Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Episode 9

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – قسط نمبر 9

–**–**–

شہریار کی سیکرٹری اسکو كھانا کھلا کر چلی گئی . . شہیریار جب واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں بہت سارے شاپنگ بیگس تھے . . اس نے تو دھیان نہیں دیا . . پر شہریار نے کہا یہ تمھارے لیے کپڑے ہے . . وہ جو لڑکی تمھارے پاس آئی تھی اسکو ہی میں نے کہہ دیا تھا تمھارے لیے لیکر آئے مجھے تو کوئی سمجھ نہیں ہے . . دیکھ لو تم کو صحیح رہے گے . . اور تم سارا دن اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوتی ہوں کیا . . جب اس نے پاریشا کو بیڈ سے ہمیشہ کی طرح آج بھی ٹیک لگائے بیٹھا دیکھا تو کہا . .
اس نے جواب نہیں دیا . . . وہ فریش ہوکر باہر آیا ، اس نے كھانا نکالا خود بھی کھایا اور پریشا کو بھی کھلاتا گیا . .
ایک مہینہ ہو گیا تھا . . پریشا تو جیسے صرف بیڈ کی ہوکر رہ گئی تھے . . اسکے چہرے سے وہ شرارت اور ہنسی بالکل ہی جیسے غائب ہوگئ تھے . .ہر وقت خاموش بیٹھی رہتی تھی . . شہیریار نے اسکے لیے ایک میڈ رکھی تھی وہ صبح کے شہریار کے جانے سے پہلے آتی اور شہریار کے گھر آتے ہی چلی جاتی تھی . . . کبھی کا بار مارکیٹ بھی چلی جاتی پریشا کے ضروریات کے سامان لین کے لیے… شہریار کوشش کرتا تھا کہ وہ پہلے جیسا ریئیکٹ کرے پر وہ کوئی ردعمل ہی نہیں دیکھاتی۔۔ اسکو کہتا تھا کا گارڈن واک کرنے چلی جاؤ ، سامنے پارْک ہے وہاں پر جایا کرو . . ، پڑوس میں بہت اچھے لوگ ہے ان سے ملو . . یہ سب نہیں تو کم سے کم ٹی وی ہی دیکھ لو . . اور وہ کچھ جواب نا دیتی . . شہریار آفس کے لیے جاتا تو صرف روتی تھی . . . اور جب گھر آتا تو خاموش پڑھی رہتی . . شہریار کے پاس بھی زیادہ ٹائم نا ہوتا تھا اسکو دینے کے لیے . . آفس کے کاموں سے ہی اسکو فرصت نا تھی رات دیر دیر تک کام کرتا اور صبح سویرے ہی نکل جاتا . .
ایک دن شہریار آفس سے گھر آیا تو بہت غصے میں کسی سے فون پر بات کر رہا تھا . .
یار اتنی بَڑی کمپنی ہے اس کا اکیلا میں تو کام نہیں کر سکتا نا . . سارے میٹنگس میں دیکھو سارے پراجیکٹس میں سیٹ کرو . . باقی یہ ایپملائیز کس کھیت کی مولی ہے . . . میرے اپنے اتنے کام ہے اب کیا مین ایپملائیز کے کام بھی خود کیا کرو کیا… آئی کانٹ انڈر اسٹیند واٹز اِز رونگ ود یو . . اف یو کانٹ ہینڈل دس ٹیل میں آئی ول سینڈ یو جاب ریزائن لیٹر . . او کے اف یو وانٹ دس جاب دین ڈونٹ کال میں آگین . . ہینڈل دس ود یورسیلف . . آئی ایم سک آف دس . .
فون رکھ دیا . . اور ٹائی کو اُتَر کر پھینک دیا . . پریشا ٹوکر ٹوکر اسکو دیکھ رہی تھی . . اس نے مسکرا کر کہا سوری وہ آفس کے ایپملائیز پر تھوڑا غصہ دیکھنا پڑھتا ہے ورنہ یہ کام ٹھیک سے نہیں کرتے… پہلے ہی میرا کام بڑھ گیا ہے . . گھر کو کب سے رینوویٹ کروانے کا سوچا تھا وہ ابھی تک وہی پڑھا ہے . . تھک گیا ہوں . . تمھارا كھانا نکل دیا ہے کھا لو . . مجھے بھوک نہیں . . وہ واشروم گیا تو پریشا نے خود کھا لیا . . آج وہ کمرے سے باہر نکل گیا . . ورنہ وہ اسٹڈی م9ن اپنا کام کرتا رہتا تھا . .
پریشا نے ونڈو سے دیکھا وہ گارڈن میں سگریٹ پی رہا تھا . . اور کسی سے فون پر ہنس ہنس کر بات کر رہا تھا . .
وہ سوچنے لگی پتہ نہیں کس سے اتنا خوش ہو کر بات کر رہا ہے . . اسکی فیملی کو پتہ ہے میں اس کے ساتھ رہتی ہوں . . اور ہمہارا۔۔نکاح ہوچکا۔۔ اتنے دن ہوگئے نا اس اپنی کا بتایا۔۔ نا ہی ان کا کچھ آتا پتا ہے۔۔۔ …
وہ بیڈ پر بیٹھ گئے . . شہریار روم میں آیا تو کافی فریش لگ رہا تھا . . غصہ اور تھکن اتاری ہوئے لگ رہی تھی . . اس نے بتایا کے کل سے آفس نہیں جاؤ گا . . کیوں کے کل میں نے فرنیچر دیکھنے جانا ہے تم بھی ساتھ چلنا . . پھر اس نے ٹی وی آن کی . . بیڈ پر بے تکلف ہوکر بیٹھ کر لیپ ٹاپ اور موبائل یوز کرنے لگا… پریشا گھبرا گئی کیوں کے وہ پہلے دفعہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا…وو اٹھا کر صوفہ پر بیٹھ گئی . . شہریار نے کوئی دھیان نہیں دیا . صبح شہریار نے اسکے لیے اور اپنے لیے ناشتہ بنایا . . کھا کر اسکو کہا
جلدی سے ریڈی ہوجاؤ تاکہ چلیں لیٹ نہیں کرنا ورنہ ورکرز آجائے گے . . وہ اسکو تکنے لگی . . ہیلو میڈم بھول گئی کیا . . آئی ٹولڈ یو لاسٹ نائٹ دیٹ وی ہیو ٹو بائے سمتھنگ فور ہوم . . اٹھو جلدی . .
وہ اٹھی اور تیار ہوکر باہر آئی . . بالکل کمزور ہوگئ تھی . . رنگ بھی پیلا پڑھ گیا تھا… آنکھوں کے گرد ہلکی آگئے تھے . . ہونٹ بھی سفید پڑھ گئے تھے . .
شہریار بھی بالکل تیار تھا . . دونوں نکل گئے . . گھر کے لیے فرنیچر کلرز اور پینٹینگ وغیرہ پسند کر کے آئے . . پریشا تو چُپ تھی . . شہریار نے ہی سب اپنی پسند کا لیا…
واپسی پر شہریار لنچ بھی لے لیا…وہ سارا دن ورکرز کے ساتھ کھڑا کام کرواتا اپنی نگرانی میں تاکے کچھ گڑبڑ نا ہو… آج فرنیچر بھی آنے والا تھا بس وہ سیٹ کر کے پورا گھر ڈن ہوجائے گا . . وہ خوشی خوشی اسکو بتا رہا تھا . . وہ اسکو دیکھتی رہی کے کتنا خوش ہے اپنی زندگی میں . . کوئی غم نہیں . . پریشانی میں بھی اس کے پاس اپنے ہے جن سے بات کرکے اس کے سارے ٹینشن ختم ہوجاتی ہے اور پھر اسکو خوش ملتی ہے۔۔ . . اور ایک میں ہوں جس کے پاس کوئی خوشی کی وجہ ہی نہیں . .
اب شہریار نے پریشا کا روم نیچے کر دیا تھا ، اسکے روم میں ہر چیز ڈلوا دی تھی تاکہ اسکو کوئی پریشانی نا ہو . . پر پریشا رات کو اکیلے سونے سے ڈرتی تھی . . اور یہ بات شہریار کو بتا نہیں پاتی تھی . . اور جب وہ سوجاتا تو اسکے روم میں جا کر سوجاتی تھی . . اور صبح سویرے فجر کے وقت نکل آتی تھی .

شہریار کی سیکرٹری اسکو كھانا کھلا کر چلی گئی . . شہیریار جب واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں بہت سارے شاپنگ بیگس تھے . . اس نے تو دھیان نہیں دیا . . پر شہریار نے کہا یہ تمھارے لیے کپڑے ہے . . وہ جو لڑکی تمھارے پاس آئی تھی اسکو ہی میں نے کہہ دیا تھا تمھارے لیے لیکر آئے مجھے تو کوئی سمجھ نہیں ہے . . دیکھ لو تم کو صحیح رہے گے . . اور تم سارا دن اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوتی ہوں کیا . . جب اس نے پاریشا کو بیڈ سے ہمیشہ کی طرح آج بھی ٹیک لگائے بیٹھا دیکھا تو کہا . .
اس نے جواب نہیں دیا . . . وہ فریش ہوکر باہر آیا ، اس نے كھانا نکالا خود بھی کھایا اور پریشا کو بھی کھلاتا گیا . .
ایک مہینہ ہو گیا تھا . . پریشا تو جیسے صرف بیڈ کی ہوکر رہ گئی تھے . . اسکے چہرے سے وہ شرارت اور ہنسی بالکل ہی جیسے غائب ہوگئ تھے . .ہر وقت خاموش بیٹھی رہتی تھی . . شہیریار نے اسکے لیے ایک میڈ رکھی تھی وہ صبح کے شہریار کے جانے سے پہلے آتی اور شہریار کے گھر آتے ہی چلی جاتی تھی . . . کبھی کا بار مارکیٹ بھی چلی جاتی پریشا کے ضروریات کے سامان لین کے لیے… شہریار کوشش کرتا تھا کہ وہ پہلے جیسا ریئیکٹ کرے پر وہ کوئی ردعمل ہی نہیں دیکھاتی۔۔ اسکو کہتا تھا کا گارڈن واک کرنے چلی جاؤ ، سامنے پارْک ہے وہاں پر جایا کرو . . ، پڑوس میں بہت اچھے لوگ ہے ان سے ملو . . یہ سب نہیں تو کم سے کم ٹی وی ہی دیکھ لو . . اور وہ کچھ جواب نا دیتی . . شہریار آفس کے لیے جاتا تو صرف روتی تھی . . . اور جب گھر آتا تو خاموش پڑھی رہتی . . شہریار کے پاس بھی زیادہ ٹائم نا ہوتا تھا اسکو دینے کے لیے . . آفس کے کاموں سے ہی اسکو فرصت نا تھی رات دیر دیر تک کام کرتا اور صبح سویرے ہی نکل جاتا . .
ایک دن شہریار آفس سے گھر آیا تو بہت غصے میں کسی سے فون پر بات کر رہا تھا . .
یار اتنی بَڑی کمپنی ہے اس کا اکیلا میں تو کام نہیں کر سکتا نا . . سارے میٹنگس میں دیکھو سارے پراجیکٹس میں سیٹ کرو . . باقی یہ ایپملائیز کس کھیت کی مولی ہے . . . میرے اپنے اتنے کام ہے اب کیا مین ایپملائیز کے کام بھی خود کیا کرو کیا… آئی کانٹ انڈر اسٹیند واٹز اِز رونگ ود یو . . اف یو کانٹ ہینڈل دس ٹیل میں آئی ول سینڈ یو جاب ریزائن لیٹر . . او کے اف یو وانٹ دس جاب دین ڈونٹ کال میں آگین . . ہینڈل دس ود یورسیلف . . آئی ایم سک آف دس . .
فون رکھ دیا . . اور ٹائی کو اُتَر کر پھینک دیا . . پریشا ٹوکر ٹوکر اسکو دیکھ رہی تھی . . اس نے مسکرا کر کہا سوری وہ آفس کے ایپملائیز پر تھوڑا غصہ دیکھنا پڑھتا ہے ورنہ یہ کام ٹھیک سے نہیں کرتے… پہلے ہی میرا کام بڑھ گیا ہے . . گھر کو کب سے رینوویٹ کروانے کا سوچا تھا وہ ابھی تک وہی پڑھا ہے . . تھک گیا ہوں . . تمھارا كھانا نکل دیا ہے کھا لو . . مجھے بھوک نہیں . . وہ واشروم گیا تو پریشا نے خود کھا لیا . . آج وہ کمرے سے باہر نکل گیا . . ورنہ وہ اسٹڈی م9ن اپنا کام کرتا رہتا تھا . .
پریشا نے ونڈو سے دیکھا وہ گارڈن میں سگریٹ پی رہا تھا . . اور کسی سے فون پر ہنس ہنس کر بات کر رہا تھا . .
وہ سوچنے لگی پتہ نہیں کس سے اتنا خوش ہو کر بات کر رہا ہے . . اسکی فیملی کو پتہ ہے میں اس کے ساتھ رہتی ہوں . . اور ہمہارا۔۔نکاح ہوچکا۔۔ اتنے دن ہوگئے نا اس اپنی کا بتایا۔۔ نا ہی ان کا کچھ آتا پتا ہے۔۔۔ …
وہ بیڈ پر بیٹھ گئے . . شہریار روم میں آیا تو کافی فریش لگ رہا تھا . . غصہ اور تھکن اتاری ہوئے لگ رہی تھی . . اس نے بتایا کے کل سے آفس نہیں جاؤ گا . . کیوں کے کل میں نے فرنیچر دیکھنے جانا ہے تم بھی ساتھ چلنا . . پھر اس نے ٹی وی آن کی . . بیڈ پر بے تکلف ہوکر بیٹھ کر لیپ ٹاپ اور موبائل یوز کرنے لگا… پریشا گھبرا گئی کیوں کے وہ پہلے دفعہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا…وو اٹھا کر صوفہ پر بیٹھ گئی . . شہریار نے کوئی دھیان نہیں دیا . صبح شہریار نے اسکے لیے اور اپنے لیے ناشتہ بنایا . . کھا کر اسکو کہا
جلدی سے ریڈی ہوجاؤ تاکہ چلیں لیٹ نہیں کرنا ورنہ ورکرز آجائے گے . . وہ اسکو تکنے لگی . . ہیلو میڈم بھول گئی کیا . . آئی ٹولڈ یو لاسٹ نائٹ دیٹ وی ہیو ٹو بائے سمتھنگ فور ہوم . . اٹھو جلدی . .
وہ اٹھی اور تیار ہوکر باہر آئی . . بالکل کمزور ہوگئ تھی . . رنگ بھی پیلا پڑھ گیا تھا… آنکھوں کے گرد ہلکی آگئے تھے . . ہونٹ بھی سفید پڑھ گئے تھے . .
شہریار بھی بالکل تیار تھا . . دونوں نکل گئے . . گھر کے لیے فرنیچر کلرز اور پینٹینگ وغیرہ پسند کر کے آئے . . پریشا تو چُپ تھی . . شہریار نے ہی سب اپنی پسند کا لیا…
واپسی پر شہریار لنچ بھی لے لیا…وہ سارا دن ورکرز کے ساتھ کھڑا کام کرواتا اپنی نگرانی میں تاکے کچھ گڑبڑ نا ہو… آج فرنیچر بھی آنے والا تھا بس وہ سیٹ کر کے پورا گھر ڈن ہوجائے گا . . وہ خوشی خوشی اسکو بتا رہا تھا . . وہ اسکو دیکھتی رہی کے کتنا خوش ہے اپنی زندگی میں . . کوئی غم نہیں . . پریشانی میں بھی اس کے پاس اپنے ہے جن سے بات کرکے اس کے سارے ٹینشن ختم ہوجاتی ہے اور پھر اسکو خوش ملتی ہے۔۔ . . اور ایک میں ہوں جس کے پاس کوئی خوشی کی وجہ ہی نہیں . .
اب شہریار نے پریشا کا روم نیچے کر دیا تھا ، اسکے روم میں ہر چیز ڈلوا دی تھی تاکہ اسکو کوئی پریشانی نا ہو . . پر پریشا رات کو اکیلے سونے سے ڈرتی تھی . . اور یہ بات شہریار کو بتا نہیں پاتی تھی . . اور جب وہ سوجاتا تو اسکے روم میں جا کر سوجاتی تھی . . اور صبح سویرے فجر کے وقت نکل آتی تھی .

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: