Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 5

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 5

–**–**–
کنول اسے دیکھتی رہی اچانک ہی وہ سایہ دیوار پہ چلنے لگا اور غائب ہو گیا ۔۔۔
کنول خوف زدہ ہو گئ ۔۔۔۔
کنول کو اپنے جسم کے کچھ حصوں میں درد محسوس ہوا ۔۔۔۔۔
کنول اس خواب کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔
آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟کیا کروں کیسے بتاؤں ۔۔۔ کون یقین کرے گا ۔۔۔۔
کنول یہ سوچتے ہوئے اٹھی اور ہاتھ منہ دھو کر باہر لاونج میں چلی گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔
عادی گھر واپس آیا تو اس کے دماغ میں وہی سب آ رہا تھا جو وہ دیکھ کر آیا تھا ۔۔۔۔
کمرے میں آکر وہ بیٹھ گیا اور سوچنے لگا ۔۔۔۔
وہ لڑکی اتنی بڑی تو نہیں لگ رہی تھی تو پھر یہ چیز یں کیوں تھیں اس کے پیچھے پتہ نہیں کیا وجہ بنی ان سب کی اللّٰہ ہی کرم کرے……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول لاونج میں آ ئ تو صنم بیگم نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔۔
اٹھ گیا میرا بچہ ۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔
کنول صوفے پہ بیٹھی اسے کمر میں درد محسوس ہوا لیکن وہ چپ کر کے بیٹھی رہی ۔۔۔۔
کنول نے اپنے بازو دیکھی تو ادھر نیل پڑ رہے تھے ۔۔۔۔
کنول نیل دیکھ کر حیران ہو گئ ۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے بازو نیچے کیا کہ کوئ دیکھ نہ لے ۔۔۔۔
شہریار جو کہ دوسرے صوفے پہ بیٹھا تھا کنول کو پریشان دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
گڑیا کل ہم نے کہیں جانا ہے تم تیار رہنا ۔۔۔۔۔
کنول نے کچھ پوچھے بنا ہی کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے بھائ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن شہریار کنول اور اپنی امی کو لے کر اسی پیر کے پاس گئے ۔۔۔۔
شہریار جاتے ہوئے احمد اور ریاض صاحب کو سب بتا کر گیا ۔۔۔۔
کنول کو جیسے ہی اس پیر کے سامنے بیٹھایا تو کنول نے اردگرد نظر دوڑائی تو اسے عجیب سی بو اور وحشت کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔
اس پیر نے کنول پہ کچھ پڑھنا شروع کیا تو کنول کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں ۔۔۔۔
کیوں کہ اسے خلر ایک عجیب سے وجود میں نظر آنے لگا ۔۔۔۔۔
اس پیر نے پڑھ کر آنکھیں کھولیں اور کہا ۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو کچھ نہیں ہے بس تھوڑا پریشان ہے آپ اسے پرسکون رکھو ۔۔۔۔۔۔
خلر یہ دیکھ اور سن کر مسکرایا ۔۔۔۔۔
شہریار اور اس کی ماں یہ سن کر تھوڑا حیرت میں آئے اور پھر چپ کر کے تھے اور اس پیر کو پیسے دیتے چلے گئے ۔۔۔۔۔
وہ پیر ان کے جانے کے بعد اپنے آدمی سے بولا ۔۔۔۔۔
اس لڑکی پر جو چیز ہے وہ میرے علم سے زیادہ طاقتور ہے اگر میں سب کے سامنے کہتا کہ میں نہیں کر سکتا کچھ ۔۔تو میرے مرید میرے پاس نہ آ تے ۔۔۔۔
اسلیے یہ کہا ۔۔۔۔
اس آدمی نے سا تو کہا ۔۔۔۔
جی اچھاااا سائیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول گھر آ تے ہی کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
شہریار لاونج میں گیا اور صنم بیگم اپنے کمرے میں ۔۔۔۔۔
احمد نے شہریار کو دیکھا تو کہا ۔۔۔۔
بھائ کیا ہوا ؟کیا کہا اس نے ؟
شہریار نے ساری بات بتائی ۔۔۔
اسے سن کروہ بولا ۔۔۔۔
بھائ مجھے کچھ پوچھنا ہے آپ سے ۔۔۔
وہ اس دن میں نے آپ کو اور امی کو باتیں کرتے سنا تھا کہ کنول کو کچھ ہوا تھا پہلے بھی آپ بتائیں کیا ہوا تھا اور کیوں اس سے چھپانے لگے ہیں ؟۔۔۔۔۔
شہریار نے احمد کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
تہمیں کیسے پتہ چلا سب اور احمد تم باتیں سنی میری اور امی کی چھپ کے ۔کتنی غلط بات ہے یہ ۔۔۔۔۔
احمد نے کہا ۔۔۔
سوری بھائ لیکن مجھے بتائیں ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
کنول کو بچپن سے وہ چیزیں دیکھائیں دیتی ہیں جو شاہد ہی کوئی دیکھ سکتا ہے ۔۔اس کی 6 sense بہت تیز ہے ہم بھی یہ نہیں جانتے تھے ۔۔وہ بچپن سے کچھ غلط یا برا ہونے سے پہلے بتا دیتی تھی کہ اس نے خواب میں ایسا دیکھا ہے ۔۔۔۔
ایک دفعہ جب وہ دس سال کی تھی ۔۔۔
تہمیں یاد ہو گا کہ کنول کو کتنا تیز بخار ہوا تھا ۔۔۔اتر ہی نہیں رہا تھا ۔ دوائیوں نے بھی اس پہ اثر نہیں کر رہیں تھیں تو اس وقت ماموں نے کہا تھا کہ شاہد بد نظری ہو گئ ہے ۔۔تو تب ہم ایسے ایک مولانا کے پاس لے گئے تھے ۔۔انہوں نے اس پہ پڑھائ کی اور ہمیں بتایا تھا کہ ۔۔۔۔
نارمل انسان کی 5 sense ہوتی ہیں اور کیسی کیسی میں چھ ہوتی ہیں وہ انسان کچھ ایسی خصوصیات کا مالک ہوتا ہے کہ وہ ان دیکھے وجود کو محسوس اور دیکھ سکتا ہے ۔۔۔
کنول میں وہ حس موجود ہے اور یہ ان چیزوں کی نظر میں آ گئ ہے اس وجہ سے بیمار ہے ۔۔۔۔اگر پھر کبھی ایسا ہو تو میرے پاس لے آئیے گا میں ایسے قرآنی آیتیں بتاؤں گا وہ یہ پڑھتی رہے گی تو ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔
کنول کی اس حالت کے بعد میں انہی کے پاس ہی گیا تھا لیکن وہ وفات پا چکے ہیں اب جن کے پاس گئے تھے وہ کہہ رہے ہیں کہ کنول کو پریشانی ہے صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد نے سب سن کر کہا ۔۔۔۔
بھائ اگر ایسا ہے تو میں کنول سے پوچھوں گا کہ کیا پریشانی ہے ؟اپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔۔۔
کنول کمرے کی کھڑکی کھولے باہردیکھ رہی تھی کہ اچانک ہی اسے جھٹھا لگا اور وہ زمین پہ گری ۔۔۔۔
کنول نے خوف سے اردگر د دیکھا ۔۔۔۔
خلر ایک کالے سائے کہ روپ میں ظاہر ہوا ۔۔۔۔
کنول نے اس سائے کو دیکھا اور بولی ۔۔۔۔
کون ہے ؟
خلر ہنسا اور آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو جھکڑا ۔۔۔۔
کنول کو لگا کہ ۔۔۔۔
شیشہ اس کے ہاتھوں کے اندر تک چلا گیا ہو ۔۔۔
کنول نےدرد سے چیخنا چاہا ۔۔۔۔
لیکن اس کی آواز دب گی ۔۔۔۔
خلر اس کے جسم کو چھونے لگا ۔۔۔۔۔
کنول اس کے اس طرح چھونے سے رونے لگی ۔۔۔۔
کنول دل میں ہی بولی ۔۔۔۔
نہیں کرو میں نے کیا بگاڑا ہے تہمارا چھوڑو مجھے ۔۔۔۔
خلر اس کو بے بس دیکھ کر ہنسا ۔۔۔۔
اور اسے چھوڑا ۔۔۔۔
کنول رونے لگی ۔۔۔۔۔
خلر نے کچھ سوچتے ہوئے اسے دیکھا اور دل میں ہی کہا ۔۔۔۔
اب تیرے جسم پہ قبضہ کرنا کوئ مشکل نہیں اب دیکھ ہوتا کیا ہے ۔۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ کنول کے جسم میں داخل ہوا اور کنول ایک زور دار چیخ مار کر بے ہوش ہو گئ ۔۔۔۔
کنول کی چیخ سن کر احمد ،شہریار ،صنم بیگم کمرے میں آئے ۔۔۔۔
انہوں نے کنول کو زمین پہ بے ہوش دیکھا تو اٹھا کہ بیڈ پہ لیٹایا ۔۔۔۔
وہ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
خلر الطاف کے پاس حاضر ہوا اور بولا ۔۔۔۔۔
سرکار آپ نے جو چیزیں منگوائیں تھیں وہ لے آیا ہوں ۔۔۔
یہ رہے اس کے بال اور اس کے کپڑوں کے ٹکڑے ۔۔۔۔
الطاف وہ چیزیں لے کر بولا ۔۔۔۔
بہت خوب خلر ۔۔۔۔
اب اس پتلے سے ہی کروں گا وہ سب
___
اب اس پتلے سے ہی کروں گا میں سب اور اب یہ اس کی چیزیں ہی کام آ ئیں گی میرے ۔ںڑا شوق تھا نا اسے اپنے باپ کو بچانے کا ۔اس نے میرے غلام کو زخمی کر کے اچھا نہیں کیا ۔اس نے مجھ سے دشمنی مول لی ہے اور یہ دو ٹکے کی لڑکی ۔۔اب دیکھنا تیرا وہ وہ حشر کروں گا کہ تجھے خود سے نفرت ہو جائے گی ۔۔۔۔
خلر وہیں کھڑے سب سن رہا تھا بات ختم ہونے پہ بولا ۔۔۔۔
سرکار آپ جانتے ہیں ہماری جان کس میں ہے ۔۔۔
اور وہ مولانا جو ہم سے ٹکر لے سکتا تھا اب رہا نہیں دنیا میں وہ تو لے گا ٹکر ۔۔۔۔
الطاف شیطانی ہنسی ہنسا اور بولا ۔۔۔
ٹھیک کہا تم۔نے بس اب تم جاؤ اور اس کے جسم پہ قبضہ کرنا ہے تم نے ۔۔۔۔یہ چیزیں جو تم نے دی ہیں اس سے میں عمل کروں گا اور تہمیں آ سانی ہوگی سب کام میں ۔۔۔
خلر نے کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے سرکار۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول بے ہوش تھی اور احمد اور شہریار اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
لیکن کنول ہوش میں ہی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
احمد نے پانی کنول کے منہ پہ چھڑکا ۔۔لیکن وہ پھر بھی ہوش میں نہ آ ئ ۔۔۔
شہریار اب اس کے گال تھپتھپا نے لگا ۔کہ کیسی طرح کنول کو ہوش آئے ۔۔۔
لیکن کنول بالکل بھی ہوش میں نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
احمد نے کنول کو زور سے جھنجھوڑ آ اور کہا ۔۔۔۔
کنول ہوش میں آ ؤ کیا ہو گیا ہے ؟۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کنول نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔
اس نے اپنے اردگرد احمد شہریار اور صنم بیگم کو دیکھا تو وہ بولی ۔۔۔۔
آپ لوگ ایسے کیوں کھڑے ہیں اور کیا ہوا،میں بیڈ پہ کیسے آ ئ ۔؟۔۔۔
شہریار نے کنول کو دیکھا اور بولا ۔۔۔
کنول بچے تم چیخی تھی ۔۔۔اور تہماری چیخ سن کر جب ہم کمرے میں آ ئے تو تم بے ہوش پڑی تھی زمین پہ ۔کیا ہوا تھا ۔؟۔۔۔۔
کنول یہ بات سن کر بولی ۔۔۔۔
بھائ مجھے نہیں یاد کیا ہوا تھا میں تو کھڑکی کے پاس کھڑی تھی اس کے بعد کیا ہوا کچھ یاد نہیں ۔۔۔۔
وہ تینوں اس کی بات سن کر پریشان ہو گئے ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
کنول یار مزاق نہ کرو ۔کیا تہمیں واقعی کچھ یاد نہیں ۔۔۔۔
کنول نے غصے اور خونخوار نظروں سے احمد کو دیکھا اور غصے سے بولی ۔۔۔۔جب کہا ہے ایک دفعہ نہیں یاد تو میں کیوں کروں گی مذاق ۔۔۔۔۔۔
کنول کا یہ بولنے کا طریقہ اور رویہ دیکھ کر وہ تینوں ہی اسے دیکھنے لگے ۔۔۔
احمد نے دل میں ہی سوچا ۔۔۔
کچھ ہے ضرور ورنہ کنول نے آج تک ایسے بات نہیں کی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کے کمرے سے باہر آ کر شہر یار ،صنم اور سث۔د تینوں ہی لاونج میں آ کر بیٹھے ۔۔۔۔
احمد نے شہریار کو کہا
بھائ یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا اور آپ نے نوٹ کیا کہ کنول نے کیسے بات کی کنوک نے آ ج تک ایسے بات نہیں کی ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
وہ پریشان ہے تو ایسا بول گئ۔۔۔اب بابا کو بتایا وہ تو مانیں گے نہیں کچھ ۔پہلے بھی انہوں نے ایسا کیا تھا کنول کو بخار ہوتا تھا تو نہیں لا کر دیتے تھے دوائ اس کو جو ڈاکٹر کہتا تھا اور وہ کچھ کہتی ہی نہیں تھی میں ہی اپنی جیب خرچ سے لا دیتا تھا ۔۔اج تک اس نے بابا سے کوئ شکوہ نہیں کیا ۔ڈر لگتا ہے مجھے کہیں کنول کو کچھ ہو نہ جائے ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
بھائ اللّٰہ خیر کرے گا
صنم بیگم بھی پریشانی میں بولیں ۔۔۔
شہریار بیٹا تم دعا کرو سب ہو جائے گا ٹھیک ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کمرے میں بیٹھی سامنے دیوار پہ موجود چھپکلی کو گھورے جا رہی تھی چھپکلی کو دیکھتے ہی اس نے اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیرنا شروع کی جیسے ابھی اسے کھا جائے گی ۔اچانک ہی کنول کے دماغ میں عجیب سی آوازوں کا شور ہوا ۔۔اس نے اپنا سر پکڑا اور آنکھیں بند کر دیں ۔۔۔کچھ ہی منٹ بعد وہ شور خود بہ خود ختم ہوا
کنول ہیپلوٹیزم کی حالت میں اٹھی اور باہر آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔اور بنا پلک جھپکے فرش کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
الطاف نے اپنا عمل شروع کیا ۔۔۔
اس نے کنول کے بالوں اور کپڑے کے ٹکڑوں کو اس پتلے پر لپیٹا اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔اس نے پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ سوئ اٹھا کر اس پتلے میں چھبا دی اسی طرح وہ پڑھتے ہوئے ساری سوئیاں چبھاتا گیا ۔ساری سوئیاں چھبانے کے بعد وہ ہنسا اور بولا ۔۔۔۔
لڑکی اب دیکھتی جا ہو گا کیا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار کمرے سے باہر نکلا اس نے کنول کو یوں بیٹھے دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
گڑیا ایسے کیا دیکھ رہی ۔کھانا بھی نہیں کھایا تم نے اٹھو ادھر سے
___
شہریار نے کنول کو کندھے سے ہلایا ۔۔۔۔
کنول فرش کو ہی گھورےجا رہی تھی ۔۔۔۔
شہریار نے اس کی یہ کیفیت دیکھی تو اور زور سے کنول کے کندھے کو ہلایا ۔۔۔۔
کنول نے چونک کر شہریار کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
جی جی کیا ہوا؟
شہریار نے کہا۔۔۔
اٹھو ادھر سے اور آ ؤ کھانا کھا لو ۔۔۔۔
کنول اچھا کہہ کر اٹھی اور شہریار اسے کمرے میں لے کر گیا ۔۔۔۔
کنول کمرے میں آ ئ تو صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
کنول آ ؤ بیٹا میں ابھی کھانا لے کر آ تی ہوں سب کے لیے ۔۔۔۔
صنم بیگم نے فورا کھانا لگایا اور شہریار نے کہا۔۔
چلو سب کھانا شروع کرو ۔۔۔۔
کنول نے کھانا شروع کیا تو اسے متلی ہوئ اس نے دوسرا لقمہ لیا ہی تھا کہ اسے الٹی آ ئ وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کہ فورا واش بیسن پہ گئ۔۔ الٹیاں اتنی زیادہ آ نے لگ گئیں ۔۔۔۔
صنم بیگم کنول کے پیچھے گئیں اور اس کی پیٹھ کو سہلانے لگیں ۔۔۔
کنول کی الٹیاں روکیں تو وہ منہ دھو کر صنم بیگم کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اسی کمرے میں آ گئ جدھر سب تھے ۔۔
شہریار اور احمد نے پریشانی میں پوچھا۔۔۔۔
کیا ہوا پھر سے الٹیاں آ گئیں ؟
صنم بیگم نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
کنول نے بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
امی آپ نے کچھ ڈالا تھا کھانے میں کیا ؟
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔۔
بیٹا میں کیوں ڈالوں گی ۔۔میں تو ویسے پکاتی ہوں جیسے پہلے پکاتی تھی ۔۔وضو کر کے اور آ خری قرآنی آ یا ت پڑھ کر جانتے تو ہو تہماری نانی اماں کہتی تھیں کہ قرآنی آیات پڑھ کر کھانا پکانا اچھی بات ہے ۔۔۔۔
کنول یہ بات سن کر گھبرا گئ اور آٹھ کر کمرے میں جانے لگی ۔۔۔۔
اسے جاتا دیکھ کر شہریار نے کہا ۔۔۔۔
کنول چلا جا نہیں رہا تم سے اور کدھر جا رہی ہو ؟
کنول نے کہا ۔۔۔۔
میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں آپ سب کھانا کھا لو ۔۔۔
اور امی مجھے ڈبل روٹی دے جائیے گا میں وہی کھا لوں گی ۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے اچھا کہا ۔۔۔۔
کنول کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی لاونج میں بیٹھا ایک مریض کی فائلیں دیکھ رہا تھا اچانک ہی اسکو کیسی کے رونے کی آ ئ ۔۔۔۔
عادی نے دیکھنا شروع کیا کہ آ واز کدھر سے آ رہی ہے ۔۔وہ اٹھا اور باہر گھر کے بنے باغ میں آ یا ۔۔۔
اسے اب بھی مسلسل رونے کی آواز آ نے لگی ۔۔۔
وہ گھر کے پچھلے حصے کی طرف گیا وہاں جا کے اس نے دیکھا تو وہ چونکا ۔۔۔۔
ایک لڑکی برقعے میں اپنا سر گھٹنوں میں دیے تو رہی ہے ۔۔۔
عادی نے اسے دیکھا اور کہا کون ہو تم ؟
لڑکی نے سے اٹھا کے دیکھا ۔۔
اور کہا..
بچا لو مجھے اپ ہی بچا سکتے ہو اللّٰہ نے آپ کو میری مدد کے لیے بھیجا ہے پلیز بچا کو مجھے ۔۔۔۔
لڑکی ابھی یہ بات کر ہی رہی تھی کہ ایک سانپ نما چیز آ ئ اور اس کے جسم کو ہر جگہ سے ڈسنے لگی ۔۔۔
عادی یہ سب دیکھ کر حیرت میں آیا ۔۔۔۔
لڑکی رونے لگی چیخنے لگی ۔۔۔
عادی آگے بڑھ کر اس کی مدد کرنے لگا ۔۔۔
تو اچانک ہی اس کا موبائل بجا اور اس کی آ نکھ کھول گی ۔۔۔
عادی ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔اور بولا ۔۔۔
اللّٰہ یہ خواب تھا ۔۔۔لیکن وہ لڑکی کون تھی ۔۔اور یہ سب کیوں ہو رہا ہے اسکے ساتھ ؟اللہ پاک آپ ہی سب بہتر جانتے ہیں ۔۔اگر میں کیسی کی مدد کر سکتا ہو تو پلیز مجھے ملوایا دیں اس سے ۔۔۔۔
فون جو کب سے بج رہا تھا اس نے اٹھاءا ور کال اٹینڈ کی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کمرے میں آ کر بیٹھی تو ایک جھٹکے سے اس کے جسم سے کالا سایہ نکلا ۔۔۔۔
کنول نے اس سایے کو دیکھا ۔۔۔
وہ سایہ اب کنول کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔
کنول کو اپنے ہاتھ اکڑتے ہوئے محسوس ہوئے اس کے جسم کو جھٹکے لگنا شروع ہوئے ہوگئے ۔۔۔ہاتھ اکڑ کر موڑ گئے اور جسم کو ایسے جھٹکے لگنے لگے کہ جیسے کوئ کرنٹ لگا رہا ہو ۔۔۔
کنول نے چیخنا چاہا لیکن نہ چیخ سکی ۔۔۔
اس کی آ نکھوں کے سامنے اب تک ہونے والا سارا منظر آ نے لگا ۔۔۔اسے وہ سب خواب کی طرح یاد آنے لگا ۔۔۔
کہ کیسے خلر اس کے جسم میں داخل ہوا کیسے اس نے احمد سے بدتمیزی کی کیسے کھانا کھانے دوران اسے الٹیاں آ ئیں ۔۔۔
تقریباً 20 منٹ تک کنول تڑپتی رہی ۔۔۔اسے بعد ہی اسکو اپنے جسم کے سارے حصوں میں سوئیاں چبھنا محسوس ہونے لگیں ۔۔۔
وہ بے آ واز رونے لگی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اس کی کیفیت ٹھیک ہوئ ۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں اور اردگرد دیکھا ۔۔اٹھنے کی کوشش کی مگر درد سے پورا جسم ٹوٹنے لگا ۔۔۔ہمت کر کے وہ اٹھی۔اور رونے لگی۔۔۔
خلر کھڑکی کے پاس کھڑا اس کی حالت دیکھ کر خوش ہوا ۔۔۔۔وہ سوچنے لگا ۔۔
کل تو خنزر ٹھیک ہو جائے گا وہی اب اس سے بدلہ لے گا بڑا شوق تھا اس کو بچانے کا اب خود کو بچا کے دیکھائے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول نے اپنے آ نسو صاف کیے ۔۔۔اسی وقت صنم بیگم اس کے لیے ڈبل روٹی کے کے آ ئیں ۔وہ اس کے پاس بیٹھ گئیں اور پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر بولیں ۔۔۔۔
کنول بچے میں کھلا دوں خود ۔۔۔
کنول نے چپ کر انہیں دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا ۔۔۔
کھلانے کے بعد انہوں نے برتن سائیڈ میز پہ رکھے ۔۔۔۔
کنول نے صنم بیگم کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔
امی میں آپ کی گود میں سر کر لیٹ جاؤں ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔۔
ہاں میرا بچہ ضرور۔۔۔۔
کنول ان گود میں سر رکھ کے لیٹ گئ اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
صنم بیگم پیار کرتی ہوئ بولیں ۔۔۔۔
کیا بات ہے میرا بچہ پھر پریشان ہے کیا ؟اگر کوئ پریشانی ہو تو بتاؤ مجھے ۔۔۔۔
کنول نے نہ میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
امی پتہ نہیں کچھ بہت عجیب ہے کوئ ایسی چیز ہے جو مجھے سکون نہیں لینے دیتی وہ چیز میرے جسم کو چھوتی ہے بہت برے طریقے سے ۔۔۔۔اپ کو پتہ ہے امی وہ چیز مجھے مارتی بھی ہے ۔۔۔۔
کنول نے بات ختم کی تو سی دوران ریاض صاحب گھر آئے انہوں نے صنم بیگم کو آ واز دی ۔۔۔۔۔
صنم کدھر ہو؟کھانا دو مجھے آ کر۔۔۔۔
صنم بیگم کنول کی بات سے پریشان تو ہوئیں لیکن اس کو تسلی دیتیں باہر چلیں گئیں ۔۔۔۔
کنول تکیے پہ سر رکھتے سوچنے لگی ۔۔۔۔
کیا ہو گا میرے ساتھ کیا وہ چیز مجھے مار دے گی ۔۔۔۔
صنم بیگم باہر آئیں تو ریاض صاحب کو کھانا دے کر ان کے پاس بیٹھیں اور بولیں ۔۔۔۔
آپ کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور آپ کوئ اچھا دم کرنے والا ڈھونڈیں ۔۔۔
ریاض نے سنا تو کہا ۔۔۔
____
بس کر دو کچھ نہیں ہے اس کو روز روز اس کے یہی کام ہیں جب دیکھو کچھ ہو رہا ہے کب کچھ نظر آ رہا ہے میرے ساتھ تو کچھ ایس نہیں ہوا ۔حد ہو گئ ۔پتہ نہیں کیا ہے اس کو۔۔۔جب دیکھو بہانے کرتی رہتی ہے کرو دو اس کی شادی صرف شادی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے یہ تو شادی کرنا چاہتی ہے بس ایسی وجہ سے کر رہی ہے یہ سب ۔۔۔۔
کنول نے جب باپ کی آ واز سنی تو وہ بامشکل ہمت کر کے دیواروں کو پکڑ کر اس کمرے تک آ ئ جدھر ریاض صاحب تھے ۔۔۔۔
کنول نے باپ کی ساری بات سنی ۔۔۔۔
شہریار اور احمد جو کے کھانا کھا چکے تھے ۔انہون نے ریاض صاحب کی آ واز سنی تو اٹھ کر ادھر آ ئیے جدھر ریاض صاحب تھے ۔۔۔
شہریار اور احمد نے کنول کو دیکھا اسی کے پاس کھڑے ہو گئے ۔ان دونوں نے بھی وہ سب سنا جو ریاض صاحب نے کہا ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے کنول کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
تم تو ہو ہی پاگل عذاب بن گئ ہو میرے لیے ۔۔۔
کنول نے یہ سنا تو اس کے دل میں درد سا اٹھا اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔
ریاض صاحب غصے سے آٹھ کے اس کی طرف بڑھے اور بولے ۔۔۔
دیکھتا ہوں ایسے میں تو آج جو بہانے کر رہی ہے ۔۔
کنول اس بات کو سن کر ڈر کر پیچھے ہوئ تو شہریار نے اسے پکڑا ۔۔۔
اور اس کو خود کے پیچھے کرتا ریاض صاحب کے سامنے آیا اور کہا ۔۔۔۔
بابا بس کر دیں آپ کیوں سوچتے ہیں ایسا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔پتہ نہیں کیوں ایسا غلط۔سوچ رہے ہیں ۔۔۔۔
کنول شہر یار کے پیچھے چل کے اس کا بازو پکڑ کر کھڑی ہوگی ۔وہ رونے لگی ۔۔۔۔
ریاض صاحب شہریار کی بات سن کر بولے ۔۔۔
بس شروع ہو جاؤ تم بھی اور کوئ کام نہیں تہمیں سوائے اس کو سر چڑھانے کے ۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہی ریاض صاحب واپس کمرے میں گئے اور سونے کے لیے لیٹے ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کھانے کے برتن اٹھائے اور کمرے سے باہر آ ئیں ۔۔۔۔
شہریار اور احمد نے کنول کو روتے دیکھا تو اس کو پکڑ کر کمرے میں لے کر آئے بیڈ پہ بیٹھنے کے بعد کنول اور زیادہ رونے لگی ۔اور روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
بھائ میں کوئ بہانا نہیں کر رہی سچ میں کچھ ہے کوئ ان دیکھا اور طاقتور وجود جو مجھے مارتا ہے مجھے سونے نہیں دیتا میں کیا کروں مجھے نہیں سمجھ آ رہا ۔۔۔
کنول نے روتے ہوئے اپنے سر کے بالوں کو پکڑا ۔۔۔اور پھر بولی ۔۔۔
مر جاؤں میں ۔۔میں عذاب ہوں بابا کے لیے مر جاؤں میں ۔۔۔
شہریار اور احمد نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو پکڑا جس سے وہ اپنے بال نوچ رہی تھی ۔۔۔
شہریار رنے اسے گلے لگایا اور بولا ۔۔۔
گڑیا ایسے نہیں بولتے ۔۔خود کو بددعا دینا بہت بری بات ہے اللّٰہ کو پسند نہیں کہ اس کا بندہ خود کو تکلیف دے اور تم خود کو بددعا دے کر اللّٰہ کو ناراض کر رہی ہو اور کوئ تم عذاب نہیں ہو ۔۔۔۔
احمد اور شہریار دونوں ہی کنول کی حالت اور باتوں کو سن کر پریشان ہو گئے ۔۔۔۔
شہریار نے کنول کو کہا ۔۔۔
گڑیا چلو سو جاؤ طبیعت ٹھیک نہیں ہے تہماری اور خبردار تم نے اپنے آپ کو بددعا دی ۔۔۔۔
کنول اپنے آنسو صاف کرتی سونے کے لیے لیٹ گئ ۔۔۔
کنول نے آنکھیں بند کیں ۔۔۔
تو شہریار اور احمد اس کے کمرے سے باہر آ گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار اور احمد کمرے میں آئے تو صنم بیگم نے کنول دیکھا جا کے سے سوتا دیکھ کر وہ شہریار اور احمد کے پاس آ ئیں ۔۔۔
احمد کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔۔۔
بھائ ہمیں کچھ کرنا ہو گا ورنہ کنول کی حالت زیادہ خراب ہو جائے گی اور میں سوچ رہا ہو کنول کا چیک اپ سائیکائیٹریس سے کرواتے ہیں شاہد کچھ بہتر ی آ جائے….
شہریار نے احمد کو کہا ۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے تمہیں پتہ ہو تو تم appointment لے لو ان سے …..
صنم بیگم نے یہ بات سنی اور کہا ۔۔۔۔
شہریار کنول مجھے بتا رہی تھی کہ کوئ چیز اسے بہت تنگ کر تی ہے مارتی ہے ۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔۔
امی اس نے مجھے بھی یہی کہا ہے اس لیے احمد کی بات پہ ہاں کی ہے میں نے ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو گا ۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
ان شاءاللہ ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: