Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Last Episode 17

0

کنول از غزل خالد – آخری قسط نمبر 17

–**–**–

ان کے جسم جلنے کے ساتھ ہی کنول بولی ۔۔۔۔
کیا کہا تھا تم نے کہ ہم انسان کچھ نہیں ہیں ۔غلط کہا تھا تم نے اللّٰہ نے ہم انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔اللہ نے ہی سب کو پیدا کیا ہے ۔زندگی اور موت کا مالک وہی ہے تم لوگ نہیں ۔موت تو ہر مخلوق کو آ نی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
خنزر اور خلر کی چیخیں گونج رہیں تھیں ۔الطاف جو کہ یہ سب دیکھ رہا ہے تو وہ فوراً کنول کی طرف غصے سے لپکا ۔۔اسنے خاردار لکڑی اٹھائ اور کنول کے پیٹ میں ماری ۔۔۔لکڑی لگتے ہے کنول کے پیٹ سے خون نکلنے لگا ۔۔۔وہ زمین پہ گری ۔۔عادی اور شہریار یہ سب دیکھتے ہی کنول کی طرف بھاگتے آئے ۔۔۔شہریار نے کنول کا سر اٹھایا اور بولا ۔۔۔۔۔
گڑیا کچھ نہیں ہو گا تہمیں ۔۔۔
کنول نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔
عادی الطاف کے قریب گیا اور اسکا گریبان پکڑا ۔ ایک زور دار تھپڑ مارا اور بولا ۔۔۔
ذلیل انسان ۔تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ شرک اور برائ طرف جا رہا ہے۔۔کیا کیا اس معصوم کے ساتھ ۔۔۔
الطاف شیطانی ہنسی ہنستے بولا ۔۔۔۔۔
یہ لڑکی مارے گی اور تو بھی مرے گا ۔میرے کام میں روکاوٹ ڈالنے والا مرے گا۔۔۔۔
یہ سب منظر دیکھتے ہی الطاف کے ساتھ آئے ہوئے اس کے آدمی ت بھاگ گئے۔۔۔
عادی نے ایک زور دار مکا اس کے منہ پہ مارا تو الطاف نیچے گر گیا ۔۔۔۔
خلر اور خنزر جن کا وجود جل چکا تھا پوری طرح ۔۔۔
عادی کنول کی طرف ایا ۔۔کنول کے پیٹ سے خون بہت کل رہا تھا لیکن وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔۔
میجھے خوشی ہے کہ میں نے اور لوگوں کو بچا لیا اس انسان کے غصے اور چنگل سے ۔۔۔
عادی شہریار سے بولا ۔۔۔
اٹھاؤ اسے چلو جلدی ۔۔۔
شہریار نےکنول کو گود میں اٹھایا ۔۔وہ گاڑی کی طرف جانے لگے ۔۔۔۔
الطاف زمین سے اٹھ کر چیختے ہوئے بولا ۔۔۔
میں تم سب کو مار دوں گا سب کو ۔۔۔یہ کہتے ہی وہ ان تینوں کی طرف بھاگا۔۔۔۔
عادی نے اسے اپنی طرف آتے دیکھا تو اونچی آ واز میں سورت الرحمن پڑھنا شروع کی ۔۔کنول جو کہ ہوش میں تھی ۔۔اس نے بھی ساتھ پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔
الطاف جو بھاگتا آ رہا تھا ۔۔سورت الرحمن اس کی آواز اس کے کانوں میں پری تو اسے اپنا جسم جلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔اس نے جیسے ہی ان کی طرف قدم بڑھایا ۔۔ٹھوکر لگتے ہی وہ ایک طرف جلتی آگ کے اوپر جا گرا ۔۔پورے جنگل میں اس کی چیخیں گونجنے لگیں ۔۔اور ساتھ ہی فضا میں بہت سارے کالے سائے گھومنے لگے ۔۔۔
عادی نے یہ سب دیکھا تو بولا ۔۔۔۔
شہریار چلو جلدی سے اس جگہ کھڑا ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
شہریار اور عادی کنول کو اٹھائے جلدی سے اس جنگل سے باہر نکلے ۔۔۔شہریار نے گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور کنول کو لٹایا اور ساتھ ہی اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔عادی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا اور گاڑی بھاگا دی ۔۔۔۔
کنول کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ عادی اور شہریار مسلسل اسے آنکھیں کھولیں رکھنے کو کہہ رہے تھے ۔۔۔ہسپتال پہنچتے ہی عادی اور شہریار کنول کو لے کر آپریشن تھیٹر میں گئے ۔۔۔۔عادی نے شہریار کو آپریشن تھیٹر سے باہر جانے کو کہا اور ساتھ ہی نرس کو کہا
۔۔۔ڈاکڑ سمیعہ کو کال کریں اور کہیں ایمرجنسی ہے ۔۔۔
نرس کال کرنے چلی گئ ۔۔۔شہریار نے گھر کال کی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم بیگم ،احمد اور ریاض صاحب پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔
صنم بیگم کے دل کو کچھ ہوا ۔۔انہوں نے احمد کو کہا ۔۔۔
احمد میرا دل بہت گھبرا رہا ہے پتہ نہیں میری بچی کیسی ہو گی ۔۔۔
ریاض صاحب بھی ادھر ہی موجود تھے ۔۔۔
وہ صنم بیگم کی بات سن کے بولے ۔۔۔۔
سب ٹھیک ہو گا ۔۔۔
صنم بیگم نے غصے سے انہیں دیکھا اور بولیں ۔۔۔
ریاض میں کہہ رہی ہوں میری بچی کو کچھ ہوا نا تو کیسی کو معاف نہیں کروں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد کا موبائل بجا تو وہ اس نے دیکھا تو شہریار کی کال تھی وہ کمرے سے اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔
باہر آ کر اس نے کال اٹینڈ کی ۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
احمد تم جلدی سے امی کو لے کر ہسپتال آ جاؤ۔۔۔
احمد نے جب یہ سنا تو بولا ۔۔۔
بھائ کیا ہوا کنول ٹھیک ہے ؟۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔۔
احمد کنول بہت زخمی ہے۔وہ آپریشن تھیٹر میں ہے تم بس جلدی آ ؤ۔۔۔۔۔
____
احمد نے یہ سنا تو وہ پریشان ہوا اس نے کال بند کی اور فورا صنم بیگم کے پاس گیا اور بولا ۔۔۔۔
امی جلدی ہسپتال چلیں کنول ہسپتال میں ہے ۔۔۔۔
ریاض صاحب نے یہ سنا تو احمد کو کہنے لگے ۔۔۔
احمد میں بھی چلوں گا ساتھ ۔۔۔
صنم بیگم یہ سن کر روتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔
احمد جلدی چلو پتہ نہیں میری بچی کیسی ہو گی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
لاڈو جو کہ سیڑھیوں سے بری طریقے سے گر کے بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
اس کی آنکھ کھولی تو اس نے اپنے آپ کو بیڈ پہ پایا ۔۔۔
اس نے اردگرد دیکھا تو اور اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
لیکن نرس نے منع کیا ۔۔۔۔
لاڈو نرس سے بولی ۔۔۔
میں یہ یہاں کیسے آئ ؟۔۔۔
نرس بولی آپ بے ہوش ہو کے سڑھیوں سے گر گئ تھیں ۔۔۔۔اور سر پہ چوٹ لگی ہے آپ کو ۔۔۔
لاڈو نے بات سن کر کہا۔۔۔
میرا بھائ افعان کیسا ہے وہ ؟۔۔۔۔
نرس بولی ۔۔۔
ان کی کنڈیشن ابھی ٹھیک نہیں ہے خون کافی زیادہ ضائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔
لاڈو اٹھنے لگی ۔۔لیکن سر پر لگی چوٹ کی وجہ سے اسے چکر آنے لگے تو دوبارہ بیڈ پہ لیٹ گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نرس نے ڈاکٹر سمیعہ کو کال کی۔۔ڈاکڑ سمیعہ جو کہ گھر جا رہیں تھیں ۔۔۔نرس کی کال آ نے پہ جلدی سے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑی ۔۔۔
ہسپتال پہنچ کر وہ فورا ایمرجنسی گئیں ۔۔۔۔کنول کی حالت دیکھ کر انہوں نے عادی سے کہا ۔۔۔۔
عادی اتنی بری حالت اس کی ؟۔۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
آ پی ابھی ہمیں سے بچانا ہے میں آپ کو ساری بات بتاؤں گا بعد میں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد،ریاض،اور صنم بیگم ہسپتال پہنچے تو شہریار کو آ پریشن تھیڑ کے باہر پایا ۔۔۔
صنم بیگم نے روتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
شہریار میر ی کنول کیسی ہے؟کیا ہوا سے ؟۔۔۔۔
شہریار نے ساری بات بتائی ۔۔اور کہا ۔۔۔۔
امی آپ دعا کرو ابھی ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ اور عادی آپریشن تھیٹر میں ہی تھے۔۔کنول جو کہ بے ہوش تھی ۔۔۔بے ہوشی میں ہی اس کے دماغ کو کچھ ہونے لگا ۔۔۔۔
کنول اپنا سر ادھر ادھر ہلانے لگی ۔۔۔
عادی نے کنول کی حالت دیکھی تو اس نے پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔
کنول کی آنکھوں کے سامنے گزرے ہوئے ہر ایک منظر آنے لگے جو کے اس کو تکلیف دے رہے تھے تکلیف سے کنول کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔۔
عادی نے قرآنی آیات پڑھ کر اس پہ دم کیا تو کنول پرسکون ہو گئ ۔۔۔۔۔
شہریار ،احمد ،صنم بیگم اور ریاض صاحب آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے دعا کر رہے تھے ۔۔۔عادی اور ڈاکٹر سمیعہ آ پریشن تھیڑ سے باہر آ ئیے تو شہریار اور احمد ان دونوں کے پاس گئے ۔۔۔شہریار بولا ۔۔۔
عادی کیسی ہے کنول؟۔۔
عادی بولا ۔۔۔
شہریار کنول کی حالت ابھی بھی نازک ہے ۔دعا کرو ابھی ۔۔۔۔۔۔
شہریار اور احمد دونوں ہی پریشان ہو گئے ۔۔۔۔
عادی اور ڈاکٹر سمیعہ اپنے اپنے کیبن میں گئے ۔۔۔ڈاکڑ سمیعہ نے نرس کو بلایا ۔نرس ڈاکڑ سمیعہ کے کیبن میں آئ تو ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
عارفہ آپ کو میں نے کچھ ٹیسٹ کی بات کی ہے کنول کی۔۔اپ جلدی سے ان کا بلڈ اور یورین کا سمپل لیں اور ٹیسٹ کے لیے لیب بھجیں تاکہ جلد سے جلد رپورٹس آئیں ۔۔۔
نرس نے اچھا میں سر ہلایا اور بولی ۔۔۔۔
میم کیا یہ ٹیسٹ ہونا ضروری ہے؟۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
ہاں کیوں کہ اس کے پیٹ کے جس حصے پہ وار کیا گیا ہے وہ اس کے جسم کے اندورنی سیلز کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔۔
نرس سر ہلاتی باہر چلی گئ ۔۔ڈاکڑ سمیعہ سوچنے لگیں ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیا ہو گا ۔۔۔
اللّٰہ رحم کریے کنول پہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی نے ڈاکٹر سے بات کی ۔۔۔۔
ڈاکٹر کیا ہوا ہے افعان کو ؟
ڈاکٹر نے انہیں کہا ۔۔۔
آپ کے بیٹے میں اچانک سے ہی وائٹ سیلز کی کمی ہو گئ ہے جو کہ بالکل ٹھیک نہیں ہے آپ کو بہت احتیاط کرنا ہو گا ۔۔۔میڈیسن کے ساتھ ساتھ آپ کو اس کی خوراک کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔۔۔ایک اور بات ۔۔۔یہ بھی خیال رکھنا ہو گا کہ اسے کوئ چوٹ نہ لگے کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو چوٹ سے نکلنے والا بلڈ نہیں رکھے گا اور اس کی جان بھی جا سکتی ہے ۔۔۔۔
کنول کی تائی نے یہ سنا تو اس کے ہوش اڑ گئے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی باہر اس جگہ پہ آ ئیں جہاں کنول کے تایا بیٹھے تھے ۔۔۔کںول کے تایا نے اپنی بیوی کی حالت دیکھی تو بولے ۔۔۔
کیا ہوا ہے بیگم کیا کہا ڈاکڑ نے ؟۔۔۔
کنول کی تائ نے بہت مشکل سے اور روتے ہوئے ان کو ساری بات بتائی جو کہ ڈاکڑ نے انہیں بتائ افعان کے بارے میں ۔۔۔۔یہ سنتے ہی کنول کے تایا پریشان ہو گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔
نرس نے کنول کی تائی کو آ کر بتایا کہ ان کی بیٹی کو ہوش آ گیا ہے تو وہ اٹھ کر لاڈو کے پاس گئیں ۔۔۔لاڈو نے اپنی ماں کو کمرے میں آ تا دیکھا تو اٹھنے لگی ۔۔اس کی ماں نے اسے لیٹے رہنے کا کہا ۔۔۔لاڈو نے افعان کا پوچھا ۔۔۔
اس کی ماں نے ڈاکٹر کی بتائ ہوئ ساری بات بتائی ۔۔۔یہ سن کر لاڈو رونے لگی ۔روتے ہوئے بولی ۔۔۔
کیا ہو گیا یہ سب ؟۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول ای سی یو میں تھی۔۔اپریشن ہوئے چار پانچ گھنٹے گزر گئے تھے ۔کنول کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔۔عادی اور ڈاکڑ سمیعہ بار بار آ کر اس کا چیک اپ کر رہے تھے ۔۔۔۔
سب ہی دعا گو تھے کنول کو ہوش ہو جائے ۔۔۔۔۔
ابھی بھی عادی اور ڈاکٹر سمیعہ دونوں سٹاف روم میں بیٹھے تھے ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔
عادی مجھے بتاؤ کیا ہوا یہ سب ؟۔۔۔
عادی نے ڈاکٹر سمیعہ کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔۔
آپی کنول کو اسی انسان نے مارنے کی کوشش کی جو اس پہ عمل کر رہا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے حیرت سے عادی کو دیکھا اور بولیں ۔۔۔
عادی مجھے سب تفصیل سے بتاؤ ۔۔۔عادی نے لمبی سانس لی اور سب کچھ ڈاکڑ سمیعہ کو بتا دیا جو کہ کنول کے ساتھ الطاف نے کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ یہ سب سن کے بولیں ۔۔۔
اللّٰہ ۔۔۔یہ سب اس معصوم کے ساتھ ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کا دماغ ہوش میں آنے لگا تو اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔اور بولی ۔۔۔۔
پانی ۔۔۔۔
نرس جو کہ اس کی ڈرپ چیک کر رہی تھی اس نے کنول کو دیکھا اور بولی ۔۔۔۔
کیا ہو ا؟۔۔۔
کنول آہستہ آ واز میں بولی ۔۔۔۔
پانی ۔۔۔۔۔
نرس نے سنا تو بولی ۔۔۔۔
آپ کو ابھی پانی نہیں پینا اور آ پ کو کہیں درد تو نہیں ہو رہا ۔۔۔۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا اور ہاتھ کے اشارے سے پیٹ کی جگہ بتائ کہ ادھر درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔
نرس سر اچھا میں ہلاتی ڈاکڑ عادی اور ڈاکٹر سمیعہ کو بلانے چلی گئ ۔۔۔
سٹاف روم میں نرس نے جا کر دونوں کو بتایا کہ کنول کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔دونوں ہی اٹھ کر ای سی یو میں گئے ۔۔۔۔
آی سی یو میں آتے ہی ان دونوں نے کنول کا چیک اپ کیا ۔۔ڈاکڑ سمیعہ نے کنول کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور بولیں ۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔نرس جو کہ پاس کھڑی تھی اس نے فورا کہا ۔۔۔
میم اسوقت جب میں نے پوچھا تھا تب ان نے پیٹ کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔
کنول نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پہ زبان پھیری اور بولی ۔۔۔
پانی ۔۔۔
عادی نے سنا تو بولا ۔۔۔
نہیں کنول ابھی نہیں کچھ دیر بعد ۔۔۔اوکے نوس ابھی پین کلر انجکشن لگائیں ۔۔۔تھوڑی دیر بعد انہیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا ۔۔۔۔عادی آی سی یو سے باہر آیا تو اس نے شہریار کو بتایا ۔۔
کنول کو ہوش آ گیا ہے ابھی اسے روم میں شفٹ کر دیا جائے گا آپ اس سے مل لیجیے گا ۔۔۔لیکن خیال رہے کوئ بھی پریشانی والی بات نہ ہو وہ موت کے منہ سے نکلی ہے ۔۔۔اوکے ۔۔۔
شہریار نے اچھا میں سر ہلا یا۔۔۔۔
شہریار نے صنم بیگم ،احمد اور ریاض صاحب کو بتایا ۔۔اسی وقت انہوں نے اللّٰہ کا شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔
کنول کو روم میں شفٹ کیا گیا تو سب ہی روم میں آئے ۔۔۔کنول غنودگی کی حالت میں تھی۔۔۔صنم بیگم نے اسے پیار کیا ۔۔۔شہریار ،احمد اور ریاض صاحب بھی کنول کے بیڈ کے پاس کھڑے تھے ۔۔۔کنول نے آنکھیں کھولیں اور مسکرا کر انہیں دیکھا ۔۔۔۔
نرس نے پین کلر کا انجکشن لگا دیا تھا ۔۔اس کی وجہ سے کنول بار بار آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کنول سو گئ ۔۔۔۔احمد اور شہریار باہر کھانے کے لیے اور شکرانے کے نفل ادا کر نے گئے ۔۔۔۔صنم بیگم بھی نفل ادا کرنے لگیں ۔۔۔ریاض صاحب صوفے پہ بیٹھ گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افعان کو ڈسچارج کر دیا گیا ۔۔کنول کی تائی اور تایا لاڈو اور افعان کو لے کر گھر چلے گئے ۔۔۔۔۔
کنول کی تائی گھر آکر بہت روئیں ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنے شوہر سے کہنے لگیں۔۔۔
پتہ نہیں کس منحوس کی نظر لگ گئ میرے بچوں کو ۔۔میں جاؤں گی پیر سائیں کے پاس ۔۔۔۔
کنول کے تایا غصے سے چیخ پڑے اور بولے ۔۔۔۔۔
بس کر دو ۔۔۔جاہل ہو تم ۔یہ تہماری ہی الٹی حرکتوں کا نتیجہ ہے آج بچوں کی یہ حالت ہے تعویذ یہ کر دے گا وہ کر دے گا ۔۔۔۔معافی مانگ لو رب سے ۔۔کہیں دیر نہ ہو جائے ۔۔۔۔
کنول کی تائی چپ کر کے اپنے شوہر کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد ۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی رپورٹس آ چکی تھیں ۔۔۔۔نرس نے رپورٹس ڈاکٹر سمیعہ کے حوالے کیں ۔۔۔انہوں نے وہ رپورٹس رکھ لیں۔۔۔۔۔۔
کنول کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔۔۔عادی نے کنول کی میڈیسن اور ڈائٹ کا خاص خیال رکھنے کو کہا ۔۔۔۔۔
گھر آتے ہی شہریار نے کنول کو اس کے روم میں بیٹھایا اور خود لاونج میں گیا ۔۔۔۔لاونج میں آتے ہی شہریار ریاض صاحب سے بولا ۔۔۔
بابا آپ اب کچھ مت کہیے گا پہلے بھی کنول کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں نہیں چاہتا اس س کی طبیعت اور خراب ہو جائے ۔۔۔پلیز اپنے رویے کو ٹھیک رکھیے گا ۔۔۔۔ریاض صاحب نے یہ سب سن کر شہریار کو دیکھا اور اچھا میں سر ہلایا ۔۔۔
شہریار بات کرتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔
اور ریاض صاحب اپنے پہلے والے رویے پہ افسوس کرنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افعان کی طبیعت ویسے ہی نازک رہی ۔۔۔کنول کی تائی افعان کا بہت خیال رکھنے لگیں ۔۔۔۔لیکن کچھ دن سے ان کے سر میں بہت عجیب سا درد ہونے لگا ۔۔۔اکثر ایسا ہوتا کہ چکر آنے لگتے اور جھٹکے لگنے لگتے ۔۔۔ابھی بھی وہ افعان کو کھانا کھلا کے آئیں تو انہیں دماغ درد ہونے لگا ۔۔۔اور درد شدید ہوا تو وہ چیخنے لگیں ۔۔۔۔لاڈو بھاگتی آئ اس نے اپنی ماں کو دیکھا تو درد سے چارپائی پہ لیٹیں اپنے ہاتھوں سے سر کو پکڑی چیخ رہیں تھیں ۔۔۔
لاڈو نے فورا انہیں سنھبالا۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب درد کم ہوا تو لاڈو بولی ۔۔۔
امی رات کو ہم ڈاکڑ کے پاس چلیں گے ۔۔اپ کے جو ٹیسٹ کروائے تھے ان کی رپورٹس آگئیں ہوں گی ۔۔۔۔کنول کی تائی نے اچھا میں سر ہلایا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔کنول آہستہ آہستہ ریکور ہو رہی تھی لیکن معدے کا درد اسے رہنے لگا ۔۔۔کچھ صحیح سے کھا پی نہیں سکتی تھی ۔۔۔اکثر راتوں کو وہ روتی اللّٰہ کے آگے ۔۔۔۔رورے روتے اکثر وہ دعا کرتی ۔۔۔
اے اللّٰہ ۔۔۔اے میرے رب ۔۔۔رحم کر مجھ پہ ۔۔ہمت نہیں رہی درد برداشت کرنے کی ۔۔۔میں نہیں جانتی نہیں
ہوں کس نے کیا کیا؟۔۔لیکن میرے اللّٰہ جس نے بھی کیا ہے اسے بھی تکلیف ہو ۔اسے پتہ چلے کہ درد کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی ڈڈاکڑنے ڈسکڑ کو رپورٹس دیکھائیں تو اس نے کہا ۔۔۔۔۔
دیکھے آپ کے دماغ میں خون جمنا شروع ہو گیا ہے ۔۔۔جو کہ خطرناک ہے۔۔یہ درد اور چکر بھی ایسی وجہ سے ہیں ۔۔۔اپ دوائیوں کا استعمال رکھیں ۔۔۔۔۔اگے اللّٰہ بہتر کرے گا ۔۔۔
لاڈو یہ بات سن کر بولی ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کیا اس کا اور کوئ علاج نہیں ؟۔۔۔
ڈاکٹر بولا ۔۔۔۔
آ پریشن ہے اس علاج لیکن اس کی کوئ گارنٹی نہیں کہ انسان زندہ رہے سکتا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔اب سن کو ساری عمر یہ دوائیاں کھانی پڑے گی ۔۔اور کبھی کبھی ایسا ہو گا کہ دوائ بھی اثر نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔
دونوں نے جب سنا تو حیرت میں آ گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکڑ سمیعہ نے کنول کو کال کی کال اٹینڈ کی تو انہیں نے سلام کیا ۔۔۔۔۔
کنول نے کال اٹینڈ سلام کا جواب دیا ۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
کنول کب سے ملی بھی نہیں آج میں عادی کے ساتھ آ رہی ہوں ملنے ۔۔۔۔۔
کنول اچھا کہا اور فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کال بند کی اور رپورٹس دیکھنے لگیں ۔۔۔کنول کی رپورٹس دیکھیں تو وہ حیرت میں آئیں ۔۔۔اوع سوچنے لگیں ۔۔۔
میں کیسے بتاؤ ں گی کہ اس چوٹ کی وجہ سے کنول کے سلسلے اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اگر وہ ماں بن بھی گئ تو اسے بہت مشکل ہو گی ۔۔۔۔۔یہ سوچتے ہوئے وہ اٹھیں اور دعا کرنے لگیں ۔۔
اللّٰہ پاک کنول کے حال پہ رحم کریں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول۔کی رائے گھر آئیں تو انہیں اپنے شوہر کو بتا یا ساتھ ہی بولیں ۔۔۔۔
یہ اس منحوس کنول کی وجہ سے ہوا ہے نہ میں اس دن اپنا عمل کرنے سے پہلے اس کا منہ دیکھتی نہ یہ ہوتا ۔۔۔اب تو پیر صاحب بھی نہیں رہے اچھا ہوتا کہ۔کنول بھی مر جاتی ۔۔۔۔۔
افعان جو کہ ادھر آ رہا تھا اس نے سنا تو بولا ۔۔۔۔
امی یہ سب آپ کے تعویذ وں کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔اپ۔کیا سمجھتی ہیں مجھے کچھ نہیں پتہ ۔۔سب پتہ ہے ۔۔اپ اسے مارنے اور پاگل کرنے کی کوشش میں تھیں اسے تکلیف دیتں ۔۔۔اج آپ کے ساتھ اور میرے ساتھ جو ہوا وہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ۔۔۔لاڈو باجی کو دیکھیں سڑھیوں سے وہ گری تو ان کے ماتھے پہ کتنا برا نشان بن گیا ۔۔۔اور تو اور تیمور انکل کو بھی آپ نے بھڑکایا تھا ۔۔۔مجھے بھی ان کے ہی بیٹے نے بتایا ۔۔۔۔جس دن آپ نے انہیں کہا کہ ریاض صاحب کی اکڑ اسے بیمار کر کے ختم کرو ۔۔۔۔امی جانتی ہے میں نے کیا پڑھا تھا کہ جو کالے جادو کراوتے ہیں اور کرتے ہیں وہ شرک کرتے ہیں ۔۔اور شرک کی معافی نہیں ۔۔۔۔میں معاف نہیں کروں گا آپ کو کبھی بھی ۔۔۔
کنول کے تایا نے یہ سنا تو بولے ۔۔۔۔
بیگم تم اتنی ظالم ہو گئ اپنی جلن اور حسد میں کہ اس معصوم کی زندگی سے کھیل گئ ۔۔۔۔۔اب بھگتو سب شکل مت دیکھانا مجھے اب ۔۔۔یہ کہتے ہی انہوں نے کنول کی تائ کو غصے سے دیکھا اور گھر سے چلے گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے عادی کو کنول کی رپورٹس کے بارے میں بتایا تو عادی نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ہم کنول کا علاج کریں گے ان شاءاللہ دوائیاں اثر کریں گی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی اور ڈاکڑ سمیعہ دونوں کنول کے گھر گئے ۔۔۔۔
کنول ڈاکٹر سمیعہ سے مل کر بہت خوش ہوئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کنول کو دیکھا اور بولیں ۔۔۔۔
کنول پھر سے ڈر لگتا ہے کیا ؟۔۔۔۔
کنول نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔
تب ہی ڈاکڑ سمیعہ بولیں ۔۔۔۔
ڈرو نہیں تم بہادر ہو ۔۔۔۔
کنول چپ ہی رہی ۔۔۔۔
شہریار بولا ۔۔۔
کنول بہت چپ چپ رہتی ہے سب بولتی ہی نہیں ہے کچھ ۔۔۔
عادی بولا ۔۔۔
وقت لگے گا لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔تھوڑا ڈر رہے گا اس میں ۔۔لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔
شہریار یہ سن کے بولا ۔۔۔
ان شاءاللہ ۔۔۔۔
ریاض صاحب بھی اچھے سے ملے عادی سے بات بھی ۔۔۔انہوں نے کنول کو دیکھا ۔۔۔۔۔
کنول کے چہرے پہ وہی معصومیت تھی ۔۔وہ خود کو کوسنے لگے ۔۔
کیا کر دیا میں نے میرے اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔
عادی اور سمیعہ دونوں گھر چلے گئے ۔۔۔کنول اپنے کمرے میں آئ ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ریاض صاحب اس کے کمرے میں آئے ۔۔۔
وہ بیڈ پہ بیٹھے تو ۔۔کنول نے انہیں دیکھا ۔۔۔
ریاض صاحب بولے ۔۔۔
کنول میری بچی یہ سب ہو گیا تہمارے ساتھ ۔۔۔۔
کنول نے طنزیہ مسرارے ہوئے کہا ۔۔۔۔
بابا بس جو ہونا تھا ۔وہ ہو گیا ۔۔میں کسی کو کچھ نہیں کہتی ۔۔۔۔
ریاض صاحب بولے ۔۔۔۔
کنول تہمیں پتہ ہے افعان بہت بیمار ہے اور بھابی کو بھی دماغ کا مسلہ ہو گیا ہے ۔۔۔
کنول بولی ۔۔۔
بابا سب بیمار ہو جاتے ہیں ۔۔۔اللہ پاک سب پہ کرم کرے ۔۔۔۔بابا آپ بھی پریشان نہ ہوں میں کیسی سے ناراض نہیں ۔۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے آپ بھی سو جائیں تھک گئے ہو گے ۔۔۔۔
ریاض صاحب یہ سنتے ہی چپ کرکے اٹھے اور کمرے میں چلے گئے ۔۔۔اور بیڈ پہ لیٹتے ہوئے خود سے بولے ۔۔۔۔
کنول میری دعا ہے اللّٰہ اپنی خاص رحمت رکھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول گہری نیند میں تھی جب اسے لگا جیسے کوئ اسے ہلا رہا ہو۔ آنکھ کھولی تو سامنے روحانی چہرے والے بزرگ موجود تھے ۔۔۔کنول نے اردگرد دیکھا تو وہ حیرت میں آئ ۔۔۔وہ ایک بہت ہی خوبصورت جگہ تھی ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا ۔۔۔۔کنول چلتی ہوئ آگے گئ تو اسے سامنے ہی مسجد نبوی دیکھائ دی تو خوشی سے کنول کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔۔۔کنول کی کانوں میں اذان کی آواز آئ تو اس کی آنکھ کھول گئ ۔۔۔۔وہ اٹھی اور نماز پڑھنے لگی ۔۔۔دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔۔
اے اللّٰہ مجھ جیسے جانے کتنے لوگ اذیت میں ہوں گے مدد کر ان کی ۔۔۔بچا انہیں لوگوں اور شیطانوں کے شر سے ۔۔۔۔
امین ۔۔۔۔
وہ اٹھی اور سوچنے لگی ۔۔۔
الطاف تو مر گیا لیکن کیا برائ ختم ہوئ ۔۔۔شاہد نہیں دین سے دوری ہی رہی مسلمانوں کی ۔۔۔اے کاش سب سمجھیں کہ دین ہمیں کیا سکھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کنول کی تائی اپنی تکلیف میں روتی اور افعان کو دیکھتیں تو اور بھی انہیں دکھ ہوتا ۔۔۔وقت ایسا پلٹا کہ لاڈو کہ جو اچھے رشتے آنے لگے تھے وہ بند ہو گئے تھے ۔۔۔رشتے والے اکثر وہ باتیں کر جاتے جو کبھی لاڈو نے کنول پہ کی تھیں ۔۔۔۔
روتی اور درد میں رہتی کوستی وہ خود کو ۔۔۔۔۔
لیکن کچھ نہیں ہو سکا اس کے کوسنے کو ۔۔۔۔
کسی کے ساتھ برا کرو تو یہ جان لو دینا مکافات عمل ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: