Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 5

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 5

–**–**–

سب فارم ہاؤس واپس آ چکے تھے . . سارا دن گھومنے کے بعد بہت تھک گئے تھے . . ڈنر کر کے سب اپنے رومز کی طرف چلے گے باقی کچھ ابھی بھی فل اینرجی میں تھے اور انجوئے کر رہے تھے . . پریشا کو اپنے بابا کو کال کرنی تھی پر موبائل میں سگنلز نہیں آ رہے تھے . . اس نے کہا شاید باہر آ جائے پر وہ باہر اکیلے کیسے جاؤ جنید کو دیکھتی ہوں اور اسکے ساتھ باہر جا کر فون کر لونگی بابا کو۔۔۔. . جنید کے روم من گئی تو سارا روم خالی تھا . . تھوڑا اگے جھانک کر دیکھا تو نعمان بیٹھا ہوا تھا . . اس نے اسکو بتایا کے وہ یہاں کیس لیے آئی ہے تو نعمان نے کہا چلو چلتے یے . . پریشا نے دیکھا سب لڑکو کا بیڈ صاف تھا ایک بیڈ ہی بھرا ہوا تھا اس نے نعمان سے پوچھا یہ کس کا بیڈ ہے پُورا بھرا ہوا جنید نے بتایا کے یہ بیڈ شہریار کا ہے . .
پریشا نے کہا ھھم لگ بھی اسکا رہا جو اپنے بال تک سیٹ نہیں رکھتا وہ اپنے بیڈ کو کیا سیٹ رکھے گا . . وہ دونوں باہر آگئی پریشا بابا سے بات کرنے کہ بعد واپس اپنے روم میں جانے لگی تب ہی اسکو لڑکیاں باہر آتے نظر آئی ان میں وانیزا اور سوہا بھی تھی اس نے وانیزا سے پوچھا کے باہر کیوں جا رہی ہو۔۔۔ اس نے بتایا کے سب آپس میں مل کر کوئی گیم کھیلنا چاہ رہے ہے۔۔ ہمیں بھی نیند نہیں آ رہی تھی اسی لیے سوچا۔۔ ھم بھی کھیلتے ہے۔۔ . . پریشا نے منہ بگھار کر کہا ہیں کےسا گیم ؟ اس نے کہا مجھے بھی نہیں پتہ کےسا گیم . . باہر چلو تو پتہ چلے تم بھی چلو۔۔۔… وہ باہر آہی تو۔۔۔ وہاں پر کچھ لڑکے موجود تھے . . اور کچھ لڑکیاں . . میکال نے کہا سب آگئے . . چلو گیم اسٹارٹ کرتے ہے. . میکال نے بتایا کے ھائیڈ اینڈ سیک کھیلے گے . . پر ایک لڑکا ھوگا ایک لڑکی . . سب نے اپنی جوڑی بنا لی . . پر پریشا اور شہریار اور کچھ بوائز رہ گئے . . جو پریشا کی کلاس کے تھے . . پریشا نے دل میں سوچا کے اب میں کس کے ساتھ بناؤ ان ٹھرکیون کے ساتھ تو بالکل نہیں بناؤ گی اور اِس بیگھری ہوئے امیر زادے کو پِھر بھی بنا سکتی ہون… کچھ بھی ہو آج تک اس نے مجھے بری نظر سے نہیں دیکھا بلکہ سہی طرح سے بھی نہیں دیکھا ھوگا . . تبھی اس نے کہا میں شہریار کے ساتھ اپنی ٹیم بنا رہی ہوں اس نے جوڑی کہنے کے بجائے ٹیم کہا . . . . شہریار نے حیرت سے اسے دیکھا اور زیر لب مسکرایا۔۔ . . گیم اسٹارٹ ہو گیا سب چھپنے کے لیے دوڑے ایک جوڑی وہی رک گئی . . کیوں کے وہ سب کو ڈنڈے گے . .
شہریار اور پریشا چھپنے کے لیے جگا ڈھونڈ رہے تھے شہریار جو جاگا ڈھونڈتا پریشا کو پسند نا آتی اور یہ کہہ کر ریجکٹ کر دیتی کے یہاں سے آرام سے پکڑیے جائے گے کوئی اور جگا ڈھونڈو . . . . فارم ہاؤس کے پیچھے ایک اسٹور روم تھا۔۔۔
پریشا نے شہریار سے کہا وہاں چلتے ہے دونوں اندر چلے گے اک بلب کی روشنی تھی باقی اندھیرا تھا شہریار نے دروازہ کھولا چھوڑ دیا . . پریشا نے بند کر دیا یہ کہہ کر کے ان کو شک ہوجائے گا کے ہم یہاں پر ہے . . شہریار نے بے کاندھے اچھکا کر کہا او کے . . جیسے ہے دروازہ بند ہوا وہ دونوں وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے . . شہریار نے پریشا کو تنگ کرنے کا سوچا . . اس نے پریشا کو کہا ویسے کتنی چالاک ہو تم . . پریشا نے آنکھیں چھوٹی کر کے ایک آئی برو اوپر کی . . اس نے کہا سب کے سامنے مجھے سے نَفرت کرتی ہوں اور جب جوڑی بنانے کی بات آئی تو میرا نام لے لیا . . ویسے میں ہوں بھی اتنا ہینڈسم کے ہر لڑکی مجھ پر فدا ہوجاتی ہے . . میرے پاس پیسا بھی بہت ہے کا ہر لڑکی میری گرل فرینڈ بنانا چاہتی ہے پر میں تم جیسیون کو منہ تک نہیں لگتا ہون…امیر اور ہینڈسم لڑکا دیکھا نہیں کے چپک جاتی ہے . . بٹ تم سب سے چالاک نکلی تم نے الگ ہی پلان بنایا مجھے پھسانے کا۔۔ اچھی طرح سے اٹینشن حاصل کی ہے۔۔۔ اور اب جب تم نے دیکھا کہ میں تمہیں گھاس نہیں ڈال رہا تو خود ہی قریب آنے کی کر رہی ہو … مان گئے اور آہستہ سے تالیان بجانے لگا پریشا کا چہرہ بغر گیا اور جھٹ سے بولی… او ہیلو مسٹر بیگھری ہوئے امیر زادے تمھاری ہمت کیسے ہوئے مجھ پر اتنا بڑا الزام لگانے کی . . وہ اپنی انگلی اٹھا کرا بول رہی تھی… اپنی حد میں رہو . . تم کیا مجھے منہ لگاؤ گے . . میں تمھارے جیسو کو دیکھو بھی نہیں . . میں تمھاری ان لڑکیوں کے طرح نہیں ہوں جو لڑکوں پر مرتی ہے . . ( پریشا شہریار کی کلاس فیلو لڑکیوں کے بارے من بول رہی تھی جو ہر وقت شہریار کے اگی پیچھے گھومتی ہے اور شہریار بھی کبھی کا بار ان سے بے تکلف ہوجاتا تھا ) . . اور جہاں تک جوڑی بنانے کی بات ہے تو تمہیں بتا دون… ہو تو تم بدتمیز اور بیگھری ہوئے امیر زادے پر مجھے لگا لڑکی کو گندی اور بری نظر سے نہیں دیکھتے ہوں اسی لیے میں نے تمہیں چوز کیا وہ دونوں لڑکے ہی آوارہ ہے عجیب نظروں سے دیکھتے ہے اسی وجہ سے میں نے سوچا ان کے ساتھ اکیلے من سیف نہیں ھوگا . . پر تمھاری تو اور ذیادہ گندی ذہنیت ہے۔۔… . من اسی ویسی لڑکی نہیں ہوں اپنے گندہے خیالات اپنے پاس رکھو پڑھنے آئے ہوں نا کے آوارہ گردیان یا لڑکو کو پھسانے کے لیے . …شہریار کو بہت برا لگ رہا تھا کے یہ اس نے کیا کہہ دیا . . نہیں کہنا چاہئیے تھا اسکو۔۔ اس لڑکی نے اس پر بھروسا کیا اور اس نے مذاق میں ہی اس کا اعتبار توڑ دیا… .ساتھ ساتھ اسکو پریشا کا بھروسہ کرنا اچھا لگا . . . . پریشا بینچ پر بیٹھ گئی . . اور دونوں خاموش ہوگے . . پر بہت دیر گزر جانے کے بعد جب کوئی نا آیا تو پریشا نے کہا واپس چلتے ہے سب نکل آئے ہونگے شہریار نے بے سَر اثبات میں ہلایا . . دونوں خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھ گئے . . دروازہ کھولنا چاہ پر دروازہ کھل نہیں رہا تھا . . بہت کوششیں کرنے کے بعد بھی کچھ نا ہوا پھر دونوں نے مل کر بھی زور لگائے پر دروازہ کھولنے کا نام ہے نہیں لے رہا تھا . .
آدھے گھنٹے کے بعد سب لوگ مل گئے تھے باقی رہ گئے تھے پریشا اور شہریار . . وہ ان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے پر انکا آتآ پتہ نہیں لگ رہا تھا . . آخر کر سب اپنے اپنے رومز میں چلے گئے کے خود ہی آجائے گے . .بہت دیر گزرنے کہ بعد بھی سب اپنی اپنی بتاؤ میں مصروف تھے کسی کو یاد ہی نہیں رہا کے پریشا اور شہیریار ابھی تک نہیں آئے ہے . . وہاں شہریار کا غصے سے برا حال تھا کب سے کوششیں کیے جا رہے تھا پر دروازہ نہیں کھولا۔۔۔۔ پریشا نے بہت آوازیں بھی دی کے شاید کوئی سن لے موبائل کے سگنلز بھی نہیں آ رہے تھے … پر باہر سے بھی کوئی جوب نا آیا . . تھک ہار کر وہ اسٹول پر بیٹھ گئی ، شہریار یہاں وہاں چکر لگا رہے تھا اس نے اپنی پوکیٹ سے سگریٹ کا پیک نکل کر سگریٹ پینا اسٹارٹ کر دیا تھا پریشا کو سگریٹ کی خوشبو اریٹیٹ کر رہی تھی . . وہ چُپ نا رہ سکی اور بول دیا . .
آئے بیگھری ہوئے امیر زادے یہ سگریٹ پی کر کیوں اپنے آپ کو مارنا چاہتے ہوں . .چلو اگر مرنے کا اتنا ہی شوک ہے نا تو باہر جا کر مرنا میرے سامنے یہ مت پیو میں بھی نا تمھارے ساتھ مر جاؤ . . پریشا
شہریار کے پشت کو دیکھ کر بول رہی تھی . .
شہریار نے اپنا چہرہ اسکے سامنے کیا غصے سے لال ہو رہا تھا . . اس نے کہا اسے کیا دیکھ رہے ہوں غصے سے کہی پھٹ نا جاؤ سچ تو کہہ رہی ہوں . . ویسے سچ کڑوا ہوتا ہے پر سچ سچ ہوتا ہے . . وہ بولتی جا رہی تھی بولتی جا رہی تھی شہریار کی برداشت جواب دے گئے اس نے پریشا کا ہاتھ پکڑا اسکو اسٹول سے نیچا اتارا اسکی نازک کلائی کو اپنے مضبوط ہاتھ سے دبا رہا تھا اپنی ڈارک برائون کلر کی آنکھیں گرے آنکھوں پر جمع دی . . پریشا نے کہا what the hell are you doing?. . Its hearting… leave me..… اس نے کہا سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے ، نا تم دروازہ بند کرتی نا ہم یہاں پھستے… اتنے میں پریشا کے آنکھوں میں آنسوں آگئی شہریار کا اتنے مضبوطی سے ہاتھ پکڑنے پر اسکو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔۔ بہت بہادر بننے کی کوشش کی پر ناکام ہوگئی ۔۔۔ شہریار سے اسکے آنسو چُپ نا سکے اسکے دل کی اک بیٹ مس ہوئی . . . . پریشا نے جلدی سے اپنا چہرہ نیچے کیا وہ اسکے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔

اس نے پریشا کا ہاتھ چھوڑ دیا . . اور پھر سے سگریٹ پھونکنے لگا . . پاریشا نے تھوڑی دیر بعد کمپوز ہوکر کہا اب کیا کرے کچھ سوچو ہم یہاں کب تک رہ سکتے ہے . . مجھے بہت بھوک لگی ہے . . شہریار نے کہا سب تمھارا کیا ہوا ہے اب بحوکتو جب تک کوئی نہیں اتا ہمیں اسے ہی ویٹ کرنا ھوگا . . پریشا نے آہستہ سے کہا جن کہی کا . . شہریار نے بھی سن لیا اتنی خاموشی تھے وہاں . . وہ ہلکا سا مسکارایا…
2 گھنٹے مزید گزر جانے کے بعد جب کوئی نا آیا تو دونوں کی پریشانی بڑھ گئی . . اب شہریار نے پریشا کو کہا کے موبائل کی لائٹ جلاؤ تاکہ یہاں وہاں دیکھ سکے کہی سے کوئی مدد مل جائے . . باقی تو کمینے میرے دوست لگتا ہے بھول گئے ہے مجھے ابھی تو انکی زندگی مین لڑکیاں آئی نہیں ابھی سے یہ حال ہے آگے پتا نہیں کیا کرے گے سالے . . وہ بڑبڑا رہا تھا پریشا سن رہی تھی…
وہاں پر لوہے کا بڑا سا اور موٹا ڈنڈا پڑھا ہوا تھا شہریار نے وہ اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھا پریشا بھی اسکے پیچھے پیچھے آ رہی تھے . .
شہریار نے اپنی پوری طاقت سے وہ ڈنڈا دروازے میں دے مارا اتنی دفعہ مرنے کے بعد بھی دروازہ ٹوٹا نہیں . . آخر کر وہ تھک ہر کر بیٹھ گیا . . . پاریشا کا بھوک سے برا حال ہو گیا تھا . . بھوک اسے برداشت نہیں ہو رہی تھے اور چکر بھی آ رہے کب سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا۔۔ . . اتنے میں باہر سے کسی کی آواز آئے . . . شہریار نے پریشا کی حالت دیکھی تو اسکو اشارہ کر کے بیٹھنے کا کہا اور خود دروازے کی طرف بڑھ گیا . . اس نے زور زور سے پوچھا کوئی باہر ہے . . ہم یہاں پر پنھس گئے ہے . . . . دروازہ بھی خٹخٹایا … باہر سے آواز ایی… من کچھ لیکر اتا ہوں آپ تھوڑا انتظار کریں… اس نے کہا او کے ہم انتظار کر رہے ہے . .
باہر سے ایک آدمی نے کہا کہ وہ کچھ لے کر آرہا ہے۔۔ جب تک تھوڑا انتظار کرنا۔۔اچھا۔۔۔ پریشا نے نڈال سے لہجے میں کہا
شہریار نے اپنی پاکیٹ سے چاکلیٹ نکل کر پریشا کے آگے کیا پر پریشا نے دیکھ کر منہ اُدھر کر دیا . . شہریار ہلکا سا مسکرایا . . اور کہا چوڑیل کھا لو ورنہ مر جاؤ گی…خوش ہوجاؤ تمھاری جان چھوٹ جائے گی۔۔اور ہاں اس نے مزید کہا مرجاؤ گی پر تمھارا نہیں کھاؤ گی . . ورنہ پھر گندی ذہنیت سے الزام لگاو گے اور اتنی سی چاکلیٹ سے میرا کونسا پیٹ بھر جانا ہے . . . وہ منہ دوسری طرف کر کے بات کر رہی تھی . . . . وہ پِھر سے ہلکا سا مسکرایا . . کوئی الزام نہیں لگاؤ گا کھا لو پیٹ نہیں بھرے گا پر تھوڑی اینرجی آجائے گی اس نے نرمی سے کہا… ویسے کتنا بولتی ہوں اللہ مافی…ویسے ہمہارے ایسے نصیب کہاں کہ اتنی جلدی مر جاو اور ہماری جان بخش دو۔۔۔خیر میں بتا رہا ہو اگر تم بے ہوش ہوگئ تو میں تم جیسی موٹی کو کیسے اٹھا سکو گا . . . اس نے شرارت سے کہا اور اپنی ہنسی کو دھبا لیا . .
پریشا نے اپنا چہرہ اسکی طرف کیا اور گوسا لگایا میں تمہیں موٹی لگتی ہوں . . تم خود ہوگے موٹے سانڈ . . . . شہریار نے کان پکڑ لیا اور کہا بس بس میری ماں اب شروع مت ہوجانا۔۔۔ میں توبہ کی۔۔۔ . . اور اس طرح غور کر مت دیکھو ڈر لگتا کہی کہا نا جاو۔۔۔ . . ماں بابا کا لاڈلا ہوں . . ان کو پتہ چلا نا کے ان کے بیٹے کو ایک چوڑیل کھا گئی تو وہ ضرور تمہیں دیکھنا چاہے گے . . وہ معصوم شکل بنا کر بول رہا تھا . . پریشا اسکے معصوم چہرے کو دیکھتی ہی رہ گئے . . اسکو ہنسی آ رہی پر اس نے اپنے آپکو کنٹرول کیا اور شہریار کے ہاتھ سے چاکلیٹ چین لی . . شہریار نے کہا چوڑیل آرام سے نہیں لی سکتی تھی اتنے لمبے ناخن مار دے… جنگلی بلی…
پریشا نے چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور. . چاکلیٹ کھانے لگی ایک بائٹ لیکر کہا اگر دوبارہ پنگا لیا نا تو اور تیزی سے مارو مسٹر بیگھری ہوئے امیرزادی . .
اس نے کہا مار کر تو دیکھاو چوڑیل . . جان لے لو نگا میں تمھاری . . میں چوڑیل تو تم بھوت . . تم ڈاین . . تم بھوکے شیر ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑتے ہو… اور تم جنگلی بلی ہر وقت مارنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہو . . ابھی پھر سے انکی لڑائی شروع ہونے جا رہی تھی کے دروازے سے آواز آ رہی تھے جیسے کوئی دروازے کو کچھ مر رہا ہو . . دونوں کو لگا کوئی آیا ہوگا. . اچھا ہوا کوئی اگیا ورنہ یہ لڑائی پوری رات تک چلنی تھی. . بلکہ تب تک چلتی جب تک کوئی ان کو روک نا لیتا . . تیسری جنگ عظیم شروع ہوجاتی . . پریشا اور شہریار دونوں دروازے کی طرف بھڑنے لگے کے پریشا کو چکر اگیا وہ گرنے لگی کے شہریار نے اسکو اپنے دونوں ھاتھوں سے پکڑ لیا… اسنے اپنی گرے آنکھوں سے اسکو دیکھا جس کے چہرے پر شرارت تھی . . جلدی سے اپنے آپکو اسے چھڑیا . . اور اگی بھر گئی . . شہریار اسکو جاتا دیکھ رہا تھا . . اور مسکرا کر آہستہ سے کہا چوڑیل … . دروازہ کھل گیا . . دونوں باہر نکل آئے رات ہونے کہ وجہ سے سردی بڑہ گئی تھی سردی کی وجہ سے انکا جسم آکڑ رہا تھا . . پریشا نے صرف شاوال اُڑی ہوئی تھی . . جس کو اپنے جسم پر پوری طرح سے لاپیٹ دیا تھا . . ایک آدمی کھڑا تھا جو وہاں کا رکھوالا تھا . . اس نے ان دونوں سے معافی مانگی اور انسے ریکویسٹ کی کہ یہ بات وہ کسی کو نا بتائے . . ورنہ اسکی جاب چلی جائے گی . . اس ادمی نے کہا کے صاحب نے پیسے دیئے تھے نیا دروازہ لگوانے کے پر میں نے اپنی بِیوِی کے علاج کی وجہ سے پیسے وہی خرچ کردیئے . . اب جب سیلری ملی تو پکا لگوا دونگا . . شہریار نے کہا چچا ڈونٹ وری ہم کسی کو نہیں بتائے گے . . کیوں چوڑیل . . پریشا نے دانت چبا کر اسکو دیکا… اور سر ہلا کر اس آدمی کو یقین دلایا . . اس آدمی نے دونوں کا شکریہ ادا کیا… شہریار نے اپنی پاکٹ سے والٹ نکالا اور اس میں سے کچھ پیسے نکل کر اس آدمی کو دیے۔۔ اور کہا دروازہ بھی لگوا دینا باقی جو بچ جائے اپنے پاس رکھ دینا . . اس آدمی نے کہا نہیں بیٹا میں یہ نہیں لے سکتا . . شہریار نے زور دے کر ان کو چُپ کروایا اور کہا بس کسی کو بتائے گا مت . . اس آدمی نے بہت دعائیں دی شہریار
کو . . اس نے بھی کہا بس دعاؤں میں یاد رکھیے گا ہم چلتے ہے . . پریشا اسکی نرم لہجے پر دھنگ رہ گئی . . کیا یہ اسا بھی ہے ورنہ تو ہر وقت خون جلاتا ہا میرا . . پریشا نے کہا بس دکھاوا کر رہا ھوگا کے کتنا پیسہ ہے اسکی پاس۔۔۔ . . لڑکیوں کو پھسانے کے طریقے تو یہ کرتا ہے اور الزام لڑکیوں پر۔۔۔ . . بھوت… . وہ دونوں گھر کی طرف بڑھ گئے . . شہیریار اور پریشا دونوں تپے ہوئے تھے کے ان کے کسی دوست نے ان کی خبر تک نہیں لی کے وہ زندہ بھی ہے یا مر گئے . . اتنی دیر سے ہم نہیں ایے… وہ جیسے گھر میں گھسے اندھیرا لگا پڑھا تھا . . شاید سب سوگئے تھے اتنا گھومنے کے بعد سب تھک تھے ، ٹائم بہت ہو گیا تھا رات کے 2 بج رہے تھی… شہریار اپنے روم کی طرف بڑھا اور پریشا اپنے رووم کی طرف بارگئی… پریشا فریش ہونے کے بعد کچن کی طرف آئے اسکو بھوک بھی بہت لگی تھی… پر پھر اسکو یاد آیا کے اسکو كھانا بنانا تو اتا ہی نہیں . . اب کیا کھائے گی . . پھر اس نے فریج میں دیکھا کے شاید رات کا بچہا ہوا كھانا پڑھا ہوں . . پر فریج میں سبزیون اور فروٹس کے سوا کچھ نا تھا…اسنے فریج میں سے انڈا بریڈ نکالا . . اور سٹوو جلا کر بہت ٹرائی کی اتنے اندھے خرب کرنے کے بعد بھی اک انڈا سہی نا بنا سکی . . اَخِیری ٹرائے کرنے والی تھی کے کسی کے آنے کا آواز آئی وہ جلدی سے گیس بند کر کے ونڈو کے پردے کے پیچھے چُپ گئی… اور تھوڑا سا سوراخ کر کے دیکھنے لگی . . وہ شہریار تھا . . اس نے شکل بگھار کر سوچا یہ یہاں کیا کر رہا ہے… شہریار نے کیچن میں دیکھا پُورا گند پھیلا ہوا تھا . . وہ ہنس پڑھا واہ میرے جیسا کون ہے جس نے کچن کی یہ حالت کی . . وہ فریج کی طرف بڑھا . . . انڈا بریڈ نکالا . . اور پکانے لگا تبھی پریشا پیچھے سے نکل آئی اس نے کہا تم یہاں کیا کر رہے ہو… . O i see یہ سب آپکا کیا درہا ہے۔۔ بھوک لگی ہے . . . ویسے بھوت مجھے کہتی ہوں پر بھوتوں کی طرح خود نکل آئی ہوں ویمپ … اور بیگھرا ہوا امییرزادا مجھے کہتی ہوں . . پر لگتی تم ہو نوابزادی جس کو انڈا تک بنانا نہیں اتا…بولتا جا تھا . . . اور وہ چُپ ہوکر اسے سن رہی تھی . . پِھر بولی اپنی بکواس اپنے پاس رکھو . . اچھا یہ بتاؤ تمھارے لیے پکائو میں انڈا اچھا بنا لیتا ہوں اور ہر قسِم کا بنا لیتا ہوں . . پریشا نے کہا میں زہر كھانا پسند کرو گی پر تمھارے ہاتھ کا کھانے تو ہرگز نہیں کھاؤ گی . . میں خود پکا لو گی تم جلدی سے بنا کے نکلو . . اس نے کاندھے اچھکا کر کہا . . As you wish churiyal . . ویسے بھی میں کونسا تمھارے لیے بنانے کے لیے مارا جا رہا ہوں . . صرف ہمدردی کے خاطر کہ رہا تھا پر تم چوڑیل کو ہمدردی کہاں سمجھ آنی ہے . . اس نے اپنا لیے بڑا انڈا بنایا . . جس میں پیاز اور دو تِین سبزیان ایڈ کر کے مرچ مسئلہ ڈَلا . . پریشا نے سوچا پیٹ ہے لالو کھیت ہے اتنا بڑا انڈا اکیلے کھائے گا . . ظالم مجھے تھوڑا انسسٹ کرتا تو میں بھی مان جاتی . . پر اب کیا ھوگا . . اچھی بھلی آفر ریجکٹ کردی میں نے . . اللہ اب روکھی سوکھی بریڈ اور کچا انڈا کھانا پرے گا . . وہ سوچ رہی تھی۔ کے شہریار نے انڈا پلیٹ میں اتارا اور خوشبو سونگھنے لگا . . پریشا کو جلانے کے لیے . . پریشا کے منہ میں پانی اگیا۔۔ اور پیٹ میں سے آوازیں آنے لگی۔۔۔ . . شہیریار نے انڈے کی دو حصے کیا ایک حصے کو دوسری پلیٹ میں ڈَلا اور ڈھکن دے کر رکھ دیا . . وہ پوچھے بنا رہ نہیں سکی . . یہ کیوں رکھا ہے . . اس نے کہا خوش فہمی میں مت رہنا . . مجھے موٹا انڈا پسند ہے اسی لیے ذیادہ انڈے پکائی تاکہ انڈا موٹا ہوں . . پر اتنا زیادہ تو نہیں کھا سکتا نا . . انسان ہوں . . وہ اپنی پلیٹ لیکر چلا گیا . . پریشا نے آخر تک اسکو دیکھا جب وہ نا آیا تو اس نے وہ انڈا اٹھیا اور پاگلوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑھی . . شہریار نے جھٹ سے اسکو پکڑ لیا اور اسکی پکچرز بنا لی . . پریشا کے ہوا نکل گئی وہ وہی ساختے میں آگئی کے یہ کہا سے ٹپک پڑھا . . اس نے کہا تم نے تو کہا تھا زہر کھا لونگی پر تمھارے ہاتھ کا كھانا نہیں کھاؤں گی . . وہ اسکی نقل کر رہا تھا . . اب کیسے کھا رہی ہوں میڈم چوڑیل . . . پریشا نے کہا كھانا ضایع ہو رہا تھا اسی لیے کھا رہی ہوں . . تم امیرزادی کو کیا فکر كھانا ویسٹ ہونے کی . . شہریار نے کہا ھم ہممم بس بس اب ڈرامے بند کرو اور لیکچر نا سناؤ کھا لو کچھ نہیں کہتا میں . . وہ جانے لگا تب پریشا نے اسکو آواز دے سنو بیگھری ہوئے ناوابزادے . . شہریار نے ایک آئی برو اوپر کی اور کہا کیا ہے . . اور انڈا نہیں ہے اور نا ہی میں دوبارا بنا کر دوںگا . . پریشا نے کہا سن تو لو پہلے ہے اپنی بکواس شروع مت کرو . . کسی کو بتانا مت کے ہم اسٹور روم من چُپ گئے تھے اور وہاں پنھس گئے تھے . . اس نے نا سمجھی سے پریشا کو دیکھا اور کہا او کے نہیں بتاؤ گا . . ویسے پوچھ سکتا ہوں کیوں . . پریشا نے کہا ضروری نہی . . اس نے کہا پِھر میں سب کو بتاؤ گا کے تم اور میں اکیلے وہاں پھنس گئے تھے اور دروازہ گھنٹوں بند رہا تھا… ہم دونوں کے علاوہ کوئی نا تھا۔۔۔ پھر گنا گنگنانے لگا۔۔۔ ھم تم ایک کمرے میں بند ہو اور چابی کھو جائے۔۔۔ . . . . پریشا نے دانت چبائے۔۔۔ . . اسکو اتنا غصہ آ رہا تھا کے اس نواب زادے کی جان نکل دیتی . . پر خود کو کنٹرول کیا اور کہا . . پلیز سمجھا کرو ایک لڑکی کے لیے سہی نہیں ہوتا . .شہریار نے لاپرواہی سے کہا OK بس اور کچھ کہنا نہیں ہے تو میں جاؤ . . پریشا نے کہا جاؤ میں کونسا مر رہی ہوں کے تم یہاں کھڑے رہو . . پریشا نے اسکے اندازِ میں کہا تو وہ اپنی ہنسی دبانے لگا اور چلا گیا پیچھے سے وہ چوڑیل پھر سے بھوکوں کی طرح انڈا بریڈ پر ٹوٹ پڑھی جیسے صدیوں کی بھوکی ہوں . . . . كھانا کھانے کے بعد اسکو سکون ملا . . اور اپنے بیستر میں گُھس گئے اتنی سردی تھی . . صبح سو
یرے وہ سب اسلام آباد کے لیے نکل گئے… . پریشا اور شہریار نے اپنے دوستوں کو رات والا کوئی سین نہیں بتایا . . اور جب انہوں نے پوچھا تو کہہ دیا کے ہم تم لوگوں کا انتظار کر رہے تھے پر جب تم لوگ نہیں آئے تو ہم آگئے . . دیکھا تو تم سب لوگ سوگئے تھے…
راستے میں سب نے خوب انجوئے کیا . . . . کبھی truth and dare کھیلتے … تو کبھی پہلیان بوجھواتے… سینیرز نے جونیئرس کی حالت کردی تھی . . جونیئرس کو نوکروں کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے ہر کام انسے کرواتے . . خاص کر شہریار نے فارس کے جان نکالی ہوئی تھی . . پریشا سے یہ بات چھپی ہوئے نا تھی پر آج وہ کچھ نہیں بول رہی تھی . . . . میکال سب کی ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا . . نعمان بھی اپنے DSLR سے سب کی پکس لی رہا تھا… جیسے شہریار نے فارس کے ناک میں دم کر رکھا تھا ویسے ہی اذان نے نعمان کی جان عذاب کر رکھی تھی . . اذان پوز پے پوز مر رہا تھا اور نعمان پکچر کھینچ رہا تھا۔۔ . . اذان اسکو حکم دے دیا تھا کے سب پکس مجھے دے دینا ورنہ تمہاری خیر نہیں ہوگی. . اچھے سے پکس لو . . تاکہ میں اپنے فیس بک پر پوسٹ کر سکو . .
اذان کا فوٹو سیشن ختم ہوا تو اس نے انتاکشیری کا مقابلہ اسٹارٹ کروایا جونیورس اور سینیرز میں . . آگے والی سیٹس پر سینیرز بیٹھے ہوئے تھے جب کے پیچھے والی سیٹس پر جونیئرس … پہلا گانا اذان نے شروع کیا . . دھک دھک کرنے لگا
ہو مواا جیارا ڈرانے لگا ڈھک ڈھک کرنے لگا ہو مورا جیارا ڈرانے لگا سیا بیا چھوڑنا کچی گلیاں توڑ نا تو ہے میری دلربہ کیا لگتی ہے واہ ری واہ ! دھک دھک کرنے لگا ہو مورا جیارا ڈرانے لگا… ہو دِل سے دِل مل جایا…
گانا گانے کے وقت وہ گانے کے اسٹیپس بھی کر کے ناچ رہا تھا… سب سینیرز بوائز نے اسکا ساتھ دیا بلکہ جونیئرس بھی ساتھ میں ناچ رہے تھے۔۔ . . . . اور لارکیان ان کو دیکھ رہی تھی کے یہ کیسے گانے گا رہے ہے . . تو کچھ لارکیان ان کے ساتھ ہی گا رہی تھی اور انجوئے کر رہی تھی . . باقی کچھ اسکے ناچنے پر ہنس رہی تھے . . جن میں پریشا بھی شامل تھی . . وہ اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں کر پا رہی تھے یہاں تک کے اس کے آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے . . . شہریار کی نظر اس پر گئی وہ بالکل ایک معصوم سے بچے کی طرح ہیس رہی تھے جس کو دُنیا کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔ اس نے زیرے لب کہا۔۔۔۔ پاگل۔۔۔۔ . .
اب جونیئرس کی باری تھی نعمان نے گانا گیا۔۔ .
دلبر دلبر ، ہاں دلبر دلبر ہوش نا خبر ہے ، یہ کیسا اثر ہے ہوش نا خبر ہے ، یہ کیسا اثر ہے تم سے ملنے كے بَعْد دلبر تم سے ملنے كے بَعْد دلبار…
.ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے تیرے بنا کیا وجود میرا تجھ سے جدا اگر ہوجائے گے تو خود سے ہی ہو جائے گے جدا۔۔۔ کیونکہ تم ہی ہو۔۔۔ شہریار نے چلا کر کہا یہ دیکھیں بھائیو اور انکی بہنوں مارکیٹ میں نیا عاشق آیا ہے۔۔۔ جس پر میکال نے اسکو گھورا تو وہ ہنس دیا۔۔۔ جنید نے اچھلتے ہوے کہا اب میری باری۔۔۔
Main teri dushman dushman tu mera main nagan tu safera
janam janam se tera mera bair o rabba khair
Main teri dushman dushman tu mera Main teri dushman dushman tu mera main nagan tu safera
جنید نے یہ گانا شہریار اور پریشا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اذان نے خوشی خوشی اس کا ساتھ دیا۔۔ پر شہریار اس پر آکر کھڑا ہوگیا اور اس کو گھور کر غصے میں دیکھنے لگا جیسے ابھی کچا چبا جائے گا۔۔۔۔۔۔ جس سے اس کی جان ہلک میں اٹک گئی۔۔۔ ویسے اگر یونیورسٹی ہوتی تو اذان شہریار کو اور تنگ کرتا پھر بھاگ جاتا۔۔ پر بس میں اتنی جگا نہیں تھی کہ وہ اس کے ہاتھوں سے بچ پاتا۔۔۔۔اسی لیے اذان نے بات سنبھلتے ہوے جنید کو پکڑ کر مارنا شروع کیا۔۔ ابے تیری اتنی ہمت تیری دوست تک ٹھیک تھا وہ ناگن ہے پر میرے دوست کو تو نے سفیرا بولا ہیں ۔۔۔۔۔۔پریشا پھر سے ایکشن میں آگئی اور اذان سے لڑنے کے لیے اٹھ رہی تھی تو وانیزا نے اس کو روک دیا اور التجا بھری نظروں سے اسکو کو دیکھا۔۔۔وہ شکل بنا کر بیٹھ گئی۔۔جنید نے معافی مانگی اور اپنی جان چھوڑ وائی۔۔ اور پھر سے گانو کا سلسلہ چلا۔۔۔۔
Roop Tera Mastana Pyar Mera diwana
Roop Tera Mastana Pyar Mera diwana
Bhool Koi Hamse Na Hojaye
Roop Tera Mastana Pyar Mera Diwana
Bhool Koi Hamse Na Hojaye
اسے ہیہودا اور پرانے گانے سب نے گائے … اذان لڑکا بنا ہوا تھا اور جنید کو جھوٹ موٹھ کی لڑکی بنایا تھا۔۔ کسی لڑکی نے اپنا ڈوپٹہ بھی دیا تھا۔۔۔ اور لڑکیوں کی طرح شرمانے کی بھی ایکٹنگ کر رہا۔۔۔ کچھ لڑکے ان پر پیسے بھی گھور رہے تھے…اور انکی ویڈیو بھی بنا رہے تھے۔۔۔۔۔ اذان حفصہ اور ثانیہ کو بھی تنگ کر رہا تھا جس پر حفصہ اس کو لاتے مار رہی تھی اور ثانیہ دور رہنے کی دھمکی دے رہی تھی۔۔ جنید نے بھی اپنے گروپ کی لڑکیوں کو کہا کیسی لگ رہی ہو۔۔ جس پر سوہا نے آنکھ مار کر کہا۔۔ ایک دم پٹاخا۔۔۔ پریشا نے کہا وہ میری شہزادی جچ رہا ہے یہ کلر تم پر۔۔۔ . . خوب ہنس ہنس کر لوٹ پھوٹ ہوئے اور آدھا سفر کاٹا . . باقی تھوڑا سفر بچ گیا . . تو سب نے شہریار سے کہا کے اچھا گانا سنا دو . . اس نے بھی گیٹار لے . . اور گانے لگا . . پاریشا اسکو دیکھ کر اسکی آواز کے جادو میں کھو گئی . . اور بہت غور سے اسکو دیکھنے . .
تبھی شہریار نے گانے کے بیچ میں نوٹ کیا کے وہ اسی کو دیکھ رہی ہے . . اس نے پریشا کو آنکھ ماری تاکہ اسکو ہوش آئے . . پریشا کے تو توتے ہی اوڑ گئے . . اسکا منہ کھل گیا . . شہریار کی ہنسی چھوٹ گئی . . . اس نے مکہ بنا کے شہریار کو اشارہ کیا . . شہریار نے اپنی ہنسی دبا کر اپنے چہرہ دوسری طرف موڑ دیا اور گانا جاری رکھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: