Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 15

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 15

–**–**–

کنول عادی کو دیکھ کے بولی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عادی کہیں آپ یہ تو نہیں سوچ رہے کہ میں کچھ غلط علم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہوں یا پھر کیسی کو نقصان پہنچا وں گی ؟۔۔۔
عادی نے چپ کر کے اسے دیکھا ۔۔۔
تب ہی کنول بولی ۔۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔ میرا ایمان ہے میرا اللّٰہ میری مدد کر رہا ہے ۔۔۔میں کمزور ہوئ تھی ۔ہمت ہار گئ تھی۔۔ لیکن میرا بھروسہ نہیں ٹوٹا تھا میں نے جو برداشت کیا۔پتہ نہیں کیسے ۔۔۔لیکن جس نے میرے ساتھ کیا وہ انسان کیسی دوسرے کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے ۔مجھے تو ہمت دینے والے بھی ہیں ۔اور مدد کرنے والے بھی ۔۔۔لیکن اگر وہ لوگ جن کے ساتھ وہ انسان کرے گا نہ برداشت کر پائے پھر ۔۔۔۔
ایسی لیے میں چاہتی ہوں مجھے اس کے بارے میں سب پتہ چلے ۔اسے سزا ملے نہیں جانتی کیسے؟ لیکن ملے اسے سزا تاکہ وہ کیسی اور کے ساتھ ایسا نہ کرے ۔۔۔۔
عادی یہ سب سن کے حیرت میں آیا ۔۔ اور بولا ۔۔۔۔۔۔
حیرت ہے کنول اتنا سوچ لیا آپ نے مجھے خوشی ہے بہت کہ آپ میں ہمت آرہی ہے ۔۔۔اپ کو میں کل تک اس شخص کی معلومات لے دیتا ہوں ۔۔۔اوکے ۔۔۔۔
کنول اس کی بات سن کر مسکرائ اور کرسی سے اٹھی اور بولی ۔۔۔۔
شکریہ بہت ۔۔۔اوکے میں اب چلتی ہوں اللّٰہ حافظ۔۔۔۔
عادی نے سر ہلا کر اللّٰہ حافظ کہا ۔۔۔۔
اور اگلے مریض کو اندر بلایا۔۔۔
کنول باہر آ ئ ۔۔۔تو احمد اس کے پاس آیا اور بولا ۔۔۔۔
ہو گیا چیک اپ ؟۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا اور کہا۔۔۔۔
چلو احمد ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی مریضوں کا چیک اپ کر کے فارغ ہوا تو اس نے اپنے دوست سہل کو کال کی ۔۔۔۔۔
سہل نے کال اٹینڈ کی تو عادی بولا ۔۔۔۔
اسلام علیکم جناب کیسے ہیں؟۔۔۔
سہل نے سلام کا جواب دیا اور بولا۔۔۔
میں ٹھیک اللّٰہ کا شکر۔۔۔تم سناو کیسے یاد کیا؟۔۔۔۔
عادی بولا۔۔
میں بھی ٹھیک ہو اللّٰہ کا کرم میں ۔۔۔یار ایک کام تھا تم سے اور وہ صرف تم کر سکتے ہو ۔۔۔۔
سہل بولا ۔۔۔
ہاں ہاں بتا کیا بات ہے؟؟؟؟
عادی بولا ۔۔۔
سہل یار ایک آدمی ہے الطاف۔وہ میرے خیال میں کالا جادو وغیرہ کرتا ہے۔ اب وہ کدھر ہے اور کیا واقعی کرتا ہے؟اور کدھر اس کا آ ستانہ کدھر ہے مجھے ساری معلومات چاہئے ۔۔۔۔
سہل کچھ سوچ کے بولا ۔۔۔
فکر نہ کر کل تک مل جائے گی معلومات۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
بہت شکریہ یار ۔۔۔
سہل بولا ۔۔۔
کوئ نہیں تو نے تو میری مدد کی ہے آج میں تیرے کام آ رہا ہوں مجھے خوشی ہے ۔۔اوکے یار مجھے بوس بلا رہے ہیں ۔۔اللہ حافظ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
اوکے اللّٰہ حافظ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد اور کنول گھر پہنچے تو صنم بیگم بولیں ۔۔۔
کیا ہوا کنول سب ٹھیک ہے نا؟۔۔۔۔
کنول بولی۔۔۔
جی امی سب ٹھیک ہے ۔امی مجھے نیند آ رہی ہے میں تھوڑی دیر سو جاؤں ۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا جاؤ آ رام کر لو ۔۔۔
کنول مسکرا کر اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
احمد بائیک کھڑی کرکے صنم بیگم کے پاس آیا اور بولا ۔۔۔
امی میں نہیں جا رہا اب دوکان پہ ۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
پر کیوں ۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
امی ایسے ہی ۔میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں آپ تھوڑی دیر تک مجھے روٹی بنا دینا میں کھا لوں گا۔۔۔۔
احمد یہ کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
صنم بیگم اپنے کام میں لگ گئیں ۔۔۔۔۔
کنول اپنے کمرے میں آئ تو برقعہ اتار کر بیڈ پہ لیٹ گئ اور آیت الکرسی پڑھنے لگی۔ ایت الکرسی پڑھ کر خود پہ دم کرکے اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی اور تمور صاحب کی بیگم دونوں ہی الطاف کے پاس آئے ہوئے تھے۔۔۔۔
کنول کی تائی الطاف کو دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
سرکار میرے بیٹے کی طبیعت خراب ہو گئ ہے اس نے وہ پانی پی لیا جو آپ نے کنول کے لیے دیا تھا۔۔
الطاف بات سن کر بولا ۔۔۔۔
تم نے پینے کیوں دیا اور تم یہ بتاؤ وہ لڑکی کنول کیسی ہے؟۔۔۔
کنول کی تائی بولیں۔۔۔۔
سر کار وہ تو ٹھیک ہو رہی ہے چلنے پھرنے لگ گئ ہے ۔۔۔۔
الطاف بولا ۔۔۔۔
ہممممم ۔۔۔اچھا تم دیکھو اب ہوتا ہے کیا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔یہ بات کرتے ہی الطاف نے کچھ تعویذ بنا کے دیے ک ول کی تائی کو اور بولا ۔۔۔۔
اس کو جلا کے اس کا دھواں دو اپنے بیٹے کو اور اس کی راکھ کو کنول کے آس پاس پھینک دینا ۔۔۔
کنول کی تائی نے خوش ہوتے وہ تعویز لیے اور پیسے اس کی پاس رکھتی اٹھ کر چلی آئ ۔۔۔۔۔
گھر آتے پاس نے اپنے بیٹے کو کچن میں بلایا اور کہا ۔۔۔۔
افعان ادھر بیٹھ جاؤ یہ میں لائ ہوں تہمیں ابھی اس کا دھواں دیتی ہوں دیکھنا تم کیسے ٹھیک ہوتے ہو۔۔۔
افعان چپ کرکے بیٹھ گیا تو کنول کی تائی نے جلدی سے تعویذ جلا کر اس کا دھواں دیا تو افعان کو اس دھواں سے کھانسی ہونے لگی تو وہ غصے سے بولا ۔۔۔
امی بس کر دیں اس دھواں سے میری جان نکل رہی ہے ۔۔۔
کنول کی تائی بولیں ۔۔۔
چپ بس ہو گیا فضول نہ بولا کر ۔۔۔افعان اٹھ کر باہر چلا گیا تو کنول کی تائ نے ان تعویذوں کی راکھ کو ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو نیند میں ہی معدے کا درد شروع ہوا تو اس کی آنکھ کھول گی ۔۔درد آہستہ آہستہ بھرنے لگا تو کنول بیڈ پہ ایک گھٹری کی طرح سیمٹ گئ ۔۔۔درد برداشت کرنے کے لیے کنول نے اپنے ہاتھوں کو زور سے مٹھی کی صورت میں بند کیا ۔۔۔کنول درد سے رونے لگی اب کمرے میں اسے کے رونے کی آواز گونجنے لگی ۔کنول روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اللّٰہ جی بہت درد ہو رہا ۔۔میری دعا ہے اللّٰہ آپ سے جو میری اس تکلیف کی وجہ بنا اسے بھی ایسی تکلیف ہو کہ برداشت نہ کر سکے ۔۔۔تڑپو تم لوگ بھی ایسے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی اپنے گھر آ کر اپنے کمرے میں آیا تو اس نے کنول کو فون کیا یہ پوچھنے کے لیے کہ طبیعت کیسی ہے ۔۔۔۔۔
عادی نے کال کی لیکن اٹینڈ نہیں گئ تو اسے عجیب سا محسوس ہونے لگا ۔۔۔اس نے دل میں ہی دعا کی ۔۔۔
اللّٰہ پاک سب ٹھیک ہو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول ابھی تک اسی حالت میں ہی تھی ۔۔۔درد تھوڑا کم ہوا تو وہ بامشکل اٹھی اور اس نے اپنی دوائیاں اٹھائیں ان دوائیوں میں سے اس نے معدے کے درد کی گولی نکال کر کھائ ۔۔۔۔گولی کھا کر وہ واش روم گئ وضو کیا ۔۔۔وضو کرکے وہ کمرے میں آئ تو جائے نماز بچھا کر وہ بیٹھی اور نفل پڑھنے لگی سجدے میں گئ تو وہ رو پڑی۔ روتے ہوئے اس نے دعا کی ۔۔۔
اللّٰہ پاک نہیں کر پا رہی درد برداشت ۔۔۔یااللہ درد ختم کر دیں ۔۔دعا کرتے ہی وہ سجدے سے اٹھی اور اسے نے باقی کے نفل ادا کیے ۔۔۔اور دعا مانگ کر اس نے جائے نماز لپیٹ کر سائیڈ پہ رکھی اور ہمت کرتی
صنم بیگم کے پاس گئ ۔۔۔
صنم بیگم اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھیں ۔۔۔کنول کو کمرے کے دروازے پہ دیکھ کر اٹھ کے بیٹھیں اور بولیں ۔۔۔
کنول کیا ہوا ؟درد ہو رہا ہے کیا ؟۔۔۔
کنول آ ہستہ آہستہ چل کے صنم بیگم کے پاس آ ئ اور ہاں میں سر ہلا کے بولی ۔۔۔
جی امی بہت درد ہو رہا ہے معدے میں ۔۔صنم بیگم نے اسے اپنے پاس بیٹھایا اور کہا ۔۔۔۔
کنول دوائ کھائ ہے تم نے کے نہیں ؟۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
اچھا تم ادھر بیٹھو میں دلیہ لے کے آتی ہوں جو تہمارے لیے بنایا تھا وہ کھا کو شاہد درد کم ہو جائے کچھ ۔۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا اور بولی۔۔۔۔
امی احمد کدھر ہے؟۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
وہ دوست کے پاس گیا ہے ابھی ۔۔۔
۔۔۔صنم بیگم یہ کہتے ہی دلیہ لینے چلی گئیں ۔۔۔
اسی دوران ریاض صاحب گھر داخل ہوئے وہ غصے میں تھے ۔۔کمرے میں آئے کنول کو دیکھا تو غصے میں بولے ۔۔۔۔
کیا مصیبت آ ن پڑی تھی جو آج ہی ڈاکڑ کے پاس جانا پر گیا تھا تہمیں جب دیکھو ادھر جانا ہے ادھر جانا ہے تہمیں ۔۔۔۔
کنول نے بات سن کر سر اٹھا کر دیکھا انکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو چکی تھیں اور ابھی بھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ رو دے گی ۔۔وہ بولی ۔۔۔
بابا مجھے جانا تھا ڈاکڑ کے پاس اور آپ کیوں اتنا غصہ کر رہے ہیں احمد کام کرکے ہی مجھے لے کے گیا تھا ۔۔۔۔
ریاض صاحب بولے ۔۔۔۔
ویسے تو بیمار ہو زبان تہماری تیز چلتی ہے ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔۔
بابا بس کر دیں۔کیا کہا میں نے اب ۔ایک میں اپنی تکلیف میں ہوں ور آپ مجھے ہی ڈانٹ رہے ہیں پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔امی ایسے ہی کہتی ہیں کہ آپ کو مجھ سے محبت تھی یا ہے۔اپ کا رویہ دیکھ کہ لگتا ہے کہ آپ کو مجھ سے کبھی بھی محبت نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے ۔میں ہی پاگل ہوں جو اتنی محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔
کنول یہ بات روتے ہوئے کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
ریاض صاحب نے غصے سے کنول کو کمرے میں جاتے دیکھا۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے سب سن لیا وہ کنول کے کمرے میں گئیں ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو دیکھا تو اپنے بیڈ پہ بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔۔صنم بیگم نے اسے جا کے گلے سے لگایا اور بولیں ۔۔۔
کنول میرا بچہ کیوں بابا سے بات کی تم نے ایسے ؟۔۔۔
کنول نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
امی بابا نے کیوں ایسا کہا۔۔وہ جانتے نہیں ہیں کیا کہ میں کتنی تکلیف میں ہوں ؟کیا انہیں نہیں پتہ چلتا کیا ؟کیوں کرتے ہیں وہ ایسا ؟۔۔۔
صنم بیگم اس کی بات سن کے بولیں ۔۔۔۔
کنول یہ سب غلط باتیں تہماری تائی نے تہمارے بابا کے دماغ میں ڈالی ہیں کیوں کہ وہ چاہتی ہیں کہ کیسی طرح لاڈو اس گھر میں آئے تہمارے بھائ کی بیوی بن کر اور تہمارے بھائ شہریار کو وہ بالکل بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔اور یہی بات تہماری تائی کو چھبتی ہے کہ تہمارا باپ جب تہماری پرواہ کرتا تھا ۔۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
امی کیا بابا کو صحیح اور غلط نظر نہیں آتا؟۔۔۔۔
صنم بیگم اسے چپ کراتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔
کنول جب انسان انا کو زیادہ اہمیت دے تو اسے غلط کام اور غلط بات بھی ٹھیک لگتی ہے ۔۔اور اب نہیں رو تم چپ کر جاؤ ۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا تو صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
میں دلیہ لاتی ہوں کھا لو ۔۔۔۔
کنول نے اچھا کہا تو صنم بیگم کچن میں چلی گئیں ۔۔۔۔
کنول بیڈ کروان سے ٹیک لگا کہ بیٹھ گئ ۔۔۔موبائل پہ میسج کی ٹون بجی تو کنول نے موبائل اٹھا کہ دیکھا تو ڈاکٹر سمیعہ کا میسج تھا ۔۔میسج اوپن کرکے دیکھا تو اس میں لکھا تھا ۔۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔
کنول کیسی ہو ؟۔۔۔
کنول نے ڈاکٹر سمیعہ کو کال ملائ ۔۔۔
کال اٹینڈ کی ڈاکڑ سمیعہ نے تو کنول نے سلام کیا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے سلا م کا جواب دیا ۔۔۔اور بولیں ۔۔۔
کیسی ہے میری دوست ۔۔۔
کنول بولی۔۔۔
بس ٹھیک ہوں ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ کو کنول کی آ واز رونے والی لگی تو انہوں نے پوچھا ۔۔۔۔
کنول کیا بات ہے ؟روئ ہو کیا؟۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
کوئ بات نہیں ہے بس معدے میں درد ہوا تھا اب کم ہے بہت ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں۔۔۔۔
کنول دوائ ٹائم پہ لو ٹھیک ہو جائے گا درد ۔اب رونا نہیں ۔کوئ بھی بات پوچھنی ہو پوچھ لینا ۔۔۔
کنول بات سن کے بولی ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ کیا ایسا ہوتا ہے کہ آپ جس سے محبت کرو اس سے نفرت کرنے لگو ؟۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
ہاں کنول ہوتا ہے ایسا لیکن بہت کم ۔۔۔جانتی ہو کیوں ؟کیوں کہ محبت کرنے والے نفرت نہیں کر پاتے وہ غصہ ہوتے ہیں بہت زیادہ لیکن ان کے دل اتنے ہی نرم ہوتے ہیں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے جب انسان مجبور ہو جاتا ہے وقت اور حالات سے یا پھر کچھ بہت زیادہ برداشت کرکے تو تب وہ محبت کرنے والا انسان نفرت کا خول چڑھا لیتا ہے خود پہ ۔۔اسے اپنے آپ سے اور ہر اس انسان سے چڑ ہونے لگتی ہے جو اس سے محبت کا داوہ کرے ۔۔۔۔لیکن اس کا دل ویسے ہی محبت کرنے والا معصوم سا ہوتا ہے ۔۔۔
کنول نے ڈاکٹر سمیعہ کی بات سنی اور سمجھتے ہوئے بولی ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
کنول میں پوچھوں گی نہیں کہ کیا ہوا شاہد کچھ ذاتی زندگی کا مسلہ ہو ۔تم کبھی بھی خو د سے نفرت مت کرنا ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
اوکے اب تم آرام کرو اللّٰہ حافظ۔۔۔
کنول نے بھی اللّٰہ حافظ کہا اور کال بند کردیا ۔۔۔۔
کال بند کرنے کے بعد دیکھا تو ڈاکٹر عادی کی مس کال آئ ہوئیں تھیں ۔۔۔کنول نے کچھ سوچتے ہوئے میسج کیا ۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔معاف کیجئے گا میں امی کے کمرے میں تھی ۔اس کی آپ کی کال اٹینڈ نہیں کی ۔۔میری طبیعت تھوڑی خراب ہے معدے میں آج درد شروع ہو گیا تھا اب میں ٹھیک ہوں ۔۔۔دعاوں میں یاد رکھیے گا ۔۔۔۔
کنول نے یہ لکھ کر سینڈ کیا اور موبائل رکھ دیا ۔۔۔۔
صنم بیگم کنول کے لیے دلیہ لے کر آئیں ۔۔۔کنول نے دلیہ کھایا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
عادی نے کنول کا میسج پڑھا اور دل میں ہی سوچا۔۔۔۔
اللّٰہ خیر کرے ۔اللہ کنول آپ کو اپنی امان میں رکھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار گھر آیا تو کنول کے کمرے میں گیا کنول میگزین پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔شہریار نے آ تے ہی سلام کیا ۔کنول نے سلام کا جواب دیا ۔۔شہریار صوفے پہ بیٹھا اور بولا ۔۔۔
کیسی ہو گڑیا؟ ۔۔۔
کنول. نے سر اٹھا کے شہریار کو دیکھا اور بولی ۔۔۔
بس ٹھیک ہوں بھائ ۔۔۔
شہریار نے غور سے کنول کی آ نکھوں اور چہرے کو دیکھا جو صاف بتا رہی تھیں کہ وہ۔روئی ہے ۔۔۔شہریار بولا ۔۔۔
گڑیا کیا ہوا ہے؟تم روئی کیوں ہو؟۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بھائ نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔۔
شہریار اٹھ کر کنول کے پاس بیڈ پہ آیا اور پیار سے کنول کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا ۔۔۔
گڑیا مجھ سے بھی اب باتیں چھپاؤ گی ؟۔۔بتاو مجھے کیا ہوا ؟۔۔۔۔
کنول کی آنکھوں میں آنسو آئے اور وہ بولی ۔۔۔
بھائ آپ جانتے ہیں نا بابا کی عادت کو میری ان سے بحث ہو گئ ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
کیا ہوا ؟۔۔۔
کنول نے ساری بات بتائی شہریار کو جو کہ آ ج ریاض صاحب سے ہوئ تھی ۔۔۔
شہریار نے کنول کو تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
گڑیا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔تم پریشان نہ ہو۔۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا اور بولی ۔۔۔
بھائ ایک اور بات بھی بتانی ہے میں نے ۔۔۔
شہریار نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولا ۔۔۔
ہاں بتاؤ کیا بات ہے؟ ۔۔۔۔۔
کنول نے اسے بتایا کہ کیسے اس نے لاڈو کی بات سنی اور کیسے اس نے عادی کو کہا ۔۔۔۔
شہریار بات سن کر بولا ۔۔۔
کنول میں ساتھ ہوں تہمارے وہ جو بھی ہے اسے ضرور سزا ملے گی ۔۔۔۔۔
شہریار نے کنول کو نہیں بتایا کہ عادی نے اس کے جانے کے بعد ہی اسے کال کرکے سب بتا دیا تھا ۔۔۔
شہریار نے کنول سے پوچھا ۔۔۔
کنول تم وظیفہ پڑھ رہی ہو نا؟
کنول نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح۔۔۔
کنول معمول کے مطابق گھر کے کچھ کام کر رہی تھی جب اس کا موبائل بجا ۔۔۔
اس نے موبائل اٹھا کہ دیکھا تو عادی کی کال تھی ۔۔کنول نے کال اٹینڈ کی ۔۔تو عادی بولا ۔۔۔۔
اسلام علیکم کنول۔۔۔
کنول نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
کنول آپ نے جو کام کہا تھا وہ ہو گیا ہے ۔۔۔الطاف نام کا آدمی ہے جو کہ کالے جادو کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی غیر قانونی کام بھی کرتا ہے اس نے کافی لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔اور اس کا آ ستانہ آپ کے گھر سے تھوڑا دور ہے ۔۔۔۔
کنول نے بات سنی تو بولی ۔۔۔
شکریہ بہت آپ کا ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
کوئ بات نہیں ۔۔۔
کنول نے اللّٰہ حافظ کہہ کر فون بند کیا ۔۔
عادی نے کال بند کی تو کرسی کے پیٹھ پر سر ٹیکا دیا اور رات کی بات سوچنے لگا جب اسے سہل نے فون کرکے سب بتایا ۔۔۔
اسے حیرت ہوئ سب جان کے۔کہ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی اس تعویذ کی راکھ کو اکٹھا کر کے شاپر میں ڈال کے رکھ دیا ۔۔۔اب گھر سے نکلنے لگی تو اس نے لاڈو کو آ واز دے کر کہا ۔۔۔
اری لاڈو میں آ رہی ہوں کام کرکے ۔۔۔
لاڈو بولی ۔۔۔
ٹھیک ہے امی۔۔۔
کنول کی تائی جلدی جلدی چلتی ہوئ کنول والوں کے گھر کے پاس آئ ۔۔۔اور راکھ اٹھا کر وہ گھر کے دروازے پہ ڈالنے ہی لگی تھیں کہ جھٹکے سے زور سے وہ پیچھے ہوئیں اور ساری راکھ جو کہ اس کے ہاتھ میں تھی کنول کے گھر کے دروازے سے دور جا گری وہ پریشان سے ادھر ادھر دیکھنے لگیں۔۔اور ڈر کر فورا اپنے گھر کی طرف گئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کال کے بند ہونے کے بعد اس نے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھنے لگی نماز پڑھ کر اس نے سورتیں پڑھنا شروع کیں اور دعا کی ۔۔
اللّٰہ پاک مجھے راستہ دیکھائیں کہ کیسے میں اس انسان کو سزا دیلاوں ۔۔۔
کنول دعا کرتے ہی جائے نماز پہ لیٹ گئ ۔یہ اس کا روز کا معمول تھا وہ اسے ہی کرتی تھی نماز پڑھ کر جائے نماز پہ ہی لیٹ جاتی تھی آج بھی اس نے ایسے ہی کیا ۔۔انکھوں میں اس کے آنسو تھے اور دل میں باتیں اور دعا ۔۔۔۔
کب وہ دعا کرتے کرتے سو گئ اسے پتہ نہیں چلا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی آنکھ کھولی تو اسنے خود کو ایک خوبصورت عمارت کے کمرے میں لیٹا ہو پایا ۔۔۔کنول اٹھی تو اسی وقت کمرے کا دروازہ کھولا اور نورانی چہرے والے بزرگ اندر داخل ہوئے ۔۔۔کنول نے انہیں دیکھا اور بولی ۔۔۔
مولانا انکل آپ ۔۔۔
وہ بزرگ کنول کو دیکھ کر مسکرائے ۔۔۔۔کنول بولی ۔۔۔
مولانا انکل آپ کو پتہ ہے کہ کیا کر رہا وہ انسان میرے ساتھ مجھے تو لگتا ہے مجھ میں ہمت ہی نہیں اب کچھ کرنے کی ۔۔۔۔۔
مولانا صاحب بولے ۔۔۔
کنول نہیں بچے ہمت نہیں ہارنی۔۔اللہ پاک جب آ زمائش لیتے ہیں تو مدد بھی کرتے ہیں۔بس تم اپنے لیے دعا کرتی رہو اور نماز پڑھنا مت چھوڑنا ۔۔۔تہمارا اللّٰہ پہ بھروسہ ہی تہمیں ہمت دے گا ۔۔۔۔کنول نے انہیں دیکھا اور بولی ۔۔۔
جی اچھا ۔۔۔۔
منظر تبدیل ہوا تو کنول نے خود کو ایک جنگل میں کھڑے ہوئے پایا ۔وہ اردگرد خوف زدہ ہو کے دیکھنے لگی ۔۔راستہ تلاش کرکے وہ چلنے لگی ۔۔۔چلتے چلتے اسے ایک عمارت نظر آئ۔۔اس نے دیکھا تو عمارت اسے عجیب سی لگی اس عمارت کے چاروں طرف گندگی تھی ۔۔کنول کو گندگی دیکھ کر الٹی آنے لگی اس نے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔اس نے بہت سے لوگوں کو اس عمارت میں جاتے دیکھا ۔۔۔وہ بھی اس عمارت کے اندر گئ ۔۔اندر کا ماحول بہت عجیب تھا ہر طرف تھوڑی تھوڑی آگ جل رہی تھی اور مختلف جانور اس آگ کے اردگرد بیٹھے تھے اور لوگ ان جانوروں کو سجدہ کر رہے تھے ۔۔۔کنول یہ دیکھ کر حیرت میں آئ ۔۔ چلتے ہوئے وہ ایک کمرے کے آ گے روکی کمرے کا دروازہ کھول اس نے تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے ۔۔اس نے دیکھا کہ ۔۔
ایک آ دمی آگ جلا کر بیٹھا ہے اور اس کے پاس جانوروں کے کٹے ہوئے جسم پڑے ہیں اور ساتھ میں خون بھی ۔۔۔اور کوئ دو عجیب سی مخلوق بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھیں ہیں ۔جن کا جسم تو بندر جیسا ہے اور منہ چوہے اور کتے کی شکل والا ۔۔کنول خوف سے اندر کا منظر دیکھنے لگی ۔۔۔اس عمل کرنے والے انسان نے گرج کر کہا ۔۔۔
خنزر جو تہمیں کہا وہ کرو اور وہ جو محلول جس کو تم دونوں پہ ڈالا جائے تو جل کے بھسم ہو جاؤ گے وہ میرے پاس ہی ہیں ۔۔۔۔۔جاو اب ۔۔۔ان دونوں مخلوق میں سے ایک غائب ہو گئ۔۔اور اس انسان نے دوسری مخلوق کو دوسرے کمرے میں جانے کو کہا ۔۔ان کے جاتے ہی وہ انسان اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے کمرے کی ایک الماری کو کھول کر اس میں سے دو بوتلیں نکالیں اور خود سے ہی بولا ۔۔۔۔
اگر میرا عمل الٹا ہوا تو میرے ساتھ ساتھ یہ کمرا بھی تباہ ہو جائے گا ۔۔۔
کنول نے بات سنی اور اس انسان کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔شکل دیکھ کے اسے ایسا لگا کہ جیسے اس نے اس انسان کو کہیں دیکھا ہے ۔وہ اسے ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ کیسی نے کنول کو زور سے ہلایا ۔۔۔کنول جو کہ جائے نماز پہ سو رہی تھی ہڑبڑا کے اٹھی تو دیکھا ۔۔احمد بیٹھا تھا ۔۔۔وہ بولا ۔۔۔
کنول تم نیچے کیوں سو گئ ۔۔اٹھو ادھر سے ۔۔۔
کنول اٹھی اس نے جائے نماز لپٹ کر رکھی ۔۔کنول نے اس کے ہاتھ میں شاپر دیکھا تو بولی ۔۔۔
احمد پہ کیا ہے ؟۔۔۔
احمد نے شاپر میں سے پانی کی بوتل نکالی اور بولا ۔۔۔
یہ میرے دوست کے والد عمرے پہ گئے تھے وہ یہ زم زم اور کجھور لے کے آیا ہے۔۔۔
تم یہ زم زم کا پانی پی لو ۔۔۔
کنول نے زم زم کا پانی اس سے لیا اور دعا کرکے ایک گھونٹ پیا ۔۔۔
اور تھوڑی سی کجھور بھی کھائ ۔۔احمد اسے دیکھ کے بولا ۔۔۔کنول آج میں اور بھائ بکری کے آئیں گے اسے زنج کرکے جو گوشت بنوائیں گے وہ تم خود جا کے غریبوں میں بانٹ آ ؤ گی جگہ مجھے پتہ ہے جدھر ایسے لوگ رہتے ہی جن میں یہ گوشت بانٹے گئیں ۔۔۔کنول نے اچھاا میں سر ہلایا اور خواب کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد کے کمرے سے جانے کے بعد کنول نے موبائل اٹھایا اور میسج میں اپنا سارا خواب لکھ کر عادی کے نمبر پہ سینڈ کیا ۔۔۔۔
عادی نے ہسپتال میں تھا ۔۔
موبائل پہ میسج کی ٹون بجی تو اس نے میسج اوپن کرکے پڑھا تو وہ حیران ہوا ۔۔اس نے کنول کو کال ملائ ۔۔۔فون کنول کے ہاتھ میں تھا ۔۔اس نے فورا کال اٹینڈ کی۔۔عادی نے سلام کیا ۔کنول نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔عادی بولا ۔۔۔
کنول یہ خواب آپ کو کب آیا ؟۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
ڈاکٹر عادی جب سے میں ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر آئی تھی تب سے میں یہ دعا کر رہی تھی کہ مجھے پتہ چلے کہ کون ہے وہ جو میر ے ساتھ یہ کر رہا ہے ۔اپ خود دیکھیں ایک دن میں نے وظیفہ نہیں پڑھا تھا تو میری اتنی بری حالت ہوئ تھی۔ اگر
کیسی دن میں نہ پڑھ پائ تو کیا اس سے بھی بدتر ہوگا میرے ساتھ ۔۔نہیں میں نہیں چاہتی اب ایسا ہو ۔میرے معدے کی تکلیف میں اتنی مشکل سے برداشت کر پا رہی ہوں اور کچھ ہوا تو کیسے برداشت کر سکوں گی ۔۔۔پلیز عادی اب مجھے بتائیں میں کیا کروں ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
کنول پہلے ریلیکس ہوں آپ ۔اور جو میں نے پڑھنے کو کہا ہے وہ پڑھتی رہیں جو سورتیں بتائیں ہیں وہ پڑھیں ۔اپ کو خواب کے زریعے ہی پتہ چلے گا کہ کیا کرنا ہے اور کیا ہو گا ۔۔۔میں ساتھ ساتھ خود بھی پڑھ رہا ہوں تاکہ آپ کو اور کوئ مسلہ نہ ہو اوکے ۔۔۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے اللّٰہ حافظ۔۔۔
عادی نے بھی اللّٰہ حافظ کہا اور فون بند کر دیا ۔۔۔
عادی کنول کے خواب کے بارے میں سوچنے لگا یہ آ ستانہ نظر سنا اور پھر انکل کا یوں خواب میں نظر آ نا اس بات کا اشارہ تو نہیں کر رہے کہ اس الطاف نامی شخص کی خیر نہیں ہے اب ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: