Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 8

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 8

–**–**–

اگلے ماہ پریشا والوں کا آخری سیمسٹر تھا۔۔۔ ۔۔۔ . . .
شہریار کچھ دنوں سے غائب ہو گیا تھا . . جب وہ کچھ دن نظر نا آیا تو پریشا اسکے بارے میں سوچنے لگی کے اسکے سب دوست آ رہے ہے باقی وہ کیوں نہیں آ رہا ہے . . اس نے سوچا کے اسکے دوستوں سے پوچھ لوں سب خیر ہے نا ہمہارے ایگزامس کے ایک ماہ بعد ان کے بھی تو ایگزامس ہے . پِھر کیوں نہیں آ رہا ہے۔۔… . . پر پِھر اس نے سوچا کے میرا کیا کام اس بگڑی ہوئے سے۔ نا آئے میری بلا سے۔۔۔ . . بھلا مجھے کیوں اسکی فکر ہو رہی ہے . .وہ پڑھتے پڑھتے سوچ رہی تھی۔۔۔۔منہ سے پین نکل کر پھر سے پڑہنے لگ گئی۔۔۔
پریشا والوں کے اخری ایگزامس ہونے بعد بھی شہریار نظر نہیں آ رہا تھا نا ہی کسی سے اسکا پتہ چل رہا تھا . . پریشا کے بابا کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی اسی وجہ سے ایگزامس دینے کے فوراً بعد وہ لاہور جانے کی تیاری میں لگ گئی . . اپنا سارا سامان ہوسٹل سے سمیٹا … باکی سب بھی اپنے اپنے گھر کے لیے نکل رہے تھے . . ہر کوئی اداس تھا اتنا جلدی ٹائم گزر گیا پتہ بھی نا چلا . . وہ ساری باتیں اور یادیں یاد کر کے ان کو خوشی بھی ہو رہی تھے . . ساتھ ہی غم بھی تھا وہ سب خواہش کر رہے تھے کہ کاش یہ پل کبھی ختم نہ ہوتے۔۔ پر ایسا تو اب نا ممکن تھا۔۔ . . پر سب دوستوں نے آپس میں وعدہ کیا کے آگے بھی کونٹیکٹ میں رہے گے۔۔۔اور جب بھی موقع ملا تو ملے گے بھی۔۔ . . پریشا ساری یادیں سمیٹ کر سب سے پہلے اپنے گھر کے لیے روانہ ہوگئ۔۔۔. . اس کی شہریار سے آخری بار ملاقات نا ہوئی۔۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
پریشا پھولوں کا گل دستہ لیکر کھڑی ہوئی تھی اس نے شہریار کو دیکھا جو بالکل بَدَل گیا تھا کہاں وہ ہر وقت رف ہلیا میں ہوتا تھا . . اور کہان اور آج ڈیسینٹ سا ہو گیا ہے . .
اس کو دیکھ کر آج ساری پرانی تلخ یادیں اسکی آنکھوں میں گھوم رہی تھی۔۔۔ جس پر وہ بہت اداس ہوگئی کتنی مشکل سے وہ سب کچھ بھول کر اپنی زندگی میں آگے بڑھی تھی۔۔۔
پر آج کیسے قسمت نے ان دونوں کو دوبارہ ملا دیا تھا ۔۔وہ سوچ رہی تھی کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا اگر اس نے میرے دوستوں کو بتا دیا کہ میں یہاں ہوں اور اگر وہ یہاں مجھ سے ملنے اگئے تو میں انکو کس منہ سے بتائو گی کہ میں نے یونیورسٹی کے بعد ان سے کوئی رابطہ کیوں نہیں رکھا۔۔۔
جب یونیورسٹی سے پریشا واپس آئی تھی تو اسکی سوتیلی ماں نے اس پر بہت گندے الزام لگائے کہ وہ تین لڑکوں کے ساتھ گھومتی تھی اور شھر بھر میں اوارا گردیا کرتی تھی۔۔ انکے علاوہ پتا نہیں کتنے اس نے عاشق بنائے ہوئے تھے جن سے یہ ملتی ہوگی۔۔۔ ۔۔ یہ سب سن کر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ آج تک اس نے کوئی حد پار نہیں کی تھی۔۔اور پھر جو بھی وہ کرتی تھی اپنے بابا کو ضرور بتاتی تھی۔۔۔ اپنے گروپ کے لڑکوں سے بھی بابا کو ملوایا تھا۔۔ اس کے بابا کو اس پر پورا بھروسہ تھا پر اتنے الزام اپنی پاک دامن بیٹی پر لگائے جانا انکو بلکل برداشت نہیں ہوا جس کے نتیجے میں انکو پہلا ہرٹ اٹیک ہوا۔۔۔ پر اللہ کے فضل سے وہ بچ گئے۔۔۔۔۔۔ جب انکو گھر لایا گیا تو اسی دن پریشا نے اپنا موبائل توڑ دیا اور ڈسٹ بن میں پھینک دیا تاکہ اس کا کوئی دوست اس سے رابطہ نا کر سکے۔۔۔ وہ ان کو کیا منہ دیکھائے گی کہ وہ کس الزام کی وجہ سے ان سے ائیندا رابطہ نہیں کر سکے گی۔۔ اس لیے یہی بہتر ہے انکو پتا نہ چلے اس بات کا۔۔۔۔۔ میں ان کو منہ نہیں دیکھا سکو گی خاص کر ان تین لڑکو ( نعمان, فارس اور جنید ) کو جنھوں نے مجھ کو اپنی بہنوں سے بڑہ کر عزت دی۔۔۔ جتنا بھی فری تھے پر کبھی ھم تینوں لڑکیوں کو بری نظر سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ اگر انکو پتا چلا کہ لوگوں نے ہمارے پاک رشتے کو گالی دی ہے تو کیا سوچے گے اس کے بعد میں خود بھی ان کے ساتھ آنکھیں نہیں ملا پاو گی۔۔۔۔اس وجہ سے اس نے بابا سے گھر بدلنے کو بھی کہا اور پھر انھوں نے گھر بھی شفٹ کردیا اس لیے کہ اس نے سب دوستوں کو اپنے گھر کا پتہ بتایا ہوا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے اس کے گھر انا چاہتے تھے پر جب بھی پروگرام بناتے کیسی نا کیسی وجہ سے نہیں آ پاتے پر پریشا نے ان کو کہا تھا یونیورسٹی کے بعد جس دن بھی تم لوگوں کو وقت ملے تم سب مل کر آنا مجھے بہت خوشی ہوگی۔۔
وہ سوچوں میں گم ہوگئ کے یہ مجھے پہچان نا لے ورنہ بہت برا ہوگا۔۔۔اتنے میں شہریار اس کے قریب اکر کھڑا ہوگیا۔۔۔ . . پریشا کو پرنسپل سائقہ نے ہوش دلایا کے مس پریشا سر کو بوکے دیجئے تب . . وہ ہوش میں آئی اور جھجکتے ہوئے وہ بوکے اسکے آگے کر دیا .. آج بھی اس سے وہی خوشبو آ رہی تھی جیسی پہلے آتی تھے . . شہریار نے اسے بوکے لیا اور آہستہ سے تھینک یو کہہ کر آگے بڑھ گیا . . پریشا پریشان ہوگئ کیا اس نے مجھے نہیں پہچانا . .
لگتا ہے بھول گیا ہے . . چلو خیر میرے لیے ہی فائدہ ہے۔۔۔جب اندر چلا گیا پیچھے سے پریشا یہ سوچنے لگی یہ میرے دوستوں سے نہیں ملتا ہوگا کیونکہ اس کو وہ پسند کہاں تھے ہر وقت ان کو دھمکاتا نواب زادا اب تو بڑا بزنس مین بن گیا ہے اب کہاں وہ بیچارے اس کو یاد ہونگے یہ سوچ کر اس کو تھوڑی تسلی ہوئی ۔۔۔ . . سب ٹیم والے میڈم سائقہ کی آفیس میں چلے گئے پریشا اور باقی سب ٹیچرز بھی اپنے اسٹاف روم میں چلی گئے . . وہ دونوں آپس میں بیٹھ کر بتائے کر رہی تھی شفاء تو شہریار کی پرسنائلیٹی دیکھ کر فدا ہوگئ۔۔. . ہلاکے اسکا نکاح ہو چکا تھا اور کچھ ہی مہینوں میں اسکی رخصتی ہونی تھی ، اس نے پہلے دفعہ شہریار کے جیسا ہینڈسم لڑکا دیکھا تھا جس پر وہ رشک کر رہی تھے کاش ! مجھے بھی اسا کوئی لڑکا ملتا یا یہی ملتا . . پریشا اسکی بتاؤ پر ہنس رہی تھی کہ بیچاری کو پتا نہیں کہ کتنا بدتمیز ہے۔۔ . . تب شہریار فل اٹیٹیوڈ کے ساتھ اسٹاف روم میں آیا اور دروازے کو نوک کیا اس کے پیچھے ٹیم کے ایک دو افراد اور بھی تھے۔۔۔ . . سب ٹیچرز انکو دیکھنے لگی اور اٹھ کر کھڑی ہوگئ . .شہریار نے سب کو اشارہ کر کے بیٹھا دیا . . پریشا کی ہنسی کو وہی بریک لگ گیا . . پتہ نہیں کیوں اسکو دیکھ کر پریشا کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا . . اور سانسیں تیز چلنے لگی . . وہ اپنے آپکو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر بار بار ناكام ہو رہی تھی . .
شہریار نے سب ٹیچرز کو اپنے آپکو انٹروڈیوس کروایا پِھر سب ٹیچرز کا انٹروڈکشن لیا۔۔ اور ان سے کچھ چیزیں ڈسکس کی اور انکا کانفیڈینس بھی چیک کیا۔۔۔۔جب پریشا کی باری آئی تو وہ تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔ شہریار نے اس کو اگنور کرتے ہوئے کہا بیٹھ جائے پھر کبھی بتا دیجیے گا۔۔ اور وہ یہ سوچتی رہ گئی کہ آخر مجھے ہو کیا جاتا اس کو دیکھ کر۔۔ ۔۔
اج سب ٹیچرز کا لنچ اسکول کی طرف سے تھا۔۔۔اسی لیے سب دیر تک رک گئی تھی
لنچ کرنے کے بعد سب ٹیچرز اپنے گھر کو نکل رہی تھے اتنی دیر ہوگئ تھے سب کو… . شفاء کا بھائی اسے لینے آ رہا تھا پر پریشا اکیلے تھی اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا اِس وقت وہ اکیلے کیسے جائے گی۔۔۔ کوئی بس بھی اِس وقت نہیں ھوگی . . اللہ کا نام لیکر وہ نکل گئے . . تیز تیز قدم بھرتی وہ گھر پونچھ گئے . .
وہ گھر واپس آئے تو بابا نے نیو ٹیم کا پوچھا کے آئے تھے . . اور کیسے تھے لوگ . . اس نے کہا اچھے تھے . . اور تھکاوٹ کا کہہ کر جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئی اسکے بابا نے بھی کہا آرام کر لو پھر بات کریں گے . .
آج اسکول میں سب ٹیچر کے ساتھ ٹیم کا ایک ممبر تھا . . پریشا کے ساتھ شہریار تھا . . وہ بہت حیران ہوگئ کے شہریار اسکے ساتھ ہوگا کہی اس بھوت نے خود ہی تو نہیں میرا نام خود کے ساتھ لگوا دیا۔۔ مجھے تنگ کرنے کہ لیے۔۔۔ . . اللہ اس کے ساتھ کام کرنا . . بہت مشکل ہوجائے گا . . پر پریشا تمہیں کرنا ھوگا . . بھلے ہی وہ تنگ کرے تمہیں اسکو برداشت کرنا ہے کچھ وقت کی تو بات ہے . . پِھر وہ چلا جائے گا . . اور ویسے بھی وہ مجھے بھول گیا ہے کہاں یاد ھوگی میں اسکو اس کو ڈر تھا کہ کہیں یونیورسٹی کا بدلا وہ یہاں نا لے لے۔۔۔ اب تو وہ اس کا بوس تھا اسی لیے اس کو برداشت کرنا ہوگا وہ خود کو ہمت دلا رہی تھی۔۔۔ . . . . جب وہ کلاس میں پڑھا رہی تھی تب شہریار وہاں آیا . . اسکی شکل بن گئی . . اُفف اللہ یہ اگیا۔۔ . . اس نے پریشا سے اِجازَت لی کیا میں اندر آ سکتا ہوں . . آ تو آگئے ہوں پوچھ کیا رہے ہوں وہ منہ میں بڑبڑائی . . شہریار نے کہا مس اپنے کچھ کہا کیا . .تو اس نے سَر نفعی میں ہلایا اور کہا جی آجائیے …
وہ اندر آیا سب اسٹوڈنٹ نے آٹھ کر اسکو welcome to our school کہا . . اس نے سب بچو کو تھینکس کہا اور وہ پیچھے بچوں کے ساتھ اک بینچ پر جگا بنا کے بیٹھ گیا ، پریشا اسکو دیکھ رہی تھی یہ کر کیا رہا ہے پاگل انسان . . شہریار نے اسکو کہا مس انگلی سے اسکا نام پوچھنا چاہ جیسے اسکو پتہ نا ہوں . . پریشا نے دانت چبائتے ہوئے کہا مس پریشا رضا۔۔ لیسٹ میں جیسے نام نہیں پڑھا۔۔ اندھا۔۔ وہ پھر سے بڑبڑائی۔۔۔. . او کے مس پریشا پڑھانا اسٹارٹ کریں I want to see your teaching style… . پریشا نے دل میں کہا ہو آیا بڑا انگریز . . کمینا… .
اس نے پڑھانا اسٹارٹ کیا . . اور وہ اسکو بہت سریس طریقے سے دیکھ رہا تھا . . جس کی وجہ سے وہ پزل ہو رہی تھی پہلی بار کوئی اس کا پڑھانا دیکھ رہا تھا۔۔ اسی وجہ سے وہ کنفیوز ہو رہی۔۔۔ پر کوئی اور ہوتا تو شاید اتنا نہیں ہوتی پر اس دشمن جان کے سامنے مشکل تھا۔۔۔ . . اسکی نظری بالکل اپنے اوپر پا کر وہ پھر سے اپنے ہوش حواس کھو رہی تھی ۔۔۔
پر پِھر اس نے فل کانفیڈینس کے ساتھ پڑھایا . . .
کلاس پوری ہونے پر .شہریار نے پریشا کو کہا مس آئی ایم سوری میں آپکا نام بھول جاتا ہوں کین یو پلیز رپیٹ یور نیم۔۔۔
پریشا نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا پریشا رضا ۔۔۔ جی تو مس پریشا اچھا پڑھا لیتی۔۔۔ well done۔۔۔ اسی طرح سے کنٹینیو رکھیے گا۔۔۔ پریشا خوش ہوگئی کہ شکر اس کو اچھا لگا۔۔ شہریار نے پھر کہا۔۔ مس پھر سے اسکا نام سوچنے لگا۔۔۔
. . پریشا نے اپنے ہاتھ کا گھوسا بنایا . . جیسے ابھی اسکا منہ سوجا دے گی…
پر اسکو اپنے آپ کو کنٹرول کرنا تھا پھر اس نے نام رپیٹ کیا . . Yes miss parisha sorry i forgot your name because its really difficult dont mind plz… پریشا نے آہستہ سے کہا کوئی بات نہیں ok can you plz show me mathematic classes miss شہریار نے پھر سے اسکا نام بھولنے کی ناکام کوشش کی ۔پریشا نے گہرے سانس لے اور غصہ زبت کرتے اس کو اشارہ کیا کہ جی چلے میں دکھاتی ہوں۔۔۔۔ . پھر سے شہریار نے کہا مس… اور پھر وہ وہی چُپ ہو گیا تو پریشا نے کہا پریشا رضا . .مس پریشا آپ میتھس بھی پڑھا لیتی ہے۔۔ جس پر پریشا نے سر ہلا کر ھمممممم کہا۔۔۔ شہریار نے اپنے دماغ پر زور دیا اس کا نام یاد کرنے کہ لیے۔۔۔ اور بولا یہا ! تو مس پریشا رضا آپکے منہ میں زبان نہیں جو اِس طرح سَر ہلا کر جواب دے رہی ہے i dont like your attitude next time be careful in future i dont want to see you to reply me like this got it۔۔۔۔۔۔۔۔ … شہریار نے اپنی ہنسی کو کب سے کنٹرول کر رکھا تھا بار بار پریشا کا نام پوچھنا اور اسکا غصہ ھوجانا . . اسکو بہت ہنسی آ راہ تھی .اور پریشا اپنے غصے کو ذبط کر رہی ورنہ آج شہریار کا قتل ہوجانا پکا تھا۔۔. . ہنسی کنٹرول کرنے کی وجہ سے شہریار کا گورا رنگ سرخ پڑھ گیا تھا . . پریشا اسکو میتھس ڈیپارٹمنٹ میں لیکر جا رہی تھی . . تب شہریار نے اسکے کان میں کہا چوڑیل تم نے میرا پیچھا نہیں چوڑا نا… اور تمہارا نام چوڑیل تھا۔۔ پر تم نے تو اپنا نام ہی بدل دیا۔۔ چلو شکر کرو پوچھ لیا ورنہ میں نے تو چوڑیل ہی کہنا تھا۔۔۔ ۔۔ . . پریشا کو جیسے کرنٹ لگ گیا اِس بھوت کو میں ابھی تک یاد ہوں تبھی مجھے تنگ کر رہا ہے . . ہممم اب پتہ چلا . .but parisha raza you have to control yourself . . . . وہ پِھر سے اپنے آپکو کنٹرول کر رہی تھی . . اس نے شہریار کو کوئی جواب نا دیا . . اور میتھس ڈیپارٹمنٹ میں لے گئی جہاں پر اسٹوڈنٹ کو مختلف طریقوں کے ذریعے میتھس سکھائی جا رہی تھی . . سارے اسٹوڈنٹ پریشا کو دیکھ کر خوش ہوگئے . . کیوں کے پریشا انکی فیوریٹ ٹیچر تھی . . ان کو ہر حرکت کرنے پر دوسری ٹیچرز سے بچہ لیتی . . ان کے ساتھ مل کر شرارتیں کرتی . . شہریار نے اسکے کان میں کہا یہ شیطان کے چیلے بھی تم کو پسند کرتے ہے چوڑیل . . ظاہری ہے بڑے شیطان کی شاگرد جو ٹھہرے اس نے پریشا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا … . پاریشا کو غصہ ایا ایسے کیسے اِس نے اتنے معصوم بچو کو شیطان کے چیلے بولا رہا ہے۔۔. . وہ کچھ بولنے لگی پھر خود پر کنٹرول پا لیا . . شہریار نے کلاس میں اپنا انٹرودکشن کروایا . . پِھر پریشا نے اسکو سب بتایا کے کیسے وہ بچو کو ان چیزوں کے ذریعے میتھس سکھاتی ہے . . اور یہ بچے بھی بہت ذہین اور ٹیلینٹڈ ہے . . آپ ان سے کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہے . . شہریار نے کچھ بچوں سے سوال جواب کیے . . بچوں نے بہت اچھا ریسپونس کیا پریشا خوشی سے پھولی نہیں سماں رہی تھی . . اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ہواؤں میں اڑے . . اس نے بہت محنت کی تھی ان بچوں پر . . اور بچوں نے اسکا رزلٹ دیکھا دیا . . اسکے دشمن کے سامنے اسکی بی عزتی نہیں ہونے دے . . اسکا سَر فخر سے بلند ہو رہا تھا . . اور شہریار سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ اسکی دشمن خوش ہو۔۔. . اس نے غصے سے پریشا سے کہا چلیں مس پریشا رضا . . وہ اسکی حالت سمجھ گئے اور مسکارنے لگی… وہ دونوں پرنسپل کی آفس میں آئے تو پرنسپل نے شہریار سے پوچھا . . کیسا لگا آپکو مس پریشا کا پڑھانا اور انکا میتھس ڈیپارٹمنٹ میں کام . . شہریار نے سریس اندازِ سے کہا . . جی اچھا لگا مس پریشا کا پڑھانا but she needs improvement in her work and confidence as well . . ان کو کانفیڈینس کی بہت ضرورت ہے میں نے ان کو بتا دیا ہے . . میڈم آپ برا مت مانیا گا پر ہمیں یہاں کے لیے بیسٹ ٹیچرز چاہئیے جو فل آف کانفیڈینس ہوں . . اگر ٹیچر میں ہی کانفیڈینس نہیں ھوگا تو اسٹوڈنٹ میں کہاں سے ھوگا . . پاریشا کی انکہے پھٹ گئی . . یہ کیا بکواس کر رہا ہے کمینہ انسان مجھے کیا بولا اور میڈم کو کیا بتا رہا ہے۔۔۔ . . اللہ تو ہی مجھے بچہ . . اس نے پرنسپل کی شکل دیکھی جس پر غصہ صاف ظاہر تھا . . شہریار یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا . . پریشا اسکو جاتا دیکھ دل ہے دل میں اس کو گلیوں سے نواز رہی تھی . . اب روم میں صرف سائقہ میڈم اور پریشا تھے . . اسکے ھاتھوں میں پسینے آ رہے تھے . . اور اسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسکی سانس روک لے ہوں . . وہ بھی جلدی روم سے بھاگنے لگی تبھی میڈم نے اسکو کہا مس پاریشا یہی روکے مجھے آپ سے بات کرنی ہے . . پریشا نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھری . . اور انکی طرف پلٹی . . یس میڈم کہیے . . میں یہ کیا سن رہی ہوں پریشا . . مسٹر شہریار تمھارے لیے کیا کہہ کر گئے ہے . . وہ باس ہے اگر ان کو بات پسند نا آئی تو پوری گڑبڑ ہوجائے گی . . وہ یہی سوچے گے کے ہم یہاں پر کسی کو بھی جاب دے دیتے ہے بنا اسکو دیکھے . . وہ ہم پر ٹرسٹ نہیں کرے گے . . اور پھر نا ہی وہ ہمیں سپورٹ کریں گے کے شاید ہم پیسے کھا جائے۔۔۔ تم جانتی ہو ہمیں ان کی سخت ضرورت ہے۔۔۔ . . پاریشا کا چہرہ رونے والا ہو گیا تھا . . اس نے میڈم سے سوری کی اور ایندا خیال رکھنا کا کہنے لگی … میڈم نے کہا سہی ہے ایندا خیال رکھیے گا میں مسٹر . شہریار سے آپکے لیے ریکویسٹ کردونگی… .اب آپ جا سکتی ہے۔۔…
جب گھر واپس آئی تو اسکا موڈ خراب تھا . . بابا نے پوچھا پر اس نے کام ذیادہ ہونے کا بہانہ کر کے ٹال دیاا

اب ہر روز شہریار اس کو ڈانٹ دیتا یا پھر پرنسپل سے شکایت کر دیتا جب کہ وہ ہر چیز صحیح سے کرتی . . پر وہ ہر چیز کو غلط کر دیتا اور ریجکٹ کر دیتا . . کچھ ہفتے تو وہ چُپ رہی نا جواب دیا نا ہے اسکو تنگ کیا . . آخر جاب کا مسئلہ تھا . . پر پھر اسکو سمجھ آگئی تھی کی یہ شہریار اپنے پرانے بدلے لی رہا ہے . . وہ بھی پریشا تھی اس نے سوچا میں بھی اب اسکو سبق سکھاؤ گی . . آج میٹنگ تھی . . سب ٹیچرز اسٹاف روم میں بیٹھی تھی . . شہریار نے پریشا کو آرڈر کیا کے میرے لیے چائے نکل کر لاؤ شوگر فری… اس نے باقی کچھ اسٹاف سے بھی پوچھا ان میں سے بھی کچھ نے کہا کے چائے پئے گے . .
پاریشا گئے اور چائے لیکر آگئی . .
شہریار کو سرو کیا تو وہ طنزیہ مسکرا رہا تھا پریشا کو اپنی انگلیوں پر نچا رہا تھا۔۔ . . پریشا بھی طنزیہ مسکرانے لگی . . وہ پریشان ہو گیا . . یہ کیوں اسے ہنس رہی ہے ۔۔۔ کہی اس نے کچھ کیا تو نہیں ۔۔۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میں بوس ہو اس کو ڈر ہے کہی اس کی جاب نا چلی جائے۔۔۔ اگر کچھ کرنا ہوتا بھی تو پہلے ہی کرتی۔۔۔ وہ خود کو جھوٹی تسلیاں دے رہا تھا جس پر اس کا خود کا دل نہیں مان رہا تھا۔۔ ۔. . جیسے ہی اس نے چائے کا کپ منہ میں ڈَلا اسکو چائے زہر لگنے لگی . . اس نے سب کا دھیان کرتے ہوئے . . چائے کا کروا گھونٹ نگھل لیا… اسے پتہ چل گیا یہ حرکت اس چوڑیل کی ہوگی جو سامنے کھڑی اسکو اشارہ کر رہی تھے . . کیسی لگی چائے . . ؟ ؟
وہ آرام سے چائے پیتا جا رہا تھا جیسے اسکو کوئی فرق نا پڑھتا ہو . . پریشا اسکو دیکھتی رہ گئے . . اسکے چہرے کی ہنسی اُڑ گئی . . یہ کیسے پی رہا ہے . . کہی کسی اور کی چائے اس کے پاس آگئی کیا۔۔۔ پر میں نے وہی کپ اس کو دیا تھا۔۔ اگر کسی اور کو آتا تو ابھی غصے سے چلانا شروع کر دیتے۔۔۔ مطلب وہی کپ اسکے پاس ہے پر یہ اتنے آرام سے کیسے پی رہا یے۔۔ اس کو کچھ ہو نہیں رہا بھوت کہی کا۔۔۔ وہ حیران پریشان ہو کر رہ گئی ۔۔۔۔
اب دونوں کی جنگ دوبرا شروع ہوگئ تھی . . ہر وقت کوئی موقع نہیں چوڑا جاتا ایک دوسری کو ستانے کا . .
6 مہینوں کے بعد شہریار والوں نے اسکول کے ساتھ ایگری مینٹ کر لیا تھا کے وہ اسکول کی سارے ذمہ داری اٹھائے گے …
بس اب تو پریشا نے کہا اسکول کو ایگری مینٹ مل گیا ہے . . اب اسکو جتنا چاہے تنگ کرو یہ ایگری مینٹ واپس نہیں لے گا . . ایک دن تو اس نے حد کردی شہریار کو سیمنگ پول میں دھکا دے دیا . . پر شہریار نے پریشا کا نام نہیں لیا اور پیر سلپ ہونے کا کہہ دیا . . کیونکہ ان دونوں کا یہ اصول تھا۔۔ اپنی دشمنی ایک دوسرے تک رکھنی ہے کسی اور کو شیطانی نہیں لگانی۔۔
پریشا آج گھر آئے تو کچھ مہمان بیٹھے ہوئے تھے . . اسکی ماں نے آج پہلی دفعہ اسکو پیار سے کہا جلدی سے جاؤ اچھے کپڑے پہن کر اچھا سا تیار ہوکر آؤ . . کپڑے روم میں پرے ہوئے ہے . . وہ روم میں گئے تو اسکے بیڈ پر ایک ڈریس پڑھا تھا وہ اٹھا کر واشروم میں چینج کرنے گئے اور فریش ہوکر مہمانوں کے ساتھ آکر بیٹھ گئی . . وہ دو تیں عورتیں تھی جو اس سے سوال پر سوال پوچھ رہی تھی اور وہ ان کے سب سوالوں کا جوب دے رہی تھی . . آخر اسکی ماں نے اسکو روم میں بھیج دیا۔. . جب وہ لوگ چلے گئے تو وہ نیچی ائی تو اسکی ماں مسٹر رضا سے کہہ رہی تھی بہت اچھے لوگ ہے اپنی پریشا کو بہت پیار محبت سے رکھے گے اِس سے اچھا رشتہ اور کوئی ہو نہیں سکتا بس اب آپ سوچیں نہیں اور ہاں کہہ دے لڑکا بھی بہت پڑھا لکھا ہے . . اپنا بزنس ہے . . مسٹر . رضا نے کہا ٹھیک یے میں سوچ کر بتاؤں گا پھر ہا آپ ان کو ہاں کر دیجیے گا۔۔. اور وہ اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔
پریشا یہ سن کر ساختے میں آگئی . . یہ کیا کر دیا اسکے بابا نے اسکے بنا پوچے . . اسکی شادی کروا رہے ہے . . وہ فوراً اپنے بابا کے روم میں گئی اور اُس نے پوچھا بابا یہ لوگ کون تھے اور یہاں کیوں آئے تھے . . مجھ سے ایسے سوال کیوں رہے . . پریشا کے بابا نے اسکو بتایا وہ رشتے کے لیے آئے ہے اور میں چاہتا ہوں کے تمھاری اب شادی کردو . . مجھے اپنی زندگی پر بھروسہ نہیں . . میں تمہیں اپنی زندگی میں اپنے گھر کا ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں . . پریشا کی آنکھوں میں آنسو آگئی . . بابا اسا نا بولے… اللہ آپکو ہمیشہ سلامت رکھے . . آپ جو کہے گے میں کروگی پر ایندا اسا مت کہیے گا . . آپکے سوا کوئی نہیں میرا۔۔۔اچھا اب میری بات سنو۔۔ جی بابا۔۔۔ پریشا نے سو سو کرتے ہوئے کہا۔۔ . . بیٹا وہ لڑکا بہت اچھا ہے۔۔ میں خود اس سے ملا ہوں تم ہمیشہ خوش رہو گی باقی تم اس سے ملنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں میں نے کبھی کسی بات کے لیے تمہیں منع نہیں کیا یہ زندگی کا بہت اہم فیصلہ ہے میں چاہتا ہوں تم پھر بھی مجھے ایک دفعا بتا دو۔۔۔ پریشا نے مسٹر رضا کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھ ڈالے اور کہا بابا مجھے آپکے فیصلے پورا اعتبار ہے جو فیصلہ آپ کرے گے میرے لیے وہ بہتر ہوگا۔۔ مسٹر رضا نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔۔۔
♢♢♢♢♢♢♢
پاریشا کا رشتہ پکا ہو گیا تھا اور ایک مہینے بعد شادی کی ڈیٹ بھی فکس کردی گئی تھی وہ مٹھائی لیکر اسکول آئی تو سب کا منہ مٹا کروایا . . . میڈم سائقہ کے کہنے پر جب وہ شہریار کو مٹھائی کھلانے آئی تو اس نے بہت ساری مبارک دی کہ ہماری جان چھوٹے گی اور ساتھ ہی کہا سنو چوڑیل اس لڑکے کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے کیا جو تم سے شادی کر رہا ہے۔۔۔۔ میرے والے کا پتا نہیں پر جو تمھاری ہوگی اس کا ضرور دماغ خراب ہوگا۔۔۔ پریشا نے اسکے ہی انداز میں نرم لہجے میں بولی۔۔۔ شہریار نے اترا کر کہا۔۔ میری والی تم نے دیکھی نہیں پورا چاند کا ٹکڑا ہے ۔۔۔ پریشا کی آنکھے نکل آئی اچانک سے جیسے اس پر دھماکا ہوا۔۔ اس نے شہریار سے پوچھا کیا تمھاری شادی ہوگئی ہے۔۔ شہریار نے کہا کب کی ہوگئی ہے۔۔ اور ہم دونوں بہت خوش ہے, خاص کر میری بیوی۔۔ وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی سمجھتی ہے۔۔۔ پریشا کی ہمت نہیں ہوئی کہ یے پوچھ سکے وہ کون ہے۔۔۔ پتا نہیں کیوں اسکو یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔۔ جب وہ اس کا کچھ لگتا بھی نہیں پھر کیوں اس کو دکھوں نے اگھیرا۔۔۔
وہ واپس جانے کے لیے مڑی تو شہریار نے کہا۔۔ اگر اسکا دماغی توازن ٹھیک ہے تو پکا وہ اندھا ہوگا۔۔۔ شہریار اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔پریشا ہوش میں آئی تو اس کو تکنے لگی جس سے اسکے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی۔۔ خود کو سنبھالتے ہوئے۔۔ اس نے شہریار کو قرارا جواب دیا۔۔۔
شکر ہے اندھا ہے تمھاری طرح پاگل اور سَر پھرا نہیں ہے . . شہریار نے زور سے قہقہ لگایا اور وہ چلی گئی
. .
شفاء کی رخصتی ہوگئ تھی . . دو مہینے پہلے ہی وہ دوسری شہر چلی گئی تھی . . اسکول میں پریشا کی وہی ایک دوست تھے . . اور باکیون کے ساتھ زیادہ نا تھی . . اسی لیے شادی کا کارڈ صرف چند ٹیچر اور میڈم کو دیا . . میڈم نے کہا مسٹر شہریار عالمگیر کو بھی دو . . اچھا نہیں لگتا . . ان کو بھی انویٹیشن دو . . اسی لیے اس نے شہریار کو بھی شادی کا کارڈ دیا . . شہریار نے اسکو کہا تمھاری شادی میں تو ضرور آؤنگا دیکھو تو سہی کس بچارے کی قسمت پھوٹی ہے … مجھے تو ترس آ رہا ہے بیچارے پر جو تمھاری جیسی چڑیل کو پوری زندگی کے لیے برداشت کرے گا . . پریشا نے کہا اور جس کی تمھارے ساتھ ہوگی اسکی بھی قسمت پھوٹی ھوگی . . بھوت کہی کے . . آیا بڑا اس پر ترس کھانے والا . . ہو . . وہ بڑبڑاتی ہوئی نکل گئے . .
اسکے بابا کی طبیعت کی وجہ سے انہوں نے صرف نکاح کی تقریب رکھی تھی . .
نکاح کے دن قریب آ رہے تھے اسکو کوئی شاپنگ نہیں کروائی جا رہی اسکی سوتیلی ماں اور بہن دونوں کر رہی تھی . . اسکو بس دیکھا دیتی تھی . .
پریشا نے اسکول سے بھی ریزائن لے لیا تھا اِس وجہ سے اب اسکول بھی نہیں جاتی تھی . . پورا دن گھر کے کام خود کرتی تھی . . مہمانوں کا انا جانا انکی خدمت کرنا . . سب وہ اکیلے کرتی تھی . .
نکاح سے ایک دن پہلے اسکول کے سب بچے اس سے ملنے آئے تھے . . کیوں کے مس پریشا انکی فیوریٹ ٹیچر جو ٹھہری . . اور شادی کے بعد وہ دوسری شھَر چلی جائے گی پِھر پتہ نہیں ملنا ہو یا نہیں . . اسی لیے اسکول کی کچھ ٹیچرز بچوں کو لیکر آئی تھے . .
ساتھ ہی ٹیچرز اور بچے بہت سارے گفٹس بھی لیکر آئے تھے . . اس نے بھی سب کو بہت پیار کیا . . جب وہ جانے لگے تو پریشا کا دل بھر آیا اور آنسوں کی شکل میں نکل آیا۔۔۔سب اسکو بیسٹ وشئز دی اور چلے گئے۔۔۔
اج پریشا کے نکاح کا دن تھا۔۔ اسکے سسرال سے گولڈن کلر کا بہت ہی پیارا شرارہ آیا . . ساتھ ہی جیولری ، سینڈل ، اور میک اپ کا کچھ سامان بھی تھا . .
پریشا کو اپنی سوتیلی بہن نے تیار کیا . . انکا کہنا تھا پارلر جانے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں فضول خرچی کریں . . اسی لیے اسکی بہن نے اسکا سافٹ سا میک اپ کیا تھا . . جس مین وہ بہت خوبصورت کوئی آسْمان سے اتاری ہوئے پری لگ رہی تھی . . . . . اسکے بابا جب اسکے پاس آئے تو بہت رونے لگی اور ان کو اپنا خیال رکھنے کا کہا پر وہ یہ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کے وہ اپنا خیال خود کیسے رکھے گے ان کے لیے کوئی ھونا ضروری ہے . . . . کیوں کے اسکی سوتیلی ماں اور بہن مسٹر رضا کا کوئی کام نہیں کرتی تھی ان کو بس مسٹر . رضا کے پیسے سے مطلب تھا . . جب سے پریشا یونیورسٹی سے آئی تھی وہ ان کے سارے کام کرتی تھے . . اچھے اچھے کھانے بنا کر کھلاتی تھی . . تاکہ وہ خوش رہے وہ اپنے بابا کو بالکل بچو کی طرح پلتی تھے . . کبھی پیار سے سمجھاتیں کبھی دانٹ کا کہتی جب وہ كھانا نہیں کھاتے . . ان سے شرارتیں کرتی . . اُس نے ہر بات شیئر کرتی . . وہ دونوں آپس میں بالکل دوستوں کی طرح تھے . . جیسی اسکی حالت تھی اپنے بابا کو چھوڑ کر جانے کی . . ویسی ہے مسٹر . رضا کی بھی تھی وہ اپنی بیٹی بلکہ دوست کو اپنے آپ سے دور کر رہے تھے . . بہت دُکھی تھے پر ساتھ خوش بھی تھے کے انکی زندگی میں وہ اپنے گھر کی ہوجائے گی . .
وہ نیچے روم میں تیار ہوکر بیٹھ گئی تھی . . وہاں ایک لڑکی آئے اور اسکو بتا کر گئے کے میڈم سائقہ آئے ہے آپ سے ملنے . . ان کو اندر بھیجو ؟ پاریشا نے جلدی سے کہا ہاں بھیج دو یہ بھی پوچھنے کی بات ہے ان کو باہر کیوں کھڑا کیا ہے . .
میڈم سائقہ آئے تو پریشا ان کے گلے لگ گئے . .اور انکا بہت شکریہ کرنے لگی کے وہ اسکے بہت خاص دن پر آئی . . میڈم نے کہا شرارتی لڑکی تم نا بھی بلاتی تب بھی میں آتی . . اللہ تمہیں ہمیشہ خوش و آباد رکھے اپنے گھر میں . . مجھے یقین نہیں آ رہا ہے چھوٹی سی پریشا اتنی جلدی بڑی کب ہوگئ . . وہ ہلکا سا مسکرائے . . . . وہ باتیں کر رہی تھی اور پریشا کے آنکھوں میں آنسوں آگئی۔۔۔ اچانک میڈم سائقہ نے پریشا سے کہا تم سے ملنے اور کوئی بھی آیا ہے ، وہ سوچنے لگی مجھ سے ملنے اور کون آئے گا . . وہ نوک کر کے اندر آیا . . بلیک فل سوٹ میں
آج بھی وہ قیامت دھاڑ رہا تھا . . پاریشا اسکو دیکھ کر پِھر ہوش گوا بیٹھی … میڈم سائقہ نے اسکو کہا پریشا مسٹر شہریار تم کو اسپیشلی مبارکباد دینا چاہتے تھے . . وہ ہوش میں آئی تو اپنے آپکو سمجھنے لگی لڑکی یہ کیا ہوجاتا ہے تمہیں اِس بھوت کو دیکھ کر . . کچھ خاص تو نہیں ہے جب بھی سامنے اتا ہے دل زور زور سے دھڑکنے لگتا اور آج اسکو دیکھ کر ایک دم دل نے یہ دعا کی . کاش ! یہ میرا ہوتا . . . . یہ سوچ کر وہ پریشان ہوگئ کے کیوں مجھے اس کے لیے عجیب خیالات آتے ہے . . اُف پاریشا کی بچی اپنے کو قابو من رکھو تم آج کسی اور کی بنانے والے ہون۔۔۔۔
پریشا نے میڈم سائقہ سے آہستہ سے کہا آپ ان یہاں کیوں لیکر آئی ہے اگر کسی نے دیکھ لیا تو پھر سے غلط سمجھے گے۔۔ بلکہ نا صرف مجھ پر آپ پر اور مسٹر شہریار پر الزام لگائے گے۔۔۔ میڈم سائقہ نے اسکو تسلی دی کہ کوئی کچھ نہیں کہے گا میں رضا بھائی سے پوچھ کر لائی ہوں۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: