Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 10

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 10

–**–**–

#ساتویں_چوٹی_حصہ_دوم
قسط 10
افق کی Acclimatization مکمل تھی ،مگر محض پریشے کے۔ لیے کہ وہ گر نہ جاۓ، اس کی۔ طبیعت نہ خراب ہو جاۓ، اسے کوئی مسئلہ نا ہو، وہ روز اتنا بوجھ لے کر اس کے ساتھ چڑہتا تھا۔ اس کا ارادہ آج تمام سامان کیمپ ون پہنچا کر، پوری شام ریسٹ کرنے کے بعد اگلی صبح بلکل تازہ دم ہو کر بیس کیمپ کو الوداع کہہ کر چڑہائی شروع کرنے کا تھا۔
سورج ابھی چمک ہی رہا تھا جب انہوں نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ وہ اگے پیچھے ڈھلان سے نیچے اتر رہے تھے۔ گرمی اتنی شدید تھی ک پری نے دستانے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے تھے۔ تقریبن سات ہزار میٹر تک سورج جب چمکتا تھا تو گرمی۔ شدید ہو جاتی تھی اور رات کو درجہ ءحرارت ایسا گرتا کہ بوتلوں میں موجود پانی بھی برف ہوجاتا۔
اونچائی کم ہو رہی تھی، مگر اس کی کھانسی شدید ہوتی جارہی تھی۔ چکر آرہے تھے، سر میں درد تھا، Nausea بھی ہو رہا تھا، ایک جگہ کھڑے ہونے کی کوشش میں وہ پھسلنے لگی تو افق نے پیچھے سے اس کا بازو تھام کر اسے سہارا دیتے ہوئے قریب پتھر پر بیٹھایا۔
“تمہیں Altitude sickness ہو رہی ہے”
“نہیں میں ٹھیک ہوں” گھومتے سر کو اس نے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
“سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ کیا؟ “اس کو اپنی کنپٹی سہلاتے۔ دیکھ کر وہ فکرمندی سے کہتا اس کے بلکل سامنے آگیا۔سورج اب افق کی پشت پر تھا، اس کی نارنجی شعاعیں اس کے اطراف سے نکل کر پریشے تک پہنچ رہی تھیں۔
“میں Diamox لے۔ لوں گی” ۔وہ اس کے فکر کر رہا تھا، وہ چڑ سی۔ گئی۔ اسے اس کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟
“۔diamoc سے کام نہیں چلے گا۔ اگر یہ الٹی تیوڈ سک نیس ہے تو یہ سیر برل ایڈیما یا پلمزی ایڈیما میں تبدیل ہو سکتی ہے اور۔ ۔۔۔۔”
افوہ افق۔ ۔۔۔!کیا مسئلہ ہے؟ میں ڈاکٹر ہوں، مجھے پتا ہے۔ تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے” وہ اتنے غصے سے بولی کہ افق نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
“پری! کیا ہوا ہے؟ میں کل سے نوٹ کر رہا ہوں۔ تم کچھ اپ سیٹ ہو” ۔
“مجھے جو بھی ہو، یہ تمہارا درد سر نہیں ہے۔تم میری فکر مت کرو سمجھے تم” وہ کھڑی ہوگئی اس کا درد سر بڑھتا جا رہا تھا۔
صفحہ نمبر 135
“کیوں نا کروں تمہاری فکر؟ تم میری۔ ۔۔۔۔”
“میں کچھ نہیں ہوں تمہاری” وہ ایک دم ہلک پہاڑ کر چلائی ،”تمہاری صرف حنادے ہے، تم اس کی فکر کرو” ۔
افق کے ماتھے پر ناگوار شکن در آئی۔ “حنادے کا یہاں کیا ذکر؟ تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے؟ “اس کا لہجہ سخت ہوگیا تھا۔
“ہونہہ!مجھے تمہاری بیوی کے ساتھ کیا مسئلہ ہوگا؟ “
“شٹ اپ۔ ۔۔اس کا نام مت لو بیچ میں” ۔
پریشے نے پہلی دافع اسے غصے میں دیکھا تھا اور اسے غصہ آیا بھی تو کس بات پر تھا کہ وہ اس کی بیوی کا نام تحقیر سے نہ لے۔ وہ اس سے اتنی محبت کرتا تھا کہ صرف نام لینے پر۔ ۔۔؟ پریشے کے ھلک میں آنسوں کا گولہ پھنسنے لگا۔ وہ جھٹکے سے مڑی اور تیزی سے ڈھالان سے نیچے اترنے لگی۔
“پری! رکو” وہ اس کے پیچھے لپکا۔ وہ جتنا تیز دوڑ سکتی تھی دوڑی۔بیس کیمپ اب نظر آرہا تھا۔ برفانی نالہ پگھل چکا تھا۔ اس میں پانی تیر رہا تھا اور برف کے بڑے بڑے ٹکرے۔ ۔۔ وہ بہت تیزی سے خیموں کی طرف آئی تھی۔ اس کا دماغ ایک نہج پر پہنچ چکا تھا۔ اسے اب کسی صورت وہاں نہیں رہنا تھا۔ اسے واپس گھر جانا تھا۔ بس اب بہت ہو چکا تھا۔ وہ رکاپوشی تسخیر کرنے نہیں آئی تھی، وہ تو خود تسخیر ہو کر آئی تھی مگر اب اور نہیں۔ اپنے خیمے میں آکر اس نے اپنا مختصر سامان اٹھایا اور رک سیک میں بھر نے لگی۔ اس نے سوچا وہ کریم آباد سے کوئی پورٹر اور شفالی کو ساتھ لے لے گی۔ حسیب لوگ ابھی صبح ہی نکلے تھے زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔ وہ ان کو جا لے گی۔
“پری! تمہیں کیا ہوا ہے؟ “وہ بھاگتا، ہانپتا اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ پریشے نے جواب نہیں دیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی چیزیں اکھتھی کر رہی تھی۔ وہ اس کو بیگ تیار کرتے دیکھ کر ٹھٹکا،”تم کہاں جا رہی ہو؟ “
“گھر” وہ اپنی شیل جیکٹ، ڈاؤن جیکٹ اور دوسری واٹر پروف بیگ میں بھر رہی تھی۔
“مگر کیوں؟”
“مجھے تمہارے ساتھ کلائمب نہیں کرنی” اس نے دوسرے بیگ میں جرابیں،دستانے اور اسکارف ڈالے۔
صفحہ نمبر 136
“یہ اچانک تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم ادھر کلائمب کرنے آئی تھیں اور بہت خوشی سے آئی تھیں”
“وہ۔ میری غلطی تھی، حماقت تھی” اس نے لوشن اور آخر میں کریم ڈال کر زپ چڑہائی۔
“مگر ہوا کیا ہے؟ “وہ حیران تھا۔
بیگ ایک طرف رکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑی۔ “ہوا کیا ہے؟ مجھے سے پوچھتے ہو کہ کیا ہوا ہے؟ تم۔ ۔۔۔تم دھوکے باز ہو۔ ۔۔تم نے دھوکا دیا ہے۔ مجھے۔بہت ہرٹ کیا ہے تم نے مجھے افق! بہت زیادہ”
اس نے اسے پرے دھکیلا۔وہ حیران سا دو قدم پیچھے ہٹا،”کیا دھوکا دیا ہے میں نے؟ “
“تم شادی شدہ ہو اور تم نے۔ ۔۔تم نے مجھے کبھی یہ نہیں بتایا۔ تمہاری ایک بیوی بھی ہے۔اور تم نے مجھے اندھیرے میں رکھا” وہ چلائی تھی۔
“تم نے بھی تو مجھے نہیں بتایا تھا کہ تم انگجڈ ہو” وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی۔
“ہاں نہیں بتایا تھا، کیوں کہ منگنی اور شادی میں فرق ہوتا ہے۔”
“کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ساری بات کمینٹمنٹ کی ہوتی ہے”
“کوئی فرق نہیں ہوتا افق؟ کوئی فرق نہیں ہوتا؟ تم۔ ۔۔تم اس فضول عورت کے ساتھ۔ ۔۔۔”
“اس کا نام مت لو” وہ پھر غصے میں آگیا۔
پریشے نے بہت بے بسی سے اسے دیکھا۔ سامنے کھڑا وہ شان دار سا مرد اس کا تھا، نا کبھی ہو سکتا تھا اور جس کا ساتھ،اس کا نام بھی احترام سے لینے کو کہتا تھا۔
“اتنی محبت ہے تمہیں اس سے افق؟ “اس کا گلا رندھ گیا،”اتنی محبت ہے اس سے تو پھر مجھے کیوں بلایا تھا ادھر؟ ہاں۔ ۔۔بولو۔۔۔ جواب دو” اس کی آواز بھیگی آواز بلند ہونے لگی۔ “تم اس کے ہو اور صرف اس کے ہی ہو، باوجود اس کے تم نے مجھے بلایا اتنی دور، صرف اپنی انا کی تسقین کے لیے کیا چاہتے تھے تم؟ ایک لڑکی دو دن پیدل چل کر تم سے ملنے، محض تمہارے ایک فقرے کا مان رکھنے آئے اور تم اس کا استقبال یہ کہہ کر کرو کہ”اسے دیکھو، یہ میری بیوی ہے” تمہیں ایک لمحے کو بھی لگا ککہ تم کسی کا دل توڑ رہے ہو۔ کسی کی روح چھلننی کر رہے ہو؟ پھر کہتے ہو، میں اسے کچھ بھی نا کہوں؟ کیوں نا کہوں، وہ گھٹیا ہے اور تم بھی گھٹیا ہو” وہ رونے لگی تھی۔ وہ بری طرح ہاری تھی۔ پیار کی پہلی بساط پر ہی اسے شہ مات دے دی گئی تھی۔ “چلے جاؤ تم ادھر سے۔ مجھے تمہاری شکل سے بھی نفرت ہے۔چلے جاؤ خدا کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دو” وہ پھر چلائی تھی۔
صفحہ نمبر 137
وہ بلکل خاموشی سے کھڑا اس کی ہر بات، نفرت کا ہر اظہار سن رہا تھا، وہ خاموش ہوئی تو وہ اس کے قریب آیا، اتنا قریب کہ اس کے عقب میں پریشے کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ اس سے بلکل سامنے آکر افق نے اس کے دونوں شنوں کو پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا۔
“تمہیں مجھے سے نفرت ہے؟ میری صورت سے بھی نفرت ہے؟ یہ نفرت اس وقت سے ہے جب سے تمہیں حنادے کا علم ہوا ہے، ہاں؟ تو پھر میری بات غور سے سنو۔مزید کچھ کہنے سے پہلے یہ بات سنو۔ تم حنادے کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتیں۔دو سال پہلے کے ٹو پر برفشار آیا تھا،حنادے اس میں دب کر مر گئی تھی۔ اس کا نام اس طرح مت لو۔ وہ میری بیوی تھی”
اس نے پریشے کے کندھوں کو ایک جھٹکا دے کر چھوڑ دیا۔ پھر آخری نظر اس پر ڈال کر،تیزی سے پلٹا اور خیمے کا گور ٹیکس اٹھایا۔ باہر سے رکاپوشی کے سرمئی قدموں کی جھلک نظر آرہی تھی،ساتھ میں سرد ہوا کے ٹھپیڑے بھی اندر آئے۔وہ باہر نکلا، خیمے کا پردہ گرادیا۔ رکاپوشی چھپ گئی ہوا کا راستہ رک گیا اور وہ۔ ۔۔۔۔وہ۔۔۔جہاں تھی، ابھی تک وہیں منجمدسی کھڑی تھی.۔
بیس کیمپ پر رات اتر آئی تھی۔ اندھیرے میں دمانی کی سفید چوٹی کسی ہیرے کی طرح جگر چمک رہی تہی۔پہاڑ کے قدموں میں، خیموں سے ایک طرف ہٹ کر، خالی جگہ پر اگ کا الاؤ جلا تھا۔ اس الاؤ کے گرد افق کی سپورٹ ٹیم کے افراد، مقامی پورٹرز اور کریم آباد کے باسی جھنڈ لگاۓ بیٹھے تھے۔ بیس کیمپ کی پر رونق فضا میں لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز کے ساتھ بلند و بانگ اور نعرے بھی گونج رہے تھے۔ کریم آباد کے لوگوں نے افق سے وعدہ کیا تھا خ اگر وہ رکاپوشی سر کر لے گا تو اس کے عزاز میں پورا گاؤں دعوت دے گا۔
کبھی اس محفل سے ہنزہ کے روایتی نغموں کی صدا گونجنے لگتی تو کبھی ترک اپنے گیت سنانے لگتے۔ ان عروج پر پہنچی رونقوں میں دو افراد کی کمی تھی۔ ایک ارسہ جو اپنے خیمے میں بیٹھی اپنا ناول لکھنے میں محو تھی اور دوسری پریشے، جو ان سب سے دور اس برفانی نالے کے اس پار سوگوار سی بیٹھی تھی۔ وہ کہنی گھٹنے پر رکھے اور مٹھی تھوڑی تلے جمائے سامنے خیموں کو دیکھ رہی تھی خیموں کے اس پار بون فائر کا منظر آدھا نظر آرہا تھا، آدھا خیموں کے باعث چھپ گیا تھا۔
تم دفتعآ اس نے افق کو محفل میں سے اٹھتے دیکھا۔ وہ خیموں کے درمیان میں سے جگہ بناتا، اپنی گرے فلیس جیکٹ کی زپ بند کرتا اسکی جانب آرہا تھا۔ پریشے نے سر جھکا دیا۔
صفحہ نمبر 138
“تم کیا ادھر بور۔ لوگوں کی طرح بیٹھی ہو؟ آؤ وہاں چلو سب اتنا انجوائے کر رہے۔ ہیں۔ میں صرف تمہارے لیے اتنا شغل چھوڑ کر آیا ہوں” وہ اتنے فریش انداز میں مخاطب تھا جیسے صبح کچھ ہوا ہی نا ہو۔
پریشے نے اپنی لانبی پلکیں اٹھا کر ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ وہ اس کے سامنے ایک پتھر پر کہنی جمائے آرام سے بیٹھ چکا تھا اور اب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“تم نے ہم ترکوں کے گیت مس کر دیے۔ ابھی میں انھیں اتنا اچھا گانا سنا رہا تھا، وہ پورٹرز تو کہنے لگے، صاحب اپ نے غلط پروفیشن چوز کیا ہے۔اپ کو تو۔ ۔۔۔”
“افق! “اس کی آنکھوں میں آنسو تیر نے لگے۔ وہ اسے ڈانٹے،یا اس پر خفا ہونے کے بجاۓ یوں اتنا لاپرواہ اور ہشاش بشاش کیوں لگ رہا تھا؟
“میں۔ ۔۔میں بہت بری ہوں ناں افق؟ “
“تمہیں واقعی آج پتا چلا ہے؟ “
“افق پلیز!میں سیریس ہوں” ۔
“میں بھی ڈیڈ سیریس ہوں، پیاری پری” ۔وہ مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔ دور الاؤ کے قریب سے اٹھتا شور یہاں tتک سنائی دے رہا تھا۔
“افق پلیز !مجھے بات تو کرنے دو” وہ روہانسی ہوگئی۔
“کم آن۔مجھے پتا ہے تم نے کیا کہنا ہے۔ یہی کے” افق مجھے معاف کردو۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔ مجھے نہیں پتا تھا کے وہ مر چکی ہے ورنہ میں وہ سب نہ کہتی”۔یہی کہنا ہے ناں تمہیں؟ تو بس فرق صرف یہ ہے میں نے کہہ دیا تمہاری جگہ۔ اب اس قصے کو ختم کرو”۔
“افق !مجھے واقعی نہیں پتا تھا۔ میں اتنا کچھ کہتی رہی اور۔ ۔۔”وہ رو دینے کے قریب تھی جب وہ جہنجھلا گیا۔
“ایک تو تم پاکستانیوں میں یہ بڑی خرابی ہے۔ بات کو چباتے رہتے ہو۔ پلیز، باتوں کو ہضم کر لیا کرو۔ جو ہوا بھول جاؤ پلیز! “۔
وہ اسی طرح بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی
صفحہ نمبر 139
“ویسے مجھے علم ہوتا کے تم حنا دے سے اتنی جیلس ہوگی تو اس کا ذکر بہت پہلے کر دیتا،ویسے۔ ۔۔”وہ شرارت سے تھوڑا سا جھکا۔ “میں تمہیں اتنا اچھا لگتا ہوں کیا؟ “مسکراہٹ دبائے وہ بمشکل خود پر سنجیدگی طاری کیے وہ مصنوعی معصومیت سے پوچھتا اتنا اچھا لگ رہا تھا۔
(پیارمرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
“ہاں، لگتے ہو نا! “خفگی بھرے انداز میں کہہ کر وہ خیموں کو دیکھنے لگی۔ افق کی طرح اس کی ناک بھی سرخ ہو رہی تھی اور منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا، جیسے کوئی بڑا کسی بچے کی معصومانہ شرارت پر اسے پیار سے دیکھتا ہے، مگر کہتا کچھ نہیں ہے۔
“پری آج تک یہ ہوتا آیا ہے کہ کوہ پیما خوب جسمانی مشقیں جھیل کر خود کو ان خوبصورت پہاڑوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔ آج رات یہ پہلی دفعہ کہ میرے عقب میں موجود یہ پہاڑ خد کو ایک بہت خوبصورت کوہ پیما کے لیے تیار کرے گا”۔
پریشے نے نگاہوں کا زاویہ اس کی جانب واپس موڑا۔قدرے اتراہٹ، قدرے معصومیت سے وہ بولی،”کون، میں؟ “
“نہیں یار، میں اپنی بات کر رہا ہوں” ۔وہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ پریشے نے ناراضی سے اسے دیکھا۔
“اچھا اٹھو، تمہارا چیک اپ کراتے ہیں احمت sسے۔ سارا دن روتی رہی ہو۔ اب تک تو تمہارا ایلٹی ٹیوڈ سک نیس عروج پر ہوگی”۔کھڑے کھڑے افق نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ وہ نالہ کے دوسرے طرف تھا۔ اس نے پہلے خفگی سے اسے دیکھا، مگر وہ اس سے زیادہ دیر خفا نہیں رہ سکتی تھی۔ اس نے افق کا ہاتھ تھام لیا۔ اور کھڑی ہوگئی۔ پھر اس کا ہاتھ تھامے، نالہ کراس کیا۔ دوسری جانب پہنچ کر افق نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ دونوں ساتھ چلتے ہوئے خیموں تک آئے۔کریم آباد کے دیہاتی اب اٹھ کر جا رہے تھے۔ احمت ابھی تک ۔ بیٹھا کوئی گانا سنا رہا تھا۔ پریشے کو آتے دیکھ کر جھینپ کر خاموش ہوگیا۔
افق نے اس سے ترک زبان میں کچھ کہا۔ وہ سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا اور ان کو اپنے ساتھ لیے ایک خیمے میں آگیا۔
“تمہارا تارف نہیں کرایا۔ یہ میرا دوست ہے ڈاکٹر احمت دوران۔ جینیک اور کینیک جیسا بہترین دوست، اس سے میری دوستی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ میں ہر ممکن طریقے سے اس کے مریض پکڑ کر لاتا ہوں۔
احمت کے خیمے میں کرسی سمبھالتے ہوئے افق نے ہنس کر کہا۔ وہاں بڑی سی میز رکھی تھی۔
پریشے کے مقابل کرسی احمت کی تھی۔ افق اس کی دائیں جانب بیٹھ گیا۔
پریشے کے چیکاپ کے دوران احمت مسلسل ترک میں افق کو کچھ بتاتا رہا۔
“یہ کہہ رہا ہے تم صبح تک بلکل ٹھیک ہوگی اور تمہاری کھانسی تو اب پہلے سے بہتر ہے”۔
پریشے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے احمت کو دیکھتی رہی۔ وہ افق کا ہم عمر تھا، مگر بے حد دبلا پتلا اور چہرہ نو عمر لڑکوں جیسا تھا۔ بال سنہری مائل بھورے تھے۔ پریشے کے دیکھنے پر اس نے شرما کر ہونٹ ایسے بند کر لیے کہ جیسے کوئی بچہ غلط کام کرتا پکڑا جاۓ تو گھبرانے کے بجاۓ جھینپ کر مسکرا دے۔ وہ اتنا معصوم تھا کہ پریشے کہے بغیر نہ رہ سکی۔
“تمہارا دوست بہت کیوٹ ہے” ۔
فق نے ایک نظر پریشے کو دیکھا، دوسری نگاہ احمت پر ڈالی جو جھینپ کر ہنس دیا تھا اور پھر دوبارہ پریشے کو دیکھا،”میرے کیوٹ دوست کو بہت اچھی انگریزی بھی آتی ہے”
“اوہ۔ ۔۔”اب بوکھلانے کی باری پری کی تھی، “میں سمجھی اسے انگریزی نہیں آتی اور اگر ایسا نہیں ہے تو تم دونوں ترک میں کیوں بات کر رہے تھے؟ “
“اب ترک ہو کر ہم فرنچ میں بات کرنے سے رہے، ویسے یہ اندر اچھا خاصا ہے، مادام۔کسی زمانے میں احمت اومت(رائیٹر) بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا” ۔
“اور تم نصوع محرو کی بننے کے” کھٹ سے احمت کی جانب سے جواب آیا۔
“یہ صاحب کیا شاعر ہیں؟ “
“اتنا بڑا ترک کلائمبر ہے،تمہیں علم نہیں؟ خیر جتنا بھی بڑا ہو جاۓ، افق ارسلان جیسا نہیں ہوسکتا” وہ مصنوعی تفاخر سے بولا مگر پریشے نے سر کو اثبات میں جنبش دی۔
(صہیح کہتے ہو۔ کوئی بندہ افق ارسلان نہیں ہو سکتا)
“اس کے علاوہ احمت انتہائی ذلیل قسم کا کمپیوٹر جینیس اور ہیکر بھی ہے” اس نے اسے ذلیل کہا پھر بھی وہ اسی طرح شرما کر مسکرا دیا۔
“کمپیوٹر سے یاد آیا احمت، میں تمہارا کمیونیکشین ٹینٹ استمال کر لوں؟ مجھے پاپا کو ای میل کرنی تھی”پری کو۔ اچانک یاد آیا ۔
“کر لو اس سے کیا پوچھ رہی ہو جیسے اس کا پیسہ لگا ہو، مادام! یہ میرے باپ حسن حسین ارسلان کی خون پسینے کی کمائی ہے، جسے ہم یوں ہمالیہ میں جھونک رہے ہیں۔ جینیک اکثر کہتا ہے کے اگر “اور رہن یقین” اور حسن حسین کے آباو اجداد نے اتنی جائیداد نہ چھوڑی ہوتی تو کتنے ملک افق اور جینیک کی مہمان نوازی سے محروم رہ جاتے۔
صفحہ نمبر 141
وہ دونوں باہر نکل آئے۔پورٹرز ادھر ادھر پھر تے ،اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ الاؤ کے چند گز فاصلے پر البر تو کے کیمپ کی جگہ کل والا کچرہ ابھی تک پڑا تھا۔
“تم اسے نیلے ٹینٹ میں چلی جاؤ۔ وہ کمیونیکشن ٹینٹ ہے۔ میں ذرا یہ صاف کردوں” وہ زمین اور بیٹھ کر بکھرا کچرا چننے لگا۔
“خود کیوں ہلکان ہوتے ہو؟ پورٹرز سے کہہ دو”
“کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ بیچارے تھکے ہوئے ہوں گے۔میں خود کر لوں گا یہ سب” وہ خالی کین، بوتلیں، اور یورپین، پروسیسڈ فوڈ کے خالی دبے سمیٹنے لگا۔
وہ کمیونیکشن ٹینٹ میں چلی آئی۔ احمت ۔ نے اسے زبردست انداز میں ترتیب دے رکھا تھا،سیٹلائٹ فون، لیپ ٹاپ،کمپیوٹرز،جنریٹرز ،بجلی کے سولر پینل، دوسرے کچھ آلات۔ ۔۔وہ ایک ستائشی نگاہ اس سب پر ڈال کر اس کی کرسی کے قریب آئی، جس پر ارسہ بیٹھی تھی۔
“تم کیا کر رہی ہو؟ “
“فین میل چیک کر رہی ہوں۔ اب تو ایک ہی قسم کی ای میلز سے بور بلکہ زچ ہونے لگی ہوں، پتا نہیں لوگ ہر بات میں،”اتنی سی عمر میں ناول کیسے لکھا؟ “کیوں کہتے ہیں؟ خود کیا اس عمر میں فیڈر پیتے اور روٹی کو چوچی کہتے تھے؟ میری۔ عمر کے بارے میں ایسے رشک کرتے ہیں ک نظر لگا دیں گے اور شاید لکھنا ہی بند کر دوں” وہ سخت بھری بیٹھی تھی، “اور ہر میل میں مجھے کہتے ہیں، کیا آپ مجھسے دوستی کریں گی ؟خدایا میں نے قلمی دوستی کا اشتہار تو نہیں دیا تھا جو مجھے ہر بندہ یہی کہتا ہے اور میرے پاکستانی مداحوں کی تو مت پوچھیں۔ چوں کے میں عمر میں میں ان سے چھوٹی ہوں سو “تم اور “یار” کہہ کر خود ہی فری ہونے لگتے ہیں، پتا نہیں لوگوں کو اپنے ارد گرد فرینڈز نہیں ملتے جو۔ ۔۔۔”
“اچھا ہٹو نا ۔مجھے کمپیوٹر چاہیے” اس نے پیار سے ارسہ کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
“بیٹھ جائیں اور کبھی لطیفے پڑھنے کا شوق ہو تو میری فین میل کھول کر پڑھنا “وہ کہہ کر باہر چلی گئی۔
پری نے میل کھولی۔ سیف کی تین ای میلز تھیں، جو اس نے پڑھے بغیر مٹادیں۔ پاپا کی ایک تھی۔ وہ کچھ دنوں kکے لیے کام سے برسلز جارہے تھے۔ کام کچھ لمبا تھا۔ شکر تھا ک وہ مصروف تھے۔
“بیٹھ جاؤ مادام؟ اگر کچھ پرسنل نہیں ہے تو؟ “افق اندر داخل۔ ہوا۔
“ہوں، تم سے کیا پرسنل ؟اور ہوگئی جمعداری؟ “وہ ای میل لکھ کر بھیج رہی تھی۔ افق نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ وہ بہت خاموشی سے اس کے دائیں جانب کرسی پر بیٹھا سوچتی نگاہوں سے لیپ ٹاپ کی چمکتی سکرین کو دیکھتا رہا ۔
صفحہ نمبر 142
“سنو پری،تمہیں سائیکک لوگوں پر یقین ہے؟ “
“تھوڑا بہت۔ کیوں؟ “۔
“برائزر کلوز مت کرو۔ تمہیں کچھ دکھاتا ہوں۔ اڈریس بار میں لکھو
پری نے ٹائپ کیا۔ فورن ایک صفہ کھل گیا۔ افق نے لیپ ٹاپ اپنی جانب کھسکالیا۔
“یہ ایک سائیکک ہے پیٹر! تمہیں تمہارے ہر سوال، ہر پریشانی کا حل بتاۓ گا۔ کوئی سوال پوچھنا ہے تو پوچھو۔ ہاں، ٹائپ میں کرتا ہوں، کیوں کہ میری اس سے تھوڑی جان پہچان ہے”
“افوہ !مجھے ان چیزوں کا کوئی یقین نہیں ہے۔ خیر تم پوچھو۔ میرا نام کیا ہے؟ “۔
افق کی انگلیاں لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر متحرک تھیں۔ وہ بہت تیز ٹائپ کرتا تھا۔ وہاں دو خانے تھے۔ پہلے میں اس نے لکھا۔ “پیٹر پلیز انسر “
اور دوسرے میں لکھا، “میرے ساتھ بیٹھی لڑکی کا نام کیا ہے ؟”
“پریشے جہاں زیب” سکرین پر سفید رنگ کے دو الفاظ ابھرے۔افق نے فخر سے پری کو دیکھا، جو کچھ حیران، کچھ بے یقین سی تھی۔
“اچھا پوچھو ،میری عمر کیا ہے؟ “
افق نے ٹائپ کیا۔ “پیٹر پلیز انسر۔پری کی عمر کیا ہے ؟”
“پچیس سال” سکرین پر لکھا آیا۔
“اسے کیسے پتا؟ “وہ بے یقینی سے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔
“یہ سائیکک ہے اور دماغ پڑھ سکتا ہے”
پھر پریشے نے اپنے متلق کئی سوالات کیے ۔تمام جوابات درست نکلے۔ اسے تھوڑا سا خوف محسوس ہونے لگا۔ پیٹر واقعی کوئی عامل تھا۔
“اچھا پوچھو ک۔ ۔ک کیا میں کسی کو پسند کرتی ہوں؟ “
“اس کا جواب مجھ سے پوچھ لو۔ تم رکاپوشی کو پسند کرتی ہو” وہ ہنستے ہوئے،لیپ ٹاپ پر لکھنے لگا۔
“پیٹر پلیز انسر۔کیا پریشے کسی کو پسند کرتی ہے؟ “
“تم بار بار پیٹر پلیز انسر کیوں لکھتے ہو؟ “وہ بار بار کی تکرار سے جھنجھلائی۔
“اس دنیا میں کام نکلوانے کے لیے منت کرنا شرط ہے” ۔
پیٹر کا جواب سکرین پر جگمگا رہا تھا۔
“ہاں، اور اس کا نام “k” پر ختم ہوتا ہے”
اس کی ریڑہ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔اس نے گھبرا کر افق کو دیکھا۔
“۔k پر ؟ لیکن رکاپوشی تو “k” پر ختم نہیں ہوتا” وہ شاید سمجھا نہیں تھا، یا پھر بن رہا تھا، پری نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔”کیا وہ مجھے ملے گا؟ “
صفحہ نمبر 143
“ہاں، اگر وہ کوشش کرے تو! “جواب آیا۔
وہ بیحد خوف زدہ نگاہوں سے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔
“اچھا اب۔ ۔اب پوچھو ،کیا وہ مجھے سے محبت کرتا ہے؟۔”افق نے فورن پوچھ دیا۔ جواب بھی فورن آیا۔
“محبت؟ وہ تو عشق کرتا ہے” ۔
وہ سانس روکے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے اتنا کچھ جانتا تھا؟ ۔
“افق۔۔۔افق۔ ۔۔سوز۔ ۔۔”احمت خیمے کا دروازہ کھول کے تیزی سے اندر داخل ہوا اور افق سے ترک میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ پریشے کو دیکھنے پر فورن پیچھے ہٹا۔ اس کے چہرے پر معذرت کے تاثرات آئے تھے۔
وہ پیٹر کے سہر میں ایسے بری طرح جاکڑی ہوئی تھی کہ یہ مداخلت اسے بری طرح کھلی۔ افق نے بھی قدرے اکتا کر اسے دیکھا۔ پھر دونوں کچھ دیر ترک میں بات کرتے رہے۔ تب وہ اٹھا اور جیکٹ کی آستین اوپر چڑھاتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے خیمے سے باہر چلا گیا۔”ذرا ان پورٹرز کا جھگڑا نمٹالوں۔ ۔۔پتا نہیں کیا مسئلہ ہے ان کو؟ “
اس کے جانے کے بعد احمت نے پریشے سے معذرت کی۔
“معاف کرنا ڈاکٹر، وہ پورٹرز میں جھگڑا ہو گیا تھا، افق اسے ہی نمٹانے گیا ہے۔ دراصل۔ ۔۔۔” دفعتآ اسکی۔ نگاہ سکرین پر پڑی۔وہ قدرے قریب آیا اور جس کرسی پر افق بیٹھا تھا، اسکی پشت کو پکڑ کر قدرے جھک کر بغور سکرین کو دیکھا۔
“اچھا۔ تم peter answer کھیل رہی ہو”
“کھیل رہی ہوں؟ “وہ بری طرح چونکی۔
“ہاں۔ اٹ از اے گریٹ گیم! “
“گیم؟ “پریشے کے ذہن میں الارم سا بجا، “احمت ادھر میرے پاس آکر بیٹھو اور مجھے شروع سے بتاؤ ک یہ کیسے کھیلتے ہیں” ۔
“یہ تو بہت آسان ہے” وہ کھڑے کھڑے بتانے لگا۔
“یہ دیکھو سکرین پر دو خانے بنے ہیں پہلے خانے میں۔ ۔۔”
“مجھے پتا ہے، اس میں “پیٹر انسر”لکھنا ہے” ۔
“نہیں،یہ ہی تو نہیں لکھنا۔ اس میں تم نے فل اسٹاپ دبا کر اصل “جواب” لکھنا ہے۔ فل اسٹاپ دبا کر تم جو بھی لکھو گی،اس جگہ سکرین پر پیٹر پلیز انسر ہی لکھا آئے گا۔ پھر دوسرے خانے میں تم سوال لکھو اور انٹر کرو۔ اب جو تم نے اوپر والے باکس میں چھپا کر لکھا تھا، وہ پیٹر کے جواب کے طور پر لکھا آئگا۔
صفحہ نمبر 144
“تو ۔۔تو پھر پیٹر کون ہے؟ “
“وہی جو بیٹھا ٹائپ کر رہا ہے
“تمہارا مطلب ہے ک جواب، ٹائپ کرنے والا خود لکھتا ہے اور پیٹر کوئی نہیں ہے؟”وہ آہستہ سے بولی اب اسے سمجھ آرہا تھا۔
“ہاں اس سے بڑے بڑے لوگ بے وقوف بن جاتے ہیں” احمت کا اندازہ معصومیت بھری بے وقوفی سے لبریز تھا۔
“ویسے تم کسے بنا رہی تھیں؟ “
“میں بن رہی تھی”
“اچھا”اس نے شانے جھٹکے۔”افق اور جینیک کا یہ مشغلہ ہے۔ جب بھی میرے پاس آتے ہیں، ڈاکٹرز اور نرسوں کو گھیر گھار کر بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔ انھیں ٹائپ نہیں کرنے دیتے اور کہتے ہیں۔ “ہماری پیٹر سے تھوڑی۔ ۔۔”
“تھوڑی جان پہچان ہے” پری نے فقرہ مکمل کیا۔
“ہاں۔ بڑے عرصے تک ڈاکٹرز بے وقوف بنتے رہے”
“پھر انھیں کیسے پتا چلا؟ “
“میں نے بتا دیا۔ اب مجھ کیا پتا تھا ک افق انھیں بے وقوف بنا رہا ہے ۔وہ تو میں نے ڈاکٹر کو یہ ویب سائٹ کھولتے دیکھا تو سمجھا دیا کہ پیٹر انسر کو کیسے کھیلتے ہیں۔ میری آنے کہتی تھی، کوئی کام کی بات ہو تو سب کو بتا دیا کرتے ہیں۔ میں نے اس ڈاکٹر کو بتایا، اس نے باقی سب کو بتا دیا اور پھر۔ ۔”وہ جھینپ سا گیا، “پھر افق اور جینیک نے سخت سردی میں مجھے پول میں پھینک دیا اور مارا بھی بہت۔ ۔۔”
پریشے ہنس دی۔ “چلو آج تمہارا بدلہ لیتے ہیں۔ تم بس افق کو مت بتانا ک تم نے مجھ سب بتا دیا ہے۔ “۔
“نو پروبلم” وہ شانے جھٹکتے ہوئے چلا گیا۔
افق تھوڑی دیر بعد آیا۔ اس کی ٹوپی اور جیکٹ پر برف کے ذرات پڑے تھے۔ وہ جھاڑتے ہوئے کرسی سمبھال کر بیٹھ گیا۔”یہ پورٹرز بھی نا، خیر ہم کہاں تھے؟ “اس نے سکرین کو دیکھا،
“ہوں، تو وہ تم سے عشق کرتا ہے،کون ہے وہ؟ “وہ بڑے لاپرواہ سے انداز میں بولا۔
“ابھی پتا چل جاتا ہے۔ تم اس سے اس کی ہائیٹ اور آنکھوں کا رنگ پوچھو” اب وہ افق کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھ رہی تھی۔
“سکس ون ہائیٹ اور ہنی کلرڈ آئز”پیٹر کا جواب آیا۔
“بس میں سمجھ گئی یہ کس کی بات کر رہا ہے۔ سکس ون ہائیٹ ہنی کلرڈ آئز ،اور “k” پر نام ختم ہوتا ہے، بلکل ٹھیک” وہ خوشی سے بولی۔
“اچھا”وہ ہولے سے مسکرایا، “پھر کون ہے؟ “
“سیف الملوک اور کون”
صفحہ نمبر 145
افق کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس نے قدرے الجھ کر سکرین اور پھر پری کو دیکھا۔
“نہیں، سیف نہیں۔ ۔۔یہ تو۔ ۔۔”
“سیف ہی ہے۔ مجھے پتا تھا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے مگر اتنی زیادہ کرتا ہے، یہ علم نہیں تھا۔ اوہ گاڈ کتنی لکی ہوں نا “افق!
“نہیں ناں” وہ جہنجھلایا، “ضروری تو نہیں یہ سیف کی بات کر رہا ہو۔ کسی اور کا نام بھی تو “k” پر ختم ہو سکتا ہے” ۔
“اور کسی کا نہیں ہوتا” ۔
“ہوتا ہے” اس نے جھلا کر کی بورڈ پر ہاتھ مارا۔
“کس کا؟”۔
“میرا! اور یہ سب میں لکھ رہا تھا، سمجھیں تم! “وہ غصے سے بولا۔
“اچھا، مجھے تو نہیں پتا تھا” پری نے تھوڑی تلے مٹھی جما کر معصومیت سے اسے دیکھا۔
“اگر مجھے پتا ہوتا ک تم سیف کے نام سے اتنے جیلس ہوگے تو بہت پہلے اس کا نام لے دیتی،ویسے میں تمہیں اتنی اچھی لگتی ہوں کیا؟ “۔
اس کا انداز افق کو بتانے کے لیے کافی تھا ک وہ تمام ڈرامہ جان گئی تھی، سو وہ ناراضی سے کھڑا ہوا اور کرسی کے پیچھے سے نکل کے خیمے کے دروازے کی جانب بڑھا، پھر پلٹ کر ایک خفگی بھری نگاہ۔ اس پر ڈالی۔
“ہاں، لگتی ہو ناں! “کچھ نروتھے پن، کچھ محبت سے اس نے جیسے بہت ناراضی سے اعتراف کیا۔ وہ ہنس دی۔
“تم اس وقت اتنے کیوٹ لگ رہے ہو، مگر میں تعریف کر کے تمہارا دماغ نہیں خراب کرنا چاہتی”۔
وہ اسی طرح برا سا منہ بنا کر جھٹکتے ہوئے جانے لگا، پھر رک کر پوچھا۔
“تمہیں پیٹر کے سیکرٹ کا پہلے سے پتا تھا؟ “
“نہیں، یہ تو ابھی احمت نے۔ ۔۔”بے اختیار اس نے زبان دانتوں تلے دبالی۔
“واٹ؟ احمت نے بتایا ہے؟ میں آج اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس گدھے نے پہلے بھی مجھے ڈاکٹر اور نرسوں سے پٹوایا تھا۔ کدھر گیا یہ۔ ۔۔۔”
وہ غصے سو بولتا خیمے سے باہر نکل گیا۔ اور وہ، جسے احمت پر بے انتہا ترس بھی آرہا تھا اور ہنسے بھی جا رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: