Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 3

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 3

–**–**–
اس کے کمرے میں موجود اس وجود نے جب اسے کھیر کھاتے دیکھا تو وہ خوش ہوا ۔۔۔
کنول ساری کھیر کھانے کے بعد دوبارہ پڑھنے لگی ۔۔۔
پڑھتے ہوئے اسے محسوس ہوا کے اس کے کمرے کے دروازے کے پاس کوئ کھڑا ہے ۔۔۔کنول کو پہلے تو اپنا وہم لگا اس نے اسے اگنور کیا لیکن جب مسلسل کوئ چیز کھڑی ہوئ محسوس ہوئی تو اس نے فورا دیکھا تو ادھر کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔
کنول کو عجیب سا خوف آ نے لگا ۔۔۔
اسی دوران صنم بیگم بھی آ گئیں ۔۔۔۔۔
کنول کمرے سے اٹھ کر باہر آ ئ اس نے انہیں پانی دیا ۔۔۔
کنول نے صنم بیگم کو بتایا کہ ۔۔۔
عمر کھیر دینے آ یا تھا ۔۔۔مجھے اچھی لگی تو میں ساری کھا گئ ۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
کوئ بات نہیں تم پڑھو جا کر میں کھانا بنا لیتی ہو ں ۔۔۔۔
کنول کمرے میں آ گئ دوبارہ وہ پڑھنے لگی ۔ پڑھتے پڑھتے کب سو گئ اسے پتہ ہی نہیں چلا کنول کی آنکھ تب کھولی جب نماز کا وقت گزر چکا تھا ۔۔کںول نے وقت دیکھا تو سر پر ہاتھ مارا اور کہا ۔۔۔
اف میں کتنا سو گئ میری نماز چلی گئ ۔۔۔
وہ منہ دھو کے باہر آ ئ تو سب کمرے میں ۔ بیٹھے تھے اسے دیکھ کر احمد بولا ۔۔ ۔۔۔
اٹھ گئ جناب ۔۔۔
کنول نے اس بات پہ اسے کہا ۔۔۔
ہاں کیوں کیا ہوا ہے ؟
احمد بولا ۔۔۔
ہو تو کچھ نہیں بس تھوڑا سکون تھا نا ۔۔۔۔
کنول نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیا مطلب اس بات کا ۔۔۔
احمد نے اس بات پہ کہا ۔۔۔
میں نے یہ کہا کہ تم سو رہی تھی تو سکون تھا ورنہ تو اتنا شور کرتی ہو اللّٰہ ۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔
احمد تم باز آ جاؤ میرا بولنا تہمیں شور لگتا ہے ۔دیکھنا جس دن خاموش بیٹھوں گی نا تہمیں ہی زیادہ برا لگے گا ۔۔۔۔
احمد اس بات پہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
میں ایسا نہیں کہوں گا ۔۔۔۔
کنول منہ بنا کہ بیٹھ گئ ۔۔۔تو باقی سب اس بات پہ ہنسنے لگے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف نے کمرے میں ہی بیٹھتے خلر کو بلایا ۔۔
خلر نے آتے ہی کہا ۔۔۔
سرکار کیا حکم ہے ؟
الطاف نے اس بات پہ کہا ۔۔۔۔
خلر کیا بنا ؟کام ہوا کہ نہیں ۔۔۔۔
خلر بولا ۔۔۔۔
سرکار میں نے وہ کھیر اس لڑکی کو کھلا دی ہے جس پہ شیطانی عمل کیا ہوا تھا اور مزے کی بات اس نے کھانے سے پہلے کچھ پڑھا ہی نہیں ۔۔۔
اب اس کے حواسوں پہ قبضہ کرنا آ سان ہو گا ۔۔۔۔
الطاف اس بات پہ بولا ۔۔۔
بہت خوب ۔۔۔۔اور دل میں سوچنے لگا ۔۔۔
لڑکی مزا آ ئیے گا تیرا شکار کرنا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول بیڈ پہ چادر اوڑھ کر لیٹی ہوئی تھی ۔انکھیں بند کر وہ خود کو پرسکون کر رہی تھی ۔اچانک ہی کیسی نے اس کی چادر کھینچی ۔۔۔۔
کنول نے آ نکھیں بند کیے ہوئے ہی کہا ۔۔۔۔
احمد مت کرو تنگ ۔۔۔
تب ہی کیسی نے اس پر سے چادر کھینچ کر دور پھینکی اور اس کو ٹانگوں سے چھوا ۔۔۔۔۔
کنول نے فوراً آ نکھیں کھولیں اور اردگرد دیکھنا شروع کیا ۔۔۔۔
اسی دوران کنول کے ہاتھوں میں عجیب سی چھبن محسوس ہونا شروع ہوئ ۔۔۔
کنول ڈر کر چیختی ہوئ باہر بھاگی ۔۔۔۔
سب نے کنول کی چیخ سنی تو اس کے کمرے کی طرف آ ئے ۔۔۔۔
کنول کمر ے سے نکلی تو ڈر صنم بیگم سے لیپٹ گئ ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو دیکھا تو کہا ۔۔۔
کنول بچے کیا ہوا ہے کیوں ڈر رہی ہو
____
کنول نے ڈرتے ہوئے کہا ۔۔۔
امی اندر کوئ ہے ۔۔۔
شہر یار اور احمد نے اندر کمرے میں دیکھا ۔۔۔
اندر کوئ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
دونوں نے باہر آ کر کہا ۔۔۔۔
اندر کوئ نہیں ہے ۔تم نے پھر کوئ برا خواب دیکھا ہو گا۔۔۔
کنول نے فوراً کہا ۔۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے میں نے سچ میں کچھ دیکھا ہے ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے یہ سنا تو کہا ۔۔۔
ہو گئ شروع یہ لڑکی کبھی کیا ہو رہا ہے ایسے کبھی کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔
کنول نے دکھ میں باپ کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کی حالت دیکھی تو کہا ۔۔۔
اچھا اچھا پرسکون ہو جاؤ ڈرو نہیں ۔۔۔
کنول کمرے میں جاتے ہوئے ڈر رہی تھی اس کی حالت دیکھ کر صنم بیگم بولیں ۔۔۔
ڈرو نہیں میں آ ج تہمارے ساتھ سو جاؤ ں گی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد ۔۔۔
کنول کے پیپرز شروع ہو گئے تھے ان کی تیاری میں مصروف تھی وہ اس دن کے بعد سے ہی صنم بیگم اس کے ساتھ سو رہیں تھیں اور پھر کوئ واقعہ ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول پیپر دے کے گھر آ ئ ۔۔۔
اس نے سلام کیا اور بولی ۔۔۔
امی کچھ پیپرز رہے گئے ہیں آ پ کو میری وجہ سے مسلہ ہو رہا ہوگا نہ ؟
صنم بیگم نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
ارے میرا بچہ کچھ بھی نہیں ہے تم پریشان نہ ہو ۔۔۔۔
کنول اس بات پہ مسکرائ۔۔۔۔
کنول آٹھ کے کمرے میں جانے لگی تو بولی ۔۔۔۔
امی میں کمرے میں جا رہی ہوں نماز بھی پڑھ لوں گی…
کمرے میں آ کر کنول نے وضو کر کے نماز پڑھنا شروع کی ۔۔۔
لیکن نماز کے دوران ہی اس کے دماغ میں باتوں کا شور شروع ہو گیا وہ خشوع وخضوع نہیں آ رہا تھا جو کہ ہر وقت آ تا تھا ۔۔۔
نماز پڑھنے کے بعد کنول سوچنے لگی ۔۔۔
یہ ہو کیا رہا ہے مجھ سے نماز کیوں نہیں صحیح پڑھی جا رہی اور کیوں میرے دماغ میں غلط باتیں آ رہی ہیں کیا کروں میں کہیں وہ جو اس دن نظر آ یا کیا وہ میری imagitation تھی یا پھر سچ تھا ۔۔۔۔
کنول یہ سب سوچتے ہوئے باہر آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
تب ہی ایک بلی اس کے پاؤں کے پاس آ ئ اور گھورانے لگی ۔۔۔۔
کنول نے اسے دیکھا ۔۔۔۔
وہ کنول کی آ نکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھنے لگی ۔۔۔
کنول اسے عجیب نظروں اور غصے سے دیکھنے لگی اور بولی ۔۔۔
جاؤ یہاں سے ۔۔۔
وہ بلی کنول کو دیکھ کے کر زور سے گھورای ۔۔۔۔
کنول اس کی آ نکھوں میں دیکھ کر مدہوش ہو نے لگی ۔۔۔اچانک ہی اس کے دماغ میں شور سے جھٹکا لگا اور آ واز آ ئ ۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو کنول ہوش میں آ ؤ ۔۔۔۔
کنول کرنٹ کھا کر ہوش میں آ ئ ۔۔۔۔
کنول پریشانی میں ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔۔اور سوچنے لگی
یہ ہو کیا رہا ہے ؟شاہد پیپرز کی پریشانی کی وجہ سے ہے ۔۔۔اففففف میں بھی نہ ۔۔۔
وہ یہ سوچتے ہوئے صنم بیگم کے پاس کچن میں گئ اور کھانا بنانے میں ہاتھ بٹانے لگی ۔۔۔
….۔۔۔۔۔۔
عشاء کے بعد سب ہی اکٹھے ہوکر لاونج میں بیٹھے تھے ۔۔۔ریاض صاحب کیسی کام سے باہر گئے تھے ۔۔۔
ٹی وی پہ فنی فلم لگی ہوئ تھی جو کے احمد دیکھ رہا تھا ۔۔۔کنول اپنی کتابیں اٹھا کر بیٹھی تھی ۔۔۔شہریار موبائل پہ مصروف تھا ۔۔۔۔
احمد نے کنول کو مصروف دیکھا تو اسے شرارت سوجھی ۔۔۔
اس نے اپنی جیب سے نقلی چھپکلی نکالی اور چپ کر کے کنول کے کندھے پہ رکھ دی ۔۔۔۔
کنول چونکہ کام میں مصروف تھی اس لیے اسے پتہ نہ چلا ۔۔۔
احمد نے کنول کو بلایا ۔۔۔۔
کنول ۔۔۔
کنول نے جواب میں کہا ۔۔۔۔
ہممم۔م کیا ہوا؟
احمد بولا۔۔۔
کنول یہ تہمارے کندھے پہ کیا ہے ؟
کنول نے بے خبری میں کندھے پہ دیکھا تو چیخ مار کر اس نقلی چھپکلی کو دور کیا ۔۔۔۔
ڈر کر وہ کھڑی ہوئ اور احمد ہنسنے لگا ۔۔۔۔
شہریار نے دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔
کنول نے احمد کو گھورا اور کہا ۔۔۔۔
احمد کے بچے تہمیں میں چھوڑوں گی نہیں روکو ذرا ۔۔۔۔
احمد ہنستے ہوئے بھاگنے لگا اور کہا۔۔۔۔
پکڑ کے دیکھاؤ مجھے ۔۔۔
کنول نے کشن اٹھا کے زور سے احمد کو مارا جس کو اس نے خوبصورتی سے پکڑ لیا ۔۔۔۔کنول اب اور کشن اٹھا کر اسے مارنے لگی دونوں نے اب کشن سے ایک دوسرے کو مارنا شروع کیا ۔۔۔۔۔
شہریار نے ان دونوں کو دیکھا اور کارپیٹ پہ پڑی چھپکلی دیکھی اسے سب سمجھ آ گیا ۔۔۔۔
وہ ہنسنے لگا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کمرے میں آ کر شہر یار کو دیکھا تو اس نے اشارے سے سب بتایا تو وہ بھی ہنسنے لگیں ۔۔۔۔
دو نوں ہی مارتے ہوئے ہنس رہے تھے ۔۔۔
کنول تھک گئ تو اس نے کہا ۔۔۔۔
احمد بس میں تھک گئ ہوں ۔۔۔۔
اس پر احمد روکا اور کہا ۔۔۔
کنول ویسے مزا بہت آ یا تہمیں ڈرانے کا ۔۔۔۔
شہریار بھی ہنسنے لگا اور بولا ۔۔۔۔
احمد تم بہت تنگ کرتے ہو یا ر نہ کیا کرو اسے ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
بھائ مزا آ تا ہے مجھے ۔۔۔۔
کنول نے احمد کو گھورا ۔۔۔۔
احمد ہنس دیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد کنول کمرے میں آ ئ سونے کے لیے ۔۔۔۔
موسم اچھا تھا تو صنم بیگم باہر صحن میں سو رہیں تھیں انہوں نے کنول کو آ واز دی ۔۔۔۔۔
کنول بچے باہر آ کر سو جاؤ اندر گرمی ہو گی ۔۔۔۔
کنول نے یہ بات سنی تو کہا ۔۔۔۔
امی مجھے ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے میں اندر ہی سو جاؤں گی ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اسے کہا ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔
کنول تھک کر لیٹی نماز پڑھنے کا سوچنے لگی تو اسے نیند آ گئ ۔۔۔۔
رات کے آ خری پہر کنول کی آ نکھ کھولی ۔۔۔۔
کنول اٹھ کے بیٹھی اسے گھٹن ہونے لگی تو وہ کمرے سے باہر آ ئ ۔ اور چارپائی پہ بیٹھی ۔۔۔
اچانک ہی اس کی آ نکھوں کے سامنے سب مناظر تیزی سے گھومنے لگے ۔۔۔اسے ایسا لگا کہ ہر چیز تیزی سے حرکت کررہی ہے ۔۔۔دماغ کے پچھلے حصے (نروس سسٹم) میں درد شروع ہوا
آنکھیں بھاری ہوئیں اور اسے دماغ میں کانٹے چھبنے لگے ۔۔۔کنول چیخ اٹھی ۔۔۔
امی بچاؤ میرا سر میرا سر ۔۔۔
صنم بیگم کی آ نکھ کھولی تو انہوں نے کنول کو دیکھا ۔۔۔
کنول اپنا سر پکڑے چارپائی پہ تڑپ رہی تھی ۔۔انہون نے کنول کو پکڑا اور بولی ۔۔۔۔
کنول میرے بچے کیا ہو رہا ہے ؟
کنول بامشکل بولی ۔۔۔
امی میرے سر میں کوئ شیشے ڈال رہا ہے مجھے درد ہو رہا ہے میرا سر ۔
صنم بیگم نے فوراً شہریار اور احمد کو اٹھایا ۔۔۔
دونوں ہی بھاگتے آ ئیے اور انہوں نے کنول کی حالت دیکھی اور پریشان ہوکر کہا ۔۔۔۔
کیاہو گیا ایسے ۔
کنول کا دماغ سن ہو
___
کنول کو اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہو ا۔۔۔۔
صنم بیگم نے اس کی حالت دیکھی تو انہوں نے احمد کو کہا ۔۔۔۔
احمد اندر کمرے میں اس ایک بوتل پڑی ہے پانی والی وہ لے آ ؤ جلدی اور ساتھ میں میری دوائیوں کا ڈبہ بھی ۔۔۔۔
احمد بھاگ کے اندر گیا وہ سب چیزیں لے کر آ یا ۔۔۔۔
کنول کو درد سے کچھ ہونے لگا اس نے چیخنا شروع کر دیا زیادہ ۔۔۔۔
صنم بیگم نے پانی گلاس میں ڈال کر کنول کو پلایا اور اس کے سر پر ڈالا ۔۔۔۔
کنول کو پانی پیتے ہی ایسا لگا کہ اس کے سر کو کیسی نے جکڑ رکھا تھا وہ آہستہ آہستہ چھوڑنے لگا ہے ۔پانچ منٹ بعد ہی کنول پرسکون ہو گئ ۔۔۔۔
کنول نے آ نکھیں کھول کے دیکھا۔۔۔۔
شہریار نے پیار سے اس سے پوچھا ۔۔۔۔
گڑیا کیا ہوا تھا ؟
کنول بامشکل بولی ۔۔۔
بھائ مجھے نہیں پتہ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے باہر ہی کنول کو اپنے پاس چارپائی پہ لیٹا دیا۔۔۔
کنول چپ کر چارپائی پہ لیٹ گئ ۔۔۔
شہریار نے کنول کی حالت دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
امی یہ سب ٹھیک نہیں ہو رہا ۔میں کل ہی اس بابا کے پاس جاؤں گا اور کنول کی حالت بتاؤں گا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کے پاس آ کر صنم بیگم بھی لیٹ گئیں کنول پوری رات ان کے ساتھ چیپکی رہی نیند تو اسے آ ئ ہی نہیں ساری رات وہ خوف میں رہی ۔۔۔۔۔
صبح نماز کے بعد کنول کو نیند آ ئ تو صنم بیگم نے اسے سونے دیا ۔۔۔۔
شہریار اٹھا تو اس نے صنم بیگم سے پوچھا ۔۔۔۔
امی اب کنول کیسی ہے ؟
صنم بیگم نے اسے کہا ۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے سوئ ہے شکر ہے آ ج اس کا پیپر نہیں تھا ۔کل ہے پیپر۔ میں ساتھ چلی جاؤں گی اس کے ۔۔۔شہریار آ ج ہر حال میں جاؤ ان کے پاس ۔۔۔۔
شہریار نے سنا تو کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے امی میں آ ج ضرو جاؤں گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کنول سو کے اٹھی تو اسے رات والا منظر یاد آ یا ۔۔۔
کنول کو بیٹھا دیکھ کر احمد بولا ۔۔۔۔
اٹھ گئ کیسی طبیعت ہے اب؟
کنول اس کو دیکھ کر بولی ۔۔۔
ٹھیک ہوں۔۔۔
احمد پھر بولا ۔۔۔
تہمیں ہوا کیا تھا ؟
کنول نے اسے کہا ۔۔۔
شہریار پتہ نہیں کیا ہوا تھا مجھے ایسا لگا جیسے میرے سر پر کیسی نے خشک کانٹے دار جھاڑیوں رکھ دیں ہوں اور اس سے کوئ دماغ کے اندر رکھ کر کھینچ رہا ہو یقین جانوں وہ درد مجھے محسوس ہوا بہت ۔۔۔۔
احمد نے سنا تو کہا ۔۔۔۔
اچھا اچھا پریشان نہ ہو ۔رات تہماری یہ حالت ہوئ تھی تو امی نے وہ بوتل والا پانی دیا تھا تہمیں جو کہ تہمارے کمرے میں پڑھا تھا ۔۔۔۔۔
کنول نے بات سنی اور کہا ۔۔۔
ہاں وہ میں سورت یاسین پڑھ کر پانی میں دم کر کے پیتی ہوں وہ پانی وہی تھا ۔کافی دن سے نہیں پیا تھا میں نے ۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو دیکھا تو اس کے پاس آ کر بیٹھیں اور بولیں۔۔۔
کیسا ہے میرا بچہ ؟دیکھا نہ ٹیشن لینے کا نتیجہ ۔کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ نہ۔لیا کرو ٹینشن ۔۔۔۔۔
کنول نے اس بات پہ صرف ہمممممم کہا ۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
اٹھو کنول شاباش فریش ہو جاؤ میں کھانا لاتی ہوں کھا لو ۔۔۔
کنول اٹھ کو واش روم میں گئ ۔۔۔
اور صنم بیگم کھانالینے گئیں کچن سے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
شہریار مسجد میں گیا ۔۔
وہاں پر نماز ادا کی اور ایک آ دمی سے پوچھا ۔۔۔
کیا آ پ بتا سکتے ہیں مولانا رحمان صاحب کدھر ہیں وہ آ ئیے نہیں مسجد اج؟
وہ آ دمی بولا ۔۔۔
مولانا صاحب کا تو پچھلے مہینے انتقال ہو گیا ۔۔۔
شہریار یہ سن کر حیران ہو گیا اور بولا ۔۔۔
اوہ اللّٰہ ۔۔۔
اس آدمی نے شہریار سے پوچھا ۔۔۔۔
آ پ کو کوئ کام تھا کیا ؟
شہریار نے بات سنی تو کہا ۔۔۔
جی وہ کچھ کام تھا ۔۔۔۔
وہ آ دمی بات سمجھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ان کے شاگرد تھے ڈاکٹر عادی ۔وہ پیشے سے ڈاکٹر ہیں مگر مولانا صاحب کے خاص شاگرد بھی تھے اگر کوئ کام ہو تو آ پ ان سے بھی رابطے کر سکتے ہیں ۔۔۔۔
شہریار اس آ دمی کا شکریہ ادا کرتا دوکان پہ چلا گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول چپ چاپ رہی سارا دن۔۔۔۔
احمد اکیڈمی سے آیا اس نےکنول کو چپ بیٹھا ہوا دیکھا تو بول ۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو پھر کچھ سوچنے لگ گئ ۔۔۔۔
کنول نے احمد کو دیکھا اور بولی ۔۔۔۔
نہیں کچھ نہیں میں تو ایسے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
اسی دوران شہریار گھر آیا ۔۔۔
۔شہریار اپنے کمرے میں گیا تو صنم بیگم بھی اس کے پاس گئیں ۔۔۔۔
احمد بھی ان کے پیچھے گیا
دروازے پر پہنچتے ہی وہ صنم بیگم اور شہریار کی باتیں سننے لگا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے شہریار سے پوچھا ۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا۔۔وہ بابا جی سے بات ہوئ ؟
شہریار نے کہا ۔۔۔
امی ان کا انتقال ہو گیا ہے ۔۔۔
صنم بیگم نے بات سن کر پریشانی سے شہریار کو دیکھا اور بولیں ۔۔۔
شہریار کب ہوا انتقال ان کا ؟اور اب کیا کریں گے ؟۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔۔
امی پچھلے مہینے ہوا انتقال ۔اور آ پ پریشان نہ ہوں سب ہو جائے گا ۔۔بس کنول کو کچھ پتہ نہ چلے ۔۔۔
صنم بیگم بولیں۔۔۔
بیٹا وہ تو ہے لیکن تم اس کی حالت دیکھو بچپن میں بھی اسے جب کچھ ہوتا تھا وہ اسی کے پاس جاتے تھے انہوں نے کہا تھا کہ ایسے کچھ بھی ہو میرے پاس لانا ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
امی فکر نہ کریں میں کرتا ہوں کچھ ۔۔۔۔
احمد نے یہ سب سنا تو سوچنے لگا ۔۔۔۔
کیا ہے ایسا جو کنول کو ابھی پتہ نہ چلے میں پوچھوں گا بھائ سے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول رات کو جلد ہی سو گئی صبح پیپر تھا تو صنم بیگم نے بھی اسے کچھ نہ کہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
صبح کنول اٹھی نماز پڑھی اور تیاری کرنے لگی ۔۔۔
صنم بیگم اس کے ساتھ گیئں پیپر کے لیے ۔۔۔۔
کنول پیپر دے رہی تھی کھڑی کے پاس کنول بیٹھی تھی اسے ایسا لگا جیسے کیسی بچی نے اسے بلایا ہو ۔۔۔۔
کنول نے سر اٹھا کے باہر دیکھا اسے ادھر ایک بچی نظر آ ئ کنول اسے دیکھنے لگی تب ہی وہ لڑکی دیوار کے طرف منہ کرتے ہوئے دیوار کے اندر چلی گئ ۔۔۔۔
کنول یہ سب دیکھ کر کانپنے لگی ۔۔۔اس کا دماغ عجیب سا ہونے لگا ۔۔۔۔
کنول تیز تیز سانس لینے لگی خود کو نارمل کرنے بہت مشکل سے نارمل کرنے کے بعد کنول نے پیپر حل کیا ۔۔۔۔
پیپر دے کے وہ کمرے سے نکلی تو صنم بیگم نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔
کنول ٹھیک ہوں تم ۔۔۔۔
کنول نے صنم بیگم کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
جی امی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
دونوں ہی گھر واپس آ گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول گھر آ ئ تو اسے اپنی طبیعت بوجھل محسوس ہوئی اسنے صنم بیگم سے کہا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: