Maha Ali Urdu Novels

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali – Last Episode 18

Kaise Ho Gayi Mohabbat by Maha Ali
Written by Peerzada M Mohin
کیسے ہو گئی محبت از ماہا علی – آخری قسط نمبر 18

–**–**–

شہریار صبح کو اٹھا تو پریشا کو اپنے سامنے لٹاتا دیکھ کر مسکرایا اور آہستہ سے کہا۔۔۔۔۔ مطلب بیگم جی پگل رہی ہے۔۔۔
اج پریشا کی آنکھ نہیں کھلی تھی۔۔۔ اس نے ٹائم دیکھا تو بہت دیر ہوچکی۔۔۔ شہریار نے جلدی جلدی پریشا کو اٹھایا۔۔۔ اس کا دل نہیں کر رہا تھا کے اسکو جگائے پر مجبوری تھی۔۔۔
پری۔۔۔ پری۔۔
شہریار اسکی پیار سے آوازیں دے رہا تھا۔۔
آخر جب وہ نا اٹھائی تو شہریار نے اسکو ہلا کر اٹھایا ۔۔۔
کیا ہوا کیا ہوا۔۔۔ زلزلا اگیا کیا۔۔۔
پریشا نیند میں سے چلا کر اٹھی۔۔۔
شیروو۔۔۔ پریشا نے شہریار کے گال پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
کتنا اچھا خواب ہے۔۔۔ وہ پھر سے بڑبڑائی۔۔۔
اوہو۔۔۔ یے خواب نہیں سچ ہے اٹھو نیند سے۔۔۔
شہریار چلایا۔۔۔
وہ ہوش میں ائی تو بولی کیا آفات آگئی ہے اچھا بھلا خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔ بیچھ میں ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔۔
وہ اداسی سے بولی۔۔۔
خواب کل دیکھنا ابھی چلو پونے اٹھ بج گئے ہے۔۔۔
پریشا جھٹکا کھا کر اٹھی ٹائم دیکھتے ہی چادر ایک طرف پھینک دی اور اپنے بکھرے بالوں کا جوڑا بنایا۔۔۔
آپ جلدی سے تیار ہوجائے گا۔۔۔ میں ان دونوں کو اٹھاتی ہو۔۔۔ ناشتہ بھی بناتی ہو۔۔۔
پریشا شہریار سے کہہ کر چلی گئی۔۔۔
شہریار پیچھے سے مسکرایا اور جلدی سے واشروم چلا گیا۔۔۔
جلدی جلدی کھانا کھاو دیر ہو رہی ہے۔۔
پریشا ماہم اور ارحام کو پراٹھا دیکر بولی۔۔۔۔
او لڑکی آرام سے۔۔۔ سانس لے لو۔۔۔ کبھی کا بار ایسا ہوتا ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔ اور دیکھو سب وقت پر ہوگیا ہے۔۔۔
شہریار نے اسکو پریشان دیکھ کر بولا۔۔۔
ارے ایسے کیسے میری آنکھ لگ گئی, اگر آپ نہیں اٹھاتے تو آج پکا انکا اسکول یونیورسٹی مس ہوجاتا۔۔۔
پر پریشا نے شہریار کو تشکر سے کہا۔۔۔
میکال بھائی کی شادی ہے, بھائی مجھے شاپنگ کے پیسے دے۔۔۔ تاکے ہم شاپنگ شروع کردو۔۔ ۔۔۔
ہاں گڑیا آج تمھارے کریڈٹ کارڈ میں ڈلوا دونگا۔۔۔ ڈونٹ وری ۔۔۔
پری تمھارے لیے میں نے کریڈٹ کارڈ بنوایا ہے آج واپسی پر لیتا ہوا آؤنگا۔۔۔۔
شہریار ماہم کے بعد پریشا کی طرف منہ کرتے ہوئے بولا۔۔
پر میں کیا کروں گی کارڈ کا۔۔
پریشا نے ناسمجھی سے کہا۔۔۔
جو سب کرتے ہے تم بھی وہی کرنا۔۔۔
شہریار نے شرارت سے کہا۔۔۔
مجھے ضرورت نہیں۔۔۔
پریشا نے صاف تور پر انکار کردیا۔۔
پھر شاپنگ کیسے کرو گی۔۔۔
شہریار نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کروئے گے تو مجھے کیا ضرورت ہے بھلا۔۔۔
پریشا نے جھٹ سے کہا۔۔۔
ارے مجھے سمجھ نہیں آتی ہے ماہم اور ارحام کو لیکر چلی جانا۔۔۔
شہریار نے شکل بنا کر کہا۔۔۔
پر۔۔۔۔۔
پریشا اداس ہوکر بولی۔۔۔
پر ور کچھ نہیں جو کہا ہے وہ کرنا۔۔۔
شہریار نے مضبوطی سے کہا۔۔۔
اچھا جیسا آپکا حکم باس۔۔۔
پریشا چڑ کر بولی۔۔۔
شہریار نے قہقہ لگایا۔۔۔
ماہم تمھارے پاس وانیزا کا موبائل نمبر ہے میں نے رات کو باتوں باتوں میں اس سے پوچھ نہیں سکی کے وہ کہاں رہ رہے ہے۔۔ اسکو کسی ہیلپ کی ضرورت نا ہو۔۔۔
پریشا نے ماہم سے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
وانیزا والے ثانیہ اور فارس کے گھر میں رہ رہے ہے۔۔۔۔ شادی میں کچھ ہی دن رہ گئے ہے تو میکال نے اسکی فیملی کو یہاں بلوا لیا ہے۔۔۔
ماہم کے بجائے شہریار نے کہا۔۔۔
فاری نے اسلام آباد میں گھر لے لیا ہے کیا۔۔۔؟
پریشا نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
ہاں۔۔ شہریار نے سر ہلا کر جواب دیا۔۔۔
اور باقی سب کہاں رہ رہے ہے۔۔۔
پریشا نے پھر سے سوال کیا۔۔۔
لڑکے تو میکال کے گھر میں رہتے ہے باقی لڑکیاں بھی فارس کے گھر میں ہی رہ رہی ہے۔۔۔ شادی والے دن سب کی فیملیز آئے گی تو میکال انکو اپنے گیسٹ ہاوس میں ٹھرائے گا۔۔
ہمممممممم کتنا مزہ آئے گا نا۔۔۔
پر کل تو سب الگ الگ آئے تھے۔۔۔ ؟؟؟
پریشا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
سب نے مل کر پلین بنایا تھا کے الگ الگ جائے گے اور تمہیں سرپرائیز دے ساتھ میں تمھارے سب کے لیے ریکشن بھی دیکھے گے۔۔
شہریار نے پریشا کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ ۔۔۔
اچھا تبھی میں کہو ایک بعد ایک آرہا ہے۔۔۔
پریشا نے ہنس کر کہا۔۔۔
ہاں سب باہر کھڑے تھے۔۔ اور باری باری کر کے آرہے تھے۔۔۔
شہریار نے بھی ہنس کر کہا۔۔۔
ماہم تم مجھے ثانیہ سے بات کرونا میں ان سے کام وام پوچھ لونگی اور انکے پاس بھی جاونگی۔۔
پریشا نے چھک کر کہا۔۔۔
ماما میں بھی آپکے ساتھ چلوں گا۔۔۔
ارحام نے خوشی سے کہا۔۔۔
میں بھی چلوں گی۔۔۔
ماہم بھی بولی۔۔۔
ہاں ہاں تم دونوں کے بغیر کیسے جاونگی۔۔۔
تم دنوں جب واپس اوگے تب ہی چلے گے۔۔۔
پریشا نے پیار سے کہا۔۔۔
Wow…
بہت مزہ آئے گا۔۔۔
ارحام چلایا۔۔۔
کیا ہم سب جا سکتے ہے۔۔۔
پریشا نے شہریار سے آہستہ لہجے میں پوچھا۔۔۔
سارا پلان بنا کر اب کیا فائدہ پوچھنے کا۔۔۔
شہریار نے شرارت بھری ناراضگی سے کہا۔۔۔
نہیں اگر آپ منع کردے گے تو کوئی نہیں جائے گا۔۔
پریشا نے اداسی سے کہا۔۔۔
خیر ہے نا بخار تو نہیں ہوگیا تمہیں۔۔۔
شہریار پریشا کی باتوں پر حیران ہوگیا۔۔۔
ارے سب ٹھیک ہے۔۔۔ ایسا کیوں کہہ رہے ہے اپ؟
پریشا نے خفگی سے کہا۔۔۔
مجھے لگا طبیعت ٹھیک نہیں تمھاری مجھ سے اجازت لے رہی ہو ۔۔۔
شہریار پریشان ہوکر کہا۔۔۔۔۔
آپ بھی نا حد کرتے ہے۔۔۔ آپ سے نہیں پوچھی گی تو کس سے پوچھو گی آپ میرے شوہر ہے آپ سے بنا اجازت لیے کیسے چلی جاو۔۔۔
پریشا نے ایکٹنگ کرکے کہا۔۔۔
شوہر مان گئی۔۔۔ شہریار نے آہستہ سے پریشا سے پوچھا۔۔۔
پریشا نے اسکو آنکھیں دیکھائی اور ہلکا سا مسکرا کر شرمائی۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ کتنی ایکٹنگ کرتی ہوں آج پتا چلا ڈرمی لڑکی۔۔۔ گل شیر چھوڑ آئے گا تم سب کو۔۔۔ اور ہاں آج کوک اور صفائی کرنے والے کو کہا ہے وہ آجائے گے انکو دیکھنا اگر اچھے لگے تو دونوں رکھ لینا۔۔۔ پلیز خود مت کرنا۔۔۔
رات کو مہمانوں کی وجہ سے سارا گھر بکھرا پڑا تھا ساتھ میں کیچن بھی اسی لیے شہریار نے اسکو سختی سے منع کیا۔۔۔
اچھا۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔
پریشا نے آہستہ سے کہا۔۔۔
چلو بچوں دیر ہو رہی ہے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
پریشا نے اچھے سے کپڑے نکال کر رکھ دیے۔۔ اسکی خوشی سے زمین پر پیر نہیں ٹک رہے تھے۔۔۔
وہ اپنا ٹائم گزارنے کے لیے نیچے لائونج میں ٹی وی دیکھ رہی جب گل شیر اسکے پاس ایا۔۔۔
میم صاحب یے عورت آئی ہے اپ سے ملنے۔۔۔
اچھا بیھجو انکو اندر۔۔۔
گل شیر جلدی سے باہر گیا اور ان دنوں کو اندر بھیجا دیا۔۔۔
پریشا نے آن سے بات کرنے کے بعد کام پر لگا دیا۔۔۔
اور خود انکے سر پر کھڑی ہوگئی کے صحیح سے ہو رہا ہے یا نہیں۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
ارے لگتا ہے ماہم اور ارحام اگئے۔۔
پریشا نے گاڑی کی آواز سنتے سوچا۔۔۔
پری پری۔۔۔۔
ائی ائی۔۔۔۔ پریشا شہریار کی آواز پر کیچن سے نکل ائی۔۔۔
اج آپ جلدی آگئے ۔۔
ہاں یے لو تمھارا موبائل اور کریڈٹ کارڈ۔۔۔
پر میں نے موبائل نہیں کہا تھا۔۔۔
یار تمھارے کام آئے گا رکھ لو ۔۔
شہریار نے آہستہ کے کہا۔۔
آپکے لیے کافی لاو۔۔۔
ہاں پلیز۔۔۔اور ہاں آج میں بھی تم لوگوں کے ساتھ چلو گا فارس کے گھر۔۔ سب وہاں جما ہوئے ہے میکال مجھے نہیں چھوڑ رہا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
پریشا کہہ کر چلی گئی۔۔۔
سنو۔۔۔
شہریار نے پریشا کو لاونج سے آواز دی۔۔۔
جی۔۔۔۔ پریشا نے بھی زور سے کہا۔۔۔
وہ دونوں سرونٹ آئی تھی؟؟
شہریار نے چلا کر پوچھا۔۔۔
ہاں آئی تھی اور گئی بھی میں نے دونوں کو کام پر رکھ دیا ہے۔۔۔
پریشا سے دروازے پر رک کر کہا۔۔۔
اوکے ۔۔
شہریار اسکو دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔
♡♡♡♡♡♡
شام کو وہ سب فارس کے گھر پھنچے۔۔۔ تو وہاں کل کی طرح سب لڑنے میں لگے ہوئے تھے۔۔۔
کمرے میں ایک طرف بڑے سے لائود اسپیکر پڑہے ہوئے تھے۔۔ باقی طرف تکیے رکھے ہوئے تھے۔۔ وہ سب بھی زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔ ایک طرف شہریار کی گینگ تھی۔۔۔ اور دوسری جانب پریشا کے دوست۔۔
پریشا اور شہریار نے انکو سلام کیا اور شہریار اپنے دوستوں کے سائیڈ بیٹھ گیا۔۔ اور پریشا اپنے دوستوں کی سائیڈ۔۔۔
سب انکے بیٹھنے پر پھر سے جوش میں آگئے اور پھر سے بھس شروع کردی۔۔
بات یے تھی کے پریشا لڑکے والوں کی طرف سے ہوگی یا لڑکی والوں کی طرف سے۔۔۔
میکال بھی یہی کہہ رہا تھا کے پریشا بھابھی اسکی طرف سے ہوگی۔۔۔
بھابھی آپ ان لڑکی والوں کو بتا دے اپ ہماری سائیڈ سے ہے اور آپ ہمارے ساتھ ہی بارات لیکر آئے گی۔۔
اذان نے بچوں کی طرح پریشا سے کہا۔۔۔
پریشا نے پہلے وانیزا کو دیکھا پھر شہریار کو دیکھا۔۔
وہ دونوں طرف سے پھس گئی تھی۔۔۔
نہیں پریشا تم لڑکی والوں کے سائیڈ سے ہوگی۔۔۔
سوہا نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔۔
پری پلیز تم میرے سائیڈ سے ہونا, شادی والے دن مجھے تم ساتھ چاہیے ہو۔۔۔
وانیزا اداسی سے بولی۔۔۔
یار میری ایک بھابھی ہے وہ تو میرے ساتھ ہو۔۔۔
میکال چلایا۔۔۔
آفففف نہیں نہیں۔۔۔ چپ رہو تم۔۔۔
سوہا نے میکال کو ہاتھ سے چلا کر کہا۔۔۔
ارے تین سالیاں کافی ہے ایک اور نہیں چاہیے۔ میکال نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔
وانیزا کی دو اور بہنیں بھی تھی اور ایک سوہا ملا کر میکال کی تین سالیاں بن رہی تھی۔۔۔۔۔
اوئے تم ہمارے معاملے میں ٹانگ مت اڑاو۔۔۔
حفصہ نے بھی بیچھ میں کہا۔۔۔
میں ٹانگ اڑاو گی۔۔۔ سوہا نے بھی اسکے انداز میں کہا۔۔۔
میں تمھارے ساتھ ہو حفصہ آج اسکا قتل کردو۔۔۔ اذان بھی بیچ میں اگیا۔۔۔اس نے حفصہ کو سوہا کی طرف بھڑکیا۔۔
اذان نے شہریار کو آنکھ ماری وہ حفصہ اور سوہا کا زبردست جگڑھ کرونا چھاتا ہے۔۔۔
فسادی آدمی۔۔۔ شہریار نے دھبی ہنسی کے ساتھ اسکو کان میں کہا۔۔۔
چپ کر بے ۔۔ سن لے گی۔۔۔
اذان نے اسکو ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا کمینے۔۔۔ شہریار نے بھی آہستہ سے کہا۔۔۔ دونون کی ایسی جنگ چھڑ گئی تھی کے اذان اور باقی سب لڑکے انکا مزہ لینے لگے اور دونوں طرف سے انکو اکساتے۔۔۔
یا اللہ جی۔۔۔۔۔۔۔ انکو ہدایت دے۔۔۔
ثانیہ کمرے میں چائے کا ٹرے اٹھاتی ہوئی ائی اور ان سب کو دیکھ کر چلائی۔۔۔۔
پر وہاں کیسے پروا تھی۔۔۔۔ چپ ہوجاو چپ ہوجاو۔۔۔وہ دوبارہ سے چلائی۔۔۔
سب اسکا غصہ دیکھ کر چپ ہوگئے۔۔۔
کیا ہوا تمیں؟
حفصہ غصے سے چلائی۔۔۔
ابہے ثانیہ کیا ہوگیا ابھی تو مزہ انا شروع ہوا تھا۔۔۔
اذان خفگی سے بولا۔۔۔
چپ کرو۔۔۔ منہ توڑ دونگی میں تمھارا۔۔۔
ساری اگ تمھاری لگئی ہوئی ہے۔۔۔
اذان چھوٹا سا منہ لیکر بیٹھ گیا۔۔۔ سب نے قہقہ لگایا۔۔۔
چپ ہوجاو سب۔۔۔
کوئی شرم ہوتی کوئی حیا ہوتی ہے پر نا جی تم لوگوں سے وہ چھو کر بھی نہیں گزری۔۔۔ سارے محلے میں آوازیں جا رہی ہے۔۔۔ ایک دن میں نکال باہر پھینک دے گے۔۔۔
اور میں اس شیری کی طرح یے ذلت برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔
پہلے ثانیہ غصہ ضبط کر کے بولی پھر شہریار کی بات پر اسکو دیکھ کر تنز سے ہنس کر بولی۔۔۔
رک رک پیالی۔۔۔ کسی ذلت۔۔۔ کس کی زلت۔۔۔
شہریار غصے سے بولا۔۔
یاد نہیں جب تم اپنے گھر کو رینوویٹ کروا رہے تھے اسی دوران تم نے دوسرا گھر رینٹ پر لیا تھا۔۔۔اور تم تینوں لڑکوں نے مل کر اتنا شور شرابا کیا۔۔۔ ساتھ میں انکے گھر میں پتھر بھی پھینکتے تھے۔۔۔ اس وجہ سے انھوں نے تم کو نکال باہر پھنک دیا۔۔۔ اخر مین ثانیہ نے قہقہ لگایا۔۔۔
شہریار نے اذان کو گلے سے دبوچا۔۔۔
اسی اسی کمینے نے بتایا ہوگا۔۔۔ یے دونوں ہر صبح کو فجر کے وقت انکے گھر پتھر پھینکنے میں میرے برابر کے حصے دار تھے۔۔ پر ساری بے عزتی میری اکیلے کی ہوئی۔۔۔ یے دونوں دوسرے دروازے سے بھاگ گئے تھے اور کمیونٹی والوں نے سارا غصہ مجھ پر نکالا۔۔۔ ۔۔۔۔ اب شہریار نے میکال کو پکڑا جو آہستہ سے بھاگنے لگا تھا۔۔۔
رک رک مردود۔۔۔ بے حیا۔۔۔ اس نے دو تین مکے اس کے پیٹھ میں دے مارے۔۔۔
کمینے میری اکیلے کی بے عزتی ہوئی اسی لیے تو سب کو بتایا۔۔۔ وہ اذان کی طرف مڑا۔۔۔
سب بیٹھ کر خوب مزے لوٹ رہے تھے۔۔۔
خاص کر نعمان اور جنید۔۔۔ ان دونوں کے زخموں کو مرہم مل رہا تھا۔۔۔ اتنے دونوں بعد شہریار نے دونوں کی خوب عزت افزائی کی تھی۔۔۔
پریشا او امان بابا سے ملوئو۔۔۔
وانیزا نے آہستہ سے اسکے کان میں کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گئی۔۔۔
تمہیں پتا ہے۔۔۔ پری ہم سب دوستوں نے اپنے گھر والوں کو تمھارے بارے میں بتایا تھا۔۔۔ سب کی فیملیز تم سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔
وانیزا اسکو خوشی سے بتا رہی تھی۔۔۔
یار کیا سوچتے ہونگے کے کیسی لڑکی ہے۔۔۔
پریشا نے پریشانی سے کہا۔۔
ارے میری جان تم کب سے کسی کی پرواہ کرنے لگی۔۔۔ اگر کرنے بھی لگی ہو تو فکر مت کرو وہ سب تم سے بنا ملے محبت کرتے ہے۔۔۔
وانیزا نے اسکی بازوں کو پکڑ کر گلے لگایا۔۔۔
اچھا۔۔۔ چلو پھر ملتے ہے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
کوئی ڈریس تو پسند کر لو۔۔۔
میں کونسا لو۔۔۔۔
لڑکیاں آج شاپنگ پر آئی تھی۔۔۔ کسی کو کوئی ڈریس پسند آ رہا تھا تو کسی کو نہیں۔۔۔ اگر کوئی لڑکی پسند کر بھی لیتی تو دوسری منع کردیتی کے مت لو۔۔۔
سارا دن شاپنگ مال میں گزر کر وہ گھر پھنچی تو ہاتھ میں صرف ایک دو شاپر لیکر لوٹی۔۔۔
لڑکیوں تم لوگوں کا ہوگا کیا۔۔۔ شادی مین دن کتنے بچے اور یے حال ہے تم لوگوں کے۔۔۔۔۔۔ سارا دن غرق کر کے آئی ہو پر کچھ لیا نہیں۔۔۔
وانیزا کی امان سر پر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
رات کو دھلکی ہے آ رہا ہے نا تو۔۔۔
میکال شہریار سے فون پر پوچھ رہا تھا۔۔۔
ہنہ۔۔۔۔۔
شہریار نے اتنا ہی جواب دیا۔۔۔
کیا ہنہ بک نا۔۔۔
میکال کو غصہ اگیا۔۔۔۔
ارے میں نہیں آ پاونگا۔۔۔ آفیس میں بہت کام ہے۔۔۔ سوری یار سمجھا کر۔۔۔
ابہے ایسے کیسے تیرے بنا میں بھی نہیں جاونگا سن لو۔۔۔
میکال نے غصے سے کہہ کو فون رکھا دیا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
کمینے دھمکیاں دینا بند کر سارا کام چھوڑ چھاڑ کر تیرے لیے ناچنے آیا ہو۔۔۔
شہریار نے میکال سے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔۔
یے عورتوں کی طرح گلے شکوے تو نے کب سے شروع کردیے۔۔
میکال نے اسی کا ڈائلاگ مارا تو اس نے میکال کا ہاتھ مروڑا۔۔۔
ابہے ابہے چھوڑ کیو شادی سے پہلے مجھے لولا بنا رہا ہے۔۔
میکال درد سے چلانے لگا۔۔
معافی مانگ اپنے باپ سے پنگا لے رہا ہے۔۔
شہریار نے ہنس کر کہا۔۔۔
نہیں مانگو کیا کر لے گا۔۔۔
میکال نے ضد کی۔۔۔
اچھا تو پھر لے۔۔۔۔
آاااااااااااااا۔۔۔۔۔ میکال زور سے چلایا شہریار اسکا ہاتھ اور زور سے مروڑا۔۔۔
معاف کردے معاف کردے بھائی۔۔
میکال نے ہولے ہولے کہا۔۔۔
شہریار نے قہقہ لگا کر کہا۔۔۔
چل تو بھی کیا یاد کرے گا۔۔۔ کس سخی انسان سے پالا پڑا تھا۔۔۔
سخی نہیں ۔۔۔ بغیرت سے پالا پڑا تھا۔۔
میکال کہہ کر بھاگ گیا اور شہریار اسکے پیچھے بھاگا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
لال ڈوپٹا اڑگیا میرے ہوا کے جھوکے سے مجھے پیا نے دیکھ لیا ہائے رے دوھکے سے۔۔۔
جنید ڈول بجا رہا تھا۔۔ اور اذان نے ڈوپٹا پہن کر ناچنا شروع کیا۔۔۔
حفصہ اور باقی لڑکیاں خوب مزے لے رہی اور گانا گانے کے ساتھ ساتھ تالیان بھی بجا رہی تھی۔۔۔
اور نعمان اذان پر پیسے اچھالنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔
سب خوب مزے لوٹ رہے تھے۔۔۔۔
میکال اور شہریار ساتھ کمرے میں آنے لگے تو پریشا نے انکا راستا روک دیا۔۔۔
دولہا اندر نہیں آسکتا۔۔۔ اندر دولہن بیٹھی ہے۔۔۔
آپ اپنے دولہے کو لے جائے پلیز۔۔۔
پریشا نے آنکھیں ٹیری کرکے شہریار کو کہا۔۔۔
کیا یبچو والی ضد کر رہی ہو ہٹو سامنے سے۔۔۔۔۔
شہریار نے چڑھ کر کہا۔۔۔
Bhabhi this is not fair…
اپ نے ہماری سائیڈ کو چھوڑ کر لڑکی والوں کی طرف جانے کا کہا ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کہا کے چلیں جس میں بھابھی خوش ہو۔۔۔ ۔۔۔ اور اب مجھے دولہن کے ساتھ بیٹھنے سے منع کر رہی ہے۔۔۔ اتنے ظلم ۔۔۔ میری اپنی بھابھی میرے ساتھ سالیون والا سلوک کرے گی۔۔۔ میں نے سوچا نا تھا۔۔۔
میکال کی ایکٹنگ پھر سے شروع ہوگئی تھی۔۔۔
دولہے میاں پلیز نارض نا ہو آپ۔۔۔ میں آپکے ساتھ ہو۔۔۔
پریشا نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔
میکال خوش ہوگیا کے اسکی ایکٹنگ کام کر گئی ہے پریشا پگل گئی۔۔۔
یے ایکٹنگ میرے سامنے نہیں چلے گی۔۔ چلیں جائے دیور جی۔۔
وہ آہستہ سے بولی۔۔
بھابھی۔۔۔۔
میکال رونے والا ہوگیا۔۔۔
یار پری کیو ضد لگا رکھی جانے دو۔۔۔
شہریار نے نارمل انداز میں کہا۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔ اپ چپ رہے۔۔
پریشا نے من مانتے ہوئے کہا۔۔۔
وانیزا یے ظالم سماج ہمیں ملنے سے روک رہا ہے او انکو کہو کے تم میرے ساتھ ہو۔۔۔
میکال نے چلا کر وانیزا کو کہا۔۔۔
وانیزا تو وہی رہی پر باقی سب انکی طرف اگئے۔۔۔
یار اذان تو ہی سمجھا بھابھی کو۔۔
اذان جو خوش ہو رہا تھا۔۔۔ چپ ہوگیا۔۔۔ تھوڑا صبر کر لے بھائی۔۔۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔۔۔
اذان لاپرواہی سے بولا۔۔۔۔
مر جا۔۔۔ تو میرا دوست نہیں دشمن ہے۔۔۔
میکال دڑہا۔۔۔۔
وانیزا کچھ تو بولو۔۔۔
میکال نے اداسی سے وانیزا کو چلا کر کہا۔۔۔
وہ صرف مسکراتی رہی پر بولی کچھ نہیں۔۔۔
سوہا وانیزا اگے اکر رک گئی۔۔۔ اسکو اپنے پیچھے چھپانے لگی
میکال بھائی اب آپ انکو دیکھ بھی نہیں سکتے۔۔۔
سوہا نے شرارت سے کہا۔۔۔
یے چیز میری دوست۔۔۔
پریشا نے اسکو دات دی۔۔۔
چلیں دیور جی۔۔۔ بھاگے یہاں سے۔۔
پریشا نے انگلی سے اشارہ کر کے کہا۔۔۔
ایک شرط پر جاونگا۔۔۔
میکال نے خود کو سنبھلتے ہوئے کہا۔۔۔
کیسی شرط۔۔۔ سب کی آنکھیں کھل گئی۔۔۔
میں وانیزا سے شادی تک نہیں ملو گا پر آپ سب کو میرے گھر بھی ڈھولکی کرنی پڑئے گی۔۔۔
میکال کے کہنے پر سب رازی ہوگئے۔۔۔
ہمیں کیا ہے ہم تو ہر جگہ بنگڑ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔۔۔۔کیون بھائیوں اور انکی بہنون۔۔۔ اذان نے زور سے سب سے پوچھا۔۔۔
تو جنید نے ڈول بجایا اور سب نے ہاں کہا۔۔۔
چلیں اب جائیں۔۔۔ میکال جی۔۔۔ پریشا نے اسکو چڑھنے کے انداز سے کہا۔۔۔
وہ جھوٹ میں زور زور سے رویا۔۔۔
ہائے ہائے۔۔۔۔۔ ہائے ہائے۔۔۔
پیچھے سے سب نے مل کر قہقہ لگایا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
بھئی میں نے یے ڈریس ان لائین آرڈر کیے ہے۔۔۔ دیکھ لو اب ایسا ڈریس اور کلر کوئی نا لے۔۔۔
سوہا نے وائس ایپ پر لڑکیوں کے گروپ میں میسج کیا۔۔۔
سب ایک کمرے میں لٹے ہوئے تھی۔۔۔ اج کل پریشا, ماہم اور ارحام بھی فارس کے گھر میں رہ رہے تھے۔۔۔
باقی شہریار آفیس کے کام کی وجہ سے گھر چلا جاتا تھا۔۔۔
سب لڑکیوں سوہا کے اوپر لپکی۔۔۔
دیکھاو دیکھاو۔۔۔۔کونسا لیا ہے۔۔
ارے واٹس ایپ جو کیا ہے اپنے اپنے موبائل سے دیکھو نا۔۔۔
وہ چلائی۔۔۔
بھابھی میں بھی اسی ویب سائٹ سے ان لائن کرو کتنا اچھا ڈریس ہے نا۔۔۔
ماہم نے موبائل میں ڈریس دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں گڑیا لے لو ۔۔
پریشا نے پیار سے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے میں بھی یہی سے منگوا رہی ہو۔۔۔
ماہم خوشی سے چلائی۔۔۔
سنو ماہم میرے جیسا مت منگوانا۔۔۔
سوہا نے اسے دھمکی دی۔۔۔
ہاں ہاں مرو نہیں۔۔ دوسری ڈیزائن منگوائے گی۔۔۔
پریشا نے طنز سے کہا۔۔۔
لڑکے کیا پہنے گے؟
حفصہ نے موبائل میں دیکھتے ہی سوال کیا۔۔۔
ارے انکا کیا ہے۔۔۔ کچھ بھی پہن لیں گے۔۔۔
سوہا نے بیزاری سے کہا۔۔۔
ہاں یے بھی ہے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡
ابہے یار میری شرٹ نہیں مل رہی ہے اپنی دے۔۔۔
اذان نے جنید کو چلا کر کہا۔۔۔
اس نے موبائل سے دہاں ہٹاتے ہوئے کہا۔۔۔ میں نہیں دے رہا۔۔۔ تم نے کل بھی میری شرٹ پر داغ کردیا تھا۔۔۔
چل نعمان تو دے میرے بھائی۔۔۔
اذان اب نعمان کے سر پر کھڑا ہوئا تھا۔۔۔
یار تو کیا ساری زندگی فقیری میں گزارے گا کیا۔۔۔ جب پتا تھا کے یہاں رہنے آرہے ہو تو اپنی شرٹس لاتے نا۔۔۔
وہ ناراضگی سے بولا۔۔۔
اب تو کل کلو کا بچا مجھے بتائے گا ,اور میری شرٹس بیرینڈیڈ ہے اور تم لوگوں کی تو رات میں پہنے کے لائق بھی نہیں ہے یے تو تمہیں میرا احسان مند ہونا چاہیے کہ میں تمہاری ان شرٹس کو پہنے کا شرف بخشتا ہون۔۔۔ ۔۔۔
اذان نے اسکی گردن دبوچتے ہوئے فخر سے کہا۔۔۔۔۔۔
اچھا لے لو پر پہلے میری وہ کل والی شرٹ تو واپس کر دو۔۔۔
نعمان نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ دوہنے کے لیے گئی ہوئی ہے۔۔۔ آجائے گی تو دے دونگا۔۔۔
اذان نے لا پروائی سے کہتا ہوئا چلا گیا۔۔۔
وہ سب لڑکے میکال کے کمرے میں جما ہوئے تھے شہریار اور فارس کے سوائے۔۔۔
چاروں نے مل کر کمرے کا ایسا برا حال کر رکھا تھا۔۔۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر نا تھی۔۔۔ اور آج تو ان چاروں نے خوب زور پر شادی کی شاپنگ کی تھی۔۔ وہ شاپرس وہی دیکھ کر پھینکتے گئے تھے۔۔
تھکن کی وجہ سے سب ابھی لیٹ کر موبائل استعمال کر رہے تھے۔۔۔
پر اذان کو سکون کہاں جب تک نعمان اور جنید کی زندگی کو جنجال نا بنا دے۔۔ اور انکو سکوں سے بیٹھنے دے۔

سارا دن شاپنگ کرنے کے بعد ساری راتیں ڈولکیان کرتے کرتے گزرتی۔۔۔ اور ساتھ میں ڈانس پریکٹس بھی چلتی تھی۔۔۔
سب دوستوں نے خوب مزے کیے پر شہریار کبھی کا بار آجاتا تھا۔۔ اور وہ بھی تھکن کے مارے سست ہوکر بیٹھ جاتا۔۔۔ یا پھر آتا ہی نہیں تھا۔۔۔
پریشا سارا دن گھن چکر بنی ہوئی تھی اپنے گھر کی ذمہ داری پھر وانیزا کی تیاریوں میں لگ گئی تھی۔۔ اور اب میکال کی تیاریاں بھی وہی کر رہی تھی۔۔ کیوں کے میکال کا کوئی بہن بھائی نا تھا تو اسکی ماما نے ساری ذمیداری اسکے دوستوں پر ڈال دی۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡
کل مایوں کا فنکشن ہے اس لیے میں نے مھندی لگانے والی کو بلایا ہے وہ آرہی ہے۔۔۔
ثانیہ نے سب کو اطلاع دی۔۔۔
پریشا مھندی لگوا کر بیٹھی ہوئی تھی کے شہریار کی آمد ہوئی۔۔۔
تم یہاں کیوں آئے ہو۔۔ لڑکوں کا انا منع ہے۔۔۔۔
حفصہ اسکے راستے میں رکاوٹ بن کے کھڑی ہوگئی۔۔۔
ارے مجھے اپنی بیوی سے ملنا ہے جانے دو کام ہے۔۔۔
شہریار غصہ ضبط کر کے بولا۔۔۔
سب بیٹھی لڑکیوں نے ہوٹنگ کی۔۔۔
اوووووووو۔۔۔۔۔۔
پریشا شرم سے لال ہوگئی۔۔۔
نہیں مل سکتے ہو جاو۔۔۔ حفصہ نے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔۔۔
ڈاین اسکو باہر بھیجو مجھے کام ہے۔۔۔
شہریار غصہ میں دڑہا۔۔
اچھا اچھا غصہ مت ہو بھیجتی ہو ۔۔۔
حفصہ اسکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر ڈر گئی۔۔۔
جاو پریشا آپکے ہسبنڈ آپکو بلا رہے ہے۔۔۔
حفصہ نے پریشا کو آنکھ مار کے چڑہیا۔۔۔
تو پریشا منہ نیچے کرکے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی باہر چلی گئی سامنے شہریار اسی کا منتظر تھا۔۔۔
وہ لائیٹ بلو کلر کے شفون کے ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ سامنے آتی پریشا کو دیکھتے ہی وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ پر جلدی سے اپنی آنکھیں جھکا گیا کیونکہ اسکی قاتل مسکان شہریار کو لگا وہ اپنے ہوش کھو بیٹھے گا۔۔۔
۔۔۔
جی بولیں۔۔۔ پریشا نے مسکراہٹ سجا کر آہستہ سے کہا۔۔۔
آفففف مارنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔ شہریار بیچیں ہوکر دل میں بولا۔۔۔ ۔۔۔
وہ وہ میری۔۔۔ شہریار گھبراہٹ سے بے قابو ہو گیا۔۔۔
پریشا نے کہا وہ کیا۔۔۔ ؟؟؟
Sheheryar control yourself what is wrong with you man??
وہ خود کو سنبھالنے لگا اور پھر نارمل انداز میں بولا۔۔۔
یار تم نے آج پھر سے میرے سٹڈی روم کی صفائی کی ہے کیا۔۔۔
شہریار نے دونوں آبرو اوپر کر کے پوچھا۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔
پریشا نے آہستہ سے پوچھا۔۔۔
میری فائل نہیں مل رہی تم نے ہی کہی رکھ دی ہوگی۔۔
شہریار ناراضگی سے بولا۔۔۔
وہی ہوگی آپ صحیح سے دیکھیں پلیز۔۔۔
میں نے ہر جگا دیکھی ہے نہیں مل رہی۔۔
وہ پریشانی سے بولا۔۔۔
میرے ساتھ گھر چلو اورمجھے ڈنڈہ کر دو۔۔۔
شہریار نے اسکا بازوں پکڑ کر کہا۔۔۔
ابھی چلو۔۔
پریشا نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔
نہیں بارات لیکر اتا ہوں پھر چلنا۔۔۔
شہریار نے تنز کیا۔۔۔
بھوت۔۔۔ پریشا آہستہ سے بڑبڑائی۔۔۔۔
اب چلو بھی انویٹیشن دینا پڑہے گا کیا۔۔۔
شہریار نے پھر سے اسکا بازوں پکڑ کر کہا۔۔۔
وہ ماہم ابھی مھندی لگوا رہی ہے وہ لگوا لے پھر چلتے ہے۔۔۔
پریشا نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔ کے کہی شہریار کو غصہ نا ائے۔۔
چھوڑو تم اسکو چلو, میں انتظار نہیں کر سکتا مجھے وہ فائل آنی ہاو چاہیے۔۔۔۔۔۔ شہریار نے بیزاری سے کہا۔۔۔
ایسے کیسے چھوڑ دو۔۔۔
وہ فکرمندی سے بولی۔۔۔
اپنا گھر ہے کوئی غیروں والی بات نہیں۔۔۔ میں اذان یا میکال کو کہہ دونگا وہ چھوڑ کر جائے گے۔۔۔
شہریار نے سر پکڑ کر کہا۔۔۔
اچھا میں ارحام کو لے کر آتی ہو۔۔۔پھر چلتے ہے۔۔۔
پریشا نے اندر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
وہ ماہم کے ساتھ آجائے گا۔۔۔ تم چلو میری ماں ۔۔۔
شہریار اسکے اگے ہاتھ جوڑے اور پھر اسکے بازوں کو پکڑ کر چلنے لگا۔۔۔۔
روکے تو اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔
پریشا نے آہستہ سے کہا۔۔۔
اب کیا ہوگیا۔۔۔ شہریار نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
وہ میں نے ڈوپٹا صحیح سے نہیں پہنا ہے۔۔۔
پریشا نے سر جھکا کر کہا۔۔
تو۔۔۔ شہریار نے بری شکل بنا کر لاپرواہی سے کہا۔۔۔
تو کیا ایسے ہی میں چلتی بنو۔۔۔ڈوپٹا سر پے لیے بنا۔۔۔۔۔۔۔ پریشا غصے سے چلائی۔۔۔
شہریار سر نیچے کر کے ہلکا مسکرایا۔۔۔
اچھا سیٹ کر لو اس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔۔
شہریار نے نرمی سے کہا۔۔۔
پریشا نے اسکو غصے سے گھورا۔۔۔
کیا؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔ کہہ تو رہا ہوں صحیح کر لو۔۔۔
شہریار نے نا سمجھی سے کہا۔۔۔
پریشا نے اپنے مھندی لگے ہوئے ہاتھ اوپر کر کے اسکو دیکائے۔۔۔
یہ کیا؟ اور مجھے کیوں دیکھا رہی ہو۔۔۔
شہریار نے چڑھ کر کہا۔۔۔
پاگل کتے نے کٹا ہے۔۔۔
پریشا غصہ ضبط کر کے بولی۔۔۔
صحیح کہا۔۔۔ شہریار نے دھبی ہنسی کے ساتھ کہا۔۔۔
آپ سے بات کرنا ہی بیکار ہے۔۔۔
پریشا نے آنکھیں بند کر کے غصہ سے کہا ۔۔۔۔
تو کون کہہ رہا ہے کرو چلو اب۔۔۔
شہریار پھر سے اسی رٹ میں لگ گیا۔۔۔
میرے ہاتھوں میں مھندی لگی ہوئی اسی لیے میں ڈوپٹے کو ہاتھ نہیں لگا سکتی میں ابھی کسی سے ڈوپٹا سیٹ کروا کے آتی آپ گاڑی میں انتظار کرے۔۔۔
پریشا چبا چبا کر بولی اور جانے لگی تو شہریار نے کہا۔۔۔ رکو۔۔۔
اگر یہاں سے ایک قدم بھی آگے بڑھی نا تو۔۔۔
وہ چپ ہوگیا۔۔۔
تو کیا ہاں تو کیا۔۔۔ کس چیز کی دھمکی دے رہے ہے۔۔۔
پریشا اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ساتھ بولی۔۔۔
بتاو کیا کرو گا۔۔۔
شہریار اسکے بلکل قریب اکر دونوں آبرو اوپر کر کے بولا۔۔۔اسکی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی۔۔۔
بولے کیا کرے گے۔۔۔
پریشا ہلکا سا مسکرا کر بولی۔۔۔
او تو مسئز شہریار دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔
شہریار نے زور سے ہنس کر کہا۔۔
اچھا چھوڑے آپ میں اتنی ہمت نہیں۔۔۔
پریشا نے ہاتھ ہلا کر کہا۔۔۔
اسکو ہمت نہیں بزدلی کہتے ہے جو محبت میں زبردستی کرتے ہے۔۔۔
پریشا کو آج اس پر اور زیادہ پیار ایا۔۔۔
وہ بات کو اگنور کر کے جانے لگی تو شہریار اسکے اگے اکر رک گیا۔۔۔
ٹھرو۔۔۔
میں پہناتا ہون۔۔۔
اس نے پریشا کا ڈوپٹا اپنے ہاتھ میں لیا اور آنکھیں جھکا کر اس پر لپیٹ دیا۔۔۔
اب خوش۔۔۔۔
شہریار نے شرارت سے کہا۔۔۔۔
ہمممممم۔۔۔۔۔ پریشا آہستہ سے بولی۔۔۔۔
وہ دونوں گھر پھنچے تو سیدہ اپنے کمرے کی سٹڈی روم میں گئے۔۔ شہریار نے کہا۔۔۔ لیں ڈھونڈ کر دے مجھے تو نظر نہیں آرہا۔۔۔
پریشا نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔
شہریار پریشانی سے چلایا۔۔۔
اچھے لگ رہے ہے دل کر رہا دکھتی رہو۔۔۔
پریشا تنز سے بولی۔۔۔
مطلب پیار آرہا ہے مجھ پر۔۔
شہریار نے آبرو اوپر کر کے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ہاں جی بہت۔۔۔
پریشا نے پھر سے تنز کیا۔۔۔
ہائے میں مر گیا۔۔۔
شہریار نے دل پر ہاتھ رکھ کر ایکٹنگ کی۔۔
تو دونوں نے قہقہ لگایا۔۔۔
شہریار اسکو دیکھ کر خوش ہوئا اور پریشا شہریار کو دیکھ کر۔۔۔
اچھا اب زیادہ دانت نا دیکھاو اور ڈھونڈ کر دو۔۔۔
شہریار ناک چڑا کر بولا۔۔۔
مہربانی کر کے آپ بھی نا دیکھائے۔۔۔ پریشا نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔ تو شہریار نے قہقہ لگایا۔۔۔ چوڑیل۔۔۔
اب مجھے اور کتنی بار یاد کروانا پڑہے گا میرے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی ہے۔۔۔
پریشا نے اداسی سے کہا۔۔۔
ہاں تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔۔ آپ اداس نا ہو۔۔ بس بتاتی جائے۔۔۔ شہریار نے بہت پیار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
سٹڈی ٹیبل کی سب سے لاسٹ والی کیبینیٹ کھولے سب فائل آرام سے دیکھے مل جائے گی۔۔ پریشا نے اشارہ کر کے بتایا۔۔۔
اس کیبینیٹ کو میں ہزار بار دیکھ چکا ہوں اس میں نہیں ہے۔۔
شہریار حیرت سے بولا۔۔۔
ایک بار دوبارہ دیکھیں۔۔۔ جلدی مت مچائے۔۔۔
پریشا نے آہستہ لہجے میں کہا۔۔
اگر نا ہوئی تو۔۔۔ شہریار تپ کر بولا۔۔۔
تو جو آپ کہے گے وہ کرو گی۔۔۔
پریشا اعتماد سے بولی۔۔۔
پھر تم میرے فائلز کو ہاتھ بھی نہیں لگاو گی۔۔۔
شہریار وارننگ دے کر کہا۔۔۔ ۔۔
ناممکن ۔۔ پریشا مسکرا کر بولی۔۔۔
وہ کیوں۔۔۔ شہریار نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔
کیونکہ مجھے پتا ہے آپکی فائلز یہی ہے اور میں ہی آج جیتنے والی ہون۔۔۔۔۔۔
وہ فخر سے بولی۔۔۔۔
دیکھ لیتے ہے۔۔۔
شہریار نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔۔۔
شہریار نے ساری فائل اٹھا کر ٹیبل پر رکھی اور ایک ایک کرکے دیکھنے لگا تو ایک فائل پر آکر رک گیا۔۔۔
پریشا اپنی ہنسی دبانے لگی۔۔۔
شہریار نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔
پریشا نے اپنی دونوں آبرو اوپر کر کے اسے کو چھیڑا تو وہ تپ کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔
ہائے غصے میں بھی قیامت لگتا ہے میرا شوہر وہ خود سے بڑبڑائی۔۔۔
اور اسکے پیچھے گئی۔۔۔
شہریار بیڈ پر ٹیک لگا کر فائل کو اور لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ کر اپنے بالوں کو کبھی ایک طرف کرتی تو کبھی دوسری طرف۔۔۔ اسکے ہاتھوں میں مہندی لگنے کی وجہ سے وہ بالوں کو ہاتھ نہیں لگا پا رہی تھی۔۔۔ اور گرمی کی وجہ سے بال اسکو چب رہے تھے۔۔۔
شہریار بار بار اسکو دیکھ رہا تھا پر پھر اپنی آنکھیں کام میں لگا دیتا۔۔۔
شرم تو باقی رہی ہی نہیں لوگوں میں۔۔۔
پریشا غصے سے بولی۔۔۔
شہریار نے کوئی جواب نا دیا۔۔۔ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔۔۔
حد ہے۔۔۔ مطلب بیوی کچھ بول رہی ہے پر شوہر کو اپنے کام سے ہی فرصت نہیں۔۔۔
پریشا اداسی سے بولی۔۔۔
شہریار نے اپنا سر اوپر کر کے اسکو دیکھا۔۔۔ پریشا نے بھی آئینے سے شہریار کو دیکھا۔۔۔
کیا کہا۔۔۔ زارا دوبارہ بولنا۔۔۔شہریار نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
میں نے کہا اپکی بیوی کچھ بول رہی ہے پر آپکو کوئی پروا ہی نہیں۔۔۔
پریشا شکل بیگھار کر بولی۔۔۔
حکم فرمائے جناب بندہ خدمت میں حاضر ہے۔۔۔۔
شہریار نے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ مجھے گرمی لگ رہی ہے۔۔ پریشا نے چھڑ کر کہا۔۔۔
ای سی تو چل رہا ہے ۔۔ ٹمپریچر کم کردو۔۔۔؟؟؟
شہریار نے فکر سے پوچھا۔۔۔
آفففف میرے بال کھلے ہوئے ہے انکی وجہ سے گرمی لگ رہی تھی۔۔
پریشا خفا ہو کر بولی۔۔۔
تو میں کیا کروں اس میں۔۔۔
شہریار نے ناگواری پوچھا۔۔۔
تو آپ میرے بال بند کرے اور کیا۔۔
پریشا مسکرا کر بولی۔۔۔
میں؟
ہاں اپ؟
مجھے نہیں آتے بال باندھے خود کرو۔۔۔
شہریار بیزاری سے بولا۔۔۔
پریشا نے اپنے مھندی والے ہاتھ اسکو دیکھائے۔۔۔
شہریار نے گہرا سانس لیکر آنکھیں بند کر دی۔۔۔
آپکے ہاتھوں میں مھندی لگی ہوئی ہے اس لیے آپ نہیں کر سکتی۔۔۔
شہریار نے پریشا کی نکل اتاری۔۔۔
ہمممممممم بلکل ٹھیک سمجھے آپ۔۔۔۔
چلیں آئے بھی۔۔ پریشا نے شہریار کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
بھائی میں نہیں آرہا خود انا ہے تو او۔۔۔
شہریار نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
ہائے اسے کیا ہوگیا ہے سارا رومینس نکال گیا ہے, بھونگا۔۔۔۔۔ پر غلطی تو میری ہے میں نے ہی بھاو نہیں دیا تھا۔۔۔ اور اب اس نے تو پیچھے ہٹنا ہی تھا نا۔۔۔ پر اب نہیں آج کیسی بھی صورت میں بتاتا دونگی۔۔۔ پریشا اپنے دل میں سوچنے لگی۔۔۔ ۔۔
پھر اٹھ کر بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔
شہریار لیپ ٹاپ کو سائیڈ کر کے اسکے پیچھے آکر بیتھا۔۔۔
اب بتاو کیا کرنا ہے۔۔ شہریار نے اسکے بالوں کو عجیب طریقے سے دیکھاتے ہوئے کہا۔۔ وہ جان بوجھ کر بیزاری دیکھا رہا تھا۔۔۔ کیونکہ آج پہلی بار پریشا اس پر جھکا دیکھا رہی تھی۔۔۔ اور وہ یہی چاہتا تھا کے اب وہ اپنے اندر کا چھپا ہوئا پیار ظاہر کر ہی دے۔۔۔ ۔۔۔
جائے ڈریسنگ ٹیبل سے برش اور کیٹ کیلپ لیکر ائے۔۔۔
پریشا نے آرام سے آرڈر دیا۔۔۔
میں نے تمہیں یہاں اسی لیے بلایا تھا کے میں اٹھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
شہریار نے تنزیا کہا۔۔۔
میں کیسے اٹھاون؟ پریشا نے اپنے مھندی والے ہاتھ اسکو دیکھائے۔۔۔
یار پری۔۔۔۔ شہریار سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔ پریشا مسکرائی۔۔۔۔
وہ اٹھا اور برش اور کیٹ کیلپ لیکر آیا اور اسکے پیچھے بیٹھ گیا۔۔۔
Thank you..
پریشا آنکھیں جھپکا کر بولی۔۔
تو شہریار کو اس پر پیار ایا۔۔۔
بولو کیا کرنا ہے۔۔۔
پہلے سارے بال اٹھائے۔۔۔
شہریار نے پریشا کے کہنے پر بال اتھائے۔۔۔
ایسے نہیں بابا سارے اٹھانے ہے۔۔۔
اس نے آدھے بال اٹھائے تھے اور آدھے چھوڑ دیے تھے ۔۔
اچھا اب آگے کیا کرنا ہے۔۔۔
اب انکو گول گول کر کے کلپ ڈال دے۔۔۔
گول کیسے کرو۔۔۔
ایک ہاتھ سے سارے بال پکڑ لے دوسرے سے گول کرے۔۔۔
شہریار کو سمجھ تو نہیں آیا پر اسنے کوشش کی۔۔
آہستہ کرے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔
پریشا چلائی کیوں کے شہریار نے اسکے بال زور سے کھینچے تھے۔۔۔
سوری سوری۔۔۔
شہریار ڈرتے ہوئے بولا۔۔۔
یار مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے۔۔۔ شہریار بہت کوششوں کے بعد چلایا۔۔۔
ایک طریقہ ہے یو ٹیوب سے دیکھے کیسے ہوتا ہے۔۔۔
پریشا اسکی پریشانی دیکھ کر بولی۔۔۔
اخر کار بہت کوششوں کے بعد کیسی طرح شہریار میشن میں کامیاب ہو گیا۔۔۔
Thank God…
ہوگیا پریشا خوشی سے چلائی۔۔۔۔
شہریار تو سر دبانے لگا۔۔۔ اتنی محنت تو اسکو اپنی زندگی کی ساری میٹنگس میں بھی نہیں لگی تھی جتنی ان بالوں کو بنانے میں لگ گئی تھی۔۔۔
شہریار کے موبائل پر بیل ہوئی تو اس نے دیکھا ماہم کی کال تھی۔۔۔
ہاں بولو گڑیا ابھی تک تم لوگ آئے نہیں ہو۔۔۔
شہریار فکر مندی سے بولا۔۔۔
بھائی آپکی آواز نہیں آ رہی ہے۔۔۔ ماہم چلائی۔۔۔
ہاں گڑیا اب آرہی ہے شہریار بیڈ سے اٹھ کر آگے گیا۔۔۔
ہیلو ہیلو بھائی۔۔۔
آفففف یے سگنل بھی نہیں ارہے۔۔۔
شہریار غصے سے چلایا۔۔۔
وہ ٹیرس کی طرف گیا۔۔ اور دوبارہ سے ماہم کو کال مالا کر بات کرنے لگا۔۔۔
بھائی ہم آج نہیں آ رہے ہے کل صبح آجائے گے۔۔۔ ماہم نے جوش سے کہا۔۔۔
میں نے لینے اجاو۔۔۔شہریار پریشان ہوگیا۔۔۔
نہیں بھائی یہاں پر بہت مزہ آرہا ہے۔۔ صبح آجائے گے۔۔
اوکے۔۔۔صبح پکا آجانا۔۔۔
شہریار نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
او کے بھائی پکا آجائے گے اللہ حافظ۔۔۔
ماہم نے بات کر کے فون رکھ دیا۔۔۔
کیا کہا ماہم نے۔۔ پریشا شہریار کے پیچھے پیچھے آئی تھی۔۔۔
وہ آج نہیں آئے گے۔۔۔ شہریار نے مختصر جواب دیا۔۔۔
کیون۔۔؟
کہہ رہی تھی مزہ آرہا ہے صبح آجائے گے۔۔
شہریار نے موبائل سے منہ اوپر کر کے اسکو دیکھتے ہوئے کہا۔۔ ۔۔
اچھا ویسے بھی بہت رات ہوگئی ہے۔۔۔ ۔۔ پریشا آہستہ سے بولی۔۔۔
پریشا شہریار کے سامنے آکر رک گئی۔۔۔
وہ موبائل میں تھا پر اسکا سارا دیھان سامنے کھڑی پریشا پر تھا۔۔۔
پریشا آج ہمت کر کے بول دے۔۔۔ وہ خود کو ہمت دلا رہی تھی۔۔۔
کچھ کہنا تھا۔۔۔ شہریار نے اسکو خاموش دیکھ کر پوچھا۔۔
نہیں تو۔۔۔ پریشا ہڑبڑ کر بولی۔۔۔
شہریار نے پھر سے موبائل میں ٹائپنگ شروع کردی۔۔۔
اج ہمت کر پریشا۔۔ اج کیسے بھی کرکے کہہ دینا ہے۔۔۔
اچانک وہ اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئی۔۔۔
یے کیا کر رہی ہو۔۔۔ شہریار نے گھبرا کر پوچھا۔۔
شیروو۔۔۔۔
I LOVE YOU….
وہ اپنی آنکھیں بند کر کے جلدی سے بولی۔۔۔
شہریار کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ایا۔۔۔
کیا کہا وہ ہنس کر بولا۔۔۔
SHEROOOO I LOVE YOU…
کیا ہم دونوں اپنے رشتے کی نئی شروعات کر سکتے ہے۔۔
وہ نیچے بیٹھ کر شہریار کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔
شہریار نے قہقہ لگایا۔۔ وہ ابھی بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
پریشا نے اپنا ایک ہاتھ اوپر کیا اور آہستہ سے مٹھی کو کھولا۔۔۔ اس کے ہوتھ میں وہی بیریسلیت تھا جو شہریار نے اسکی شادی پر اسکو گفٹ دیا تھا۔۔۔
یے کہاں سے ایا۔۔۔
شہریار بیریسلیت کو دیکھ کر حیرانی سے بولا۔۔۔
یے میں نے اپنے پاس سنبھال کر پرس میں رکھ دیا تھا۔۔۔
پریشا مسکرا کر بولی۔۔۔
شہریار نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔ وہ خوشی سے پاگل ہوگیا تھا۔۔۔
کیا آپ مجھے آپ اپنے ہاتھوں سے یے پہنائے گے۔۔
پریشا نے شہریار سے اداسی سے سوال کیا۔۔۔
ہاں کیوں نہیں شہریار کی جان۔۔۔ ۔۔ شہریار نے پریشا کو اٹھا کر زور سے گلے لگا لیا۔۔۔
پریشا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔۔
I LOVE YOU TOOO PARI…
شہریار ہولے سے بولا۔۔۔
I love you 2 ,3 ,4….
پریشا رونے والی آواز سے بولی۔۔۔
شہریار نے زور سے قہقہ لگایا۔۔۔
ویسے مجھے تو یقین نہیں آ رہا ہے تم خود آئی ہو۔۔
شہریار کی آواز میں خوشی تھی۔۔
شہریار۔۔۔ پریشا نے آہستہ سے اسکو پکارا۔۔۔
ہمم۔۔۔
آپ بہت اچھے ہے۔۔ واقعی آپکی محبت سچی تھی۔۔۔ ہر گندی چیز سے پاک۔۔۔ آپ نے ہر بار کوشش کی مجھے اپنی محبت دیکھانے کی کبھی مجھ پر زبردستی نہیں کی میں بھی آپ سے محبت کرو۔۔۔۔
اور ناہی آپکے اندر ہواس تھی ورنہ آپ زبردستی کر کے بھی مجھ سے اپنا رشتا بنا سکتے تھے۔۔۔ پر کبھی بھی اپنے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس میں راضی نہیں تھی۔۔۔۔
Thank you shehreyar.. thank you so much you are the best…
شہریار نے اسکے سر پر بوسا دیا۔۔۔
Love you….
آپکو پتا ہے میں اپ سے تب سے پیار کرتی تھی جب سے آپکو پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔ پر خود سے ہر بار چھپاتی تھی۔۔۔کیونکہ شروع میں تو لگتا تھا کے صرف اٹریکشن ہے پر ہر جھگڑے کے بعد دل کے احساس بدل جاتے تھے۔۔۔ آپکو دیکھ کر دل بے قابو ہوجاتا تھا۔۔۔ ۔۔یونیورسٹی سے جانے کے بعد بھی میں ایک دن بھی آپکو نہیں بھولی تھی۔۔۔ اور شاید میری محبت میں اتنی طاقت تھی کے آپ مجھے دوبارہ سے مل گئے۔۔۔
اور بابا نے بھی میری آنکھوں میں آپکے لیے محبت دیکھ چکے تھے۔۔ ۔۔ ویسے تو وہ آپکو کبھی نا کہتے کے میری بیٹی سے شادی کر لو پر جب سے آپ اسکول آئے تھے میں بھی پھر سے اپنی زندگی میں خوش رہنے لگی تھی۔۔ وہ پوچھتے تھے تو میں بات کو اگنور کر دیتی تھی پر ہسپتال میں انھوں نے مجھے سے پوچھا تھا۔۔۔ کیا یہی وہ ہے۔۔۔ میں نے اپنی آنکھیں شرم سے جھاکا لی تو انھوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ واقعی ماں باپ بچوں کو بہت اچھے سے جان لیتے ہے ۔۔
وہ بات کرنے کے ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی۔۔۔
اگر اتنا ہی پیار کرتی تھی تو میرا ساتھ پنگے کیوں کرتی تھی ۔۔ شہریار اسکو شرارت سے بولا تاکے وہ روئے نا۔۔۔
آپکو تنگ کرنے میں مزہ آتا تھا نا۔۔۔ اور آپکا غصہ سے بھرا کیوٹ فیس دیکھنے کو ملتا تھا۔۔ پریشا اسکے سینے پر اپنا سر رکھ کر سکوں محسوس کر رہی تھی۔۔۔
ویسے آپ مجھ سے اتنا ڈرتے ہے کیا۔۔۔
پریشا نے سو سو کر کے پوچھا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
شہریار نے قہقہ لگایا۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔ پریشا اسے الگ ہوتے ہوئے ب اپنے آنسو صاف کر کے بولی۔۔۔۔۔
ہر شریف مرد اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔۔۔
شہریار نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔
پریشا پھر سے اسکے سینے پر گر گئی۔۔۔
ہمممم آپ نے یے ٹیسٹ بھی پاس کردیا۔۔۔
پریشا ہنس کے بولی۔۔۔
وہ کیسے۔۔۔ شہریار نے اسکے گرد اپنے دونوں بازوں مضبوطی سے پکڑ کر پوچھا۔۔۔
وہ ایسے کے میں اس دن آپکو چمچ مارنے لگی تھی۔۔۔ باجائے مجھ پر غصہ کرنے کے یا دانٹنے کے آپ مجھ سے ڈر گئے۔۔۔
اسی دن میں سمجھ گئی۔۔۔ سچی میں آپ مجھ سے محبت کرتے ہے۔۔ ورنہ کوئی چھ فوٹ کا بلڈوزر ایک لڑکی سے ڈر جائے۔۔۔ ناممکن۔۔
شہریار اسکی بات پر پھر سے قہقہ لگائے بنا نا رہ سکا۔۔۔۔
واقعی کیسے ہوگئی محبت پتا نا چلا۔۔۔۔
پریشا مسکرا کر بولی۔۔۔
ویسے تم میری پہلی بیوی کے بارے میں نہیں پوچھو گی۔۔
شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
بلکل نہیں پوچھو گی اس منحوس گاڑی کے بارے میں۔۔۔
پریشا تپ کر بولی۔۔۔
تمیں کیسے پتا چلا۔۔۔۔
شہریار نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
ارے اپ نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے بہت بڑی چیز ہو۔۔۔
پریشا فخر سے بولی۔۔۔۔
صحیح کہا۔۔۔ بہت بڑی چیز ہو۔۔۔
یے دیکھے میں نے آپکا نام بھی لکھوایا ہے۔۔۔
پریشا نے اپنے ہاتھ آگے کر کے اسکو دیکھایا۔۔۔
وہ خوشی سے پریشا کو دیکھنے لگا۔۔۔
مجھے کیا دیکھ رہے ہے یہاں دیکھے۔۔۔
پریشا نے آنکھوں سے مھندی پر اشارہ کیا۔۔۔
I love you pari…
شہریار بھری ہوئی آواز میں کہا اور اپنے ہونٹ اسکے سر پر رکھ دیے۔۔۔ تم نے میری ادھوری زندگی کو مکمل کردیا۔۔۔
اج شہریار بہت خوش تھا۔۔
I love you toooooooooooo sherooooo
پریشا زور سے چلائی۔۔۔۔۔
بار بار کہو میرے دل کو سکون ملتا ہے۔۔۔
شہریار سے اسکے گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیالا بنا کر کہا۔۔
اچھا پہلے آپ مھندی میں اپنا نام ڈھونڈ کر کے دے پھر بولوں گی۔۔۔
وہ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے پریشا نے اپنا سر اسکی سینے پر رکھ دیا تھا۔۔ اور اپنے ہاتھ آگے کر لیے تھے۔۔
شہریار ان میں اپنا نام ڈھونڈ رہا تھا پر اصل میں وہ پریشا کو اپنے اتنے قریب ہونے کو محسوس کر کے خوش ہو رہا تھا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
گلابی اور ہرے کلر کے ڈریس میں وہ خوبصورتی کے سارے رکارڈ توڑ رہی تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی وہ سیڑیون سے نیچے اوتر رہی تھی۔۔۔
شہریار بلیک شلوار قمیض ہلکی بڑھی ہوئی داڑھی میں قیامت داڑھ رہا تھا۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے آج دنوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نا تھا۔۔
اہا۔۔۔ مسٹر شہریار کیا غضب لگ رہے ہے۔۔
پریشا نے شہریار کو آنکھ مار کر کہا۔۔۔۔
آپ بھی کچھ کم نہیں لگ رہی شہریار کی جان۔۔۔۔
شہریار نے اسکے گال پر بوسا دتے ہوئے کہا۔۔۔
Love you sherooooo….
پریشا اسکی خوشبو اپنے اندر کھینچ کر بولی۔۔۔۔
Love you toooo sheroo ki jaan….
چلیں سب انتظار کر رہے ہونگے۔۔
شہریار نے اپنا ہاتھ اسکے اگے کیا۔۔۔
جی۔۔۔ پریشا نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں ڈال کر کہا۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
بھابھی آپ یہاں۔۔ میکال پریشا کو دیکھ کر چلایا۔۔۔
جی دیور جی۔۔۔
پریشا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
پر آپ تو لڑکی والوں کی طرف سے تھی نا۔۔۔
میکال نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
جی جی پر آج میں آپکی طرف سے ہون۔۔۔ اپنے اتنے پیار سے کہا تو میں ان سب سے کہہ کر آئی کے میں اپنے بھائی کو اداس نہیں کر سکتی۔۔اور بس پھر آپکے یہاں اگئی۔۔۔
پریشا آبرو اوپر کر کے بولی۔۔۔
واہ بھابھی واہ۔۔۔۔
میکال خوشی سے چلایا۔۔۔
سب میکال کے گھر سے مل کر نکلے۔۔۔ اج مایوں کا فنکشن تھا۔۔۔
ماہم اور ارحام دونوں پہلے ہی آگئے تھے۔۔۔
حال میں پونچھ کر لڑکی والوں نے انکا بہت ہی اچھا ویلکم کیا۔۔۔
جنید اور نعمان نے پریشا کو اپنی فیملیز سے ملوایا سب نے اسکو بہت پیار اور محبت دی۔۔۔
پہلے لڑکوں نے اپنے ڈانس کے جلوے دیکھائے۔۔۔ پریشا تو حیرت سے دیکھتی رہی شہریار نے بہت ہی کمال ڈانس کیا تھا۔۔۔۔
آپ نے کیسے کر لیا۔۔۔
پریشا شہریار سے حیرت سے پوچھنے لگی جب وہ سٹیج سے اسکے پاس ایا۔۔۔
میکال کے گھر زور رات کو آفیس سے واپسی پر جاتا اور سارے لڑکے مل کر مجھے سارے سٹیپس سکھاتے تھے۔۔۔
ہا کتنے چلاک ہے اپ اور میں آپ پر ترس کھاتی تھی کے بیچارے سارا دن رات کام کرتے ہے۔۔۔۔ پریشا اسکے بازوں پر آہستہ آہستہ مکے لگائے۔۔ تو شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
چھوڑے کیا کر رہے سب دیکھ لیے گے۔۔۔ وہ شرما کر بولی۔۔۔ شہریار مسکرایا۔۔۔
پھر لڑکیوں نے بھی اپنے دانس کا کمال دیکھایا۔۔
فنکشن اچھے سے گزر گیا تو سب اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے۔۔۔ پریشا بھی وانیزا والوں کے ساتھ جانے لگی کیوں کے آج بھی وہ اسکے ساتھ نہیں تھی پر شادی کے دن وانیزا اسکو اپنے ساتھ ساتھ رکھنا چاہتی تھی۔۔۔
شیری بھائی آپ جانے دے نا ایک دن کی تو بات ہے۔۔۔
وانیزا شہریار کو اداسی سے بولی۔۔۔
ہاں بھابھی جی آپکے لیے یہ پتھر ہم سینے پر رکھ لیتے ہے۔۔۔
شہریار نے ناراضگی سے کہا۔۔۔
ہاہاہا شکریہ جی۔۔ وانیزا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
سب گاڑیوں میں جاکر بیٹھے تو شہریار نے پریشا کو روک لیا۔۔۔
کوئی دیکھ لے گے کیا کر رہے ہے۔۔۔
شہریار نے اپنے ہونٹ اسکے سر پے رکھ دیے تھے۔۔۔
کتنی بار کہا ہے ڈرتا نہیں ہو کیسی سے بیوی ہو کوئی محبوبہ نہیں۔۔۔ جس کو دنیا سے چھپا کر ملو۔۔۔
شہریار نے ناک چڑہا کر کہا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ لگتا ہے بھول گئے ہے اپ (پریشا نے اسکو وہ دن یاد کرویا جس دن پریشا نے ارحام کا کہہ کر اسکو دریا تھا اور وہ خود بھاگ نکلی تھی) ۔۔۔ ؟؟ پریشا زور سے ہنس کر بولی۔۔۔
کیا بھول گیا ہو ذرا یاد کروانا وہ جان بھوج کر انجان بنا۔۔۔ ۔۔۔۔ شہریار پریشا سے گال پر الٹا ہاتھ کر کے پیار کرتے ہوئے بولا۔۔۔
نا کرے مجھے شرم آ رہی ہے۔۔۔
پریشا نے اسکا ہاتھ ہٹا کر شرما کر بولی اور سر جھکا گئی۔۔۔۔۔ ۔۔۔
شہریار کے دل کی دھڑکنے تیز ہوگئی۔۔۔۔
یار ظلم ہے یہ لوگ ابھی تو تم مجھے ملی تھی اور آج ہی تمیں اپنے ساتھ لے جا رہے ہے۔۔۔
شہریار اداسی سے بولا۔۔۔۔
پریشا ہولے سے مسکرائی۔۔۔ اور بولی کل اپ بھی اپنی دولہن کو لینے آئیے گا۔۔۔ صحیح معنوں میں کل میری رخصتی ہوگی۔۔۔
ہممم یے صحیح کہا۔۔۔ کل میں بھی اپنی دولہن کو لینے اونگا۔۔۔
شہریار اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پیار سے بولا۔۔۔
اچھا چلیں اب سب باہر انتظار کر رہے ہونگے۔۔
پریشا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا۔۔۔
مجھے نہیں جانا۔۔۔ چلو بھاگ چلتے ہے۔۔۔
شہریار شرارت سے بولا۔۔۔
کیا اب بھی بچوں کی طرح ضد کر رہے ہے ایک دن ہی کی تو بات ہے۔۔۔
پریشا خفگی سے بولی۔۔۔
یار میں تمھارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں مجھے نہیں جانا۔۔۔
شہریار اداسی سے بولا۔۔۔
پریشا کو اسکی بات پر غصہ بھی آرہا تھا اور پیار بھی۔۔۔ وہ خود اب اس سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔
افف شیرو پلیز ضد نا کریں چلیں۔۔۔
پریشا نے اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ڈالا تو شہریار نے مضبوطی سے پکڑ کر اسکو اپنے پاس کھینچا۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا نے اور اپنی ہی الگ دنیا میں کھو گئے۔۔۔۔
شیری شیری۔۔۔۔۔ اذان چلاتا ہوئا اندر ایا۔۔۔۔
سامنے شہریار اور پریشا کو دیکھ کر زور سے چلایا۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔
شہریار اور پریشا ہوش میں آگئے شہریار پریشا سے جلدی سے الگ ہوگیا۔۔ اور پریشا دوسری طرف منہ کر کے شرم سے مرنے لگی۔۔۔
Sorry Guyss…
لگتا ہے غلط وقت پر اگیا۔۔۔ میں جا رہا ہوں کنٹینیو رکھو تم لوگو۔۔۔
اذان شرارت سے کہہ کر نکالنے لگا۔۔۔
پریشا بھاگ کر باہر چلی گئی۔۔۔
تو اذان شہریار کے پاس آکر بولا۔۔۔۔۔
اوہو تو جناب رومینس کر رہے تھے۔۔۔
بغیرت آدمی اگر کیسی کو پتا چلا نا تو ایسا مارو گا پوری زندگی تڑپے گا۔۔۔
شہریار نے چبا چبا کر کہا۔۔ کیونکہ اذان کے چہرے پر وہ شیطانی مسکراہٹ دیکھ چکا۔۔ اور اب اذان کو اسکا سیکریٹ پتا چل گیا ہے تو اتنی آسانی سے اذان چپ نہیں رہے والا تھا۔۔۔
ارے بھائی فکر ناٹ۔۔۔۔ یے بات تیرے میرے درمیان رہے گی۔۔۔
اذان اسکو تسلی دیتے ہوئے بولا۔۔۔
پکا۔۔۔ شہریار نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔۔۔ اسکو اذان پر تھوڑا بھی بھروسا نہیں تھا۔۔۔
اذان تھوڑا دور بھاگنے کر بولا ایسے کیسے بچو۔۔۔۔ ؟؟؟
ابھی تو تیرا راض ہاتھ آیا ہے۔۔۔۔ وہ زور سے قہقہ لگا کر بھاگ گیا۔۔۔
شہریار نے بھی تیزی پکڑی اسکو پکڑنے کے لیے۔۔۔
اسی لیے کہتے ہے ہر ایک دوست کمینا ہوتا ہے۔۔۔ 😂
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
پریشا وانیزا والوں کے ساتھ کے ساتھ گھر تو آگئی تھی پر اسکا پورا دیھان شہریار کی طرف تھا۔۔۔
وہ کب سے اسکو کال پر کال کر رہی تھی۔۔۔ پر شہریار نے ایک بھی کال نہیں اٹھائی وہ پریشان ہوگئی کے کہی ناراص نا ہوگیا ہو۔۔۔
رات کے چار بج رہے تھے۔۔ سب لڑکیاں جاگ رہی تھی۔۔ اور آپس میں گپے لگا رہی تھی۔۔۔
پریشا نے سوچا ایک آخری بار کر کے دیکھتی ہوں شاید سو گئے ہو۔۔۔
اس نے کال ملائی تو شہریار کی آواز سن کر اسکی جان میں جان آئی۔۔۔
کہاں تھے آپ کب سے کال لگا رہی تھی سب ٹھیک ہے نا۔۔
وہ پریشانی سے بولی۔۔۔
بولو کیا کام ہے۔۔۔ ۔
شہریار لاپرواہی سے کہا۔۔۔
یہ آپ کہاں سے بول رہے ہے۔۔۔
پریشا کو شہریار کے پیچھے سے شور کی آواز ائی۔۔۔
ہم سب دوست باہر گھومنے نکلے ہے۔۔۔۔ کار ریسنگ کرنے۔۔
بھابھی میں نے شہریار کو کہا تھا آپکو بھی لے آئے اسی نے ہی منع کر دیا۔۔۔ اذان نے شہریار کے پیچھے سے زور آواز میں کہا۔۔۔
ہاں ہاں پریشا اذان صحیح بول رہا یے۔۔ جنید بھی چلایا۔۔۔
حرام خوریون سے باز نا انا۔۔۔
شہریار نے افسوس سے دونوں کو کہا۔۔۔
تو سب نے قہقہ لگایا۔۔۔
اور وہ تھوڑا دور جاکر بات کرنے لگا۔۔۔
اب بولو۔۔۔ شہریار نے آہستہ سے کہا۔۔۔
پریشا بولنے لگی تو شہریار نے اسکو بیچھ میں کاٹ کر کہا۔۔۔
سنو اگر روایتی بیویوں کی طرح ناراض یا لڑنے لگی ہو تو میں پہلے ہی فون بند کر دیتا ہون۔۔۔ میں اس وقت اپنا موڈ خراب کر کے دوستوں کے ساتھ نہیں بیٹھو گا۔۔۔ ورنہ ساری زندگی یہی تعنے دے گے۔۔۔ بیوی سے ڈانٹ کھا کر آیا ہے۔۔۔
توبہ ہے بے شرمی کی میں کیوں ناراض ہونے لگی یا لڑنے لگی۔۔۔۔
پریشا تپ کر بولی۔۔۔
اچھا ناراض نا ہو فون کیوں کیا تھا وہ بتاو۔۔۔
شہریار نے نرمی سے کہا۔۔۔
اس بات کو چھوڑے پہلے یے بتائے۔۔۔ میرے سامنے کتنی ڈرامے بازی کر رہے تھے میں نہیں جاونگا یے وہ۔۔ اور اسی وقت اپنے دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے پر نکال گئے ہے ۔۔۔ توبہ اللہ جی توبہ۔۔۔ اتنا جھوٹ۔۔۔۔
پریشا کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔
شہریار نے ہلکا قہقہ لگا کر کہا۔۔۔ یار سچ مین وہ ڈرامہ نہیں۔۔ یے تو ابھی ہم سب بور ہو رہے تھے اسی لیے نکل پڑہے اور آج میکال کی آزادی کا آخری دن ہے اسی لیے اس بیچارے کو بھرپور مزے کروانے آئے ہے۔۔
اچھا اچھا میں مذاق کر ہی تھی آپکو وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ مزے کرے۔۔۔ بائے ۔۔۔ لو یو۔۔۔
پریشا پیار سے بولی۔۔۔
لو یو ٹو۔۔ شہریار نے بھی پیار کہا اور فون بند کرنے لگا۔۔۔
سنے سنے پریشا چلائی۔۔۔
ہاں بولو۔۔ شہریار نے دوبارا فون کان پر رکھ کر کہا۔۔۔
۔۔۔ پلیز اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔ بائے۔۔ پریشا کے کہنے پر وہ مسکرایا اور کہا۔۔ ہمم تم بھی۔۔ بائے۔۔۔
شہریار جیسے ہی پیچھے مڑا۔۔۔
اذان نعمان اور جنید کھڑے تھے۔۔۔
اسکی آنکھیں نکل ائی۔۔
لو یو ٹو۔۔۔ اذان ہنسی دبا کر بولا۔۔۔
پلیز اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔ ہممم تم بھی۔۔۔
جنید اور نعمان نے پریشا اور شہریار کی ایکٹنگ کر کے کہا۔۔۔
You b…
شہریار کہتے ہوئے رک گیا اور انکے پیچھے بھاگا۔۔۔
وہ تینوں آگے اگے۔۔۔
سب انکی طرف دیکھ رہے تھے پر ان تینوں کو کائی فکر نہیں تھی کے اگر شہریار کے ہاتھ لگ گئے اور اس نے اسا مارنا ہے کے سارا لوگون نے ان پر ہنسنا ہے۔۔۔۔۔
لو یو ٹو۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ اذان اسکو چڑھنے سے باز نہیں ارہا تھا اور نعمان اور جنید بھی اسی کا ساتھ دے رہے تھے۔۔۔
خیال رکھیے گا ۔۔۔ تم بھی۔۔۔
وہ سب ان دونوں کی باتیں بار بار دورہ رہے تھے۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
صبح سے نعمان اور جنید فارس کے گھر چلے گئے تھے کیونکہ وانیزا کا کوئی بھائی نا تھا تو نعمان, جنید اور فارس نے سارے بھائیوں والے فرض ادا کیے تھے۔۔۔ سارا دن کام کرنے کے بعد وہ واپس میکال کے گھر آگئے تھے تیار ہونے۔۔۔ تیار ہونے کے بعد پھر انکو فارس کے گھر جانا تھا دولہن والوں کے پاس۔۔۔۔۔۔
میکال کا کمرا حفصہ اور سوہا دوپہر میں سجا گئی تھی۔۔۔
اسی لیے ان سارے لڑکوں کے گندے کپڑے اور سامان دوسرے کمرے میں پھنک دیے تھے جیسے کوئی کباڑ تھا۔۔۔
شہریار بھی اپنے کپڑے اور باقی کام کا سامان رات کو ہی لیکر میکال کے گھر میں شفٹ ہوگیا تھا۔۔۔
رات کے سات بجے رہے تھے۔۔۔ شہریار اور اذان کمرے میں الٹے منہ سوئے ہوئے تھے۔۔۔
نعمان اور جنید دیکھ کر تپ گئے کے ہم سارا دن محنت مزدوری کر کے آئے اور یے دونوں ابھی بھی مزے سے سو رہے ہے۔۔
دونوں نے مل کر زور زور سے اپنی بے سروی آواز میں گانے گئے۔۔
پر مجال ہے شہریار اور اذان دونوں میں سے کیسی نے تھوڑا بھی ردعمل دیکھایا ہو۔۔۔
وہ دونوں شکی ہوگئے پھر انھوں نے آلارم کی گھنٹی بجا کر انکے کان کے سامنے رکھ دی۔۔
اور دونوں ہنسی دبانے لگے۔۔۔
اذان نے دیر ہی نا لگائے اور موبائل کو زور سے زمین پر پٹکھ دیا۔۔۔
نعمان کے ہوش خطا ہوگئے کتنی مشکلوں سے اسنے اتنا مہنگا موبائل لیا تھا۔۔ اور اذان نے ایک سیکنڈ بھی نا لگایا۔۔ اسکا کچومر بنانے میں۔۔۔ وہ صدمے سے اپنی موبائل اٹھانے لگا۔۔
جنید کا قہقہ بلند ہوئا۔۔۔
مرجا منحوس۔۔۔ تیری بد دعا لگی۔۔۔ نعمان جنید کو انگلی دیکھا کر بولا۔۔۔۔
ابہے یے تیرے شو آف کا نتیجہ ہے کہتا بھی تھا میں تمیں مجھے نا جلایا کر۔۔ مجھ غریب کی اہ لگے گی پر نا جی تیرے تو ٹشن ہی ختم نہیں ہوتے تھے۔۔۔
جنید کہہ کر جانے لگا۔۔۔
چپ کر جا کالی زبان والے تیرے منہ کالا۔۔۔۔۔
نعمان اپنی موبائل کو دل سے لگا کر بولا۔۔۔
جنید نے اسکی طرف اشارہ کے زور سے قہقہ لگایا اسکی آنکھیں بھی بند تھی۔۔۔
نعمان نے سامنے پڑا ٹکیا اٹھا کر اسکے منہ پر مارا۔۔۔
ابہے تیری تو۔۔۔ تو نے مجھے مارا ۔ یے لے۔۔
جنید نے تپ کر نعمان کو وہی تکیا اٹھا کر مارا پر نشانا چوک گیا۔۔۔
نعمان زور زور ہنسنے لگا بچ گیا بچ گیا۔۔۔ ارے ارے تیرا نشانا چوک گیا۔۔۔
جنید اسکے چڑھانے پر اور تپ گیا۔۔۔ وہ دونوں تکیوں سے ایک دوسرے کو مارنے لگا اور نشانہ لگانے پر یا چھوٹ جانے پر خوشی بھی مناتے بھنگڑے ڈال کر۔۔۔
اذان ان دونوں کے شور سے اٹھ گیا۔۔۔ جیسے ہی اس نے دیکھا جھنگ لگی ہے اٹھ کر میدان میں کود پڑا۔۔۔
کس کو مارنا ہے اس نے یہ نہیں پوچھا بس دونوں پر دہڑا دہڑ تکیوں کی برسات کردی۔۔۔
لڑتے لڑتے جب اسکو تکیے نہیں ملے تو اس نے شہریار کا تکیا کھینچ کر پھر سے جھنگ شروع کردی۔۔۔
شہریار جھٹکا کھا کر اٹھا تو سامنے میدانے جنگ دیکھ کر چلایا۔۔۔
کیا ہوا بھائی لوگون۔۔۔۔
اس اذان نے میرا موبائل زمین کر پٹکھ دیا۔۔ میرا اتنا قیمتی موبائل تھا۔۔۔ کتنی مشکلوں سے لیا تھا۔۔ نعمان رونے والی آواز میں بولا۔۔۔
شہریار کو یہی سنے کی دیر تھی۔۔ وہ بیڈ پر آٹھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
اس شیطان کو سات کنکریاں مارو۔۔۔ یہ ہے ہی فسادی آدمی ختم کرو اسکو۔۔۔
شہریار بیڈ سے اٹھ کر اس پر تکیے مارنے لگا۔۔۔
تینوں نے مل کر اذان کی بولتی ہی بند کر دی تھی۔۔۔
کب اسکو چھوڑ کر وہ چاروں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے پتا ہی نا چلا۔۔۔ کسی کا نشانا لگ جاتا تو باقی سب اسکو دات دیتے۔۔۔
دروازہ کھولا تو میکال اندر اکے کیا دیکھتا۔۔۔ وہ چاروں بچوں کی طرح لڑ رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔۔۔
وہ چلا چلا کر بولا میری شادی ہے کچھ تو رحم کھا لو۔۔۔ جلدی تیار ہوجاو تاکے وقت پر بارات لے جائے۔۔
پر وہ اسکو ہاں کہہ کر ٹال دیتے۔۔۔
ارے جلدی کرو۔۔۔ تائم ہوگیا ہے جانے کا۔۔۔۔
وہ چلا چلا کر تھک گیا۔۔۔
جب وہ نعمان کی طرف منہ کرنے لگا۔۔۔ ٹھا کر کے نعمان کا نشانا اسکے منہ میں لگا۔۔ وہ غصے سے آگ بھگولا ہوگیا۔۔۔
باقی تینوں لڑکے اس پر ہنسنے لگے تو وہ اور تپ گیا۔۔۔
میکی تجھے تکیا مارا۔۔۔ مار دے اس بےغیرت گلیز آدمی کو۔۔۔
اذان نے نعمان کی طرف تیلی پھنک دی تھی۔۔ اور میکال کی آگ اس پر برس پرہی۔۔۔
میکال نے نعمان کے بال کھنچ کھینچ کر اسکو گھوسے مارے۔۔۔
اذان تجھے اللہ پوچھے اللہ کرے تیری شادی نا ہو ناپاک انسان۔۔۔
نعمان مار کھاتے کھاتے ہوئے بولا۔۔۔
میکی اور مار اس کو۔۔۔ مجھے بددعا دے رہا۔۔۔
اذان نے میکال کو اڈر دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میکال اذان پر تپک پڑا۔۔۔ مجھے پتا ہے ساری اگ تیری لگائی ہوگی تو نے کچھ کیا ہوگا۔۔
ایک گھوسا دوسرا گھوسا۔۔۔۔
میکال کا بس نہیں چل رہا تھا آج اسکا قتل کردیتا۔۔۔
نعمان نے بھی خوشی منائی اور جلدی سے میکال کو کہا ہاں ہاں اس کی لگائی ہوئی آگ ہے۔۔۔ اس نے میرا موبائل گرایا اور ہم دونوں کی لڑائی شروع ہوئی پھر سارا تماشا لگا۔۔۔
ہاں ہاں پتا ہے مجھے یہ ہے ہی واہییات قسم کا ادامی۔۔۔ ایک نمبر کا شیطان ہے۔۔۔ میکال اسکی گردن دبوچ کر بولا۔۔۔
میکال مار مار کر جب تھک گیا تو۔۔۔ ہاتھ جوڑ کر بولا خدا کو مانو اب جلدی تیار ہوجاو پلیز میں تیار ہوکر آتا ہو۔۔۔۔۔ وہ کہہ کر لمبی لمبی سانسے لیکر چلا گیا۔۔۔
اور وہ چار پھر سے لڑنے لگے۔۔۔
بس بس۔۔۔۔
اذان لمبی لمبی سانسے لیکر بولا۔۔۔
وہ سب بھی چپ ہوگئے۔۔۔
بھائی اپنا موبائل تو دیکھا کتنا نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے اتنی مار پرہی ہے۔۔۔ دیکھو تو صحیح جتنا نقصان کیا ہے اتنی مار کھائی ہے یا زیادہ کھا لی۔۔۔
اذان نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
موبائل تو بچ گئی تھی شکر ہے اسکو ایک اسکریچ بھی نہیں ایا۔۔۔
اور چل بھی رہی تھی۔۔۔ نعمان سادگی سے بتانے لگا۔۔۔
اذان نے اسکو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔۔۔ پِھر شہریار کو اور پھر جنید کو۔دیکھا۔۔۔۔ تینوں تپ گئے اور ساتھ اسکو مارنے کے لیے دورہے۔۔۔ پر نعمان ان سے پہلے ہی باتھ روم میں جا کر چھپ گیا۔۔۔
نکل بہے تو نے اتنا شور دلوایا۔۔۔ جب کے تیری موبائل کو کچھ ہوئا تک نہیں تھا۔۔۔
اذان چبا چبا کر بولا۔۔۔۔
یار معاف کردو غلطی ہوگئی۔۔۔ نعمان رونے والی آواز میں بولا۔۔۔
ایسے کیسے بہے۔۔۔ نکال آج تیرا فالودہ بنائے گے۔۔۔ شہریار بھی تپ کر بولا۔۔۔
بہت دیر بعد بھی جب وہ نہیں نکالا تو شہریار اور اذان نے سوچا اب ایک ہی طریقہ ہے اسکو نکالنے کا۔۔۔
نعمان یار نکال آ۔۔۔۔اذان نے پیار سے باتھ روم کے دروازہ کھٹکتا کر کہا۔۔۔
پہلے قسم کھاو کچھ نہیں کرو گے۔۔۔ نعمان ڈر کے بولا۔۔۔
نہیں بابا نہیں کرے گے اجاو دیر ہو رہی۔۔۔ اذان نے شہریار کو آنکھ ماری۔۔۔
ہاں میرے بھائی جلدی کر بارات بھی لیکر جانی ہے دیر ہوجائے گی۔۔۔ شہریار غصہ ضبط کر کے پیار سے بولا۔۔۔
پکا وعدہ کرو۔۔۔ نعمان نے پھر سے یقین چاہا۔۔۔
اذان کو ایسا غصہ ایا۔۔ ابھی کچا چبا جاتا۔۔ پر شہریار نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکو ٹھنڈا کیا۔۔۔
ہاں بھائی اجا۔۔۔ شہریار پیار سے بولا۔۔۔
اوکے۔۔ وہ دروازہ کھول کر ڈرتے ہوئے آہستہ آہستہ باہر آنے لگا۔۔
ارے ڈر مت یار۔۔۔ کوئی بات نہیں ہوتا رہتا ہے۔۔۔ شہریار نے اسکے گلے میں ہاتھ ڈال کر پیار سے کہا۔۔ تو نعمان مسکارایا۔۔۔
تینوں نے مل کر جم کے اسکی پٹائے لگئی۔۔۔
خامخا ہمارا وقت زیا کیا۔۔۔ فضول ادمی۔۔۔
اذان انکو بیچھ چھوڑ کر خود باتھ روم بھاگ گیا نہانے کے لیے پیچھے سے وہ سب چلاتے رہ گئے۔۔۔ پر کچھ کر نہیں سکے۔۔۔
ایک ایک کر کے سب ناہا دو کر تیار ہونے لگے۔۔۔
ابھی لڑنے مرنے میں لگے ہوئے تھے شیشے پر ایک دوسرے کو دھکا بوجی کرنے لگے۔۔۔
میکال اندر آیا تو وہ ان کو دیکھ کر چلایا۔۔۔ ابہے بھائیوں تم لوگ کیا کر رہے ہو جلدی جلدی کرو۔۔۔
ہو تو رہے ہے۔۔۔ مر کیوں رہا ہے۔۔۔ اذان باڈی اسپرے لگا کر بولا۔۔۔
چلو بھائی ہم تو چلئے۔۔۔
نعمان اور جنید تیار ہوکر دولہن والوں کی طرف جانے لگے۔۔
ابہے او میکال اور شہریار کے سالوں اگر ہمارا اچھا استقبال نا کیا نا تو جان لو کیا کروگا۔۔۔
اذان ان دونوں کو دھمکی دیتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ روب اپنے سالوں پر چلانا۔۔ اگر شادی ہوجائے۔۔
جنید اور نعمان کہہ کر ایسے بھاگے۔۔ جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔۔۔
اذان دانت پیستا رہ گیا اور شہریار اور میکال نے قہقہ لگا کر اسکے زخموں پر اور نمک چھڑکا۔۔۔
اچھا چلو اب جلدی کرو۔۔ میکال نے انکی مدد شروع کردی۔۔۔ دولہا وہ تھا تیار ہونے میں اسکو مدد کی ضرورت تھی پر یہاں الٹا حساب چل رہا تھا۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
بارات آگئی بارات اگئی۔۔۔ پریشا کھڑکی سے دیکھ کر چلائی۔۔۔
وانیزا شرما کے سر نیچے کر گئی باقی سب لڑکیاں پریشا کے ساتھ دیکھنے لگی۔۔۔
میکال گاڑی سے اترا تھا۔۔ اور سارے باراتی اسکے اگے آگے ناچ رہے تھے۔۔۔ ہائے کتنا مزہ آتا ہے نا بارات لیکر آنے میں بندہ خوب نچتا ہے۔۔
پریشا حسرت سے بولی۔۔
اچانک اسکی نظر شہریار پر پڑہی۔۔۔ گولڈن کرتا پجامہ میں ملبوس اسکا دولہا نچتا ہوا آرہا تھا۔۔ اتنا خوش لگ رہا تھا پریشا اسکو دیکھتی رہ گئی۔۔۔
پھر اپنی پرس سے موبائل نکال کر اسکی ویڈیو بنائی۔۔۔ اور سئو کر کے نیچے بھاگی۔۔۔
چلو لڑکیوں لڑکے والوں کا استقبال بھی تو کرنا ہے وہ شرارت سے بولی۔۔۔
تو سب لڑکیاں اسکے پیچھے پیچھے بھاگی۔۔۔۔
وہ گیٹ پر پھولون سے بھری پلیٹ لیکر کھڑی ہوگئی۔۔۔
بارات ناچ ناچ کر آگے آنے لگی۔۔
سب لڑکیوں نے ان پر خوب پھولوں کی برسات کی۔۔۔
جب دروازے سے وہ اندر آنے لگے۔۔۔۔ پریشا سامنے آکر رک گئی۔۔۔
اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔ ذرا صبر کرلے۔۔۔ پریشا میکال کو دیکھ کر بولی۔۔۔
شہریار اسکو دیکھتا رہ گیا۔۔۔ ریڈ کلر کے شرارے میں خوبصورت سا میک اپ کروا کر بالوں کو رول کروا کے ایک طرف رکھے وہ آسمان سے اتری شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔ وہ اسکو دیکھ کر مسکرایا تو پریشا نے اپنی آنکھیں شرم سے موڑ لی۔۔۔
لو جی بارات آئی نہیں بیکھاری پہلے ہی تپک پرہے۔۔۔
حفصہ تنز کر کے زور سے چلائی تو سب دولہے والوں نے زور سے ہوٹنگ شروع کردی۔۔۔
ارے یہی ثابت ہوجائے گا۔۔۔ کون بیکھاری ہے چلو جلدی سے نکالو نیک۔۔۔
سوہا نے بھی چلاا کر کہا تو سب نے ہوٹنگ کی۔۔۔
پریشا نے اپنے ہاتھ میکال کے آگے کیے۔۔
چلیں دیور جی۔۔۔
نکلے پچاس ہزار۔۔۔۔۔
وہ مسکارا کر بولی۔۔۔
بھابھی کیا ہوگیا۔۔۔ پچاس ہزار۔۔۔ اتنے پیسے؟؟
میکال حیرت سے بولا۔۔۔
ارے بس صرف پچاس ہزار چاہیے نا یے تو ہم ہر روز غریبوں میں بناٹ دیتے ہے۔۔۔
اذان فخر سے بولا۔۔۔
میکال نے اذان کے پیٹ میں کونی ماری۔۔۔
کمینے لمبی لمبی نا چھوڑ۔۔۔
سسس۔۔۔ آہستہ مارا کر ظالم۔۔۔ اذان درد سے چلا کر بولا۔۔۔
تو چلو آج بھی نکالو پچاس ہزار۔۔۔
پریشا بولی۔۔۔
پہلے یہ بتاو پچاس ہزار میں زیرو کتنے ہوتے ہے۔۔۔
اذان بات کو گھمانے لگا۔۔
ارے اب اتنا ٹائم زیا مت کرو۔۔۔ ڈر گئے کیا۔۔۔ نعمان چلا کر بولا۔۔۔
ابہے تیری تو میں۔۔ اذان اسکو ڈرانے کے لیے آگے برہا۔۔۔ شہریار نے اسکو ہاتھ دیکر روک دیا۔۔۔
اچھا چلو میکال دے دو بچیوں کو۔۔۔ میکال کی ماما نے میکال کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
اوکے ماما۔۔۔ وہ فرمانبردار سے بولا۔۔۔ اور اپنی جیب سے پیسے نکالنے لگا۔۔
ایسے کیسے کیا پیسے درخت پر اگتے ہے جو منہ اٹھا کر پچاس ہزار مانگ رہے ہو۔۔ شہریار اتنی دیر بعد بولا۔۔۔
پریشا اپنی مسکراہٹ دبانے لگی۔۔۔۔
رکھو اپنی دولہن اپنے پاس ہم جا رہے جب پیسے کی قدر آجائے تو بلا لینا آجائے گے۔۔۔ کیون بھائیوں۔۔۔ شہریار نے پیچھے باراتیوں کو آنکھ مار کر پوچھا تو وہ سب ایک اواز میں ہاں ہاں کہنے لگے۔۔۔۔۔
چلو میکال۔۔ شہریار نے میکال کا ہاتھ پکڑا اصل میں وہ اسکو تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔
کیا بول رہا ہے تو بھائی۔۔۔ میکال رونے والا ہوگیا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا مذاق تھا ایسے کیسے جائے گے اپنی دولہن کو لیے بنا۔۔۔ شہریار پریشا کو دیکھ کر بولا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں شرارت تھی۔۔۔
سب شہریار کی بات پر ہنس دیے۔۔۔
ارے پری بیٹا آنے دو بارات کو وانیزا کی ماں فکرمندی سے بولی۔۔۔
چلو بھائی راستا دو ہم جائے گے وہ سب لڑکی والوں کو دھکا دے کر جانے لگے۔۔۔ پر وہ بھی کم نہیں تھے انکو روک دیا۔۔۔
بہت دیر بھس کے بعد انکو پچاس ہزار آخر کار مل۔گئے اور دولہے والوں کو اندر جانے کی اجازت۔۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
دلہن کا نکاح پڑوا دیا تھا سب اسکو مبارک باد دے رہی تھی۔۔۔۔
اور اب دولہے کے پاس آرہے تھے۔۔۔
دیکھ میکال ابھی بھی وقت ہے بھاگ جا۔۔۔
اذان اسکے کان میں بولا۔۔۔
چپ کر بے۔۔۔ کتنی مشکلوں سے یے دن دیکھنا نصیب ہوئا ہے اور تو ہے کے۔۔۔ میکال تپ کر بولا ۔۔۔۔
شہریار نے زور سے قہقہ لگایا۔۔
ابہے دیکھ شروع شروع میں سب اچھا لگتا ہے بعد میں دیکھنا زندگی برباد ہوتی ہے۔۔ ہر چیز بیوی کے کہنے پر کرنی پڑتی ہے اس لیے سوچ لے۔۔ وہ شرارت سے اسکو چھیڑ رہا تھا۔۔ اور میکال اس پر غصہ کہا رہا تھا۔۔
نکاح ہوجانے کے بعد سب میکال کو مبارکباد دینے لگے۔۔ دولہن کو بھی اسٹیج پر بیٹھایا گیا۔۔ سب نے فوٹو گرافی کرائی اور دولہا دولہن کو وشز دینے لگے۔۔۔
پریشا جنید , نعمان اور سوہا کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
تم لوگوں کے لیے سرپرائیز ہے۔۔
وہ تینوں خوشی سے بولے کیا۔۔۔
سامنے دیکھو پریشا نے اشارہ کیا۔۔۔
ان تینوں کے منہ کھل گئے۔۔ سوہا کا شوہر اور جنید اور نعمان کی منگیتر بھی آئی تھی۔۔۔۔
تم نے انکو کب بلوایا اور اماں ابا کو کیسے منا لیا کے یہ یہاں اجائے۔۔۔۔۔ جنید نے آنکھیں پھاڑ کر خوشی سے پوچھا۔۔۔
بس دیکھ لو میں نے مناع لیا انکو اور آج صبح ہی ان سب کو بلوا لیا۔۔ پریشا جھوٹ کے کلر اچاکنے لگی۔۔
Thank you sherni…
نعمان خوشی سے بولا۔۔۔
اچھا اچھا بس بس تم لوگ بات کرو میں۔ آتی ہو۔۔۔۔۔
پریسا شہریار کے سامنے جاکر رک گئی۔۔۔ شہریار نظر بھر کے اسکو دیکھا اور بولا۔۔۔ اج میری دولہن تو سب سے خوبصورت لگ رہی۔۔۔ ۔۔۔
شہریار کہہ کر آنکھیں جھکا گیا۔۔۔
جس کے لیے تیار ہوئی ہو وہ کیوں اپنی نظریں ہٹا رہا ہے

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: