Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 1

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 1

–**–**–

میں آپ کو بتا دوں جن بھوت والی کہانی ہے جو ڈرپوک ہیں نہ پڑھیں بے شک یہ میری راۓ ہے لکھائی نے تو اچھا ہی لکھا ہے

وہ ایک بہت ہی انجان جگہ پہ کھڑی تھی جدھر ہر طرف اندھیرا تھا کوئ روشنی نہیں ۔۔وہ خوف زدہ ہوکر چلانے لگی مگر اس کی آ واز مشکل سے نکل پائ۔۔اس اندھیری جگہ سے نکلنے کے لیے اس نے قدم اٹھایا تو وہ لڑکھڑا گئی ۔۔۔اسے اسی وقت محسوس ہوا جیسے کوئ چیز اس کے جسم کے اندرونی حصوں کو کاٹ رہی ہے اسے درد ہونے لگا درد کی شدت بڑھنے لگی تو وہ رونے لگی اسے اپنی ماں کو آ واز دی لیکن کوئ نہ آیا ۔۔۔۔
اچانک ہی آ یک سایہ اس کے بالکل سامنے آ یا اور اس کے بازو کو پکڑا اسے ایسا لگا جیسے آگ کا انگارہ اس کے بازو پہ ہو اس نے اس سائے کو غور سے دیکھنا چا کہ اچانک ہی اس ایک آ واز آ ئ ۔۔۔۔۔
کنول بیٹا اٹھو نماز پڑھ لو
کنول بیٹا ا ٹھ جاؤ نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔۔
کنول نے آ نکھیں کھولیں تو اس کی امی پیار سے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں ۔۔۔۔۔
کنول نے مسکرا کر اپنی امی کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم امی ۔۔۔
اس بات پہ انہوں نے کہا ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔
چلو اٹھو نماز پڑھ لو پھر پڑھنا بھی ہے تم نے ۔۔۔۔
کنول اس بات پہ اٹھی اور وضو کر کے نماز پڑھنے لگی ۔نماز پڑھ کر خواب کے بارے میں سوچا ۔کہ شاہد شیطان خواب تھا۔۔۔۔
کنول 18 سال کی Bsc کی طالبِ علم ہے۔۔۔۔
کنول کے والد ریاض صاحب جن کا اپنا کپڑوں کا کاروبار ہے۔ ریاض صاحب بہت ہی سخت اور انا پرست انسان ہیں اپنے آ پ کو سب سے اونچا دیکھنا اور دوسروں کو کم تر سمجھنا ان کی عادت ہے ۔۔۔
ریاض صاحب کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں ۔۔۔۔
کنول کی والدہ صنم جو کہ اتنہائ نرم مزاج خاتون ہیں سب کی عزت کرنا اور اچھا سلوک کرنا ان کی عادت ہے ۔۔۔۔۔
کنول کی والدہ صنم صاحبہ کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔۔۔۔۔
کنول کے دو بھائی ہیں ایک اس سے بڑا شہر یار اور دوسرا اس سے چھوٹا احمد
کنول بچپن سے ہی شریر اور معصوم سے تھی خوابوں کی دنیا میں رہنے والی اپنے بھائی کی لاڈلی ۔۔۔
اس کا چھوٹا بھائی احمد جس کے ساتھ اس کی بہت بنتی تھی اس کو تنگ کرنا اور چھیڑنا اس کی عادت تھی ۔۔۔۔۔۔
کنول کا شروع سے ہی دین کی طرف لگاؤ تھا وہ ہر بات کے ہر پہلو کو سمجھتی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نماز پڑھ کے کالج کا کام دوہرانے بیٹھ گئ ۔۔
کام دوہرانے کے بعد اس نے آ ٹا گوندھ دیا ۔۔۔۔
تب وہ اپنے کالج کی تیاری کرنے لگی ۔۔
فوزیہ بیگم نے ناشتہ بنا کر کنول کو بلایا ۔۔۔۔
کنول بچے آ جاؤ کھانا کھا لو ۔۔۔۔
کنول اپنا بیگ اٹھا کر کھانے کی میز پر آ ئ۔۔۔
۔۔۔۔
کنول سے پہلے ہی میز پر اس کا بھائی شہریار اور اس کے بابا بیٹھے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نے انہیں سلام کیا اور کھانا کھانے بیٹھی ۔۔۔
کھانا کھاتے ہوئے کنول نے اپنے والد کو دیکھا اور انہیں کہنے لگی ۔۔۔۔
بابا وہ مجھے رجسٹر یشن فیس چائیے تھی ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے اس بات پہ اسے گھورا اور کہا ۔۔۔۔
ہو گئ شروع تم کبھی نہ خود کمانا ۔۔جب دیکھو پیسہ پیسہ کرتی رہتی ہو
کبھی اس چیز کے پیسے چاہیے کبھی اس چیز کے ۔نہیں دوں گا اب ایک روپیہ بھی اور ہاں کان کھول کے سن لو یہ جو میں نے خرچ کیا ہے نہ تم پہ سارا اب تک یہ مجھے واپس کما
کے دینا ۔۔۔۔۔
کنول اپنے باپ کی یہ بات سن کر چپ ہوگئ ۔۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس کی آ نکھوں میں آ نسو آ گئے ۔۔۔۔
شہریار نے یہ سنا اور کنول کو دیکھا تو اس نے اپنے باپ کو کہا ۔۔۔۔
بابا کیا ہو گیا ہے ؟کیوں ایسی باتیں کر رہیں ہیں بیٹی ہے آ پ کی اور اسنے آ پ کو ایک مہینہ پہلے تو بتایا تھا فیس کا ۔۔۔۔۔
ریاض صاحب نے شہریار کی بات سن کر غصے سے کہا ۔۔۔۔
تم اب اس کی حمایت میں لگ جانا بس ۔جب دیکھو اسکی حمایت کرتے ہو۔۔۔۔
کنول نے یہ سنا تو وہ آ نسو صاف کر کے بولی ۔۔۔۔
بھائ میری غلطی ہے ۔۔میں نے بابا کو جلدی نہیں بتایا ۔۔۔
اس بات پہ ریاض صاحب نے کہا ۔۔۔
اب تم بول لو ۔۔۔۔
شہریار نے اس بات پہ کہا ۔۔۔
بابا کوئ نہیں میں فیس دے دوں گا آ پ آ رام سے کھانا کھائیں ۔۔۔۔
۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سب کے بعد کنول سے کچھ کھایا ہی نہ گیا وہ تھوڑا سا کھا کے اٹھی اور برقعہ پہننے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم صاحبہ اپنی بیٹی کے پاس کمرے میں گئیں تو دیکھا کنول اپنے آ نسو صاف کر رہی تھی ۔۔۔۔
انہوں نے کنول کو پیار کیا اور کہا ۔۔۔۔
میرا بچہ بہت بختوں والا ہے اور کنول تم دل پہ نہ کو ان باتوں کو ۔۔۔۔
کنول نے اس بات پہ صنم کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے امی ۔۔۔
تب ہی شہر یار نے کنول کو آ واز دی ۔۔۔
کنول آ جاؤ کالج چھوڑ دوں ۔۔۔۔۔
تب ہی کنول نقاب سیٹ کرتی باہر آ ئ ۔۔۔۔
شہریار نے اس کے بیٹھتے ہی بائیک چلا دی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو ایسے خاموش دیکھا تو شہریار بولا ۔۔۔
کنول پھر اداس ہو گئ ۔۔۔
کنول نے کوئ جواب نہ دیا صرف ہمممممم کہا۔۔۔۔
تب ہی شہریار بولا ۔۔۔
کنول کتنی دفعہ کہا ہے کہ کوئ بھی بات ہو مجھ سے کی کرو کیوں تم بابا سے کرتی ہو۔۔ جانتی تو ہو بابا کی عادت ۔۔۔۔
تب ہی کنول نے کہا ۔۔۔۔
بھائ میں نے تو ایسے ہی بات کی تھی مجھے کیا پتہ تھا بابا ایسے کہہ دیں گے ۔۔۔۔
تب ہی شہریار نے کہا ۔۔۔۔
اچھا میری گڑیا موڈ ٹھیک کرو اور بتاؤ فیس کب تک جمع کروانی ہے میں اسی دن کروا دوں گا ۔۔۔۔۔
تب ہی کنول نے کہا ۔۔۔۔
بھائ چار ہزار جمع کرانے ہیں پرسوں تک ۔۔۔۔
اس بات پہ شہریار نے کہا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں آ ج ہی آ کر آ فیس میں جمع کرا دوں گا ۔۔۔۔۔۔
اس بات پہ کنول مسکرائے اور کہا ۔۔۔
تھینکس بھائ ۔۔۔۔
تب ہی شہریار نے کہا ۔۔۔۔
کوئ بات نہیں میری گڑیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالج کے گیٹ پہ شہریار کنول کو چھوڑتا چلا گیا۔۔۔
کنول کالج اندر آ تے ہی کلاس کی طرف جانے لگی جلدی جلدی ۔۔۔۔
تب ہی اسے کیسی نے آ واز دی ۔۔۔۔
کنول نے روک کر پیچھے دیکھا تو شمائلہ کھڑی تھی ۔۔۔
شمائلہ اسے دیکھ کر ہنسی اور کہا ۔۔۔۔
کیا یار کنول کدھر رہے گئ تھی ۔۔۔۔۔
کنول نے اس بات پہ شمائلہ کو کہا ۔۔۔
ارے کچھ نہیں بس وہ ایسے ہی تم بتاؤ کلاس نہیں لینی کیا ۔۔۔۔
شمائلہ نے اس بات پہ کہا ۔۔۔۔
یار میں تہمارا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔چلو آ جاؤ چلتے ہیں کلاس میں۔۔۔۔
کنول نے یہ بات سنی تو شمائلہ کے ساتھ کلاس میں چلی گئ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمائلہ واحد دوست تھی کنول کی ۔۔جس کے ساتھ کنول اپنی کچھ باتیں شئیر کرتی ۔۔۔
ریاض صاحب نے کنول کو کیسی کے ساتھ دوستی نہیں رکھنے دی تھی ۔۔۔
کنول نے شمائلہ کے ساتھ دوسری کالج تک ہی محدود رکھی ہوئ تھی اس نے گھر میں صرف اپنی ماں کو بتایا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکچر سے فری ہوکر شمائلہ اور کنول گروانڈ میں آ کر بیٹھے ۔۔۔۔۔
کنول نوٹس کھول کے دیکھنے لگی ۔۔۔
تب ہی شمائلہ نے کہا ۔۔
یار کنول میں سوچ رہی ہوں کیوں نہ آ ج میں کوئ horror فلم دیکھ لوں گھر جس کے ۔۔۔۔
اس بات پہ کنول نے سے حیران ہوکر دیکھا ۔۔۔
___
کنول نے حیران ہوکر دیکھا اور کہا….
خیریت ہے تم فلم دیکھو گی اور وہ بھی ہورر کیوں اپنی امی کو پریشان کرنا ہے
کنول کی اس بات پہ شمائلہ نے گھورا اور کہا ۔۔۔
کیا مطلب اس بات کا ؟اور میں نے کیسے پریشان کرنا ہے اپنی امی کو ؟بتانا ذرا ۔۔۔۔
اس بات پہ کنول نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
شمائلہ تم نے کوئ horrorفلم دیکھی تو تم نے رات کو ڈر جانا ہے جیسے کی تہماری عادت ہے ۔۔۔۔
اس بات پہ شمائلہ نے کہا ۔۔۔
کنول پلیز نا تم مجھے اتنا ڈر پوک سمجھتی ہو ۔۔۔۔میں نہیں ڈروں گی دیکھ
لینا ۔۔۔۔
اس بات پہ کنول نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اچھا تو یہ بات ہے ۔وہ دیکھو پیچھے تہمارے کون ہے؟
اس بات پہ شمائلہ نے گھبرا کر کہا۔۔۔
کنول تم نا مجھے ڈرو مت ۔۔۔تم نا بہت تیز
ہو ۔۔۔۔۔
اس بات پہ کنول ہنسنے لگی ۔۔۔
شمائلہ اسے گھور کے دیکھنے ک
لگی۔۔۔۔۔۔
تب کنول کو ا یک کالا سایہ دیکھائ دیا جو کہ بہت تیزی سے ہوا کے جھونکے کی طرح شمائلہ کے پیچھے سے لیکن دور سے گزرا ۔۔۔۔
کنول نے یہ دیکھا تو وہیں گھبرا گئ اس کی ہنسی کو بریک لگ گئ ۔۔۔۔۔
اس نے فوراً ہی شمائلہ کو کہا ۔۔۔۔۔
شمائلہ اٹھو چلیں ادھر سے لائبریری چلتے ہیں ۔۔۔۔
شمائلہ نے کنول کی گھبراہٹ دیکھی تو کہا ۔۔۔۔
کیا ہوا کنول تم ٹھیک ہو ؟
تب ہی کنول نے کہا ۔۔۔۔
ہممممم۔لیکن چلو ابھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمائلہ اٹھی اور کنول کے ساتھ لائبریری آ گئ۔۔۔
لائبریری آ کر کنول نے خود کو نارمل کیا اور بکس نکال کر کچھ پڑھنے لگی ۔۔۔۔
تب ہی شمائلہ نے پوچھا۔۔۔۔ کنول کیا ہو ا ہے ؟کچھ بتاؤ تو صحیح۔۔۔
تب ہی کنول نے کہا ۔۔۔۔
شمائلہ وہ مجھے ادھر کچھ عجیب محسوس ہو رہا تھا تو میں نے کہا اور تم پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔
شمائلہ نے اس بات پہ کہا ۔۔۔
اچھاااااا
کنول سوچنے لگی۔۔۔
آ خر کیا ہے یہ سب مجھے کیوں ایسا سب نظر آ تا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کالج سے گھر آ ئ ۔۔۔
اس نے صنم صاحبہ کو سلام کیا اور کہا ۔۔۔۔
امی آ ج نا میں نے پھر سے کچھ دیکھا ۔۔۔۔
صنم صاحبہ نے کنول کو پریشان ہو کر دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے؟
تب ہی کنول نے انہیں بتایا ۔۔۔
امی آ ج نا پھر سے میں نے کالا سایہ دیکھا ہے ۔۔۔
تب ہی صنم نے اس بات پہ اسے کہا ۔۔۔۔
کنول تم پریشان تھی اس لیے ایسا ہوا پریشانی میں اکثر ہمارے دماغ میں باتیں گھومتی ہیں تو تم ٹینشن نہ لو ۔۔۔۔۔
کنول نے اس بات پہ کہا ۔۔۔
اچھا امی شائد ایسا ہی ہوگا ۔۔۔۔
تب ہی صنم نے کہا ۔۔۔
اٹھو چلو فریش ہو جاؤ میں کھانے کو کچھ لاتی ہوں تہمارے کمرے میں ہی ۔۔۔
تب ہی کنول آٹھ کے کمرے میں گئ ۔۔۔۔۔
ہاتھ منہ دھو کر بیڈ پہ آ کر بیٹھ گئ اور سوچنے لگی ۔۔۔
یہ کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ بچپن سے ہی مجھے ایسا کیوں نظر آتا ہے ۔۔۔
اسے یاد آ نے لگا جب پہلی دفعہ اس نے ایسی چیز اپنے ماموں کے سسرال میں دیکھی تھی اور جب اس نے اپنی ماں کو بتایا تھا تو اس وقت بھی اس کی ماں نے اسے کہا تھاکہ کچھ نہیں ہے ۔
اور پھر جو میں نے خواب دیکھا امی کو بتایا تو پریشان ہوں گی ۔ شیطانی خواب ہی ہو گا اس نے سوچا ۔۔۔
کنول سوچ ہی رہی تھی تب صنم کھانا لے کے آ ئ کمرے میں ۔۔۔۔۔
کنول نے اپنے دماغ کو ان سوچوں سے جھٹکا اور کھانا کھانے لگی ۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد اس نے نماز پڑھی اور سو گئی ۔۔۔۔۔
گلہ خشک ہوا کنول کو پیاس محسوس ہوئی ۔۔۔۔
وہ اٹھی اور پانی کا جگ دیکھا تو خالی تھا ۔۔۔وہ کچن میں گئ فریج سے پانی لینے ۔۔۔۔
کچن میں داخل ہوئ تو کچن کے فریش پہ کوئ بیٹھا درد سے چیخ رہا تھا ۔۔۔۔
کنول کی طرف اس کی پشت تھی ۔۔۔۔
کنول پریشان ہو گئ اور سوچنے لگی ۔۔۔
یہ کون ہے اور امی کدھر ہیں ؟۔۔۔
کنول نے ہمت کر کے اس انسان نما وجود کے کندھے کو ہلایا اور پوچھا ۔۔۔
کون ہو آ پ اور میرے گھر میں کیا کر رہے ہو ؟
اس بات پہ وہ چیخنا بند ہوا اور کنول کی طرف مڑا ۔۔۔۔
اس نے جیسے اپنا رخ کنول کی طرف کیا ۔۔۔۔
کنول نے اس کا چہرہ دیکھا تو ڈر کے مارے اس کی چیخ نکلی اور وہ دو قدم پیچھے ہوئ ۔۔۔۔۔
اس انسان نما وجودکا چہرہ آ دھا خون میں لت پت تھا اور آ دھا چہرہ بہت ہی بھیانک طریقے سے جلا ہوا تھا آ نکھیں بالکل لال ۔آ نکھوں میں لینز ہی نہیں تھے ۔اوردانت باہر کو نکلے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ کنول کو دیکھ کر ہنسا ۔۔۔۔
کنول نے کانپتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔۔
تب ہی اس نے اپنا ہاتھ کنول کے گردن پہ رکھا ۔۔۔۔
کنول کو اپنا دم نکلتا محسوس ہوا ۔۔۔
وہ چیخی ۔۔۔
اچانک ہی کنول نے ہلکی سی چیخ کے ساتھ آ نکھ کھول لی ۔۔۔۔
کنول لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔
اس نے خود کو دیکھا تو کمرے میں تھی ۔اور سوچنے لگی ۔۔۔۔
افففففففف اللّٰہ یہ خواب تھا ۔۔۔میرے اللّٰہ یہ کیا ہے ؟رات کو وہ خواب اور اب یہ ۔۔۔
کنول نے گھڑی کی طرف دیکھا تو عصر کا وقت تھا تب ہی اس نے درود شریف پڑھ کر دعا کی ۔۔۔۔
اللّٰہ مجھے ہر بلا اور مصیبت سے دور رکھنا ۔۔۔۔
تب ہی صنم صاحبہ کمرے میں آ ئیں اور کنول کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
کنول بچے کیا ہوا ؟مجھے ایسا لگا کہ تم چیخی ہو ۔۔۔
تب ہی کنول صنم کے گلے لگی اور کہا ۔۔۔
امی مجھے بہت عجیب خواب آ رہے ہیں پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔
صنم نے اسے پیار کیا اور کہا ۔۔۔
پھر آ یت الکرسی نہیں پڑھی تم نے۔کہا تھا میں نے جب بھی سویا کرو تو آیت الکرسی پڑھ کر سویا کرو دیکھا ڈر گئ نا ۔۔چلو اٹھو اب نماز پڑھ کے آ یت الکرسی پڑھ کر خود پہ دم کرو ۔۔۔۔۔
تب ہی کنول نے کہا ۔۔۔۔
امی ہاں شاہد ایسا ہو میں ابھی نماز پڑھ کے آ یت الکرسی پڑھتی ہوں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نے اٹھ کر نماز پڑھی اور آیت الکرسی پڑھی تو اسے سکون ہوا کچھ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کتابیں اٹھا کر ٹی وی روم میں بیٹھ کے پڑھنے لگی ۔۔۔۔۔
وہ پڑھنے میں مصروف ہو گئ۔۔۔
تب ہی دبے پاؤں احمد آیا اس نے زور سے کنول کو کہا ۔۔۔۔
باووووو ۔۔۔
تب ہی کنول نے ڈر کے پیچھے دیکھا تو احمد کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
تب ہی کنول نے کہا ۔۔۔
احمد کے بچے تہمیں تو میں چھوڑوں گی نہیں روکو ذرا ۔۔۔۔
تب ہی کنول نے اپنی کتاب اٹھائ اور احمد کو مارنے ہی لگی تھی ۔۔کہ احمد کمرے سے باہر بھاگا ۔کنول اس کے پیچھے بھاگی ۔۔تب ہی احمد نے کہا ۔۔۔۔
پکڑ کے دیکھاؤ مجھے ۔۔۔
اب کنول احمد کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔
جب کنول تھک گئ تو وہ بیٹھ گئ
___
احمد اس کی حالت دیکھ کر ہنسا اور اس کے پاس آ کر بیٹھا اور بولا ۔۔۔۔
کیوں موٹی تھک گئ نا ۔۔۔
کنول نے اس بات پہ اسے گھور آ اور اس بالوں کو بکھیر کے بولی ۔۔۔
تم نے مجھے موٹی کہا ۔۔۔
تم خود کو دیکھو پہلوان ہو ۔۔۔
اس بات پہ وہ زور سے ہنسا اور کہا ۔۔۔۔
موٹی کم کھایا کرو ۔۔۔
صنم جو کے کچن میں تھیں ان دونوں کی آ واز سن کر باہر آ ئیں ان دونوں کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
تم۔دونوں بچے رہو گے بڑے نہیں ہو گے ۔۔۔
اس بات پہ دونوں ہی ہنسنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت شہریار گھر آ یا ۔اس نے آ تے ہی سلام کیا اور ادھر بیٹھ گیا جس کہ جدھر کنول اور احمد بیٹھے تھے ۔۔۔۔
شہریار نے احمد کے بال بکھرے ہوئے دیکھے اور کہا ۔۔۔۔
احمد آ ج خیریت تو ہے بالوں کا کیا حال کیا ہے ؟
تب ہی احمد نے کہا ۔۔۔
بھائ یہ جو بیٹھی ہے نا موٹی جنگلی بلی ایسی نے کیا ہے سب ۔۔۔۔
تب ہی کنول نے رونے والی شکل بنا کے کہا ۔۔
بھائ اسے نے مجھے موٹی کہا اور بلی بھی میں نہیں بولتی اس سے ۔۔۔
کنول ناراض ہو کے بیٹھی تو شہریار نے احمد کو ڈانٹا ۔۔۔
احمد بڑی ہے تم سے تھوڑا تمیز سے بات کیا کرو ۔۔۔
تب ہی صنم کمرے میں کھانا لے کر آ ئیں ۔۔۔
احمد نے اس بات پہ شہریار کو کہا ۔۔۔
اچھاااااا بھائ ۔۔۔
شہریار نے کنول کو پیار سے کہا ۔۔۔
آ جاؤ گڑیا کھانا کھا لو اور احمد تم بھی آ جاؤ ۔۔۔
دونوں ہی اس کے بلانے پر کھانا کھانے لگے اس کے ساتھ ۔۔۔
صنم ان تینوں کو دیکھ کر مسکرائیں ۔۔۔۔
شہریار نے صنم کو کہا ۔۔۔
امی آ پ بھی آ جائیں ۔۔۔
تب ہی صنم نے کہا ۔۔۔
تم سب کھاؤ میں بعد میں کھا لوں گی ۔۔۔۔
شہریار نے اچھاااااا کہا اور کچھ یاد آ نے پر کہا ۔۔۔
امی بابا کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے تیمور انکل سے خود بہ خود الجھ رہے ہیں ۔۔۔
اس بات پہ کنول اور صنم نے حیرت سے شہریار کو دیکھا اور صنم نے کہا ۔۔۔
کیا کیا ہے تہمارے بابا نے ۔۔۔
تب ہی شہریار نے کہا ۔۔۔
امی تیمور انکل والے جدھر بھی اپنی دوکان کا سمان لینے جاتے ہیں بابا ادھر جا کے کہہ دیتے ہیں میں ڈبل پےمنٹ کروں گا آ پ مجھے دے دو یہ سامان ۔اور آ ج تو بابا نے حد کر دی تیمور انکل مکان خریدنے کے لیے پراپرٹی ڈیلر سے بات کر ہے تھے ۔۔بابا نے اس ڈیلر کو کہا یہ تو پیسے نہیں دیں گے میں تہمیں ابھی دوں گا یہ دیکھو چیک ۔۔۔
اس بات پہ صنم نے پریشان ہو کر کہا ۔۔۔۔
اللّٰہ کیا کر رہا یہ آ دمی جانتا ہے کہ وہ کیسے لوگ ہیں پھر بھی ان سے الجھنے سے باز نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آستانے میں داخل ہوا ۔۔۔
ہر طرف سے اگر بتیاں جل رہیں تھیں ۔۔۔۔
وہ اندر کمرے میں داخل ہوا اس نے تخت پہ بیٹھے سخص کو سلام کیا ۔۔۔
اس سخص نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
آ ج یاد کیسے آ گئ میری ۔۔۔
اس آ دمی نے کہا ۔۔۔
بابا جی آ پ تو ہر وقت یاد رہتے ہیں ۔۔۔
اس بات پہ وہ تخت پہ بیٹھا وہ شخص مسکرا یا اور بولا ۔۔۔
پھر سے تجھے تنگ کیا کیسی نے ؟
اس آ دمی نے کہا ۔۔۔
ہاں بابا جی بہت تنگ کر رہا ہے میں چاہتا ہوں ایسا کچھ ہو جائے اس کے ساتھ کہ وہ میرے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہ رہے ۔۔۔۔
اس شخص نے کہا ۔۔۔
ہو جائے گا کام تم کل لے آ نا تمام اس کی چیزیں ۔۔۔یاد ہے نا کیا کیا لانا ہے ۔۔۔۔
اس آ دمی نے کہا ۔۔۔
جی بابا جی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول اپنے کمرے میں بیٹھی خواب کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
آخر کیوں مجھے یہ خواب آ رہے ہیں ۔۔۔کیا ہونے والا ہے اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں کس سے پوچھوں ۔۔۔
کنول یہ سب سوچ رہی تھی
احمد کمرے میں آ یا اور کہا ۔۔۔
چڑیل کیا کر رہی ہو ؟
کنول نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔
جن کچھ نہیں ۔۔۔
تب ہی احمد نے کہا ۔۔۔
آ جاؤ پھر ڈراما دیکھتے ہیں ۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔
میرا بالکل دل نہیں ہے ۔۔۔
اس بات پہ احمد نے کہا ۔۔۔
دل کی بچی اٹھو ۔۔۔۔
احمد کنول کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوسرے کمرے میں لے آ یا اور ٹی وی onکر کے ڈرامے لگایا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاض صاحب گھر آ ئے ۔۔۔
کنول جو کہ باہر صحن میں بیٹھی تھی اس نے انہیں سلام کیا ۔۔۔
ریاض صاحب نے سلام کو جواب دیا ۔۔۔
کنول کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
تب ہی صنم نے انہیں کھانا لا کر دیا ۔۔۔
کھانا کھا نے کے بعد صنم نے بات شروع کی۔۔۔
وہ آ پ کا کام آ ج کل ٹھیک جا رہا ہے نا؟اپنا خیال رکھا کریں ۔۔۔
اس بات پہ ریاض صاحب نے ہمممممم کہا ۔۔۔
وہ سونے کے لیے لیٹے ۔۔۔
صنم صاحبہ برتن اٹھا کر کچن میں گئیں اور سوچنے لگیں ۔۔۔
ایک تو یہ نماز ہی نہیں پڑھتے ۔ایک اللّٰہ کی رحمت ان پر پڑتی رہے ۔۔۔
صنم صاحبہ نے ان سب باتوں کو جھٹکا اور برتن سمیٹنے لگیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اس آ دمی نے سب چیزیں لے کر اس شخص کے سامنے رکھ دیں ۔۔۔
تب ہی اس نے وہ سب چیزیں دیکھیں اور کہا ۔۔۔۔
اس کی تصویر بھی لائے ہو نا؟
وہ آ دمی بولا ۔۔۔
جی سائیں سب لایا ہوں بس
کام ہو جائے ۔۔۔۔
تب ہی وہ شخص شیطانی ہنسی ہنسا ۔اور بولا ۔۔۔
فکر نہ کر آ ج دو گھنٹے بعد ہی تجھے سب نظر آ جائے گا ۔۔۔۔
وہ آ دمی اس شخص کی بات پہ بولا ۔۔۔
ٹھیک ہے بابا جی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کالج میں کلاس روم میں بیٹھی نوٹس دیکھ رہی تھی تب ہی شمائلہ بولی ۔۔۔
یار کنول تہمیں پتہ ہے کل نا میں بھائ کے ساتھ باہر گئ تھی تو میں نے ایک آ دمی دیکھا ۔جو کہ اتنی بڑی حالت میں تھا۔۔۔۔۔
تب ہی کنول نے اسے کہا ۔۔۔
کس حالت میں دیکھا ؟
تب شمائلہ نے کہا ۔۔۔
یار وہ آ دمی اتنا میلا تھا لیکن لوگ اس سے ہاتھ دیکھا کر اس کی ایسے عزت کر رہے تھے جیسے پتہ نہیں وہ کہیں کا بادشاہ ہو ۔۔۔۔
اس بات پہ کنول نے کہا ۔۔۔۔
شمائلہ یہ تو ان لوگوں کی دین سے دوری ہوئ ۔۔قسمت کا حال لکیریں نہیں بتاتیں ۔۔تقدیر میں کیا لکھا ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے ۔۔
اس بات پہ شمائلہ نے کہا ۔۔۔
بالکل ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔
اس بات پہ کنول مسکرائ اور کہا ۔۔۔
آ جاؤ کنٹین میں چلتے ہیں ۔۔۔
دونوں ہی کینٹین میں چلے گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاض صاحب گھر آ ئیے تو انہیں چکر آ نے لگے وہ گرنے لگے تو صنم صاحبہ نے انہیں سنبھالا اور کمرے میں بیٹھایا اور کہا ۔۔۔
کیا ہوا ہے آ پ کو ؟
ریاض صاحب نے کہا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: