Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 8

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 8

–**–**–

کنول آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔نرس نے پاس آکر کہا ۔۔۔۔۔
آپ کو کچھ اور چاہیے کا ؟
کنول نے آنکھیں کھول کر کہا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔کیا میں اپنی فیملی سے مل سکتی ہوں ؟
نرس نے کہا ۔۔۔
ابھی آپ کو کچھ دیر میں روم میں شفٹ کر دیاجائے گا پھر آپ مل۔لیں گی ۔۔۔۔
کنول نے سنا تو کہا ۔۔۔
اچھااا اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھنے کے بعد احمد اور شہریار دونوں ہی کنول کے لیے دعا کرنے لگے ۔۔۔
اللّٰہ پاک بے شک آپ ہر چیز پہ قادر ہو ۔۔۔کنول جو صحت عطا کریں ۔۔۔۔
صنم بیگم بھی دعا مانگ کر ادھر ہی آئیں جدھر وہ پہلے بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔
احمد اور شہریار بھی نماز پڑھ کر آگئے ۔۔۔۔
کنول کو روم میں شفٹ کیا گیا تو ڈاکٹر عادی نے شہریار سے کہا ۔۔۔
میں دس منٹ تک روم میں آکر کنول سے بات کروں گا۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ڈاکٹر ۔۔۔۔۔
عادی ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
آپ مجھے عادی بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔جی اچھا ۔۔۔۔
کنول نیند کی حالت میں تھی ۔۔۔
جب اسے اپنے سر کر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا اس نے آنکھیں کھولیں تو صنم بیگم پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں ۔۔۔
کنول ان کو دیکھ کر مسکرائ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
میرا بچہ اب ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔۔
جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔
احمد اور شہریار کنول کے پاس آئے اور شہریار بولا ۔۔۔
گڑیا اب کیسا محسوس ہو رہا ہے درد تو نہیں ہو رہا ۔۔۔۔
کنول نے نہیں میں سر ہلایا ۔۔۔۔
احمد اس کو دیکھ کے بولا ۔۔۔
موٹی ڈرا رہی ہو ہمیں۔۔۔۔
کنول اس کی بات پہ صرف مسکرائ۔۔۔۔
تب ہی شہریار نے کہا ۔۔۔۔
احمد نہ کرو تنگ اسے ۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
بھائ سچ میں ڈرا رہی ہے یہ ۔۔۔مجھے تو کچھ ہونے لگ گیا تھا اسے دیکھ کے ۔۔۔۔۔۔۔
کنول اس بات پہ اسے دیکھنے لگی ۔۔
احمد نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
مت ڈرایا کرو نہ سچ میں ۔۔۔۔
اسی دوران عادی دروازہ نوک کر کے اندر آیا ۔۔۔
شہریار نے عادی کو دیکھا تو احمد کو کہا ۔۔۔
تم دو منٹ کے لیے امی کو باہر لے جاؤ ۔۔۔۔
احمد نے ناسمجھی میں شہریار کو دیکھا ۔۔۔
شہریار نے اسے کہا ۔۔۔
احمد تم امی کو لے کر جاؤ میں بعد میں بتا ہوں سب ۔۔۔
احمد صنم بیگم کو کمرے سے باہر لے کر گیا ۔۔۔۔
کنول بھی سو چنے لگی ۔۔
بھائ نے احمد اور امی کو کیوں باہر جانے کو کہا ؟۔۔۔۔
عادی کنول کے پاس آیا اور اس کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پہ بی گیا اور بولا ۔۔۔۔
میرا نام عادی ہے ۔۔میں ڈاکڑ ہوں ۔۔اب میں آپ سے کچھ پوچھوں گا جس کا آپ مجھے سچ سچ جواب دیں گیں ۔۔۔
کنول نے پریشان ہو کر شہریار کو دیکھا ۔۔۔
شہریار نے اسے اشارے سے تسلی دی ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
کنول آپ کے ساتھ کب سے ایسا ہو رہا ہے ؟ مطلب کہ کب سے کوئ ان دیکھا وجود آپ کو تنگ کر رہا ہے ؟
کنول بولی ۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ ؟
عادی مسکرایا اور بولا ۔۔۔
گھبرائیں نہیں آپ مجھے بتائیں ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بہت دن سے وہ جو بھی ہے بہت برا ہے مجھے مارتا ہے اور تو اور میں جب کمرے میں ہوتی تھی مجھے عجیب طریقے سے ظاہر ہو کر ڈراتا ہے ۔۔۔
عادی نے سنا اور کہا ۔۔۔
کنول یہ جو آپ کے بازو پہ نشان ہیں کیا یہ اس چیز کے مارنے کے نشان ہیں ۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
تب ہی عادی نے کہا ۔۔۔
اچھا کنول اب میں کچھ پڑھوں گا آپ کی طبیعت اگر اپ سیٹ ہو ڈرنا نہیں اوکے ہمت رکھنا ۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا ۔۔۔۔
عادی نے پڑھنا شروع کیا ۔۔۔
وہ اللّٰہ پاک کے نام پرھنے لگا تھا ۔۔۔
اسے پڑھتے ہوئے ایک منٹ ہی گزرا تھا ۔۔
کنول کو یوں لگنے لگا کہ کیسی نے اس کے پورے جسم پہ گرم پانی ڈال دیا ہو کنول نے درد کی شدت کو برداشت کرنے کے لیے آنکھیں بند کیں ۔۔۔
شہریار اور عادی کنول کی حالت نوٹ کرنے لگی ۔۔۔
کنول کا سر گھومنے لگا اسے لگا کہ اس کے دماغ کو کوئ الیکڑک کرنٹ دے رہا ہے۔۔۔شہریار کنول کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔۔کنول نے مضبوطی سے شہریار کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
شہریار نے پریشانی سے کنول کو دیکھا کنول زور سے آنکھیں بند کیے ہوئے تھی ۔۔۔
عادی پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ کنول کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ دھندلے سے مناظر آ رہے تھے ۔۔جو وہ واضح سے نہیں دیکھ پا رہا تھا لکین اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کنول کے ساتھ جو ہے یہ وہی سب مناظر ہیں ۔۔۔
کنول کی برادشت جواب دینے لگی اسے خنزیر کا وجود دیکھائی دیا تو اس نے ڈر کر آنکھیں بند کیے ہوئے کہا ۔۔۔
بھائ بچا کو مجھے وہ وہ مجھ مجھے ما مار د دے گ گا وہ وہ م مار د دے گا ۔۔۔
عادی نے کنول کو دیکھا تو اس کے سر پر ہاتھ رکا۔۔ اور پڑھ کر دعا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا تم ڈرو نہیں وہ جو بھی ہے کچھ نہیں کرے گا پرسکون ہو جاؤ ۔۔۔کنول ۔۔میں مدد کروں گا آپ کی ۔۔۔۔
شہریار کنول کی باتیں اور حالت دیکھ کہ پریشان ہوا اسنے عادی کو دیکھا اور کچھ بولنے لگا تو عادی نے اسے دیکھ کر چپ رہنے کو کہا ۔۔۔۔
کنول اب پرسکون ہو کر آنکھیں بند کیے لیٹی تھی ۔۔۔
عادی نے اپنا ہاتھ ہٹایا اور کہا۔۔۔۔۔۔
____
کنول پرسکون ہوئ ۔۔۔اور عادی بولا ۔۔۔۔
کنول آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔
کنول نے آنکھیں کھولیں اور عادی کو دیکھا ۔۔۔۔
عادی اس کے محصوم چہرے کو دیکھنے لگا اور سوچنے لگا ۔۔۔۔
اتنی کم عمری میں یہ سب ہو رہا ہے اسکے ساتھ ۔۔۔اللہ رحم کر۔۔۔۔
کنول حیرت سے عادی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔کنول اسے خود کو یوں دیکھتا دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
کی کیا ہوا ؟
عادی اپنی سوچ سے نکلا اور بولا ۔۔۔۔
کنول آپ نے ڈرنا بالکل نہیں ہے اور ایک بات جب تک میں سب تفصیل نہیں معلوم کر لیتا آپ اپنے پر آیت الکرسی پڑھتی رہیں گی ۔۔۔بلکہ ابھی سے آپ پڑھنا شروع کر دیں ۔۔۔وہ چیز آپ کے پاس نہیں آ سکے گی ۔۔۔عادی نے بات ختم کی اور شہر یار کو اشارہ کیا کہ وہ اس کے کیبن میں آئے ۔۔۔۔
عادی باہر آیا روم سے تو احمد اور صنم بیگم روم میں آ گئے ۔۔۔
شہریار نے احمد کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
احمد چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔
صنم بیگم پوچھنے لگی تو شہریار نے کہا ۔۔۔۔
امی بعد میں آ کر سب بتاتا ہوں ۔۔۔۔
احمد اور شہریار عادی کے کیبن میں گئے ۔۔۔۔
عادی کیبن میں آ کر کرسی پہ بیٹھے سوچنے لگا ۔۔۔
مجھے سب استخارے سے پتہ کرنا ہو گا اور اس کا حل نکالنا ہو گا یہ جو بھی ہے کنول کو اس کا مقابلہ بہت ہمت سے کرنا ہو گا ۔۔
شہریار نے دروازہ نوک کیا تو عادی اپنی سوچوں سے نکلا اس نے اندر آنے کو کہا ۔۔۔۔
دونوں اندر اکر کرسی پہ بیٹھے ۔تو عادی نے بات شروع کی ۔۔۔۔
شہریار صاحب آپ نے دیکھی حالت کنول کی ۔۔یہ بات تو واضح ہے کہ کنول کو جو چیز تنگ کر رہی ہے وہ کوئ معمولی نہیں ہے ۔۔۔مجھے اس سب کی تفصیل جاننی ہو گی جو کہ میں آج استخارے سے پتہ کروں گا ۔۔۔
آپ مجھے کنول کا پورا نام اور اپنے والد کا نام بتا دیں ۔۔۔
اس کی بات سن کر احمد نے عادی کو غور سے دیکھا۔۔۔ا اور سوچا ۔۔۔۔
یہ خود بھی تو اتنے بڑے نہیں ہیں اور اس کاlook بھی نہیں لگتا کہ یہ کچھ علم جانتے ہیں ۔۔۔ احمد اپنی سوچوں کو جھٹکتے یوئے بولا ۔۔۔۔
آپ کیسے مدد کریں گے اس کی اور یوں ادھر آنے کے بعد ہم تو جانتے بھی نہیں آپ کو ؟اور کیوں کرنا چاہتے ہیں آپ اس مدد ؟
احمد کی اس بات پہ شہریار نے اسے گھورا اور عادی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
میرا یہ کام ہے ۔۔جہاں تک آپ جاننے کا کہہ رہے ہیں تو میں بتا دیتا ہوں میں کون ہوں ۔۔۔۔میرا نام عادی گیلانی ہے میں پیشے سے ڈاکٹر ہوں ۔۔۔والدین فوت ہو چکے ہیں ایک انکل تھے جہنوں نے میرے والدین کے بعد مجھے سہارا دیا ۔۔اور انہوں نے مجھے یہ علم دیا ۔۔۔اور آپ کی مدد اس لیے کر رہا ہوں کیوں کہ آپ کی بہن مشکل میں ہے اور اگر کوئی آپ کی بہن کی طرح کوئ بھی مشکل میں ہو اور میں علم رکھتے ہوئے بھی مدد نہ کروں تو کیا فائدہ میرے علم کا۔۔اور بے فکر رہیں میں پیسے نہیں لیتا کیوں کہ اللّٰہ کا دیا سب کچھ ہے میرے پاس۔۔۔۔
احمد سب سن کر بولا ۔۔۔
ڈاکٹر عادی میری بات کا یہ مطلب نہیں تھا آپ کو برا لگا تو معافی چاہتا ہوں بس میں یہ جاننا چاہتا تھاکہ کیا واقعی آ پ کریں گا نہ مدد کنول کی ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
جی کروں گا ۔۔۔اپ کا ایسا سوچنا اپنی جگہ ٹھیک ہے ۔۔۔
شہریار نے عادی کو کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے ڈاکڑ عادی آپ لکھ لیں نام ۔۔ ۔۔۔
عادی نے پین اور اپنی ڈائری اٹھائی اور کہا ۔۔۔جی بتائیں ۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
گڑیا کا پورا نام ۔۔کنول ہی ہے اور والد کا نام ریاض ہے ۔۔۔
عادی نے نام لکھنے کے بعد ڈائری سائیڈ پہ رکھی ۔۔۔اور کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں آپ کو کل کنول کے ڈسچارج ہونے سے پہلے ہی بتادوں گا کہ کیا کرنا اور کیوں وہ چیز کنول کے پیچھے ہے ۔۔۔۔
شہریار اور احمد نے شکریہ ادا کیا اور کیبن سے باہر آ گئے ۔۔۔
باہر آتے ہی شہر یار نے کہا ۔۔۔
احمد کتنی غلط بات ہے تم اتنا کچھ بول گئے ۔۔شرم انی چاہیے تہمیں ۔۔۔
احمد شرمندہ ہو کر بولا ۔۔۔
سوری بھائ میں تو بس یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ ہوں اچانک کیسے مدد کرنے کے لیے تیار ہوگئے ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
جو بھی تھا اگلی دفعہ یہ غلطی نہ ہو اوکے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم کنول کے پاس بیٹھیں تھیں کنول نے انہیں دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
امی مجھے واشروم جانا ہے ۔۔۔
صنم بیگم نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور اسے پکڑ کر واشروم لے گئیں کنول نے واشروم جانے سے پہلے دعا پڑھی ۔۔۔۔
اور واشروم میں گئ ۔۔۔بامشکل کھڑے ہو کر اس نے وضو کیا اور باہر آ ئ تو صنم بیگم نے اسے پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھایا۔۔۔
کنول نے بیڈ پہ بیٹھتے ہی آیت الکرسی پڑھی اور دعا کر کے اپنے پہدم کی ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
بھوک لگی ہے میرے بچے کو؟۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
تب ہی صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
ابھی بھائ آئیں تہمارے میں کہتی ہوں کچھ لا دیں۔۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا ۔۔۔۔
احمد اور شہریار کمرے میں آ ئیے ۔۔۔دونوں ہی صوفے ہی پہ بیٹھے ۔۔۔۔
صنم بیگم نے انہیں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
بیٹا کیا بات ہوئ اس ڈاکٹر سے؟۔۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔۔
امی اس ڈاکڑ نے کہا ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔
صنم بیگم نے تجسس سے دیکھا ۔۔۔۔
تو شہریار نے کہا ۔۔۔۔
امی سب ٹھیک ہو جائے گا اس نے کہا کہ آج رات وہ استخارہ کر کے دیکھے گا کہ کیوں ہو رہا ہے کنول کے ساتھ ۔۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔
شہریار مجھے پوری بات بتاؤ ۔۔۔
تب ہی احمد بولا ۔۔۔
امی کوئ کھانے کی چیز لینی ہے ؟اپ چلیں میں اور پ کچھ کھانے کو لے کر آتے ہیں کینٹین سے ۔۔۔۔
صنم بیگم اچھااا کرتی ہوئ اس کے ساتھ چلی گئیں ۔۔۔۔
شہریار اٹھ کے کنول کے پاس آیا ۔۔۔۔کنول کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میری بہن تو بہت بہادر ہے اور اب اسے اپنی بہادری دیکھانی ہے ۔۔۔۔
کنول نے بات سنی اور مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے بھائ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صنم بیگم ک باہر لے کر آیا کمرے سے تو اس نے ساری بات بتائی جو عادی اور ان دونوں بھائ کے درمیان ہوئ ۔۔۔۔
کینٹین سے کھانے کے لیے کچھ چیزیں لے کر کمرے میں داخل ہونے سے پہلے صنم بیگم کو احمد نے کہا ۔۔۔۔
امی آپ کنول کے سامنے ابھی کوئ بات نہ کرنا ۔۔۔وہ ایسے ہی پریشان ہو گی ۔۔۔
ڈاکٹر عادی صبح بتائیں گے سب تو پھر دیکھیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کہا ۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔
دونوں کمرے میں آئے ۔۔۔۔
تو احمد نے شہریار کو کنول کے پاس بیٹھے دیکھا تو کہا ۔۔۔
واہ جی اکیلے اکیلے باتیں ہو رہی ہیں ۔۔۔۔اس بات پہ کنول اور شہریار مسکرائے ۔۔۔
صنم بیگم نے کھانے کی کچھ چیزیں شہریار کو دیں اور کہا ۔۔۔
تم یہ کھا لو پھر احمد کو گھر چھوڑ انا اور میں نے سالن بنایا تھا وہ بھی ٹفن میں ڈال کے لے آنا اور کچھ روٹیاں بھی لے آنا ۔۔۔کنول کے لیے بریڈ بھی رکھی ہے فریج میں وہ لے آنا اور کچھ چیزیں دیکھ لینا جو ضرورت کی ہوں لے آنا ۔۔۔۔۔
شہریار نے اچھا کہا ۔۔۔
صنم بیگم کنول کو بسکٹ کھلانے لگیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی سب کام سے فارغ ہو کر گھر جانے کے لیے کیبن سے نکلا تو ڈاکٹر سمعیہ نے اسے روکا اور کہا ۔۔۔
عادی وہ جو پیشنٹ تھی اس کا چیک اپ کیا تو کیا پتہ چلا ؟۔۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔۔
آپی وہی ہے جس کا آپ کو شک ہوا تھا اس لڑکی کے ساتھ ہے کچھ بس آپ دعا کریں جو مدد کا وعدہ میں نے اس سے کیا ہے وہ پورا کر سکوں ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
ان شاءاللہ ضرو پورا کرو گے ۔۔۔۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔۔
اوکے آپی میں چلتا ہوں گھر ۔ آپ نے کب جانا ہے گھر؟۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔
ہاں میں کنول کی میڈیسن بتا کہے پھر چلی جاؤں گی تم جاؤ اوکے اللّٰہ حافظ۔۔۔۔
عادی نے کہا ۔۔
اوکے اللّٰہ حافظ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی گھر آیا تو فریش ہو کر اس نے آرام دہ کپڑے پہنے اور اپنے کمرے میں بیٹھ کر کنول کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔
کنول کتنی چھوٹی اور معصوم ہے اور اب مجھے ہی اسکی مدد کرنی ہے بس اللہ پاک آپ میری مدد کیجئے گا کہ میں وعدہ جو کر آیا ہوں وہ پورا ہو ۔۔۔۔
عادی یہ سوچتے اٹھا اور نوکر کو آواز دی ۔۔۔کھانا لگاؤ ۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد عادی نے نماز پڑھ کر نفل پڑھے اور استخارے کے لیے دعا پڑھی اور بستر پہ آکر لیٹ گیا ۔۔۔
کب اسے نیند آئ اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو بسکٹ کھلایا ۔۔۔۔
احمد اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
میڈم ٹھیک ہو جاؤ پھر تم سے خدمت کروائیں گے ۔۔۔
اس بات پہ کنول نے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔
اچھا کروا لینا۔۔۔۔
ڈاکٹر سمعیہ دروازہ نوک کر کے اندر آئیں تو شہر یار نے احمد کو کہا ۔۔۔۔
او میں تہمیں چھوڑ آؤں ۔۔۔وہ جانے لگا تو ڈاکٹر سمیعہ نے کہا ۔۔۔
ایک منٹ میں کچھ میڈیسن لکھ دیتی ہوں وہ اپ لیتے آئیے گا ۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔
آپ لکھ دیں ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ کنول کا چیک اپ کرنے لگیں ۔چیک اپ کرنے کے بعد انہوں نے میڈیسن لکھ کر شہریار کو کہا ۔۔۔
یہ میڈیسن لے آئیں آپ نرس کو بولا لیجئے گا وہ آپ کو بتا دے گی کہ کیسے لینی ہیں یہ ۔۔۔۔کنول کا معدہ تھوڑا کمزور ہو گیا ہے آپ ان کو ہلکی پھلکی غذا دیجیے گا ۔۔۔۔
شہریار وہ پیپر لیتے ہی احمد کو لے کے کمرے سے باہر نکل گیا اور ڈاکٹر سمعیہ بھی چلیں گئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار احمد کو گھر لے آکر آیا تو ریاض صاحب کمرے سے باہر آئے دونوں نے ان کو سلام کیا تو ریاض صاحب نے سلام کا جواب دے کر کہا ۔۔۔۔
ہو گئ خاطر تواضع اس کی ۔۔یا ابھی اور بھی کرنی ہے ۔سارے پیسے اس پہ فضول میں خرچ کر رہے وہ تو ہے ڈرامے باز…۔۔۔
احمد کچھ بولنے لگا تو شہریار نے اسے روک کر کہا ۔۔۔
بابا اس کی طبیعت خراب ہے اس لیے ہسپتال میں ہے وہ ٹھیک ہو جائے گی اور کوئ فضول پیسے خرچ نہیں ہوئے ۔۔۔
ریاض صاحب غصہ کرتے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔
اور احمد کو شہریار نے کہا ۔۔۔
تم چلو کمرے میں ۔میں چیزیں جو ہیں وہ لے لوں پھر میں جاتا ہوں اور تم بابا سے کوئ بات نہیں کروں گے ۔۔۔
احمد نے کہا ۔۔۔
اوکے بھائ ۔۔۔۔
شہریار چیزیں اکٹھی کرنے لگا جو اس نے ہسپتال لے کر جانی تھیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس جگہ کھڑا تھا ادھر بہت اندھیرا تھا بہت مشکل سے چلتا ہوا تھوڑا سا آگے آیا تو اسے ایک گھر نظر آیا وہ اندر گیا تو ایک لڑکی نظر آ ئ جو کہ اپنے باپ کو بچانے کے لیے ایک خطرناک بھیڑیے اور سانپ نما چیز سے لڑ رہی تھی اس نے اسے مارا تو وہ دور گری جا وہ چیز۔۔۔ اس وقت ایک کالے لباس کا آدمی آکر اس کو مارنے لگتا ہے اور بولنے لگا۔۔۔۔
تو ایک معمولی لڑکی میرے غلام کو مارے گی تو اب بچے گی نہیں ۔۔۔یہ کہتے ہی وہ اس لڑکی کو ہنڑ سے مارنے لگا اور اس عجیب جانور نما چیز کوبولا ۔۔۔
مار اسے تکلیف دے اسے ۔۔۔
وہ چیز اس لڑکی کو مارنے کگی تو لڑکی رونے لگی لیکن اس کا باپ مار کھاتے بیٹی دیکھ کر بھی اس کی پرواہ نہیں کر رہا۔۔۔وہ لڑکی روتے ہوئےاس لڑکے کو دیکھتی ہے اسے تو کہتی ہے۔۔۔
بچا لو مجھے پلیز بچا لو ۔۔۔۔
اسی دوران وہ درد سے چیختی تو اسے آواز آ ئی عادی ۔۔۔۔۔
عادی کی آنکھ کھول گئ ۔۔۔وہ اٹھ کے بیٹھی گیا اور پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا اور خواب کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔
وہ تو یہ ہوا ہے ۔۔وہ جو بھی ہے اس کے بابا کی وجہ سے ہے کنول اپنے باپ کو بچاتے ہوئے آگے آ ئ ہے تو اس لیے وہ آدمی اور چیز اس کے پیچھے ہیں ۔۔۔۔
عادی اپنے بستر سے اٹھا اور وضو کیا اور نفل پڑھے اور دعا کی ۔۔۔
اللّٰہ غیب کا علم آپ رکھتے ہیں آپ ہی اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں میری مدد کیجئے کہ میں کیسے اس کو نکالو اس مصیبت میں میرے اللّٰہ مدد کر ۔۔۔۔
اچانک ہی عادی کو یاد آیا ۔۔۔انکل نے کہا تھا کہ ۔۔۔۔
اگر کوئ بھی ایسا مسلہ ہو سمجھ میں نہ آئے تو میری ڈائری اٹھا کہ دیکھنا پتہ چل جائے گا کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
وہ اٹھا اور ڈائری دیکھی اسے کھول کے پڑھنے لگا تو اسے سمجھ میں آگیا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
وہ اللّٰہ کا شکر ادا کرتا بیڈ پہ لیٹ گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خنزر ہسپتال کے کمرے کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔وہ اندر جانے کی کوشش کرتا لیکن وہ جا نہ سکا کوئ چیز اسے روکے ہوئے تھی۔۔ کیا وہ۔۔ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔وہ جتنی کوشش کرتا اندر جانے کی لیکن ناکام ۔۔۔۔۔۔کنول بیڈ پہ لیٹے باہر دیکھنے لگی تو اسے کالا سایہ نظر آیا۔۔۔وہ خوف زدہ ہوئ لیکن ہمت کر کے دیکھنے لگی کہ وہ سایہ اندر آنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن نہیں آ پا رہا ۔۔۔۔
کنول نے آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
اور وہ سایہ اچانک سے غائب ہو گیا ۔۔۔۔
کنول نے پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خنزر الطاف کے پاس گیا ۔۔۔
الطاف کمرے میں تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: