Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 13

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 13

–**–**–

خنزر الطاف کے پاس حاضر ہوا اس کے جسم پہ زخم کے نشان لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔
الطاف نے سے دیکھا تو بولا ۔۔۔
کیا ہوا؟یہ حالت تہماری کیسے ہوئی ۔۔۔۔
خنزر بولا ۔۔۔
سرکار میں اپنا کام کر رہا تھا لیکن پتہ نہیں کیا پڑھا ااس نے مجھے بہت زور سے جھٹکا لگا ایسا کے جیسے کیسی نے کچھ کیا ہو ۔۔۔۔
الطاف بات سن کر بولا ۔۔۔۔
کیا کہہ رہے تم میں نے تھوڑی سی نظر کیا ہٹا لی اس کام سے تو یہ ہوگیا ۔۔۔
ہمممم کرتا ہوں کچھ اور تم بیٹھو ادھر ۔۔۔۔
خنزر یہ سن کر چپ کرکے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
کنول ہوش میں آنے لگی تو اسے پیٹ میں درد شروع ہواایسا لگا جیسے اندر سے کوئ کاٹ رہا ہو پیٹ کو وہ چیخنے لگی اس کے چیخنے پر نرس اس کے پاس آئ اور پوچھنے لگی ۔۔۔۔
کیا ہوا آپ کو ؟
کنول درد سے رونے لگی اور چیخنے لگی ۔ساتھ ہی اس کے دماغ میں وہ سب آ نے لگا جیسا خنزر نے اس کے ساتھ کیا تو وہ اور زور سے چیختے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔بھائ ،امی کدھر ہیں ۔۔۔دیکھیں میں نے خود کو بچا لیا ۔۔۔امی درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
نرس کنول کی حالت دیکھ کر بھاگتی ہوئ عادی کے پاس گئ اور اس کے کیبن کا دروازہ کھول کے بولی ۔۔۔۔
ڈاکٹر عادی وہ پیشنٹ درد سے چیخ رہی ہے اور بہت رو رہی ہے ۔۔۔۔۔
عادی یہ سن کر بھاگتا ہوا واڈ میں گیا ۔۔۔۔ادھر داخل ہوتے ہی وہ کنول کے پاس گیا ۔۔۔۔کنول درد سے چیخ رہی تھی اور بیڈ پہ بالکل گھٹڑی کی طرح سیمنٹ کے لیٹی ہوئی تھی اور درد سے روتے ہوئے بولی رہی تھی ۔۔۔۔
میں نے بچا لیا میں نے گندا نہیں کرنے دیا اسے ۔۔
امی ،بھائ مجھے درد ہو رہا ہے۔عادی نے فورا نرس کو کہا ۔۔۔
جلدی سے پین کلر انجیکشن کے آئیں ۔۔۔۔
عادی نے دوسری نرس کو بلایااسے کہا کہ ۔۔اسے آ رام سے پکڑو اور سیدھا کرو ۔۔۔۔
اس نرس نے سر ہلاتے ہوئے کنول کو پکڑا اورسیدھا کیا ۔۔۔عادی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ۔۔۔
کنول کچھ نہیں ہوا ۔ہرسکون ہو جاؤ ۔۔ہم ہیں تہمارے ساتھ ۔۔
نرس انجکشن لے کے آئی تو عادی نے کنول کو انجکشن لگایا ۔۔۔۔۔۔
درد میں کمی ہوئ تو کنول نے رونا بند کیا اور آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں تب ہی عادی نے اسے دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
کنول آپ ٹھیک ہو ؟۔۔۔
کنول نے چپ کر کے اسے دیکھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔۔۔۔
عادی نے اسے کہا ۔۔۔
کنول رو نہیں طبیعت پھر خراب ہو جائے گی ۔۔۔اپ آرام کرو ۔۔۔اور ڈرنا نہیں …یہ کہتے ہی عادی باہر آیا ۔۔۔۔
اور شہریار سے کہا ۔۔۔۔
شہریار ابھی کچھ دیر میں کنول کو کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا۔ کنول کی طبیعت ٹھیک ہو جائے پھر میں بتاتا ہوں کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
شہریار عادی کی بات سن کر اس کے پاس آیا اور بولا ۔۔۔۔
عادی مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے…..
عادی سر ہلاتا شہریار کو لے کر اپنے کیبن میں آیا ۔۔۔
شہریار کرسی پہ بیٹھا اور عادی بھی ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
عادی یہ سب کیسے ہوا ؟
عادی بولا ۔۔۔۔
شہریار کنول نے اور دوائ کھائ تو اس کا معدہ جو کہ پہلے کمزور تھا اس وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو گئ اور اسی وجہ سے وہ وظیفہ نہیں پڑھ پائ اور اس جن نے اس کے ساتھ غلط کرنے کی کوشش کی لیکن آیت الکرسی کی وجہ سے وہ جن اس کے ساتھ کچھ نہیں کر سکا ۔۔۔لیکن وہ اب دماغی طور پہ بہت اپ سیٹ ہے اسے آپ سب نے ہینڈل کرنا ہے ۔۔وہ بہت ڈپریشن میں ہے ۔کچھ بھی کر سکتی ہے خود کو۔ شہریار ہمت کرنی ہو گی آپ کو ۔۔۔۔۔
شہریار یہ سن کر رونے لگا تو عادی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
شہریار ہمت کرو تم ایسے رو گے تو کنول کو کیسے ہینڈل کرو گے تہمیں اس کو ہمت دینی ہے ۔۔ہمت کرو ۔۔۔
شہریار آنسو صاف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ہممممم ٹھیک ہے…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاض صاحب گھر پہنچے تو گھر میں کوئ نہیں تھا انہوں نے غصے سے احمد کو کال کی ۔۔۔۔۔
احمد جو کہ صنم بیگم کے پاس بیٹھا تھا اس کا موبائل بجا تو اس نے موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو ریاض صاحب کی کال تھی اس نے کال اٹینڈ کی ۔۔۔تو ریاض صاحب غصے سے بولے ۔۔۔۔
کدھر ہو تم سب ؟۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
بابا کنول کی طبیعت کافی خراب ہو گئ تھی اسے ہسپتال لے کر آئے ہیں ۔۔۔۔
ریاض صاحب غصے سے بولے ۔۔۔۔
حد ہو گئ یہ لڑکی کبھی نہیں ٹھیک ہونی جب دیکھو کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے سے پتہ نہیں کب جان چھوڑ ے گی یہ ۔۔۔۔
احمد کو یہ بات سن کر غصہ آیا اور بولا ۔۔۔۔۔
بس کر دیں بابا وہ تکلیف میں ہے اور اس کی مرنے کی بات کر رہے ہیں اگر دعا نہیں کر سکتے آپ تو ایسی بات بھی نہ کریں ۔۔۔۔اس نے یہ کہہ کر موبائل بند کر دیا ۔۔۔۔
ریاض صاحب احمد کا اس طرح بولنے پر چونکے اور سوچنے لگے ۔۔۔۔
احمد کو کیا ہو گیا جو ایسے بات کر رہا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو روم میں شفٹ کیا گیا وہ نیم بے ہوش ہو کی حالت میں تھی ۔۔۔۔
احمد ،شہریار اور صنم بیگم اس کے پاس کمرے میں ہی تھیں ۔۔۔عادی اس کا چیک اپ کر کے گیا اور کہہ کر گیا۔۔۔۔
اسے تھوڑا سونے دیں اور خیال رہے کوئ ایسی بات نہیں کر نی جو اسے دماغی تکلیف دے ۔۔۔۔
کنول نیم بے ہوشی کی حالت میں ہی سو گئی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن کنول کی تائ الطاف کے پاس گئ اس کے پاس جا کے بیٹھی اور بولی ۔۔۔۔
سر کار میں تو مان گئ آپ کو وہ لڑکی بہت بری حالت میں ہے اب ۔۔۔
الطاف شیطانی ہنسی ہنسا ۔۔۔۔۔اور بولا ۔۔۔
تم دیکھتی جاؤ اس کے ساتھ اب ہوتا کیا ہے ۔۔۔
یہ بات کرتے ہی اسنے کچھ تعویذ دئیے اور کہا ۔۔۔
اس کو جلا کر اس کی راکھ کو اس لڑکی کے اردگرد گرا دینا ۔۔۔۔
کنول کی تائی نے تعویذ لے کر پیسے اس کے پاس رکھتی ۔۔۔اور گھر چلی گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نیند سے بیدار ہوئ تو اس نے اپنے اردگرد دیکھا تو صنم بیگم ،اور شہریار سو رہے تھے ۔۔۔
صنم بیگم تو اس کے پاس پڑی کرسی پہ ہی سو رہی تھیں اور شہریار صوفے پہ ۔۔۔۔
کنول نے انہیں دیکھا اور سوچنے لگی۔۔۔
میری وجہ سے سب کو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے اور اس جن نے میرے ساتھ برا کیا اور یہ درد میں کیسے برداشت کر وں گی ۔۔۔وہ سوچتے ہی رونے لگی ۔۔۔۔
شہریار کی آنکھ کھولی تو اس نے کنول کو دیکھا۔۔۔
کنول رو رہی تھی وہ اٹھ کر کنول کے پاس آیا اور بولا۔۔
گڑیا کیوں رو رہی ہو ؟۔۔۔
شہریار کے بولنے سے صنم بیگم کی آنکھ کھول گئ انہوں نے کنول کو دیکھا ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بھائ بہت تنگ کر رہی ہوں نا میں آپ سب کو ۔میں پتہ نہیں کیسے اور درد برداشت کر سکوں گی ۔۔۔۔
شہریار اور صنم بیگم اس کی بات سن کر تھوڑا پریشان ہوئے اور شہریار بولا ۔۔۔
کوئ تنگ نہیں کیا تم نے اور اب رو نہیں کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔اور احمد بھی ادھر ہی ہے گھر نہیں گیا اس نے تہمیں روتا دیکھا تو جانتی ہو نا رونے لگ جائے گا اور اسے چپ کرنا بہت مشکل ہے ۔۔۔کنول یہ سن کر چپ کر گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکڑ سمیعہ صبح ہسپتال آئیں تو نرس نے انہیں کنول کی حالت بتائ ۔۔۔وہ یہ سن کر فورا عادی کے کیبن میں گئیں ۔۔۔
دروازہ نوک کر کے اندر ئیں اور بولیں ۔۔۔۔
اسلام علیکم کیسے ہو عادی ؟۔۔
عادی نے ڈاکٹر سمیعہ کو دیکھا اور سلام کا جواب دے کر بولا ۔۔۔
ٹھیک ہوں آپی آپ بیٹھیں ۔۔۔
ڈاکڑ سمعیہ کرسی پہ بیٹھتی بولیں ۔۔۔
عادی کنول کے ساتھ کیا ہوا ہے ؟ابھی مجھے نرس نے بتایا ہے ۔۔۔
عادی نے لمبا سانس لیا اور سب بتایا جو کنول کے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ یہ سب سن کر بولیں ۔۔۔
عادی کچھ کرو جو انسان اس حد تک کروا سکتا ہے وہ اور بھی برا کر سکتا ہے ۔۔۔
عادی بات سن کر بولا ۔۔۔
آپی ابھی کنول دماغی طور پر ڈسڑب ہے بہت اسے دماغی طور پر مضبوط کرنا ہو گا پتہ نہیں وہ کیا کر بیٹھے خود کے ساتھ ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
عادی میں سمجھاؤں گی کنول کو میں اسے مضبوط کروں گی ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
تھینکس آپی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن ایسی طرح گزر گئے کنول کو اچانک سے ہی معدے میں درد ہوتا وہ چیخنے لگتی اور کبھی نیم بے ہوشی کی حالت میں بولتی ۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔بھائ ،امی بچاؤ ۔۔۔۔
شہر یار اور احمد دوکان پہ جا رہے تھے صبح وہ دوکان پہ جاتے اور رات کو ہسپتال میں ہوتے ۔ لیکن ریاض صاحب نے ان دو دنوں میں بھی کنول کا حال صحیح سے نہیں پوچھا ۔۔۔
سب کنول کو ریلکس کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ اکثر رونے لگ جاتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن بعد ۔۔۔
کنول انجکشن کے زیر اثر سو رہی تھی ۔۔احمد اور شہریار دوکان پہ گئے تھے ۔اور صنم بیگم کرسی پہ بیٹھی تھیں جب دروازہ کھولا اور کنول کی تائی اندر آئیں انہوں اندر آتے ہی صنم بیگم جو سلا م کیا اور صوفے پہ بیٹھیں اور بولیں ۔۔۔
کیا ہو گیا کنول جو بھابھی ؟۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
پتہ نہیں بھابھی ۔اس کو ہیضہ ہوگیا ہے بہت کچھ کھا ہی نہیں پا رہی ۔۔۔اپ بس دعا کرو ۔۔۔
کنول کی تائی بولیں ۔۔۔
میں آج بھی ریاض بھائ سے ہسپتال کا پوچھ کے آئ ہوں ۔۔اس دن میرے بیٹے نے دیکھا تھا کہ کنول کو شہریار اٹھا کر کار میں لیٹا رہا تھا تو مجھے پتہ چلا ۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
او اچھااا۔۔۔
کنول کی تائی اپنا بیگ اٹھاتیں کنول کے پاس آئیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں اور نظر بچا کر بیگ میں موجود شاہر سے راکھ نکال کر کنول کے بیڈ کے نیچے پھینک دی ۔۔۔
یہ سب کرنے کے بعد وہ صنم بیگم سے بولیں ۔۔۔
اچھا بھابھی میں چلتی ہوں کنول ابھی سو رہی ہے میں پھر آ ؤ ں گی ۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
بھابھی ابھی تو آئیں ہیں اور آپ جا رہی ہیں ۔۔۔
کنول کی تائی بولی ۔۔۔
ہاں بس چلتی ہوں ۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ صنم بیگم سے ملیں اور گھر چلی گئیں ۔۔۔
۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
کنول جو کے حالت خراب کی وجہ سے کچھ پڑھ نہیں پا رہی تھی اور عادی نے بھی کچھ بھی پڑھنے کا نہیں بتایا تھا ۔۔وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کنول تھوڑا ٹھیک ہو جائے پھر اس کو بتاؤں گا کہ کیا پڑھنا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی کے جانے کے بعد کنول کو نیند میں ہی لگا جیسے اسے کوئ بولا رہا ہے کنول نے آنکھیں کھولیں تو کمرے میں دیکھا تو صنم بیگم واش روم میں جا رہی تھیں ۔۔۔
کنول کو جاگتا دیکھ کر وہ بولیں ۔۔۔
کنول میں واش روم جا رہی ہوں۔۔تم اٹھ کے بیٹھو میں ابھی آکر کھانا کھلاتی ہوں تہمیں ۔۔۔
کنول نے چپ کر کے سر ہلا دیا ۔۔۔
صنم بیگم کے واشروم جانے کے بعد کنول کے دماغ میں باتوں کا شور ہونے لگا اور سوچنے لگی ۔۔۔
بس اب خود کو ختم کر دوں نہیں برداشت ہوتا درد یہ ۔۔۔یہ سوچتے ہی وہ بیڈ سے اٹھی اور کمرے سے باہر آ گئ ۔۔۔دیوار کو پکڑتے ہوئے وہ چلنے لگی اور چلتے چلتے وہ چھت پہ چلی آئ ۔۔۔۔۔۔
شہریار اور احمد کمرے میں آئے تو کمرے میں نہ کنول تھی نہ صنم بیگم ۔۔۔
شہریار نے احمد کو کہا ۔۔۔
یہ دونوں کدھر گئے ۔۔۔۔
اسی وقت صنم بیگم واش روم سے نکلیں اور بولیں ۔۔۔
تم دونوں آج اس وقت دوکان سے آگئے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
امی بس دل کیا اور یہ کنول کدھر ہے ؟۔۔
صنم بیگم نے چونک کر بیڈ پہ دیکھا اور بولیں ۔۔۔
ارے ابھی تو ادھر تھی کدھر گئ ۔۔۔
وہ تینوں ہی پریشان ہو کر کمرے سے باہر نکلے اور ہسپتال کے میں گیٹ تک ائے وہاں پہ موجود گارڈ سے بولے ۔۔۔
ادھر سے کوئ مریض گیا ہے باہر۔۔
وہ گارڈ بولا ۔۔۔
نہیں سر ۔۔۔
پھر ریسپشن پہ آکر پوچھا
کیا پیشنٹ کنول کو کوئ ٹیسٹ کے لیے بولا یا گیا ہے ؟
وہاں پہ موجود نرس نے نہیں میں جواب دیا
عادی جو کہ ادھر ہی آرہا تھا تینوں کو دیکھا اور بولا۔۔
آپ لوگ ادھر کنول کدھر ہے ؟۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
عادی کنول کمرے میں نہیں ۔گارڈ سے بھی پوچھا ہے وہ باہر بھی نہیں گئ پتہ نہیں کدھر گئ ہے ۔۔۔
عادی نےفوراً واڈ بوائے کو بولایا اور کہا ۔۔۔
تم سب جگہ دیکھو جاکے کنول کدھر ہے اور ریسپشن پہ موجود نرس سے کہا ۔۔۔۔
آپ بھی دیکھیں جا کے کدھر گئ وہ ۔۔۔
سب کنول کو ڈھونڈ رہے تھے کہ اچانک ہی ایک نرس نے آکر کہا ۔۔۔
ڈاکٹر عادی وہ اوپر چھت پہ جانے والا دروازہ کھولا ہوا ہے میرے خیال میں کنول چھت پہ گئ ہے ۔۔۔
یہ سنتے ہی عادی اور شہریار چھت کی طرف جانے لگی تو شہریار نے احمد کو کہا ۔۔۔
احمد تم امی کے پاس رہو اوکے ۔۔۔
صنم بیگم پریشان سے رونے لگیں ۔احمد نے بات سنتے ہی اچھاا میں سر ہلایا۔۔۔۔
شہریار اور عادی اوپر چھت پہ گئے تو کنول دیوار پہ کھڑی ہو رہی تھی ۔۔۔
شہریار نے زورسے چیختے ہوئے کنول کو آ واز دی ۔۔۔۔
کنول روک جاؤ ۔۔۔
کنول نے موڑ کر دیکھا اور روتے ہوئے بولی ۔۔۔
بھائ نہیں مجھے مر جانے دیں میں نہیں برداشت کر پا رہی تکلیف میری وجہ سے سب کو مشکل ہو رہی ہے ۔۔۔
عادی ور شہریار اس کے بالکل پاس گئے اور شہریار پھر بولا ۔۔۔
نہیں ہورہی مشکل گڑیا تم نیچے اترو ۔۔کنول نہ میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
شہریار نے بھاگ کے کنول کا بازو پکڑا اور اسے کھینچا تو دیوار سے نیچے اتری ۔۔۔ ۔۔۔
شہریار نے اسے کھڑا کر جھنجھوڑ آ اور بولا ۔۔۔
پاگل ہو گئ ہو کیا کر رہی تھی ؟۔۔۔۔
کنول روتے ہوئے زور سے بولی ۔۔۔
ہاں پاگل ہوگئ ہوں ۔۔نہیں کر پا رہی درد برداشت کیا کروں میں کچھ نہیں ہو رہا ٹھیک ۔۔
شہریار نے اسے گلے لگا یا اور بولا ۔۔۔
میرا بچہ کچھ نہیں ہوگا تہمیں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔کنول رونے لگی اور بولی ۔۔۔
بھائ میں تھک گئ ہوں ہمت نہیں ہے اب مجھ میں ۔۔۔شہریار نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا ۔۔۔
میں ہوں نا تہمارے ساتھ تم نے سوچا بھی کیوں خودکشی کا جانتی ہو نا یہ حرام ہے ۔۔۔
چلو نیچے ۔۔۔
عادی جو کہ کنول کو غور سے دیکھ رہا تھا اسے ک ول کے پیچھے ایک سایہ نظر آیا ۔۔اس نے اسی وقت پڑھنا شروع کیا اور وہ سایہ کنول کو چھونے سے پہلے غائب ہو گیا ۔۔۔۔شہریار کنول کو نیچے لے کر آیا اور کمرے میں لے گیا ۔۔۔
صنم بیگم اور احمد فورا س کے پاس آئے ۔۔صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
کنول کدھر چلی گئ تھی ۔۔۔
شہر یار بولا ۔۔۔
امی ابھی کنول کو آپ کھانا کھلائیں میں بعد میں سب بتاتا ہوں ۔۔۔
عادی شہریار کو دیکھ کر بولا۔۔۔
شہریار اور احمد آپ دونوں میرے ساتھ آ ؤ
صنم بیگم کنول کے پاس رہیں اور وہ دونوں عادی کے ساتھ چل پڑے ۔۔۔عادی کیبن میں آیا تو ڈاکٹر سمیعہ بھی ادھر تھیں ۔۔۔عادی نے اندر آنے کے بعد دونوں کو بیٹھنے کو کہا اور بولا ۔۔۔۔
آج کنول کی یہ حالت ہونا عام بات نہیں ہے وہ انسان جو بھی کر رہا اسے اب روکنا ہو گا اور کنول کے علاؤہ اس کو اور کوئ نہیں روک سکتا ۔۔۔وہ دماغی طور پر بہت کمزور ہو گئ ہے ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے یہ بات سنی تو بولی ۔۔۔۔
عادی کیا کیا کنول نے آج اور سب اسے ڈھونڈ کیوں رہے تھے؟۔۔۔۔
عادی نے ساری بات ڈاکٹر سمعیہ کو ساری بات بتائی تو ڈاکٹر سمیعہ بولیں۔۔۔۔
عادی میں بات کروں گی کنول سے میں وہ۔ہمت پیدا کروں گی جو کہ بہت ضروری ہے وہ ڈر گئ ہے اور جو درد اسے ہوتا ہے میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔
شہر یار بات سن کر بولا ۔۔۔
عادی کیا کرنا ہے اب تم یہ بتاؤ ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
پہلی بات کنول کو جو پڑھنے کو کہوں گا وہ جو ہو جائے اسے لازمی پڑھنا ہو گا اوع آپ کو اپنی نگرانی میں ہی پڑھنا ہو گا کہ وہ چھوڑے نہیں۔ دوسری بات اس کی طبیعت میں غصہ آئے گا وہ چڑچڑی ہو گی لیکن اسے پیار سے ہینڈل کرنا ہو گا ۔۔۔
اوکے ۔۔۔
تب ہی احمد اور شہریار بولے اوکے ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ عادی کو دیکھ کر بولیں ۔۔۔۔
عادی میں کنول کے پاس جا رہی ہوں بات کرنے ۔۔۔
عادی نے اچھا میں سر ہلایا ۔۔۔اور ڈاکٹر سمیعہ کنول کے کمرے میں چلیں گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں کنول بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی اور صنم بیگم پیار سے اس کے سر ہاتھ پھیر رہیں تھیں ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ کمرے میں آئیں تو انہوں نے سلام کیا ۔۔۔
صنم بیگم اور کنول نے ان کو دیکھ کر سلام کا جواب دیا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ کنول کے پاس آ کر بیڈ پہ بیٹھیں اور بولیں ۔۔۔
کنول مجھے آپ سے بات کر نی ہے ۔۔۔
کنول اٹھ کے بیٹھی اور بولی ۔۔۔۔
جی ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
کنول آج آپ نے جو کیا میں سمجھ سکتی ہوں آپ کی کیا حالت ہے اور کتنی دماغی الجھن کا شکار ہیں آپ ۔۔۔لیکن خودکشی ہر مسلے کا حل نہیں ہے ۔اور آپ جیسی بہادر لڑکی سے مجھے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔میں یہ نہیں کہوں گی آپ ناامید ہیں۔ بلکہ آپ ہمت ہار رہی ہیں ۔کنول آپ کی حالت یہ کیوں ہے یہ میں بھی جانتی ہوں ۔۔۔مجھے اپنا وہ دوست سمجھو جس سے آپ ہر بات شئیر کر سکتی ہو ۔۔۔اپ کو بہت مضبوط ہونا پڑے گا ۔۔اللہ پاک نے ہم انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔ہم اس نبی کے امتی ہیں جس نے اسلام کی تبلیغ کے دوران اتنی مشکلات برداشت کرکے ہمت نہیں ہاری ۔۔اپ لڑ سکتی ہو اپنی بیماری سے اور ان لوگوں سے جنہوں نے تہمیں تکلیف دی ۔۔اپ خود کو ختم کرکے ان لوگوں کو یہ بتا نا چاہتی ہو کہ وہ طاقت ور ہیں آپ نہیں ۔۔۔اپنے ایمان کو مضبوط رکھو کنول ۔۔۔اب یہ سوچو کہ آ پ نے خود کو کیسے بچانا ہے اور خود کو کیسے ٹھیک کرنا ہے ۔۔۔اس رب کا کرم ہے اتنا کہ آپ کو مدد کرنے والے ملے ۔۔۔۔یہ اللّٰہ پاک کا ہی کرم ہے ۔۔۔کنول آپ اللّٰہ سے خود کے لیے دعا کی کرو ۔۔۔۔
کنول نے ساری باتیں توجہ سے سنی اور بولی ۔۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں پر مجھ سے درد برداشت نہیں ہوتا اور میرے دماغ میں باتیں گھومتی ہیں ۔ڈر لگتا ہے اگر میں کیسی سے کچھ کہوں گی وہ مجھے پاگل کہہ دے گا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
کنول میری دوست بنو گی آپ ؟۔۔۔۔
کنول نے انہیں دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ اسے دیکھ کر مسکرا کر بولیں ۔۔۔۔
گڈ ۔۔۔کنول آپ پاگل نہیں ہو ہاں لیکن ڈر گئ ہو بہت آپ کو خوف ہے کہ کہیں اللّٰہ پاک ناراض تو نہیں ہو گئے ۔۔۔
کنول نے ڈاکٹر سمیعہ کی بات سن کر ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔تو ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
کنول اللّٰہ پاک اپنے بندوں کو آزماتے ہیں ۔۔اپ اللّٰہ پاک سے دعا کرو اللّٰہ آزمائش ہے تو دور کریں ۔اور میں وہی کام کروں جس میں آپ راضی ہوں ۔۔۔۔
کنول نے انہیں دیکھا اور ڈلاٹھ کر ڈاکڑ سمیعہ کے گلے لگ گئ ۔۔۔اور ساتھ ہی بولیں ۔۔۔
میں ایسا کروں گی آپ مجھے سے دوستی تو ختم نہھںکریں گی نہ؟۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ اس کی کمر تھپتھپا تے بولیں ۔۔۔۔
بالکل بھی نہیں کروں گی ختم ۔۔۔کنول ان سے الگ ہوئ ۔۔۔
تو ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
سب میری پیاری سی دوست کچھ کھا لے پھر دوائ کھا لینا اور ہاں اب کچھ بھی الٹا مت سوچنا ورنہ میں نے کلاس لے لینی ہے آپ کی ۔۔۔
صنم بیگم اور کنول دونوں اس بات سے مسکرائے ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ مسکراتی ہوئیں اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔
اور صنم بیگم کنول کو پیار کرتے بولیں ۔۔۔
کھانا لاؤں ۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا اور صنم بیگم کھانا لے کے آئیں اور اڈے کھلانے لگیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی نے شہر یار اور احمد سے کہا ۔۔۔
آ پ پریشان نہ ہوں میں آج رات ہی آپ کو بتا دوں گا کیا کرنا ہے ۔۔۔اپ آج کچھ دیر کے لیے کنول کو باہر لے جائیں پارک وغیرہ میں اور اس کے ہاتھ سے صدقہ خیرات کروا دیجے گا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: