Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 1

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 1

–**–**–

#پہلی_چوٹی_قسط1
نوائے وقت، منگل، 16 اگست 2005ء
“راکاپوشی پر گلیشئر پھٹنے سے کوہ پیما لڑکی گر کر ہلاک”
ہنزہ (اے ایف پی)، راکاپوشی سر کرنے والی ٹیم کی ایک لڑکی گلیشئر پھٹنے سے کئی فٹ گہرے شگاف میں گر کر ہلاک۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز صبح تین سے چار بجے کے درمیان پاک ترک برٹش ایکسپیڈیشن کی ایک کوہ پیما، چڑھائی کے دوران برف پھٹنے سے ظاہر ہونے والی پہاڑوں کی درز میں گر گئی۔ ایکسپیڈیشن ٹیم نے لڑکی کی فوری ہلاکت کی تصدیق کردی۔ مزید تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں۔
_______________
بدھ،20 جولائی 2005ء۔ ایک ماہ قبل
سفید گیٹ عبور کر کے اس نے چند لمحے رک کر ارد گرد کا جائزہ لیا۔ گیٹ سے آگے سفید پتھروں سے بنا خوبصورت اور طویل ڈرائیو وے تھا اور دائیں جانب کھلا سا لان۔ جس کے دہانے پر بنے جدید طرز کے برآمدے میں بچھی چار کرسیوں میں سے ایک پر نشاء بیٹھی تھی۔ اس کے ھاتھ میں صبح کا اخبار تھا جو وہ عادتاً شام کے وقت ہی پڑھا کرتی تھی۔
نشاء کو سامنے پا کر وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ڈرائیو وے عبور کر کے برآمدے تک آئی۔اس سے پہلے کہ نشا ء اس کے استقبال کے لئے اٹھتی، وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے، ناک اور ابرو چڑھا کر پوچھنے لگی، “یہ لڑکا کون تھا؟”
پیج نمبر 15 لکھنے پر میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں آپ ممبرز کا ساتھ تھا تو یہ ناول پی ڈی ایف سے راٹینگ میں میں خود لکھ پایا۔
“کون سا لڑکا؟” اس نے اخبار تہہ کرکے میز پر رکھ دیا، اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
“وہی جو باہر کھڑا تھا”
“باہر کھڑا تھا؟” نشاء حیران سی کھڑی ہو گئی۔ ایک نظر اس نے پریشے کے چہرے کے بگڑے زاویے اور کھڑے ہونے کا تھانے دارانہ انداز دیکھا۔ “کس کی بات کر رہی ہو؟”
“وہی جو حسیب کے ساتھ باہر کھڑا تھا”
“اوہ! وہ؟ وہ حسیب کا دوست ہے، ملنے آیا تھا اور اب تو واپس جا رہا تھا۔ کیوں، خیریت؟”
“خیریت؟ مجھے دیکھ کر اس بدتمیز لڑکے نے سیٹی بجائی، شرم تو آتی نہیں ہے آج کل کے لڑکوں کو۔ آنے دو حسیب کو ابھی پوچھتی ہوں اس سے کہ کس قسم کے واہیات لوگوں سے دوستی ہے”
“کم آن، پری!” نشاء نے واپس کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنی مسکراہٹ دبائی اور ایک نظر اسے دیکھا۔
سادہ گلابی شلوار قمیض میں ملبوس، اپنے سیدھے اور بے حد سیاہ بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں مقید کیے، پاؤں میں سفید اور ہلکے گلابی جوگرز پہنے وہ بہت خفگی سے نشاء کو دیکھ رہی تھی۔
“بھئی سیٹی بجا دی تو کیا ہوا، بچہ ہے۔”
“ہاں، چھ فٹ کا بچہ ہے؟”
“حسیب کا کلاس فیلو ہے، یعنی ہو گا سترہ اٹھارہ سال کا، مطلب عمر میں ہم سے کم از کم آٹھ سال چھوٹا، تو بچہ ہی ہوا نا” وہ اپنی کزن کی بہ نسبت زیادہ لا پرواہ رہی تھی۔”اور یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟”
“لو،مری کیوں جا رہی ہو؟ تمہارے لیے ہی ہے۔ بیف چلی بنایا تھا سوچا کچھ تمہیں بھی دے آؤں۔” اس نے ڈونگا نشاء کو دیا، اس کا موڈ سخت آف تھا۔
“واؤ، ممی کو بیف چلی بہت پسند ہے۔” نشاء کا اس کے موڈ کو خاطر میں لانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
” ہاں تو ممانی کے لیے ہی لائی ہوں۔ کونسا تمہارے لیے بنایا ہے؟”
“نشاء آپی ! دراصل پری آپا ہمیں بیمار کر کہ اپنی ڈاکٹری چمکانا چاہتی ہیں” اپنے دوست کو رخصت کر کے حسیب بھی وہیں ا گیا تھا۔
“تمہارے لیے نہیں ہے، منہ دھو رکھو”
“شیروں کہ منہ دھلے ہوئے ہوتے ہیں آپا”
“ہاں،یاد آیا۔ تمہیں تو ماموں اور ممانی چڑیا گھر سے لائے تھے”
“کم آن!” وہ ہنسنے لگا۔” ویسے کس لوفر لفنگے کی بات ہو رہی تھی؟”
“وہی جس کے ساتھ باہر گیٹ پر کھڑے تم قہقے لگا رہے تھے۔وہ بد تمیز لڑکا مجھے دیکھ کر سیٹی بجا رہا تھا۔کیسے لڑکوں سے دوستی ہے تمہاری؟”
“ارے وہ،وہ میرا دوست ہے۔ بڑے باپ کا بیٹا ہے اور وہ آپ کو دیکھ کر سیٹی نہیں بجا رہا تھا، وہ تو بس اس کی عادت ہے۔ نیور مائینڈ، وہ تھوڑا سا اسپائلڈ چائلڈ ہے” اپنے دوست کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ حسیب جھک کر میز پر رکھے ڈونگے سے بیف کے چٹ پٹے فنگر لٹس اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔ “اور سنبھل کر آپا، اس کا باپ صدر پاکستان کا دوست ہے۔”
جواب میں پری بڑبڑا کر رہ گئی۔ پھر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کدھر جا رہی ہو؟ ممی کو سلام تو کر لو”
” پچاس گز کے فاصلے پر میرا گھر ہے۔ پھر آ جاؤں گی،ابھی مجھے جانا ہے.”
بھئی بریکنگ نیوز تو سنتی جاؤ، حسیب اور اس کے چار دوست راکاپوشی بیس کیمپ کا ٹریک کر رہے ہیں”
“تو کرتے رہیں” اپنے تیئں نشاء نے چونکا دینے والی خبر سنائی تھی مگر اس نے لاپروائی سے کندھے اچکا دیے۔
“پری آپا! یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ جیلس نہیں ہو رہیں۔” حسیب اس کا انداز دیکھ کر شرارت سے مسکرایا۔
“میں ہو بھی نہیں رہی” وہ کھٹ سے کہہ کر گیٹ کی طرف تیز قدموں سے بڑھ گئی۔
“سنو تو! تمہارے کپڑے آئے پڑے ہیں درزی سے،وہ تو لیتی جاؤ۔” نشاء بھاگتی ہوئی اس کے پیچھے آئی۔
“تم رات کو دے جانا۔ابھی میں جلدی میں ہوں۔”
وہ گیٹ کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے ایک لمحہ کو مڑی تھی۔
“کیوں، کیا جلدی ہے؟”
“وہ ۔۔۔۔۔۔” گیٹ پر رکھا اس کا ہاتھ ایک دم ڈھیلا پڑ گیا، قدرے ہچکچائی ۔ “وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی پھپھو اور ندا آپا آئی ہوئیں ہیں نا!”
آب کی بار نشاء کا موڈ سخت آف ہوا تھا۔ “کیا مطلب؟ ان کو اپنے گھر میں چین نہیں ہے؟ ہر دوسری شام تو وہ تمہاری طرف ہوتی ہیں اور وہ ندا آپا کے شیطان بچے اتنا شیطان بھی کوئی ہو گا؟ جاؤ، جلدی گھر جاؤ۔ وہ درجن بھر چیزیں توڑ چکے ہوں گے۔”
تھوڑی دیر پہلے کے تاثرات پریشے کے چہرے سے غائب ہو چکے تھے، وہ بےبسی سے لب چبا کر رہ گئی۔
“ویسے رات کا کھانا بھی یقیناً وہ تمہاری طرف ہی کھائیں گے نا؟ سیف بھائی بھی رات کو آیئں گے نا اور یقیناً کھانا کھا کر ہی جائیں گے نا۔ حد ہوتی ہے روز روز کسی کے گھر کھانے کی، لیکن پھپھو۔۔۔۔۔۔۔ اور معزرت کے ساتھ، سیف بھائی کی وہی مثال ہے کہ نیت سیر نہ ہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چلو کچھ نہیں ہوتا۔ پاپا کی اکلوتی بہن ہیں، ان کے آنے سے پاپا ہی خوش ہو جاتے ہیں۔”
” مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی ڈاکٹر پریشے جہانزیب! تم اتنی کمزور اور جذباتی قسم کی دلیلیں کیوں دیتی ہو؟ اتنی اچھی طرح جانتی ہو سیف بھائی کو۔ پھر بھی تم نے ان سے منگنی سے انکار کیوں نہیں کیا؟”
سیف سے منگنی کے ان 3 سالوں میں نشاء نے کوئی 30 ہزار بار یہ بات کہی تھی۔
“یہ پاپا کی خواہش تھی نشاء ۔ اب اس بات کو بار بار دہرانے سے کیا حاصل؟ اور پھر میں انکار کس کے لیے کرتی ؟”
جواباً نشاء خاموش رہی تو وہ گیٹ کھول کر باہر نکل آئی۔
” اس کے لیے کر دیتی انکار.” پیچھے سے بہت آہستہ سے نشاء نے کہا۔ اس کے قدم ایک لمحے کو زنجیر ہوئے۔
“تمہیں وہ احمقانہ بات ابھی تک یاد ہے؟” وہ اداسی سے مسکرائی اور. سر جھٹکتے ہوئے اپنے بنگلے کے گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔
وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو پھپھو اور ندا آپا ایک ہی صوفے پر بیٹھے سر جوڑے سرگوشی کے انداز میں کوئی بات کر رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر فوراً سیدھی ہو گئیں۔
“تم کدھر گئیں تھیں؟” ندا آپا اور پھپھو نے اسے جاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ کچن کے پچھلے دروازے سے باہر گئی تھی۔
“وہ نشاء کی طرف گئی تھی۔ اس کے کچھ برتن رکھے تھے۔” اس نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ برتنوں میں بیف چلی تھا۔
“سنو پری! یہ زیادہ میل جول نہ رکھا کرو ان لوگوں سے۔ برا مت ماننا مگر تمہارے ماموں کی لڑکی بڑی چلتر ہے۔ماں بھی ایسی ہی ہے اس کی۔ دیکھنے سے ان سے معصوم کوئی نہیں لگتا جبکہ اندر سے پوری ہیں”
” اور وہ نشاء تو جب بھی بات ہو سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی۔”
نشاء اور ممانی کے متعلق تو ایسی گفتگو وہ کبھی نہیں سنتی، آگر وہ اس کے سسرال والے نہیں ہوتے۔
” جی، میں ذرا چائے لے آؤں۔” وہ آہستگی سے کہہ کر کچن میں چلی گئی۔ وحید (ملازم) ٹرالی سیٹ کر رہا تھا، وہ ٹرالی کو دیکھتی رہی۔ اس کے ذہن میں خیالات کا ہجوم تھا۔
وہ جانتی تھی کہ پھپھو نشاء اور ممانی کے متعلق ایسی گفتگو کیوں کرتی ہیں؟ انہیں ڈر تھا کہ کہیں ماموں اور ممانی، جہانزیب صاحب پر دباؤ ڈال کر سیف اور پریشے کی منگنی ختم ہی نہیں کروا دیں۔ اس کے خیال میں یہ ناممکن تھا کیونکہ اول تو ماموں اور ممانی اس کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تھے اور اگر دیتے بھی تو صرف اس کے کہنے پر۔ اس کی مرضی کے خلاف وہ جہانزیب صاحب سے کوئی بات نہیں کرتے اور اگر اس معاملے میں بولنے کا حق اگر اس نے ماموں اور ممانی کو دینا ہوتا تو تین برس پہلے ہی دے چکی ہوتی۔
پھپھو کو نشاء سے دوسرا خوف یہ تھا کہ کہیں نشاء پری کو ان کے خلاف بھڑکایا نہ دے۔ کیونکہ نشاء اور ممانی خاصی صاف گو واقع ہوئی تھیں۔ بقول پھپھو کے منہ پھٹ، بد لحاظ ، اور بد تمیز حالاں کہ پری کا خیال تھا کہ جتنی سویٹ اور کئیرنگ ممانی تھیں۔ اور جس طرح اس کی ماں کی وفات کے بعد انہوں نے اس کا خیال رکھا تھا، کوئی سگی خالہ بھی نہیں رکھ سکتی تھی۔
“باجی! یہ لے جائیں” وحید کی شرمیلی آواز اس کو خیالات کے بھنور سے باہر نکال لائی۔ اس نے قدرے چونک کر اسے دیکھا اور سر جھٹکتے ہوئے ٹرالی تھام لیں ۔
اے ہے پری بیٹا یہ کیا لڑکوں کی طرح جوگرز پہنے پھرتی ہو کوئی سینڈل یا ہیل والی جوتی پہنا کرو” چائے کے ساتھ دیگر لوازمات بھرتے ہوئے پھپو نے ہر دفعہ کی طرح اسکے جوگرز پر اعتراض کیا۔
“اور کیا وہ پرپل والی سینڈل ہی پہن لیتی جو تمہیں سیف بھائی نے لے کر دی تھی” ندا آپا اپنے بچوں کو کیک کہلاتے ہوئے بولی اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ سیف کی پسند اس سے بہت مختلف تھی۔وہ شوخ کلر اور ظاہری چمک دھمک کو دیکھتا تھا ،جبکہ وہ سوفٹ کلرز اور کوالٹی کو ترجیح دیتی تھی۔
“جی بہتر” وہ سر جھکاتے ہوئے انکے سامنے بیٹھ گئی اسے علم تھا کہ وہ دونوں جب تک بیٹھی رہیں گی انکے اعتراضات ختم نہیں ہوں گے۔
آٹھ بجے تک جہاںزیب صاحب بھی آگئے وہ ہمیشہ کی طرح ان لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے،روشان اور سنی کو خوب پیار کیا کہ انکی زندگی میں ساری رونق انہی لوگوں سے تھی۔ انکے سامنے انکی ٹون بدل جایا کرتی تھی۔
“پری وحید سے کہہ کر اچھا سا کھانا بنوانا،کڑاہی، بریانی کچھ اور بھی ایڈ کر لینا۔ ” انہوں نے آہستہ سے پریشے کو ہدایت دی۔ اسکا دل چاہا کہہ دے کہ” پاپا یہ لوگ روز تو یہاں کھنا کھاتے ہے پھر ہر روز کا اتنا اہتمام کیوں؟”
مگر وہ جانتی تھی پاپا ان لوگوں کو کتنا عزیز رکھتے ہیں سو وہ انہیں باتیں کرتا چھڑ کر خود کچن میں آگئی۔
پھپو کی فیملی ہر دوسری شام یہی ہوتی تھی اور اسے کبھی اتنی کوفت نہیں ہوتی تھی جتنی آج اسے ہو رہی تھی شائد اس لئے کہ آج نشاء نے اسے برسوں پرانی ایک بھولی بسری بات یاددلا دی تھی۔
پرانی یادیں، ٹوٹے خواب بکھرے سپنے ہر انسان کو تھکا دیتے ہیں اس پر بھی عجیب سی تھکن اور بےزاری سوار ہو رہی تھی۔
“مامامیں یہ کھا لوں” نو سالہ روشان نے فریج کھول کر اس میں سے پینٹ بٹر کا جار نکال کر دور سےماں کو آواز دی۔
“ہاں بیٹا کھا لو تمہارے نانا کا گھر ہے۔” ندا آپا نے لاپروائی سے کہا اور وہ جس نے ملائشین چکن بنانے کے لئے اتنا بڑا جار منگوایا تھا بے بسی سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی ۔
سنی پورے گھر میں دوڑ رہا تھا -اسے کوفت ہو رہی تھی مگر وہ خاموش رہی- پھر چند منٹ بعد جب وہ چاولوں کو دم دے رہی تھی اسے بلی کی وحشیانہ میاؤں میاؤں کی آواز آئی –
یا اللہ ! اس نے گھبرا کر کفگیر میز پر رکھا اور بھاگتی ہوئی کچن سے باہر نکلی باہر زمین پر اسکی پالتو بلی کو روشان نے پکڑ رکھا تھا اور سنی اسکی دم کو ماچس کی تیلی سے آگ لگا رہا تھا- بلی تڑپتی ہوئی چیخ رہی تھی ۔
ہٹو تم دونوں- اسے نے زور سے سنی کے ماچس والے ہاتھ پر تھپڑ مارا؛ بلی کو روشان سے کھینچا اور ماچس کی ڈبی اٹھا کر اپنے قبضے میں کر لی ۔ یہ کیا کر رہے تھے تم لوگ۔
آپکو کیا مسئلہ ہے جو بھی کر رہے تھے ۔ ہماری مرضی ۔ ہمارے نانا کا گھر۔ آپ کون ہوتی ہیں پوچھنے والی ۔؟ سنی کو تھپڑ لگا تھا؛ جس کا جواب اس نے بے حد بد تمیزی سے دیا ۔
پورے دن کی کوفت ، بے زاری ، نشاء کی آخری بات ، پھپھو اور ندا آپا کے طنز اور طعنے ، ان دونوں کی بد تمیزیاں اس نے سب کچھ برداشت کر لیا تھا مگر سنی کی بد تمیزی پر اسکی برداشت جواب دے گئی تھی اس نے رکھ کر دو تھپڑ سنی اور دو روشان کو لگائے ۔
دفع ہو جاؤ ادھر سے تم دونوں ۔ درد سے چلاتی ہوئی بلی کو اپنی آغوش میں سہلاتے ہوئے اس نے غصے سے کہا اور واپس کچن میں آ گئی ۔
دونوں حلق پھاڑ کر روتے ہوئے ندا آپا کے پاس چلے گئے ۔ عین اس وقت سیف بھی آ گیا ۔ وہ آفس سے سیدھا ادھر ہی آیا تھا اسکا کوٹ اسکے ہاتھ میں تھا ۔ گھر اس لئیے نہیں گیا تھا کیونکہ اسے علم تھا کہ گھر میں کھانا نہیں بنا ہو گا ۔
کیا ہوا ہے؟ کس نے مارا ہے؟ ندا آپا نے ان دونوں کو روتے دیکھ کر آسمان سر پر اٹھا لیا ۔
وہ تمام ڈرامے کی آوازیں کچن میں بخوبی سن سکتی تھی ۔ اسکی کوفت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔
پری آپا نے مارا ہے ۔ بال بھی کھینچے اور منہ پر تھپڑ بھی مارا ہے ۔ روشان چلاتے ہوئے بتا رہا تھا ۔وہ تیزی سے کچن سے نکلی ،بلی اسکی آغوش سے چھلانگ لگا کر کودی اور بھاگتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی ۔وہ انسانوں سے بہت ڈر گئی تھی ۔
ہائے اللہ! پری تم نے میرے معصوم بچوں کو کیوں پیٹ ڈالا۔
ماموں! میں نے تو کبھی انہیں زور سے جھڑکا تک نہیں ہے ۔ ندا آپا اسکو دیکھتے ہی اونچی آواز میں رونے لگی ۔ ہائے میرے معصوم بچے ۔
یہ دونوں اس بلی کو آگ لگا رہے تھے ۔ میں نے روکا تو سنی نے مجھ سے بد تمیزی کی ۔ میں نے صرف تھپڑ مارا تھا بال نہیں نوچے تھے ۔ کسی مجرم کی طرح کھڑی وہ صفائیاں دے رہی تھی ۔
لو! اتنے چھوٹے بچے بلی کو آگ لگا سکتے ہیں ؟ انہیں تو ماچس جلانا بھی نہیں آتی ۔ پھپھو چمک کر بولی ۔
میں جھوٹ نہیں بول رہی پھپھو ۔ یہ دونوں اس بلی کو اذیت دے رہے تھے ۔
تمہیں اپنے بھانجوں سے زیادہ کسی جانور سے پیار ہے۔؟ یہ بچے ہیں،کچھ کر بھی دیا تو آرام سے بھی ٹوکا جا سکتا ہے پری! اب کے سیف بولا تھا ۔ سیف اسکی حمایت تو کیا کرتا اس نے اس کا یقین نہیں کیا کہ اس نے روشان اور سنی کے بال نہیں نوچے تھے ۔
اچھا پری! اب سوری کر لو ان دونوں سے۔
یہ پاپا تھے ۔
اس نے بے حد شاکی نظروں سے انہیں دیکھا۔ اسکی بات کا کسی کو یقین نہیں تھا۔
پاپا میں بڑی ہوں میں نے کچھ کہہ بھی دیا تو۔ آپ اس طرح کیوں ری ایکٹ کر رہے ہیں؟
پری ! تم ندا آپا اور بچوں سے سوری کرو۔ دیکھو آپا ابھی تک تو رہی ہیں ۔سیف نے بہت سنجیدگی اور خفگی سے اسے مخاطب کیا ۔
اس کا دل چاہا کہ وہ زمین پر بیٹھ کر رونا شروع کر دے مگر اسے ضبط کرنا تھا ۔ خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا تھا۔
میری کوئی غلطی نہیں تھی پھر بھی ندا آپا سوری۔؛
ندا آپا نے منہ پھیر لیا ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ ابھی تک خفا ہیں ۔
میں کھانا لگواتی ہوں ۔ وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی وحید کو کھانا لگانے کا کہا اور خود کچن میں بیٹھی رہی ۔ جب تک وہ لوگ چلے نہیں گئے ۔ وہ باہر نکلی ۔ اسے اپنی بے عزتی پر شکوہ ان لوگوں سے نہیں پاپا سے تھا ۔ پتا نہیں پھپھو نے پاپا کو کیا گھول کر پلا دیا تھا ۔ وہ کبھی بھی انکے خلاف سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔
کیا میں اپنی پوری زندگی ان لوگوں کے درمیان میں گزار سکتی ہوں؟ ۔اف!۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتنا کٹھن ہو۔
گا! یہ تکلف دہ خیال اسکے ذہن میں چکرا رہا تھا۔
”کدہر گم ہو؟ “نشاء نے کچن کے دروازے میں سے سر نکال کر جھانکاتو وہ چونکی پھر زبردستی مسکرا دی۔”میں تو یہیں ہوں۔تم کہو میرے کپڑے لے آئی ہو؟“
ہاں، تمہارے کمرے میں رکھ دئے ہیں۔مہمان چلے گئےتمھارے؟ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔پریشے کھڑی ہوگئ۔
”ہاں چلے گئے، آؤ باہر بیٹھتے ہیں۔“نشاء کو دیکھ کر اس کا ڈپریشن قدرے کم ہوا تھا۔وہ دونوں ان کپڑوں کے متعلق باتیں کرتی لاؤنج میں آئیں تو جہاں زیب صاحب کو وہیں بیٹھے پایا۔
”انکل! امی کہہ رہی تھیں کہ سیف بہائی کی امی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے آنے والی ہیں، کب تک آئیں گی؟“ نشاء کی ان سے بہت بے تکلفی تھی اور وہ تھی بھی بہت بولڈ۔……..ہر بات بلا جھجک پوچھ لیا کرتی تھی۔اسے معلوم تھا کہ آج پھپھو اسی لئے آئیں تھیں،پھر بھی اس نے پوچھا۔
پریشے کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
”بیٹا! ڈیٹ تو تقریباً فکس ہو گئی ہے۔عید نومبر کے پہلے ہفتے میں آرہی ہے تو ہم یہ سوچ رہے تھے کہ عید کے تیسرے دن مہندی رکھ لیں گے۔“وہ خوش دلی سے بتارہے تھے۔اس کو اپنی گردن کے گرد پھندا تنگ ہوتا محسوس ہو رہا تھا، ایک دم کمرے میں گھٹن اتنی بڑھ گئی کہ اس کا سانس رکنے لگا۔
”نشاء!“اچانک اسے کچھ یاد آیا۔”حسیب اور اسکے دوست ہنزہ جا رہے ہیں نہ؟تم نے آج کچھ بتایا تھا؟“
”ہاں وہ راکاپوشی بیس کیمپ کا ٹریک کر رہے ہیں۔“
”کون کہاں جا رہا ہے؟ “ان کی سرگوشیاں وہ ٹھیک سے سن نہیں سکے تھے۔
”پاپا! وہ……… نشاء کے ایک کزن کی اپنی ٹور کمپنی ہے مری میں، نشاء نے ان سے نادرن ایریا کے ٹورز کا پتا کیا تھا۔وہ کہہ رہے تھے کے جلد ہی انکا کوئی ٹور جائے گا نادرن ایریاز۔تو پاپا!میں نشاء کے ساتھ چلی جاؤں؟بس تین چار دن کے لئے؟ “
”مگر ندا تو ہفتہ بھر کے لئے میکے تمہاری وجہ سے آئی ہے۔اسکی نند کا کوئی مسئلہ تھا تو اسکی ساس اور شوہر چند دنوں کے لئے سیالکوٹ گئے ہیں۔وہ اگلا پورا ہفتہ ارھر آگئی کہ تمہارے ساتھ مل کر شادی کی شاپنگ کر لےگی۔
وہ سوچ رہی تھی کہ چند دنوں تک کسی دور دراز پُرفضا مقام پر چلی جائے، مگر جیسے ہی پاپا نے ندا آپا کی ایک ہفتے کی چھٹی کا بتایا، اس نے پکا ارادہ کر لیا کہ وہ جلد ہی اسلام آباد سے پورے ہفتے کے لئے غائب ہو جائے گی۔وہ کسی کے ساتھ بھی شاپنگ کرسکتی تھی مگر ندا آپا کے ساتھ نہیں۔
”آ………اچھامگر کس جگہ جانا چاھتی ہو تم؟“وہ نیم رضامند تھے۔وہ جواباً کہنا چاہتی تھی کہ ہنزہ، گلگت، اسکردو، مگر اسے معلوم تھا کہ ان علاقوں کا نام سن کر پاپا سختی سے انکار کریں گے۔
”پشاور، سوات، کالام……….اسی سائیڈ جائیں گے۔“اس نے سوات کا ذکر اسلئے کیا کہ وہاں کوئی ڈھائی ہزار فٹ بلند پہاڑ نہ تھا اور یہ سب سے بڑی وجہ تھی کہ پاپا نے اگلے ہی لمحےاسے اجازت دے دی۔
اس نے بے اختیار ایک چور نگاہ اپنے بائیں کندھے پر ڈالی۔صرف اس کندھے کی وجہ سے وہ سکردو سائیڈ پر ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں پر نہیں جا سکتی تھی۔
…….جہانزیب صاحب اٹھ کر اندر چلے گئے تو نشاء تیزی سے اسکی طرف مڑی،”میں نے کب پتہ کیا تھا زوار بھائی کی ٹور کمپنی سے؟“
”نہیں کیا تو اب کر لینا۔“اس نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔ندا آپا کی مع فیملی آمد کے باعث چند لمحے پہلے تک اس کے سر میں جو درد کی ٹیس اٹھ رہی تھی۔وہ اب غائب ہو چکی تھیں۔
”تم اسلام آباد کی کسی ٹور کمپنی کا نام نہیں لے سکتی تھیں؟ “اب خواہ مخواہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے مری جانا پڑے گا اور اگر تمہیں اتنا ہی شوق ہو رہا ہے سیر سپاٹے کا،تو حسیب اود اسکے فرینڈز کے ساتھ راکا پوشی چلے جاتے ہیں۔
”جسکی اجازت پاپا مجھے کبھی نہیں دیں گے اور حسیب کے دوست؟“ اس کی نگاہوں کے سامنے شام والا وہ لڑکا آگیا جس نے اسے دیکھ کر بے اختیار سیٹی بجائی تھی۔ اس نے تنفر سے سر جھٹکا۔”میں حسیب کے دوستوں کاسر پھاڑ سکتی ہوں، ان کے ساتھ چار دن پیدل راکا پوشی کا ٹریک نہیں کر سکتی۔“اس کو وہ لڑکا بہت ہی برا لگا تھا، نشاء خاموش ہو گئی۔
نشاء کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی۔اس کے کمرے کی ترتیب ایسی تھی کہ
دروازا کھلتے ہی سامنے پلنگ نظر اتا تھا جسکے سرہانے دیوار پر “تومازہیومر” کا بہت بڑا چسپاں تھا ۔ کمرے کی باقی تین دیواروں میں سے دو پر “میمیز” اور چند جاپانی کوہ پیماوں کے آویزاں تھے ۔ان تصویروں کو دیکھتے ہی ایک اداس مسکان نے اس کے لبوں کا احتاط کر لیا _
. . . . . . . . .. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشے جہاں زیب ، جس کے نام کا آخری حصہ شے ہٹا کر سب اسے پری کہا کرتے تھے ۔ بچپن سے ہی ایک آئیڈیلسٹ تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھی، جن کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا ،جنہیں چیلنجز کا سامنا کرنے میں مزا آتا ہے ۔ سیف سے منگنی سے پہلے تک وہ واقعی پر جوش تھی ،مگر ان چار برسوں میں بہت کچھ بدلا تھا۔
اس کو بچپن سے پہاڑ سر کرنے کا بہت شوق تھا ۔ وو اپنے پاپا اور مما کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث خاصی لاڈلی تھی ۔ ان کے لاڈ پیار نے اسکو بگاڑا نہیں بلکے بہت بہادر مضبوط اور پراعتماد بنا دیا تھا ۔ اس کو مما کو اس کا کوہ پیمائی کا شوق بہت عزیز تھا اور یہ سب سے بڑی واجہ تھی جس کے باعث مما اس کو 1995ء میں اپنے ساتھ انگلینڈ لے گئی تھیں ۔پاپا ن اس کی وجہ سے اپنے بزنس بھی ادھر ہی منتقل کردیا تھا ۔مگر وو لندن میں ہوتے تھے اور مما اور پریشے لیک ڈسٹرکٹ میں ۔
وہ چار برس لیک ڈسٹرکٹ میں رہی ، وہا اس نے بہت کچھ سیکھا ۔ اس دوران وو صرف ایک دافع پاکستان آئی تھی وو بھی سردیون کی چوتھیوں میں گرمیوں کی چوٹیاں وو کہا گزرتی تھا وہ ایک تین ایج سیکرٹ تھا ،جس کی بہنک اگر پاپا کو پڑ جاتی تو وہ بہت خفا ہوتے (البتہ مما جانتی تھئیں ) دونو بار اسے اپنے سے آٹھ نو سال بڑا سیف الملوک بہت برا لگا تھا ۔ وہ اس سے بہت لاڈاٹھواتا تھا اور اس کو بڑی عجیب نگاہہوں تکتا تھا ، اسے اس کی نگہاہیں اچھی لگتی تھی نا باتیں ۔اس نے ایک دو ایک دافع پریشے سے جب یہ کہا “تم بہت خوبصورت ہو ” تو اس ن سیف کو بری طرح جھڑک دیا تھا۔
چھے سال پہلے زندگی کسی حد تک بدل گے ۔ جب مما کی وفات ہوگئ اور پھپھو کے بے حد اصرار پر پاپا اسے اسلام آباد لے اے ۔تب پہلی دافع اسے احساس ہوا تھا کے ۔۔۔ ماں اس کی کسی بڑی مضبوط ڈھال تھی جس کے نہ ہونے سے پاپا پر اور لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بزنس پڑھنا چاہتی تھی مگر پھپھو نہ پاپا کو مجبور کیا ک وہ پریشے کو ڈاکٹر بنایں ۔ یوں اسکا ایک سال ضائع ہوگیا ۔مگر وو میڈیکل میں پہنچ ہی گئ ۔
پھر 2001ء کے جولائی میں کچھ ایسا ہوا کے اس کا کوہ پیمائی کا کیرئیر ختم ہوگیا ۔ سپانتک کے ناکبل فراموش حادثے کے بعد پاپا نے اس کی کوہ پیمائی پر پابندی لگا دی ،تو اس نے خاموشی سے ان کا۔ فیصلہ مان لیا ۔اگلے سال پاپا نے اسے بتایا کے انہونے اس کا رشتہ سیف سے طے کردیا ہے ۔ ” اسے کوئی اعترض تو نہیں ” تب بھی اسنے خاموشی سے سر جھکا دیا ، ہاں تب اسنے ایک دافع اسکے �
اسنے ایک دافع اسکے متعلق ضرور سوچا تھا ، جس کا اسے برسوں سے انتظار تھا۔
لیک ڈسٹرکٹ جانے سے پہلے وو ایک خوابوں میں رہنے والی کم عمر ،لاپروہ سی لڑکی تھی ،جس کے “آئیڈیلزم”نے اسے ایک زندگی بھر پھانس کی طرح چھبنے والا خواب دیا تھا ۔
اس اجنبی کا خواب ،جس کا انتظار ہر لڑکی کرتی ہے ۔
اس نے برسوں پہلے نشاء کو بتایا تھا۔ ” تمہیں یاد ہے ،ہم فیری ٹیلز میں پرستان کی ایک پری کا قصہ پڑھا کرتے تھے جس کو ظالم دیو نے قید کر رکھا تھا اور پھر اس کی رہائی کے لیے ایک شیزدہ آیا تھا ۔
سفید گھوڑے پر سوار بھورے بالوں اور شہد رنگ آنکھوں والا گھوڑے سوار ،وہ دیس دیس کی خاک چھانتا ،
پرستان کی خوبصورت وادییوں کے قصے سن کے کر اس طرف آ نکلا تھا ۔ پری کی قید کا سنا تو وہ بہادر شہزادہ اسے ظالم دیو کی قید سے چھڑا کر خوبصورت وادییوں ،چشموں اور پہاڑوں میں اپنے ہمراہ لے گیا اور پھر دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے “اس نے ایک گہری سانس بھر کر نشاء کو دیکھا تھا ۔ “کاش میرے لیے بھی ایک ایسا ہی شخص اے ،شہزادون کی سی آن بان رکھنے والا ،بہادر مضبوط ،جو ظاہریت کے پجاریوں جیسا نا ہو ،۔۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی کچی عمر کا سپنا نہیں تھا ،ایک امید تھی ،ایک وجدآن تھا کے کوئی ہے ،جسے اس کے لیے تخلیق کیا گیا ہے ۔ وہی جو دیس دیس کی خاک چھانتا کسی اور اس کے پریستان میں آ نکلے گا ، جس کو دیکھ کر اس کا دل کہے گا کے ہاں ، ظالم دیو کی قید میں موجود اس پری نے صدیوں اسی کا تو انتظار کیا تھا۔ ۔۔۔
ہاں یہی تو ہے جس سے اس نے روح سے وجود میں انے سے قبل عشق کیا تھا ، جو اس کی ذات کا ٹوٹ کر بکہرنے والا ایک گم شدہ حصہ تھا۔
اور ہاں وہ یہ بھی تو کہتی تھی کہ ” اگر میں پریوں کی ہی طرح حسین ہوں ، تو یونھی کسی سے شادی نھی کروگی بلکہ وہ جیسے پریاں اور شہزادیاں شرائط رکھا کرتی تھی ناں ،سات سوالوں کی شرط سامری جادوگر کے منکے کی شرط ،ویسی ہی شرط رکھوگی ” تو نشاء نے بحد تجسس سے پوچھا تھا کہ “کیسی شرط ؟ تب وہ کھلکھلا کر بولی تھی” میں صرف اس کا ہاتھ تھاموں گی ،جو میرے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت پہاڑ ، راکا پوشی سر کریگا “،
کتنے ہی برس گزرتے گے , وہ خوابوں کا شہزادہ نہ آیا ، یہا تک کہ وہ تمام خواب پریشے کو بچکانے اور اھمقانہ لگنے لگے اور وہ اب نشاء کے ساتھ ان پر خوب ہنستی تھی پھر سیف سے منگنی کے بعد اس نے ہنسنا بھی چھوڑ دیا ۔
آج اتنے عرصے بعد نشاء نے اسے وہ بات یاد دلا دی تھی وہ اھمقا نہ اور بچکانہ بات۔
ہاں وہ بچکانے خواب ہی تو تھے ! اب پریشے جہانزیب کی سمجھ میں اگیا تھا کہ وہ کوئی پری نھین ۔ وہ خوبصورت سہی ، مگر ایک عام سی لڑکی ہے اور عام
سی لڑکیوں ک لیے شہزادے نہیں آیا کرتے ..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: