Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 9

0

کنول از غزل خالد – قسط نمبر 9

–**–**–

خنزر کمرے میں آ یا تو الطاف آ نکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگا تھا تب ہی خنزر بولا ۔۔۔۔۔
سرکار آج کچھ عجیب ہوا ۔۔۔
الطاف نے غصے میں آنکھیں کھول کر خنزر کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔۔
کیا ہو ہے اب ۔
خنزر بولا ۔۔۔۔۔۔
سرکار آج پتہ نہیں کیا ہوا ہے میں اس لڑکی کے قریب بھی نہیں جا سکا میں اس کے کمرے میں جانے لگا تو مجھے ایسا لگا کہ کوئ عجیب سی طاقت مجھے اس تک جانے سے روک رہی ہے میں چاہا کہ بھی اس تک نہیں جا سکا ۔۔۔۔۔
الطاف نے حیرت سے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔۔
ایسا ہو ہی نہیں سکتا ایسا کیا ہو گیا ۔۔۔۔الطاف نے سوچنے لگا سوچتے ہوئے اس کے دماغ میں بات آ ئ ۔۔۔۔
کہیں اس مولانا کا کوئ شاگرد تو نہیں کوئ جو اسے بچا رہا ہے ۔۔۔۔۔
الطاف نے خنزر کو کہا ۔۔۔۔
تم کوشش جاری رکھو ۔۔۔میں کرتا ہوں کچھ……
الطاف نے اپنا عمل شروع کیا تاکہ وہ دیکھ سکے کہ ایسا کیوں ہے ۔۔۔۔لیکن وہ کچھ دیکھ ہی نہ پایا اور غصے میں بولا ۔۔۔۔۔
آخر کون آ گیا اس کی ڈھال بن کر ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار کھانے کی چیزیں ، کچھ سامان اور کنول کی میڈیسن لے کر ہسپتال آیا ۔۔۔۔
صنم بیگم نے اس سے ساری چیزیں لے کر رکھیں اور پوچھا ۔۔۔۔۔
تہمارے بابا نے کچھ کہا تو نہیں؟
شہریار بولا ۔۔۔۔
امی چھوڑیں آپ فکر نہ کریں اور ریلکس رہیں۔۔۔
کنول آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی لیکن باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔
صنم بیگم نے نرس کو بلایا اور کنول کی میڈیسن کا پوچھنے لگیں کے کیسے کیسے دینی ہیں ۔۔۔۔۔نرس نے میڈیسن سمجھائیں اور چلی گی ۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو تھوڑی سی بریڈ کھلائ اور میڈیسن دیں ۔۔۔
کچھ دیر بعد کنول کو نیند آنے لگی تو وہ سو گئی ۔۔۔
کنول رات پرسکون سوئی ۔۔۔تہجد کے وقت اس کی آنکھ کھولی تو وہ اٹھ کر بیٹھی اور دعا کرنے لگی ۔۔۔۔
“”اللّٰہ میرے مالک آپ بہت مہربان ہے میری مدد کر میں مشکل میں ہوں میری مدد کر میں کمزور ہوں طاقت عطا کر میرے اللّٰہ بے شک آپ ہر چیز پہ قادر ہیں”” ۔۔۔۔
کنول دعا کرکے کمرے میں دیکھنی لگی اس نے اپنی ماں اور بھائ کو دیکھا وہ سورہے تھے ۔۔۔کنول انہیں دیکھ کر مسکرائ۔۔۔۔اور دوبارہ سے سونے کے لیے لیٹ گئ ۔۔۔۔…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی کی آنکھ اذان کی آواز پہ کھولی وہ اٹھا اور وضو کر کے مسجد میں نماز ادا کرنے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم اور شہریار نماز کے لیے اٹھے شہریار مسجد میں گیا اور صنم بیگم کمرے میں ہی نماز ادا کرنے لگیں ۔۔۔۔
کنول کی آنکھ کھولی اس نے صنم بیگم کو نماز ادا کرتے دیکھا ۔۔۔۔۔
صنم بیگم نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں دعا کرکے اٹھیں تو کنول کو جاگتے دیکھا تو بولیں ۔۔۔۔۔
میرا بچہ اٹھ گیا ۔۔۔۔۔نماز پڑھنی ہے ۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا اور صنم بیگم نے اس کو سہارا دے کر واشروم تک کیں گیں ۔۔۔کنول نے وضو کیا اور بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنے لگی ۔۔۔۔
نماز پڑھ کر دعا مانگی اور دوبارہ بستر پہ آکر لیٹ گئ ۔۔۔
آیت الکرسی پڑھی اور درودشریف پڑھنے لگی ۔۔۔
اور درودشریف پڑھتے پڑھتے سو گئ ۔۔۔۔۔
صنم بیگم جو کہ تسبیح پڑھ رہیں تھیں انہوں نے کنول کو سوتے دیکھا تو تھوڑا وہ پرسکون ہوئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی جلد ہی تیار ہو کر ہسپتال کے لیے نکلا ۔۔۔۔تو اسے کال آ ئ ۔۔۔۔
اس نے موبائل دیکھا تو ڈاکڑ سمیعہ تھیں اس نے کال اٹینڈ کی ۔۔۔
اسلام وعلیکم آپی ۔۔۔
کیسی ہیں ؟
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
وعلیکم السلام ٹھیک ہوں ۔۔۔
عادی تم ابھی تک ہسپتال نہیں گئے ؟۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
بس پہنچ رہا ہوں آپی ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم پہنچو میں بھی پہنچ رہیں ہوں وہ ایک کیس کے متعلق تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپی بس میں ابھی تھوڑی دیر تک پہنچتا ہوں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول جاگ رہی جب شہریار کمرے میں آیا۔۔۔۔کںول نے شہریار کو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
بھا ئ آپ کدھر چلے گئے تھے ۔۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔
گڑیا میں بس باہر گیا تھا امی اور اپنے لیے کچھ کھانے کو لینے ۔۔۔تم بتاؤ رات ڈر تو نہیں لگا ۔۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بھائ نہیں ڈر نہیں لگا نیند بھی آ گئ تھی ۔۔۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔چلو کچھ کھا لو ۔۔۔۔۔
صنم بیگم بھی پیار سے کنول کو دیکھنے لگیں انہوں نے شہر یار سے کہا ۔۔۔
بیٹا وہ فریج میں بریڈ رکوائ تھی دودھ کا ڈبہ بھی وہ لے آ ؤ میں کنول کو کھلا لوں ۔۔۔۔
شہریار اچھا کرتا باہر نکلا تو اسکا موبائل بجا ۔۔۔۔
اس نے دیکھا تو احمد کی کال آ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے کال اٹینڈ کی تو احمد بولا ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم بھائ۔۔۔۔کنول کیسی ہے ؟اپ اور امی کیسے ہیں اور کھانا کھایا میں آ رہا ہوں بتائیں کیا کیا لانا ہے ؟۔۔۔۔
شہر یار ہنسنے لگا اور بولا ۔۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔ آ رام سے آرام سے ۔۔۔سب ٹھیک ہے تم یہ بتاؤ بابا نے کچھ کھایا صبح اور کچھ کہا تو نہیں۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
بھا ئ بابا تو اپنے لیے ناشتہ لے کر آئے اور کھا کر مجھے کہنے لگے کہ بھائ کو کہنا آجائے دوکان پہ کل بھی نہیں آیا وہ ۔۔۔۔اور چلے گئے ۔۔۔۔
شہر یار نے کہا ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔ اچھا تم ایسا کرو آجاؤ یہیں آکر ناشتہ کر لو ۔۔۔۔
احمد نے اچھا کہا اور فون بند کر دیا ۔۔۔۔
شہریار سر جھٹکتا کنول کی بریڈ اور دودھ کا ڈبہ لیتا کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہادی ہسپتال پہنچا تو سیدھا ڈاکڑ سمیعہ کے کیبن میں گیا ۔۔ڈاکڑ سمعیہ اپنے کیبن میں ہی تھیں وہ سلام کرتا کرسی پہ بیٹھا تو ڈاکٹر سمیعہ نے ایک فائل اسے دی اور کہا ۔۔۔۔
عادی یہ فائنل ہے اس لڑکی کی جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس کی سرجری تو کامیاب رہی لیکن لڑکی کو اپنی باڈی move کرنے میں تھوڑی problem ہو رہی ہے ۔۔۔۔
عادی نے بات سن کر فائل کھولی اور دیکھنے لگا کچھ دیر بعد وہ بولا ۔۔۔۔۔
آپی ان کا حوصلہ تھوڑا کم ہو گیا آپ حوصلہ دیں انہیں اور نرس سے کہیں کے باقاعدہ ورزش کرواتی رہیں اور کچھ میڈیسن چینج کر دیں میرے خیال میں ٹھیک ہو جائیں گیں ان شاءاللہ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
اچھااا ٹھیک ہے ۔۔۔۔
عادی کرسی سے اٹھا اور بولا ۔۔۔
اچھا آپی میں چلتا ہوں مجھے کنول سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے اللّٰہ تمہیں کامیاب کرے ۔۔۔۔
عادی مسکرا کر بولا ۔۔۔
آ مین۔۔۔ اور وہ اپنے کیبن کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے کنول کو کھانے کھلا کے میڈیسن دیں ۔۔۔۔
وہ ناشتہ کرنے ہی لگیں تھیں کہ احمد اندر آیا ۔۔۔
احمد نے زور سے سلام کیا ۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔
صنم بیگم ،شہریار اور کنول اسے دیکھ کر ہنسے اور سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔
صنم بیگم اسے دیکھ کر بولیں ۔۔۔۔
تم نے کچھ کھایا بھی کہ نہیں ؟اور بابا نے کیا ناشتہ ؟
احمد بولا ۔۔۔
امی بابا نے کر لیا ناشتہ اور میں آپ لوگوں کے بغیر ناشتہ کیسے کرتا اس لیے بھائ کے کہنے پہ آگیا فورا ۔۔۔
صنم بیگم ہنسی اور بولیں ۔۔۔
آجاؤ کر لو ناشتہ ۔۔۔
احمد مسکرایا اور کنول کو دیکھا ۔۔۔
کنول اس کی باتوں سے مسکرا رہی تھی ۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
موٹی رات کو آگئ تھی نیند ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
ہاں آگئ تھی ۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
چلو اچھا ہو گیا یہ تو ۔۔۔
شہریار نے احمد کو کہا ۔۔۔
احمد کچھ تو شرم کر لو ہسپتال میں ہو ۔۔۔چلو آ ؤ ناشتہ کر لو ۔۔۔
احمد نے اچھا میں سر ہلایا پھر وہ صنم بیگم اور شہریار کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔ناشتہ کرنے بعد ۔۔صنم بیگم کنول کے پاس بیٹھیں ۔۔۔
احمد نے شہریار سے پوچھا ۔۔۔
بھائ ڈاکڑ عادی نے کچھ بتایا ؟۔۔۔
شہریار نے کہا ۔۔۔
نہیں ابھی تک وہ آئے نہیں ۔۔اور احمد مجھے پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کہ عادی کا نام پہلے میں نے کہیں سنا ہے ۔۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
بھائ سنا ہوگا ۔۔۔اب وہی اکرم بتاسکتے ہیں کہ کیا ماجرا ہے ؟۔۔۔
شہریار نےہممممم کہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ نوک ہوا تو شہریار اور احمد نے دروازے کی طرف دیکھا تو عادی اندر آ یا اسنے آتے ہی سلام کیا ۔۔۔
جس کا سب نے جواب دیا ۔۔۔
عادی نے شہریار کو دیکھااور کہا ۔۔۔۔۔
کیا حال ہے سب کا کہا کوئ problem تو نہیں ہوئ رات کو ۔۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
نہیں بیٹا ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔وہ کنول کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پہ بیٹھا اور کنول کا چیک اپ کرنے لگا ۔۔۔۔
ساتھ ہی اس نے کنول سے پوچھا ۔۔۔۔
آپ کو اب درد ہے؟ ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
تھوڑا تھوڑا معدے میں ہے ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
ہمممم میڈیسن آپ لیں جو کھ کے دیں ان شاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔
کنول نے اچھااا میں سر ہلایا ۔۔۔
عادی نے کنول کو دیکھا اور پوچھا ۔۔۔۔
کنول مجھے یہ بتائیں۔۔۔
آپ اپنے گھر میں کس کو بچانے کی کوشش کر رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
سب نے اس بات پہ عادی کو حیران ہو کر دیکھا ۔۔۔۔
کنول بھی دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
کیا مطلب ؟
عادی بولا ۔۔۔
کنول آپ کیسی کو بچاتے ہوئے اس حال میں پہنچی ہیں وہ بھی کیسی اپنے کو ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
ڈاکٹر عادی آپ کیا کہنا چاہا رہے ہیں ؟سمجھ نہیں آ رہی بات ۔۔۔۔
عادی شہریار کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
شہریار ۔اپ کی بہن نے کیسی اسے انسان کو بچانے کی کوشش کی ہے جس پر کوئ عمل ہو رہا تھا آپ کی بہن نے اس انسان کو تو بچ لیا لیکن جو عمل کر رہا تھا اس کے کام میں روکاوٹ آ ئ اس وجہ سے یہ ہے سب ۔۔۔کیا کوئ آپ کی فیملی میں بیمار ہوا تھا ؟۔۔۔
کنول نے یہ۔سنا تو وہ بولی ۔۔۔
ہاں بابا ہوئے تھے بیمار ۔۔۔۔
عادی نے یہ بات سنی اور بولا ۔۔۔۔
جب وہ بیمار ہوئے تھے تب کیا کیا تھا آپ نے ؟۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
میں کچھ کیا تو نہیں تھا ۔۔۔لیکن چچی آئیں تھیں ملنے اس وقت صرف میں تھی بابا کے پاس کمرے میں تو انہوں نے وظیفہ پڑھنے کو کہا تھا ۔۔۔کہ یہ بابا کو پڑھ کے پلا دو وہ ٹھیک ہو جائیں گے وہی میں نے کیا تھا ۔۔۔۔
یہ بات سنتے ہی شہریار ،صنم بیگم اور احمد کافی حیران ہو کر کنول کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔
عادی کو ساری بات سمجھ میں آ گئ ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔۔
آپ نے اپنے بابا کو وہ پلایا تو وہ چیز زخمی ہوئے اور عمل کرنے والے کو لگا کہ آپ نے جان بوجھ کر کیا یہ سب اس لیے آپ کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے کیوں کہ وہ جو بھی ہے عمل کرنے والا وہ شیطانی عمل کرتا ہے ۔۔۔۔
کنول یہ سن کر پریشان ہوئ ۔۔۔
عادی نے اسے پریشان دیکھا تو بولا ۔۔۔
کنول اللہ پاک نے ہر مشکل کا حل قرآن مجید میں بتایا ہے اور آپ کو بہت ہمت کرکے وہ سب پڑھنا ہو گا جو میں بتاؤں گا ۔۔قران پاک میں سے ہی بتاؤں گا ۔۔ وہ آپ کو پڑھنا ہوگا ۔۔۔۔
شہریار بولا۔۔۔
کیا واقعی سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
ان شاءاللہ ۔۔۔اللہ پر بھروسہ رکھیں ۔۔وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ۔۔۔یہ اللّٰہ پاک کا کرم ہے جو اس مشکل سے کنول کو نکالنے کے لیے میں ذریعہ بنا ۔۔۔لیکن اس سب میں اسے بہت ہمت کرنی ہو گی ۔۔۔۔
شہریار بولا تو اب کیا کرنا ہو گا ؟۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
سب سے پہلے کنول کو ساری نمازیں باقاعدگی سے پڑھنا ہو گیں اور سورت یسن بھی روزانہ پڑھنی ہوگی ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
اچھا۔۔۔۔اور کیا کیا پڑھنا ہوگا ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
اور بھی کچھ ساتھ میں پڑھنا ہوگا ۔۔۔عادی نے جیب سے کارڈ نکالا اور شہریار سے کہا ۔۔۔
یہ میرا کارڈ ہے اس پہ میرے گھر کا ایڈریس موجود ہے آپ تقریباً 1 بجے تک کنول کو ادھر لے ائیے گا ۔۔۔۔۔۔۔
شہریار نے کارڈ لیا اور بولا ۔۔
آپ کے گھر آ نا ضروری ہے ؟۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
جی کیوں کہ جو وظیفہ میں نے کنول کو پڑھنے کے بتانا ہے وہ پہلے میں اپنے گھر میں پڑھوں گا تاکہ اسے پڑھنے کے بعد کنول کی کیا حالت ہوگی ۔۔۔یہ دیکھنا پڑے گا ۔۔۔۔۔
شہر یار نے کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔کیا ہم۔اب کنول کو لے جا سکتے ہیں ؟
عادی بولا ۔۔۔۔
جی ۔۔لیکن اس کی میڈیسن کا بہت خیال رکھنا ہے ۔۔کیوں کہ معدہ ان کا کافی کمزور ہو گیا ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھیے گا جو میڈیسن لکھ دیں ہیں وہی دیں کوئ اورنہیں۔۔۔
شہریار بات سن کر بولا ۔۔۔
کیا مطلب؟۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
اس فارمولے کی اور میڈیسن بھی ہیں لیکن اس کو استعمال کرنے سے ہو سکتا ہے کہ ان کے معدے میں درد ہو تو اس لیے جو میڈیسن لکھی ہوئ ہیں وہی دیجیے گا ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ٹھیک ہے بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
کوئ بات نہیں ۔۔۔۔
عادی بات کرتا چلا گیا ۔۔۔
تو صنم بیگم کنول کے پاس آئین اور بولیں ۔۔۔
کنول تم نے بتایا کیوں نہیں مجھے ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔۔
امی مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایسا ہو گا کچھ ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
امی اب چھوڑ یں اس بات کو ۔۔۔۔
آپ سارا سامان اکٹھا کریں میں ڈسچارج چارٹ کے کر آتا ہوں ۔۔۔۔
صنم بیگم اچھا کہہ کر اٹھیں اور سامان اکٹھا کرنے لگیں ۔۔۔
شہریار احمد کو لے کر ریسپشن پہ چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی صنم بیگم نے کنول کو اپنے کمرے میں لیٹایا جا کہ اور سارا سامان رکھنے لگیں ۔۔۔۔
احمد نے شہریار کو کہا ۔۔۔۔۔
بھائ کیا ڈاکٹر عادی کے گھر جانا ٹھیک رہے گا؟ ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
احمد اس نے وہی باتیں بتائیں ہیں جو کہ کنول کے ساتھ ہوا ہے اور یہ بھی تو دیکھو اس نے یہ بھی کہا ہے کہ کنول کا میڈیکل ٹریٹمنٹ بھی ساتھ ساتھ ہو گا ۔۔۔۔۔اسی سے اندازہ لگا لو کہ وہ اچھا انسان ہے ۔۔اب پریشان نہ ہو کنول کو لے کے جانا ہے اور میں خود جاؤ ں گا تم امی کے پاس رہنا گھر ۔۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
اچھا بھائ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم نے شہریار کو بولایا ۔۔۔۔
بیٹا تم دوکان پہ جاؤ گے ؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
امی ابھی نہیں۔۔۔
میں تھوڑا فریش ہو جاؤں ۔۔۔کنول کو لے جاؤں گا واپس آکر پھر جاؤں گا۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ٹھیک ہے اپنے بابا کو بتا دو ہم آگئے ہیں گھر ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔
صنم بیگم کچن میں گئیں تو شہریار نے اپنے بابا کا نمبر ملایا ۔۔۔۔۔
ریاض صاحب نے فون اٹھایا تو شہریار نے سلام کیا ۔۔۔
ریاض صاحب نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
بابا ہم گھر آ گئے ہیں ۔۔۔
ریاض صاحب بولے ۔۔۔
اچھا ہے آ گئے ہو دوکان پہ کب آ ؤ گے ؟۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
بابا وہ کچھ کام ہے اس کے بعد آؤں گا ۔۔۔
ریاض صاحب بولے ۔۔۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے آ جانا ۔۔۔۔یہ کہتے ہی انہوں نے فون بند کیا ۔۔۔
شہریار نے فون کو گھورا ۔۔۔پر سر جھٹک کے فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔
احمد ،صنم بیگم کے ساتھ مل کر گھر کے کام کرنے لگا ۔۔۔
شہریار فریش ہو کر آیا تو وہ بیڈ پہ لیٹ گیا ۔۔۔
کنول بھی کمرے میں لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔احمد سارا کام کروا کر ک۔رے میں کنول کے پاس آیا اسے لیٹا دیکھ کے بولا ۔۔۔۔
سو رہی ہو کیا ؟۔۔۔
کنول نے آنکھ کھول کے اسے دیکھا اور کہا ۔۔۔
نہیں بس ایسے ہی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
کنول ڈر تو نہیں لگ رہا ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔۔
سچ کہوں تو یہی ڈر ہے پتہ نہیں میں اس چیز سے بچ پاؤں گی کہ نہیں ؟۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔۔
کنول اچھا سوچو سب ٹھیک ہوجائے گا ڈاکٹر عادی نے کہا تو ہے وہ مدد کریں گے تہماری ۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔۔
ہمممم کہا تو ہے بس اللّٰہ سے دعا ہے سب ٹھیک ہو ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
ان شاءاللہ ٹھیک ہو گا سب ۔۔۔۔
صنم بیگم نے احمد کو آواز دی ۔۔۔۔۔
احمد ادھر آ ؤ۔۔۔۔
احمد نے کنول کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
چلو آرام کرو میں آتا ہوں ۔۔۔
کنول نے اچھا میں سر ہلایا اور احمد صنم بیگم کے پاس گیا اور بولا ۔۔۔۔۔
جی امی کیا ہوا…۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
احمد ایسا کرو مجھے فریز میں سے گوشت کا پیکٹ اٹھا دو میں کھانا بنا لوں ۔۔۔۔
احمد بولا ۔۔۔
اچھا امی ۔۔۔۔
احمد نے پیکٹ گوشت کا پیکٹ کا کے دیا تو صنم بیگم کھانا بنانے لگیں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہریار کو نیند آگئی اسے پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔س کی آنکھ کھولی تو 12 بج رہے تھے وہ اٹھ کے بیٹھا تاہم دیکھا تو خود سے ہی بولا ۔۔۔
میں اتنی دیر سو تا رہا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر واشروم گیا فویش ہو کر صنم بیگم کے کمرے میں گیا تو احمد ،کنول اور صنم بیگم باتیں کر رہے تھے ۔۔۔شہریار کو دیکھ کر صنم بیگم بولیں ۔۔۔
وہ گئے فریش؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
امی کب نیند آ ئ پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔۔
پتہ ہے مجھے تھک گئے تھے اس لیے نہیں اٹھایا تہمیں ۔کھانا لاوں؟۔۔۔۔
شہریار بولا نہیں امی ۔۔۔۔
میں اب کنول کو لے کر جاؤں گا ۔اپ کچھ کھلا دیں ایسے ۔۔۔۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بھائ کھا لیا ہے میں نے ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
اچھا چلو ریڈی ہو جاؤ پھر چلتے ہیں ۔۔۔یہ بات کرکے شہریار کمرے سے باہر آیا تو صنم بیگم بھی ساتھ آئیں اور شہریار کو روک کے بولیں ۔۔۔
شہریار بیٹا تم اکیلے لے جاؤ گے کنول کو کیا ؟۔۔۔
شہریار بات سن کر بولا ۔۔۔۔
امی آپ فکر نہ کریں میں ہوں گا نا کنول کے ساتھ ۔۔اوع آپ بھی تھکی ہوئی ہیں آرام کریں ۔۔۔
صنم بیگم بولیں ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔
کنول اٹھ کے واشروم تک گئ ۔۔۔ٹھنڈے پانی سے منہ دھو کر کپڑے بدلے اور باہر آئ ۔۔۔
برقعہ پہن کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف کمرے میں آیا تو سوچنے لگا ۔۔۔اخر کون ہو سکتا ہے اسے بچانے والا ۔۔۔
اس نے کچھ سوچتے ہوئے پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔اور آنکھیں بند کر کے دیکھنے لگا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: