Kali – Afsana by Huma Waqas – Last Episode 2

0
کلی از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 2

–**–**–

کوٸ کیفیت تھی عجیب سی جو سر کو چڑھ رہی تھی ۔ الفاظ ہی تھے پر ذہن میں تو جیسے برہنہ فلم چل پڑی تھی ۔ہر گندی چیز اچھی سی لگنے لگی تھی نبیل یاد آنے لگا تھا ۔ اس کی محبت اس کی باتیں سچنی لگنے لگی تھیں ۔ ملنے کی جو براٸ کچھ دیر پہلے دل کو نا بابا نا کہنے پر مجبور کر رہی تھی ۔ اب ہاں ہاں کی آوازیں لگانی لگیں ۔
جلدی سے پیغام پر گٸ ۔ ہاتھ کانپ رہے تھے پر اب کپکپی کی وجہ کچھ اور ہی تھی ۔
”نبیل میں آ رہی ہوں اس مکان میں آ جانا“
پیغام لکھ کر گھٹنا بیڈ پر نچاتی اس کے جواب کی منتظر نگاہیں سکرین پر جماٸیں ۔
”جان آنکھیں بچھا کر بیٹھا ہوں “
کچھ دیر کے بعد کے جواب پر جیسے دل بلیوں اچھلنے لگا ۔ جلدی سے سیاہ حجاب زیب تن کیا اماں کو شازیہ کی طرف جا رہی ہوں کی ہانک لگاٸ ۔ اور گیٹ سے باہر نکل گٸ ۔
*********
”انتل پتی کا پیت دے دو تھوتا“
جنت نے دوکان کے کاونٹر کے سامنے اڑیاں اوپر کیے ہاتھ کاونٹر پر دھر کر دوکاندار سے کہا ۔ دوکاندار نے اخبار پر سے نظر ہٹاٸ جنت کی طرف دیکھا ۔
”بیٹا پتی تو ختم ہے میری دوکان پر “
دوکاندار نے نفی میں سر ہلاتے جواب دیا اور پھر سے اخبار کو جھٹک کر آنکھوں کے آگے سجا لیا ۔ جنت نے ہونٹ باہر نکالے ۔ اور گال پر انگلی رکھے سوچنے لگی ۔ پر پھر امی کے سر درد کے خیال سے ٹانگیں اچھال اچھال کر ہرن کے بچے کی طرح برگد کے درخت کے قریب کی دوکان کی طرف چل دی ۔ اچھلنے سے دوپٹہ بار بار گلے سے ڈھلک جاتا تو اٹھا کر پھر سے گردن کے گرد گھوما دیتی ۔
”شاہد او شاہد وہ دیکھ ننھی سی کلی “
نازلین نے گھوم کر شاہد کی توجہ ہرن کی طرح اچھلتی نظم گنگناتی جنت کی طرف دلاٸ ۔
شاہد نے ہاتھ کو ہوا میں اشارہ دیا قرآن خود بخود بند ہو گیا ۔
”نازلین انسانوں کے بچے کتنے پیارے ہوتے ہیں ہے نہ ؟ “
شاہد نے محبت سے ننھی خوبصورت بچی کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔ نازلین تو خود اس چھوٹی سی پری کو دیکھ کر کھوٸ کھوٸ سی بیٹھی تھی۔
”ہاۓ شاہد دل چاہے جا کر چوم لوں پر ڈر جاۓ گی اور اللہ کی نافرمانی بھی ہو جاۓ گی “
نازلین نے دل مسوس کر جواب دیا ۔ اور بازو دور تک لمبا کیے اس کے پاس سے گزار کر واپس لے آٸ ۔ جنت اب دوکان کے سامنے کھڑی تھی ۔کاونٹر چھوٹا تھا اس لیے ایک قدم اندر تھا ۔
”بھاٸ تاۓ کی پتی تا تھوتا پیت دے دو “
جنت نے دوکان کے اندر موباٸل سکرین پر سر گھساۓ حارث سے کہا ۔ وہ جو تحریر پڑھنے کے بعد جزبات کو قابو کۓ بیٹھا تھا اچانک یوں جنت کو دیکھ کر عجیب عجیب سے خیال ذہن پر غبار کی طرح چڑھنے لگے ۔ زینب کے معصوم مقدس چہرے کے بجاۓ اس کے ننھے سے جسم پر نظریں گڑنے لگیں ۔ تحریر میں موجود کرادروں کے رشتے کہاں یاد تھے بس ایک ہیجان سا تھا جو اب ذہن کو جکڑ چکا تھا ۔
جلدی سے کاونٹر پر ہاتھ دھرے گردن کو باہر نکالے اردگرد دیکھا اور پھر سے سیدھا ہو بیٹھا ۔
”ادھر آ پتی دوں تجھے “
آنکھیں اوپر کو چڑھنے لگی تھیں ۔ جبکہ جنت تو کاونٹر پر پڑے رنگ برنگی ٹافیوں سے بھرے ڈبے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ ننھی ننھی معصوم سی آنکھوں پورے ڈبے کا عکس تھا ۔
”پتی دلدی دے دو امی تے سر میں درد ہے “
جنت نے معصومیت سے کہا جبکہ نظریں ڈبے پر ہی جمی تھیں ۔ جیسے دیکھ کر ہی سیر ہو جاۓ گی بد نصیب ننھی سی جنت ۔
”اچھا۔۔۔۔۔۔ “
حارث کے دماغ میں امڈتے خیال کے زیر اثر وہ جلدی سے اٹھا اور پتی کا پیکٹ اٹھا کر شاپر میں ڈالا
”یہ لے بات سن ٹافی چاہیے تجھے “
حارث نے شاپر جنت کو پکڑاتے ہو اس کے ہاتھ کو پکڑ کر گھن زدہ لہجے میں پوچھا ۔ جنت نے چہکتے ہوۓ سر کو زور زور سے ہوا میں مارا
”چل ٹھیک ہے جا اپنی امی کو پتی پکڑا کر آ جا کسی کو مت بتاٶ ۔۔۔۔ دس ٹافیاں دوں گا پوری بتایا تو پتہ چل جاۓ گا مجھے کوٸ ٹافی نا دوں گا “
حارث نے آنکھیں نچاتے ہوۓ کہا ۔ جنت کی خوشی تو دیدنی تھی چہکتے ہوۓ تیز تیز شاپر کو ہلاتی بھاگ گٸ گھر کو
**********
چار قدم تھے برگد کے درخت کی طرف بڑھتے ایک انیس سالہ اور ایک پانچ سالہ چار قدم بڑھ رہے تھے ۔ پھر ایک جگہ آ کر الگ سے ہو گۓ انیس سالہ قدم برگد کے درخت کے داٸیں طرف بنے مکان میں گھسے پر پانچ سالہ قدم درخت کے سامنے دوکان کی طرف گۓ ۔
”شاہد۔۔۔۔ دیکھ وہ پھر سے آ گٸ ہے کلی کیا کرنے کو چکر لگاۓ ہی جا رہی ننھی سی جان “
نازلین نے شاہد کو ٹہوکا جو ساتھ کے مکان میں داخل ہوتی سمیرا کو دیکھ رہا تھا ۔ شاہد نے ایک نظر جنت پر ڈالی پھر افسوس سے سر جھکا دیا
”نازلین ایک لڑکی گٸ ہے اس ویران سے مکان میں “
شاہد نے نازلین کی توجہ دلاٸ نازلین نے گردن کو لمبا کیا دیوار سے سر کو گھسایا اور پھر گردن کو واپس کیے خوف سے پھیلی آنکھیں لیے آٸ ۔
”شاہد لڑکا ہے ایک اس کے سینے سے لگی کھڑی ہے کم بخت “
نازلین کی آواز میں دکھ تھا ۔ دوکان کا شٹر زور سے اندر سے بند ہوا نازلین نے جھٹکا کھا کر اس طرف دیکھا ۔
”شاہد ۔۔۔۔ شاہد۔۔۔۔۔ کلی اندر ہے چھوٹے والی کلی وہ دوکان کے اندر وہ دوکاندار ۔۔۔۔۔“
نازلین کا سانس اٹک گیا تیزی سے اڑ کر گٸ شٹر میں گھسی پھر پھٹی آنکھوں سے واپس آٸ ۔
”شاہد ابلیس اس دوکاندار کے سر پر بیٹھا ہے ۔ ہنس رہا ہے لگاتار ہنس رہا گردن اکڑی ہوٸ ہے کلی کا منہ اس کے ہی دوپٹے سے باندھ رکھا ہے “
نازلین کی آواز کانپ رہی تھی ۔ پر شاہد کی حالت اس سے بھی پریشان حال تھی ۔
”نازلین ادھر والی کلی کے سینے پر بیٹھا ہے ابلیس قہقے لگا رہا ہے اینٹوں پر دھرے حجاب پر کچھ رنگین کپڑے بھی پڑے ہیں “
شاہد کا سر جھک گیا ۔ پر نازلین تڑپ کر مکان کی طرف بڑھی ۔ پھر اسی تیزی سے ہواٸیاں اڑاۓ چہرہ لیے آٸ ۔
”شاہد بچا لے نہ دونوں کو شاہد بچا لے خدا کا واسطہ ۔۔۔ “
نازلین زارو قطار رونے لگی کبھی اڑ کر دوکان کے بند شٹر میں گھس جاتی اور کبھی مکان میں شاہد کا بھی یہی حال تھا ۔
”شاہد مسل رہا کلی کو وہ ننھی بلک رہی ہے شاہد ابلیس قہقے لگا رہا ہے میں کیا کروں پاس جانے لگی تو دھاڑ پڑا مجھ پر جا یہاں سے جا اس وقت کوٸ نہیں بچا سکتا جنت کو “
نازلین نے خوف سے تھر تھر کانپتے ہوۓ کہا ۔ پھر شاہد پر غور کیا تو وہ تو آخری سانسیں لے رہا تھا سینے پر وار تھا سیدھا ابلیس کا ۔
”شاہد ۔۔۔۔۔ یہ کیا ہوا “
نازلین کی ہولناک چیخ ابھری ۔
”گیا تھا مکان میں بچانے بڑی کلی کو وہاں دو ابلیس ہیں لڑنے لگا تو وار کر دیا بولے جا تیرا کیا کام خود کیا ہے دونوں نے بربادی کا سامان“
شاہد نے بمشکل الفاظ ادا کیے پھر آنکھیں موند لیں اور روشنی اوپر کو اٹھنے لگی ۔
”شاہد !!!!!!!!!!!“
فلک شگاف چیخ ابھری پھر نازلین آنکھوں آگ لیے دوکان کے شٹر میں گھسی پر کسی نے اتنی زور سے باہر پٹخا کہ برگد کے درخت میں آ کر ایسی لگی وہیں ڈھیر ہو گٸ ۔
بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا انیس سالہ قدم ڈگمگاتے سے برگد کے درخت سے دور جا رہے تھے ۔ پر یہ کیا بڑی کلی رو رہی تھی دھوکا دھوکا ۔۔۔۔۔ جسم سے پیار تھا بس
پھر کسی لڑکے کے قدم تھے وہ بھی جا چکا تھا ۔ نازلین کی آخری سانسیں تھیں بس ۔
دھندلہ سا نظر آ رہا تھا دوکاندار برگد کے درخت کے نیچے قبر کود کھود رہا تھا ننھی سی قبر اپنی جنت کی قبر ۔۔۔۔۔
ابلیس کے قہقے چاروں اوڑھ سے گونج رہے تھے ۔
ختم شد

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: