Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 7

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 7

–**–**–

کنول کی آنکھ کھولی تو اس نے خود کو ایک اور جگہ پایا ۔۔۔
ہر طرف روشنی تھی اور وہ ایک بہت ہی خوبصورت گھر میں کھڑی تھی۔۔۔۔
کنول پریشان اور حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔
اچانک ہی اسے کیسی نے پکارا ۔۔۔۔
کنول ۔۔۔۔۔
کنول نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران ہو گی ۔۔۔۔
اس کے دادا بہت ہی پرکشش سفید لباس میں تھے ۔۔۔۔کنول بھاگتی ہوئ ان کے پاس گی اور ان سے لیپٹ گئ اور روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
دادو آپ کدھر تھے پتہ ہے میں کتنی تکلیف میں تھی بابا نے بھی مجھے ڈانٹا اور آپ کو پتہ ہے مجھے کوئ مارتا ہے۔۔اس نے اپنے بازو دیکھائے جدھر نیل پڑ گئے تھے ۔۔۔۔
اس کے دادا اسے پیار کرتے بولے۔۔۔
میرا بچہ میں جانتا ہوں سب ۔۔۔تم تو میری بہادر بیٹی ہو تم ہمت رکھو ۔۔۔۔
کنول روتے ہوئے ان کو وہ سب بتانے لگی ۔۔۔
دادو بہت درد ہوتا ہے معدے میں اور جسم تو ایسے لگتا ہے ٹوٹ جائے گا ۔۔۔۔
اس کے دادا اس کی بات سن کر بولے ۔۔۔۔
کنول اپنا ایمان اور یقین کبھی کم مت ہونے دینا تم بہادر ہو اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا تہماری ہر تکلیف اللّٰہ پاک دور کریں گے تم بس دعا کرتی رہنا۔۔۔۔
وعد کرو کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے ایمان کو کمزور نہیں ہونے دو گی ۔۔۔۔
کنول ان کو دیکھ کر بولی میں وعدہ کرتی ہوں دادو ۔۔۔
تب ہی انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
اسی دوران کیسی نے کنول کو کیسی نے آ واز دی ۔۔۔۔
کنول بچے اٹھو عصر کا وقت ہو رہا ہے ۔۔۔۔
کنول نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں تو شہریار پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔
کنول نے مسکرا کر آنکھیں کھولیں اور اٹھ کے بیٹھی ۔۔۔۔
شہریار نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
چلو نماز پڑھ لو پھر ڈاکٹر کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔
کنول اچھاا کر کے بیڈ سے اٹھی اور واشروم میں چلی گئ ۔۔۔۔
شہریار بھی کمرے سے باہر آ گیا اس نے احمد اور صنم بیگم کو کہا ۔۔۔۔
آپ دونوں بھی ریڈی ہو جائیں بس ابھی چلتے ہیں ۔۔۔۔
کنول وضو کر کے آئ اور اس نماز پڑھی ۔۔۔
نماز پڑھ کر امدعا کے لیے ہاتھ اٹھا ہے تو اسکو وہی خواب یاد آیا جو اس نے کچھ دیر پہلے دیکھا تھا ۔۔۔
اس نے دعا کی ۔۔۔
اے اللّٰہ میرے ایمان کی حفاظت فرما ۔۔۔مجھے بچا کے ہر بلا سے ہر مصیبت سے بے شک آپ بچانے والے ہو ۔۔۔۔
کنول دعا مانگ کر اٹھی اور برقعہ پہن کر باہر صحن میں آ ئ ۔۔۔۔۔۔
احمد اور صنم بیگم اسی کا انتظار کر رہے تھے ۔۔کنول جیسے باہر آ ئ تو شہریار نے کہا چلو ۔۔۔۔
کنول شہریار کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گی اور صنم بیگم احمد کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
کلینک پہنچ کر کنول اور صنم بیگم بائیک سے اترے تو شہریار نے کہا آپ لوگ اندر چلو ہم یہ پارکنگ ایریا میں بائیکس کھڑی کر کے آتے ہیں ۔۔۔۔
کنول کلینک کے دروازے کے قریب کھڑی ہوئ تو اسے عجیب سا محسوس ہونے لگا ۔۔۔اس کو ایسے لگا کوئ اس کا جسم کھینچ رہا ہے کنول کو گھبراہٹ ہونے لگی بہت مشکل سے وہ قدم اٹھاتی اندر کلینک کی طرف جانے لگی جیسے اس نے دروازہ کھولا ایک جھٹکے سے خنزر کالے سایے کی صورت میں اس کے جسم میں داخل ہوا کنول کو ایک زور دار جھٹکا لگا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو جھٹکا لگتے دیکھا تو کہا ۔۔۔
کنول تم ٹھیک ہو ۔۔۔
کنول بغیر نظریں ملائے بولی ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہو میں ۔۔۔۔
کنول اور صنم بیگم اندھر جا کے بیٹھے ایک جگہ پہ تو شہریار اور احمد اندر آئے ۔۔۔۔
احمد اس ڈاکڑ کے اسسٹنٹ کے پاس گیا اور کہا ۔۔۔
ہمارا اپائنٹمنٹ تھا اس ٹائم کا ۔۔۔۔
اس کے اسسٹنٹ نے نام پوچھا احمد نے کنول کا نام بتایا تو اس کے اسسٹنٹ نے ڈاکٹر کو کال کر کے پوچھا ۔۔۔فون پر پوچھنے کے بعد اسسٹنٹ نے کہا ۔۔۔
آپ لے جا سکتے ہیں مریض کو اندر کیبن میں اور اس ایک ہی شخص اندر جا سکتا ہے مریض کے ساتھ ۔۔۔۔
شہریار نے یہ سنا تو کہا ۔۔۔۔
احمد تم۔امی کے پاس رہو میں کنول کو اندر لے جاتا ہوں ۔۔۔۔
احمد نے اچھااا کہا اور وہ دونوں ادھر آئے جدھر صنم بیگم اور کنول بیٹھے تھے ۔۔۔
شہریار نے کنول کو کہا ۔۔۔
آ جاؤ گڑیا ڈاکڑ صاحب نے اندر چیک اپ کے لیے بولایا ہے ۔۔۔۔کنول بغیر اسے دیکھے کھڑی ہوئ اور شہریار کے ساتھ چل پڑی ۔۔۔۔
کیبن میں داخل ہوتے ہی ڈاکٹر نے شہریار اور صنم کو دیکھااور بیٹھنے کو کہا ۔۔۔۔
دونوں بیٹھے تو ڈاکٹر نے پوچھا ۔۔۔
جی تو کیا مسلہ ہے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
یہ میری بہن ہے کنول کچھ ہفتوں سے اس کے ساتھ کچھ عجیب کو رہا ہے ۔۔۔
ڈاکڑ صاحب نے کنول کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے
میں چیک اپ کرتا ہوں ۔۔۔
اس نے کنول کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
بیٹا آپ ادھر بیڈ پہ لیٹ جائیں ۔۔۔
کنول چپ کر کے اٹھی اور بیڈ پہ لیٹی ۔۔۔
ڈاکڑ آٹھ کے اس کے پاس آیا اور بول ۔۔۔
اب بتائیں کیا ہوتا ہے ؟کہیں درد وغیرہ ہوتا ہے کیا؟ کیا سوچتی ہے آپ ۔۔۔
کنول یہ بات سن کر بولی ۔۔۔
مجھے معدے میں بہت درد ہوتا ہے اور کچھ عجیب سی چیزیں نظر آتی ہے ۔۔۔
اس ڈاکڑ نے کنول کی بات سن کر کہا اچھا آپ اپنی آنکھیں بند کریں اور خود کو پرسکون کریں ۔۔۔
کنول نے آنکھیں بند کیں تو اسی دوران ڈاکڑ کا موبائل بجا ڈاکڑ نے موبائل اٹھایا تو گھر سے کال تھی ۔۔۔کال ڈسکنکٹ کر کے وہ کنول کے پاس آیا ۔۔۔ڈاکڑ نے اسی وقت ایف ایم ون کیا اس پہ سورت رحمن لگی ہوئ تھی ۔۔۔
کنول کے کانوں میں جیسے سورت رحمن کے الفاظ گئے ۔۔۔
اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے ۔۔۔ڈاکڑ اس کی کیفیت دیکھنے لگا ۔۔۔کنول نے اپنی آنکھیں کھولیں تو وہ لال تھیں بالکل اور اس نے گھور کر ڈاکڑ کو دیکھا ۔۔۔
کنول کی اس حالت کو دیکھ کر شہریار اس کے پاس آیا ۔۔۔
ڈاکڑ اس کو حیران ہو کر دیکھنے لگا ۔۔۔کنول کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکلنے لگیں ۔۔۔
کنول کو ایسا لگا جیسے اس کا پورا جسم ٹوٹنے رہا ہے وہ درد سے چیخی ۔۔۔کنول کا جسم ایسے ہلنے لگا جیسے اسے کوئ اٹھا اٹھا کہ پھینک رہا ہو شہریار اور ڈاکڑ صاحب نے کنول کو بازوں سے پکڑا لیکن کنول ان کے قابو میں نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
اسی دوران وہ چیخی اور ایک بہت بڑی قے کرتی ہوئ وہ بے ہوش ہو گئ ۔۔۔۔
ڈاکڑ نے کنول کو بے ہوش دیکھا تو اس نے اس کی نبض چیک کی جو بہت سلو چل رہی تھی اس نے اس کا بی پی چیک کیا تو بہت لو تھا ۔۔اس نے شہریار سے کہا ۔۔۔
آپ کی بہن کو ڈپریشن نہیں ہے کچھ اور ہے ۔۔۔اب اس کی حالت بہت خراب ہے آپ جلدی ایسے ساتھ ہی ہسپتال ہے ادھر لے جائیں۔۔۔
شہریار نے کنول کو اٹھایا اور کیبن سے باہر آ یا سارے لوگ کنول اور شہریار کو دیکھنے لگے ۔۔۔
احمد نے شہریار کو دیکھا جو کہ کنول کو اٹھا کے کیبن سے باہر آیا تھا بھاگ کے اس کے پاس گیا اور بولا ۔۔۔
بھائ کیا ہوا ہے کنول کو ۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔۔۔
احمد تم امی کو لے کر ساتھ والے ہسپتال میں آؤ ۔۔
میں کنول کو ادھر لے کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔
احمد نے اچھااا کہا اور صنم بیگم کے پاس گیا ۔۔۔
شہریار کنول کو اٹھا کر فورا ساتھ ہی موجود ہسپتال میں گیا ۔۔۔
واڈ بوائے نے شہریار کو دیکھا تو جلدی سے سٹیچر لے کر آیا ۔۔شہر یار نے کنول کو سٹیچر پہ لیٹایا اور کہا ۔۔۔
پلیز اسے ایمرجنسی وارڈ میں ے چلو ۔۔۔
واڈ بوائے ایمرجنسی واڈ لے کر گیا تو ادھر ڈاکڑ سمیعہ کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔
شہریار نے ڈاکٹر کو دیکھا تو کہا ۔۔۔۔
پلیز ان کا چیک اپ کریں ان کی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ کنول کا چیک اپ کرنے لگیں چیک اپ کرنے کا بعد بولیں ان کو جلدی ایسے سی یو میں لے جاؤ ۔۔۔۔
کنول کو ای سی یو میں لے کر گئے تو ڈاکڑ سمیعہ نے نرس کو ڈرپ اور انجکشن لانے کو کہا ۔۔۔۔
شہریار ای سی یو کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔۔احمد اور صنم بیگم آئے تو وہ شہریار کو ڈھونڈنے لگے ۔۔۔
شہریار ان کو ای سی یو کے باہر کھڑا نظر آیا تو دونوں اس کے پاس گیے ۔۔۔صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے میری بیٹی کو شہریار؟
شہریار نے صنم بیگم کی بات سن کر کہا ۔۔۔
امی اس کا چیک اپ ہو رہا ہے آپ دعا کریں ۔۔۔
نرس ڈرپ اور انجکشن لے کر آئ تو ڈاکڑ سمیعہ نے نرس کو ڈرپ لگانے کو کہا ۔۔۔نرس ڈرپ لگانے لگی تو اس نے کنول کے بازو پہ نیل کے نشان دیکھے تو فورا ڈاکٹر سمیعہ کو کہا ۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ لڑکی کے بازو پہ عجیب سے نشان ہیں ۔۔
ڈاکٹر سمیعہ اس بات پہ چانکی اور کنول کے بازو دیکھنے لگیں ادھر کافی جگہ پہ نیل کے نشان تھے ۔۔۔
ڈاکڑ سمیعہ کو کچھ عجیب لگا اور انہوں نے ادھر موجود دوسری نرس سے کہا ۔۔۔
ڈاکٹر عادی کو بولا لائیں ابھی انہیں کہیں ایک ایمرجنسی ہے جلدی سے ای سی یو میں آئیں ۔۔۔
نرس سر ہلاتی ڈاکڑ عادی کو بھاگتی ہوئ بلانے چلی گئ ۔۔۔ڈاکڑ سمعیہ نے نرس کو کہا ۔۔۔
تم ڈراپ لگاؤ انجکشن بعد میں لگانا ابھی نہیں ۔۔۔
نرس ڈاکڑ عادی کے کیبن میں آئ اور اس نے انہیں ڈاکڑ سمیعہ کا پیغام دیا ۔۔
عادی فورا اٹھا اور ای سی یو کی طرف گیا ۔۔۔
ای سی یو میں داخل ہوتے ہی اس نے ڈاکٹر سمیعہ کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
کیاہوا آپی آپ نے اتنی جلدی میں بولایا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ اسے کنول کے پاس لے کر گئیں ۔۔۔۔
عادی نے کنول کو دیکھا تو وہ چونکا یہ تو وہی لڑکی ہے جو مجھے اکثر خواب میں نظر آتی ہے ۔۔۔۔
ڈاکڑ سمیعہ نے اسے کنول کے بازو دیکھائے جدھر نیل پڑے ہوئے تھے ۔۔۔
عادی نے اس کے بازو پہ پڑے نیل کو دیکھا اور اس نے حیرت سے بولا ۔۔۔
آپی یہ نیل کیسی انسان کے مرنے سے نہیں پڑے ۔
آپ مجھے بتائیں یہ ہے کون اسے کیا ہوا ہے ؟
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔
نام تو مجھے نہیں پتہ لیکن اس کی حالت کافی خراب ہے بی پی اتنا لو ہے جیسے اس نے کچھ کھایا ہی نہ ہو ایک ہفتے سے اور نبض بھی سلو چل رہی ہے ۔۔۔
عادی یہ بات سن کر کہا ۔۔۔
آپی آپ ایسے ڈرپ لگائیں اور مجھے اس کی فیملی سے ملائیں ۔۔۔
ڈاکڑ سمیعہ نرس کو ڈرپ کا کہتیں عادی کو باہر ای سی یو سے لے کر آئیں ۔۔۔
شہریار نے ڈاکٹر سمیعہ کو دیکھا تو بھاگ کے ان کے پاس گیا اور بولا ۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ میری بہن کیسی ہے؟
عادی نے شہریار کو دیکھا تو اسے یاد آیا ۔۔۔
یہ تو وہی پارک والا لڑکا ہے اور جو لڑکی تھی اس کے ساتھ وہ اس کی یہی بہن تھی ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کہا ۔۔
دیکھیں ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے ابھی ۔۔۔ابھی وہ ای سی یو میں ہی ہیں آپ دعا کریں ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو گا ۔۔۔اور آپ ریسپشنر پہ ساری فورمیلیٹیز پوری کر دیں ۔۔۔
احمد نے یہ بات سنی تو کہا ۔۔۔۔
میں کر آتا ہوں بھائ آپ امی کو سنبھالیں ۔۔
ڈاکٹر سمیعہ چلی گئیں لیکن عادی ادھر ہی کھڑا رہا ۔۔۔شہریار صنم بیگم کو تسلی دینے لگا ڈاکڑ کی بات سن کر وہ رونے لگیں تھیں ۔
ڈاکڑ عادی چلتا ہوا شہریار کے پاس آیا اور کہا ۔۔کیا میں آپ سے دو منٹ بات کر سکتا ہوں ۔۔۔
شہریار نے عادی کو دیکھا اور کہا۔۔۔۔
جی ۔۔۔۔
عادی شہریار کو سائیڈ پہ لے گیا اور بولا۔۔
اپ کی بہن مشکل میں ہے
___
عادی کی بات سن کر شہریار کو تھوڑا عجیب لگا ۔۔۔۔اس نے عادی سے کہا ۔۔۔
آپ کہنا کیا چاہا رہے ہیں کیسی مشکل میں ہے ؟۔۔۔
عادی نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔۔
آپ کی بہن کے بازو پر جو نیل کے نشان ہیں وہ کوئ معمولی سی چوٹ لگنے کے نہیں ہیں وہ کیسی کے مارنے کے ہیں اور مارنا کیسی انسان کا نہیں لگ رہامجھے ۔۔۔
شہریار نے جب یہ بات سنی تو پریشان ہو گیا اور بولا ۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔
کچھ تو ہے جو آپ کی بہن کے ساتھ ہو رہا ہے ۔۔۔اسکے ہوش میں آ نے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کیا ماجرا ہے فلحال دعا کریں وہ ہوش میں آ جائے ۔۔۔۔۔
عادی یہ کہتا ہوا اپنے کیبن کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔
اور شہریار پریشان ہو کر صنم بیگم کے پاس کرسی پہ بیٹھ گیا ۔۔..
اتنی دیر میں احمد پے منٹ کر کے آیا اس نے شہریار کو دیکھا تو اس کے پاس آیا صنم بیگم نے شہریار کو پریشان دیکھا تو بولیں ۔۔۔
کیا کہا اس ڈاکڑ نے ؟
احمد صنم بیگم کی بات سن کر حیرانگی سے شہریار کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ کنول کیسی مشکل میں ہے اس کے جسم پہ جو نیل کے نشان ہیں وہ کیسی انسان کے مارنے کے یا کیسی چوٹ لگنے کے نہیں ہیں ۔۔۔اور وہ کہہ رہے ہیں کہ کنول کا ہوش میں آنے کے بعد پتہ چلے گا ۔۔۔۔
صنم بیگم یہ سن کر بولیں ۔۔۔
شہریار میں کہتی تھی تم سے کہ کنول کے ساتھ کچھ ہو رہا ہے میری بچی پتہ نہیں کس کس تکلیف سے گزر رہی ہے ۔۔۔۔
احمد بھی یہ سب سن کر دل میں ہی دعا کرنے لگا ۔۔۔۔
اللّٰہ کنول کو ہوش آ جائے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خنزر کنول کے جسم میں داخل ہو کر اسے تکلیف دیتے ہوئے واپس نکل تو گیا لیکن کنول کمزور ہونے کی وجہ سے درد برداشت نہ کر سکی اور بی پی اتنا زیادہ لو ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئ تھی اور ہوش میں نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
شہریار ،احمد اور صنم بیگم اس کے دعا کر رہے تھے کہ وہ ہوش میں آ جائے ۔۔۔۔
خنزر اسے تکلیف دے کر اس کے جسم سے نکل۔کر الطاف کے پاس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی اپنے کیبن میں بیٹھا کنول کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
آخر اس لڑکی کے ساتھ ہوا کیا ہے اور اس لڑکی کا میرے خواب میں آکر مدد مانگنا اور پھر اچانک میرے سامنے آنا وہ بھی اس حال میں پتہ نہیں کیوں ہے ایسا ۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے بعد ۔۔۔
کنول نے اپنی آ نکھیں کھولیں تو پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کدھر ہے ۔۔۔وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جب اس کا دماغ صحیح سے بیدار ہوا تو اسے صرف یہ یاد آیا کہ وہ کلینک میں داخل ہو رہی تھی اس کے بعد کیا ہوا اسے یاد ہی نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔اس نے اپنے بیڈ کے پاس نرس کو دیکھا تو بولنے کے لیے لب کھولے ۔۔۔۔بہت مشکل سے بولی ۔۔۔۔
پانی ۔۔۔۔
نرس نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
کیا چاہیے آپ کو ؟۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
پانی ۔۔۔۔
نرس نے سنا تو کہا ۔۔۔
ابھی لاتی ہوں ۔۔۔۔
وہ نرس پانی لینے گی ۔۔اور دوسری نرس کو کہتی گئ کہ ڈاکڑ سمیعہ یا ڈاکٹر عادی کو بولا لائیں ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عادی کو نرس نے بتایا کہ وہ بے ہوش لڑکی ہوش میں آ گئی ہے ۔۔۔تو وہ اپنے کیبن سے نکلے اور ی سی یو میں چلے گئے ۔۔۔۔۔
نرس کنول کے لیے پانی لے کے آ ئ کنول نے دو گھونٹ پانی پیا ۔۔۔۔
ڈاکڑ عادی اندر آئے اور کنول کا چیک اپ کرنے لگے اور بولے ۔۔۔۔۔
کیا نام ہے آپ کا؟
کنول ڈاکٹر عادی کو دیکھتے بولی ۔۔۔۔
مہ میرا نام کنو کنول ہے ۔۔۔
عادی نے مسکرا کر کہا ۔۔
بہت اچھا نام ہے ۔۔۔اور آپ یہ بتائیں کنول کیا آپ کھانا نہیں کھا رہیں جو اتنی ویکینس ہو رہی ہے آپ کو ۔۔۔۔
کنول نے حیران ہو کر اس کو دیکھا اور بولی ۔۔۔۔
میں تو کھا رہی ہوں ۔۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔۔۔
اچھاااا آپ ریسٹ کرو ۔۔۔
عادی باہر آیا تو اس نے شہریار سے کہا ۔۔۔
آپ میرے کیبن میں آئیں ۔۔۔۔
شہریار احمد اور صنم بیگم کو بتاتا عادی کے کیبن میں چلا گیا ۔۔۔۔
شہریار اور عادی دونوں کیبن میں آکر بیٹھے ۔۔۔
عادی نے بات شروع کی اور کہا ۔۔۔۔
شہریار نام ہے نا آپ کا کہا ۔۔۔۔
شہریار نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔۔۔
شہریار صاحب کنول ہوش میں آگئی ہے اور اسے بات بھی میری ہوئ ہے ۔۔۔کنول کو ڈپریشن ہے لیکن اتنا نہیں ۔۔۔ابھی کچھ دیر میں کنول کو روم میں شفٹ کر دیں گے ۔۔۔۔اپ ایک بات بتائیں ۔۔۔کیا کبھی کچھ ایسا ہوا جو بہت عجیب ہو کنول نے آپ کو بتایا ہو ؟
شہریار بولا ۔۔۔۔
ہاں ہوا ہے ایسا بہت دفعہ ۔۔۔
کنول کی جب سے طبیعت خراب ہوئ ہے تب سے وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ بھائ کوئ ہے جو مجھے تکلیف دیتا ہے مارتا ہے ۔۔۔اس کے علاؤہ کنول نے کچھ بھی نہیں بتایا ۔۔۔۔
عادی نے ہمممم کہا ۔۔۔اور کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
شہریار میرا پاس کچھ علم ہے جس سے میں ان دیکھی چیزوں کو دیکھ سکتا ہوں اور یہ علم مجھے میرے اپنے نے دیا ہے ۔۔۔روم میں شفٹ ہونے کے بعد میں کنول سے پوچھوں گا سب آپ کو کوئ اعتراض تو نہیں۔۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔۔
نہیں ہمیں کوئ اعتراض نہیں ۔۔۔اپ جو پوچھنا چائیں پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے اس سے پوچھنے کے بعد ہی میں بتاؤں گا کہ کیا مسلہ ہے اور کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
شہریار عادی سے بات کر کے آیا تو اس نے احمد کو کہا ۔۔۔۔
احمد تم بابا کو کال کر کے بتا دو سب اور شاہد آج رات یہیں رکنا پڑے ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
بھائ وہ تویں بتا دوں گا ۔۔۔اب کنول کیسی ہے اور ڈاکٹر نے کیا کہا ہے؟صنم بیگم بھی پریشانی سے شہریار کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔
کنول کو ہوش آ گیا ہے اسے روم میں ابھی شفٹ کریں گے اور ڈاکٹر کہا رہا تھا کہ ۔۔۔کنول سے بات کر کے ہی پتہ چلا گا کہ کیا ہے اسے لیکن ان کے مطابق کنول جو ڈرتی تھی کہتی تھی کہ کوئ ہے وہ اس کا ڈپریشن نہیں تھا ۔۔۔۔۔
احمد نے بات سنی تو کہا ۔۔۔۔
کیا مطلب بھائ ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
احمد وہ ڈاکڑ کہہ رہاہے کہ کنول کے ساتھ کوئ اور مسلہ ہے وہ بیمار نہیں ہے اتنا ۔۔۔۔۔
احمد اور صنم بیگم یہ بات سن کر پریشان ہو گئے ۔۔۔۔
شہریار نے صنم بیگم کو دیکھا تو کہا ۔۔۔
امی دعا کریں سب ٹھیک ہو ۔۔۔۔
صنم بیگم چپ کر کے سے دیکھنے لگیں اور ہمممم کہا ۔۔۔
احمد ریاض صاحب کو کال کرنے
لگا ۔وہ ریاض صاحب سے بات کرنے کے لیے تھوڑا سائیڈ پہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔
ریاض صاحب نے کال اٹینڈ کی اور بولے۔۔۔
ہاں کیا ہوا کدھر ہو تم لوگ ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
بابا وہ کنول کی طبیعت خراب ہو گئ ہے تو اسے ہسپتال لے آئیں ہیں شاہد رات کو یہیں رکنا پڑے ۔۔۔۔
ریاض صاحب غصے سے بولے ۔۔۔۔
لو جی ایک اور مسلہ ٹھیک ہے جدھر مرضی رہو لیکن رات کو کوئ ایک آ جائے گھر ۔۔۔۔
احمد باپ کی بات سن کر افسوس کرنے لگا اس نے کہا ۔۔۔۔
اچھااا ۔۔۔اور کال کاٹ دی احمد سوچنے لگا ۔۔۔
بابا نے یہ بھی نہیں پوچھا کیا ہوا کنول کو ؟حد ہے ویسے ۔۔۔۔۔
احمد کال کر کے دوبارہ ادھر آیا جدھر شہریار اور صنم بیگم تھے۔۔۔۔
شہریار نے پوچھا ۔۔۔۔
ہو گئ بات ان سے ؟
احمد بولا ۔۔۔۔
ہاں ہو گئ ہے بات ۔وہ کہہ رہے ہیں کہ رات کو کوئ آ جائے گھر۔۔۔۔
شہر یار نے کہا ۔۔۔
اچھا احمد تم گھر چلے جانا امی اور میں یہیں رہیں گے۔۔۔۔
احمد نے اچھاااا کہا ۔۔۔
صنم بیگم اٹھی اور بولیں۔۔۔
میں نماز پڑھ آؤں اور تم دونوں بھی جاؤ نماز پڑھ آ ؤ ۔۔۔
دونوں ہی سر ہلاتے نماز پڑھنے چلے گئے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: