Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 6

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 6

–**–**–

کنول کمرے میں آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئ تھی۔ سب مناظر اور ریاض صاحب کی باتوں کو یاد کرتے ہوئے وہ بے چین سی ہونے لگی ۔۔۔
نیند اسے آ نہیں رہی تھی خوف سے اس کا جسم تک کانپنے لگی لیکن وہ آنکھیں بند کے کے لیٹی رہی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
خلر الطاف کے پاس گیا ۔۔۔
اور بولا ۔۔۔۔
سرکار کیا حکم ہے اب میرے لیے وہ لڑکی آدھی پاگل ہو گئ ہے ۔۔۔۔
الطاف ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
خلر آج رات اس کو ایسا ہی رہنے دو کل خنزر خود ہی اس کو تکلیف دے گا ۔۔۔
اس لڑکی کے ساتھ اب جو کرے گا خنزر ہی کرے گا ۔۔۔۔
خلر بولا ۔۔۔۔ٹھیک ہے سرکار ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سو چکے تھے گھر میں نہیں سوئی تھی تو وہ تھی کنول ۔ڈر اس کے دل دماغ پہ اتنا حاوی ہو چکا تھا کہ نارمل آہٹ سے ہی ڈر جاتی ۔۔۔
سونے لگتی تو خوف سے آ نکھ کھول جاتی ۔۔۔
ڈر اسے زیادہ لگنے لگا تو وہ صنم بیگم کے پاس گئ ۔۔۔
وہ باہر صحن میں سو رہیں تھیں ۔۔۔کنول ان کی چارپائی پہ آ کر بیٹھی اور پھر ان کے ساتھ لیٹ گئ ۔۔۔صنم بیگم نے آ نکھ کھول کے دیکھا تو کنول ان کے ساتھ لیٹی ہوئی ہے تو انہوں نے کہا ۔۔۔
کیا ہوا اکیلے نیند نہیں آ رہی کیا ؟۔۔۔۔
کنول نے کہا ۔۔۔
جی امی مجھے اکیلے نیند نہیں آ رہی ۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
اچھا سو جاؤ میرے پاس ۔۔۔
کنول ان سے لیپٹ گئ اور آ نکھیں بند کر لیں ۔۔۔
اسے کب نیند آ گئ پتہ بھی نہ چلا ۔۔۔۔…
صنم بیگم صبح اٹھیں تو انہوں نے انعم کو اٹھا کہ کہا ۔۔۔۔
کنول بچے اندر جا کے سو جاؤ ۔۔۔
کنول اندر کمرے میں جا کے سو گئی ۔پانچ منٹ ہی گزرے تھے خنزر اس کے کمرے میں آیا ۔۔۔کنول نیند میں تھی اسے عجیب سی بو آ نے لگی وہ اٹھ کے بیٹھی اور دیکھنے لگی ۔۔۔بو اتنی زیادہ ہو گئ کنول کو پھر متلی ہونے لگی ۔۔۔
کنول کا اس بو سے برا حال ہونے لگا اسے الٹی آنے لگی وہ واشروم گئی الٹیاں کر کے اس نے منہ دھویا اور واشروم سے باہر آئ تو اسے کمرے کے فرش پہ خون اور کچا گوشت پھیلا ہوا نظر آیا کنول یہ سب دیکھ کر پریشان ہو گئ اسے لگا کہ وہ خواب میں ہے اس نے آنکھیں بند کر کے کھولیں ۔۔پھر بھی خون اور گوشت پھیلا ہوا نظر آیا اور اس خون اور گوشت کی بو سے کنول کا سر گھومنے لگا۔خنزر اس کی طرف بڑھا
_____
کنول خنزر کو دیکھ نہ پائ خنزر اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
کنول کو چکر سے آنے لگے وہ گرنے لگی ۔۔۔
خنزر نے اس کو بازو سے پکڑا ۔۔۔۔
کنول نے اسے دیکھا تو اس کی چیخ نکلی لیکن اس کی آواز باہر تک نہ گئ ۔۔۔وہ کنول کو گھیسٹ کر خون اور گوشت کے ٹکڑوں جو کہ فرشپہ بکھرے پڑے تھے اس پہ پھینکا ۔۔۔۔
کنول کے سارے کپڑوں اور جسم پہ خون لگ گیا ۔۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو خنزر نےاسے اٹھنے نہ دیا ۔۔۔
کنول بار بار کوشش کرنے لگی اٹھنے کی لیکن وہ اٹھ ہی نہ پائ خنزر اسے مارنے کے لیے اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
کنول نے پھر ہمت کی اور کھڑا ہونا چاہا لیکن خنزر اسے مارنے لگا اور اس کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کرتے بولا ۔۔۔۔
بہت شوق تھا نہ تجھے ہم سے پنگا لینے کا اتنی طاقت نہیں ہے جتنی ہم میں ہے تو ہے کیا ایک معمولی انسان ۔۔۔۔۔
کنول یہ سن کر تکلیف سے رونے لگی اسی دوران خنزیر نے اسے بیڈ پہ پھینکا ۔۔۔۔
کنول بیڈ پہ گری ۔خنزر ایک سایے میں تبدیل ہوکر اس کے جسم میں داخل ہوا اور ساتھ ہی وہ بولا ۔۔۔۔
اب دیکھ میں کرتا کیا ہوں ۔۔۔کنول کو ایسا لگا کہ اس کے جسم کو کیسی نے الیکڑک شاک دے دیے ہوں وہ مچھلی کی طرح تڑپنے لگی اور بے ہوش ہو گی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم کنول کو اٹھانے آ ئیں کمرے میں وہ بیڈ پہ بیٹھیں اور بولیں ۔۔۔۔
کنول بچے اٹھو اتنی دیر ہو گئ ہے ۔۔۔۔
کنول نے فوراً آ نکھیں کھولیں اور اٹھ کے بیٹھ گی ۔۔۔
صنم بیگم نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔
چلو شاباش ہاتھ منہ دھو لو اور آ ؤ آ کر کھانا کھا لو ۔۔۔
کنول بالکل چپ کر کے اٹھی اور واشروم میں چلی گئ ۔۔۔
صنم بیگم ک۔عے سے باہر گئیں اور کھانا کھانے لگیں ۔۔۔
کنول واشروم سے نکل کر کمرے میں آ ئ اپنا دوپٹہ اٹھایا اور کچن میں چلی گئ ۔۔۔
صنم بیگم نے اسے دیکھا تو کہا ۔۔۔۔
کنول تم کچن میں کیوں جا رہی ہو ؟
کنول نے انہیں دیکھا اور کہا ۔۔۔
میں اپنے لیے کھانا بنا رہی ہوں ۔۔۔
صنم بیگم نے نوٹ کیا ۔کنول بات کرتے ہوئے نظریں نہیں ملا رہی اور ایسے چل اور بول رہی ہے جیسے کیسی نے ہیپلو ٹائز کر دیا ہو ۔۔۔
کنول چپ کر کے اپنا کھانا بنا کر باہر آ ئ اور میزپہ کھانا رکھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
شہریار،احمد ،اور ریاض صاحب کھانے کی میز پر آئے کنول ایسے بیٹھی رہی جسے اس نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور چپ کر کے اپنا کھا نا کھانے لگی کھانا کھانے کے بعد وہ اٹھ کر صحن میں آ کر بیٹھ گئ ۔
ریاض صاحب نے اسے دیکھا تو کہا ۔
حد ہے اس لڑکی کی بھوکی اکڑ دیکھاتی ہے جب دیکھو ۔۔
وہ تینوں ریاض صاحب کی یہ بات سن کر افسوس کرنے لگے ۔۔۔ریاض صاحب کھانا کھا کے دوکان پہ گئے تو احمد بولا ۔۔
امی آج کنول کو عصر کے وقت تک ہم اس ڈاکڑ کے پاس لے جائیں گے میں آج کالج نہیں جا رہا میں آج انہیں کے پاس جاؤں گا ساری بات ان سے کر لوں گا ۔۔
شہریار اور صنم بیگم نے احمد کی بات سنی تو کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے کر لو بات ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول صحن میں بیٹھی ایک ہی نقطے کو گھورے جارہی تھی ۔۔۔الطاف جو کہ آنکھیں بند کیے اس کی حالت کو دیکھ رہا تھا اس نے خنزر کو کہا ۔۔۔۔
خنزر اس کو تکلیف دو اسے وہ تکلیف دو کہ یہ روئے تڑپے ۔۔۔۔
خنزر نے الطاف کی بات سنی اور کہا ۔۔۔
جو حکم سرکا ر ۔۔۔۔۔
کنول کو اچانک سے ہی محسوس ہونے لگا کہ اس کے جسم پہ کیڑے چل رہے ہیں وہ اپنے کمرے میں آ ئ دروازہ بند کر کے وہ اپنے کپڑے جھاڑ نے لگی ۔۔۔۔
شیشے کے آگے کھڑے ہو کر وہ اپنی گردن اور چہرے کو دیکھنے لگی ۔۔کچھ پل ہی گزرے تھے شیشے میں موجود اس کے عکس کا چہرہ عجیب بھیانک ہو گیا ۔اس کے چہرے پہ کٹ لگ کے خون نکلنے لگ گیا اور ان خون نکلنے والی جگہوں سے چھوٹے چھوٹے کیڑے نکلنے لگے ۔۔
کنول حیرت اور خوف سے خود کو دیکھنے لگی اور اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔اچانک ہی اس کے عکس نے شیشے سے ہاتھ نکال کر اس کی گردن پکڑ لی اس کی سانس اکھڑنے لگی درد سے اس کی جان نکلنے لگی اس نے ہمت کر کے ہاتھ کو اپنے گردن سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوئ تو وہ ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا اور کنول ڈر کر دروازے کی طرف بھاگی دروازہ کھولا تو صنم بیگم کھڑئیں تھیں انہوں نے کنول کو دیکھا اور کہا۔۔۔۔
کنول تم کمرے میں کیا کر رہی تھی اور یہ تہمارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے ؟
کنول صنم بیگم کے گلے لگ گئ اور رونے لگی ۔۔۔روتے ہوئے بولی ۔۔۔
امی مجھے کچھ ہو رہا ہے۔۔۔
صنم بیگم نے اسے تسلی دی اور کہا ۔۔۔
میرا بچہ کہا تھا نا اکیلے نہیں بیٹھنا چلو میرے ساتھ ۔۔۔
کنول چپ کر کے ان کے ساتھ چل پڑی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد کھانا کھا کے ڈاکڑ سے ملنے چلا گیا ان کے کلینک پہچا تو پتہ چلا ڈاکڑ صاحب تھوڑا لیٹ ہو گئے ہیں وہ وہیں ان کا نتظار کرنے لگا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکڑ صاحب آ گئے تو احمد ان کے کیبن میں گیا ۔۔۔۔
ڈاکڑ صاحب نے بیٹھنے کا کہا ۔۔۔
احمد سلام کرتا ہو بیٹھا اور بولا ۔۔۔۔
ڈاکڑ صاحب مجھے میرے استاد صاحب نے آپ کا بتایا تھا اور میں اپنی بہن کے متعلق بات کرنے آ یا یوں ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا ۔۔۔
جی فرمائیں کیا مسلہ ہے ان کو ؟
احمد نے کہا ۔۔۔
ڈاکڑ صاحب کچھ دنوں سے اس کی حالت بہت عجیب ہورہی ہے وہ سوتی ہے تو ڈر جاتی ہے کچھ کھا نہیں پا رہی صحیح سے کہتی ہے کہ کچھ ہے جو مجھے مارتا ہے تکلیف دیتا ہے ۔۔۔
اور پھر احمد نے وہ سب بتایا جو کہ کنول کے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب نے سب سن کر کہا کہ ۔۔۔
آپ ان کو لے کر آئیں میں ان کا چیک اپ کروں گا تو پتہ چل جائے گا کہ ان کو کیا ہے ۔۔۔
بات کرنے دوران ہی انہوں نے اپنے موبائل پہ سورت رحمن کی تلاوت لگا لی ۔۔۔
احمد نے کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے میں عصر کی نماز کے بعد لے آ وں گا ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا ۔۔۔
جی جی بالکل ۔۔۔
احمد ان سے ہاتھ ملاتا کیبن سے باہر آ گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکڑعادی ہسپتال میں مریضوں کا چیک اپ کر رہے تھے تو کیسی نے پیچھے سے آ کر ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سہل کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
عادی اس سے گلے ملتے ہوئے بولا ۔۔۔
کیسا ہے تو یار اور آج دھر اچانک سے ؟
سہل نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
میں بالک ٹھیک ہو اور میں تجھ سے ہی ملنے آیا ہوں ۔۔
____
عادی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
اچھاااا جی ۔تم ایساکرو کہ میرے کیبن میں بیٹھو میں آتا ہوں ۔۔۔
سہل سر ہلاتا اس کے کیبن میں چلا گیا ۔۔۔
عادی سب مریضوں کا چیک اپ کر کے اپنے کیبن میں گیا ۔۔۔
اور کرسی پہ بیٹھا اور بولا ۔۔۔۔
ہاں جناب بتائیں کہ کیسے چل رہے ہیں دن؟
سہل ہنس کے بولا ۔۔۔
ٹھیک جارہے ہیں شکر اللّٰہ کا ۔۔۔تم سناو؟
عادی بولا ۔۔۔
اللّٰہ کے کرم سے ٹھیک ۔۔۔۔
سہل پھر بولا۔۔۔
یار عادی تم سے ایک بات ڈسکس کرنی تھی ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
ہاں ہاں بولو کیا بات ہے؟
سہل بولا ۔۔۔
یار وہ میری سالی حنا کا تو پتہ ہے نا تھیں بیمار تھی وہ تہمارے پاس ہی علاج کے لیے آ ئیے تھے ۔۔۔اس کے شوہر نے اسے یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ میں اس بیمار اور جنوں کے سائے والی لڑکی سے کوئ رشتہ نہیں رکھنا چاہتا۔۔اب بھی اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے اب بھی وہ بیٹھے بیٹھے رونے لگتی ہے چیختی ہے ۔۔۔۔
عادی نے ساری بات سنی اور کہا ۔۔۔۔
او اللّٰہ کیسا انسان ہے وہ ۔اور جہاں تک بات جنوں کی ہے تو اس پہ کوئ سایہ نہیں ہے ۔کوئ ایسی حرکت یا بات ہوئ ہے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن میں چلی گئ تھی اور اب بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ ڈپریشن میں ہو گی ۔۔۔
سہل نے یہ سن کر کہا ۔۔۔۔
پر عادی وہ اسے اپنے پیر بابا کے پاس لے گئے تھے تو اس نے تو یہی کہا تھا کہ اس پہ سایہ اور تو اور اس نے جن نکالنے کے لیے اسے مارا بھی تھا ۔۔۔۔۔
عادی نے یہ سنا تو حیرت سے سہل کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
یار اتنی جہالت ۔۔۔کہاں لکھا ہے کہ جن نکالنے کے لیے مارنا شروع کر دو تم ایک کام کرو اسے ایک اچھے سائیکائیٹریس کو دیکھاؤ اور پلیز لازمی لے جانا ۔۔۔۔
سہل نے کہا ۔۔۔
اچھاااا میں آج ہی بات کرتا ہوں اور کل اسے لے جاتا ہوں ۔۔۔اور یار تم بتاؤ شادی کب کرنی ہے تم نے ؟
عادی نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
یار ہو جائے گی جب ہونی ہو گی تم یہ بتاؤ کیا کھاؤ گے میرے خیال میں دونوں لنچ اکھٹے کرتے ہیں کیا خیال ہے؟ ۔۔۔۔
سہل نے ہنس کے کہا۔۔۔
نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔۔۔
عادی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔
تم نہ بدلنا بھوکڑ۔۔۔۔
اس بات پہ سہل ہنس دیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد کلینک سے نکل کر سیدھا دوکان پہ گیا شہریار کے پاس ۔۔
دوکان پہ احمد پہنچا تو وہ شہریار کے پاس جا کے بیٹھا ریاض صاحب دوکان پہ نہیں تھے تو احمد نے جب انہیں نہ دیکھا تو بولا ۔۔۔۔
بھائ بابا کدھر گئے ہیں؟
شہریار بولا ۔۔۔
وہ چچا کی طرف گئے ہیں اور تم بتاؤ بات ہوئ تہماری ڈاکڑ سے ؟
احمد بولا ۔۔۔
جی بھائ ہو گئ ہے ۔اپ عصر کی نماز پڑھ کر آ جائے گا ہم۔دونوں ہی کنول کو لے چلیں گے ۔۔۔۔اور بھائ آپ نے بابا کو بتا دیا تھا کہ ہم کنول کو سائیکائیڑس کے پاس لے کر جا رہے ہیں؟۔۔۔
شہریار نے احمد کو دیکھتے ہی کہا ۔۔۔۔
ہاں بتا تو دیا تھا اب پھر وہ کچھ کہیں نہ ۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
بھائ اللّٰہ خیر کرے گا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول صنم بیگم کے پاس ہی بیٹھی رہی اور بالکل چپ کر کے نہ وہ کچھ بولی نہ ہی اس نے کچھ بتایا صنم بیگم نے اسے چپ بیٹھے دیکھا تو وہ اسکی شرارتیں یاد کرنے لگی ۔۔۔
کہ کیسے ہر بات پہ ہنسنا ایک ایک بات بتانا اور ہر کام خود کرنا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو پیار سے بولایا ۔۔۔
کنول بچے کیا سوچ رہی ہو؟
کنول نے سر اٹھا کر صنم بیگم کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں امی بس ایسے ہی ۔۔۔۔
صنم بیگم نے ک ول کو کہا ۔۔۔
چلو میرا بچہ اٹھو وضو کر کے نماز پڑھو۔۔۔۔
کنول نے اچھاااا کہا ۔
صنم بیگم نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
میں پڑھ لوں نماز پھر تم پڑھ لینا ۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر لیا ۔۔۔
صنم بیگم نماز پڑھنے لگی تو کنول نے دعا کی ۔۔۔
اللّٰہ پاک آج مجھے تو فیق دے دیں نماز پڑھنے کی میں اج نماز پڑھنا چاہتی ہوں اتنے دن ہوگئے حالت خراب ہونے کی وجہ سے میں نہیں پڑھ پا رہی ۔۔۔۔
آلے مہربان اللہ آج توفیق دے دے مجھے ۔۔۔۔۔
صنم بیگم نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو انہوں نے کنول کو کہا ۔۔۔۔
کنول بچے چلو نماز پڑھ لو ۔۔۔۔
کنول اٹھی وضو کر کے آئ اور نماز پڑھنا شروع کی ۔۔۔
سجدے میں گئ تو رو پڑی اور سجدے میں ہی دعا کرنے لگی ۔۔۔۔
اللّٰہ بچا لے مجھےاس شیطان سے بے شک آپ مہربان ہیں اے اللّٰہ مدد کریں ۔۔۔اے اللّٰہ مدد کر یں میری بچا لیں مجھے میں بہت کمزور ہوں اللّٰہ پاک بچا لیں مجھے ۔۔۔۔
سجدہ لمبا کیو کنول نے تو صنم بیگم کو فکر ہونے لگی انہوں نے کنول کو ہلانا چاہا لیکن کنول خود ہی سجدے سے اٹھی ۔۔۔
صنم بیگم نے شکر اداکیا ۔۔۔
نماز پڑھ کر کنول نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔۔۔۔
اے اللّٰہ معاف کر میری خطاؤں کو ۔۔۔مدد کر میری میں بہت کمزور ہوں اس آ زمائش پہ پوری نہیں اتر سکتی ۔۔اے میر ے رب بچا لے مجھے ۔۔۔میں نہیں برداشت کر پا رہی یہ تکلیف آپ بہت مہربان ہیں مہربانی کریں بچا لیں مجھے ۔۔۔۔
کنول دعا مانگ کر اٹھی جائے نماز لپیٹ کر رکھی اور صنم بیگم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئ ۔۔۔۔
صنم بیگم نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ۔۔۔
میرا بچہ سو جاؤ اگر نیند آ رہی ہے کنول نے ہمممم کہا اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف اپنے خاص کمرے میں بیٹھا تھا ۔۔۔
خلر اور خنزر بھی ادھر موجود تھے ۔۔۔۔
خنزر نے الطاف کو دیکھا اور بولا ۔۔۔۔
سرکار آپ نے جیسا کہا میں نے ویسا کیا صبح ہی اس کو تکلیف دی اور جب وہ بے ہوش ہوئ تب اس کو ویسا ہی چھوڑ دیااور آج اس نے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے تو اب اور کیا حکم ہے ۔۔۔۔
الطاف بات سن کر بولا ۔۔۔۔
خنزر ڈاکڑ کے کلینک میں جیسے ہی وہ داخل ہو تم نے اس کے جسم داخل ہونا ہے اور اسے تکلیف دینی ہے اور ڈاکٹر کو بھی یہی لگنا چاہے کہ وہ ڈپریشن میں ہے سمجھ گئے تم ۔۔۔۔
خنزر بولا ۔۔۔۔
جو حکم سرکا ر ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد گھر آیا تو سیدھا کمرے میں آیا صنم بیگم کے پاس ۔۔۔
اس نے ک ول کو سوتے دیکھا توبہت ہی آہستہ آ واز میں بولا ۔۔۔۔
امی میں بات کر آیا ہوں ڈاکڑ سے آج اسے عصر کی نماز کے بعد میں اور بھائ لے جائیں گے ۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے یہ سنا تو کہا ۔۔۔۔
بیٹا وہ تو ٹھیک ہے پر میں بھی ساتھ جاؤں گی ۔۔۔
احمد نے صنم بیگم کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
امی آپ پریشان نہ ہوں ہم لیں جائیں گے ۔۔۔
صنم بیگم نے اسے کہا ۔۔۔۔
بیٹا مجھے فکر لگی رہے گی مجھے ساتھ لے جاؤ ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
اچھااا امی ٹھیک ہے آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاض صاحب اپنے بھائی سے ملنے گئے تو وہ ان کو اپنے گھر لیتے گئے ۔۔۔۔
ریاض صاحب کمرے میں بیٹھے تھے جب ان کی بھابھی(صنم کی چچی) کمرے میں آکر ان سے ملیں سلام کرنے بعد وہ ان کے سامنے صوفے پہ بیٹھ گئیں اور سب کا پوچھنے لگیں ۔۔۔۔
باتوں باتوں میں انہوں نے کنول کا پوچھا تو ریاض صاحب نے ان کو بتایا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیا الٹی حرکتیں کرتی پھر رہی ہے کنول کبھی کیا تو کبھی کیا آج ہی اس کے بھائی اسے دماغ کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے ۔۔۔۔
صنم کی چچی نے یہ بات سنی تو دل ہی دل میں بہت خوش ہوئیں ۔۔۔۔اور بولیں ۔۔۔
ہائے ہائے دماغ کے ڈاکٹر کے پاس تو پاگل جاتے ہیں کیا وہ پاگل ہو گئ ہے ۔۔۔میں نا کہتی تھی زیادہ پڑھ لیں لڑکیاں تو پاگل ہو جاتیں ہیں اور ویسے بھی بھائ شادی کر دو اس کی خود ہی ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔۔۔
ریاض صاحب نے بات سن کر کہا ۔۔۔
ٹھیک کہا بھابی آپ نے ۔۔۔۔
ریاض صاحب کے بھائی (کنول کے چچا) نے سنی تو اپنی بیوی کو کہا ۔۔۔۔
بس کر دو تم تو ہر وقت الٹا سوچنا اور کرنا ۔۔۔
پھر وہ ریاض صاحب کو دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔
یار ریاض کچھ تو ہوش کر لے بیٹی ہے تیری وہ تو ہمیشہ الٹا نہ سوچا کر اس کے بارے میں ۔۔۔۔
ریاض صاحب یہ بات سن کر چپ رہے ۔۔۔
جب نے ان کی بھابھی منہ بناتیں آٹھ کر چلیں گئیں ۔۔۔۔۔۔

Read More:  Mirwah ki Raatain by Rafaqat Hayat – Episode 5

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: