Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 11

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 11

–**–**–

#آٹھویں_چوٹی
قسط 11
جعمرات ،11آگست 2005ءء
اس نے میس ٹینٹ کی میز پر رکھے کئی پاور بارز اور انرجی بارز اٹھا کر اپنے رک سیک میں بھر لیے اور جوتوں کے نیچے crampons چڑھا کر باہر نکل آئی۔ وہاں ارسہ،فرید اور افق اپنے بیک ٹیکس کمر پر چڑھائے ،بوٹس، کریمینز،ٹوپیاں اور گلاسز پہنے تیار کھڑے تھے۔
شیڈیول کے مطابق کیمپ فور تک پورٹرز ساتھ لے کے جانا تھا، مگر شیر خان نے صبح سویرے سورج نکلنے کے وقت بغیر گلاسز لگاۓ راکآ پوشی کا نظارہ کیا تھا اور اب وہ سنو بلآئنڈ ہو کر اپنے گھر پڑا تھا۔
ان کے پاس اتنا گیئر اور فیول نہیں تھا ک وہ ایک دن بھی تاخیر کر سکیں۔ فرید خان جانے کے لیے تیار تھا۔ وہ بنیادی طور پر ہنزہ کا باشندہ تھا اور ہنزہ و پورٹرز بلتی پورٹرز سے جسمانی اور دمگی دونوں لحاظ سے مختلف ہوتے تھے۔ بلتو رو کے بلتی پورٹرز کو غیر ملکیوں خصوصن یورپین پر وہ زیادہ تجربہ ہوتا تھا۔ افق انھیں “شرپاز کا قراقرم ورژن” کہتا تھا۔ پورٹرز کو گلہریوں کی چڑہائی کے لیے بہت کچھ محفوظ کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث یہ نہ چاہتے ہوئے بھی کوہ پیماؤں کو ساتھ ان بلندیوں پر جاتے ہیں۔ کوہ پیمائی بعض لوگ پیسہ کمانے کے لیے کرتے ہیں اور بعض سیر کرنے کے لیے ۔۔
جب ان چاروں نے بیس کیمپ کو آلودہ کہا tتو افق، احمت سے گلے ملا پھر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے، اسے سنجیدگی سے اپنی زبان میں کچھ سمجھاتا رہا۔ احمت پہاڑ پر تقریبن تین دفعہ ان کے ہمراہ آیا تھا۔ اس دوران افق مسلسل اسے کسی لیڈر کی طرح ہدایت دیتا رہا۔ اور وہ ازلی معصوم انداز میں تابعداری سے سر ہلاتا رہا۔
پھر احمت چلا گیا تو افق اسے نیچے اترتے دیکھتا رہا۔ یہاں۔ تک کے وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ پری اس کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ احمت غائب ہوگیا تو افق نے ایک آخری نظر دور چھوٹے سے دکھائی دینے والے بیس کیمپ پر ڈالی۔
147
“میری خوائش ہے کہ ہم سب ان خیموں کو دیکھنے کے لیے زندہ رہیں” ۔وہ بڑ بڑا ٹی ہوئی ۔اس نے بے حد خوف سے اوپر “برو” کے گلشیئر کو دیکھا اور دل میں دعا کی کہ خدا کرے برو کو علم نا ہو ک۔ کوئی دبے قدموں اس کی راجدھانی میں داخل ہو رہا ہے۔کاش برو سو تا رہے۔ وہ کبھی نا جاگے وہ اس کے تخت پر قدم رکھ کر زندہ سلامت واپس آجائیں۔
اس کی ہراساں صورت دیکھ کر وہ مسکرایا،فکر نہیں کرو۔ ہم راکآپوشی۔ کو سر کر لیں گے تو گاؤں کے لوگ ہمیں گرینڈ دعوت دیں گے” ۔
پریشے نے ایک نظر برف میں پیوست نوکدار بیضوی سے کریمپنز کو دیکھا جو کے نیچے لگے تھے اور جس سے وہ برف پر پھسل نہیں سکتی تھی اور سر جھٹک کر مسکرائی۔اس کا خوف قدرے کم ہوا۔
“ہاں میں نے دیکھا تھا، دعوت کا سن کر تم نے بڑے حریصانہ انداز میں پوری آنکھیں کھول کر انھیں دیکھا تھا”
“میری آنکھوں کو کچھ مت کہو۔ ترک لڑکیاں ان آنکھوں پر مارتی ہیں” ۔
“ترک لڑکیوں کا ٹیسٹ اتنا خراب ہے؟ چچ چچ،مجھے ان سے ہمدردی ہے” ۔
“اچھا ابھی لڑو نہیں۔ ابھی لمبا سفر ساتھ کرنا ہے” افق نے اپنا بھاری دستانے والا ہاتھ بڑھایا، پری نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اب اس نے خد کو قدرے محفوظ تصور کیا۔ وہ گرنے لگے گی تو کوئی اسے تھام لے گا اور گر نے نہیں دے گا۔
وہاں برف گدلی اور بے حد نرم تھی۔ سورج ذرا تیز چمکتا تو برف پگہلنے اور ٹپکنے لگتی۔ راکاپوشی سر کرنے کا بہترین وقت جولائی ہوتا ہے اور وہ ایک مہینہ لیٹ ہو چکے تھے۔ آگست میں برف بہت خراب حالت میں تھی۔ ایسی ہی برف کھد کر ایک برفیلے میدان میں کیمپ ون نصب تھا جس میں تین ٹینٹ لگاۓ گئے تھے۔ یہ کوہ پیمائی کا نظم و ضبط ہوتا ہے۔ کیمپ ون تک وہ دوپہر تک پہنچ گے تھے۔ پہلی رات انہونے وہیں گزاری۔
158
دوسری صبح افق، فرید اور ارسہ کیمپ ٹو تک کے راستے پر رسیاں لگانے چلے گئے۔افق کا ارادہ اوپر بارہ سو میٹر تک راستہ متعین کرنے کا تھا اور آگے کیمپ ٹو کے لیے کہیں مناسب جگہ ڈھونڈ کر وہاں خیمے بھی لگانے تھے۔ وہ سیمی الپائن سٹائل سے چڑھ رہے تھے یعنی بعض جگہ رسیاں لگانی تھیں اور بعض جگہ نہیں۔ پریشے اس روز خیمے میں ہی رک گئی۔ اس کی ایلٹی ٹیوڈ سک نیس کم ہو رہی تھی اور بہت جلدی اوپر جانے سے وہ بڑھ سکتی تھی۔ سو اپنی Accelimatization کو بلکل پرفیکٹ کرنے کے لیے اس نے وہیں رک کر ان کے لیے کھانا بنانے کی زمیداری لے لی۔
کچھ دور تک وہ ان کے ساتھ گئی۔ ارسہ کے کندھے پر رسیوں کا گچھا تھا اور ہاتھ میں چند آئس سکریوز اور پی ٹونز (pitons) تھے۔ افق نے زمین پر بیٹھ کر ایک پی ٹون ٹھونکا، پھر رسی کو اس سے اینکر کیا۔ ۔۔یہ تمام کروائی دیکھنا خاصا غیر دلچسپ تھا، سو وہ واپس خیمے میں آکر کھانے کی تیاری کرنے لگی۔
پری کو اپنی کوکنگ پر ناز تھا۔ اس کے ہاتھ میں ذائقہ بھی بہت تھا، سو ان تمام چیزوں سے جو وہ خاص بریانی بنانے کے لیے لائی تھی، اس نے بڑے پیار اور محبت سے سندھی بریانی بنائی۔شام تک وہ اس کام سے فارغ ہوئی اگے تمام دن ۔Add. Some. Hot..water..ٹائپ کی یورپی چیزیں ہی کہانی تھیں، سو آج بریانی کھا کر افق کو اچھا لگے گا، یہی سوچ کر اس نے یہ بنائی تھی۔
کھانا دھک کر وہ باہر چلی آئی۔ وہاں ہر طرف سخت برف کے اوپر پاؤڈر سنو کی تہ چڑہی ہوئی تھی۔ دو تین دن سے ۔ نئی برف نہیں گری تھی، اس لیے یہ برف پیلی سی تھی۔ وہاں خیموں سے دور ایک بڑے گرنائٹ کے پتھر پر بیٹھ کر وہ بے حد خوش گوار موسم کو انجواے کرنے لگی۔ اس وقت راکا پوشی پر شام اتر رہی تھی۔ ہر سو ٹھنڈی میٹھی سی چھایا تھی۔ وہ پہاڑ کی جانب پیٹھ کر کے کہنیاں گھٹنوں پر جمائے ہاتھلی تھوڑی تلے رکھے خاموشی سے ان خوبصورت مناظر کو اپنے اندر میں جذب کرتے ہوئے ڈھلتی شام کے سحر میں ڈوبنے لگی۔
159
خیموں کے باہر اس بے حد تنہا اور خاموش برفیلے میدان میں اس حد تک خاموشی تھی ک سوئی گرنے سے بھی گونج پیدا ہوتی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ ارد گرد موجود تمام دیوہیکل سیاہ بلکل خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ شام کے اس پھر وہ۔ دنیا کا حسین ترین پہاڑ راجدھانی۔ تھا۔ سارے کا سارا دمانی اس کا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے پاپا، پھپھو، سیف،نشاء، سب دوسری دنیا میں رہتے تھے، جہاں بلند و بانگ عمارتیں تھیں، جہاں ٹرافک کا شور اور موسیقی کی بے حد آواز گونجتی تھی۔ یہ کوئی اور دنیا تھی۔ جب اس دوسری دنیا کی رات شروع نہیں ہوتی تھی،اور اس کی صبح ہو جاتی تھی۔ منہ اندھیرے کوہ پیما برف پر اپنے کلہاڑے مارتے ہوئے آٹھ کلو میٹر چلنا شروع کر دیتے تھے، جس کی بلندیوں تک جانے کو ان کی روحیں مچلا کرتی تھیں۔ وہ آٹھ کلو میٹر دوسری دنیا میں گاڑی پر آٹھ منٹ میں طے ہو جاتے تھے۔ پہاڑوں پر مہینوں میں ہوتے تھے۔ انسان کی فطرت ہے اور یہی جستجو انسان کو ان آٹھ کلومیٹر کا سفر کرنے پر اکساتی ہے
وہ اسی طرح پتھر پر بیٹھی کتنی دیر سوچتی رہی۔ کیا وہ سیف جیسے شخص کے ساتھ رہ سکتی تھی یا وہ ایک انسان نہیں ایک اسٹاک ایکسچینج تھا؟ جیس کے سینے میں دل کی جگہ کیلکیو لیٹر نصب تھا۔ بغاوت اس کی سرشت میں نہیں تھی مگر صرف ایک دفعہ وہ سیف سے متعلق اپنے تمام تہفظات پاپا کے سامنے رکھے گی ضرور، وہ ان کو افق سے ملواے گی، ان کی آنکھوں سے رشتے داروں کی اندھی محبت کی پٹی اتارنے کی کوشش ضرور کرے گی۔
وہ بدل رہی تھی۔ پہاڑ اسے تبدیل کر رہے تھے۔ وہ خودکشی نہیں کرنا چاہتی تھی، سو سیف سے منگنی ختم کرنے کا فیصلہ اس نے کر لیا تھا۔ وہ الجھنوں کے سرے تلاش کر کے ان کو سلجھانے لگی تھی۔
اور افق، جس کی طرح سے اسے پہلے بے یقینی سی تھی، اب مکمل نہیں تو کسی حد تک یقین تھا، پیٹر انسر کھیلتے کھیلتے اس نے اعتراف کیا تھا،”محبت؟وہ تو عشق کرتا ہے”اور پھر ناراضگی بھرا اظہار”ہاں،لگتی ہو نا! “وہ ایک فقرہ اس کے اوپر نرم پھوار برسانے لگا۔ کتنا مان، اپنائیت اور محبت تھی اس ایک فقرے میں۔ ہاں ایک بے کلی بھی تھی کہ وہ براہراست اظھار کیوں نہیں کرتا تھا۔ وہ تین لفظ کیوں نہیں کہہ سکتا تھا؟ شاید کبھی اس نے حنادے کو یہ بات کہی ہو۔ پتا نہیں ان کی محبت کی شادی تھی بھی یا۔ ۔۔یہ بات وہ افق سے نہیں پوچھ سکتی تھی، پھر۔ ۔۔۔
اسے ایک دم خیال آیا۔ اس نے جھٹ اپنی پاکٹ سے ٹرانسیور نکالا۔
150
اس کا میکنزم بس دو بٹن کا تھا۔ اس نے ٹرانسمٹ بٹن دبایا۔ تھوڑی دیر بعد احمت لائن پر تھا۔
“گڈ آفٹرنون بیس کیمپ ڈاکٹر! کیسی ہو؟ “احمت اس کی آواز سن کر خوش ہوا تھا۔
“کیمپ ون کے باہر برف پر بیٹھی ہوں۔ باقی سب روٹ فکس کرنے گے ہیں۔ میں نے چاول بنائے ہیں۔ تم سناؤ بیس کیمپ کیسا ہے؟ “
“تمہیں یاد کر رہا ہے اور خاصا اداس ہے سب ٹریکرز اور پورٹرز سوائے شفالی کے، جا چکے ہیں۔ میں بور ہو رہا تھا۔ اچھا کیا کال کر لیا۔ تمہاری ای میلز آئی ہوئی ہیں۔ تم نے اپنا ای میل اور پاس ورڈ میرے پورٹیبل پر محفوظ کر دیا تھا۔مگر قسم لے لو،میں نے کوئی میل نہیں کھولی” ۔
“افوہ۔کر لو چیک اور میری طرف سے جواب لکھ لو” ۔وہ اسے ای میلز کے جواب لکھوانے لگی۔ پھر قدرے سوچ سوچ کر بولی، “احمت!ایک بات پوچھو؟ “
“ہاں پوچھو ڈاکٹر تمہاری بیماری۔ ۔۔”
“اوہو۔ضروری تو نہیں تم سے میڈیکل کے متلعق کچھ پوچھوں۔ میں کچھ اور پوچھنا چاہ رہی تھی” ۔پھر قدرے توقف سے بولی، “تمہیں حنادے یاد ہے؟ “
“کون حنا دے ؟”
پری کو حیرت ہوئی۔ افق نے حنادے کو اپنی بیوی بنایا تھا اور اس کا اتنا اچھا دوست اس بات سے لا علم تھا۔
“افق کی بیوی، حنادے”۔
“اچھا میں سمجھا تم “حوا”کی بات کر ررہی ہو۔حضرت حوا کی،جن کو انگلش میں Eve اور ترک میں حنادے کہتے ہیں” ۔
پری کا دل سر پیٹ لینے کو۔ چاہا۔اپنا نہیں،احمت کا۔
“ہاں وہی، تمہیں یاد ہے؟ کیسی تھی وہ؟ “۔
“خوبصورت تھی”
“اور۔۔۔۔؟”
“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ “
پری سٹپٹا گئی۔ وہ اتنا سیدھا نہیں تھا، جتنا وہ سمجھ رہی تھی۔
“وہ یونہی، افق اس کو یاد کر کے اداس ہوجاتا ہے ناں” ۔
“یہ تم سے کس نے کہا؟ “احمت کے لہجے میں حیرت تھی۔
“افق نے”
“وہ مذاق کر رہا ہوگا۔ وہ تو اس سے شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا” ۔
151
“مگر کیوں؟ “اسے کرید ہوئی۔
“اسے کسی اور سے محبت تھی”
پری کا دل ڈوب کر ابھرا”کس سے؟ “
“کیا واقعی قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں پر پریاں اترتی ہیں؟ افق کو جانے کتنے برسوں سے ان پریوں کی تلاش تھی۔ وہ کے ٹو کے رو پل فیس کے بیس کیمپ کا ٹریک بہت بہت باد کیا کرتا تھا”۔
“کے ٹو کا نہیں، نانگا پر بت کا رو پل فیس ہوگا۔ ۔”اس نے بے مشکل “سٹوپڈ “کہنا سے خود کو روکا۔
“ہاں وہی، وہاں بیاں کیمپ سے فری میڈوز کے درمیان، اس نے سن رکھا تھا کہ پریاں اترتی ہیں اور رات کو سیاہوں کے پاس آکر انھیں گیت سناتی ہیں۔ وہ ہر مرتبہ پاکستان آکر رو پل فیس کا ٹریک ضرور کرتا تھا۔ حالاں کہ میں نے کہا بھی تھا کہ سٹوپڈ آدمی، یہ پریاں واریاں کچھ نہیں ہوتیں، ایویں سیاہوں کو بے وقوف بناتے ہیں مگر افق اور جینیک تو پاگل ہیں،صرف پریوں۔ کو ڈھونڈنے ہر گرما میں پہاڑوں میں نکل جاتا تھا۔ اور افق جینیک کے بغیر کہیں جاۓ یہ ہو نہیں سکتا۔ “۔
“پھر اب جینیک کیوں نہیں آیا؟ “
“اس کے تو ماز کے باس نے کام میں پھنسا رکھا ہے، جینیک بڑا خبیث آدمی ہے، کہہ رہا تھا کے احمت دعا کرو کہیں زلزلہ ،طوفان یا سیلاب آجاۓ میں ریلیف ایکٹیویٹی کے بہانے ہی یہاں سے نکلوں” ۔احمت زور سے ہنسا۔
“اور وہ حنادے۔ ۔اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا تو اب اس کے بارے میں اتنا حساس کیوں ہے؟ “اس کے ذہن کی۔ سوئی وہیں تھی۔
“اس کی بیوی تھی ناں۔ جیسی بھی تھی، مرے ہوئے کو کچھ نہیں کہا کرتے۔ ویسے بڑی عجیب سائکوکیس تھی۔ بہت میک اپ کرتی تھی۔ سلمیٰ کہتی تھی، افق نے لگتا ہے کسی پیسٹری سے شادی کی ہے۔
“اچھا” کچھ سوچتے ہوئے اس نے ریڈیو کو دیکھا۔ پھر الودائی کلمات کہہ کر سلسلہ منقطع کر دیا اور احمت کی باتوں پر ازسر نو غور کرنے لگی۔
اس کے سامنے آسمان پر سرخ و سرمئی بادلوں کے درمیان خالی جگہوں سے، ڈھلتے سورج کی آخری نارنجی شعاعیں جھانک رہی تھیں۔ دور نانگا پر بت کو بادلوں نے ڈھانپ لیا تھا اور وہ بادل اب یقیناً قرا قرم کی جانب بڑھنے لگے تھے۔
“خدا کرے یہ ہمیں بائی پاس کر کے گزر جائیں اور موسم نہ خراب ہو”۔وہ دعا کرتے ہوئے اور اوپر پہاڑ پر بار بار نگاہیں دوڑاتی ان تینوں کا انتظار کر رہی تھی۔
شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ درجہء حرارت گر رہا تھا۔ سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ پھر رات کا اندھیرا پوری طرح پھیل گیا تو اسے تھکے تھکے قدموں کی آہٹ اور باتوں کی آوازیں سنائی دی۔ وہ تینوں اگے پیچھے برف چلتے اس کی جانب آرہے تھے۔ افق کے کندھے پر رسیوں کا آخری گچہا اور ہاتھ میں سنو سٹک تھی۔
“کدھر رہ گے تھے؟ اتنی دیر سے انتظار کر رہی تھی” ۔
اس کے غصے کے جواب میں اس کے چہرے پر تھکن زدہ مسکراہٹ ابھری۔
“اچھی لگ رہی ہو اتنی فکر کرتے ہوئے اور بھی اچھی لگو گی اگر جلدی کھانا کھلا دو تو” ۔وہ اس کے پاس سے گزر کر خیمے میں چلا گیا۔ ارسہ نے بھی اس کی تقلید کی۔ دونوں خاصے تھک چکے تھے۔
“میں نے بریانی پکائی ہے” اس کے پاس اندر آکر اس نے دبے دبے جوش سے بتایا۔
“لائیں اپ کی ہیلپ کراؤں”ارسہ اس کے ساتھ کھانا نکالنے لگی۔پری نے بریانی والا برتن کھولا افق نے جھک کر چاولوں کی شکل دیکھی اور ایک سیکنڈ کو چپ سا ہوگیا۔
“چلو ذائقہ اچھا ہوگا” افق کا مطلب تھا کے شکل اچھی نہیں ہے۔
“میری کوکنگ پوری فیملی میں مشہور ہے۔ بے شک نشاء سے پوچھ لو” ۔اس نے جاتایا۔
“ہمارے ہاں یہ اعزاز احمت کی۔ بیوی سلمیٰ کو حاصل ہے” افق نے بریانی اپنے برتن میں نکالی اور پہلا چمچہ منہ میں ڈالا، پھر اسے چبا کر نگلا۔ اس کے بعد مرغی کی بوٹی توڑنے کی۔ کوشش کی جو ٹھیک سے گلی نہیں تھی اور کچھ سردی کا اثر بھی تھا۔ اس نے ایک ٹکڑا توڑ کر منہ میں رکھااور چیونگم کی طرح چبایا۔ ارسہ سے بھی بوٹی نہیں چبائی جا رہی تھی۔ پریشے بغور دونوں کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔
153
“تمہیں پتا ہے۔ پری، ترکی یورپ میں ہے” ۔
اور میں بھی یورپ سے آئی ہوں” ارسہ نے پلٹ رکھ دی۔
“مطلب؟ “پری نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھا۔
“مطلب یہ کہ یورپ سے آئے ہیں، افریقہ سے نہیں۔ کچا گوشت تو صرف افریقہ والے ہی کھا سکتے ہیں” ۔
“افق بھائی کا مطلب ہے کہ۔ ۔۔مچھلی پڑی ہے؟ “ارسہ نے اس کے چہرے کو دیکھ کر وضاحت کی۔
“ہاں پڑی ہے، تمہارے پیچھے سیرینہ ہوٹل کے شیف دے کر گے تھے ناں” ۔وہ اپنے حصے کی بریانی لے کر وہاں سے چلی آئی تھی۔ مطلب تھا کہ “خود پکا لو مچھلی” ۔۔
“اگر 4800 میٹر بلندی پر کو کب خواجہ بھی بنائیں گی تو اس سے اچھی نہیں بنا سکتیں۔سارا دن لگ کر میں ان کے لیے کھانا بنا تی رہی، کیا تھا اگر جھوٹے منہ ہی تعریف کر دیتا افق؟ اتنی بری نہیں تھی کہ اسے کچا گوشت کہا جاتا”۔اسے سچ مچ رونا آیا تھا۔ “ٹھیک ہے، مصالاح تیز، بلکے خاصے تیز تیز اور گوشت ٹھیک سے گلا نہ تھا، مگر چپ کر کے کھاتے رہتے میرا دل رکھنے کو۔ اتنی سٹرکٹ فار ورڈ نیس کی کیا ضرورت تھی؟ میں کوئی پورٹر تو نہیں ہوں جو کھانا پکاؤں۔ ٹھیک ہے دوبارہ نہیں پکاؤں گی” ۔
رات وہ اپنے خیمے سے باہر اسی پتھر پر بیٹھی اپنے جوگرز کے نیچے کریمپنز سے برف پر لکیر سی بنا رہی تھی۔ گردن اس نے اٹھا رکھی تھی اور نگاہیں اوپر ساتویں کے چاند پر تھیں، جس کی چاندنی سے برو کا گلشیئر چمک اٹھا تھا۔ راکاپوشی پر چاند خاصا بڑا اور واضح دکھائی دیتا تھا۔ شاید اسے اس دھند سے ڈھکی اس حسین چوٹی سے عشق ہو گیا تھا اور وہ اس کو دیکھنے بہت قریب اتر آیا تھا۔
دفعتآ اس نے افق کو اپنے خیمے سے نکلتے دیکھا تو چہرے کا رخ جھٹکے سے موڑ لیا۔ چند منٹ بعد اسے کسی کے اپنے ساتھ پتھر پر بیٹھنے کی آہٹ محسوس ہوئی۔
“اہم۔۔۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ بریانی پڑی۔ ہوگی؟ “گلا کہنکھارتے ہوئے بہت معصومیت سے پوچھا گیا۔
پری نے رخ قدرے مزید پھیر لیا۔
“یقین کرو بریانی بہت مزیدار بنی تھی۔ اتنی لذیز بریانی تو میں نے زندگی بھر نہیں کھائی۔ یہ ممبئی کے شیف تو جھک مار رہے ہیں۔ ان کو تو تم سے سیکھنا چاہیے”۔
154
وہ جوابآ کچھ بولے بنا چہرے کا رخ اس کی جانب سے موڑ دائیں طرف سیدھی پتھروں کی دیوار کو دیکھتی رہی جس پر چاندی کا چھڑکاؤ ہوا تھا۔
“اچھا پلیز! دیکھو ناراض مت ہو۔ میں نے تعریف کی ہے”
پری نے گردن گھما کر قہر الود نگاہوں سے اسے دیکھا۔ “نہیں ،تم تو افریقہ سے نہیں آئے اور تم تو کچا گوشت نہیں کھاتے” ۔
“اب کچھ گوشت کو میں پکا گوشت کہنے سے تو رہا
“ہاں خود تو اوپر چلے گے تھے۔ میں نے سارا دن اتنی محنت سے بریانی تیار کی اور پھر اتنی دیر تمہارا اتنی پریشانی سے انتظار کیا اور تم؟ “
“کاش قراقرم کی پری! تم نے اتنی دیر گوشت گلانے پر لگائی ہوتی تو۔
“افق” اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
“اچھا پلیز رونا مت۔میں تو مذاق کر رہا تھا۔ دیکھو تمہارے لیے اتنا گرم سلیپنگ بیگ چھوڑ کر آیا ہوں” ۔
“تو نہ آتے” ۔
“کیوں نہ آتا؟مجھے پتا ہے تم نے کھانا نہیں کھایا۔ میں تمہارے لیے خود پکا کر مچھلی لیا ہوں” افق نے پیکٹ اسے تھمایا۔ پری نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کری)
“تمہیں کیسے پتا میں نے بریانی نہیں کھائی؟ “
“لو وہ کوئی کھانے والی چیز تھی؟ “وہ ہنسا😄😄
پری نے روہانسی ہو کر وہ پیکٹ زور سے اس کے کندھے پر مارا۔ ۔
“ویسے پری!نشاء کہہ رہی تھی، تم سیف سے منگنی سے انکار نہیں کر سکتیں۔تم واپس جا کر ایک۔ کام کرنا۔ سیف کو اپنی بنائی گئی بریانی کھلا دینا، وہ خود ہی رشتہ توڑ جاۓ گا، لکھ کر رکھ لو” ۔وہ ہنستے کہہ رہا تھا۔
“میری بریانی کے بارے میں تم نے ایک لفظ اور کہا، تو میں تمہیں یہاں سے دھکا دے دوں گی۔ اور رہاں منگنی کا سوال ،تو وہ میں ویسے ہی ختم کردوں گی” ۔
155
وہ۔ ہنستے ہنستے رک گیا اور خوش گوار حیرت سے اسے دیکھا، “کیوں؟ “
“مجھے ٹام کروز نے پرپوز کیا ہے، اس لیے”وہ جل۔ کر بولی۔
وہ پھر سے ہنس دیا، “ہاں، اچھا آدمی ہے، کر لو شادی” ۔
“ہاں، تمہیں قتل کر کے اس سے ہی شادی کروں گی” ۔وہ غصے سے کہہ کر تیزی سے اپنے خیمے میں چلی گئی۔
ہفتہ، 13اگست 2005ء
خیمے کی گورٹیکس کی دیوار سے ٹیک لاگائے،گھٹنوں پر کتاب رکھے وہ مطالعے میں منجمد تھی۔ قدرے فاصلے پر ارسہ اسی انداز میں بیٹھی کاغزوں کا پلندہ گود میں رکھے تیز تیز قلم چلا رہی تھی۔ خیمے کی کپڑے کی دیوار میں شفاف چوکور چھوٹی سی کھڑکی تھی، جس پر برف کے ذرارت جگمگا رہے تھے۔ دوپہر ہونے کے باوجود باہر اندھیرا سا تھا۔ بادل راکاپوشی پر چھا چکے تھے۔ موسم سخت خراب تھا۔ برف کا طوفان خاصی دیر تک چل رہا تھا۔ اور اب برف باری ہورہی تھی۔ احمت نے بتایا تھا کہ بیس کیمپ میں آج بارش ہو رہی تھی۔ پوری رات برفانی جھکڑ چلنے کے باعث بیس کیمپ کا کچن ٹینٹ اڑ کر قریبی گلشیئر پر جا گرا تھا۔
افق اپنے خیمے سے نکل کر دھند میں چلتے ہوئے ان کے خیمے میں داخل ہوا۔
“کیا ہو رہا ہے؟ “اس کے آنے سے خیمے کی خاموش فضا میں ارتعاشپیدا ہوا۔ پری نے کتاب پر سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا، جو نیچے میٹرس بچھا کر رک سیک کا تکیہ بنا کر نیم دراز ہو چکا تھا۔ اور پھر کتاب کی طرف متوجہ ہوگئی۔
“لائبریری میں بولنا منع ہے” صفہے پر نگاہیں جمائے پری نے اطلاح دی۔
“میں اتنے خراب موسم میں پورے چھے قدم چل کر تمہارے خیمے میں آیا ہوں اور تم کہہ رہی ہو بے مروت ہو؟ “
ارسہ نے قدرے اکتا کر سر اٹھایا اور پھر بڑ بڑاتی۔ ہوئی کاغز پر جھک گئی۔
“میں سوچ رہا ہوں اگلے سال بطور گائیڈ کسی ایکسپیڈیشن کے ساتھ ایورسٹ جاؤں۔ بندے کو اس فیلڈ میں کچھ کمانا بھی چاہیے۔ انجینرنگ میں میرا دل نہیں لگتا۔ وہ توماز کا باس مجھے برداشت بھی اسی لیے کرتا ہے ک میرے باپ کا دوست ہے” ۔
افوہ افق بھائی! کتنا بولتے ہیں اپ کوئی کام نہیں کرنے دیتے”۔ارسہ جہنجھلا کر اپنے کاغز سمٹے اور بڑبڑاتی ہوئی خیمے سے باہر نکل گئی۔ پری نے کتاب پر سے نگاہیں ہٹا کر حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔ افق مسکرادیا۔
156
سکاٹ فشر سے معذرت کے ساتھ۔
“۔”its not attitude.its altitude”.
اس ایلٹی ٹیوڈ پر بندہ تھوڑا بہت چڑچڑا تو ہو ہی جاتا ہے۔ میں مائنڈ نہیں کرتا۔ ہاں تو میں بات کر رہا تھا اگلے مارچ کی، جب میں ایورسٹ ایکسپیڈیشن لیڈ کروں گا۔ تم سن رہی ہو؟ “
“نہیں” وہ کتاب پڑھتی رہی۔
“تو پھر سنو، وہ بریانی پھر سے کھلاؤ ناں” ۔
“زہر نہ کھلاؤں؟”اس نے پڑھتے پڑھتے ایک طنزیہ نگاہ سامنے بیٹھے افق پر ڈالی۔
“تمہارے ہاتھ سے زہر بھی کھالوں گا۔ تم کھلاؤ تو” ۔
“کیا پاکستانی فلمیںبہت دیکھنے لگے ہو؟ “۔
“پشاور میں ایک پشتو فلم دیکھی تھی۔ سمجھ میں تو نہیں آئی مگر اس کی ہیروئن کنگ فو بہت اچھی کرتی تھی” ۔
“کنگ فو؟ جیسے تمہیں پتا ہی نہیں ک وہ ڈانس تھا۔ بنو مت” وہ پھر سے مطالعے میں منہمک ہوگئی۔ وہ جھنجھلا گیا۔ “یہ کتاب مجھے سے زیادہ اچھی ہے کیا؟ “۔
“ہاں بلکل” ۔اس نے سنجیدگی سے کہا پھر افق کے خفا تاثرات دیکھ کر ہنس دی۔”خفا ہوگئے کیا؟ “پری نے کتاب ایک طرف رکھ دی۔
“پری! “وہ ایک دم سچ مچ اداس نظر آنے لگا۔ “مجھے آنے بہت یاد آرہی ہے” ۔
ترک اپنی ماں کو “آنے” بولتے ہیں۔
“ہوں۔ مجھے بھی پاپا اور نشاء لوگ بہت یاد آرہے ہیں۔ پتا نہیں پہاڑوں پر پیچھے والے لوگ کیوں اتنے یاد آتے ہیں”
افق اٹھ کر بیٹھ گیا اور پری کے مقابل خیمے کی دیوار سے ٹیک لگالی۔ کھڑکی سے باہر سرمئی آسمان نظر آرہا تھا۔
157
“کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے میں کوہ پیمائی ترک کردوں۔ آنے کو یہ سب اچھا نہیں لگتا”،کھڑکی پر گرتی،جمتی برف کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا، “میرے تین بھائی پہاڑوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے بعد میری ماں بہت اکیلی اور دکھی ہوگئی ہے۔ وہ اکثر مجھے کہتی ہے افق! پہاڑوں پر نہ جایا کرو میرے بیٹے پہاڑوں سے لوٹ کر نہیں آتے۔ تب میں سوچتا ہوں کہ صرف آنے کے کیے یہ تمام کام ترک کردوں، آرام سے جاب کروں، پرکشش تنخواہ ہاتھ میں ہو اور اپنے ماں کے ساتھ رہوں۔ تب میرا دل یہ سب کچھ چھوڑنے کو چاہتا ہے” ۔کچھ دیر پہلے کی شوخی اب اس کے چہرے سے مفقود تھی
“تو پھر چھوڑتے کیوں نہیں ہو یہ سب؟ “
وہ پژ مردگی سے مسکرایا، “جنون ہے یہ پری۔ ایڈکشن ہے پہاڑوں کی۔ کوہ پیمائی چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ مجھے ہمالیہ سے عشق ہے۔ مجھے بچپن سے ہی شوق تھا۔ “بگ فائیو” سر کرنے کا ایورسٹ، کے ٹو،kangchenjunga، lhotese اور makalu میں گھنٹوں تصور کیا کرتا کہ وہ لمحہ کیسا ہوگا جب میں ان سب کو سیر کر لوں گا۔ وہ لمحہ جب تمام خواب پورے ہوجائیں گے جب دو سال پہلے میں نے کے ٹو کی چوٹی پر قدم رکھا tتو جانتی ہو کیا ہوا؟ میرے خواب اچانک خالی ہوگئے۔ سارے خواب ،خوائشات سب ختم ہوگیا۔ ہر خواب پورا نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی میں ایک عجیب خالی پن در آتا ہے۔ کچھ ادھورا بھی رہنا چاہیے۔ میری آخری آرزو ہے ک دنیا کی حسین ترین پہاڑ پر کھڑے ہو کر کنکورڈیا اور بلتورو کی چوٹیاں دیکھنے کی، پھر میں کبھی پہاڑوں میں نہیں آؤں گا” ۔
“اگر یہ آرزو تشنہ رہ گئی پھر بھی؟ “۔
وہ دھیرے سے مسکرایا، “ہاں پھر بھی کیوں ک جس کی جستجو تھی وہ مل گئی، ہے۔ “۔پری کا دل زور سے دھڑکا۔
“میں نے سن رکھا تھا کہ ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اترتی ہیں” وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا، “میں نانگا پر بت بیس کیمپ کے ٹریک میں بیال کیمپ سے۔ ۔”۔
“بیال کیمپ سے فیری میڈوز تک کا سفر بہت باد کرتے تھے، کیوں ک ان دو جگہوں کے درمیان شام ڈھلے پریاں مدھر نغمے گاتی ہوئی اڑتی پھرتی ہیں اور تمہیں ان کو دیکھنے کی آرزو تھی ہے ناں؟ “اس نے فقرہ مکمل کیا۔
شہد رنگ آنکھوں میں حیرت در آئی۔ “تمہیں کیسے پتا؟ “
158
پری نے مسکراتے ہوئے شانے اچکا دیے اور کتاب اٹھالی۔ “جس کی۔ جستجو کی جاۓ اسے آزل سے علم ہوتا ہے،بے وقوف کوہ پیمائی کھوجنے والا تو دربدر ٹھوکریں کھاتا ہے، مگر جنہیں کھوجا جاتا ہے ناں، وہ ایک ہی راستے پر صدیوں نگاہیں جمائے انتظار کر رہے ہوتے ہیں” اپنا مطلوبہ صحفہ پلٹتے ہوئے وہ کتاب پر سر جھکائے کہہ رہی تھی۔ ایک دل نشین مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھری تھی۔
کتنی ہی دیر تک وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ بہت کچھ کہہ کر بھی وہ کچھ نہ کہہ سکا تھا اور پری نے دو فقروں میں داشت آرزو سمٹ کر رکھ دیا تھا پھر وہ جیسے کھل کر مسکرا دیا۔
“یہاں سے جا کر تمہارے فادر کے پاس چلیں گے، ٹھیک؟ “
اس کی جھکی پلکوں میں ارتاش پیدا ہوا۔ اس کے سامنے بیٹھا شخص بہت کچھ کہہ گیا تھا، مگر تین لفظ، جذبوں کی شدت کوئی اظھار، کوئی اعتراف نہیں کرتا تھا۔ پری nنے پلکیں اٹھا کر قدم یونانی دیو مالا کے اس کردار کو دیکھا جو جانے اس کی قسمت میں لکھا بھی تھا یا نہیں۔
“یہاں سے جاکر؟ تمہیں یقین ہے ہم یہاں سے زندہ واپس جائیں گے؟ “وہ کچھ اور کہنا چاہتی تھی، مگر لبوں sسے یہی پھسل پڑا۔
افق نے شانے اچکادیے۔ “راکاپوشی بھی خوبصورت ہے اور جو خوبصورت ہوتے ہیں، ان سے زیادہ ظالم بھی کوئی نہیں ہوتا” ۔
“مگر میں مارنا نہیں چاہتی۔ اب۔۔۔اب زندہ رہنے کو دل کرتا ہے افق! زندگی اب بہت حسین لگتی ہے” ۔وہ۔ کہیں کھو سی گئی۔ افق اٹھ کر اس کے قریب آیا۔
“تم فکر کیوں کرتی ہو پری! تم اکیلی نہیں ہوں میں ہوں ناں تمہارے ساتھ” ۔پری نے ممنون نگاہوں سے اسے دیکھا۔ “میں تین ہفتے پہلے تک تمہیں جانتی بھی نہیں تھی اور اب یوں لگتا ہے ک جیسے تم سے بڑھ کر اپنا اور کوئی نہیں ہے۔ جانے کیوں اب یقین سا ہے اگر میں گری تو تم مجھے تھام لو گے” ۔
افق نے بہت عجیب نظروں سے اسے دیکھا، “اور اگر میں گرا تو؟ تو تم بھی حنادے کی طرح مجھے چھوڑ جاؤگی؟
وہ سناٹے میں رہ گئی۔ وہ اس پل اتنا اجنبی اور سرد مہر لگا تھا کہ وہ چند لمحوں تک تو کچھ بول ہی۔ نہیں سکی۔ پھر افق اس کے پاس سے اٹھ کر تیزی سے خیمے سے نکل گیا، مگر وہ اسی طرح اس جگہ کو دیکھتی رہی، جہاں تھوڑی پر قبل وہ بیٹھا تھا۔ کھڑکی پر برف ابھی تک گر رہی۔ تھی۔
159
اتوار،14اگست 2005 ءء
پری nنے آہستگی سے خیمے کا پردہ سر کایا اور اندر جھانکا۔ وہ اپنے سلیپنگ بیگ میں سو رہا تھا وہ دبے قدموں اندر آگئی۔ خیمے کے فرش پر اس کے قدموں سے آہٹ ہوئی، مگر وہ بے سدھ سو تا رہا۔رات ارسہ نے اسے بتایا تھا کہ افق نے صبح دو بجے اٹھانے کی تاکید کی۔ تھی۔ پری رات الارم لگا کر سو گئی تھی۔ نیند بمشکل ہی آئی تھی۔ ساری رات ارسہ کی کھانسی سنتے گزری تھی۔ اب میں دس منٹ پہلے ہی وہ اسے جگانے آئی تھی مگر وہ سوتے ہوئے اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ وہ اس کے سرہانے دورزانو بیٹھ گئی۔ “راکاپوشی 2005ء” کی سرمئی ٹوپی نے اس کے بھورے سر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اب اس کی ہیل ٹو طیب اردگان والی کیپ اسے نہیں آتی تھی۔
وہ۔ کچھ دیر بیٹھی رہی،اس میں اس کی نیند میں خلل ڈالنے کی ہمت نہیں تھی، سو اسے اٹھاۓ بغیر وہ خاموشی سے اس کے خیمے سے نکل آئی۔
باہر آسمان سیاہ، مگر صاف تھا برف باری گھنٹوں ہوئے رک چکی تھی۔ خیمء کے گور نیکس پر چند انچ برف جمی تھی۔ دور سیاہ آسمان پر تاحد نگاہ جھلملاتے تارے بکھرے تھے، جو ایک کھلے کھلے دن کی پشین گوئی کر رہے تھے۔ ہمالیہ کا آسمان پل پل رنگ بدلتا تھا۔
اپنے خیمے میں آکر وہ افق کی جگہ خود ناشتہ بنانے لگی۔ یوں لگتا تھا اس گہرے اندھیرے میں وہ سحری کی تیار کر رہی ہو اور وہ رمضان کے دن ہوں۔
دروازے پر آہٹ ہوئی، پری نے بے اختیار اس طرف دیکھا۔ وہ عجلت میں اندر داخل ہوا تھا۔ آنکھیں سرخ اور بوجھل سی تھیں۔
“مجھے اٹھایا کیوں نہیں” ؟اس کے قریب بیٹھے ہوئے افق نے ماچس اس کے ہاتھ سے لے لی۔ پری نے بغور اسے دیکھا۔ اب وہ شنا سا لگ رہا تھا۔ (کبھی کبھی اتنے اجنبی کیوں ہو جاتے ہو افق؟ کیوں اس کو بھلا نہیں دیتے؟ کیوں وہ ہر پل میرے اور تمہارے درمیان کسی دیوار کی طرح آجاتی ہے؟ کیوں خواب میں آکر بھی ستاتی ہے، حالاں کہ وہ تو تمہارے خوابوں میں کبھی بھی نہیں آتی تھی) ۔اسے افق سے پچھلے شام کے متلعق کوئی سوال نہیں کرنا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ اس سے کبھی یہ بات نہیں پوچھے گی۔ ایک دن افق خود بتائے گا۔۔
160
وہ اب چولہے کی گیس کھول کر، بڑی لاپروائی سے تیلی جلا کر چولہے میں جھونک رہا تھا۔ آگ تیزی سے بڑھک اٹھی۔
“اتنی بے احتیاطی سے کیوں چولھا جلا رہے ہو؟ “اس کی بے احتیاطی دیکھ کر پری کو ٹوکنا ہی پڑا۔
“چولہے کو چھوڑو۔ رسیوں کی فقر کرو۔ خدا کرے وہ برف میں دب کر گم نہ ہوگئی ہوں” ۔
مگر رسیوں کی خبر ہوگئی۔ ان پر برف گری ضرور تھی، مگر وہ جلدی نکل آئین۔رات کے اس پھر راکاپوشی بہت خاموش تھا۔ وہ اگے پیچھے فکسڈ روپ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پری اپنے جوگرز کو دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی وہ اگلا قدم برف پر رکھتی برف کی تہ ایک انچ دب جاتی۔ ایک لمحے کو اس کا سانس رک جاتا، مگر یہ احساس کے اس کے نیچے ٹھوس زمین ہے اور وہ پہاڑوں کی کسی درز (crevase) کے اوپر نہیں کھڑی بہت فرحت بخش ہوتا تھا۔
اوںچے پہاڑوں اور گلشیئر میں کئی جگہ دراڑیں ہوتی ہیں، جو اندر کئی سو فٹ گہری ہوتی ہیں،بعض جگہوں پر یہ واضح ہوتی ہیں مگر عمومآ ان کے دہانے پر برف باری کے باعث چند انچ موٹی برف کی تہ جم جاتی ہے۔ ایسے میں یہ دراڑیں برف کا نقاب اوڑھے چھپ جاتی ہیں برف کے ۔نقاب پر پاؤں پڑنے کی صورت میں برف فورن پھٹتی ہے اور کوہ پیما اندر گر جاتا ہے۔ پہاڑوں کی ان دراڑوں، شگاف یا کریوس سے عمومآ لاشیں بھی نہیں نکالی جا سکتیں۔
اس وقت بھی فکسڈ روپ پر خود کو “جومر”(ایک ایلومینیم کا بیضوی آلہ جس کو فکسڈ روپ اور کمر کے گرد باندھی کلائمنگ ہارنس سے باندھا جاتا ہے) کی مدد سے رسی پر کلپ آن کرتے وقت اسے آس پاس سرمئی برف میں ہلکی ہلکی کریز سے واضح ہوتے شگاف نظر آرہے تھے۔ وہ جومر کو اوپر چڑھاتے ہوئے اس روز ساری چڑھائی میں گنگناتی رہی۔ تھی
161
وہ سارا راستہ گنگناتی رہی۔
“آؤ بچو!سیر کراؤں تم کو پاکستان کی، جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں کی، پاکستان زندہ باد۔ ۔۔۔”۔
افق نے مطلب پوچھا تو اس نے کندھے اچکا کر کہہ دیا۔
“آج ہمارا انڈیپینڈنس دن ہے۔میں اسے منا رہی ہوں۔ اس لیے تم اپنا منہ بند رکھو” ۔
وہ تپانے والے انداز میں مسکرایا۔
“ٹھیک ہے، مگر اب تو سنا ہے بھارت سے دوستی ہورہی ہے۔ امن معاہدے ہورہے ہیں” ۔
“سانپوں سے امن معاہدے نہیں کیے جاتے” ۔اس کی حب الوطنی اچھی خاصی ہو گئی تھی۔ کیمپ ٹو تک وہ نظریہء پاکستان کے متعلق اس طرح کی کئی ارشادات سناتی آئی۔آج خاصی مشکل تھی۔ برف کی حالت خراب تھی۔ وہ بے حد نرم اور پکڑنے پر پگھلنے اور ٹپکنے لگتی تھی۔
کیمپ ٹو پر برف کھود کر خیمے نصب کرنے کا سارا کام فرید اور افق نے کیا تھا۔ پری نے خیمے لگ جانے کے بعد ان تمام کے اندر چند جہنڈیاں لگائی تھیں۔ جو وہ اسلام آباد سے اپنے ساتھ لائی تھی۔ وہ تو بڑا جہنڈا بھی لگانا چاہتی تھی، مگر شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ حوا میں تیزی آگئی تھی۔ گور ٹیکس کے ہیٹ لائزز نے خیموں کے اندرونی ماحول کو خاصا گرم رکھا ہوا تھا، اس کے باوجود تیز چلتی برفیلی حوا اتنی سرد تھی کہ خون منجمد ہونے لگا تھا۔ اوپر ویسے بھی آکسیجن بے حد کم تھی۔ کیمپ تقریبآ 6200 میٹر پر نصب تھا اور اس بلندی اور موسم میں باہر جا کر بڑا جہنڈا لگانے کے لے خطرہ نہیں مول لے سکتی تھی، سو رات کو کھانا کھاۓ بغیر ،بس چاۓ پی کر سوگئی۔سطح سمندر کی بلندی پر ویسے بھی بھوک مر جاتی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: