Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 16

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 16

–**–**–

کنول فون بند کر کے بیٹھی ۔۔گزرے ہوئے وقت یاد آ نے لگے کس طرح اس نے سوچا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں آ گے بڑھے گی کیا خواب دیکھے تھے ۔۔۔کتنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں تھیں اس کی سب کی سب ختم ہو گئیں۔اس نے کرب سے آنکھیں بند کیں ۔انکھوں سے آنسوں نکلے ۔۔۔ سوچنے لگی وہ ۔۔۔
معدے کا درد پتہ نہیں کیسے ختم ہو گا یہ درد اچانک ہی ہوتا ہے اور اتنا شدید کہ جان ہی نکلنے لگ جاتی ہے ۔۔۔اللہ پاک کیا کروں میں؟ یہ درد یہ اذیت کب تک برداشت کروں میں ۔یہ بیماری تو آ پ کی طرف سے ہے ڈاکڑ سمیعہ نے ہی کہا تھا بیماری اللّٰہ کی طرف سے ہوتی ہے ۔پھر کیوں مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی؟ اللّٰہ کیا میں ساری عمر ایسے ہی اس انسان کے ظلم کا شکار رہوں گی ؟نہیں اللّٰہ پاک میں نہیں کر پاؤں گی برداشت ۔میں بہت کمزور ہوں ۔میرے اللّٰہ مدد کر میری ۔۔۔
یہ سوچتے ہی کنول رونے لگی اس کے رونے میں تیزی آئ اب وہ ہچکیوں میں رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف کا ہر عمل جو کہ وہ کنول پہ کر رہا تھا صحیح نہیں ہو رہا تھا وہ جیتنا عمل زیادہ کرتا کوئ نہ کوئ مشکل ہو جاتی ۔۔۔۔
کنول کی تائی الطاف کے پاس گئ ۔۔۔
الطاف نے اسے دیکھا تو کہا ۔۔۔
کیا ہو گیا ؟تیری ہوااڑی ہوئ ہیں؟۔۔۔۔
کنول کی تائی بیٹھتے ہوئ بولی ۔۔۔۔
سرکار آپ نے جیسا کہا ۔۔۔میں نے ویسے ہی دھواں دیا اپنے بیٹے کو تعویذ کا اور اس کی راکھ جیسے ہی میں نے کنول کے گھر کے باہر پھینکنے کی کوشش کی ایک جھٹکا لگا اور ساری راکھ دور گر گئ ۔۔۔۔۔۔
الطاف یہ سن کر چونکا اور کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
تم فکر نہ کرو ۔۔۔۔۔اس نے الو کی خون میں ڈوبی ہوئی چھری اٹھائ اور ایک کاغذ پہ اس چھری پہ لگے خون سے کچھ لکھا اور اسے سوکھنے دیا جب وہ خون اس کاغذ پہ سوکھ گیا تو اس نے وہ کاغذ اٹھا کر کنول کی تائی کو دیا اور کہا ۔۔۔
یہ کاغذ کیسی میٹھی کھانے والی چیز میں حل کرکے کنول کو کھلا دینا وہ چیز پھر دیکھو کیا ہوتا ہے ۔۔۔کنول کی تائی نے بہت خوش ہوکر وہ کاغذ لیا اور گھر چل دی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کمرے میں بیٹھی تھی صبح سے اسے درد ہو رہا معدے میں ہلکا ہلکا ۔۔طبیعت میں عجیب سا بھاری پن ہو رہا تھا اسے دوائ لینے کے بعد وہ باہر صحن میں آ ئ ۔۔۔۔اسی دوران صنم بیگم اس کے پاس آئیں اور بولیں ۔۔۔۔۔
کنول طبیعت تو ٹھیک ہے؟۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔اور کہا..۔۔۔
امی آج عجیب سی طبیعت ہو رہی ہے ۔۔۔
صنم بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
کنول تم میرے ساتھ آ صمو کمرے میں کپڑے تہہ کر کے رکھتے ہیں ۔۔میں نے تہمارے لیے ساگودانہ بنا لیا ہے آج وہی کھانا تم ۔۔۔
کنول بات سن کر اٹھی اور صنم بیگم کے ساتھ چل کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی نے گھر آ کر اپنی بیٹی لاڈو کو سب بتایا جو الطاف نے اسے کرنے کو کہا ۔۔۔لاڈو سب سن کے بولی۔۔
امی ویسے میٹھا دیں گے کیسے کنول کو ؟۔۔۔۔
کنول کی تائی بولی ۔۔۔۔
یہ کون سا مشکل کام ہے تم تھوڑا سا دودھ بنا لینا میٹھا ۔۔اس میں یہ گھول کر الگ سے اس کے کھانے میں ڈال دینا یا پیلا دینا ۔۔۔ویسے بھی تو تہمارے تایا بتا رہے تھے اسے دودھ سے بنی ہوئ چیزیں ہی آج کل کھانے کے لیے دی جارہی ہیں ۔۔۔۔
لاڈو نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
امی بس دیں مجھے یہ کاغذ میں بھی یہ کام کرتی ہوں ۔۔۔کنول کی تائی نے وہ کاغذ اپنی بیٹی کو دیا اور وہ کاغذ لے کر کچن میں گئ ۔۔۔۔
لاڈو نے دودھ ایک جگ میں ڈالا اس میں چینی مکس کی ۔چینی میس کرنے کے بعد اس نے ایک گلاس میں دودھ ڈالا اور اس میں وہ خون آ لودہ کاغذ اس گلاس والے دودھ میں ڈوبو دیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اس کاغذ کو نکالا اس پہ جو لکھا تھا وہ مٹ چکا تھا اس نے وہ کاغذ ڈسٹ بین میں پھینک دیا ۔۔۔اور ٹرے میں اس نے وہ گلاس اور جگ رکھا اسے ڈھانپا اور کمرے سے اپنی چادر لینے چلی گئ ۔۔۔
عفان کچن میں ایا اس نے دودھ دیکھا تو اس کا دل للچایا اس نے دودھ کا گلاس اٹھا کے آدھا پی لیا اور جگ میں سے دودھ گلاس میں ڈال دیا۔ جتنا اس نے پیا تھا اور ویسے ہی ڈاھانپ دیا جیسے پہلے ڈھانپا ہوا تھا ۔۔ اور کچن سے نکل گیا ۔۔۔۔
لاڈو چادر لے کے آ ئ اور ٹرے اٹھا کر کنول کے گھر چل پڑی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کپڑےتہہ کرکے کچن میں جانے لگی تو دروازے پہ دستک ہوئ۔۔اہستہ آ ہستہ چل کر دروازہ کھولنے گئ دروازہ کھولا تو لاڈو کو کھڑا پایا ۔۔۔کنول نے اسے سلام کیا اور اندر آنے کو کہا ۔۔۔
لاڈو نے سلام کا جواب دیا اور کہا ۔۔۔
کنول یہ میں دودھ لائی ہوں ۔اج ہم نے بنایا تھا تو سب کے گھر دیا تو ادھر بھی دینے آ گئ ۔۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔
او اچھا ۔۔۔لائیں دیں میں کچن میں رکھ آ تی ہوں ابھی ساگودانہ کھانا ہے اس کے بعد پی لوں گی ۔۔۔۔یہ سنتے ہی لاڈو بولی ارے تم انٹی کے پاس جاؤ میں کچن میں رکھ دیتی ہوں ۔۔کنول کو حیرت ہوئ اس بات پہ اس نے اچھا میں سر ہلایا ۔۔
لاڈو فورا کچن میں گئ اور کنول کے ساگودانے میں گلاس والے دودھ میں سے دو گھونٹ اس میں ڈالے اور وہ باقی دودھ وہاں پہ موجود برتن میں ڈال کر رکھ دیا۔۔۔۔۔اور کچن سے باہر آ کر وہ صنم بیگم کے پاس چلی گئ ۔۔۔۔ان سے مل کر وہ گھر چلی گئ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو بھوک محسوس ہوئی ۔وہ کچن میں ساگودانہ کھانے کے لیے لینے گئ ۔۔ساگودانہ لے کے پلٹی تو کچن میں بلی نظر آئ کنول نےاسے بھاگیا ۔۔اور ساگودانہ لے کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔وہ بلی دوبارہ کچن میں آئ اور گلاس میں موجود دودھ پی گئ ۔۔۔۔
کنول کمرے میں آکر ساگودانہ کھانے لگی ۔۔۔بسمہ اللّٰہ پڑھی ابھی ایک دو چمچ ہی اس نے کھائے تھے کہ اسے ساگودانے میں سے بو آنے لگی۔۔وہ کچن میں ساگودانہ رکھنے گئ تو اسنے پھر سے بلی کو دیکھا جو کہ گلاس والے دودھ کو گرا کر پی چکی تھی کنول نے یہ س دیکھا تو اس نے فورا بلی کو بھاگیا اور جگہ صاف کی اور کمرے میں آکر بیڈ پہ لیٹ گئ ۔۔۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عفان کی طبیعت خراب ہونے لگی ۔۔کمرے میں بیٹھے ہوئے اسے یوں لگا جیسے اس کی سانس روک جائے گئ وہ بے ہوش ہو گیا ۔۔۔کنول کی تائی اسے کمرے سے بلانے آئی تو اس کی حالت دیکھتے چونک گئیں ۔۔۔عفان زمین پہ اوندھے منہ بے ہوش پڑا. تھا ۔۔۔کنول کی تائی نے لاڈو کو بلایا اور کہا۔۔کہ اٹھاؤ اسے ۔میں رکشہ کرکے آ تی ہوں پھر اسے ہسپتال لے کر چلتے ہیں ۔۔۔۔لاڈو نے ویسے ہی کیا ۔۔دونوں ہی اسے ہسپتال لے گئے ۔۔لیکن وہ ہوش میں ہی نہیں آرہا تھا دونوں ہی پریشان ہو گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کمرے میں آ ئ تو اسے گھٹن ہونے لگی۔۔۔اس کو گٹھن زیادہ ہونے لگی تو وہ اٹھی اس نے وضو کیا اور نفل پڑھنے لگی ۔۔۔نفل پڑھ کے اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس لگا ابھی اس کا سانس بند ہو جائے گا ۔۔کنول لمبا سانس لینے لگی اس کے دماغ کو کچھ ہوا ۔۔انکھوں کے آگے اندھیرا چاہنے لگا ۔۔وہ اٹھی لیکن چکر آئے تو گر پڑی اور بے ہوش ہو گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف کو کنول کے بے ہوش ہونے کی خبر ملی تو وہ فوراً اٹھا اور اس کمرے میں گیا جدھر وہ عمل کرتا تھا ۔۔کمرے میں آتے ہی اس نے اپنے آدمی کو بلایا ۔۔۔۔وہ آدمی اندر آیا تو الطاف نے کہا ۔۔۔۔۔۔
قبرستان کے ساتھ موجود جنگل میں جدھر ہم ہر وقت چلہ کرتے ہیں ادھر سب سامان لے کر چلو ۔۔ابھی ۔۔۔
وہ آدمی سر ہلاتا چلا گیا اور الطاف اٹھا باہر جانے لگا تو اس نے وہ محلول بھی اٹھا لیے ۔اسے ایک بوکس میں رکھ دیا ۔۔شیطانی ہنسی ہنستے بولا ۔۔۔
کنول اب تجھے کوئ نہیں بچائے گا وہ عادی بھی نہیں ۔۔۔بوکس اٹھاتا وہ کمرے سے باہر اگیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی واک پہ آ یا ہوا تھا ۔۔واک کرتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ کچھ آیتیں بھی پڑھ رہا تھا ۔۔۔اچانک ہی اس سے ایک آدمی ٹکرایا ۔۔اس کا منہ چادر سے ڈھانپا ہوا تھا ۔۔عادی نے اس سے معافی مانگی تو آدمی بولا ۔۔۔
جاؤ جلدی اس لڑکی کو بچاؤ وہ مشکل میں ہے جاؤ ۔۔۔عادی سے دیکھ کر بولا ۔۔۔
کس کو بچاؤں ؟۔۔۔
وہ آدمی بولا ۔۔۔
جس کو بچا رہے ہو ۔۔۔۔
عادی کے دماغ میں کنول کا خیال آیا تو وہ بولا اس آدمی کو ۔۔۔
کیا ہوا کنول کو ۔۔۔
وہ آدمی بولا ۔۔۔
دیر مت کرو بچاؤ جاؤ اس کو ۔۔۔
عادی واپس جانے کے لیے پلٹا تو کچھ خیال آنے پر وہ روکا اس آدمی کو بات کرنے لیے بلانے لگا تو وہ آدمی کہیں نظر نہ آیا ۔۔۔عادی سمجھ گیا سب ۔۔وہ بھاگنے والے انداز میں اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا ساتھ ہی شہریار کو کال کرنے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
کنول جو کہ بے ہوش تھی ۔۔صنم بیگم واش روم میں تھی ۔۔۔اہستہ آ ہستہ رات ہونے لگی ۔۔۔کنول کی آنکھ بہت زیادہ تپش محسوس ہونے پہ کھولی ۔۔۔کنول نے حیرت سے اردگرد دیکھا تو وہ ایک دائرے میں تھی جس کے اردگرد خون تھا اور درمیان میں آگ تھی ۔۔جو کہ کنول کے پاس ہی جل رہی تھی ۔آس پاس جنگل تھا اور الطاف کچھ پڑھنے میں مصروف تھا ۔۔۔کنول نے الطاف کو دیکھا تو اس کو اپنا خواب یاد آیا جس میں اس نے الطاف کو دیکھا تھا ۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اسے ہاتھ اور پاؤں دونوں ہی بندھے ہوئے تھے ۔۔۔وہ اسی حالت میں بولی ۔۔۔۔
کون ہو تم میں یہاں کیسے آ ئی؟۔۔۔۔۔
الطاف نے کنول کی آ واز سنی تو پڑھنا روک کر اس نے آنکھیں کھول کر کنول کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
بہت شوق تھا نا تجھے اپنے باپ کو بچانے کا میرے کام میں روکاوٹ ڈالنے کا ۔۔اور وہ عادی جو تجھے بچا رہا تھا ۔اج تجھے کون بچائے گا ؟۔۔۔تجھے ادھر لانا میرے لیے مشکل نہیں تھا ۔۔۔بے ہوشی میں تو خود چل کے ادھر آ ئ ۔۔۔۔کنول اس کی بات سن کر بولی ۔۔۔۔
تو وہ تم ہو ۔۔جس نے میرے بابا کے ساتھ کیا تھا جس نے میری عزت تک تباہ کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
الطاف شیطانی ہنسی ہنسا اور بولا ۔۔۔
آج میں تیری قربانی دوں گا اور پھر میرے پاس وہ طاقت ائے گی جس کا کوئ مقابلہ نہیں کر سکے گا ۔۔۔۔
کنول اٹھنے لگی لیکن جھٹکے سے نیچے گر گئ ۔۔۔اسے درد ہونے لگا ۔۔الٹیاں اسے شروع ہوئیں تو اس میں سے خون آنے لگا ۔۔۔۔کنول نڈھال سی ہونے لگی ۔۔۔ہمت ختم ہونے لگی اس میں ۔۔۔لیکن دل اور دماغ میں بات آئ ۔۔۔جیسے اسے کوئ کہہ رہا ہو۔کنول آیت الکرسی پڑھو ہمت کرو اللّٰہ پاک ہیں تہمارے ساتھ کنول پڑھو جلدی ۔۔۔کنول نے تعوذ اور تسمیہ پڑھیں اور آیت الکرسی پڑھنا شروع کی ۔۔۔ایت الکرسی پڑھتے ہی وہ اٹھی اور اپنے ہاتھ پاؤں کھولنے لگی ۔۔۔الطاف کے عمل میں روکاوٹ شروع ہوئ تو اسنے آنکھیں کھولیں کنول اب مسلسل آیت الکرسی پڑھ رہی تھی اس نے کنول کو پڑھتے دیکھا تو کتے کے خون سے بھرئےہوئے برتن میں سے اس نے اپنا ہاتھ ڈالا اور کچھ پڑھ کر کنول پہ پھینکنے لگا۔۔لیکن کنول آیت الکرسی پڑھ کر اپنے پر دم کر رہی تھی وہ ایک طرف ہو گئ ۔۔۔۔الطاف کے آدمیوں نے یہ سب دیکھا تو اس نے ایک لڑکی کا ٹکڑا اٹھا کر کنول کی پیٹھ پر زور سے مارا ۔۔۔کنول نیچے گر گئ ۔۔نیچے گرتے ہی زمیں پہ موجود کانٹے کنول کے پیٹ میں چبھ گئے کنول درد سے بولی ۔۔۔امی ی ی ی ی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار جو کہ ابھی گھر کے دروازے پہ ہی تھا کہ عادی کی کال آ ئ ۔۔۔۔۔۔
شہریار نے کال اٹینڈ کرکے سلام کیا ۔۔۔
عادی نے سلام کا جواب دیتے ہو ئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
شہریار کنول کدھر ہے ؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
عادی سب ٹھیک ہے؟کنول کمرے میں ہی ہو گی ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔شہریار ابھی جا کے دیکھو کنول کمرے میں ہے کہ نہیں ۔۔۔شہریار نے کال ہولڈ پہ کی اور گھر میں گیا ۔۔۔ کنول کے کمرے میں گیا تو کنول کمرے میں نہیں تھی ۔۔۔۔شہریار نے صنم بیگم کو آواز دی ۔۔۔
امی کنول کدھر ہے ؟۔۔۔
صنم بیگم کمرے سے نکل کے آئیں اور بولیں ۔۔۔
کیا ہوا شہریار؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
کنول کدھر ہے امی؟۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
کیا مطلب کدھر ہے ؟کمرے میں ہی تھی وہ اپنے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
امی وہ کمرے میں نہیں ہے ۔۔۔
__
صنم بیگم پریشان ہو گئیں اور بولیں ۔۔۔
شہریار کنول اپنے کمرے میں ہی تھی اب کدھر گئ مجھے کچھ نہیں پتہ ۔۔۔
شہریار نے موبائل کان سے لگایا اور عادی کو کہا ۔۔۔۔
عادی کنول اپنے کمرے میں نہیں ہے ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
شہریار آپ لوگ گھر رہو میں آ رہا ہوں ۔۔۔۔
یہ کہہ کر عادی نے کال بند کی اور کار کی سپیڈ تیز کر دی ۔۔۔۔
کال بند ہونے کے بعد شہریار نے احمد کو کال ملائ….
احمد جو کے ریاض صاحب کے ساتھ گھر آ رہا تھا ۔۔۔۔اس کا موبائل بجا ۔اس نے دیکھا تو شہریار کی کال تھی ۔۔اس نے کال اٹینڈ کی اور بولا ۔۔۔۔
کیا ہوا بھائ؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
احمد تم اور بابا ابھی گھر پہنچو ۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
جی بھائ ۔میں اور بابا گھر ہی آ رہے ہیں سب ٹھیک تو ہے نا؟۔۔۔
شہریار بولا۔۔۔۔
تم آ ؤ گھر بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے کال بند کر دی ۔۔۔۔
عادی کنول کے گھر پہنچا دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔۔
شہریار نے دستک ہونے پر دروازہ کھولا ۔۔۔۔
عادی جو کہ دروازے کھولنے کے انتظار میں تھا ۔۔۔دروازہ کھلتے ہی عادی نے شہریار کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
شہریار کنول کدھر ہے ؟۔۔۔۔
شہریار نے اس کی بات سن کر کہا ۔۔۔
عادی اندر آ ؤ ۔۔۔۔
عادی گھر کے اندر آیا تو شہریار اسے لاونج میں لے کر گیا ۔۔صنم بیگم بھی ان کے ساتھ لاونج میں آئیں تو عادی بولا۔۔۔۔
شہریار کنول اپنے کمرے میں نہیں ہے کیا؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
عادی یہی تو سمجھ نہیں آ رہا کہ کنول گئ کدھر امی بول رہیں تھیں ۔کنول کمرے میں تھی ۔۔۔
عادی یہ سن کر بولا ۔۔۔
شہریار مجھے اس کے کمرے میں لے چلو ۔۔۔
شہریار نے اچھا میں سر ہلایا اور عادی کو کنول کے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔
عادی کنول کے کمرے میں آیا تو ہر چیز کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔کمرے کے درمیان میں کھڑا ہوا تو اس نے صنم بیگم سے بولا ۔۔۔
انٹی کنول نے آج کچھ میٹھا کھایا تھا؟۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
آج ساگودانہ بنایا تھا وہی کھایا تھا اس نے ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
انٹی آپ مجھے وہ باول لا دیں جس میں اس نے ساگودانہ کھایا تھا ۔۔۔۔
صنم بیگم اچھا بول کے وہ باول لینے کچن سے چلیں گئیں ۔۔۔
عادی نے پڑھنا شروع کیا اور آنکھیں بند کیں ۔۔۔
عادی نے جیسے آنکھیں بند کر پڑھنا شروع کیا تو اسے اندھیرے کے ساتھ ہی جنگل نظر آنے لگا ۔۔۔کچھ دھندلا سا منظر نظر آنے لگا لیکن چیخ کی آواز سے اس کی آنکھیں کھول گئیں ۔۔۔
شہریار بھی چیخ کی آواز سے چونکا ۔۔۔
دونوں کمرے سے باہر نکلے تو صنم بیگم کو دلڈر سے چیختے دیکھا تو شہریار صنم بیگم کے پاس گیا اور بولا ۔۔۔۔
کیا ہوا امی ۔..
صنم بیگم نے انگلی سے اشارہ کیا ۔تو عادی اور شہریار نے دیکھا۔۔۔
کچن کے دروازے پہ ہی بلی خون میں لت پت مری پڑی تھی ۔۔۔اسی دوران احمد اور ریاض صاحب گھر میں داخل ہوئۓ۔۔۔۔دونوں ہی ادھر گئے جدھر عادی،صنم بیگم ،شہریار کھڑے تھے ۔۔۔۔احمد اور ریاض صاحب نے بلی کو مرے ہوئے دیکھا تو ریاض صاحب بولے ۔۔۔
یہ سب کیا ہے؟۔۔۔۔احمد بھی پریشان ہو کر شہریار کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
احمد اور شہریار یہ کیسی طرح سے باہر پھینکو ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے عادی کو دیکھا اور بولے ۔۔۔۔
تم ادھر کیسے؟۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
انکل آپ ۔۔۔اس کا مطلب کنول آپ کی بیٹی ہے ۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
عادی بیٹا آپ جانتے ہو ریاض صاحب کو ؟۔۔۔۔
شہریار اور احمد اس بلی کو ٹھکانے لگانے لگے ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
جی انٹی ۔۔انکل اپنی بھانجی کے علاج کے لیے آئے تھے میرے پاس۔۔۔
صنم بیگم نے گھور کر ریاض صاحب کو دیکھا اور کچن سے وہ باول اٹھا کے آئیں جس میں کنول نے ساگودانہ کھایا تھا ۔۔۔
عادی نے اس باول میں موجود ساگودانہ دیکھا تو سونگھا اس میں سے خون کی بو آ رہی تھی۔۔۔عادی وہ سونگھ کے سب سمجھ گیا کہ کیسی نے اس میں خون ملا یا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
احمد اور شہریار بلی کو ٹھکانے لگا کے آئے تو احمد بولا ۔۔۔
کنول کدھر ہے ؟۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
پتہ نہیں اس وقت سے دیکھ رہے ہیں کہیں نہیں ہے وہ ۔۔۔
احمد نے پریشان ہو کہ عادی کو دیکھا ۔۔۔
ریاض صاحب نے جب سنا کہ کنول گھر میں موجود نہیں ہے تو بولے ۔۔۔۔
حد ہو گئ یہ لڑکی کدھر گئ ہے کوئ آتا پتہ نہیں ہے ۔۔۔
صنم بیگم جو غصے اور پریشانی میں کھڑی تھیں وہ بولیں ۔۔۔۔۔
بس کر دو ریاض بس کر دو ۔۔تہماری بیٹی ہے وہ ۔تہماری وجہ سے وہ اس حال میں پہنچ گئ ۔تہمیں تہماری بھانجی بیمار نظر آ تی ہے ۔اپنی بیٹی نہیں۔۔یاد ہو تم کو تو تہماری بھابھی کے کہنے پہ اس نے تم پہ پڑھا تھا تہمیں اس جن سے بچاتے ہوئے میری بچی کی یہ حالت ہو گئ ۔اس گندے انسان نے تہمیں نقصان پہنچا نا چاہا مگر میری بچی آگے آ گئ ۔ارے اس چیز نے میری بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی مگر شکر اللّٰہ کا کہ وہ بچ گئ ۔۔اس کی عزت محفوظ رہی ۔۔مگر تم وہی رہے ضدی۔۔لوگوں کی بات ماننے والے ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے یہ سنا تو چونکے ۔۔۔اور بولے ۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو ؟۔۔۔۔۔
عادی ادھر ہی کھڑا تھا جب اسے لگا کہ کنول درد سے چیخی ہے ۔۔۔
اس نے شہریار کو کہا ۔۔۔
شہریار تم چلو میرے ساتھ کنول کو ڈھونڈنے اور احمد تم گھر میں رہو انٹی اور انکل کے ساتھ۔۔۔۔۔
صنم بیگم رو رہیں تھیں اور ساتھ میں ہی بولیں ۔۔۔۔
عادی میری بچی بہت کمزور ہے اسے بچا لینا ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
انٹی آپ دعا کریں ہمیں کنول مل جائے جو میں سوچ رہا ہوں اگر تو کنول ادھر ہی ہے تو میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن ان شاءاللہ اسے لے کے آ وں گا ۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
ان شاءاللہ ۔۔۔
شہریار اور عادی کنول کو ڈھونڈنے چلے گئے ۔۔۔۔۔
صنم بیگم روتے ہوئے احمد سے بولیں ۔۔۔۔
احمد پتہ نہیں کدھر ہو گی میری بچی ۔۔۔۔
ریاض صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔وہ اسی وقت وضو کرکے نفل پڑھنے لگے ۔۔۔۔احمد صنم بیگم کو کمرے میں لے کر گیا وہ دونوں ہی بیٹھے دعا کر رہے تھے کنول کے لیے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
افعان کی حالت سن کر کنول کے تایا بھی ہسپتال میں آ گئے ۔۔۔افعان کو ہوش نہیں آیا تھا اس نے منہ اور ناک سے خون نکل رہا تھا جو کہ روک ہی نہیں تھا ۔۔ڈاکڑ پریشان ہو گئے تھے ۔۔کیوں کہ کوئ بھی دوائ اثر نہیں کر رہی تھی اس پہ ۔۔۔۔
ڈاکٹر سی سی یو سے باہر آئے تو سب ان کے پاس گئے افعان کا پوچھنے ۔۔۔
ڈاکٹر نے نسخہ پکڑایا اور بولے یہ انجکشن لا دیں ۔۔۔افعان کی کنڈیشن خراب ہو رہی ہے آپ دعا کریں ۔۔۔یہ کہتے ہی ڈاکڑ چلا گیا ۔۔۔۔
لاڈو وہ نسخہ لے کے انجکشن لینے گئ ۔۔جیسے وہ سیڑھیاں اترنے لگی اس کا پاؤں پھسلا اور سیڑھیوں سے نیچے گر کر بے ہوش ہو گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول درد سے چیخی تو اس کے منہ سے نکلا ۔۔۔
امی۔۔۔
الطاف کے ادمیوں نے کنول کی کمر پر لکڑی سے اور وار کیا ۔۔۔کنول درد سے زمیں پہ ہی گری رہی ۔۔۔اس کی ہمت جواب دینے لگی ۔۔۔۔
الطاف نے اپنا عمل شروع کیا ۔۔۔کنول نیم بے ہوشی کی حالت میں ہی گری رہی زمین پہ۔۔۔کنول محسوس کر پا رہی جو جو الطاف کر رہا تھا ۔۔۔۔اچانک ہی کنول کے لب ہلے اس نے آنکھیں کھولیں اور بسمہ اللہ پڑھ کر سورتیں رحمن پڑھنا شروع کر دی ۔۔۔سورتہ رحمن پڑھتے ہی الطاف کا عمل روکنے لگا ۔۔۔اس کا سامان جو کہ عمل کے لیے اس کے پاس پڑا تھا وہ دور جا گرا ۔۔۔۔
کنول نے سورتہ رحمن اونچی آواز سے پڑھنا شروع کی۔۔۔الطاف کا ہاتھ کانپنے لگا ۔۔۔ہر چیز الطاف کو خود سے دور جاتی محسوس ہوئی ۔۔۔کنول ہمت کر کے اٹھ کے کھڑی ہوئ ۔۔اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے الطاف کی طرف جانے لگی ۔اور سورت رحمن پڑھنے لگی ۔۔۔الطاف کے آدمی بھی اب کچھ نہیں کر پا رہے تھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی اور شہریار کنول کو ڈھونڈنے نکلے تو عادی نے اپنے دوست سہل کو کال کرکے پوچھا کہ آستانہ کس طرف ہے اس نے سارا راستہ بتایا تو عادی فورا سے گاڑی اس راستے کی طرف موڑی جس طرف آستانہ تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں عادی اور شہریار اس آستانے پہ موجود تھے ۔۔۔۔
شہریار نے عادی سے کہا ۔۔۔
عادی تہمیں کیوں لگا ایسا کنول ادھر ہو گی۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
جب میں کنول کے کمرے میں تھا تب ہی جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو مجھے یہی آستانہ دھندلا سا نظر آیا ۔۔اور اب تو چاند کے شروع کے دن ہیں ۔ان دنوں میں چلہ کاٹا جاتا ہے اور وہ انسان آج کچھ غلط نہ کر دے کنول کے ساتھ ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
اللّٰہ نہ کرے ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
چلو اب ڈھونڈے کنول کو ۔۔۔
یہ کہہ کر عادی اور کنول دونوں ہی کار سے نکلے اور آستانے کے اندر گئے ۔۔۔استانے میں داخل ہوکر عادی کو ایک آدمی نظر آیا ۔۔۔عادی نے اس سے پوچھا ۔۔۔
بھائ صاحب۔۔الطاف صاحب کدھر ہیں؟ان سے ملنا تھا ۔۔۔
اس آدمی نے عادی کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
جناب سرکار تو اپنے چلے میں مصروف ہیں ادھر پاس میں ہی آپ کل آجائیے گا ۔۔۔
عادی نے یہ سنا اور کہا ۔۔جی جی اچھا ۔۔۔۔
اور جلدی سے شہریار کا ہاتھ پکڑ کر آ ستانے سے باہر لے کر آیا ۔۔۔
شہریار نے عادی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
کیا ہوا؟۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
شہریار تم نے سنا کہ وہ چلے میں مصروف ہے مطلب کہ وہ یہی پاس ہی کہیں چلہ کر رہا ہے اور شاہد کنول ادھر ہو ۔۔۔
شہریار نے بات سنی اور کہا ۔۔۔
عادی اس آستانے کے پیچھے کی طرف شاہد قبرستان ہے ۔۔
عادی بؤلا۔۔
چلو پھر ۔۔۔
دونوں ہی قبرستان کی طرف چل پڑھے ۔۔۔
عادی نے قبرستان داخل ہونے سے پہلے شہریار کو کہا ۔۔۔
شہریار کچھ سورتیں ہیں جو میں تھیں بتا رہا ہوں وہ پڑھتے رہنا ۔۔جب تک کنول نا ملے ۔۔۔
شہریار نے اچھا میں سر ہلایا۔۔۔
عادی نے سورتیں بتائیں اب وہ دونوں ہی سورتیں پڑھتے ہوئے قبرستان میں داخل ہوئے اور کنول جو ڈھونڈنے لگے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول الطاف تک پہنچی تو اور بھی اونچی آ واز میں سورت رحمن پڑھنے لگی ۔۔۔۔
ساری چیزیں الطاف سے دور ہوئیں تو کنول نے باکس کو دیکھا اس نے وہ باکس اٹھا لیا ۔۔۔۔
الطاف نے اسے دیکھا تو کنول نے جلدی سے وہ بوکس کھولا اور محلول نکالے ۔۔۔محلول نکالتے ہی خنزر اور خلر دونوں سامنے آئے اور زور سے چیخے ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔
کنول نے ان دونوں کو دیکھا تو خوف سے وہ زور سے چیخی ۔۔۔اس کی چیخ کی آواز عادی اور شہریار نے سنی وہ دونوں ہی اس سمت گئے جدھر سے چیخ کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔
خلر اور خنزر دونوں کے ہی بھیانک چہرے دیکھ کر کنول چیخی تھی اس نے سورت پڑھنا روک دی ۔۔۔
اسی دوران الطاف اٹھا اور کنول کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
کنول خوف سے پتھر بنی خلر اور خنزر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
عادی اور شہریار ادھر پہنچے جدھر الطاف چلہ کر رہا تھا ۔۔۔
دونوں نے کنول کو دیکھا ۔۔۔
تو عادی زور سے بولا ۔۔۔
کنول ہوش میں آؤ وہ محلول پھینک دو ۔۔۔
الطاف نے عادی کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
مرے گا تو بھی ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
کنول ہوش میں آؤ ۔۔۔
الطاف عادی کے پاس آیا اور اسے مارنے کے لیے بڑھا ہی تھا ۔۔۔عادی بولا ۔۔۔۔
کنول ۔۔۔۔۔۔
کنول ہوش میں آئ ۔۔وہ محلول لے کر پیچھے ہوئ ۔۔۔تو الطاف کے آدمی کنول کو مارنے کے لیے آگے بڑھے ۔۔کنول کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرہے ۔۔۔اسی دوران کنول نے محلول کی بوتلوں کو پیھنکا زمین پہ ۔۔۔ایک زور دار دھماکہ ہوا ۔۔۔خلر اور خنزر دونوں کا جسم جلنے لگا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: