Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 13

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 13

–**–**–

#دسویں_چوٹی_حصہ_اول
قسط 13
بدھ 17 اگست 2005
آج صبح سے موسم بہت خراب تھا اور موسم سے زیادہ افق کا موڈ خراب تھا۔۔وہ پریشے کے سامنے میٹ پر چٹ لیٹا۔
ایک بازو ماتھے پر رکھے خیمے کی چھت پر گھور رہا تھا ۔
شیڈول کے مطابق ان کا کیمب فور میں ہونا چاہئے تھا ۔مگر قراقرم کا اپنا شیڈول تھا ۔
خیمے کے باہر طوفانی جھکڑ چل رہے تھے جس سے خیمے پھڑ پھڑا رہے تھے ۔کچھ جگہ سے سرد ہوا اندر آ رہی تھی ۔ان کو ٹھر ٹھرا رہی تھی برف سے اوپر سے نیچے خیمے کی دیواریں کمپریس ہو رہی تھی
179
“فرید صبح منہ اندھیرےہی بغیر نتائج چلا گیا”اس نے یونہی بولنے کی غرض سے کہا. تم نہ بھی دیتا تو میں نہ روکھا. “وہ اس طرح چٹ لیٹا اوپر دیکھتا رہا.
وہ ٹھیک کہتا تھا افق! ہم دونوں پاگل ہیں . سب کوہ پیما پالگل ہوتے ہیں. گھروں کا سکون چھوڑ کر برفانی وادیوں میں نکل جاتے ہیں اور آخر میں مر جاتے ہیں.
ایسے بھی تو مر جاتے ہیں. روئ ایکسیڈنٹ میں لفٹ میں پھنس کر دم گھنٹے سے کسی یا بم بلاسٹ میں. تم مسلمان نہیں ہو؟تمہارا ایمان نہیں ہے کہ جہاں موت آنی ہے وہاں آجائے گی کبھی موت بھی ٹلی ہے کیا ؟”
پریشے نے ایک اچٹنتی نظر اس پر ڈالی جو بغیر پلکیں جھپکاے چھت کو گھور رہا تھا اور پھر تھک کر خیمہ دیوار سے سر ٹکا دیا. سامنے والی دیوار کے دوسری طرف برف اکٹھی ہو رہی تھی.
“پھر بھی افق! کیا نل جاتا ہے پہاڑوں پر جا کر ؟اتنی مشقت کرکے؟”
“یہ بات ہمیشہ وہ کاہل ترین لوگ کہا کرتے ہیں جن سے روز ایک گھنٹہ لان میں واک بھی نہیں ہوتی. یہ بھلا کیا رکھا ہے پہاڑوں میں والا فقرہ ان دونوں کے منہ سے نکلتا ہے جن کے انگور ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں. وہ تلخی سے بولا.
پھر بھی زندگی نارمل طریقہ سے گزری جا سکتی ہے “وہ شاہد بحث کے موڑ میں تھی .”نارمل طریقہ کیا ہے؟ گھنٹوں فون پر رشتہ داروں کئ برائیاں کرنا نت نئے بے ہودہ فیشن اپنانا غیر حقیقی فلموں کے غیر حقیقی ہیروز کو دیوتا تسلیم کرکے ان کئ پرستش کرنا راتوں کو جاگ جاگ کر گھٹیا قسم کے عشقیہ ناول پڑھنا باس سے کو لیگز کئ چغلیاں کرنا اگر یہ نارمل لائف ہے تو پھر کوہ پیما کی ابنارمل لائف اس سے بہتر ہے مادام! “
جانتے ہو افق! مجھے نہیں پتا لوگ پہاڑٹا کیوں سر کرتے ہیں مگر میں پہاڑوں میں خوش رہتی ہوں مجھے یہاں سکون ملتا ہے لیکن نشاءپاپا سیف ان سب کو بہت حیرت ہوتی ہے کہ لوگ پہاڑ کیوں سر کرتے ہیں. “برف قطروں کی شکل میں بہ رہی تھی اور قطرے راستے میں آنے والے ہر ذرت کے ساتھ مل کر بڑے ہوتے جا رہے تھے.
“یہ وہی بات ہے کہ “لوگ کتابیں کیوں پڑھتے ہیں ” علم حاصل کرنے کے لیے ؟تو جتنا نیچر کے بارے میں پہاڑوں میں جا کر ملتا ہے اتنا وہ دنیا کی کسی درسگاہ میں نہیں ملتا ہے آپ پہاڑ کو ایکسپیرنیس کرتے ہو اور یقین کرو ,نان کلائمبر حیران ہوتے ہیں جب وہ سنتے ہیں کہ
180
ہم کوہ پیما پربتوں کا احترام کرتے ہیں. ان کی جانب تمیز اور ادب سے دیکھتے ہیں. چوٹ پر بھی احترام سے رکھتے ہیں. پہاڑ عظیم ہوتے ہیں. “
“اور ظالم بھی! “پریشے نے استہزئیہ انداز میں سر جھٹکا. وہ دیوار کے اس پار نظر آتے پانی کے قطروں کو دیکھ رہی تھی. جو دیوار کے نیچے خالی درز سے ہر مکمن طور پر خیمے میں داخل ہونے کئ کوشش کر رہے تھے. ان کا تاک سامان گیلا ہوچکا تھا.
“بے شک ظالم ہوں مگر میں ہمالیہ سے تعلق رکھتا ہوں. میں انقرہ اور اپنے گھر سے اور پہاڑوں سے تعلق رکھتا ہوں پری. “
“تمہیں لگتا ہے ہم بچ کے نکل جاے گے؟”
“کوہ پیمائی تو نام ہئ بلندیوں سے زندہ بد کر واپس آنے کا ہے. یہ تو بونس ہوتی ہے. “
“پھر بھی تم واپس پلٹنا چاہتے ؟”
“تمہیں جانا ہے تو جاؤ میں چوٹی فتح کئے بغیر نہیں جاؤ گا. “برف کے چھوٹی چھوٹی گیندیں بن کر دیوار کے اس پار اکھٹے ہو رہے تھے.
“افق پلیز…. واپس چلو. اس رج کو ناقابل تسخیر ہی رہنے دو. “
“میں ذرا برف صاف کر آؤں. “وہ چھوٹا سا بیلچہ اٹھا کر باہر نکل گیا.
وہ چوٹی پر کھڑے ہو کر کنکورڈیا اور بلتورہ کے پربت دیکھے بغیر نہیں پلٹے گا. وہ جانتی تھی. نہ وہ اس کے ساتھ وہاں تک جانا چاہتی تھی .اور نہ اسے چھوڑ کر نیچے اترنا چاہتی تھی. دنیا میں کوئی بھی انسان بہترین نہیں ہوتا. افق ارسلان میں بھی ایک خامی تھی .ہٹ دھرمی ضد اور حد سے زیادہ بڑھی خوداعمتادی.
کوہ پیماوں کئ اکثریت انہی خصوصیات کئ حامل ہوتی ہے. وہ عموماً موسم کی خرابی کے باعث اپنے ہدف کے انتہا ئی قریب پہنچ کر واپس نہیں پلٹنا چاہتے. وہ اتنا کچھ صرف کرکے یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں کہ واپس پلٹ جانا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے ابھی صبح ہئ افق نے کیمپ تھری سے واپس جانے کے متعلق کہا تھا کہ. “یہ تو ایسے ہے کہ تم ایک سو میٹر دوڑ کر نوے میٹر پر رک کر متپ جانے جوکہ. “
افق کی سب سے بڑھی خامی یہی تھی کہ اس نے سو میٹر دوڑ اور کوہ پیمائی میں فرق کو ختم کر دیا.
181
جمعرات 18اگست2005
کیمپ فور 7500 میٹر پر تھا کیمپ تھری سے سات سو میٹر اوپر. آج برفانی جھکڑ نہیں چل رہے تھے موسم ٹھیک تھا مگر برف باری ہنوز جاری تھی. وہ اتنی ہلکی اور کم تھی کہ حد بصارت خاصی تھی. ان کے پاس اتنا گیئر اور فیول نہیں تھا. کہ وہ بیٹھ کر ایک دن بھی مزید انتظار کرتے.
گزشتہ روز کے سخت طوفان کے باعث رسیاں اور کورڈذ بری طرح الجھ چکی تھیں. ان کو ٹھیک کرنے میں خاصہ وقت ضائع ہوا. رسیاں ویسے بھی کیمپ تھری سے کئی میٹر اوپر کیمپ فور سے تھوڑی نیچے لگائی گئ تھیں. رسیاں کے آغاز تک کا سفر خاموشی سے کیا . پھر ان کو ٹھیک کر کے جب پریشے نے جومر کرنے کے بعد رسی کھنیچی تو وہ جام رہی. اس نے گلیشئر کو گلزاتار کر اس پر چڑھاے اور نیچے اتری. اس نے گرہ ڈھونڈی جو رسی میں بن کر اسے جام ایک میں پھنسی تھی اس نے گرہ کھولی اور سوغات اوپر چڑھنے لگی. اس کی ایک غلطی کی وجہ سے اس کے بیس منہ ضائع ہوئے مگر افق نے کچھ نہ کہا. وہ خاموشی سے تمام کارروائی دیکھتا رہا.
وہ دونوں اس وقت “ڈیتھ زون” میں تھے. سطح سمندر سے چھے ہزار میٹر سے زائد بلندی کا حصہ “ڈیتھ زون “یا “ورٹکل لمنٹ” کہلاتا ہے. اس بلندی پر ہوا بے حد کم اور آکسیجن ان کے جسموں کے لیے ناکافی تھی. سانس لنیے کے لیے پریشے کے پھیھڑوں کو بہت زور لگانا پڑتا تھا اور وہ اس وقت پورا منہ جھول کر سانس لے رہی تھی.
وہ کیمپ فور سے قدرے نیچے تھے. ان سے تقریباً تین سو میٹر اوپر پہاڑ کی ڈھلان جمے ہوے ندی نالوں سےمزین تھی. یہ وہ جگہ تھی جہاں سے چوٹی سامنے دیکھی دے رہی تھی یوں کے وہ ہاتھ بڑھا کر اسے چھولے گی مگر اس کے لیے بہت لمبا ہاتھ چاہے تھا. وہ رک رک کر آئس ایکس برف پر مار کر آہستہ آہستہ چڑھ رہی تھی. اس کی طاقت اتنی کم رہ گئی تھی کہ یوں لگتا تھا ابھی کسی وقت تھک کر نیچے لڑھک جائے گی. دفعتاً وہ ذرا سستانے کو ایک برف تلے چھیے شگانوں کے دہانوں پر موجود ایک برفانی تودے کے پیچھے کھڑی ہوئی. اور اپنے تنفس درست کرنے لگی. برفانی تودے جب گرتے ہیں تو خوب تباہی مچاتے ہیں مگر اس وقت خود کو پناہ دیتےوہ برفانی تودے جس کے عقب میں وہ محفوظ سی جھکی کھڑی تھی اسے بہت اچھا لگ رہا تھا افق اس سے سو میٹر دائیں جانب تھا.
دفعتا اسے برف کے ٹوٹنے اور چٹخنے کی آواز سنائی فی. اس نے گھبرا کر سر اٹھایا.
182
اس کے سر سے کئی میٹر اوپر قدرے دائیں طرف برف میں ایک لمبا شگاف پیدا ہو گئ تھی ایسے جیسے ہنگر سے لٹکے سفید کپڑے کے اوپر سے قینچی سے کاٹ دیا جاے .برف کئ پلیٹوں میں ہوتا بے حد خوبصورت مگر بے حد مہلک ثابت ہوا کیوں کہ اگلے پل اس پلیٹوں کے نیچے کی برف کے بڑے بڑے ٹکڑے نیچے گرتے اور سفید بے حد گہری دھول پیدا کرتے ہوے نیچے گرتے آرہے تھے.
پریشے کا سانس رک گیا. برفشار نیچے کی طرف آرہا تھا. مگر وہ ایک بڑے تودے کے پیچھے محفوظ تھی لیکن افق….
افق! “”…. وہ بے اختیار چلائی”برفشار آرہا ہے. خود کو بچاؤ.
افق نے بوکھلا کر اوپر دیکھا جہاں تیزی سے گرتی برف اس کی جانب بڑھ رہی تھی اس سے پہلے خود کو محفوظ کرپاتا برف کئ سفید دھول ہر طرف پھیل گئ اس دبیز ڈھول کے پیچھے ہو گیا.
اپنی آئس ایکس کو برف میں گاڑے خوف کے مارے اسے مضبوطی سے پکڑے ہوے پری بند کیے دیوار سے چیکی کھڑی تھی. اس کا پورا جسم لزر رہا تھا . دل زور زور سے دھڑک رہا تھا.
پھر دھول آہستہ آہستہ چھنٹے لگی . اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں جھول کے سر اونچا کیا.
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سےمکمل ناول حاصل کریں)
دودھیا سفید برف راکا پوشی کے جسم سے بالکل ویسے ہی چمٹی ہوئی تھی جیسے چند لمحوں پہلی تھی . اس نے گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا. راکا پوشی کے پہاڑی سلسلے پر سکوت تھا. آوازآسمان سے گرتی برف کی تھی باقی پورا پہاڑ خاموش اور پر سکون تھا جیسے وہ برفشار یہاں نہ ہوئی ہو. میلوں دور تک پھیلی برف ویسی ہی حسین نظر آرہی تھی . بس ایک فرق تھا اس کے دائیں جانب افق اور ارسلان نہیں تھا.
افق! وہ بلند آواز چلائی تم کہاں ہو؟اس کی آواز اردگرد کے پہاڑی سالوں سے ٹکرا کر ہنزہ کے آسمان میں تحلیل ہوگی. برف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا.
پریشے نے گردن ترچھی کرکے عقب میں دیکھا. گرتی برف کے اس پار دمانی چوٹیاں تھیں. دور بہت دور شاہکوری کا سر مت اہرام برفیلی چادر کی بکل مارے دائیں طرف ملیوں دور نانگا پربت کئ خونی/قاتل چوٹی تھی. ہمالیہ کے تمام پہاڑ اس کو دیکھ رہے تھے اس پر ہنسے رہے تھے اس کا تمسخر اڑاتے ہوے کہا رہے تھے “بے وقوف لڑکی تم احمق ہو.
183
وہ واقعی اکیلی تھی. اس کے اطراف میں ان دیو ہیکل پہاڑوں کے سوا کوئی نہیں تھا . وہ تمام اتنے خوف ناک اور اونچے تھے کہ خود آسمان جھک لر ان کی پیشانی چوم رہا تھا.
“افق تم کہاں ہو. ؟”بہت بے بسی سے اس نے پکار, “جواب دو…. خدا کے لیے کچھ تو بولو افق ورنہ میرا دل پھٹ جاے گا.”اس کا دل واقعی پھٹنے کو تھا.
وہ جدھر تھا ؟وہ خواب کیوں نہیں سے رہا تھا ؟ اوپر سے ہزاروں ٹن برف چند لمحوں میں گری اس برف میں وہ اسے کہاں ڈھونڈے ؟برف اسے آڑا کر گلیشئیر کے قدموں میں پٹخ چکی تھی یا وہ کہیں اپنی آئس ایکس سے چمٹے ہوئے کھڑا تھا ؟
پریشے نے اس جگہ دیکھا جہاں چند لمحوں قبل وہ کھڑا تھا. وہاں اب دودھیا سفید برف تھی. وہ تیز اس نے لگائی تھی اس برف کے سند گم ہوگئ تھی . البتہ غور سے دیکھنے پر اس کا ایک سرا واضح ہو جو ٹوٹ چکا تھا. یعنی اب افق اس رسی پر نہیں تھا اور نیچے برف میں سب چکا تھا ؟پریشے کا دل ڈوبنا لگا.
نہیں. وہ ادھر ہئ ہوگا. میں ڈھونڈتی ہوں اسے میں اسے ڈھونڈ نکالو گئ. “اس نے خود کلامی کی اور نیچے اترنے لگی . رسی سے نیچے اترنا بالکل ایسا تھا جیسے کسی عمارت کی دسویں منزل کی کھڑکی تک پہنیچے کے لیے عمارت کے باہر سے سیڑھی رکھی جائےاور پھر کیسے اس سیڑھی سے نیچے اترا جاتا ہے مضبوطی سے اسے پکڑے سہج سہج کر پیچھے اور نیچے دیکھتے ہوئے ایک ایک پاؤں نیچے رکھنا وہ ایسے ہی اتری تھی.
اسے علم نہیں تھا کہ وہ برف میں کہاں تھا مگر اسے یہ علم تھا کہ افق کو ڈھونڈنے کے لیے راکا پوشی کی تمام برف بھی کھودنی پڑی تو وہ کھوڈالے گئ.
وہ بمشکل بیس میٹر نیچے اتری. اس کا تنفس تیز تیز چل رہا تھا اور وہ باقاعدہ ہانپ رہی تھی. اس کے ہاتھوں میں جان نہیں تھی مگر پھر بھی وہ سردرد برف میں افق کو کھوج رہی تھی.
دفعتا اسے قریب برف سے سرمئ رنگ کی جھلک دکھائی فی. وہ خود کو رسی سے ان کلپ کرکے اس کی طرف بھاگی برف گھٹنے گھٹنے گہری تھی . وہ اس میں گھٹنوں تک دھنسی خود کو گھسیٹی ہوئی اس کے قریب آئی اور دستانوں سے تیزی سے برف ہٹانے لگی.
وہ ایک سر مئی رنگ کا پتھر تھا.
184
اس کا دل بیٹھنے لگا تھا-اس نے گردن جھکا کر نیچے دیکھا اور ایک دفعہ پھر پوری قوت سے آواز دی-“افق…..تم کہاں ہو?”
اگر وہ اس جگہ سے نیچے تھا تو یقیننا آواز اس تک گئی ہوگی-اگر اوپر ہوتا تو ہوا کے روخ کی وجہ شے آواز اوپر سے نیچے نہ جاتی-یعنی اب اگر وہ جواب میں کچھ کہتا بھی تو وہ پریشے کو نہ سنائی دیتا-ایک ہوا اس کی دشمن بنی اوپر سے نیچے کی جانب چل رہی تھی-شدت بےبسی سے اسے رونا آگیا-
“نہی,وہ ادھر ھی ہوگا-میں ﮈھونﮈتی ہوں اسے-میں اسے ﮈھونﮈ نکالونگی-“وہ دبارہ رسی پر کلپ اون کر کے,بڑبڑاتے ہوے نیچے اترنے لگی-
ہمالیہ کے عظیم پربتوں نے اس کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی,اور وہ استہزائیہ ہنسے تھے-اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے-
“میں اسے ﮈھونﮈ نکالوں گی-تم دیکھتے رہنا,ظالم پہاڑوں!میں اسے برف میں دفن نہی ہونے دوں گی,میں اس قراقرم کے ظالم پہاڑوں اور ہمالیہ کے ظالم آسمان سے دور لے جاوں گی دیکھتے رہنا”
وہ زور زور سے روتے اور چلاتے ہوے نیچے اتر رہی تھی-ان بلند چوٹیوں نے بھرپور وحشیانہ انداز میں قہقہ لگایا تھا,مگر اب وہ انہے نہی سن رہی تھی-وہ افق کو تلاش کر رہی تھی-اسے ہر حال میں افق کو برف سے باہر نکالنا تھا-
تقریبا چالیس میٹر نیچے اتر کر اس نے خود کو رسی سے آزاد کیا,چالیس میٹر اوپر اور دائیں طرف افق چند لمہے پہلے موجود تھا-وہ یقینا وہیں کہیں گرا ہوگا-اسے اب سو میٹر نیچے کی طرف جانا تھا-
وہ گٹھنوں تک برف میں دھنسی خود کو گھنسیٹتی ہوئی دائیں طرف جانے لگی-اس کی ٹانگیں اکڑ کر لکڑی بن چکی تھی-اس سے چلا نہی جارہا تھا, مگر وہ کتنی ہی دیر چلتی رہی,پھر بلاآخر نﮈھال ہو کر وہیں گٹھنوں کے بل برف میں گر گئی-
اس میں مزید چلنے کی سکت باقی نہ رہی تھی-تیز تیز ساتھ لیتے ہوے وہ باقائدہ ہانپ رہی تھی-اس نے اٹھنے کی کوشش کی, مگر جسم پر طاری تھکاوٹ اور عجیب سی نکاہت کے باعث اس سےاٹھا ہی نہی گیا-
“افق”وہ پھر سے حلق کے بل چلا کر اسے پکارنے لگی-“تم کہاں ہو?”
185
بروکا گلیشئیر خاموش رہا.
آسمان سے بہت خاموشی سے برف باری ہوتی رہی. گھٹنوں کے بل برف میں گھسٹتے ہوے اپنا آئس أیکس برف میں مارتی وہ آگے بڑھنے لگی.
وہاں ہر سو دودھیا سفید برف کئ چادر بچھی ہوئ تھی. کہیں کہیں سے جھلکتے سیاہی مائل سرمئ پتھر اور دیورایں بھی اب برف باری کے باعث چاندی سے ڈھک گئ تھیں. دور دور تک برف کا ایک نہ ختم ہونے والا صحرا پھیلا تھا اور اسے افق کو تلاش کرنے کے لیے وہ صحرا پار کرنا تھا.
وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ادھر ادھر برف پر بیچلہ مارتی اسے توڑتی آگے بڑھ رہی تھی. یہ اترائی یا چڑھائی کا سفر نہیں تھا. وہ دراصل پہاڑ کی ڈھلان پر شمال کئ جانب بڑھ رہی تھی.
ہ برفیلا میدان تھا. جانے سو میٹر ہوئے تھے یا نہیں کہ وہ ایک جگہ برف میں گر سی گئ . اب اس میں مزید حرکت کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی. وہ ذرا دیر کو ستانے کے لیے تنفس درست کرنے لگی.
پھر اس نے گردن ادھر ادھر گھما کر دیکھا. افق کو انداز اسی جگہ کے قریب ہونا چاہیے تھا, کیونکہ برفشار کا زور بہت شدید نہیں تھا کہ وہ بہت نیچے جاگتا. اسے یقین تھا کہ وہ اس کے آس پاس ہی کہیں برف میں ڈبا سانس لے رہا ہو گا وہ اسے کہاں ڈھونڈے ؟
پریشے اپنے قریب برف میں ایکس مارتے ہوئے اسے توڑنے لگی کہ شاہد وہ اس کے قریب ہی کہیں ہو. اس نے بہت سی برف کھود ڈالی مگر وہ کہیں نہیں تھا.
وہ پھر سے برف پر تقریباً جھک کر گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی آگے بڑھنے لگی ساتھ ساتھ وہ اسے آوازیں بھی دیں رہی تھی مگر وہ خواب نہیں سے رہا تھا. پریشے کو جہاں جہاں کسی سیاہ سرمئ شے کی جھلک دکھائی اس نے وہاں کی برف کھو ڈالی مگر ہر جگہ برف کے نیچے سے وہی سیاہ پتھر نکلتے تھے, جنہیں لوگ ترکی زبان میں قراقرم کہتے تھے.
برف باری تیز ہوتی جا رہی تھی . وہ تھک کر حوصلہ ہارنے والی تھی کہ اس جگہ جہاں سے وہ غائب ہوا تھا اس سے ٹھیک چالیس پنتتالیس میٹر نیچے دوبار سرمئی رنگ کی جھلک دکھائی دی. وہ اس کی طرف لپکی. اس کا رواں رواں دعا گو تھا . کہ وہ افق ہئ ہو. اس نے زور سے وہ سرمئی چیز کھنچی … وہ افق ہئ تھا ..
افق…. افق. ” پاگلوں کی طرح اسے پکارتے ہوے وہ اس پر سے برف ہٹانے لگی. وہاں اوندھے منہ پڑا تھا
186
ہوٹٹ بالکل خانہ پڑچکے تھے اور آنکھیں بند تھیں. اس کے برف سے اٹے کپڑوں اور اردگرد برف پر لگے خون کے دھبوں کے علاوہ کوئی بھی شے کسی قیامت کے مانند گزر جانے والے برفشار کا پتا دیتی تھی.
افق… افق تم ٹھیک ہو؟ آنکھیں کھولو افق””! جھنجھوڑتے ہوئے اس کا نیلا پڑتا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے وہ رو پڑی تھی. وہ کیوں آنکھیں نہیں کھول رہا تھا ؟وہ کیوں نہیں بول رہا تھا ؟”افق خدا کے لیے آنکھیں کھولو …پلیز آٹھ…. اس کے چہرے سے برف صاف کرتے ہوئے اس نے اس کا منجمد ہوتا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے مسلنے لگی.
وہ ہلکا سا کھانسا منہ سے برف کے ذرات باہر نکلے . پریشے نے طمانیت بھری گہری سانس کئ…. وہ زندہ تھا. اسے کچھ نہیں ہوا تھا. وہ ان ظالم پہاڑوں کے درمیان تنہا نہیں تھی.
اب وہ آنکھیں نیم وا کرکے بمشکل سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا. اس کی سانس اکھڑی اکھڑی سی آرہی تھی. پریشے نے اسے کندھوں سے تھام کر بٹھانے کی کوشش کی تب اسے محسوس ہوا کہ وہ زخمی تھا. اس کے چہرے ناک اور گردن پر گہری خراشیں تھیں . جن پر خون جما تھا.
اس کو بمشکل سہارا سے کر اس نےوہیں برف میں بٹھایا تو وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا. اس کے چہرے کی رنگت واپس آنے لگی مگر وہ آنکھیں پوری نہیں جھول پا رہا تھا
اٹھو…. کھڑے ہو طوفان زور پکڑ رہا ہے. ہمیں جلد ہئ کسی محفوظ جگہ جانا ہو گا. برف باری کی تیز ہوتی رفتار اور سرد ہواؤں کے جھکڑوں کی خوف ناک آواز سے وہ پریشان سی ہو کر اسے سہارا سے کر کھڑا کرنے لگی مگر زخمی ہونے کے باعث وہ اٹھ نہیں پا رہا تھا. وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہا تھا, اس سے تو کچھ بولا بھی نہیں جا رہا تھا آنکھیں بھی اسی طرح ادھ کھلی تھیں. وہ نڈھال سا نیم بے ہوشی کے عالم میں تھا.
وہ اس کو کھڑا نہیں کر سکتی تھی. یہ ادراک ہوتے ہئ اس نے اپنی کمر کے گرد بندھی کلائسک ہارنس سے چھوٹی سی رسی باندھی . اسے افق کی ہارنس سے کیربز کی مدد سے نتھی کیا پھر دونوں ہاتھوں سے اس کے بازوں اور کندھوں کو پکڑے اسے برف میں گھسٹینے لگی.
تب اسے علم ہوا کہ اس کی دائیں ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا اور اس کا بیک پیک غائب تھا. برف باری اب شدید قسم کی ژالہ باری میں تبدیل ہو رہی تھی. سرد ہواؤں کی رفتار تیز ہوگی تھی. آسمان کا رنگ یکایک سرمئی سے سفید ہوچکا تھا. حد بصارت جو کچھ دیر پہلے اتنی زیادہ تھی
187
نگاپربت بھی دیکھ تھی، اب محض دوسوفٹ رہ گئی تھی-رسیوں سے بنایا گیا راستہ چندمیٹراوپرتک ہی واضح تھااور آگے دھند میں گم ہوجاتا تھا-تیز چلتی برفیلی ہوائیں اسے ادھر ادھر لڑھکانے کی کوشش کررہی تھیں – وہ وقت اپنے قدموں پےکھڑی،اسے لاش کی ماندممانند کھینچ رہی تھی – سخت پتھروں کی طرح کے اولے اسکے سرپرپڑرہےتھے-ہمالیہ کے پہاڑ اگر اس پرہنس بھی رہےتھے،تو اب وہ انہیں نہیں دیکھ سکتی تھی-
وہ افق کو گھسیٹتی نو دس میٹر نیچے لائی،پھر نڈھال سی ہو کر اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی-اس کی تو باقاعدہ سانس چڑھ گئی تھی اور اس میں مزید ہمت نہیں تھی کہ وہ ایک چھے فٹ کے اونچے پورے مرد کو اس کے بھاری بھرکم کپڑوں سمیت کھینچ کر چند قدم بھی نیچے لے جاسکے-اسے یہ بھی علم نہیں تھاکہ اسے نیچے جانا ھے یا اوپر – دونوں جانب جانے والے راستے دھند اور بادلوں میں گم ہورہے تھے-کیمپ فور چند میٹر ہی اوپر تھا،مگر اوپر چڑھنا خودکشی تھا-کیمپ تھری خاصا نیچے تھااوروہ افق کو اتنا نیچے نہیں لے جاسکتی تھی –
اس کا دماغ سن ہو چکا تھا،کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ اس ظالم طوفان میں وہ کس پتھر سے پناہ مانگے،کس برفانی دیورکےپیچھےجاچھپے؟
سب کچھ جیسے کسی خواب کی سی کیفیت میں ہورہاتھا-ذہن ماوءف تھا،ٹانگوں سےقوت سلب تھی،بصارت چند میٹر تک محدود تھی – یاخدا، وہ کیا کرے؟
اس نے سر اٹھا کراوپر دیکھا – آسمان مکمل طورپر سفیدتھااورسفیدسفیدسےپتھرنیچےبرسارہاتھا-تیزہوایں ڈراؤنی آواز کے ساتھ چل رہی تھیں – اس نے گردن ادھر ادھر گما کر اپنے اعتراف میں دیکھا – وہ برف میں جس جگہ بیٹھی تھی، اس سے تھوڑی دور تک ہی اس کی بصارت کام کر ہی تھی،آگے سب کچھ دھند اور دبیز برف میں غائب ہوجاتاتھا – جہاں تک وہ دیکھ سکتی تھی، وہاں تک برف کا میدان تھا-ہر طرف سفیدبرف تھی – وہ کسی برف کے صحرا میں بیٹھی تھی، خس کی کوئی سرحدیں نہیں تھیں -دنیا جیسے ختم ہوچکی تھی – شب برف تھا،سفید اجلی برف-
اسکے اعصاب اب اس کا ساتھ چھوڑ نے لگے تھے – دماغ مفلوج ہوچکاتھا –
پھر اس نے افق کو دیکھا – وہ اس کے قریب برف پر پڑا کراہ رہا تھا-اس کی آنکھیں ادھ کھلی تھیں جیسے وہ نیم بےہوش ہو-پریشے کچھ بھی سن یا سمجھ نہیں پارہی تھی – شدید سردی اس کی ہڈیوں
188
میں گھس کر انہیں کھارہی تھی – انتہائی بلندی کےباعث اس کا ذہن اورجسم آپس میں مربوط نہیں ہورہے تھے – وہ بس متلاشی نگاہوں سےاردگرددیکھ رہی تھی – اسےآسمان سےپتھروں کی طرح گرتی ہوئی آفت سےبچاو کےلیے کچھ کرنا تھا – اس کی یاداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت گوکہ اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی، مگرلاشعوری قوت مدافعت بیدار تھی –
اس بلندی پر ذہن کوایک نقطے پرمرکوزکرنا،کچھ سوچنا بہت کٹھن تھا – اس نے بدقت تمام اپنا پیک بیگ کھولا،آئس ایکس (بیلچہ)snow shovel آئس اسکریوز اور کچھ رسی نکالی اور پھر افق کو وہیں برف میں رسی سے باندھنے لگی-اس کی کمر کے گردرسی باندھ کردائیں اور بائیں رسی کوآئس اسکریوز سے برف میں ٹھونک دیا یوں کہ اب وہ حرکت نہیں کرسکتا تھا – پھر اس نے ایک دفعہ اسکی حفاظتی رسیوں کی مظبوطی چیک کی اور تسلی کرکے نیچے اترنے لگی-
طوفانی جھکڑوں اور شدید قسم کی برفباری کے دوران اسے بمشکل تیس میٹر نیچے ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم ملا جہاں وہ برف کھود کر خیمہ لگا سکتی تھی – پھر جانے کتنی دیر وہ برف پر پھاوڑا مارتے ہوئے برف کھودتی رہی،برف کا پاؤڈر سا اس کے چہرے اور کپڑوں پر گرتا رہا،ٹانگیں منجمد ہونے لگیں – افق وہیں اوپر سخت سردی میں زخمی پڑا رہا،پریشے کے ہاتھوں سے جان نکلنے لگی مگر خیمہ لگ کے نہیں دے رہا تھا – طوفانی، ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہوا اسے ہر چند سیکنڈ میں گرادیتی اور وہ پھر سے کھڑی ہوتی – ایک چھوٹا سادو آدمیوں کا ٹینٹ اس نے کتنی مشکل سے اس برفانی ہوا میں لگایا، یہ صرف وہی جانتی تھی –
پھر وہ واپس گرتی پڑتی اوپر آئی – وہ اسی طرح برف اور پتھروں سے بندھا پڑا تھا – اس کی آنکھیں بند اور لب جامنی تھے – “افق،”اس پکارنے کے باوجود اس کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی-وہ تیزی سے اس کے قریب آئی تیز ہوا اسے کھڑابھی نہیں ہونے دے رہی تھی –
“افق!اٹھو اوراندرچلو-“اس کے کان کے قریب چیخنے پر اس نے آنکھیں کھولیں -پریشےنےاس کی رسیاں کھولیں، اسے دوبارہ خودسےباندھااورسہارادےکرنیچےلائی-وہ چلنے کے توقابل بھی نہیں تھا – غالبا”اس کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اورٹانگ میں آنے والازخم اتنا گہرا اورخون رساں تھا کہ خیمے کے فرش پر گرتے ہی وہ پھر سے کراہنے لگاتھا – وہ کبھی بھی درد سے کراہتا نہیں تھا-اب آگر کراہ رہا تھا تو یقینا”شدید زخمی تھا –
پریشے وہیں اس کے قریب دوزانو بیٹھ گئی-خیمے کی گول چھت پر برف مسلسل گر رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: