Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 14

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 14

–**–**–

 شہر یار نے یہ سنا تو بولا ۔۔۔۔
عادی اسے پارک تو لے جائیں اگر اس نے کچھ کر دیا ادھر تو؟۔۔۔۔۔
عادی بولا۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔میں خود کنول کو کہوں گا کہ آیت الکرسی پڑھ کر جائے اور صدقہ لازمی دیں اس کا ۔۔۔
شہریار نے یہ سن کر اچھا میں سر ہلایا اور وہ دونوں اس کے کیبن سے باہر آ گئے اور اس کمرے کی طرف گئے جدھر کنول تھی ۔۔۔
صنم بیگم کنول کو کھانا کھلا رہی تھیں ۔۔۔شہریار اور احمد دونوں کمرے میں آ ئے تو انہوں نے کنول کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔
کنول اب کیسی ہو ؟۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بھائ ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
چلو کھانا کھا لو پھر ہم باہر چلتے ہیں پارک میں تھوڑا موڈ چینج ہو جائے گا موڈ تہمارا ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
میرا دل نہیں کر رہا کہیں جانے کو ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں سننا ۔۔اور تہمارا دل نے مار کھانی ہے ۔۔۔کھانا ختم کر لو پھر چلتے ہیں ۔۔۔
کنول نے مسکرا کر ۔اچھا میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کھانا کھلا کر کنول کو واش روم لے گئیں اور خود ہی اس کا ہاتھ منہ دھلایا۔۔۔۔
کنول بیڈ پہ آ کر بیٹھی تو احمد نے کہا ۔۔۔۔
چلو عبایہ پہن لو ۔۔۔۔احمد نے عبایہ اٹھا کر کنول کو دیا ۔۔۔کنول نے عبایہ پہنا اور سر پر سکاف کو اچھے سے سیٹ کیا ۔تا کہ نقاب اچھے سے کر سکے ۔۔۔۔
صنم بیگم برتن سمیٹ رہیں تھیں تو شہریار نے صنم بیگم کو کہا ۔۔۔
امی مجھے کچھ بات کر نی ہے آپ سے ۔۔۔
صنم بیگم نے اس کی بات سن کر اسے اشارے سے پوچھنے لگیں سب ٹھیک تو ہے ؟۔۔۔شہریار نے اشارے کو سمجھتے ہوئے سر ہلا کر کہا ۔۔۔ہاں ٹھیک ہے سب ۔۔۔۔
شہریار نے احمد کو کہا ۔۔۔
احمد تم کنول کو لے جاؤ باہر بائیک نکالو میں آتا ہوں ۔۔۔۔
احمد نے سر اچھاا میں ہلایا اور ہاتھ پکڑ کر کنول کو باہر لے کر چلا گیا ۔۔۔۔۔
اس کے باہر جاتے ہی شہریار کو صنم بیگم کو وہ ساری بات بتائی جو عادی نے شہریار اور احمد کو کہی تھی ۔۔۔۔
صنم بیگم نےساری بات سن کر شہر یار کو کہا ۔۔۔۔
شہریار تم جانتے ہو کنول بہت حساس ہے ۔۔اور یہ سب جو اس کے ساتھ ہوا سب میری غلطی ہے میں نے اس دن کنول کو تہمارے بابا کے پاس رہنے دیا ۔۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ رونے لگیں ۔۔۔
شہریار نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
امی آپ رو نہیں ۔۔دعا کریں ۔۔کنول کو ہم سب نے ہی مضبوط کرنا ہے ۔۔۔
صنم بیگم اپنے آنسو صاف کیے اور کہا ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔
شہریار مسکرا کو بولا۔۔۔
اچھا امی آپ ادھر ہی رہیں میں اور احمد کنول کو پارک میں گھوما کر لاتے ہیں ۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔اللہ کی امان میں رہو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو پارکنگ ایریا کے سائیڈ پہ کھڑا کر کے احمد بائیک لینے گیا تو شہریار نے آکر کنول کو بلایا۔۔۔۔
گڑیا ۔۔۔۔
کنول نے مڑ کر شہریار کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
جی بھائ ۔۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔
احمد بائیک لینے گیا ہے ؟۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
احمد بائیک کے کر آیا تو شہریار نے کہا ۔۔۔
تم باہر نکلو میں بھی بائیک لے کر آتا ہوں ۔۔۔
احمد نے کنول کو بائیک پہ بیٹھایا اور ہسپتال سے باہر آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
شہریار بائیک لے کر آیا تو اس نے کنول کو کہا ۔۔
گڑیا تم میرے ساتھ بیٹھ جاؤ اور احمد جو گھر کے پاس پارک ہے ادھر چلو ۔۔۔
کنول شہریار کے ساتھ بائیک پہ بیٹھی اور دونوں ہی اسی پارک کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پارک میں کنول کو تھوڑا سکون ملنے لگا ۔۔۔شہریار اور احمد دونوں اس کا ہاتھ پکڑ کر چل رہے تھے کنول دونوں سے بولی ۔۔۔۔۔
آپ دونوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا ہے مجھے لگ رہا ہے جیسے میں بچی ہوں
۔۔
شہریار اور احمد دونوں ہی اس بات پہ ہنسے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
میری گڑیا ۔۔۔
کنول بھی مسکرائ۔۔۔
واک کرتے ہوئے وہ تھک گئ تو بولی ۔۔۔۔
بھائ میں تھک گئ ہوں ۔۔۔
شہریار نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔
آ ؤ بیٹھتے ہیں ادھر بینچ پہ ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد شہریار نے کنول کو پیسے دیے اور کہا ۔۔
یہ پیسے سامنے آدمی کو دو جا کے ۔۔۔
احمد کنول کا ہاتھ پکڑ کر کے گیا اس آدمی کے پاس کنول نے اسے پیسے دیئے وہ آدمی کنول کو دعا دینے لگا ۔۔۔
کنول واپس بینچ پہ آ کر بیٹھی
وہ تینوں ہسپتال آ گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو دیکھا تو کہا ۔۔۔۔
میرا بچہ ٹھیک ہے نا؟۔۔
کنول بولی ۔۔۔
جی امی بس تھکن گئ اور تھوڑا درد ہو رہا ہے پیٹ میں ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اسے بیڈ پہ لیٹنے کو کہا اور ساتھ ہی اسکو میڈیسن کھلانے لگیں ۔۔۔۔
اسی دوران عادی اور ڈاکٹر سمیعہ کمرے میں آئیں……
آتے ہی انہوں نے سلام کیا ۔۔جس کا سب نے جواب دیا ۔۔۔۔
عادی نے کنول کا چیک اپ کیا اور کہا ۔۔۔
یہ جو دوائیں ہیں یہی اسے دینی ہےاور کنول جو وظیفہ آپ نے چھوڑا تھا وہی پڑھنا ہے آج سے اور کچھ سورتیں ہیں جو آپ کو اس کے ساتھ پڑھنی ہیں وہ میں کل بتاؤں گا ۔۔۔۔کنول سے بات کر کے عادی نے شہریار کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
شہریار کنول کی طبیعت میں بہتری ہو گی میں کل تک اس کی طبیعت دیکھتا ہوں اگر ٹھیک رہی تو کل رات کو ڈسچارج کر دیا جائے گا اسے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔ٹھیک ہے۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
کنول be strong اور یاد سے اب وظیفہ پڑھنا ہے اوکے ۔۔۔۔
کنول نے اچھااا میں سر ہلایا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی اور ڈاکٹر سمیعہ کنول کے کمرے سے باہر آئے تو ڈاکٹر سمیعہ بولیں۔۔۔۔
عادی اللّٰہ تہمیں کامیاب کرے ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
امین آپی ۔۔۔۔
عادی دل میں ہی سوچنے لگا آج دیکھنا پڑھے گا کہ آخر ہے کون وہ ۔۔۔۔
یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی کار تک آیا اور گھر چلا گیا ۔۔۔۔
کنول نے وضو کیا اور وظیفہ پڑھنا شروع کیا ۔وظیفہ پڑھ کر خود پہ دم کیا اور لیٹ گئ ۔۔احمد گھر چلا گیا اور شہریار کمرے میں موجود صوفے پہ لیٹ گیا اور صنم بیگم بیڈ پہ لیٹ گئیں ۔۔۔۔
کنول جو کہ لیٹی ہوئی تھی کب نیند آ گئ اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف جو کہ کمرے میں بیٹھا تھا ۔۔۔خلر حاضر ہوا اور بولا ۔۔۔
سرکار آپ نے جو کہا تھا میں نے ویسا کیا اس عورت کو اس طرح سے دھکا دیا کہ وہ سیڑھیوں سے نیچے گر گئ اور شدید زخمی ہو گئ ۔۔۔۔
الطاف سن کر بولا ۔۔۔
ٹھیک ہے اسکے گھر کے ہی فرد نے ہمیں بہت رقم دی تھی یہ کرنے کے لیے اب وہ کچھ پڑھتی نہیں تھی نہ نماز نہ قرآن تو تیرا وار تو چلنا تھا تھا اس پہ ۔۔۔۔
خلر بولا۔۔۔
جی سرکار ۔۔۔۔
الطاف اس سے بولا ۔۔۔۔
چل جا اب مجھے کام ہے۔۔۔۔
خلر سر ہلاتا غائب ہو گیا ۔۔
الطاف خلر کے جانے کے بعد اٹھ کے بیٹھا اور خود سے ہی بولا ۔۔۔
اب میں اپنا عمل شروع کروں اس کنول کو تڑپاوں گا بہت مزہ آئے گا ۔۔۔۔
الطاف نے اپنا عمل شروع کیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
عادی گھر آیا تو کھانا کھا کے اپنے کمرے میں آیا ۔۔۔
وضو کرکے اس نے جائے نماز بچھائ اور نفل پڑھے ۔۔۔نفل پڑھنے کے بعد اس نے تسبیح پڑھنا شروع کی ۔۔۔
آنکھیں اس نے بند کیں تو عادی کو سب نظر آنے لگا جو کنول کی تائی نے کیا عادی نے پڑھنا بند نہ کیا وہ پڑھتا ہی رہا اچانک ہی منظر تبدیل ہوا عادی کو ایک آ ستانہ نظر آیا جس کے چاروں طرف گندگی اور آ گ تھی اور اس آ ستانے کے اندر ہی ہی ایک انسان گندگی سے ہی کوئ عمل کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
عادی نے فورا آنکھ کھولی اور تسبیح جائے نماز پہ رکھی ۔۔۔
اور خود سے ہی بولا ۔۔۔
آؤ تو اس کا مطلب وہ انسان جو بھی ہے کنول کی تائی اس کا ساتھ دے رہی ہیں اور یہ آ ستانہ کس جگہ پہ ہے اس کا مطلب وہ جو بھی ہے اس کا وہی ٹھکانا ہے اور وہ گندگی سے ہی کنول پہ عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ہمممم اب مجھے کنول کو وہی سورتیں پڑھنے کے لیے دینی ہوں گی جو کہ مجھے انکل نے بتائیں تھیں ۔۔۔کل جاتے ہی ان کو بتا دوں گا ۔۔۔۔
عادی یہ سب سوچ کر اٹھا اور سونے کے لیے لیٹا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول جو کے سو رہی تھی لیکن زبان اس کی مسلسل آیت الکرسی کا ورد کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ اس کا دل دعا کر رہا تھا ۔۔۔۔
اللّٰہ وار خطا جائے میرے دشمن کا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
الطاف جو کہ عمل کر رہا تھا اچانک ہی زور دار ہوا چلی اور ساری وہ چیزیں جو کہ اس نے عمل کے لیے اپنے اردگرد رکھیں تھیں وہ دور جا گری اور اس کا عمل وہیں ٹوٹ گیا وہ یہ سب دیکھ کر غصے سے چلا اٹھا ۔۔۔
نہیں ۔۔یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔
اب کنول تہمیں مار نا ہو گا تم میرے قہر سے نہیں بچ سکتی ۔۔۔۔الطاف غصے سے بولا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن عادی ہسپتال آیا سارے کام کرنے کے بعد وہ کنول کے پاس گیا ۔۔۔۔
صنم بیگم اور کنول کمرے میں تھے اس نے سلام کیا اور کنول بیڈ کے پاس پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا ۔۔۔۔
کنول اور صنم بیگم نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
کنول میں کچھ سورتیں بتاتا ہوں وہ لازمی پڑھنا ۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا ۔۔۔
عادی نے کنول کو سورتیں بتائیں اور کہا ۔۔۔
کنول جو بھی حالت ہو آپ کی گھر جانے کے بعد مجھے لازمی بتانا میرا نمبر ہے آپ کے پاس ۔۔۔اور ایک بات یہ سورتیں پڑھ کر پانی میں دم کرنا اور پینا ۔۔۔اوکے ۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا۔۔۔
عادی نے کنول کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
طبیعت اب بہتر لگ رہی ہے مجھے آپ کو رات تک ان شاءاللہ آپ کو ڈسچارج کر دیا جائے گا ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
مجھے معدے میں بہت درد ہوتا ہے بہت مشکل سے درد برداشت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا ۔ان شااللہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے وقت ڈاکٹر سمیعہ نے کنول کا چیک اپ کیا ۔۔۔احمد اور شہریار بھی ہسپتال سے آئے گئے ۔۔۔ڈاکڑ سمیعہ نے کنول کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
کوئ بھی بات ہو مجھ سے شئیر کر لینا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو ڈسچارج کر دیا تو صنم بیگم ،احمد ،شہریار اور کنول گھر آئے ۔۔۔
صنم بیگم کنول کو اس کے کمرے میں لے گئیں اور اس کی ساری دوائیں اس کے بیڈ کے ساتھ والی میز پہ رکھیں ۔۔۔کنول نے عبایہ اتارا اور بیڈ پہ لیٹ گئ ۔۔۔۔۔
احمد اور شہر یار اپنے کمرے میں گئے ۔۔۔۔۔
سب کو ہی تھکن ہو رہی تھی احمد اور شہریار اپنے کمرے میں ہی سو گئے ۔۔۔
اور صنم بیگم کنول کے ساتھ بیڈ پہ لیٹ گئیں ۔۔۔۔
کنول نے صنم بیگم کا ہاتھ پکڑا تو صنم بیگم اسے پیار کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔
میں ہو ساتھ ڈرو نہیں۔۔۔
کنول بولی۔۔۔
جی امی ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کا دیکھا اور کہا ۔۔۔
چلو سو جاؤ ۔۔۔میں بھی سوتی ہوں تھکن ہو رہی ہے ۔۔۔
کنول نے سر ہلاتے ہی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاض صاحب گھر آئے تو انہوں نے نہ تو کنول سے اس کی طبیعت پوچھی نہ ہی اس کے پاس گئے ۔۔
ان کی اس بات کو سب نے نوٹ کیا ۔۔لیکن چپ رہے اس لیے۔کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے گھر میں پھر کوئ ایسی بات ہو جس سے کنول کو ڈپریشن ہوئے ۔۔۔
کنول نے یہ بات بہت نوٹ کی کہ ریاض صاحب نے ایک دفعہ بھی اس سے نہیں پوچھا کہ کیسی ہے وہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آئے ہوئے کنول کو کچھ دن ہو گےتھے وہ اپنا خیال رکھتی اور وظیفہ روز پڑھتی اور شہر یار زور اس سے وظیفے کا پوچھتا کہ اس نے پڑھا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔
شہریار ہر طرح سے کنول کا خیال رکھ رہا تھا پھل اور اس دوائیاں وہ خود لے کہ آتا ۔۔۔کنول پھل کچھ تو کھاتی لیکن ریاض صاحب اس کے زیادہ تر پھل کھا جاتے ۔۔۔کنول چپ رہتی ۔۔۔ کنول ڈاکڑ سمیعہ سے روز بات کرتی اور ڈاکٹر سمیعہ اسے بہت ہی اچھے سے سمجھاتیں اور اس میں ہمت پیدا کرتیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ہفتے بعد ۔۔۔
کنول کمرے میں بیٹھی وظیفہ پڑھ رہی تھی ۔۔وظیفہ پڑھ کر اس نے پانی دم کیا تھوڑا سا پانی پیا اور باقی پانی اس نے فریج میں رکھ دیا ۔۔۔اور صنم بیگم جو کہ کمرے میں تھیں ۔۔۔ان کے پاس گئ اور بولی ۔۔۔
امی وہ کپ میں ۔میں نے پانی رکھا ہے اپنا وہ کوئ نہ پیے میں بعد میں تھوڑا سا پی لوں گی ۔۔ریاض صاحب بھی ادھر ہی بیٹھے تھے انہوں نے بھی بات سنی ۔۔۔
کنول بات کر کے کمرے میں آئ اور دوائیاں دیکھنے لگی ۔۔۔
ریاض صاحب کمرے سے باہر نکلے اور فریج میں کنول کا دم کیا ہوا پانی اٹھا کر پی گئے ۔۔۔کنول جو کہ کچن میں کھانا لینے آئ تھی ۔۔ریاض صاحب کو پانی پیتے دیکھا تو غصے میں آ گئ اور بولی ۔۔۔
بابا یہ آپ نے نہیں پینا تھا ۔۔۔ریاض صاحب نے اسے دیکھا اور بولے ۔۔۔
کیا ہو گیا پھر ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
وہ بس نہیں پینا تھا آپ نے کہا بھی تھا ۔۔۔
ریاض صاحب غصے سے بولے ۔۔۔
نہیں مرتی تم ۔۔۔
کنول اپنا غصہ کنڑول کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
یہ میری جو حالت ہے نا اس کے ذمے دار صرف آپ ہیں میں بیمار تھی ہسپتال تھی آپ نے ایک دفعہ نہیں پوچھا مجھ سے ۔اپ کو نہیں ہے مجھ سے کوئ محبت صرف اپنے رشتے داروں اور پیسوں سے ہے ۔۔۔۔
کنول کا زور سے بولنا سن کر صنم بیگم بھی کمرے سے آگئیں ۔۔۔ریاض صاحب کے ہاتھ میں کہ دیکھ کر وہ ساری بات سمجھ گئیں ۔۔کنول کی بات سن کر ریاض صاحب بولے ۔۔۔۔
بہت زبان چل رہی ہے تہماری ۔۔۔
کنول غصہ کرتی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
اس نے کمرے میں آتے خود کو کوسنے شروع کر دیا ۔۔۔۔
کیا کروں میں ۔میرا ساتھ جو ہوا اب اور نہیں کب تک میں یہ سب برداشت کرو گی معدے کا درد برداشت نہیں کر پا رہی اور پھر وہ انسان اپنے چیلوں کو ذریعے میرا جینا مشکل کر رہے ہیں کیا کروں میں اب ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار اور احمد گھر آئے تو صنم بیگم نے انہیں سری بات بتائ اور یہ بھی کہ کنول نے کیسے غصہ کیا ۔۔۔۔احمد یہ سن کر بولا ۔۔۔
امی ڈاکڑ عادی نے کہا تھا وہ غصہ کرے گی چڑ جائے گی چھوٹی چھوٹی بات سے آپ فکر نہ کریں ۔۔۔شہریار بھائ ہمیں کنول کے ہاتھ سے صدقہ خیرات بھی کروانا ہے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
ہاں ہاں ہو جائے گا وہ بھی ۔۔۔
شہر یار نے کنول کی ساری حالت عادی کو بتائ فون کرکے ۔۔۔
عادی نے ساری بات سن کر کہا ۔۔۔۔
یہ سب ہو گا بس است پیار سے ہینڈل کریں انسان جب تھک جائے کیسی کام سے تو وہ کوئ نا کوئ ری ایکشن کرتا ہے ۔۔۔۔اپ فکر نہ کریں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف کا وار کنول پہ نہیں چل رہا تھا اور بہت دنوں سے کنول کی تائ نے بھی اس کے پاس چکر نہیں لگایا تھا ۔۔۔الطاف نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے آدمی کو بلایا اور کہا ۔۔۔
آج رات مجے قبرستان میں چلہ کاٹنا ہے تم سب کو کہو کہ تیار رہیں ۔۔۔
وہ آدمی سر ہلاتا باہر چلا گیا ۔۔اور الطاف شیطانی ہنسی ہنسنے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح
کنول ٹی وی دیکھ رہی تھی تو دروازے پہ دستک ہوئ ۔۔۔صنم بیگم نے دیکھا تو کنول کی تائی تھیں ۔۔جہنون نے اندر آنے کے بعد اتنا کہا کہ بھابی میرے گھر چلیں دیکھیں میرے بچے کو کیا ہوا ہے ۔۔۔
کنول نے رائے کی آواز سنی تو وہ بھی باہر آئ کمرے سے اور بولی
کیا ہوا؟۔۔۔
صنم بیگم نے اسے سب بتایا اور جانے لگی تو کنول نے کہا میں بھی ساتھ چلتی ہوں ۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
آ جاؤ ۔۔۔
کنول چادر پہنتی گھر کی چابیاں اٹھیں گھر کو اچھےسےلاک کیا اور صنم بیگم ، تائ کے ساتھ چل پڑی ۔۔۔
ان ے گھر پہنچتے ہی دیکھاتو۔ اس کا کزن بے ہوش تھا ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کی تائی کو کہا ۔۔۔
بھابھی آپ جلدی سے ٹھنڈا پانی لے کے آئیں ۔۔۔کنول کی تائی گئیں تو صنم بیگم اور کنول نے افعان کے گال تھپتھپا ئے ۔۔۔
کنول کی تائی پانی لے کے آئیں اور انہوں نے صنم بیگم کو پانی پکڑایا ۔۔صنم بیگم نے تھوڑا سا پانی ہاتھ میں لے کر افعان کے چہرے پہ ڈالا ۔۔۔افعان نے آنکھیں کھولیں ۔تو صنم بیگم نے اسے اٹھا کر پانی پلایا ۔۔۔۔
افعان ہوتا ہوش میں آیا تو صنم بیگم بولیں ۔۔۔
کیا ہوا تھا اچانک سے ؟۔۔۔
افعان بولا ۔۔۔۔
چچی پتہ نہیں ۔میں نے تو وہ بوتل والا پانی پیا تھا جو امی کے کمرے میں پڑا تھا اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں۔۔۔۔
کنول کی تائی یہ بات سن کر چونکی اور دل میں ہی سوچنے لگیں ۔۔کہیں اس نے وہ والا پانی تو نہیں پی لیا جو مجھے پیپر صاحب نے کنول کے لیے دیا تھا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے افعان کو کہا ۔۔۔
چلو کوئ بات نہیں تم آرام کرو ۔۔۔
کنول اپنی تائ کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگی اسے کچھ عجیب لگا ۔۔۔۔کنول نے اپنی تائ کو کہا ۔۔۔
چچی وہ لاڈو آپی کدھر ہیں؟ ۔۔
کنول کی تائی بولیں ۔۔۔
وہ کمرے میں ہے ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
ٹھیک ہے میں مل کے آتی ہوں ۔۔۔۔یہ کہتے ہی کنول اٹھی اور لاڈو سے ملنے اس کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔
لاڈو اپنی دوست کے ساتھ بات کر رہی تھی جس کی آ واز باہر تک آ رہی تھی ۔۔۔کنول نے دروازہ کھٹکھٹاینا چاہا لیکن لاڈو کی بات سن کر روک گئ ۔۔۔۔
لاڈو اپنی دوست سے فون پہ بات کرتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔
ہاں یار وہ کنول میرے چچا کی بیٹی ۔امی اسی کا بندوست کرنے کوئ پیپر الطاف ہے اس کے مزار پہ گئ تھیں ۔اس نے تعویذ اور سنی دیا تھا امی ہسپتال گئیں تو تعویذ تو وہیں پھینک آئیں اور پانی بھی پھینک دیا تھا اور اس کے بعد جو اس کی حالت ہوئ ۔۔یار ایسے لگتا تھا مر جائے گی لیکن وہ مری نہیں ۔۔۔امی کو تیمور انکل کی بیوی کے گئیں تھیں ادھر ۔تم جانتی تو ہو ۔تیمور انکل کتنا حسد کرتے ہیں میرے چچا سے ۔۔۔
کنول نے یہ سنا تو اس سے بغیر ملے ہی اس سے صنم بیگم کے پاس واپس آ ئ ۔۔۔اور بولی ۔۔۔۔
امی پلیز گھر چلیں میری طبیعت عجیب ہو رہی ہے ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اسے دیکھا اور بولیں۔۔۔
چلو گھر چلتے ہیں ۔۔۔
وہ دونوں ہی گھر آئیں ۔۔۔
کنول اپنے کمرے میں گئ تو اس کے دماغ میں لاڈو کی باتیں گھومنے لگیں ۔۔۔غصہ آنے لگا اسے اور اسی غصے میں اس نے کہا ۔۔۔
میری بددعا ہے چچی آپ امی اولاد کی خوشیوں کے لیے ترسو آپ کو کبھی سکون نہ ملے ۔۔۔
کنول یہ کہتے ہی اٹھی اور موبائل اٹھا کر عادی کو کال کی ۔۔۔۔
عادی کا آج ہاف ڈے تھا وہ اپنے گھر کے لان میں بیٹھا تھا ۔موبائل فون رنگ ہوا تو اس نے نمبر دیکھ کے کال اٹینڈ کی ۔۔۔
جیسے کال اٹینڈ ہوئ تو کنول نے سلام کیا ۔۔۔
عادی نے سلام کا جواب دیا اور کہا ۔۔۔
کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟۔۔
کنول بولی ۔۔۔
طبیعت تو بہتر ہے لیکن مجھے آپ سے ملنا ہے کیا میں آپ سے مل سکتی ہوں کچھ باتیں بتانی ہیں آپ کو اور جو میں نے سوچا ہے وہ بھی بتانا ہے ۔۔۔۔
عادی نے کنول کے بولنے کے انداز سے نوٹ کیا کہ وہ غصے میں ہے ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
پہلے آپ ریلکس ہو جائیں لمبا سانس لیں جلدی سے ۔۔۔
کنول نے ویسا ہی کیا ۔۔۔اور اسے کہا جی کر لیا ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
جی مل سکتے ہیں لیکن کل ۔۔۔۔۔کل میں ہسپتال آؤں گا تو آپ آ جائیے گا جو بات آپ کو بتانی ہے بتا دیجیے گا ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے تھینکس۔۔۔
عادی بولا ۔۔
اوکے اللّٰہ حافظ ۔۔۔
اس کے ساتھ ہی فون بند کر دیا ۔۔۔۔
کنول نے فون سائیڈ پہ رکھا اور نماز پڑھنے کے لیےوضو کرنے گئ ۔۔۔
وضو کر کے آئ تو نماز پڑھی ۔۔۔اس کے بعد دعا کرنے لگی ۔۔۔
اللّٰہ میری مدد کر میری زندگی اور موت کا مالک تو ہے میری مدد کر جو میں نے سوچا وہ میں کر سکوں مجھے دیکھا کہ وہ انسان کون ہے ۔۔۔۔۔۔
کنول دعا کر کے اٹھی اور صنم بیگم کے پاس چلی گئ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن کنول نے شہر یار سے کہا ۔۔۔
بھائ مجھے آج ڈاکڑ عادی کے پاس چیک اپ کے لیے جانا ہے ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
تم تیار رہنا احمد کو میں بھیج دوں گا ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
اوکے بھائ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
دوپہر میں ہی احمد آیا تو کنول اس کے ساتھ ہسپتال چلی گئ ۔۔۔اپنی باری کا انتظار کرنے لگی ۔۔جیسے ہی اس کی باری آئی تو وہ اندر گئ احمد باہر اپنے دوست سے ملنے لگا ۔۔۔
کنول نے اندر کیبن میں داخل ہوتے ہی سلام کیا ۔۔
عادی نے سلام کا جواب دیا اور بیٹھنے کو کہا ۔۔۔
کنول کرسی پہ بیٹھتے ہی بولی ۔۔۔
ڈاکٹر عادی میں چاہتی ہوں اس انسان کو سزا ملی جس کی وجہ سے میرے ساتھ یہ سب ہوا ۔۔۔
عادی نے حیرت سے کنول کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
کنول کیا مطلب آپ کی اس بات کا ۔۔۔۔
کنول نے لمبا سانس لیا اور عادی کو وہ سب بتایا جو اس نے لاڈو کو کہتے ہوئے سنا تھا ۔۔۔
عادی نے ساری بات سنی اور بولا ۔۔۔
دیکھو کنول شاہد آپ نے جو سنا ہو وہ غلط ہو ۔۔کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ اپ۔نے جو سنا ہو وہ آدھا سچ ہو ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
نہیں میں نے غلط نہیں سنا ۔۔۔پلیز ڈاکٹر عادی آپ نے میری اتنی مدد کی ۔۔اب بھی کریں ۔۔۔اپ یہ پتہ کروائیں کہ الطاف نام کا کوئ آدمی ہے جو کالا جادو وغیرہ کرتا ہو ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔میں کرتا ہوں پتہ ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بہت شکریہ ۔۔اور یہ بات میں صرف شہریار بھائ سے شئیر کروں گی اور کیسی سے نہیں ۔۔۔اپ امی کو بھی یہ بات پتہ نہ چلے پلیز۔۔۔۔
عادی مسکرا کے بولا ۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: