس رہی تھے اسکو بہت غصہ آرہا تھا . . شہریار اسکو جاتا دیکھتا رہ گیا کیسی عجیب لڑکی ہے . . کہاں سب لڑکیاں اس پر مرتی ہے . . اور ایک یہ ہے جو ہر وقت اسکی دشمن بنی پھرتی ہے . . . رات ہوگئی تھی اسی لیے سب واپس ہوٹل آگئے تھے ڈنر کر کے . .سب اپنا اپنا سامان بس میں رکھا اور رات میں ہی مری کے لیے نکل گئے کیوں کے مری میں یونیورسٹی کی پرنسپل کا فارم ہاؤس تھا جلدی سے جلدی وہاں پونچھ کر تھوڑا فارم ہاؤس من ریسٹ کرنے کا سوچا تاکہ پِھر وہ آرام سے مری گھوم ساکے… سب بس من بیٹھے ہوئے تھے تھوڑی دیر بعد سب تھکاوٹ کی وجہ سے سب سوگئے . . پریشا نے دیکھا سب سوگئے تھے اس نے اپنا کام کر لیا اور سوگئی . . مری پونچتے ہی ڈرائیور نے چلانا شروع کیا اگیا مری اٹھ جاؤ ساتھ ہی بس کی لائٹس بھی آن کردی . . سب آہستہ آہستہ نیند سے اٹھنے لگے اور جانے لگی . . پر پریشا طس سے مس نا ہوئے . . اسکے سارے دوست کوششوں میں لگے ہوئے تھے کسی طرح وہ اٹھ جائے پر وہی گدھے گھوڑے بیحچ کے سوئے تھی. . کوئی اس پر پانی بھی نہیں پھینک رہا تھا سردی کی وجہ سے کہی بیمار نا ہوجائے . . شہریار بھی اٹھا گیا سب اس پر ہنسی جا رہے تھے . . اس نے سب سے پوچھا کے ہوا کیا ہے کوئی اسکی بات کا جوب نہیں دے رہا تھا تب ہی حمزہ نے کہا دکھاتا ہوں اس نے اپنی موبائل کی سیلفیی دکھائے اور شہریار کا غصہ سَر چڑھ گیا اس نے پوچھا نہیں کے کس نے کیا ہے پر اسکو پتا تھا یہ کس کی حرکت ہوسکتی ہے وہ جلدی سے وانیزا اور سوہا کے پاس گیا جہاں وہ دونوں پریشا کو جگانے کی کوششیں کر رہی تھے . . لڑکے انکا سامان رکھنے اندر چلے گئے تھے . . اس نے دیکھا پریشا بالکل خاموش پڑھی ہوئی تھی بالکل ایک معصوم بچے کی طرح لگ رہی تھے شہریار نرم پڑھ گیا . . غصے کو ٹھنڈا کیا اور وانیزا سے پوچھا خیر ہے کیا ہوا اسکو . . سوہا نے مذاق کیا مر گئی خوش ہوجاؤ . . شہریار کی انکہے کھل گئے پر سوہا کی شرارت بھری شکل دیکھ کر کہا . . ہمہارے اسے نصیب کہاں . . اور یہ چڑیل اتنی جلدی نہیں مر سکتی ہے . . میرا خون جلائے بنا . . سوہا نے کہا یہ صحیح کہا تم نے . . کچھ نہیں ہوا اسکو تم لوگ تو پیچھے ہے پڑھ گئے ہو بیچاری میری دوست کے وانیزا نے ناراضگی بھرے لھیجے میں کہا . . . . شہیریار نے کہا مائی ڈیئر وانیزا . یہ چوڑیل آپکی دوست ہے نا شہریار نے ساوالیا نظروں سے وانیزا کو دیکھا . . . . سوہا نے کہا میری بھی ہے . . اوہ ہاں ہاں آپ دونوں کی . . لگتی نہیں جتنی آپ اچھی ہے اتنی یہ جان کا عذاب ہے… وہ دونوں اسکی بات پر غصے میں آگئی اس نے کہا غصہ تو نہ ہو آپ میں مذاق کر رہا تھا۔۔…ویسے آپکے فیس کو کیا ہوا ہے . . اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے سوہا نے بولا . . … . . . شہریار نے چہرہ بیگھارتے ہوئے کہا اِس سوئے ہوئے عاطما سے ہی پوچھیے گا کیا ہوا تھا . . ویسے میں اک کوشش کرو یہ اٹھ جائے گی . . وانیزا نے کہا کیسی کوشش شہریار نے کہا یہ آپ مجھ پر چھوڑ دے . . وانیزا نے کہا پہلے پرامس کرے آپ کوئی اسی ویسی حرکت نہیں کرے گے . . . شہریار نے ہنسی دباتی ہوئے کہا اب اتنا تو حق بنتا ہے سینیرز ہونے کے ناطع . . کیوں مس سوہا . ؟ ؟ سوہا پریشان ہوگئی کیوں کہ وہ شہریار کو جانتی تھی کہ وہ کیا کری سکتا ہے پر وہ مجبور تھی اس کو رکنے سے۔۔۔اور نہ ہی شہریار کو منع کر سکتی تھی اور نا ہی پاریشا کا غصہ ہینڈل کر سکتی . . وہ دونوں چُپ ہوگئ شہریار اپنا کام کر کا بس سے نکل رہا تھا میکال اسکے ساتھ نکالا . . اور اسے کہا مائی ڈیئر وانیزا . . اس نے شہیریار کی نقل کرتے ہوئے کہا… بغیرت انسان تھوڑی شرم کر لے . … شہریار نے کہا اتنا تو حق ہے کمینے . . اتنا کیوں جل رہا ہے . . میکال نے ہنس کر کہا ہاں کمینے مجھے پتا ہے۔۔… اور ساتھ میں فارم ہاؤس چلے گئے۔۔ . . . . وہ دونوں چُپ کر کے اسے دیکھ رہی تھے . . اور ساتھ ساتھ اللہ سے دعا کر رہی تھے یا اللہ پریشا کے غصے سے بچانا . . پریشا آخر کار اٹھ گئی . . . تو سوہا اور وانیزا کی ہنسی نکل گئے . . شہریار نے اسکی شکل بنائے بھی ایک کارٹون جیسی تھے . . کسی کو بھی ہنسی آ سکتی تھے . . پر پریشا نے نیند میں ہونے کی وجہ سے دہاں نہیں دیا۔۔ دونوں نے ہنسی کو زبت کر دیا۔۔ . . کیوں کے پریشا کا غصہ وہ اِس وقت ہینڈل نہیں کر سکتی تھی . . اور جب تینوں روم میں جا رہی تھے سب پریشا پر ہنس رہی تھی پر اسکو ہوش نا تھا وہ ابھی بھی نیند مین تھے اور سیدھا جا کر اپنے بیڈ پر گر گئے . سوہا اور وانیزا اسکو کہہ رہی تھے اپنا فیس واش کر کے سو پر اس نے کہا ابھی اتنی سردی میں پاگل ہوگئ ہو اور ویسے بھی مجھے نیند آ رہی ہے کہہ کر سوگئے . . . مری میں بھی بہت ٹھنڈ تھی . . سب نے گرم کپڑے لیے ہوئے تھے کچھ سٹوڈنٹ برف باری کا مزہ لے رہے تھے تو کچھ آرام کرنے کے لیے اپنے اپنے رومز میں چلی گئے . . صبح سب سویرے اٹھے وہاں پر کک تھا جس نے سب کے لیے ناشتہ بنایا ہوا تھا وہ کر کے سب نکلنے کی تیاری کر رہے تھے . . . واشرومس کے باہر تو جیسے رش لگا گیا تھا . . لڑنے لاڑانے پر اُتَر آئے تھے کے پہلے میں جاؤ پہلے میں . . جتنے بھی واشرومس
ہوتے پر اتنے سارے اسٹوڈنٹ کے لیے کم ہی پڑھ جانے تھے . . پاریشا واشروم گئے تو اپنے چہرے کو دیکھ کر چیخنے لگی اور باہر نکل آئے . . اسکے باہر نکل آنے پر انکی کلاس فیلو صدف باتھ روم مین گُھس گئے . . یہ کس نے کیا ہے وہ پوچھنے لگی سوہا کی شکل پریشانی والی ہوگئ وانیزا بھی چُپ کھڑی رہی تب ہی پریشا نے اندازہ لگایا کے شہریار کا کام ھوگا اور یہ سب رات کو ہوا ہے تب ہی سب اس پر ہنس رہے تھے اور اسکی دوستوں نے اسکو بتایا تک نہیں اور ہے شہریار کو روکا بھی نہیں . . اس نے کہا پہلے میں اسکو دیکھ کر پھر تم لوگوں کو دیکھو گی . . وانیزا کا کہا تم ہمیں مار دو تنگ کرو پر ابھی شور مت کرنا خامخا مزہ کر کیرا ہوجائے گا پلیز مزے کرنے آئے ہے نا کے لڑنے اسی لیے چھوڑو۔۔ . . سب ریڈی ہوکر اپنے اپنے روم سے نکل کر بھر لائونج میں آگیا تھے . . جہاں پریشا کی نظر شہریار پر گئے جس نے گرے ہائی نیک پہنی ہوئے تھی اس پر لانگ جاکٹ پہنی ہوئے اور اپنے ہاتھ پینٹ کی پوکٹس میں ڈالے ہوئے تھے ہمیشہ کی طرح رف بال بنائی ہوئے تھے اور سب سے ہینڈسم لگ رہا تھا ہلکے باقی لڑکے بے بہت ہی اسٹائلش اور خوبصورت تھے پر پریشا کو ہمیشہ سے شہریار کی ہے پرسنیلیٹی اٹریکٹ کرتی تھی وہ اس سے نفرت بھی کرتی تھے پر اسکو جب بے دیکھتی پہلے نظر من اپنے ہوش کھو بیٹھتی تھی. . . پھر آہستہ آہستہ خود کو کمپوز کرتی تھی اور یاد کرتی کے اس نے کتنا تنگ کیا ہے اسکو پھر اسکا غصہ ساتوی آسمان پر آجاتا تھا . . . اور رات والی بات تو ابھی اسکے دماغ سے نہیں نکلی تھی . . سب سے پہلے انہوں نے مری کی بہت سارے جاگھاو کی سیر کی . . پھر لڑکیوں نے بازار جانے کی ضد کی تو ٹیچرز نے بس من بیٹھے اسٹوڈنٹ کے ساتھ مین گروپ بنا دیئے . . کیوں کے پریشا اور شہریار والے ساتھ بیٹھے تھے تو انکے 2 گروپ بنوا دیا . . شہریار اور میکال اپنی طرح سے ٹیم بنانا چاہتی تھے پر لڑکیوں کے اگے چُپ ہوگئے …کیو کے لڑکیوں نے پہلے ہی گروپ بنا لیا تھا… سوہا ، وانیزا ، ثانیہ ساتھ تھے ان کے ساتھ جنید ، فارس اور نعمان تھے جب کے حفصہ ، پاریشا اور ساتھ من اذان ، شہریار اور میکال ساتھ تھے حفصہ اور پاریشا شاپنگ میں اتنی مشغول تھی کے کسی کا ان کو ہوش نا تھا . . ایک لڑکا انکا کب سے پیچھا کر رہا تھا . . وہ شہریار والو کو پیچھے چھوڑ چکی تھی کیوں کے وہ تیز تیز چل رہی تھیں اور شہریار والے اتنا تھک گئے تھے کے آہستہ آہستہ چلنے کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے . . حفصہ کو اس لڑکے پر شک ہوا اس نے پریشا کے کان میں کچھ کہا اور تھوڑی دیر بعد اسکو آنکھ کا اشارہ کیا اور اچانک سے ایک نے اس لڑکے کو پکڑا تاکی وہ بھاگ نا سکے . . دوسری نے اسکو مرنا شروع کیا . . شہیریار ، میکال یہ دیکھ کر انکی طرف دوھرے اور ان کو روکنا چاہ پر وہ دونوں کسی کی نہیں سن رہی تھی ان دونوں پر تو جیسے بھوت سوار ہو گیا تھا . . میکال نے شہریار کو کہا یار چھوڑ دے کہی یہ ہمیں بی نا اوپر پونچھا دے. .
شہریار نے کہا ابحے پاگل ہو گیا ہے کیا ان دونوں وحشی جانوروں کو اسے کیسے چور دو بچھارے کو مار دین گی . . سب لوگ ان کو گہرے ہوئے تھے . . اذان تھوڑی دیر بعد آیا تو اس نے میکال سے پوچھا ان کو کیا ہوا ہے… میکال اور شہریار انسے تھوڑا دور ہوکر کھڑے ہوگئ تھے . . میکال نے کہا جن چڑھ گیا ہے. . تو روکو نا ان کو پوچھو تو سہی کیوں بیگناہ کو مار رہی ہے اذان نے وہشت سے کہا۔۔۔ میکال نے نارمل لہجے میں کہا ابحے تجھے کیا لگتا ہے ہم نے کوشش نہیں کی دونوں پاگل ہوگئے ہے ہم کو ہی نا مار دے اسی لیے ہم پیچھے ہوگئ ہے تو بی مت جا شہریار نے بے سَر اثبات مین ہلاایا… شہریار اور اذان دونوں پریشان ہوکر انکی طرف دیکھ رہے تھے جو اس لڑکے کا کچومر بنا رہی تھے میکال نے دونوں کو پیچھے سے کان مین کہا کے پتہ نہیں تم لوگوں کا کیا ھوگا . . اذان اور شہریار نے نا سمجھی سے مڑ کر پیچھے دیکھا اور میکال کو دیکھنے لگےی . . اذان نے پوچھا بھائی کہنا کیا چاہ رہا تو . .
میکال نے ہنسی دباتی ہوئے کہا شادی کے بعد تو تم لوگوں کو پٹک پٹک کے مرے گی . . اذان کی آنکھیں بڑی ہوگئی اور کہنے لگا بھائی میں تو مذاق کرتا تھا میری مت ماری گئی ہے کیا اِس ڈاین کو اپنی بِیوِی بناؤ ( اذان ہمیشہ حفصہ کے ساتھ فیلرٹ کرتا تھا حفصہ اسکو اگنور کرتی تھے کے پاگل ہے کیوں کے اذان ہر لڑکی کے ساتھ فری ہوجاتا تھا . . حفصہ اذان کو باض اجانے کی دھمکی دیتی تھی . پر اذان باض کہاں آتا تھا . . ہر وقت اسکو امپریس کرنے کے موقع ڈھونڈتا تھا . . جب جب اذان حفصہ کے ساتھ فیلرت کرتا تب تب میکال اور شہریار ، اذان کو بہت تنگ کرتے تھے کے یہ تیرے سے نہیں پٹی گی بیٹا . . پر اذان کہتا تھا دیکھنا ایک دن تم دونوں کی بھابی بناؤ گا حفصہ کو . . …اذان ہر لڑکی کے ساتھ فیلرت ضرور کرتا تھا پر حفصہ کے لیے سریس تھا . .
شہریار نے میکال کی گردن اپنے بغل میں دحبوچی اور کہنے لگا تو بعض نہی آتا واہییات بتائے کرنے سے تجھے کتنی دفعہ مناہ کیا ہے کے اسکو بھابی نا بولا کر…ایک بار پھر اسکو اپنی بھابی بولا نا تو جان لے لوگا مین تیری . . اذان کہہ رہا تھا ابھے شہری کہہ کیا رہا ھ . . آج یہ کام کر دے . . اذان شہریار کو اکسا رہا تھا . . اور شہیریار گھوسے بنا بنا کے میکال کے پیٹ میں مر رہا تھا میکال پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔ وہ پھر بھی یہی کہ رہا تھا سچ کڑوا ہوتا ہے۔۔۔ وہ سب آپس میں لگے ہوئے تھے اتنے میں حفصہ اذان کے پاس آئی اور اسکو مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگی . . اذان کے بچے ویسے تو تو بڑا ہیرو بنا پھرتا ہے اور آج ہم سے پوچھنے تک نا آئے کے ہم اس لڑکے کو کیوں مار رہے تھے . . ہماری مدد ہے کر دیتے . . پریشا بی اذان کے ساتھ کھڑی ہوئے تھی…
حفصہ کے پیچھے میکال اور شہریار کھڑے بنگڑے ڈال رہے تھے اذان کو چڑھانے کے لیے . .
پاریشا ان دونوں کو دیکھ کر ہنس رہی تھی ، اذان ان دونوں کو آنکھے دیکھا رہا تھا پر وہ کہاں اسکی سننی والے تھے . . حفصہ اذان کی اچھی خاصی کلاس لینے کے بعد شہریار اور میکال کی طرف پالٹی… اب انسے شکوے شکایت کرنے لگی کے تم لوگوں کو پتہ بھی ہے وہ لڑکا ہمارا پیچھا کر رہا تھا پر تم لوگوں نے اسکو کچھ نہیں کہا یہ تو شکر ہے میرے ساتھ پریشا تھے . . . اب اذان کی باری تھی وہ پیچھے سے بنگڑے ڈال کر ان کو چڑا رہا تھا . .
شہریار نے بھی موقع پر چوکا مارا . . اور حفصہ سے کہا یار ہم تو آگئی تھے تم لوگوں کو بچانے کے لیے یہ اذان ، ہاں اذان نے ہمیں روک دیا کے مت جاؤ یار خامخا تم لوگوں کو ہی
نا پٹخ دین دونوں پر بھوت سوار ہے تمہیں تو پتا ہے کتنا ڈرپوک ہے۔۔ . . اذان کی جیسے ہوائے نکل گئی . . وہ وہی کا وہی کھڑا رہ گیا کے یہ کیا کہہ دیا اِس نے . . حفصہ اذان کو دیکھنے لگی تب ہی اذان نے گھبرا کر کہا یار قسم اٹھوا لو ان دونوں کمینے انسانوں نے ہے مجھے روکا تھا کے مت جاؤ جنگلی بلیاں ہوگئ ہے . . میکال نے جھٹ سے کہا ابحے اذان جھوٹ نا بول . . اگر تو جانا ہی چاہتا تھا تو چلا جاتا ہمہارے کہنے پر کیوں آیا . . حفصہ نے اپنے ہاتھ کمر پر رکھ کر ایک آئی برو اوپر کر کے اذان کو دیکھا اور پوچھا اب بولو . . اذان نے کہا یار حفصہ یقین کرو تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے . . میں تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں . . حفصہ نے غصے سے اپنی مُٹھیا بینچ لے . . اور اپنا پیر زمین پر دے مارا . . شہریار اور میکال اپنی ہنسی کنٹرول کر رہے تھے اذان کی شکل دیکھنے والی ہوگئ تھی . . ثانیہ نے پیچھے سے آواز دے . . شہری شہری… . شہیریار نے پیچھے دیکھا وہ سب ساتھ آرہے تھے . .
لڑکیاں ساتھ ہوگئ . . پر لڑکوں کی تاکرارے چل رہی تھی… شہیریار میکال اور اذان نے جنید ، فارس اور نعمان کے ناک میں دم کر رکھا تھا . . ہر وقت ان پر روب جماتے . . جنید والے چُپ کر کے انکا ہر حکم ماًن لیتے . . کیوں کے پاریشا بھی ان کے ساتھ نا تھی اسی وجہ سے وہ چُپ ہوگئ . . کہی کچھ کرنا بھاری نا پڑھ جائے . .
پاریشا نے گول گپو کی دکان دیکھی وہاں پر سب لڑکیاں گئے . . پریشا نے سب کو چیلنج کیا کے کون اسکے ساتھ کمپیٹیشن کرے گا سب پیچھے ہوگئ پر اذان نے شہریار کو دھکا دے کر اگی کیا کہ… ہمارا شیر شہریار تمھارے ساتھ کمپیٹیشن کرے گا پر ایک شرط ہے . . شہریار نے اذان کو غور کر دیکھا . . اذان نے کہا ابحے ہمت کر . . اگر ہم جیت گئے تو اُن سے کچھ بھی کروا سکتی ھ . . پاریشا نے پوچھا کیسی شرط . . اذان نے فوراً جواب دیا اگر ہم جیتے تو تم لڑکیوں کو جو ہم کہے گے وہ کرنا پرے گا . . اور اگر تم لوگ جیت گئے تو جو تم لوگ کہو گی وہ ہم کرے گے . .
میکال نے اذان کے کان میں کہا ابحے پاگل ہو گیا ھ کیا اگر ہم ہار گئے تو ان لڑکیوں نے فضول چیزیں کروانی ہے ہم سے اور یہ گول گپا کمپٹیشن ہے کوئی کار یا بائیک راسنگ نہیں نا ہے سنگِنگ . . . . اذان نے کہا مجھے اپنے یار پر پورا بھروسہ ہے یہ جیت لے گا . . شہریار نے کہا بوکواس بند کر کمینے کہاں پھنسا دیا ہے . .
سوہا نے زور سے کہا ہاں منظور ہے چلو اسٹارٹ کرو . . شہریار اور پریشا آمنے سامنے بیٹھ گئے مقابلہ شروع ہو گیا . . شہریار نے پہلا گول گپا ڈالتے ہے خاسنا شروع کر دیا اور اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے . . . . پریشا کی ہنسی نکل گئی اور شہریار اٹھ کر پانی پینے لگا۔۔۔ بہت مرچے تھی گول گپو میں . پریشا نے طنزیہ مسکراتے ہوئے شہریار سے کہا کیوں امیر زادے اتنے میں ہی ہوا نکل گئے . . شہریار نے کچھ نا کہا لڑکیوں نے شور مچانا اسٹارٹ کر دیا کے ہم جیت گئے ہم جیت گئے . . اذان نے حفصہ کے کان میں کہا تم ہماری دوست ہو یا انکی . . حفصہ نے کہا تم نے ہے کہا تھا . . اب بکتو۔۔۔…
سب لڑکیوں نے اپنے شاپنگ بیگس لڑکوں سے اٹھوایے اور سارے شاپنگ کے پیسے ان سے نکلوائے
جاری ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: