Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 4

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 4

–**–**–
امی میں کمرے میں جا رہی ہوں نیند آ رہی ہے مجھے ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے سو جاؤ ۔جا کے ۔۔۔
کنول کمرے میں آ ئ چادر اتار کر سائیڈ پہ رکھی اور یونیفارم تبدیل کیے بغیر ہی بیڈ پہ لیٹ گئ ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی اسے نیند آ گئ ۔۔۔۔
خلر (جن) اس کے کمرے میں آیا اس نے کنول کو دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے ہنسا۔۔۔۔۔
اس نے کنول کے کے جسم سے چادر ہٹائ اور کنول کے کندھوں پہ زور دینا شروع کیا ۔۔۔۔۔
کنول کو کندھوں پہ بھاری پن محسوس ہونے لگا اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ۔لیکن وہ کھول ہی نہیں پائ ۔۔ہلنے کی کوشش کی تو اس سے ہلا ہی نہیں گیا ۔۔۔۔
خلر ویسے ہی اس کے کندھوں پہ زور دیتا رہا کنول کا وہ وزن برداشت کرنا مشکل ہو گیا اس نے زور زور سے سانس لینا شروع کیا ۔۔۔
خلر اس کی یہ حالت دیکھ کر خوش ہونے لگا ۔۔اس نے کنول کے معدے پہ زور دینا شروع کیا ۔۔۔۔
کنول کے اب آ نسو نکلنے لگے وہ نیند میں بھی خلر کو واضح طور پر دیکھ پا رہی تھی ۔۔کنول نے آ یت الکرسی پڑھنے کے لیے لب کھولے لیکن لفظ ہی ادا نہیں ہوئے ۔۔اس نےہ۔ت کر کے دماغ میں ہی آیت الکرسی کو سوچنا شروع کیا ۔۔۔۔
خلر کو فورا جھٹکا لگا اور وہ کنول سے دور ہوا ۔۔۔اور غائب ہو گیا ۔۔۔۔
کنول نے بامشکل آ نکھیں کھولیں اور اٹھ کے بیٹھی ۔۔۔
وہ سب سوچنے لگی ۔۔۔
یہ سب کہیں اس وجہ سے تو نہیں ہو رہا جو اس دن مجھے نظر آیا وہ حقیقت تھا ۔ یا میرا وہم۔۔۔اخر کیا وجہ ہے ان سب کی میں تو کمرے میں سو ہی نہیں پاتی ۔۔۔۔
کنول کو معدے میں درد ہوا اور اسے الٹی آ نے لگی وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی باتھ روم میں بھاگی ۔۔۔۔
صنم بیگم کمرے میں آ ئیں تو کنول واش روم سے نکلی ۔۔۔
صنم بیگم نے پوچھا ۔۔۔۔
کیا ہوا کنول ؟
کنول نے بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
امی بس لگتا ہے پیٹ خراب ہو گیا ہے ۔اس لیے شاہد الٹی آ گئ ۔۔۔۔
صنم بیگم نے پریشانی سے کنول کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
کنول بھائ آ جائے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار دوپہر میں گھر آ یا تو وہ کنول کے کمرے میں گیا ۔۔۔
۔۔کنول ناول پڑھ رہی تھی شہریار نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔
کنول نے دروازے پہ دستک سنتے ہی ناول سائیڈ پہ رکھا
ڈوپٹہ ٹھیک سے لیے اور دروازہ کھولا ۔۔۔
شہریار کو دیکھا ۔اور کہا ۔۔۔
بھائ آ پ ۔۔ائیں اندر آئیں ۔۔۔
شہریار اندر آ کر کرسی پہ بیٹھا ۔۔۔
کنول بیڈ پہ بیٹھی ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
کیسی طبیعت ہے اب ؟
کنول نے کہا ۔۔۔
بھائ ویسے تو ٹھیک ہے لیکن پیپر دے کے آ ئ تو الٹیاں آنے لگ گئیں ۔۔۔
شہریار نے پریشانی میں کہا ۔۔۔
گڑیا چلو ابھی ڈاکڑ کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔۔
بھائ نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔
نہیں چلو ابھی ۔۔۔
کنول چپ کر کے عبایہ اٹھانے لگی ۔۔۔
شہریار کمرے سے باہر آیا اور صنم بیگم سے کہا ۔۔۔
امی میں کنول کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔
کنول عبایہ پہن کے آ ئ تو شہریار اسے ڈاکڑ کے پاس لے گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیٹھا کتاب پڑھتے پڑھتے ہی سو گیا ۔۔۔
اچانک ہی اسے چیخنے کی آ واز آ ئ ۔۔۔۔
بچاؤ پلیز کوئ بچاؤ ۔۔۔۔
ہڑبڑا کے اس نے آ نکھ کھولی اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔
اسی دوران اس کا نوکر اندر آیا اور کہا ۔۔۔۔
عادی صاحب کھانا ادھر لے آ وں یا لاونج میں کھائیں گے۔۔۔
عادی نے جواب دیا ۔۔۔۔
آپ چلیں میں ادھر ہی آ رہا ہوں ۔۔۔۔
نوکر کے جانے کے بعد وہ اٹھا اور کمرے سے باہر لاونج میں آ گیا ۔۔۔۔
گھر میں وہ اکیلا ہی تھا اس نے کھانا کھانا شروع کیا اور سوچا ۔۔۔۔۔
آ خر کون ہے یہ لڑکی جس کی اسے آ واز آ ئ پتہ نہیں آ خر کیا ماجرا ہے؟۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سے دوائ لے کر کنول گھر میں آ ئ تو اسے گھٹن ہونے لگی وہ اٹھ کر واشروم گئی منہ دھونے لگی منہ پہ پانی ڈالنے کے بعد اپنا عکس شیشے میں دیکھا ۔۔۔۔
اسے عجیب لگنے لگا وہ غور سے دیکھنے لگی تو اس کے عکس نے اپنا سر زور سے شیشے میں مارا جس سے اس کے عکس کا خون نکلنے لگا ۔۔۔۔۔
اس کے عکس نے ہاتھ میں شیشہ پکڑ کر خود کو مارنا شروع کر دیا س کے عکس نے کمر منہ گردن اور بازو پہ کٹ لگائے ۔۔۔۔
کنول یہ سب حیرت سے دیکھ رہی تھی وہ عکس جیسے جیسے کٹ لگاتا جاتا کنول کو اس اس جگہ درد محسوس ہونے لگا ۔۔۔۔
اس کے عکس نے اب ہاتھ میں پکڑا ہواشیشہ کھا لیا کنول کو یہ دیکھ کر فورا الٹی آ گئ ۔۔۔۔
الٹی کرنے کے بعد ک ول نے سر اٹھا کہ دیکھا تو اس کا عکس اب ایک بھیانک شکل میں تبدیل ہو گیا تھا ۔۔۔
کنول نے یہ دیکھا تو چیخ ماری اور بھاگی واشروم سے ۔۔۔
کمرے میں آ تے ہی نیچے گری اور بے ہوش ہو گی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار اور صنم نے کنول کی چیخ سنی تو فورا بھاگتے ہوئے کمرے میں آ ئیے ۔۔۔۔
وہ دونوں اسے ہوش دلانے لگے ۔۔۔۔
کنول کی آ نکھ کھولی تو اس نے خود کو ایک اندھیرے کمرے میں پایا ۔۔۔
اس نے خود کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پایا ۔۔۔۔
اس نے اردگرد نظر دوڈائ تو کالے لباس میں موجود چیزوں نے اسے ہنڑ سے مارنا شروع کردیا ۔۔۔
اسے ایسا لگا جیسے کیسی نے اسے کے جسم پہ بلیڈ سے ماراہو نہ کے ہنڑ سے۔۔۔
کنول دردسے رونے لگی ۔۔۔۔
شہریار اور صنم کنول کو ہوش میں لانے لگے لیکن کنول ہوش میں نہیں آ رہی تھی بس مسلسل اس کی آ نکھوں سے آنسوں نکلنے لگے ۔۔۔
کنول کو ان چیزوں نے ہنڑ سے مارنے کے بعد اس کے کمر پر چاقو سے وار کیا جس سے وہ ترپنے لگی ۔۔۔۔
کنول کو ہوش میں لانے کے لیے شہریار نے پانی اس کے منہ پہ ڈالا لیکن کوئ فرق نہ پڑا۔۔۔۔
اچانک ہی اذان شروع ہوئ جس کی آواز کنول کے کان میں گئ تو اسے زور سے جھٹکا لگا اس کا جسم بیڈ سے اوپر کی طرف اٹھا اور زور سے ہلنے لگا۔۔۔۔
شہریار اور صنم یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے ۔۔۔۔
کنول کا ہلنا بند ہوا تو اس نے آ نکھیں کھولیں ۔۔۔۔
شہریار نے فورا کہا ۔۔۔۔
کنول میری گڑیا کیا ہوا ہے ؟
کنول نے شہریار کو دیکھا ۔۔
شہریار نے اسے پیار سے دیکھا اور سر پہ ہاتھ پھیرا اور پھر کہا ۔۔۔
گڑیا بولو نا ۔۔۔
کنول روتے ہوئے شہریار سے لیپٹ گئ ۔۔۔۔
شہریار نے کنول کو دلاسہ دیا اور پوچھا ۔۔
____
کیا ہوا؟
کنول نے شہریار کو کہا ۔۔۔
بھائ کچھ بہت برا ہے مجھے نہیں پتہ وہ چیز کیا ہے لیکن وہ جو بھی ہے مجھے نہیں چھوڑے گی ۔۔۔
شہریار یہ سن کر پریشان ہوا اور بولا ۔۔۔۔
گڑیا کچھ نہیں ہو گا تم ڈرو نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا اور تم چیخ کیوں رہی تھی۔۔۔۔
کنول شہریار کو دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
بھائ کوئ ایسا وجود ہے جیسے میں دیکھ نہیں پا رہی وہ مجھے تکلیف دیتا ہے جب میں واشروم گئ تب شیشے میں موجود میرے ہی عکس نے شیشے کھانا شروع کر دئیے اور مجھے لگا میرا جسم اندر سے کٹ رہا ہے ۔۔۔۔
شہریار اس کی باتیں سن کر پریشان ہو گیا اور بولا ۔۔۔
گڑیا تم ڈرو نہیں میں کچھ کرتا ہوں ۔۔۔۔
صنم بیگم کنول کو تسلی دینے لگیں ۔۔۔۔
شہریار کچھ سوچتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو بار بار وہ منظر یاد آ رہا تھاصنم بیگم نے اسے تھوڑا سا کھانا کھلایا اور اپنے پاس ہی کچن میں بیٹھا دیا وہ اب اسے اکیلا نہیں چھوڑ رہیں تھیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا کمرے میں اور کچھ اس کے آ نکھوں کے سامنے آیا وہ ہنسنے لگا ۔۔۔۔
خلر حاضر ہوا تو الطاف اسے دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
خوش کیا خلر تم نے تو ۔۔۔۔۔
خلر انسانی روپ میں حاضر ہوا تھا وہ یہ بات سنتے ہی بولا ۔۔۔۔
سرکار آپ کی خوشی میں میری خوشی ہے ۔اور اب خنزر کیسا ہے ؟
الطاف نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہو رہا ہے ۔جیسے ہو گا ٹھیک پھر خود ہی اس سے بدلہ لے گا اور وہ حال کر گا کہ پاگل ہو جائے گی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مہناز (کنول کی چچی) کمرے میں بیٹھی اپنی بیٹی کو آواز دینے لگیں ۔۔۔۔
ارسہ اری او ارسہ پانی لا جلدی ۔۔۔۔۔
ارسہ جو کہ فون پر مصروف تھی جب آ واز سنی تو منہ بناتی فون رکھتی اٹھی ۔۔۔۔
ماں کو پانی دیتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
امی لے پانی اور آج کیوں ہلکان ہو رہی ہو ۔۔۔۔
مہناز اسے دیکھ کر بولی ۔۔۔
ارےتو بھی کام کر لیا۔کر کنول کو دیکھ وہ پڑھتی بھی ہے اور کام میں ہاتھ بٹاتی ہے ۔۔۔۔
ارسہ یہ سن کر بولی ۔۔۔۔
امی وہ تو ہے ہی بونگی مجھے اس جیسا نہیں بننا ۔۔۔
مہناز یہ سنتے ہی ہنسی اور بولی ۔۔۔۔
ٹھیک کہا ۔۔۔
چل تو جا میں اب سونے لگی ہوں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکڑ سمعیہ اپنے کیبن میں تھیں جب دروازے پہ دستک ہوئی ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمعیہ نے دستک سنی تو کہا ۔۔۔۔
آ جاؤ ۔۔۔۔
وہ رپورٹس دیکھ رہیں تھیں اس لیے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا ۔۔۔
اندر آ تے ہی اس نے سلام کیا ۔۔۔
ڈاکٹر سمعیہ نے سر اٹھا کے دیکھا اور سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ارے عادی تم بیٹھو اور آج کیسے آ نا ہوا جناب کا ؟۔۔۔۔
عادی مسکرا کر بولا ۔۔۔
آ پی پتہ تو ہے آ پ کو آج کل پریکٹس چل رہی ہے اور میں ادھر آیا اور سوچا آپ سے مل لوں ۔۔۔۔
سمیعہ ہنسی اور بولیں ۔۔۔
اچھااا جی اور بتاؤ تمہارا وہ والا کام کیسا جا رہا ہے ؟۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔۔۔
آپی آپ جانتی تو ہیں میں کیسی کو بغیر بتائے کام کرتا ہوں اور غلط کام میں نے کبھی نہیں کیا ۔مولانا انکل کے ساتھ رہا ہوں تو انہوں نے ہی یہ علم سیکھایا اور ڈاکڑ بننا میرا خواب تھا تو ساتھ ساتھ ڈاکٹر ی کی تعلیم بھی حاصل کرتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔
سمعیہ نے سن کر کہا ۔۔۔۔
جی جی میں جانتی ہوں انٹی اور انکل کی ڈیتھ کے بعد مولانا انکل نے ہی تو تہماری پرورش کی ہے ۔۔۔
اور ماشاءاللہ سے تم اتنے ہینڈسم ہو اور look ایسا رکھا ہے کہ کوئ بھی دیکھ لے تو وہ یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ تم نے (روحانیت کا) علم سیکھا ہے۔۔۔۔
وہ اس بات پہ ہنسا اور کہا ۔۔۔۔
آپی اچھااا جی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کمرے میں بیٹھی تھی اور صنم بیگم کام میں لگیں تھیں ۔۔۔
کنول کو ایسا لگا کہ کیسی نے اس کے بازو کو چھوا اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا تو اچانک ہی دھکا دے کر اسے کیسی نے لیٹایا اور اس کے جسم پہ زور دینا شروع کیا کنول کے منہ سے چیخ نکلی ۔۔۔۔
صنم بیگم کمرے میں آئیں تو دیکھا ۔۔۔۔
کنول بیڈ پہ لیٹی ہاتھ پیٹ پہ رکھتے ہوئے چیخ رہی تھی اس کا منہ سے جھاگ نکلنے لگی اور عجیب آ وازیں بھی ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو پکارا ۔۔۔
کنول کیا ہوا بچے ۔۔۔۔
کنول کا درد حد سے بڑا تو وہ رونے لگی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی ۔۔۔
ریاض صاحب گھر میں آ ئیے انہیں آ وازیں آ نے لگیں تو وہ کنول کے کمرے میں آ ئیے ۔۔۔۔
کنول کی حالت دیکھ کر بولے ۔۔۔
ہو گئے شروع اس کے ڈرامے ۔۔۔۔
صنم بیگم نے افسوس سے انہیں دیکھا اور کہا ۔۔۔
اب بھی آپ کو یہ بہانہ لگ رہا ہے ؟حد ہے ۔۔۔
ریاض صاحب بولے ۔۔۔
کچھ نہیں ہے تہماری بیٹی کو فضول میں ہی ایسے کر رہی ہے ۔۔۔۔
کنول اپنے ہوش سے بیگانی ہو گئ ۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کا سر اپنی گود میں لیا اور کہا ۔۔۔
کنول ہمت کرو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔
کنول نے تھوڑی دیر بعد آنکھیں کھولیں تو اس نے صنم بیگم کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
امی کیا ہوا ؟
صنم بیگم نے اسے کہا ۔۔۔۔
کنول بچے تم درد سے چیخ رہی تھی ۔۔تہمیں کچھ یاد نہیں کہ کیا ہوا ہے ؟۔۔۔۔۔
کنول نے حیران ہو کر ماں کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
امی مجھے تو معدے میں درد ہوا تھا ۔۔۔
صنم بیگم نے سے کہا ۔۔۔
ااچھا اچھا تم ریلیکس رہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار پریشانی میں دوست کے پاس گیا ۔۔۔۔
اس نے اپنے دوست کو کہا ۔۔۔
ارحم یار کنول کی طبیعت بہت عجیب ہوتی جا رہی ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں ۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اسے کہا مجھے بتاؤ کیا ہوا؟
شہریار نے اس کی بات سن کر وہ سب بتا دیا جو کنول کی حالت ہوئ ۔۔۔۔
ارحم نے بات مکمل سن کر کہا ۔۔۔
میرا ایک جاننے والے نے ایک پیر کا بتایا ہے تم کل کنول کے ساتھ آ نا ہم سے وہیں لیں جائیں گے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار گھر آ یا تو صنم بیگم نے اسے سب بتایا ۔۔۔
شہریار نے انہیں کہا ۔۔۔
امی میں نے ارحم سے بات کی ہے وہ کل پیر کے پاس لے جائے گا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔اپ یہ بتائیں گڑیا کہاں ہے ؟
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
وہ اندر ٹی وی روم میں ہے ۔۔۔
شہریار اس کے پاس گیا تو دیکھا ۔۔۔۔
کنول چپ کر کے سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی ۔۔۔
شہریار نے اسے پیار کیا اور کہا ۔۔۔
گڑیا کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو ؟
کنول نے سر اٹھا کر شہریار کو دیکھا
_____
کنول کی آ نکھیں عجیب سی لال ہورہیں تھیں ۔۔
شہریار کو وہ کچھ عجیب سی لگی ۔۔۔
شہریار نے اسے کندھے سے ہلایا اور کہا ۔۔۔۔
کنول کیا ہوا ۔۔۔
کنول نے چونک کر شہریار کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
جی بھائ ۔می میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
شہریار نے اسے اداس دیکھا اور کہا ۔۔۔
اچھا اٹھو میں تہمیں پارک کے چلتا ہوں تھوڑی واک کرو گی تو اچھا محسوس کرو گی ۔۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔۔
بھائ بالکل دل نہیں ہے ۔۔۔
شہریار نے پیار سے کہا ۔۔۔
نہیں کوئ دل کی بات نہیں سننی اٹھو جلدی۔۔۔۔
کنول سر ہلاتی اٹھی اور عبایہ پہننے لگی ۔۔۔۔
شہریار نے ماں کو بتایا اور بائیک نکالی ۔۔۔۔
کنول عبایہ پہنے اور نقاب سیٹ کرتی باہر اور شہریار نے مسکرا کر بیٹھنے کو کہا ۔۔۔۔
ک ول بائیک پہ بیٹھی اور شہریار نے بائیک چلا دی۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف نے خلر کو بلایا ۔۔۔۔
خلر حاضر ہوا ۔۔۔
الطاف اسے دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
خلر کتنا کام ہوا ؟۔۔۔۔
خلر بولا ۔۔۔۔
سرکار جی ہو رہا ہے ۔اپ بتائیں اب کیا کرنا ہے ؟۔۔۔
الطاف بولا ۔۔۔۔
تم صرف لڑکی جو کمزور کرو بعد میں خنزر اس کے باپ اور اس کو دیکھ لے گا ۔۔۔۔۔
خلر بولا ٹھیک ہے سرکار ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی کام سے فارغ ہو کر پارک آیا اور واک کرنے کے بعد اب وہ بینچ پہ بیٹھا اردگرد کے مناظر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
کنول شہریار کے ساتھ پارک میں آ ئ اور شہریار اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واکنگ ٹریک پہ خود بھی اور اس کو بھی واک کروانے لگا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
عادی ادھر ہی بینچ پہ بیٹھا تھا ۔۔۔۔
شہریار اور کنول اس کے آ گے سے گزرے تو عادی نے ان پہ سرسری نظر ڈالی اور اپنا موبائل نکال کے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
کنول نے تھوڑی سی واک کرنے کے بعد شہریار سے کہا ۔۔۔۔۔
بھائ اب تھوڑا بیٹھ جاؤں پلیز ۔۔۔۔
شہریار نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
چلو آ ؤ ادھر بیٹھتے ہیں ۔۔۔
وہ دونوں نیچے گھاس پہ ہی بیٹھ گئے ۔۔۔۔
کنول اس طرح بیٹھی تھی کہ اس کے سائیڈ پوز عادی کو نظر آ رہی تھی اور شہریار بھی کنول کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔
عادی نے کنول کو دیکھا تو اسے عجیب سا احساس ہوا ۔۔۔وہ غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
کنول چپ بیٹھی تھی ۔شہریار نے اسے چپ دیکھا تو بولا ۔۔۔۔
گڑیا کیا سوچ رہی ہو ؟۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔
کچھ بھی نہیں بھائ بس ایسے ہی ۔۔۔۔
شہریار نے کنول سے پوچھا۔۔۔
گڑیا تم پریشان ہو کیسی بات سے ؟مجھے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے ؟
کنول نے اسے کہا ۔۔۔
نہیں بھائی میں کوئ پریشان نہیں ہوں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
عادی جو کہ کنول اور شہریار کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اچانک ہی اسے کالے لباس میں کوئ عجیب سی مخلوق نظر آ ئ جو کہ کنول کے بالکل پاس آ کے بیٹھی اور اس کے جسم میں گھسنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
عادی یہ سب دیکھ کر حیران ہو گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کنول جیسے بات ختم کی اسے اپنے جسم پہ عجیب سی چیز رینگتی ہوئ محسوس ہوئ…اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے جسم میں کوئ چیز دخل ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔
کنول نے اردگرد دیکھنے لگی اسے وہم لگا تو چپ کر کے بیٹھ گئ ۔۔۔۔
عادی سب دیکھ رہا تھا اور وہ سوچنے لگا ۔۔۔۔۔
یہ سب ہو کیا رہا ہے آخر اس لڑکی کے ساتھ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نے شہریار کو کہا ۔۔۔۔
بھائ گھر چلیں مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔۔۔
شہریار نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
اچھا چلو ۔۔۔۔
یہ کہتے ہی دونوں پارک سے نکلے ۔۔۔۔
عادی ان کے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔
وہ سایہ ابھی بھی کنول کے ساتھ ساتھ تھا ۔۔۔۔
شہریار کے ساتھ بائیک پہ بیٹھتے ہوئے کنول نے عادی کو دیکھا اور اسے اس کا خود کو گھورنا عجیب لگااور وہ منہ پھیر کر بیٹھ گئ اور شہریار نے بائیک چلا دی ۔۔۔۔۔
عادی انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔۔۔۔وہ سوچنے لگا ۔۔۔
اس لڑکی کے پاس یہ سایہ کیوں تھا اللّٰہ خیر ہی کرے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول گھر آتے ہی کمرے میں چلی گئ اسے نیند آ نے لگی تو وہ سو گئی ۔۔۔۔
سوتے ہوئے کچھ وقت ہی ہوا تھا اچانک ہی کیسی کہ رونے کی آواز آنے لگی ۔۔۔
کنول نے آ نکھ کھولی تو وہ دیکھ کر حیران ہو گی کہ وہ اپنے کمرے میں موجود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ویرانے میں کھڑی تھی ۔۔۔۔
اس نے اردگرد دیکھا اور چیخی ۔۔۔۔
بھائ ۔۔۔امی۔۔۔۔۔
تب ہی ایک سایہ کو اس نے دیکھا اس نے پوچھا ۔۔۔۔۔
کون ہے؟
تب ہی خلر اس کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔
کنول نے اسے دیکھا اور ڈر کے چیخ ماری ۔۔۔۔
کیوں کہ خلر کو چہرہ بہت برے طریقے سے جلا ہوا تھا اور اس کے چہرے سے خون ٹپک رہا تھا ۔۔۔۔انکھیں بالکل لال تھیں اور دانت منہ کے ایک طرف سے نکلے ہوئے تھے ۔۔۔۔
خلر اسے دیکھ کر ہنسا ۔۔۔۔
اس نے کنول کو پکڑا اور ایک اندھیری جگہ تک گھسیٹتا لایا ۔۔۔۔
کنول کے جسم پہ خراشیں آ گیں۔۔۔
خلر نے اسے اس جگہ پہ چھوڑا اور ہنڑ اٹھا کہ مارنے لگا ۔۔۔۔
کنول کی درد سے چیخنے لگی ۔۔۔خلر اسے اور زور سے مارنے لگا ۔۔۔
کنول درد سے رونے لگی اور بے ہوش ہو گئ ۔۔۔۔
خلر نے اسے بے ہوش دیکھا تو ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔۔
تیرے وجود پہ قبضہ کرنا ہے وہ تو کر لیا میں نے دیکھ تیرے ساتھ کرتا کیا ہوں….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کو کمرے میں سوتا دیکھ کر اس کی ماں نے اسے نہ اٹھایا ۔۔۔۔۔
شہریار نے ماں سے کہا ۔۔۔۔۔
امی آج نہیں ہم۔کل جائیں گے پیر کے پاس شائد ٹھیک ہو جائے ۔۔۔۔
اسی دوران ریاض صاحب گھر آئے اور احمد بھی ۔۔۔۔
ریاض صاحب کمرے میں آ کر بیٹھے تو صنم بیگم نے پوچھا ۔۔۔۔
کھانا لاؤں آپ کے لیے ؟
ریاض صاحب بولے ۔۔۔۔
نہیں ابھی نہیں ۔۔۔۔
اور یہ کنول کدھر ہے ؟
صنم بیگم نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
وہ سو رہی ہے ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے غصے میں کہا ۔۔۔۔۔
اسے اور کوئ کان نہیں ہے آئے دن کوئ نہ کوئ ڈرامہ ہوتا ہے اس کا ۔۔۔
صنم بیگم یہ بات سن کر افسوس کرنے لگیں ۔۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔۔
بابا وہ کیوں کرے گی ڈرامے نیند آ ئ تھی اس کو ۔۔۔۔۔۔
ریاض نے یہ سنا تو اسے گھورا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نے کچھ دیر بعد آ نکھ کھولی تو وہ کمرے میں ہی تھی اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن درد سے اٹھا ہی نہیں گیا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر تو وہ چھت کو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی ۔۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟میں پاگل ہو جاؤں گی ۔کنول نے یہ سوچتے ہوئے کھڑکی میں دیکھا تو وہ حیران ہو گی کیوں کوئ کالا سایہ وہیں کھڑا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: