Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 6

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 6

–**–**–

پکنک کے بعد انکا اسپورٹس ویک اسٹارٹ ہو گیا تھا . . سب اسٹوڈنٹ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا . . کسی نے کرکٹ میں تو کسی نے فٹبال ، باسکٹ بال ، ٹیبل ٹینس ، بیڈ منٹن میں حصہ لیا . . سب خوب انجوئے کر رہے تھے . . . پر فٹبال کا مقابلہ خاص طور پر ھونا تھا دوسری یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ کے ساتھ . .
شہریار فٹبال ٹیم کا کیپٹن تھا . . اسکی ٹیم کے لیے کچھ ممبرز کم تھے . . اس نے ٹیچرز سے پرمیشن لیکر نوٹس بورڈ پر نوٹیس لگوا دیا کے انکی ٹیم کو کچھ لڑکو کی ضرورت ہے جو فٹبال کھیل سکے . . اسکے نوٹس لگانے کے بعد یونیورسٹی کے بہت لڑکے آگئے . . پر شہریار اور کوچ کو کوئی پرفیکٹ نہیں لگ رہا تھا . . تب ہی نعمان اور جنید بھی وہاں گئے . . کیوں کے وہ دونوں کزن تھے بچپن سے ساتھ ہے فٹبال کہلتی آ رہے تھے . . شہریار نے دیکھا کے وہ اچھا پرفام کر رہے ہے . . تو دونوں کو ٹیم میں شامل کردیا… اور ساتھ ہی ان کو پریکٹس بھی کرواتا تھا . . میکال بھی اسی ٹیم میں تھا . .
آج میدان ساجھ گیا تھا . . دونوں یونیورسٹی کی ٹیمز گراؤنڈ میں تیار کھڑی تھی ایک طرف انکی یونیورسٹی والے تو دوسری طرف دوسری یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ . . پریشا والو نے بھی اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے ان کے کلر کی بلو شرٹس پہنی ہوئے . .
میچ شروع ہوا تھا . .پورے گراونڈ میں پریشا زور زور سے چلا رہی جنید ، جنید …… نعمان نعمان … یا۔ ھو جنید نعمان ہمت کرو تم لوگ جیت جاوگے… come on boys you can do it..… میچ کو . ایک گھنٹہ ہو چکا تھا دونوں طرف سے کوئی گول نہیں ہوا تھا . . پریشا کو اتنا غصہ آ رہا تھا . . جس کی کوئی حد نا تھے . . اس نے بریک ٹائم میں جنید اور نعمان کو خوب ڈانٹا کے کیا کر رہے ہوں . . ویسے تو بڑا رُعْب جھاڑ رہے تھے . . اب کیا ہوا نکل گئی . . اس نے بس انکا گلا نہیں دبایا ورنہ تو اسی کی قصر رہ گئے تھی…
پھر میچ اسٹارٹ ہوا . . دوسری ٹیم نے لگاتار تِین گول کردیا… پریشا تو تپ گئی . . اسکا دل کر رہا تھا سارے ٹیم کو شوٹ کردے . .
تیم کو دوبارہ تھوڑا بریک ملا تو وہ سب فریش ہونے کے لیے ڈریسنگ روم میں آگئے… پریشا پھر سے دونوں کو چیرز اپ کرنے آئے ان کو ہوش دلانے وہ دونوں یہی کہنے لگے یار کوشش کر رہے ہے پر کچھ ہو ہے نہیں رہا ہے کیا کرے . . یہ کہہ کر دونوں باہر کی طرف نکل گئے . . کیوں کا پریشا کا ساتھ وہ اپنا سَر نہیں کھپانا چاہتے تھے … . پریشا بھی ان کے پیچھے نکل رہی تھی کے شہریار اسکو کے آگے آکر رک گیا اس کے راستے میں دیوار بن کر. . پریشا نے آنکھیں نکل لے . . یہ کیا حرکت ہے . . تمھاری ٹیم میں صرف وہ دونوں کارٹون موجود ہے کیا . شہریار نے غصے سے بھرے لھیجے میں پر کافی طنزیہ اندازِ میں کہا … . . صرف ان کو چیرز اپ کر رہی ہوں . . پِھر تھوڑا مسکرا کر کہا . . کیوں کے وہ جانتا تھا وہ چوڑیل غصہ دیکھ کر پِھر سے جنگلیوں کی طرح لڑے گی اِس لیے تھوڑا نرم مزاجی سے بات کرنے لگا… اتنا تو وہ اب اسکو جان گیا تھا . . . . دوسری پلیئرز بھی موجود ہے ٹیم میں انکی بھی تھوڑی حوصلہ افزائی کر لو گی تو تمھاری ٹیم ہی جیتے گی … پریشا نے کہا جن تمھارا کہنے کا مطلب ہے من تمیں چیرز اپ کرو . . شہریار نے ناگواری سے کہا میں نے اسا تو نہیں کہا . . اس نے کہا پر تمھاری بتاؤ سے تو یہی لگ رہا ہے . . …اگر مجھے بھی کر لو گی تو بھی تمھاری ٹیم ہے جیتے گی اس نے پریشا کو ہوش دلایا کا ہم بھی تمھاری ٹیم کا حصہ ہے… صرف اپنے دوستوں کو سپورٹ کرنا بند کرے اور سب کو سپورٹ کرے . . . . . اور میں ٹیم کا کیپٹن ہوں شہیریار نے کافی فخریہ اندازِ میں کہا . . . . پریشا نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ٹیم کے کیپٹن ہو… ہا ہا ہا ہا مذاق اچھا کر لیتے ہوں ویسے بھوت کہی کے . . …کب سے ادھر اُدھر ہو رہے ہوں ایک گول تک نہیں کر سکے ہوں . . ہو . . آیا بڑا کیپٹن . . پریشا نے طنز کیا… شہریار بھی کہاں چُپ رہنے والا تھا جھٹ سے بولا . . تمھارے وہ دونوں بندر کونسا کر رہے ہے . . اس نے کہا زبان سنبھل کر بات کرو ایندا ان کو بندر بولا نا . . وہ اسکو انگلی دیکھا کر کہہ رہی تھی . . پھر وہ جانے لگی اور پیچھے مڑ کر کہا . . چلو کیا یاد رکھو گے بیگھری ہوئے نوابزادے. . تمہیں چیرز اپ کرنے کا سوچو گی اور اگر دل کیا تو کر بھی لونگی پر زیادہ خوش فہمی میں مت رہنا تیم کہ خاطر کرو گی۔۔۔جاتے جاتے اس نے شہریار پر ٹھنڈا پانی پھینک دیا . اور. ہستے ہوئے باہر نکل گئی . . پیچھے سے شہریار غصہ سے تپ گیا . . جنگلی… ڈاین … چوڑیل ، … . . وہ بھی اسکے پیچھے آگیا . . وہ اپنی جگہ پر بیٹھا گئی . . . تھوڑی دیر میں گیم اسٹارٹ ہوا . . اس نے خوب زور زور سے شہریار کو چیرز اپ کیا… captain sheheryar alamgir you can do it … پِھر سب نے مل کر شہریار اور باقی ٹیم کو چیرز اپ کیااا… شہریار کا حوصلہ بڑا . . اس نے اور اسکی ٹیم نے مل کر تِین گول کر دیئے . . آخری گول کرنا باقی تھا . . اور ٹائم بھی کم تھا . .شہریار کی ٹیم کب سے کوششیں کر رہے تھی پر اگلی ٹیم ہر بار گول ناكام کروا دیتی . . شہریار کو پِھر سے گراؤنڈ سے آواز آئی . . وہ پریشا تھی . . جو اسکو چیرز اپ کر رہی تھی … شہریار نے اسکا جزبا دیکھا اور پِھر سے گیم کی طرف بڑھا . . آخری دو منٹ بچے تھے سب کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا . . . . میکال نے بال نعمان کو دی . . نعمان بال کو آگے لیکر بھاگ رہا تھا اور اپنی پوری طاقت سے بال کو ہوا میں اچھالا تاکہ گول ہوجائے پر بال کو گول کیپر نے دھکا دے کر پیچھے کردیا۔۔.پریشا نے غصے سے دانت چبائے پھر آنکھیں بند کردی اسکو میچ ہارتا ہوا نظر آ رہا تھا . . اتنے میں شہریار نے اسی بال کو زمین پر گیھسکا کر لات ماری اور گول ہوگیا… . سب نے زور سے چلانا شروع کیا پریشا نے آنکھیں کھولی تو ٹیم کے سب لڑکوں نے شہریار کو اپنے کندہوں پر اٹھایا ہوا تھا . . شہریار سب کے ساتھ ناچنے لگا۔۔۔۔ سیلیبریشن کرنے کہ بعد اسکو پاریشا یاد آگئی . . جس کے چِیر اپ کرنے کی وجہ سے اسکو ہمت ملی تھی۔۔ جو بھی ہو پلیئرز کو سپورٹرز کی ضرورت پڑھتی ہے۔۔۔ اور پریشا نے یہ کام بخوبی سرانجام دیا تھا۔۔ ورنہ باقی سپورٹرز تو صرف بیٹھنے آئے ہوئے تھی… وہ اُدھر دیکھنے لگا جہاں وہ بیٹھی ہوئے تھی پر وہ اسکو نظر نا آئے . . وہ سب کو ایکسیوز کرتا ڈریسنگ روم من چلا گیا . . سامنے ہی پریشا نماز پڑھ رہی تھی . . تھوڑی دیر اسکی معصومیت بھرے چہرے کو تکنے لگا . . جب وہ سلام لینے لگی تو اس نے کہا . . چوڑیل یہ کونسی نماز پڑھ رہی ہوں ؟
پریشا نے کہا شکرانے کے نوافل ادا کر رہی تھی . . شہریار نے شرارت سے مسکرا کر کہا . . مطلب میرے جیتنے کے لیے دعائیں ہو رہی تھے . . اسکی آنکھوں میں شرارت صاف ظاہر تھی… پریشا نے اسکی شرارت جانچتے ہوئے کہا . . بھوت زیادہ خوش فہمی میں ہوں . . بھول کر بھی مت سوچنا . . میں اپنی ٹیم کے لیے کر رہی تھی . . سنا تم نے . . اس نے انگلی دیکھا کر کہا . . اب تم لوگ فریش ہوجاؤ پِھر کپ بھی تو ریسیو کرنا ہے . . اس نے خوشی سے بھرے لہجے میں کہا اور
نکل گئی . . شہریار اس کو جاتا دیکھتا رہا جب تک وہ چلی نہیں گئے . .پریشا ٹیم کے جیتتے ہی ڈریسنگ روم میں آگئی اور شکرانے کہ نوافل ادا کیے جو اس نے ٹیم کے جیتنے کے لیے مانگے تھے
سارے ٹیم فریش ہوکر باہر آئے . . اور کپ کو ریسیو کیا . . اور پکچرز بھی نکل وائی . . پھر سب نے اپنی اپنی موبائلز سے بھی بہت سارے پکچرز کِلک کر کہ بہت ساری یادیں کیمرا کی آنکھ میں محفوظ کر لی . . پریشا نے جنید اور نعمان کی الگ الگ پکچرز لی ٹرافی کے ساتھ …پھر پریشا نے جنید اور نعمان کے ساتھ نکلوائی نعمان اور جنید دونوں سائڈس سے کھڑے تھے وہ بیچ میں ٹرافی لیکر کھڑی تھی جب کے فارس پکچر لے رہا تھا۔۔۔ وانیزا اور سوہا نہیں آئی انکو کوئی انٹرسٹ نا تھا اس لیے پریشا لڑکوں کے ساتھ ہی رک گئی انہوں نے بھی اس کو زبردستی بلایا تھا یہ کہہ کر کہ واپسی پر ھم تم کو چھوڑ دیں گے ۔۔۔ جب وہ پوز بنا بنا کر پکچرز نکلوا رہی تھی۔۔۔ شہریار وہاں سے گزر رہا تھا تو نعمان نے اسکو کہا ہمہارے ساتھ بھی ایک نکلوا لو کیپٹن صاحب . . . . اور اسکو پریشا کے ساتھ بیچ من کھڑا دیا . . پریشا کا دل جیسے ہاتھ میں آگیا . . وہ اسکے اتنے قریب کھڑا تھا۔۔ شہریار کی خوشبو ہمیشہ سے اس عجیب احساس میں اگھرتی تھی۔۔ جس پر اس کا دل اپنا قابو کہو بیٹھتا تھا . . پکچر نکلنے کے بعد وہ فوراً وہاں سے گیھسک گئی ۔۔۔ شہریار کو لگا وہ اس کے اتنے قریب تھا اسی وجہ سے وہ بھاگ گئی ہوگئی جو بھی تھا وہ باقی لڑکیوں کی طرح لڑکو سے زیادہ چپکتی نا تھی۔۔۔ نعمان, جنید اور فارس سے بھی خاصا فاصلا رکھتی تھی۔۔۔
جب شہریار واپس گھر جا رہا تھا تو میکال بھی پارکنگ طرف ایا… پیچھے سے اسکو اوازئین دینے لگا… شیری شیری…
اس نے دیکھا تو میکال کے لیے رک گیا …
میکال اسکے ساتھ اکے لگا…
اور اسکے بال بگھار نے لگا…
ابے ٹیم ایک بار پِھر جیت گئی یاہو۔۔۔ وہ ابھی تک آکسائیڈ تھا۔۔…
او او مبارک ہو… مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا… آپکا بہت بہت شکریہ نوازش مسٹر . میکال شہریار نے طنزیہ اندازِ میں میکال کو چڑھایا۔۔۔۔ .
میکال نے اسکے بال زور سے خینچے اور ساتھ ساتھ کہنے لگا
تو نہیں سدرہے گا نا…
اور تو کب سے لڑکیوں کی طرح بال کھینچنے لگا حرام کھور شہریار نے تپ کر میکال کو گھورا. .
ویسے سب خیر ہے نا میکال نے شرارت سے شہریار سے پوچا…
ہاں بھائی سب خیر ہے تو کیوں پوچھ رہا ہے . . شہریار نے سوالیا نظروں سے میکال کو دیکھا پِھر زمین میں دیکھ کر اگے چلنے لگا…
بھائی میں نے نوٹ کیا ہے جب سے پکنک سے آئے ہے… تب سے اس چوڑیل کی بتاؤ پر تجھے بڑا مسکرانا آ رہا ہے … اور آج تو مسکرا مسکرا کر بتائے کر رہا تھا . . دل کی گھنٹیاں بج رہی ہے کیا… محبت ہوگئی ہے کیا۔۔۔ بول تو شادی کی بات چلائے
شہریار نے ہاتھ کا مضبوط مقا بنا کر اسکے پیٹ میں مرا… اور غصے سے کہنے لگا وہ دُنیا کی آخری لڑکی بھی ہوگی تب بھی نہیں کرو گا… سنا تو نے … اور جہاں تک مسکرانے کی بات ہے… تو اسکو غصہ دلا کر میرا دل کو سکون ملتا ہے… میں نے کبھی اسکے بارے میں سوچا بھی نہیں ہے… اور تو بات کر رہا شادی کی ۔۔ میری توبا ۔۔۔۔
میکال نے گانا گانا شروع کیا . . Tu ne mari entriya re dill mein bajhi ghantiya tan tan.. …اور بھاگ گیا اسکو پتہ تھا شہریار نے اب اسکو نہیں چھوڑنا ہے…
بہت دور جا کر میکال نے چلا کر کہا شیری سوچ لے … لڑکی اچھی ہے… ہمیں کوئی مسئلہ نہیں اسکو بھابی بنانے میں . . ہم جھیل لیں گے تیری خاطر… .
شہریار نے بھی چلا کر کہا مار کمینے انسان… تو کیا جھیلے گا اسکو مجھے جھیلنا ھوگا اسکو وہ بھی پوری زندگی …
میکال نے پِھر سے کہا بھائی سوچ لے … اگر نہیں مانی تو مل کر اسکو منا لیں گے شہزادے تیرے لیے جان بھی حاضر ہے۔۔…
بہت دیر ہوگئے تھی سارے اسٹوڈنٹ گھر چلے گئے تھے . . شہریار کو کوچ کے ساتھ کچھ ڈسکس کرنا تھا اسی لیے وہ دیر تک رک گیا تھا میکال بھی اسکے ساتھ رک گیا تھا… کوئی آس پاس نا تھا اسی لیے وہ دونوں لا پرواہ ہوکر چلا چلا کر بات کر رہے تھے …
آخر میں شہریار میکال کے طرف بھاگنے لگا پر میکال اسکو دیکھ کر جلدی سے وہاں سے نکل گیا …
شہریار کا موبائل بجا تو اس نے پاکٹ سے موبائل نکل کر چیک کیا میکال کا میسیج تھا…
چلے مت جانا میں اپنا بیگ لیکر اتا ہوں ساتھ چلتے ہے … شہریار کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آگئی گہری سانس لیکر اس نے سَر ہلایا . . … پِھر میسیج ٹائپ کیا… او کے کمینے انسان…
شہریار کے لیے اپنی فیملی کے بعد اسکے دوست تھے۔۔ جو اسکو بہت عزیز تھے۔۔… جتنا بھی وہ ان کو ڈرا کر رکھتا تھا پر ان سے حد سے زیادہ پیار کرتا تھا اور خیال رکھتا تھا… اور اسکے دوست یہ بات اچھے سے جانتے تھے کہ اوپر سے ھم پر روب رکھتا ہے پر اندر سے کیسا انسان ہے ۔۔۔

آج اذان کا برتھ ڈے تھا… وہ خوشی سے
جھوم رہا تھا… اِس لیے نہیں کے آج اسکا برتھ ڈے تھا بلکہ اِس لیے کے آج شہریار اور میکال نے پہلی دفعہ اسکو اتنی عزت دی تھی… اسکے لیے سرپرائز برتھ ڈے کیک لیکر آئے تھے۔۔۔۔. . وہ خوشی سے جھومنا چاہتا تھا ناچنا چاہتا تھا… اسکا بس نہیں چال رہا تھا ورنہ وہ ابھی بنگڑے ڈالنا شروع کردیتا… پچھلے برتھ ڈے پر ان دونوں نے اسکی اسی حالت کردی تھی کہ وہ بات یاد کرتے بھی اس کو خوف آتا تھا۔۔ اس کے برتھ ڈے ایک دن پہلے ان نے دونوں نے مل کر ایک لڑکی کو تنگ کیا اور اس کو اپنا نام اذان بتایا جب لڑکی نے دھمکی دی کہ میں اپنے بھائی کو بتاؤ گی تو دونوں نے اس کو یہ کہا بتا دینا اپنے بھائی کو کہ اذان کسی کہ باپ سے بھی نہیں ڈرتا۔۔۔ اور کل میں اپنی برتھ ڈے منا رہا ہوں اس سامنے والے ہوٹل میں۔۔۔ بھائی کو لیکر انا۔۔۔
۔۔۔ اگلے دن اسکی برتھ ڈے پر شہریار اور میکال اذان کو یہ کہہ کر لے آئے تھے کہ چل تجھے ٹریٹ دیتے ہے۔۔ وہ خوشی خوشی چلا گیا۔۔۔ ریسٹورنٹ میں وہ تینوں مزے کر رہے تھے شہریار نے اس لڑکی کو دیکھا کہ وہ اپنے بھائی کو اور اس کی پیچھے کچھ لڑکے بھی ساتھ لائی تھی جو بالکل غنڈے لگ تھے۔۔۔ ۔۔۔۔ میکال کی آنکھیں نکل آئی کہ آج تو اذان گیا اس نے شہریار کو میسج کیا۔۔۔ کہ مر جائے گا بیچارا۔۔ معافی مانگ لیتے ہے۔۔ تو شہریار نے رپلائے کیا۔۔ مزہ آئے گا اگر بات بڑھ گئی تو بچانے آجائے گے۔۔۔۔ تو وہ چپ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی نے ادھر ادھر دیکھا تو اس کو شہریار اور میکال نظر آئے تو اس لڑکی نے بھائی کو اشارہ کیا کہ وہ لڑکا ہے۔۔۔ اور چلی گئی۔۔۔ جب وہ شہریار والوں کے پاس آیا تو اس کے بھائی نے پوچھا اذان کون ہے۔۔۔ اذان نے خوشی سے کہا میں ہوں میں ہوں میرا برتھ ڈے ہے۔۔۔ پھر انھوں نے اذان کی جو درگت بنائے ایک مہینے تک وہ اٹھ نا سکا تھا۔۔۔
اج بھی شہریار اور میکال کے چہرے پر شرارت صاف نمایاں تھی . … پر اذان کو لگا مجھے خوش دیکھ کر وہ خوش ہو رہے ہے, وہ بیچارہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔۔۔… پر شہریار اور میکال دونوں آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی سازش کر رہے تھی…
وہ تینوں شہریار میکال اور اذان کینٹین میں ایک بینچ پر بیٹھے
حفصہ اور ثانیہ کا انتظار کر رہے تھے کے وہ آئے تو کیک کو کاٹے …
حفصہ نے آتے ہی ان کو دیکھ کر کہا… ہیلو تھری ایڈیئٹس … میکال نے شکل بنا کر کہا ہیلو جنگلیوں … جس پر حفصہ نے میکال کو مسکرا کر دیکھا … اور ثانیہ نے کہا مجھے کیوں جنگلی بولا اس نے تم کو ایڈیٹ بولا تو اسکو بولو جنگلی . . میرے ساتھ کس خوشی میں فری ہو رہے ہو… اس نے حفصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
شہریار نے کہا زہ نصیب ثانیہ کے منہ میں بھی زبان آگئے ہے واہ تھوڑا سوچنے کی ایکٹنگ کرتے پھر بولا. . . . آہا۔۔۔ اب یاد آیا اِس حفصہ کی کمپنی میں آگئے ہو نا تمہارا کوئی قصور نہیں بیٹا . . اس نے سَر ہلتے خود کو یقین دہانی کروایی…میکال نے انگلی اٹھا کر حفصہ کو دھمکایا … آئے حفصہ دور رہو ثانیہ سے… اسکو خود کی طرح مت بنا دینا… میری پیاری بھولی بھالی سی بہن کو بگھار رہی ہوں تم … اس نے جھوٹ موٹھ کے آنکھوں سے آنسو صاف کرنے کی ایکٹنگ . . اور کہا آج تک ثانیہ نے مجھ سے کبھی اِس طرح بات نہیں کی اور آج آج ہاں آج حفصہ تمھاری وجہ سے . .
تمھاری وجہ سے
ہاں تمھاری وجہ سے …
اس نے تِین بار ایک ہی جملا دہرایا …
مجھ سے کہا کے میرے ساتھ کس خوش فہمی میں فری ہو رہے ہو اس نے ثانیہ کے لفظ دوہرائے … کبھی اس نے مجھے اسا نہیں کہا۔۔
آج تک جتنا بھی میں نے اسکو تنگ کیا ہے کبھی اس نے مجھے اُف بھی نہیں کہا … میکال بول رہا تھا . . باکی سب اسکو سن رہے تھی…
اس کی ایکٹنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔ حفصہ نے شکل بنا کر کہا او بھائی پلیز خدا کو مانً اوور ایکٹنگ بند کر…
اتنے میں اذان زور سے بول اٹھا . . آئے حفصہ …
حفسہ نے تیز نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور داڑھ کر بولی کیا ہے …
اذان بے چارہ سہم سا گیا اور آہستہ سے کہا حفصہ جی… بہت عزت و احترام سے اسکا نام لیا…
حفصہ نے انگلی دیکھا کر کہا ہاں بولو اور ہاں آئندہ اِسی ٹون میں بات کیا کرو… فری ہونے کی ضرورت نہیں …
تو اذان نے دھیمی سے لہجے میں حفصہ کی عدالت میں بولا . . مس حفصہ … شہریار اور میکال کے ساتھ کتنا خوش ہوکر بات کرتی ہے . . اور یہ دونوں تم کو جنگلی بول رہے تھے تم نے ان کو کچھ نہیں کہتی… باقی مجھے تیز بولنے پر بھی ڈانٹ رہی ہو…
آخر جملا اس نے چلا کر بولا۔۔۔اور دانت پیستا رہ گیا۔۔
حفصہ نے لا پرواہی کے ساتھ کہا آئے اذان سن لے تو اپنی حد میں رہے … یہ دونوں مجھے کچھ بھی بولا سکتے ہے پر تم کو کوئی اِجازَت نہیں … آئی سمجھ اپنے اِس چھوٹے سے دماغ میں یہ بات بیٹھا لو…
اور جہاں تک میکال تیری بات ہے میں نے اِس ثانیہ کو کچھ نہیں سکھایا تنگ آگئے ہے تم لوگوں کی حرکتوں سے کتنا تنگ کرتے ہوں . .
میکال اپنے دونوں ہاتھ اپنی طرف کر کے بولا میں نے تنگ کیا ہے ہاں میں نے اس نے سوال کیا۔۔۔… پِھر ثانیہ کو دیکھا اور کہا… ثانیہ ہم نے تم کو پالا ہے اور تم ہم سے ہی تنگ آگئی ہو… کوئی مجھے زہر لا دو . . یہ سننے سے پہلے میں مر کیوں نہیں گیا…
اذان نے چڑھ کر شہریار کو کہا شہری لا دو اس کے لیے زہر ایک ہی دفعہ میں ہماری جان چھوٹ جائے … . . شہریار نے اذان کو ایک آئی برو اوپر کر کے دیکھا۔۔۔ جیسے کہنا چاہ رہا ہو یہ حکم کس کو کر رہے ہو ہوش میں تو ہو نا۔۔۔ … اذان ڈَر گیا… اور جلدی سے تھوک نگلتے بولا۔۔۔ میرا مطلب تھا میں لیکر آتا ہوں زہر . . آپ بیٹھے رہے شہریار جی . . شہریار نے نوابوں کی طرح سَر ہلایا اور
پِھر سے بینچ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا . .
میکال نے اذان کا گلا دابایا…اور بولا ہاں ہاں مار دے مجھے ذلیل انسان تیری تو مجھے سے دشمنی ہے … پر اگر میں مارا تو تجھے ساتھ لیکر جاؤ گا… سن لے … اذان نے خود کو میکال سے چھڑواتے ہوئے کھانسنے لگا…پھر تھوڑا پانی پی کر بولا…
میکال تجھ سے تو اللہ پوچے… میرے برتھ ڈے والے دن ہی مجھے مر رہا تھا۔۔۔ سانس رک گئی تھی میری۔۔۔۔…
وہ دونوں لڑنا شروع کر ہے رہے تھے کے ثانیہ نے بولا اب بس کرو… کیک کاٹو پھر یہ ڈرامے بازی کرنا۔۔۔…
شہریار نے میکال کو آنکھوں کے اشاروں سے کچھ سمجھنا چاہ … میکال کے چہرے پر شرارت بھری مسکان آگئی …
حفصہ ثانیہ اور شہریار ایک ساتھ ٹیبل کے ایک طرف کھڑے ہوگئے … اذان کو بینچ پر بیٹھا دیا اور ٹیبل پر کیک رکھ کر کینڈلز جلانے لگے۔۔۔ اذان کیک کو دیکھ کر صدمے سے دو چار ہوگیا۔۔۔۔ کیونکہ کیک پر کتا بنا ہوئا تھا۔۔۔ … میکال اذان کے اوپر ایک سائڈ سے کھڑا ہوگیا۔۔۔ اذان کی حالت دیکھ کر اس کے دوست سمجھ گئے کہ کیوں اتنے صدم میں ہے۔۔۔ اذان نے دانت پیستے ہوئے کہا کتوں اگر عزت دینی ہی تھی تو پوری طرح سے دیتے۔۔یہ کیا کتوں والا کیک لیکر آئے ہو۔۔۔۔میکال نے اس کے کان میں کہا ابحے گندی نالی کے کتے۔۔۔ کتے کو کتے والا کیک نہیں دے گے تو کیا انسانوں والا دے گے۔۔۔ چپ چاپ کاٹ ورنہ مر جائے گا میرے ہاتھوں سے۔۔۔۔۔۔۔ آخری جملہ میکال نے کافی زور دے کر کہا ۔۔۔۔ اذان رونے والا ہوگیا۔۔ اور شہریار کو دیکھنے لگا۔۔۔ شہریار نے ہنسی دباتے ہوئے کندھے اچکائے۔۔۔ پھر کہا ہر کتے کا دن آتا ہے آج میرے یار کا آیا ہے۔۔۔ پھر سب نے مل کر اس کے لیے گانا گیا۔۔۔ جنگل میں منگل تیرے ہی دم سے سب نے یہ شور مچایا ہے۔۔۔ سالگرہ کا دن آیا ہے گانا سن کر جتنے بھی اسٹوڈنٹ کینٹین میں تھے انکی طرف آگئے … اور اسکو وش کرنے لگے …اذان نے شکل بنا کر کیک کٹا۔۔۔۔ شہریار خوب انجوئے کر رہا تھا اس کی حالت دیکھ کر۔۔۔۔
اذان کیک کا پہلا بائٹ شہریار کو کھلانے لگا
۔۔۔۔۔۔ پر شہریار نے اس کی طرف کر کے اس کو کھلایا اور آہستہ سے کہا کتے پہلے تو کہا تیرے لیے ہے۔۔۔ اور پھر سب کو کھلایا۔۔۔ وہ شکل بنا کر جا رہا تھا۔۔۔ تو میکال نے کہا یہی بیٹھے رہو … تمھارے لیے گفٹس بھی لائے ہے . . .
اذان خوش ہوگیا تھا کہ چلو گفٹس شاید اچھی ہو۔۔۔اس لیے ایکسائیٹید ہوکر بیٹھ گیا …
شہریار نے میکال کو اشارہ کیا اور میکال نے اذان کا سارا منہ کیک میں ڈبو دیا…
جس پر سب اسکو پہلے حیرت سے دیکھ رہے تھے پِھر سب نے زور سے قہقہ لگائے… .
اذان آنکھوں سے کیک ہٹاتے ہوئے بولا رک میکال کے بچے آج تجھے نہیں چھوڑو گا۔۔… .
وہ اٹھ رہا تھا میکال نے دوبرا اسکا منہ کیک میں ڈبو دیا…
اذان تو بالکل ٹھٹھک کر رہ گیا …
میکال نے دوبارہ پِھر سے یہی کیا…
شہریار نے کہا ایک دفعا میرا بھی حق بنتا ہے۔۔۔۔
شہریار بھی اس کی طرف ایا۔۔۔اور اس نے بھی یہ نیک کام سر انجام دیا۔۔۔۔۔ شہریار تھوڑا اگے بھاگ گیا اسکو پتا تھا اذان چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں پکا وار کرے گا ۔۔۔حفصہ اسکی ویڈیو اور پیکز بنا رہی تھی ساتھ ہی اس کی حالت پر ہنس رہی تھی۔۔۔۔ اذان نے غصے میں آکر کیک کا بڑا والا پیس اس کے منہ پر مارا۔۔۔ وہ دنگ رہ گئی کہ اس چوہے میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ بلی سے پنگا لے رہا تھا۔۔۔۔ ابھی وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ شہریار حفصہ پر ہنس دیا۔۔ حفصہ کو غصہ آیا اس نے کیک شہریار کو مارا پر وہ نیچے ہوگیا اور کیک جاکر میکال کو لگا۔۔۔ اسا کرتے کرتے آخر میں سب ایک دوسرے پر ٹپک پڑھے۔۔۔۔
وہاں پر ایک پروفیسر آگئے ان کو دیکھ کر سب چپ لگ گئی انھوں نے یہ حالت دیکھ کر سب کی خوب عزت افزائی کی۔ کہنے لگے۔۔ اتنے بڑے ہوگئے کوئی تمیز ہوتی ہے پر نہیں دیکھو کیا حالت بنا دی ہے اور بھی بہت تمیز سیکھنے کا کہا۔۔۔۔۔۔ وہ لیکچر دے کر نکل گئے تو سب دوبارہ شروع ہوگئے۔۔۔ کسی کو پروا کہاں تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: