Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 7

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 7

–**–**–

 

بہت دن ہوگئ تھے وہ گھر نہیں گئی تھی . . اسی لیے سب کچھ بیچ میں چھوڑ چھاڑ کر وہ اپنے گھر لاہور کچھ دن چلی گئی . . پر اسکو وہاں 2 ہفتے لگ گئے . . جب واپس آئے تو بہت سارے اسائنمینٹس بنانے تھے اسکو…
یونیورسٹی ٹائمنگ پوری ہونے کے بعد وہ لائبریری میں بیٹھ گئی تاکہ اسائنمنٹ پورے کر سکے . . اس نے سوہا اور وانیزا کو ہوسٹل بھیج دیا تھا . . اور کہہ دیا تھا وہ شام کو آ جائے گی دوسری اسٹوڈنٹ کے ساتھ . . وہ بیٹھی پڑھ رہی تھی . . شہریار کو کچھ بکس لینے تھے اسی لیے وہ لائبریری ایا۔۔۔۔ جب اس نے پریشا کو دیکھا تو اسکو تنگ کرنے کے لیے اسکے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گیا . . پریشا نے دیکھا تو اسکو جھٹکا لگ گیا . . اس نے شہریار کے پاؤں پر اپنا پیر زور سے دے مارا جس پر شہریار کی چیخ نکل گئی . .جس پر لائبریری کی ٹیچر آلارم کی جھرکی کی طرح ٹپک پڑہی ۔۔۔ ان دونوں کو سائلینس ھونے کا کہہ کر چلی گئی باقی سب شہریار کو دیکھ رہے تھے . . اس نے کہا بھائی اپنا پڑھو مجھے کیا دیکھ رہے ہوں . . پھر وہ پریشا کی طرف مڑا اور کہنے لگا چوڑیل … اب میں نے کیا کر دیا جو یہ فضول حرکت کی تم نے . . پریشا نے کہا یہاں کیوں بیٹھیے ہو کہی اور جا کر نہیں بیٹھ سکتے تھے . . اس نے کہا میں مارا تھوڑی جا رہا ہوں تمھارے ساتھ بیٹھنے کے لیے وہ جگہ نہیں تھی اسی لیے یہاں بیٹھ گیا . . پر اب میں جا رہا ہوں تم . پر بھروسہ نہیں پاگل ہو کبھی کچھ بھی کر سکتی ہوں . . وہ اٹھنے لگا تو پریشا نے اس کو کہا اے سنو۔۔۔ شہریار نے دانت کو زور سے جکڑا اور کہا میرا نام شہریار عالمگیر ہے۔۔۔ جو بھی تمھارا نام مجھے اس سے کیا۔۔۔ ویسے تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔ شہریار نے کہا مجرا دیکھنے آیا تھا۔۔۔ دیکھ لیا اب جا رہا ہو۔۔۔ تم سے بات کرنا ہی بیکار ہے۔۔۔ جاو جان چھوڑو۔۔۔ وہ شکل بیگھارتے ہوئے نکل گیا۔۔ . . پریشا نے سکھ کا سانس لیا اور شکر کیا . . اسائنمینٹس بناتے بناتے اسکو ٹائم کا ہوش نا رہا شام ہونے کو تھی . . تب اسکو ہوش آیا کے اسکو ہاسٹل بھی جانا ہے باقی کام کل کر لونگی . . لائبریری سے باہر نکلی تو یونیورسٹی میں کچھ ہی اسٹوڈنٹ تھے . . اچانک اسکو شہریار اتا نظر ایا۔۔ وہ لائبریری کی طرف ہی آ رہا تھا . . شہریار کی چینک نکل گئے اوئے چوڑیل تم ابھی تک یہاں کیا کر رہی ہوں ٹائم دیکھا ہے . . پریشا نے دانت چباتے ہوئے کہا مجرا دیکھنے آہی تھی دیکھ لیا اب جا رہی ہوں . . اس نے کہا مذاق بند کرو اور بتاؤ . . . پریشا نے اسکو وجہ بتائے اور ٹائم کا پتہ نہیں چلا یہ بتا دیا تو وہ تپ سا گیا . . لڑکی پاگل ہوگئ ہو اِس وقت یونیورسٹی میں ایندا نا دیکھو تمہیں . . پریشا نے تنزیا کہا میری بڑی فکر ہو رہی ہے . . اس نے کہا کوئی بھی لڑکی ہوتی تو میں اسی طرح فکر کرتا . . اور ایندا اِس ٹائم تک مت بیٹھنا سنا تم نے . . . . چلو میں تمہیں ڈروپ کر دیتا ہوں . . اس نے کہا پاگل ہوگئے ہو . . میں تمھارے ساتھ بالکل نہیں جاوگی . . ہورس رائیڈنگ میں نہیں بھولی . . شہریار نے چہرے پر شرارت والی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا مطلب تم دَر گئے تھی . . ہیں نا ؟ وہ کہنے لگی تب شہریار نے کہا . . اب ڈرامہ بند کرو میں پارکنگ میں کھڑا ہو آجاؤ . . پریشا نے کہا بائیک آہستہ چلانا . . تو اس نے کہا اور تم آہستہ چلانا۔۔۔ میں وہ چیکھے ابھی تک نہیں بھولا۔۔۔
پریشا کی شکل بگھار گئی …
وہ بائیک پر بیٹھنے لگی دونوں تنگے ایک طرف کر کے . . شہریار نے کہا یہ کیسے بیٹھ رہی ہوں پاگل . .
تم پاگل… اور لڑکیاں اسے ہی بیٹھیتی ہے . . تمہیں نہیں پتا کیا۔۔۔
اُف لڑکی گر جاوگی . . میری طرح بیٹھو . . پھر کچھ ہوا تو مجھے مت کہنا من تمہیں پہلے ہی بتا رہا ہوں . . پریشا نے شارٹ لینتھ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر ٹائیٹ اور گلے میں دوپٹے کو مفلر کی طرح لپیتا ہوا تھا . . وہ سوچنے لگ گئے . . تب ہی شہریار نے اسکو ہوش دلایا کے جلدی کرو سوچ کیا رہی ہوں . . پھر وہ بیٹھ گئی کیونکہ کہ اور کوئی راستا بھی نہیں تھا … آج موسم بھی بہت خوبصورت ہو رہا تھا بہار کے آنے کی وجہ سے . . . ہر طرف پھول کھل رہے تھے . . وہ سگنل پر رکے تو سامنے ایک بائیک پر دو لڑکے تھے . . پیچھے والے نے پریشا کو دیکھ کر سیٹی بجائی . . شہریار کو غصہ چڑھ گیا . . پریشا نے ان کو اگنور کیا اور دوسری طرف دیکھنے لگی… سگنل کھلنے کے بعد . . شہریار اور ان لڑکو کے بیچ ریس چیڑ گئی … شہریار نے بائیک کی سپیڈ بڑھا دی . . پریشا کی جان حلق میں آگئی اس نے شہریار سے کہا یہ کیا کر رہے ہو پاگل مت بنو میرا ہی خیال کر لو۔۔… . وہ اسکی کہاں سن رہا تھا . . پریشا نے بھی دیکھا وہ اسکو بالکل نہیں سن رہا تھا اور اب اسکی وہ سنے گا بھی کیوں ۔۔شہریار نے کہا مجھے مضبوطی پکڑ لو۔۔۔ پھر نا کہنا۔۔ مینے بتایا نہیں . . اس نے کس کر شہریار کو پکڑ لیا اور شہریار نے سپیڈ بڑھا دی… کبھی وہ دونوں لڑکے اگی ہوتے تو کبھی شہریار … ریسنگ کرتے کرتے . . وہ بہت دووور نکل آئے تھے . . . . آخر وہ دونوں لڑکے ایک ساتھ بائیک سے گر پڑھے . . شہریار کی بائیک تھوڑے اگی تھی اس نے بائیک آہستہ کی اور ان کو پیچھے موڑ کر دیکھا زیادہ چوٹے نہیں لگی پر . . تھوڑا زخمی ہوگئ تھے . . شہریار طنزیہ مسکرا کر آگے بڑھ گیا… اب پریشا کے پھٹنے کی باری تھی . …اس نے نوٹ کیا پریشا اب تک کچھ نہیں بولی . . اس نے بائیک روکی . . وہ بائیک سے اُتَر گئی . . اور شہریار کو دات دینے لگی . . واہ ری ناوابزادی کیا بائیک چالاتی ہے مزہ آگیا وہو۔۔۔۔۔۔… . بہت انجوئے کیا . . شہریار اسکی بات پر حیران ہو گیا . . اور بولا ٹھیک ہو نا دماغ جگا پر ہے تم آج ڈری نہیں اور ایک بار بھی نہیں چلائی . . تو پریشا نے کہا میرا دماغ ٹھکانے پر ہے . . اور اچھا ہوا ان بدمعاشوں کے ساتھ . . تم ساتھ تھے ورنہ جوتوں سے ان کو مارتی تمھاری وجہ سے چھوڑ دیا اور اگنور کیا . . پر جب تم نے ریس شروع کی تو میں تمہیں منع کرنے والی تھی کہ نا کرو۔۔ پر وہ کتا پِھر بھی مجھے تک رہا تھا اسی لیے ان کو سبق سکھانا تھا . . بس پِھر کیا اللہ کا نام لیا اور رائڈ انجوئے کرنے لگی اور تم نے اپنا کم کر کے دکھایا . . واہ میرے شیر دل خوش کر دیا ان کو گرا کر . . چلو اب مجھے ہاسٹل چھوڑو . . ورنہ وہ ہاسٹل وارڈن موٹی میرا سَر پھوڑ دے گی . . آخر میں اس نے کہا ایک بات کہو . . شہریار نے کہا ہممم بولو… پاریشا نے کہا ایندا اِس طرح مت چلانا کہی کچھ ہو نا جائے تمہیں . . کیوں اپنی زندگی کے دشمن بن رہے ہوں . . شہریار نے کہا میری بَڑی فکر ہو رہی ہے تمہیں . . اس نے جھٹ سے کہا اوئے زیادہ خوش فہمی میں مت رہنا نواب زادے . . میں تو اِس لیے کہہ رہی تھی اپنے ماں باپ کا سوچو… تم نے ہی کہا تھا کے ان کے لاڈلے ہو . . تمہیں کچھ ہو گیا تو انکا کیا ھوگا . . تمھارے بابا تمہیں اتنی مہنگی کارز اور بائیک لیکر دیتے ہے, ہر وقت تمھارے لیے کام کرتے ہے تاکہ تمہیں کسی چیز کی کمی نا ہو اور تمھاری مام وہ ہر وقت تمھارے لیے پریشان ہوتی ہونگی تم ہو کے ہر وہ چیز کرتے ہوں جو اچھی نہیں . . سگریٹ بھی پیتی ہوں . . وفف… اسکی اسمیل . . خیر چھوڑو ان بتاؤ کو ویسے بھی تم کو سمجھ نہیں آئے گی وہ اسکی بتائے چُپ کر کے سن رہا تھا . .اور وہ بائیک پر دوبارہ بیٹھ گئی . . شہریار اسکو بائیک کے مرر سے دیکھ رہا تھا پاریشا کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی…اس نے پریشا کو ہاسٹل ڈروپ کیا اور وہ بھاگتے ہوئے اندر چلی گئی پیچھے مڑ کر بھی نا دیکھا۔۔۔…
شہیریار ، میکال اور اَذان آپس میں کھڑے ہوئے بتائے کر رہے تھے . . تب شہریار نے ایک لڑکی کو کینٹین کی طرف جاتا دیکھا . . وہ کینٹین میں جا کر بیٹھ گئی . . شہریار نے میکال کو آنکھ مار کر اشارہ کیا . . آج ایک بار پِھر سے وہ اَذان کی کٹ لگوانے والے تھے … شہریار نے شوخی اندازِ میں میکال کو کہا . . ابحے میکال وہ دیکھ کیا بیوٹیفُل لڑکی ہے . . اَذان نے جھٹ سے کہا … کہاں ہے کہاں ہے مجھے بھی تو دکھاؤ . . میکال نے کہا ابحے اپنے آگے نہیں پیچھے دیکھ . . اَذان نے اپنے پیچھے دیکھا تو کینٹین کی بینچ پر ایک لڑکی اکیلے بیٹھی ہوئی تھی . . . . اَذان نے کہا لگتا ہے آج آسمان سے کوئی پری اتاری ہے . . شہریار اور میکال ایک دوسری کو اشاروں میں کہہ رہے تھے گئی بیھنس پانی میں . . شہریار اور میکال آپاس میں جھوٹ موٹھ کا لڑنے لگے ، شہریار کہتا میں اس لڑکی کے پاس جاؤ گا میکال کہتا میں جاؤ گے . . اتنے میں اَذان اس لڑکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا . . شہریار اور میکال نے ایک دوسری کو دونوں ہاتھوں سے ہائی فائیو کیا… کیوں کے اَذان اپنے پیر پر کلہاڑی خود مار چکا تھا…
اَذان اس لڑکی کو امپریس کرنے میں لگا ہوا تھا پیچھے سے میکال حفصہ کو یہ کہہ کر کلاس سے لی آیا کے . . آؤ موسم اچھا ہو رہا ہے کینٹین پر چلتے ہے . . حفصہ اسکے ساتھ آ رہی تھی تب میکال کا موبائل بجا تو اس نے حفصہ سے کہا تم کینٹین کی طرف جاؤ میں اتا ہوں . . … میکال کال آنے کا صرف ڈھونگ رچ رہا تھا… اسکو کسی کی کال نہیں آہی تھی … حفصہ جیسے ہی کینٹین میں پونچی وہاں کیا دیکھتی اَذان اس لڑکی کے ساتھ فری لگا پڑا تھا . . اس نے اَذان کے کندہوں پر پیچھے سے ہاتھ رکھا . . اَذان نے اسکو کینٹین کا ملک سمجھ کر کہا بعد میں انا . . وہ بار بار اسکا کندھا تھپ تھاپا رہی تھی پر وہ ہر بار اگنور کرتا . . اور یہی کہتا یار بعد میں پیسے لینے اجانا… حفصہ نے غصے میں آکر اسکے کالر کو مروڑ دیا . . اَذان کو غصہ اگیا ایسے کیسے اِس لڑکے کی اتنی ہمت ہوئے میرا کالر پکڑنے کی وہ جیسے ہے منہ پیچھے کر کے دیکھنے لگا وہ حفصہ تھی . . اسکی جان حلق میں آگئی . . اس نے کہا حف حفصہ تم تم یہاں کیا کر رہی ہوں . . وہ آٹک آٹک کر بول رہا تھا . . شہریار اور میکال چپکے چپکے ان کو دیکھ رہے تھے اور خوب لطف اندوز ہو رہے تھے . … حفصہ نے کہا میں تمہیں بتاتی ہوں میں یہاں کیا کر رہی ہو پہلے تم بتاؤ یہ لڑکی کون ہے . . اس لڑکی نے کہا اَذان ڈارلنگ یہ لڑکی کون ہے . . حفصہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا . . حفصہ کی انکہے غصے سے نکل آئی چہرہ لال ہو گیا . . جس کو اَذان نے خوب جانچ لیا . . اَذان کا چہرہ پیلا پڑھ گیا حفصہ کا غصہ دیکھ کر…
حفسہ نے اَذان سے پوچھا یہ ڈارلنگ کسے بول رہی ہے تو لڑکی نے کہا کس کو کہو گی . . اپنے اَذان ڈارلنگ کو کہا گی نا . . اَذان نے حکلاتے ہوئے کہا . . حفصہ میں تمہیں ملواتا ہوں . . میری بات تو سن لو . . حفصہ یہ میری بہن ہے صوفیہ … اور صوفیہ یہ حفصہ میری فرینڈ ہے . . صوفیہ نے کہا بہن . .صوفیہ نے بہن کو زور دے کر بولا… اور ایک رکھ کر چانٹا اَذان کے گال پر دیا۔۔۔… بدتمیز اِنسان ابھی تم نے مجھ سے شادی کرنے کا کہا اور ابھ تم نے مجھے بہن بنایا لیا . . گو ٹو ھیل . . وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر چلی گئی… حفصہ کو ہنسی آ رہی تھی جب اَذان نے اس لڑکی کو بہن بولا . . پر اَذان کو شو نہیں کروایا . . گھوسا اسکی آنکھ پر دے مرا… اور وہاں سے چلی گئی . . شہریار اور میکال ہستے ہستے اسکے پاس آئے … وہ سمجھ گیا کے یہ حرکت ان دونوں کی تھی . . ان کو بد دعائیں دینے لگا اللہ کرے تم لوگوں کی بیویاں بھی اسی ہوں . . کمینو جہاں تم جیسے دوست ہوں گے وہاں دشمن کی کیا ضرورت ہے . . نمک حرامون… غدار ہو تم لوگ . . وہ اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر بول رہا تھا . . وہ دونوں ہنس ہنس کے لال ہوگئے تھے . . اَذان نے میکال کو گھونسا دیکھا کر کہا چُپ کر بے ورنہ مر جائے گا . . اس نے کہا پہلے تو اپنے جون سینا ( حفصہ ) کو تو سنبھل لے . . پھر دیکھ لینا… ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا . . شہریار نے پیٹ پر ہاتھ رکھ دیا یار مجھے بچہا لو ورنہ میں ہنس ہنس کر مرجاؤ گا…اذان نے کہا۔۔۔ شہریار اللہ کرے گا تیری شادی پریشا سے ہوجائے۔۔۔ دیکھنا اب ہر نماز میں یہ دعا نہ کی نا تو میرا نام بھی اذان شاہ نہیں ۔۔۔۔۔یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا . . کیوں کے وہ دونوں اس سے برداشت نہیں ہو رہے تھے . .
♢♢♢♢♢♢♢¿¿
پریشا ، جنید اور نعمان نے آج کلاس بنک کی تھی . . وہ کینٹین میں اکیلے ہی اگئی کیونکہ جنید اور نعمان باہر ہی کسی سے بات کر رہے تھے . . کینٹین میں شہریار کی گینگ بھی بیٹھی ہوئی تھی . . اور وہ کاؤنٹر پر کھڑا تھا جہاں وہ کینٹین والے کو کوئی چیز دیکھنے کے لیے کہہ رہا تھا کینٹین والا لڑکا جیسے ہی وہ چیز نکلنے لگا شہریار نے چاکلیٹس کے دھبّے میں سے کچھ چاکلیٹ نکل کر اپنی پاکیٹ میں ڈال دیے . . پریشا نے دیکھا تو اسکی آنکھیں نکل آئی . . وہ شہریار کو روکنے والی تھی پِھر چُپ ہوکر اسکو دیکھنے لگی . . وہ کینٹین والا لڑکا آیا شہریار نے کہا نہیں یہ چیز نہیں چاہئیے تھی سوری مجھے دوسری لگی . . وہ لڑکا واپس رکھنے چلا گیا شہریار نے پھر سے کچھ ببل گم لیے اور اپنی دوسری پاکٹ میں ڈال دیئے . . پریشا یہ دیکھ کر پریشان ہوگئ . . کے یہ کیا حرکت کر رہا پر اسکو ہنسی بھی آ رہی تھی کیوں کے وہ بھی بچپن میں اسی ہی حرکتیں کرتی تھی . . شہریار اپنی گینگ کے طرف آیا اور بینچ پر بیٹھ کر سب کو وہ چیزیں باٹنے لگا . . پریشا بھی ان کے پاس آئی . . اور کہا میرا حصہ کہاں ہے . . شہریار نے ایک آئی برو اوپر کر کے پوچھا تمھارا کونسا حصہ اور کس چیز کا حصہ . . اس نے کہا جو سب کو دے رہے ہوں مجھے بھی میرا حصہ دو . . چلو جلدی کرو . . شہریار نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا نہیں دونگا . . نکل جاؤ یہاں سے چُپ چاپ چلتی بنو شاباش . . . پریشا نے کندھے اچھکا کر کہا جیسے تمھاری مرضی چلی جاوگی پر اس کینٹین والے کو بتا دونگی کے تم نے اسکی چوری کی ہے . . شہریار نے لاپرواہی سے کہا جاو بتا دو . . تمھارے پاس کونسا ثبوت ہے اور وہ کیوں تم پر یقین کرے گا . . پریشا نے اپنا موبائل اگے کر کے شہریار کو ویڈیو دکھائے . . جو پریشا نے اسکی بنائی تھی . . اسکی آنکھیں نکل آئی . . وہ جلدی سے اسکے ہاتھ سے موبائل چینے کی کوشش کر رہا تھا پر پاریشا نے جھٹ سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا . . اور کہا مسٹر شہریار اتنی آسانی سے . . ہاتھ میں نہیں آنے والی . . شہریار نے کہا دیکھ لینا ایک دن ایسا پکڑو گا . . کبھی چڑوا نہیں سکو گی دیکھ لینا . . اَذان نے ہستی ہوئے زور سے کہا آمین آمین … پریشا کو سمجھ نا آئی کے یہ کیا کہہ رہا ہے اس نے اگنور کیا اور شہریار نے دانت چباتے ہوئے اذان کو دیکھا جس نے بات کو پتا نہیں کیا سمجھ لیا اور امیں کہنا شروع کردیا۔۔۔ شہریار نے بے دلی سے کچھ چاکلیٹ اور ببلس اسکی طرف بڑھائے پریشا وہ لینے لگی تو شہریار نے کہا اتنی آسانی سے نہیں پہلے ویڈیو دلیٹ کرو پھر ملے گے۔۔ پریشا نے کہا Ok… . .
اور ویڈیو ڈلیٹ کر کہا اس کو یقین دلانے کہ لیا دکھایا۔۔۔
شہریار کو جب یقین ہوئا تو چیزیں اسکی طرف بڑھا دی۔۔۔
پریشا نے جھٹ سے چیزیں لیکر نکل گئی

شہریار اِس وقت گھر میں اکیلا بیٹھا گیٹار بجا رہا تھا…… میکال باہر سے كھانا لینے گیا ہُوا تھا… وہ دونوں جب سے پاکستان آئے تھے ساتھ ہی رہتے تھے . . شہریار کے بینگلو میں …مسٹر عالمگیر اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے … اسی وجہ سے ماں باپ کی ساری جائِداد ان کے مرنے کے بعد مسٹر عالمگیر کو مل گئی . . وہ شروع سے ہے باہر جانے کا سوچتے تھے پر اپنی ماں کی وجہ سے نہیں جا سکے پر انکی ڈیتھ کے بعد مسٹر عالمگیر لندن شفٹ ہوگئے اور انہوں نے وہی پر اپنا بزنس اسٹارٹ کیا… دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے آسْمان کی بلندیوں کو چھو لیا . . آخر تھے بھی اتنے قابل … اور اب وہ لندن میں ایک نامور بزنس مین تھے …
شہریار پاکستان آیا بھی اسی لیے تھا کے بچپن میں وہ اپنی دادی کا بڑا لاڈلا تھا اسی لیے وہ ہر وقت ان کے ساتھ رہتا تھا… تو وہ شہریار کو ہمیشہ کہتی تھی اپنا ملک اپنا ہے … . ہر وقت اسکو پاکستان کی تعریفیں سناتی . . یہی کہتی تھی بیٹا یہاں کے لوگوں کو پڑھ لکھ کر فائدہ دینا . . نا کے انگریزوں کے ملک جاکر ان کو فائدہ دو۔۔ … وہ اپنے وطن سے بے پناہ محبت کرتی تھی… شہریار میں بھی اپنے ملک کی محبت جاگ گئی تھی۔۔. .
اسی لیے جب دادی کی ڈیتھ ہوگئ اور اسکے بابا والے لندن شفٹ ہو رہے تھے تو اس نے صاف انکار کر دیا تھا لندن جانے سے … پھر بہت کوششوں کے بعد ہی منا تھا… اور پِھر یہ اِرادَہ کر لیا کے جس دن بھی مجھے موقع ملا میں واپس اپنے ملک چلا جاؤ گا دادی کے گھر… وہ آج بھی ان کو بہت یاد کرتا تھا۔۔۔…
گھر میں کک تھا وہ گھر کی صفائی بھی کر دیتا تھا پر شہریار اسکو ہر آئے دن چھٹی دے دیتا تھا کے جاؤ عیش کرو… .
کبھی کبھی کا بار ہفتوں چھٹیاں بھی دے دیتا… اور وہ بھی مذہے کرتا۔۔۔
اور اِس بار بھی اس نے یہی کیا تھا…
بھوت خیال رکھنے والا بندہ تھا بس تھوڑا کھل کے جینا کا شوک رکھتا تھا جس وجہ سے اسکی موم ڈرتی تھی… کوئی بری عادت بھی نہیں تھی بس سگریٹ کے عادت تھی… وہ بھی کبھی کا بار جب زیادہ غصہ اتا تو پیتا تھا…
وہ ابھی گیٹار کی پریکٹس کر رہا تھا . . جب لیپ ٹاپ پر ویڈیو کال آنے کی رنگ ٹون بجی… شہریار کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا . . وہ جانتا تھا گھر والو کی کال ھوگی لندن میں آج سنڈے تھا اسی لیے پوری فیملی گھر پر تھی اور ہر ویکنڈ پر ساری فیملی والے شہریار سے ویڈیو چیٹ کرتے تھے . . کال ریسیو کرتے ہی شہریار کو مسئز سارا عالمگیر نظر آئی . . How are you mom.? …
Iam fine mera bacha how are you?
Iam absolutely fine…
یہ بالوں کا کیا حال بنا کر گھومتے ہو . . کتنی دفعہ تمہیں سمجھایا ہے کے اچھی طرح سے برہشنگ کیا کرو پر تمہیں میری ایک بات سمجھ نہیں اتی…
مسز سارا نے شہریار سے شکایت بھرے لیجیے میں کہا۔۔۔
جس کا شہریار پر کوئی اثر نا ہوئا ۔۔۔. . اس نے بالکل نارمل اندازِ میں کہا . .
Relex mom its my style….
اسٹائل گیا تیل لینے مجھے سے بات مت کرنا تم…
انہوں نے تپے ہوئے اور ناراضگی بھرے لیجیے میں کہا…
شہریار بھی آخر شہریار تھا وہ خوب اچھے سے جانتا تھا انور کیسے منانا ہے۔۔۔
اِس لیے جلدی سے بالوں کو گیلا کر کے سیٹ کیا اور ان کے سامنے حاضر ہوگیا… اور میسنی شکل بنا کر سوری کہنے لگا . . جس پر مسئز سارا نے کہا ڈرامی لڑکے تمھارے سارے ڈرامے میں خوب اچھی طرح سے جانتی ہوں . .
ہے ڈیڈ ہائو آر یو ؟ ؟ بوڈے ہوتے جا رہے۔۔۔ بالوں کو کلر نہیں کیا کیا ؟ ؟
مسز سارا کے ساتھ مسٹر عالمگیر بھی آگئے تھے ، شہریار اپنے بابا کو دیکھتے ہے بول پرہا …
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا سہی ہے بیٹا . . بابا کو بڈھا بول رہے ہو . . . مجھے ملو تم دیکھتا ہوں میں تمہیں . .
سوری بابا مذاق کر رہا تھا آپ تو ہمیشہ سے ایور گرین ہے …
اچھا اچھا اب زیادہ مکھن مارنے کی ضرورت نہیں مسٹر عالمگیر نے شہریار کو مزاکیا اندازِ میں کہا . . .
جس پر دونوں باپ بیٹے نے مل کر قہقہ لگایا
پیچھے سے کسی کی آواز آئے . . بابا کس بات پر ہنسا جا رہا ہے…آو روحیل بیٹا شہریار آیا ہے ویڈیو چیٹ پر بات کرو… مسٹر عالمگیر نے شہریار کے بڑے بھائی کو بولایا… جو خوشی خوشی لیپ ٹاپ کے آگے آکر بیٹھ گیا . . ہے بڈی کیسے ہو . . روحیل نے خوش سے کہا … . شہریار نے بے اسی طرح جواب دیا fir bro..اس نے اپنی باڈی دیکھا کر کہا۔۔۔ آپ سناؤ سب کیسا چل رہا … سب سے بات کر کے وہ بہت فریش فیل کر رہا تھا… ابھی بھی ویڈیو چیٹ چل رہی تھی . . جیسے سب اسکے ساتھ بیٹھے ہوئے ہو…
شہریار کی موم نے کہا چلو شیری مجھے اپنا روم دیکاو… دیکھو تو سہی کیا حالت بنا دے رکھی ہے۔۔… شہریار نے بہت اگنور کیا کے بات کسی طرح گول مٹول کردے پر ماں تو ماں ہوتی ہے اپنے بچوں کی رگ رگ سے واقف ہوتی ہے … وہ بھی تب تک ڈٹی رہی جب تک شہیریار نے ان کو سارا کمرا نہیں دیکھا دیا… پورا کمرا بکھرا پڑھا تھا . . بیڈ پر سارے بکس پھلے ہوئے تھے . . ٹی وی کی اسٹینڈ پر ڈھیر ساری ویڈیو گیم چائے کے مگ . . اور بھوت سارے پانی کے گلاس پڑہے ہوئے تھے۔۔ انکی آنکھیں نکل آئے شیری یہ کیا حالت بنا رکھی ہے بیٹا… ہر جگہ کپڑے پھیلے ہوئے تھے . . وہ سَر پکڑ کر بیٹھ گئی . . تم کس دن اپنی صفائی کا خیال رکھو گے . . اظہر ( کھانا پکانے والا ) کہاں ہے بلاؤ اسے . .
مسز سارا نے شہریار سے غصے میں پوچھا . .
جس پر شہریار گھبرا سا گیا وہ ان کو کیا بتاتا کے اس نے اظہر کو چھٹی پر بھیجا ہے . . آج تک مسز سارا کو اس نے نہیں بتایا کے وہ اظہر کو چھٹی پر بھیجتا ہے… ورنہ وہ اظہر کا کچومر کردیتی…
موم وہ باہر گیا ہے گھر کے کام سے …
شہریار نے بات کو سنبھلتے ہوئے کہا . .
وہ آئے تو میری اس سے بات کروا دینا . . انہوں نے دانت چباتے ہوئے کہا …
جس پر شہریار نے کہا موم اسکا کوئی قصور نہیں میں ہی اسکو کمرے میں نہیں آنے دیتا . . آپکو پتہ ہے مجھے اچھا نہیں لگتا کوئی میری چیزوں کو چھیڑیے
وہاں پر شہریار کی بھابی بھی آگئے . . ساتھ میں ارحام بھی تھا . .
بس موم لڑکا ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اِس کی شادی کروا دے …
شہرییار نے مسکرا کر نینا کی بات کا مذاق بنایا ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا nice joke i like it…
نینا نے شوک ہوتے کہا جوک نہیں کیا سریس ہو . . مسز سارا نے بھی کہا بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے میں لڑکی ڈھونڈ رہی ہو . . اب وہ ہی تمہیں سنبھالے گی . . باقی تو تم ہمہاری بتائے ماننے سے رہے۔۔…
ویسے وہ لڑکی کیسی رہے گی . .
کونسی ؟ شہریار نے تجسس سے نینا سے پوچا…
وہی کیا نام تھا . . نینا نے سوچتے ہوئے کہا . .
ھم پریشا…
شہریار کے اندر غصے کی لہر جاگ اٹھی …
وہ چوڑیل . . میرا دماغ خراب ہے کیا ؟
نینا نے حیرت سے کہا اتنی اچھی تو تھی پیاری سی…
کیا خاک اچھی . . ڈاین ہے پوری ڈاین . . اسکا بس نہیں چلتا میرا سر پھوڑ دے…
مسئز سارا نے کہا اچھا ہے تم اس سے ڈرتے رہو گے تو وہ تم سے جو بھی کام کہے گی تم فوراً کرو گے…
مسئز سارا کو نینا نے پریشا اور شہریار کی لڑائی کا قصہ سنایا تھا . . اور اکثر شہریار بھی ان کو بتاتا رہتا تھا… انکی بَڑی خواہش تھی کے وہ پریشا سے ملے پر مصروفیت کی وجہ سے وہ پاکستان نہیں آ پا رہی تھی…
دونوں مل کر شہریار کی تانگ کھینچ رہے تھے اور وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا
جس پر پورا گھر اسکا مزہ لے رہا تھا . .
ویسے وہ سب کی ٹانگ کھینچتا تھا اور مزے لیتا تھا آج سب نے مل کر اسکی ٹانگ کھینچی اور مزے لے رہے تھی۔۔۔
آخر اس نے چڑ کر بولا کوئی اور بات کرے تو سب نے مل کر اس کی حالت پر قہقہ لگایا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: