Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 12

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 12

–**–**–

#نویں_چوٹی_قسط12
پیر 15اگست2005
وہ دونوں لاونچ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔سیف کچھ دیر خاموش رہا۔پھر بغر کسی تعمد کے کہنے لگا۔پری میں جانتا ہوں تمہیں یہ سن کر دکھ ہو گا۔میں تم سے شادی نہیں کر سکتا میں اپنے دوست کی بہن کو پسند کرتا ہوں اور یہ منگنی میں نے اپنی ماں کی خواہش پر کی تھی اب بہت ہو چکا میں یہ منگنی توڑنا چاہتا ہوں تم بتاؤ تم کیا چاہتی ہو ۔
وہ کیا کہتی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔
بتاؤ پری میں ماموں سے بات کروں؟ وہ اس کے جواب کا منتظر تھا پریشے کی آنکھیں چھلک پڑی
“سیف تم پلیز، یہ منگنی توڑ دو-تمہارا مجھ پر بہت بڑا احسان ہوگا-وہ کہنا چاہتی تھی مگر کیوں حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی –
“اٹھ بھی جائیں پری آپی! کب تک سوتی رہیں گی-“کسی نے اسے جھنجوڑا – وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور اردگرد دیکھا –
اس کالاونج اور سیف،سب کچھ ہوا میں تحلیل ہوگیا تھا-وہ ان سے ہزاروں میل دور راکا پوشی کے برفیلے میدان میں نصب ایک خیمے کے اندر لیٹی تھی-
“خدایا”اس نے اپنی کنپٹی سہلائی -خواہشات اب خواب بن کر ستانے لگی تھیں -پھر وہ خاموشی سے تیار ہونے لگی-تیار ہو کے اس نے ناشتہ کیا،اور آخر میں اپنے کریمپنز چڑھائے اور گلیشیئر گاگلز لگالیں -ارسہ قریب بیٹھی کاغذوں کا پلندہ اپنے بیگ میں ٹھونسنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی –
“میرے بیگ میں رسی ہے- اس لئے یہ پورے نہیں آرہے – آپ یہ اپنے والے بیگ میں رکھ لیں-“اس نے ارسہ کے ہاتھ سے کاغذ لے لیے-سامان سمیٹ کر کھڑی ہوئی تو گود سے ویرلیس کی دو بیڑیاں گریں-وہ انہیں مٹھی میں دبوچے باہر نکل آئی-
آسمان ابھی تک سیاہ تھا – رات تمام نہیں ہوئی تھی – پچھلی پوری شام سونے کے باوجود وہ خاصی تازہ دم تھی – آسمان بھی صاف اور تارے دور دور تک جگمگا رہےتھے – آج بھی یقینا”صاف دن ہونا تھا-
خیمے کے باہر برف پر افق اور فرید تیار کھڑے تھے – افق جھک کر جوتوں کے تسمے بند کر رہا تھا جب پریشے اس کے عقب میں آئی اور اس کی پشت پر بندھے رک سیک کے ایک خانے میں دونوں بیٹریاں ڈال کر زپ بند کردی-صرف بیٹری رکھنے کو اس میں دوبارہ اپنا بیگ کھولنے کی ہمت نہیں تھی – “صاب!ایک بات کہوں؟،، سر پر ٹوپی درست کرتےہوئے فرید نے افق مخاطب کیا-“صاب میری بات مانو تو آگے نہ جاوء – یہ شمال مغربی رج آج تک کوئی سر نہیں کرسکا-“”افق ارسلان کرلے گا-تم فکر نہ کرو-“اس نے لاپرواہی سے شانے اچکائے -فرید نے چونک کر اسے دیکھا-وہ حد سے زیادہ خود اعتماد اور ہٹ دھرم تھا –
“صاب موسم خراب ہو جائےگا -“
“آسمان تو صاف ہے-“
167
صاب وہ شمال میں ستاروں کا جھنڈ دیکھ رہا ہو؟؟یہ ستارے میں نے کبھی اس مہینے میں کے آسمان پر نہیں دیکھے. یہ اچھی پشیین گوئی نہیں کرتے. آپ دمانی کو ہم ہنوذ کژ سے زیادہ میں جانتے. “
“ہمارے پاس اتنافیول گیئر نہیں ہے کہ ہم بیٹھ کر انتظار کرتے رہیں”-پنیٹ جھاڑتے ہوئے وہ سیدھا ہوگیا. فرید بھی چپ ہوگیا.
وہ اسی طرح خاموشی سے سر جھکائے کھڑی تھی. اچانک اس کے سر کے پیچھے کوئی نوکدار چیز زور سے لگی. وہ گھبرا کر پلٹی تین پہاڑی کوؤں نے اس پر حملہ کر دیا تھا. اس نے روز سے سر پر ہاتھ مارا وہ اڑگئے. اس نے ان کو دیکھتے ہوئے سر کا پچھلا حصہ سہلایا جہاں انہوں نے چونچ ماری تھی.
“کیا ہوا؟تم ٹھیک ہو؟؟افق قدرے فکر مندی سے اس کے قریب آیا . وہ اسی طرح عجیب نگاہوں سے دور سیاہ آسمان پر اڑتے کوؤں کو دیکھتی رہی.
پریشے کیا ہوا ؟؟اس نے دوبار پوچھا.
اس نے چونک کر سر جھٹکا .”یونہی کچھ یاد آگیا تھا. “”
اس نے دوبارہ سر جھٹکا اور بھلانے کی کوشش کی جو یاد آیا تھا. ٹھیک چھے سال پہلے جس دن اس کئ مما کی وفات ہوئی تھی اس روز بھی صبح جاکنگ کے دوران اس پر یونہی کوؤں نے حملہ کر دیا تھا. وہ بھی ایسے ہی پہاڑی کوے تھے. پتا نہیں کیوں اس کو عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی.
ارسہ کان پر فون لگائے بولتے ہوے خیمے سے باہر آئی. “جی جی بالکل میں کیمپ تھری پہنچ کر بابا سے بات کر لوں گی. جی شیور. اوکے ٹیک کیئر . لو یو مان. بائے “اس نے سٹیلائٹ فون بند کرکے پری کو تمھایا اور خود سر پر ہیلمٹ جوڑنے لگی. اس وقت پریشے کا دل چاہا کہ وہ بھی پاپا سے بات کر لے مگر اس کے پاس ان کا کوئی نمبر نہیں تھا. اس نے خاموشی سے فون بیگ میں رکھ دیا.
ہمیں جلد از جلد کیمپ تھری پہنچنا ہے. آج رسیاں آپس میں نہیں باندھیں گت کیوں کہ ایسے ہماری رفتار ست ہو جائے گی. چلؤ نا پری! تم کیا سوچ رہی ہو؟اسے کلائمنگ ہیلمٹ ہاتھ میں پکڑے گم صم کھڑے دیکھ کر وہ جاتے جاتے پلٹا. اس نے قدرے سوچتی متذبذب نگاہوں سے اسے دیکھا.
“افق….. فرید ٹھیک کہہ رہا ہے. آسمان پر ستاروں کو جھنڈ اور یہ کوؤں کا حملہ یہ بری علامتیں ہیں.
168
“کیا ہیری پوٹر بہت پڑھنے لگی ہو؟؟وہ مسکرایا.
“افق میں سیریس ہوں. یہ ان کلائمبڈرج ہے. موسم کو دیکھو چند گھنٹوں تک برئ شروع ہو گئ تو…. ؟؟
میں انقرہ سے ہنزہ اس لیے نہیں آیا تھا کہ برف باری سے ڈر کر بیس کیمپ میں چھپ جاؤ. “پتا نہیں کیوں مجھے ڈر لگ رہا ہے. میری چھٹی حس ہے یا کچھ اور میرا خیال ہے ہمیں نہیں کرنا چاہیے . آج کا دن کا آغاز ہئ بد شگونی سے ہوا ہے. “جانے کیوں اس کا دل گھبرا رہا تھا. وہ چند لمحے بے حد سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر بلوا, “بدھ مت کے بھکشو والے سیاحوں کے متعلق کہا کرتے تھے. صباحوں کو جانے دو جہاں ان کا دل کرتا کرے مگر نہیں کہ وہ بدھا کا مسکن ہوتی ہیں. بڈھا کے پروکار ایورسٹ کو chomolungmaیعنی mother goddess of the world اور ” ساگرماتا”کہا کرتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں. چھے نسلوں پہلے کے شرپا ,ساگرماتا کی چوٹی پر قدم رکھنا گناہ سمجھتے تھے. ان کے خیالات تب بدلے جب تینزنگ نے سرایڈمنڈ ہیلری کے ساتھ ایورسٹ سے کیا. یقین کور اس وقت اتنی تو ہم پرست باتیں کرتی تم بدھ مت کی کسی مٹھ میں رہنے والی راہبہ لگ رہی ہو اس کا انداز اتنا قطعی اور منطق تھا کہ وہ کچھ کہہ ہی نہ سکی .حالاں کہ کہنا چاہتی تھی کہ مجھے تم تو ہم پرست کہو یاجو بھی ,میں اور آگے نہیں جانے چاہتی .
“پری آپی! اگر ہم یہ رخ سر لیں تو ہمارا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں لکھا جائے گا. ان دونوں نے کسی بات کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی اب اگر وہ ان کے ساتھ نہ چلتی تو وہ اسے اس کی بزدلی شمار کرتے. وہ کسی ریکارڈ بک میں نام نہیں لکھوانا چاہتی تھی وہ ادھر راکا پوشی بھی سر کرنے نہیں آئی تھی وہ خود تسخیر ہو کر اپنے فاتح کو لنیے آئی تھی مگر….. ٹھہرنا اس کی عادت کے خلاف تھا.
وہ ان کے آگے شل رہا تھا. اس کے قدموں سے بننے والے نشانات پر قدم رکھتی سر جھکائے خاموشی سے اس کے پیچھے آرہی تھی . اس کا تنفس تیز تیز چل رہا تھا اور قدموں کے نیچے موجود گلیشئر کے اندر سے سلائیڈنگ کئ آوازیں بخوبی سنائی دے رہی تھیں.
169
اس کی مسلسل خاموشی کو محسوس کرکے وہ کہنے لگا،”ارسہ! تمہارے ناول کا کیا نام ہوگا؟ دی راکا پوشی کلائمب؟یا پھر راکا پوشی دی ان کلائمبڈرج یا پھر ان ٹوتھن ائر آف راکا پوشی – “وہ دو مشہور کتابوں کے نام بگاڑرہا تھا-ارسہ ہنس دی-“خیر،میرے ناول کا نام خاصا مختلف ہے-“
“کیا ہے؟”
“جب چھپ جائے تو پڑھ لیجئے گا-“ارسہ اپنے ناولوں کے متعلق خاصی شرمیلی تھی –
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہےپیج سےمکمل ناول حاصل کریں)
وہ ہنوز خاموشی سے جھک کر برف آئس ایکس مارتے ہوئے چل رہی تھی – وہ جانتا تھاکہ اس نے پری کی بات نہیں مانی،سو اس کا موڈ ٹھیک کرنے کو پوچھنے لگا-
“کھانسی ٹھیک ہے تمہاری؟تم کل شام نیند میں کھانس رہی تھیں -“
“ہاں اب ٹھیک ہے-“وہ مختصرا”کہہ کر چپ ہوگئی –
“موسم صاف ہو تو راکا پوشی کی چوٹی سے میلوں دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے نظر آتے ہئن-“وہ اپنے تئیں اسے summit کرنے کی ترغیب دلارہاتھا-“اچھا-“
“مین تو یہاں اس کی چوٹی پر کھڑے ہو کر کنکورڈیا اور بلتورو کی چوٹیاں دیکھنے ہی آیا ہوں -“وہ اسے کیا بتاتی کہ جس پہاڑ کے حسن کی وہ دیوانی تھی، آج پہلی بار اسے اس سے خوف محسوس ہورہا تھا – (خدا کرے”برو”سوتا رہے اور اسے علم نہ ہو کہ کوئی دبے قدموں اس کی اقلیم میں داخل ہورہا ہے-
وہ نیچے برف کو بغور دیکھتی احتیاط سے قدم رکھ رہی تھی – برف کے ایک قطعے پر پاوں رکھنے ہی والی کہ ایک دم اس نے قدم چند فٹ آگے رکھتے ہوئے اس ٹکڑے کو پھلانگا، پھر مڑ کر بغور اس جگہ کو دیکھا – یونہی اسے شک سا ہوا تھا کہ اس کے اندر پہاڑوں کی کوئی درز(crevasse )چھپی تھی –
“کیا ہوا ؟ “وہ اس سے چند قدم آگے تھا ، اسے رکتے دیکھ کر خود بھی رک گیا –
“کچھ نہیں – تم ایک بات تو بتاو – “وہ سر جھٹک کر دوبارہ چلنے لگی – ہوا قدرے تیز ہوگئی تھی اور ہلکی ہلکی برف گرنے لگی تھی – اس نے ہیڈ لیمپ آن کرلیا – “راکا پوشی کی چوٹی سے کون کون سے پہاڑ نظر آتے ہیں؟””
170
بہت سے افق نے شانے اچکائے
مثلاً
مثلاً ٹویا شاہگوری۔شایکوری بلتی زبان میں پہاڑوں کے بادشاہ کہتے تھے
اور؟
کنگڑویایا کے دوسرے پہاڑ
اور؟
راکاشی سلسے کے دوسرے پہاڈ ہراموش اور دومانی
اور؟
اور ننگا پریت
اور؟
فکر نہیں کرو تمارا گھر نہیں نظر آتا۔اس کے مسلسل اور اور سے چڑ کر بولا
وہ بد مزہ سی ہو کر بولینہر وقت سڑے رہا کرو۔
اچھا وہ مسکراتے ہوئے پلٹا۔پھر دستانے والا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جیسے پراشے نے اگے بڑھ کر تھام لیا۔افق نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے قدرے قریب کیا وہباس لیے کے اگھٹے گریں پریشے کی ہنسی چھوٹ گئی ۔ہنستے ہوئے اس نے سر کو جنبش دی تقریباً 30 میٹر کے فاصلے پر ارسہ آ رہی تھی اس کا ہیڈلیمپ آف تھا اس نے گردن واپس موڑ لی وہ اور افق ہاتھ تھامےبراکاپوش کی طرف قدم بڑھانے لگے۔
اس لمہے وہاں ایک دھماکا ہوا دونوں ڈر کر پلٹے پیچھے دور تک برف اور پاس ایک گڑھا تھا پہلے تو انہیں سمجھ نہیں آئی جب آئی تو۔
او میرے خدا ۔۔۔ارسہ کسی پہاڑ کے دراز میں گر گئی ہے
وہ بوکھلا کر واپس بھاگی
ارسہ ۔۔۔ارسہ۔۔وہ بھاگتے ہوئے گڑھے کے قریب آئی گڑھے کے اندر گہرا اندھیر تھا
171
“ارسہ۔۔۔۔۔۔۔تم ٹھیک ہو؟”گڑھے کے قریب دوزانوہوکراس نےاندرجھانکا۔وہاں مہیب سناٹا اور تاریکی تھی۔اس کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔
افق بھاگتا ہوا اس تک آیا۔فرید چند قدم دور تھا۔”افق کچھ کرو ۔پلیزافق۔وہ گرگئی ہے۔۔۔۔۔۔اسے باہر نکالو۔”افق کا بازو جھنجھوڑتے ہوئے اس کے لبوں سےبےربط فقرےادا ہورہےتھے۔
“میں کرتا ہوں کچھ۔”اس نے اپنی ہلیمٹ پر لگے سرچ بلب سےگڑھے میں روشنی ڈالی۔فرید بھی اندر روشنی کرنے لگا۔اب وہ دونوں اسےآوازیں دےرہےتھے۔”ارسہ۔۔۔۔تم ادھرہو؟ارسہ جواب دو۔”وہ اسے پکارتے رہے۔ہیڈ لیمپ کی روشنی شگاف میں ڈالتے رہے،مگر اندر چند میٹر برف کے علاوہ کچھ نظر نہ آتاتھا۔پریشےکےجسم سےجان نکل رہی تھی۔وہ جواب کیوں نہیں دے رہی۔وہ بولتی کیوں نہیں ہے؟شاید اس سے بولا نہ جارہا ہو۔وہ ٹھیک ھوگی۔اسے کچھ نہیں ہو گا۔ابھی افق اسے باہر نکال لائے گا۔وہ خود کو تسلیاں دی رہی تھی،مگر اس کا دل گھبرارہاتھا۔
“ارسہ پلیز جواب دو۔ تم ٹھیک ہو؟”وہ کتنی ہی دیر اسے آوازیں دیتا رہا۔اس کا گلا بیٹھ گیا تھااور آواز پھٹ رہی تھی،مگر پہاڑ کی تاریکی،عمیق درز(crevasse)بلکل خاموش تھی۔ہلکی سی کراہ،کمزور سی کھانسی،زندگی کوئی رمق اس درز میں نہیں تھی۔
برف گرنے لگی۔ہوا کا زور زیادہ ہوگیا۔افق اور فرید جھک کر ارسہ کو آوازیں دیتے رہے۔
دونوں کے ہیلمٹ اور چہروں پر برف کے ذرات لگے تھے-مگر درز (crevssae)سے کوئی جواب نہ آیا–پریشے کا دل ڈوب رہا تھا –
“افق پلیز کچھ کرو-“اس کا جیسے سانس رک رہا تھا-ارسہ کتنی دیر سے اس عمیق درز میں منوں برف تلے دبی ہوگی – اس کا سانس بھی ایسے ہی بند ہورہا ہوگا – اس تصور سے ہی اس کی روح تک کانپ گئی-
افق اور فرید تھک ہار کرخاموشی سے گڑھے کے کنارے بیٹھ گئے-ان کی خاموش صورتیں پریشے کو ہولارہی تھیں –
“تم دونوں ایسے کیوں بیٹھے ہو؟اسے نکالتے کیوں نہیں ہو؟افق جواب دو،میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں”-اس نے اس کا کندھا زور سے ہلایا-
افق نے سر اٹھایا -وہ گلیشیئر گاگلز اتار چکا تھا-اس کے سر ،ناک،آنکھوں اور چھوٹی چھوٹی
172
بڑھی شیو میں برف کے ذرات پھنسے تھے…..اس نےدھیرے سے نفی میں گردن ہلائی،میرا نہیں خیال-اب کوئی امید باقی ہے-وہ اب تک مرچکی ہوگی –
کرنٹ کھا کرپریشے نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹایا –
“نہیں. …..تم……تم غلط کہہ رہے ہو-وہ کیسے…….؟نہیں. …..”وہ بے یقینی سے نفی میں سر ہلا رہی تھی -“تم،تم دیکھو تو سہی افق!وہ اندر ہی ہوگی – اس کا سانس گھٹ رہا ہوگا-وہ مدد کے لئے پکار رہی ہوگی-ہواؤں کے شور سے اس کی آواز یہاں تک نہ پہنچ رہی ہوگی-تم…..تم دیکھو تو سہی-….”کسی موہوم امید کے تحت اس نے کہا-
“وہ نہیں ہے پریشے. ……….”کسی تھکے ہارے شکست خوردہ سپاہی کی مانند اس نے ہاتھ ہلایا-“وہ ہوتی تو جواب دیتی-اوہ خدایا-“وہ سر دونوں ہاتھوں میں لئے خود بھی بے یقین ساتھا -پریشے نے استعجاب اور خوف سے نفی میں گردن کو جنبش دی-
“نہیں افق…….تم……..­”اس کی آوازکپکپارہی تھی – افق کیا کہہ رہا تھا،اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا-اس کا ذہن ماوءف ہوچکاتھا – بھلا ارسہ کیسےمرسکتی تھی؟
ابھی………ابھی تووہ ہمارے ساتھ چل رہی تھی. ….بلکل ابھی میں نے اسے برف پے کھڑےدیکھا تھا…..وہ بلکل ٹھیک تھی. …..تم….تم اسے کیوں؟وہ……نہیں. …..”اس کا سر گھوم رہا تھا-چاندنی میں نہائی ہراموش اور دمانی کی چوٹیاں اسے گھومتی دکھائی دے رہی تھیں – اسے آوازیں آنا بند ہوگئی تھیں – سب کچھ خواب لگ رہا تھا-
پھراس نےافق کو اٹھتےدیکھا-فرید اسےمنع کرہاتھا،مگروہ پھربھی اپنی ہارنس کے گرد رسی باندھ کر اس گہرے شگاف میں اتررہاتھا-رسی کا ایک سرافریدکےہاتھ میں تھا،وہ آہستہ آہستہ رسی چھوڑ رہاتھا-شاید رسی کہیں سے اینکربھی کررہی تھی – وہ اب نیچے اترچکاتھا-
“پانچ میٹرکھودا ہے-وہ نہیں ہے-“گڑھے میں سے آواز آئی – وہ آواز اسے بہت اجنبی لگ رہی تھی – اس کا ذہن مکمل طورپر مفلوج ہوچکاتھا –
بھلا ارسہ کیسے مرسکتی ہے؟ابھی ایک منٹ پہلے تو اس نے ارسہ کو اپنے عقب میں آتے دیکھاتھا-بس ایک لمحے میں اسکا پاوں درز(crevasse )کے اوپربرف کی تہ پر پڑا گلیشیئر پھٹا ارسہ نیچے گری،ہزاروں من برف اسکے اوپر گرتی چلی گئی،اس کا سانس رک گیا اور وہ دم گھٹنے سے اور برف میں دفن ہونےسے مرگئی – بس ایک لمحے کا عمل تھا اس کے دل کے اندر کہیں بہت زور سےدرد ہوا
173
درد کی شدت بڑھی تو اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا .آسمان مسلسل ننھے ننھے جھولے برسا رہا تھا.
چوٹی اس جگہ سے نظر نہیں آتی تھی مگر یقیناً وہ بادلوں کے ہالے میں چمک رہی ہوگی .رات کے اس پہر “برو”جاگ اٹھا تھا اور اسے علم ہو چکا تھا کہ کوئی دبے قدموں اس کی راجدہانی میں داخل ہو رہا تھا.
تم… تم افق “جھکٹے سے کھڑی ہوئی اور اس کی جیکٹ کا کالر زور سے پکڑ کر کھنیچا .”میں نے کہا تھا نہ تم سے کہ واپس چلتے ہیں مگر تم نہیں مانے.. تمہیں اوپر جانا تھا ہر قیمت پر اور وہ…. وہ مر گئی افق… ارسہ مر گئ….. کر کی تم نے اپنی مرضی؟؟ بنالیا تم نے ورلڈ ریکارڈ ہاں؟؟ بولو… بالکل ابھی اس نے اپنی ماں سے بات کی تھی. باپ سے اس نے تھری کیمپ جا کر بات کرنی تھی. اس کا باپ اس کی کال کا اتنظار کر رہا ہوگا….. اسے نکالو افق, اسے باہر نکالو…. تمہیں اللہ کا واسطہ افق اس کا باپ اس کی کال کا انتظار کر رہا ہو گا… “اس کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے غم و غصے سے اس پر چلاتے ہوئے اسے پتا بھی نہیں چلا کب وہ اس کے کندھے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی. وہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑا رہا. اتنا بھی نہ کہا سکا کہ ارسہ خود اوپر جانا چاہتی تھی.
وہ…. وہ میری چھوٹی بہن تھی افق…. اتنی ٹیلنٹیڈ اتنی ذہین اور…. اور اس ظالم پہاڑ نے اسے مجھ سے چھین لیا ؟؟وہ اس کے کندھے پر سر رکھے بچوں کی طرح بلک بلک کے رو رہی تھی.
افق نے اس کے شانوں کے گرد بازو رکھ کر ہولے س اس کا سر تھکا.
“ریلیکس پریشے ریلیکس! “
مگر وہ ریلیکس نہیں ہوسکتی .اس نے زندگی میں پہلی دفعہ اس نے اپنی دوست کو برف میں دفن ہوتا دیکھا تھا. وہ مسلسل رؤے جا رہی تھی .بر ف ان دونوں پر گر رہی تھی. فرید کچھ دور خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا تھا.
“افق اسے باہر نکالو مجھے اس کو دیکھنا ہے. خدا کے لیے افق ہم ارسہ کے ساتھ آئے تھے. ہمیں اس کے ساتھ ہی واپس جانا ہے.
ریلیکس پری… اب کچھ نہیں ہو سکتا … میں اس کی باڈی لنیے گیا تھا مگر وہ کہیں بھی نہیں ہے
صفحہ نمبر 174
بہت نیچے ہے”وہ اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا,مگر وہ خود پرسکون نہی تھا-اس کا دل ٹوٹا ہوا تھا,مگر جانے وہ کیسے ضبط کر رہا تھا-
“کم ان بیس کیمپ”اپنے کندھے کے پیچھے ہاتھ بڑھا کر اس نے ریﮈیو نکالا اور بٹن دبایا-روسرا بازو ابھی تک پریشے کے شانو کے گرد تھا-
ریﮈیو میں شور سا سنائی دیا,پھر ترک میں کچھ اکتاہٹ بھرے الفاظ….
“میری بات غور سے سنو احمت!ارسہ بخاری از ﮈیﮈ-میں دھراتا ہوں,ارسہ بخاری وہ ایک شگاف میں گر گئی ہے-اس کی موت کنفرم ہے,مگر باﮈی ریکور کرنا بہت مشکل ہے-ہمیں جلد از جلد کیمپ 3 تک جانا ہے-یہاں برف پڑ رہی ہے,ہم رک نہی سکتے-ﮈو ہو کاپی
“اوہ گاﮈ……یس آئی کاپی”
افق نے ٹرانسیور بند کر کے بیگ میں رکھ دیا-پریشے ابھی تک اسی طرح رو رہی تھی-اس نے افق کا بازو سختی سے یوں پکڑ رکھا تھا,جیسے کوئی چھوٹا بچہ بھرے میلے میں گم ہو جانے کے ﮈر سے انگلی پکڑتا ہے-وہ بہت خوف زدہ تھی-افق نے اہستگی سے اس کا سر تھپکا-
“شش-اب رونا نہی ہے-اپنے آپ کو سنبھالو-ہمیں کیمپ تھری جانا ہے
نہی افق!اس کی آنکھوں سے آنسو پھر سے گرنے لگے-“میں ارسہ. کو چھوڑ کر……..”
“پریشے پاگل مت بنو…..ہم یہاں نہی ٹہر سکتے”
“مگر اس کی ﮈیﮈ باﮈی…..یہ لفظ کہنا بھی دشوار تھا”
“وہ ریکور کرنا مشکل ہے-زیادہ رسی بھی نہی ہے میرے پاس……ساری رسی تو ارسہ کے پاس تھی-باﮈی ہم واپسی پر ریکور کر لینگے-“اس نے اپنے بھاری دستانے والے ہاتھوں سے پریشے کے چہرے پر گرتے آنسو اور برف صاف کیے-
“تم…….تم بعد میں نکالو گے نہ اسے”?اس کی بھیگی آنکھوں میں موہوم سی امید چمکی-“ہاں……واپسی پر…..ٹھک?اب چلو….”
“مجھ میں ہمت نہی ہے”اس کی ٹانگیں بےجان ہو رہی تھی-
“ہمت کرو پری بہادر بنو-اپنے لیے نہی تو میرے لیے-“افق نے اسے سہارا دیتے کہا-اور دونوں کندھوں سے ابھی تک تھام رکھا تھا-پریشے نے بھی مظبوتی سے اس کا بازو پکڑ رکھا تھا-اس نے اپنا وزن افق پر ﮈال رکھا تھا-اور پھر بہت نﮈھال سی وہ اس کے ہمراہ قدم بڑھانے لگی۔
صفحہ نمبر 175
اس کی آنکھوں سے نکل کر گردن پر لڑھک رہے تھے-
اس نے زندگی میں کبھی یہ تصور نہی کیا تھا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آۓ گا جب اسے اپنی بہت اچھی دوست کو برف میں چھوڑ کر جانا پڑے گا-اس شگاف کے دھانے سے پلٹنا اور آہستہ آہستہ برستی برف باری میں کیمپ تھری کی طرف قدم بڑھانا بہت کٹھن تھا,اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے-افق نے اسے سہارا دیا ہوا تھا-اگر وہ نہ ہوتا تو شاید وہ اسی شگاف کے آس پاس راستہ بھٹک کر برف پر ﮈھے چکی ہوتی یا شاید کسی شگاف میں گر کر مر چکی ہوتی-
*…..*…..*
اس رات کیمپ تھری میں وہ دونوں گھنٹوں خاموشی سے بیٹھے رہے اور پھر جب رات تاریک ہوتی چلی گئی تو وہ باتیں کرنے لگے-طیب اردگان کی باتیں,عراق جنگ کی باتیں, ترک ملٹری کی باتیں,نیٹو اور sco بلاک کی باتیں,انہو نے بلاتکان صرف ایک “بات” سے بچنے کے لیے دنیا کے ہر موضوع پر بات کی کہ شاید دکھ کم ہو, شاید ﮈپریشن اور نفسیاتی اثر قدرے زائل ہو, مگر سب کچھ ویسا ہی تھا-
احمت کی بیوی سلمی نے ارسہ کے والدین کو انگلینﮈ میں اطلاع کر دی تھی-پریشے رات بھر ان دونو کے متعلق سوچتے آئی تھی, جانے کیا گزری ہوگی ان پر? کیسے سنا ہوگا انہو نے اس خبر کو?
رات کو اس کے سلیپنگ بیگ کے قریب جگہ بہت خالی تھی-افق اپنے خیمے میں سونے جا چکا تھا-وہ ارسہ اور ارسہ کی باتوں کو یاد کر کے پھر سے رونے لگی-وہ کتنی اکیلی رہ گئی تھی اور شاید اس اندھے شگاف میں گری ارسہ اس سے زیادہ اکیلی ہو گی-وہ محسوس نہی کر سکتی تھی-
تب اس نے اپنے بیگ سے ارسہ کے کاغزات نکالے-اور انہے ترتیب سے جوڑا-سیاہ روشنائی سے انگریزی میں لکھے صفحے بھرے ہوے تھے-لکھائی خاصی رف تھی-اور جگہ جگہ سے کاٹا بھی گیا تھا مگر وہ پڑھ سکتی تھی,یہ جانتے ہوے بھی کہ کہانی ادھوری تھی-
اس نے پہلے صفحے پر نگاہ ﮈالی-“کراکرم کا تاج محل”موٹے مارکر سے انگریزی میں لکھا تھا-ہنزہ کے باسی راکا پوشی کو”ہنزوکثر تاج محل”یا”قراقرم کا تاج محل”کہتے تھے-ان کا خیال تھا کہ برف سے ﮈھکی راکاپوشی کی “چمکتی دیوار”آگرہ کے تاج محل جیسی سفید اور حسین دکھائی دیتی تھی-پریشے کو ان سے اختلاف تھا-اس کا خیال تھا,راکاپوشی کی چمکتی دیوار آگرہ کے تاج محل سے زیادہ سفید اور حسین دکھتی تھی-
176
اس نے پڑھنا شروع کیا وہ اس ادھورا ناول کے رف لکھنا گئے مسؤدے کو بغیر کسی مشکل کے پٹھ سکتی تھی.
……………..
منگل 16اگست2005
“صاب اوپر سارا سنو فیڈ ہے.””
وہ دونوں خاموشی سے خیموں کے آگے بیٹھے تھے جب فرید ان کئ طرف آیا. وہ آج بھی نہیں گے تھے . ان کے ذہنوں کو کل کے واقعے کو وقتی طور پر بھلانا تھا. حس کے لئے ایک دن کا ریسٹ چاہیے تھا. فرید البتہ کچھ جگہوں پر رسیاں لگا آیا تھا.
پھر ؟افق نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا.
تم مانو یا نہ مانگ اوپر سارا سنو فلیڈ ہےاور برف تازہ گری ہے. اس کا گلیشئیر کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور جب برف گرے گئ تم بھی مرےگا اور ہم بھی .سو ہم تم کو ابھی بتا رہے ہیں کہ ہم صبح سویرے واپس چلا جائے گا.
“مگر فرید تم نے تو ہمارا ساتھ کیمپ فور تک جانا تھا. “
“صاحب تم کل خود کیمپ فور تک چلے جانا. ہم نہیں جائے گا. بس ہم نے تم کو برا دیا ہے وہ کسی اڑیل گھوڑے کی طرح ضد پر اڑچکا تھا.
“فرید دیکھو ہم بھی تو اوپر جا رہے ہیں. “پریشے نے اسے سمجھانے کی کوشش کی. ہم سب بھی جا رہے ہیں. ؟
باجی تم پاگل ہو ہم آبھی پاگل نہیں ہوا. تمہارے دونوں کے باپ کے پاس پیسہ ہے تم اور مر بھی جاو تو تمہارا بچہ بھوکا نہیں مرے گا جب کہ اور ہمارا باپ کریم آباد میں کہی کوئی زمین نہیں چھوڑ کر گیا ہمارے لیے. ہمارا حال پر رحم کرو باجی تمہیں اوپر جا کر کوئی نہیں ملے گا. میری مانو تم بھی واپس چلو. پریشے اور افق نے نگاہوں کا تبادلہ کیا اور پھر شانے اچکا دئیے.
“تمہاری مرضی”!وہ سر جھٹک کر دوسری طرف دیکھنا لگا. ماتھے پر ناگواری کی لیکریں آیئں تھیں. “میں نے نانگا پربت کا سولر کلا ئمب کیا تھا. مر نہیں گیا تھا میں پورٹر کے بغیر صرف لڑکیوں کے لیے…. ٹھیک کہتی تھی وہ عورت تم پورٹرز کے بارے میں. “وہ بڑبڑایا
177
صاحب وہ عورت جھوٹ کہتی ہے۔پھر پریشے کی کنفیوز شکل دیکھ کر بولا۔باجی ادھر ایک عورت گیشر بروم ٹوسر کرنے آئی تھی ۔ہمارے ماموں کا لڑکا ادھر بلتستان میں رہتا ہے۔وہ بروم کی چوٹی تک لے کر گیا تھا بعد میں جب نیچے آئی تو اخبار والوں کو بولی میں سولو کالیمب کیا ۔میرا پورٹر تو کیمپ چھوڑ گیا تھا ۔میرے ماموں کا لڑکا غریب آدمی ہے چپ کر کے بیٹھ گیا ۔پرصاحب وہ عورت جھوٹ بولتی تھی اس کو سچا خیال مت کرنا۔اس کا فیصلہ گیشر برون ٹو نے کیا۔پہاڑوں کا اپنا عدالت ہوتا ہے وہ عورت اگلے سال پھر گیشر بروم ٹو سر کرنے آئی۔پہاڑ نے واپس جانے نہیں دیا اس کی تو لاش بھی نہیں ملتی ۔
ہاں ٹھیک ہے پھر جاؤ افق اپنے سابقہ لہجے میں بولا
صاحب ہم نے کیمب پہنچے کے پیسے لیے تھے ۔ریساں ویساں سب لگا دیا تھا اگے تم جانو تمارا کام۔
افق کچھ بڑ بڑا کر رہ گیا وجہ یہ نہیں تھی کہ فرید انہیں چھوڑ کر جا رہا تھا وجہ یہ تھی کہ وہ خفا خفا تھا شاید حد سے زیادہ دباؤ میں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: