Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 14

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 14

–**–**–

#چوٹی_دسویں_حصہ_دوم
قسط 14
اورٹیکس میں لگے دو ہیٹ لائٹرز کے باعث اندر اور باہر کے درجہ حرارت میں خاصا فرق پڑجاتا تھا. سند گرمائش تھی .پھر بھی اس کے دانت بج رہے تھے اور ٹانگیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی تھیں. وہ بیٹھے بیٹھے گھسٹ کر اس کے پاس آئی اور اپنا بیگ کھول کر فرش پر الٹ دیا پھر فرش پر پڑے سامان میں سے دستانے نکال کر افق کے ہاتھوں میں پہنائے . سلپینگ بیگ میں اسے دیا کیونکہ وہ اپنا سلپینگ بیگ پہلے ہئ اپنے سمیت گم کر چکا تھا اور پھر میڈیکل لٹ سے ضروری سامان نکال کر اس کا زخم دیکھنے لگی.
اس وقت اس کا تھکاوٹ اور سردی کے مارے برا حال تھا . دل چاہا رہا تھا. کہ فورا کمبل اوڑھ کر سو جائے مگر سامنے وہ شخص وہ لیٹا تھا جس سے اس کی سانسوں کی ڈور بندھی تھی . یہ وہ شخص تھا جس کے لیے وہ دو دن پیدل برف زراروں کو عبور کرکے آئی تھی جو اگر درد سے کراہتا تھا تو وہ درد پریشے کو اپنی روح میں لگتے محسوس ہوتے تھے. وہ سو نہیں سکتی تھی. جب تک وہ پر سکون نہ ہوجانا اسے چین نہیں آسکتا تھا.
اس کا زخم گہرا تھا . شاہد ہڈی فریکچر ہوگی تھی خون بھی بہہ رہا تھا . سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کسی حد تک کمی کے باعثوہ ٹھیک سے سمجھ نہ پا رہی تھی اور بمشکل پٹی کر رہی تھی. اس کی اپنی سانس بھی اکھڑ اکھڑ کر آرہی تھی. وہ “ڈیتھ زون” میں تھی اور اس کے جسم کے خلیوں کو اس بات کا علم ہو چکا تھا اس کے تمام خلیوں کو ٹھیک سے آکسیجن نہیں مل رہی تھی اور وہ اسے اس بات کا بخوبی احساس ہو رہا تھا چونکہ دماغ کو بھی آکسیجن نہیں نل رہی تھی سو اس کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا. اس کے پاس آکسیجن کینسٹر بھی نہیں تھے . بیس کیمپ میں جب اس نے افق سے آکسیجن رکھنے کی بات کئ تو اس نے لا پروائی سے انکار کر دیا تھا. میں نے بگ فائیو بغیر آکسیجن کے سر کیے ہیں کبھی کبھی دل کر ہے دیکھوں تو سہی کہ میرے پھپھڑے کتنا حوصلہ رکھتے ہیں.
اس کے پھپھڑے جیسے بھی ہوں وہ بہت حال کم آکسیجن کے عادی تھے مگر پریشے عادی نہیں تھی. اس نے اپنے طور پر کچھ آکسیجن ایمرجنسی صورت حال کے لیے رکھی بھی تھی مگر وہ لانا بھول گئ تھی. افق کے پاس ایک کینسٹر تو لازمی ہونا تھا مگر وہ اپنا بیگ کھو چکا تھا . یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑی ٹریجڈی بنتی جارہی تھیں.
زخم صاف کرکے اس کی پٹی تو کر دی مگر فریکچر کے بارے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی. اسے افق کو لازما بیس کیمپ لے لر جانا تھا. فریکچر ایسا تھا کہ سرجری ناگزیر تھی مگر وہ نیچے کیسے جائے. ؟
190
وہاں جانے کے تمام راستے مسند تھے.
افق کو اس نے دوبارہ سلپینگ بیگ پہنا دیا. زپ بند ہوتے ہئ اس کے یخ جسم کو گرمائش ملنے لگی اور اس کی نیم وا آنکھیں پوری بند ہوگئیں. وہ اسی پوزیشن میں آدھا بیٹھا آدھا لیٹ رہا.
پریشے کے پاس اب سلپینگ بیگ نہیں تھا صرف دو لائیز تھے جہنیں اپنے لپیٹ کر بھی وہ ٹھٹھر رہی تھی.
ٹوٹی ٹانگ اور گہرے زخم کے باوجود وہ کیسے پر سکون سو رہا تھا وہ اس کے قریب ہوئی ٹیک لگائے بوجھل ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھی گئی. اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ افق کو سیدھا کرے یا خود سیدھی ہو کر لیٹ جائے. وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئ.
نیند میں اسے عجیب عجیب خواب آتے رہے. آخری جو خواب آیا اس میں اس نے دیکھا کہ وہ خود احمت,افق,ارسہ,حبیب,نشا,مصعب,جاپانی ٹورسٹ, پاک فوج کے پائلٹس وہ سب کیمپ فور میں ایک ہئ خیمے میں دبکے بیٹھے خوش گپیاں کر رہے ہیں. خشک میوے گرم چائے ہاٹ چاکلیٹ سرو کی جا رہی ہے. شفالی بھی وہاں تھا اور اس کا اپنا ملزم وحید بھی. شفالی اور اس کی شکلیں بہت مل رہی تھیں.
کوئی اس کا گھٹنا جھنجھنوڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا. اس نے جھٹکے سے آنکھیں دین.
وہاں شفالی تھا نہ وحید نہ آرمی سب کچھ راکا پوشی کی لطیف ہوا میں تحلیل ہوا گیا تھا. وہ اپنے خیمے میں تھی اور اس کا گھٹنا ہلانے والا افق تہا.
ہاں…. کیا ؟پریشے کا ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا. باہر طوفان کا شور اب بھی جارہی تھا. وہ کتنے گھنٹے بے خبر سوتی رہی اسے انداز نہیں تھا.
پانی دو.. … گرم پانی. بہت دقت سے وہ آہستہ آہستہ یوں بولا جیسے بولنے سے اسے بہت تکلیف ہوتی ہو. وہ خیمے کی دیوار سے ٹیک لگائے ٹانگیں سیدھی پھیلائے بیٹھا تھا. دونوں کے درمیان پریشے کے تک سیک سے نکلنے والی اشیا کا ڈھیر تھا. وہ اس کی بات پر سر ہلاتے ہوے چیزیں سمٹینے لگی.
برفشار میں افق کے گم ہونے والے بیچ میں کھانے کا زیادہ تر سامان تھا اس کے پاس گیس آئس اسکریوز(برف میں لگائی جانے والی)پی ٹونز اور کچھ رسی تھی.
191
کے نام پراس کےبیگ میں بس ایک دن کا کھانا تھا جو ڈی ہائیڈریٹڈ تھا اور اس کی برف پگلانے اور اسے ری ہائیڈریٹ کرکے اصل حالت میں لانے کے لئے انہیں ایندھن کی بےحد ضرورت تھی، جو اس وقت محض دو سے تین دن کا رہ گیا تھا، وہ بھی صرف پانی بنانے کےلیے – دو سے تین دن کا دورانیہ کم ہوسکتا تھا اگر وہ کھانا گرم کرنے لگتی،سو اس کےلیے اب وہ تمام فوڈ سپلائی بےکار تھی – وہ گیس ضائع کرنا افورڈ نہیں کرسکتی تھی، کیونکہ اس بلندی پرانسان بغیر کچھ کھائے بھی ہفتہ بھر زندہ رہ سکتاہے، مگر پانی –
وہ بےرنگ مائع جو زمین پر صرف آب ہوتا ہے،پہاڑوں پر آب حیات ہوتا ہے-بغیر کچھ پیئے وہ چند گھنٹوں میں ہی مرجاتے – البتہ بھوک دونوں کو نہیں لگنی تھی، نہ ہی اس بلندی پرلگتی تھی – پریشے نےانتہائی بلندی پرکام کرنے والا اپنا سٹوو جلایا – چھوٹے سے پین میں برف توڑ کر ڈالی اور اسے پگلانے لگی-خیمے کی چھت پربرف مسلسل پڑرہی تھی مگر صد شکرکہ وہ اس زاویے سے نصب تھا کہ برفانی طوفان خیمہ اکھاڑ یا گرا نہیں سکتا تھا –
برف پانی بن گئی تو اس نے آخری چاکلیٹ سے ہاٹ چاکلیٹ بنائی-ہاٹ چاکلیٹ اور گرم چائے افق کو پلائی – خود صرف گرم پانی پر گزارا کیا – اپنے حصے کی چائے بھی وہ افق کو دے چکی تھی –
جسم کو کچھ گرم مائع ملا تو دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوا-افق کی توانائی بھی قدرے بحال ہوئی تھی – اس کے چہرے پر شدید درد کے آثار رقم تھےمگر وہ اب کراہ نہیں رہا تھا بلکہ خیمے کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا – آنکھیں بند تھیں اور وہ دھیرے دھیرے کچھ گنگنا رہا تھا-یہ وہی گاناتھا جو اس کو اور بیس کیمپ میں ہنزہ وکثر لوگوں کو سنا رہا تھا اور کئی دن پہلے برستی بارش میں وائٹ پیلس کے وزیروں کو سنایا تھا –
we are Leyla
we are mecnun
اس کی آواز بے حد دھیمی تھی، مگر اس نے سن لی تھی – وہ جانتی تھی کہ وہ تکلیف اور دکھ میں ہمیشہ گنگنایا کرتا تھا –
“یہ لیلی کی تو سمجھ آتی ہے،مگر Mecnun کون ہے افق؟”
افق نے آنکھیں کھولیں جو بے حد سرخ ہورہی تھیں –
192
“مجنوں! “ایک لفظ کہہ کر اس نے آنکھیں موند لیں-“ارے!”اسے حیرت ہوئی، “یہ لیلی مجنوں ترکی میں بھی ہوتے ہیں؟””ہاں،مجنوں ترک بھی ہوسکتا ہے-“وہ دھیرے سے مسکرایا اور پھر بند آنکھوں سےوہی گنگنانے لگا-وی آر لیلی وی آر مجنوں-“یہ وہ پہلی نارمل بات تھی، جو دونوں نے طوفان میں پھنس جانےکے بعد کی تھی – یہ گرم پانی کا اثر تھا – آب حیات کا اثر –
افق کچھ دیر گنگناتا رہا،پھر خاموش ہوگیا، اب اس پر نقاہت تاری ہورہی تھی – پریشے اپنے ذہن کو مجتمع کرکے اس صورتحال کوسمجھنے لگی جس سے اسکا زندگی میں پہلی بار پالا پڑا تھا اور جب حالات سمجھ میں آنے لگے تو اس کا دل ڈوبنے لگا –
اس کا میٹر بتارہا تھا کہ وہ 7437میٹر بلندی پر سخت برفانی طوفان کے درمیان ایک خیمے میں پھنسی بیٹھی ہے-اس کے ساتھ ایک ایسا زخمی کوہ پیما ہے،جس کازخم نہ صرف اسے چند قدم چلنے سے معذور کرچکا ہے بلکہ زخم کے باعث اس کی ٹانگیں کم وقت میں فروسٹ بائٹ کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتی ہیں-اس کے ایک پاوں کی انگلیاں پہلے ہی فروسٹ بائٹ کا شکار ہوچکی تھی – پرانے زخم تو ویسے بھی فروسٹ بائٹ کے عمل کےدوران تیز ترین عامل یا عمل انگیز بن جایا کرتے ہیں-فروسٹ بائٹ کو صرف ایک عنصر روک سکتا تھا اور وہ تھا پانی – جسم میں پانی کی کمی کا مطلب تھا، فروسٹ بائٹ اور جسم میں پانی کی کمی،سطع سمندر سے انتہائی بلندی کا مطلب سیربرل ایڈیما یا پلمنری ایڈیما -اس وقت حالت یہ تھی کہ اسے جلدازجلد افق کو وہاں سے نکالنا تھا – اس کے پاس تقریبا”80میٹر رسی تھی اور اسے کئی ہزار میٹر نیچے اترنا تھا – (بیس کیمپ 3400میٹر پر تھا )اگر وہ جلد ہی افق کو وہاں سے نہیں نکالتی تو وہ مر بھی سکتا تھا – اسے جلد کچھ سوچنا تھا، کچھ کرنا تھا –
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
اوپر جانے اور چوٹی سر کرنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا – افق کی مخصوص اور خالصتا”کوہ پیماوں والی ضد کے باعث وہ turn around time کا انتخاب وہ کھوچکے تھے –
کوہ پیمائی میں ایک ٹرن ارونڈ ٹائم ہوتا ہے،پیچھے مڑنے کا وقت – پہاڑوں پر موسم ہر پل بدلتا ہے-کوہ پیما تعین کرتے ہیں کہ اگر آج اتنے بجے تک ہم نے یہ چوٹی سر کرلی تو ٹھیک، ورنہ اتنے بجے تک ہم جہاں بھی ہوئے، واپس مڑجائیں گے-کوہ پیما عموما”نہ پلٹنے کی غلطی کرتے ہیں – غلطی افق ارسلان نے بھی کی کہ وہ بہرحال کوئی افسانوی کردار نہیں، ایک جیتا جاگتا انسان تھا –
193
اب انہیں راکاپوشی کے نا قابل تسخیر رج کو نا قابل تسخیر ہی چھوڑ کر واپس جانا تھا اور واپس جانے کے لیے طوفان کا رکنا ضروری تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا. وہ جا سکتے تھے نہ اور نہ ہی یہاں بیٹھے رہ سکتے تھے. خدایا! وہ کیا کرے؟
بڑی دیر بعد وہ ایک نتیجہ پر پہنچی . اس نے ٹراٹسیور نکال کر احمت سے رابطہ کیا اور بنا کسی تمہید کے کہنے لگی. “احمت …… احمت افق زخمی ہے ہم کیمپ تھری اور کیمپ فور کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں. باہر سخت طوفان ہے ہمیں ہر حال میں نیچے اترانا ہے. بتاو میں کیا کروں ؟؟
افق زخمی ہے؟ اسے کیا ہوا؟حسب توقع وہ پریشان ہوگیا.
صبح برفشار آیا تھا. افق کی رسی ٹوٹ گئی اور وہ چالیس میٹر نیچے گرا . ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہوئی اور چوٹیں بھی شدید ہیں. ” سخت سردی کے باعثاس کے بجتے دانت اسے بولنے نہیں دے رہے تھے.
“اوہ تم یوں کرو اس کے فریکچر کو….. “
فارگاڈسیک احمت! میں ڈاکٹر ہوں. مجھے اس کے فریکچر کے ساتھ کیا کرنا ہے. تم مشورے اپنے پاس رکھو. مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے. اس نے ایک دم غصہ سے بات کاٹی .پل بھر کو احمت خاموش سا رہ گیا. اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا.
آئی ایم سوری احمت…. میں بہت پریشان ہوں…. پلیز ناراض مت ہونا.. “وہ روہانسی ٹولی.
ریلیکس پریشے !جب طوفان رکے تو تم نیچے اتر آنا…. اس طرح پریشان ہونے سے تمہارے اعصاب پر برا اثر پڑے گا. خود کو پر سکون رکھو. “
میں خود کو پر سکون نہیں رکھ سکتی احمت! ہماری پوزیشن بہت خراب ہے. افق شدید زخمی ہے. اسے شدید درد ہو رہا ہے. “احمت سے بات کرتے ہوئے اس نے ایک نظر افق پر ڈالی جو آنکھیں موندے شدت ضبط سے لب سختی سے ایک دوسرے میں کیے بیٹھا تھا.
“تم اس کو پین کلر دو.. “
“مگر اس کی ٹانگ کام نہیں کر رہی. وہ چل نہیں سکتا. تم میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے؟”
ڈپریشن پھر سے غصے میں ڈھلنے لگا.
194
دفعتا افق نے آنکھیں کھولیں اور آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اس کا گھٹنا پکایا. پریشے نے اسے بولتے تک کر اسے دیکھا.
“انقرہ کال کور… جبنیک کو.. اس سے ویدر کنڈیشن پوچھو. وہ نقاہت بارے آہستہ آہستہ بول رہا تھا. پریشے نے سمجھ کر سر ہلایا اور ریڈیو میں بولی.
احمت…..! انقرہ کال کرو جنینیک کو اور اس سے ویدرکنڈیشن کے بارے میں…
افق نے جھنجھلا کر نفی میں سر ہلایا:”احمت نہیں تم پوچھو پری! “
میں؟میں کیسے پوچھوں؟
“سٹیلائٹ فون تھا تمہارے پاس. “
وہ ہوں… احمت میں تم سے پھر بات کرتی ہوں. آوٹ. اس نے ٹرانسیو بند کیا اور جھٹ بیگ سے سٹیلائٹ فون نکال کر اسے تھمایا.
وہ خود ہئ کتنی دیر کسی سے بات کرتا رہا. تھکا تھکا لہجہ نقاہت اور پثرمردگی سے آنکھیں موندے وہ یقیناً شدید کرب کے عالم میں تھا
“ویدر کلئیرنس کا امکان اگلے اڑتالیس گھنٹے تک کوئی نہیں ہے. خدایا. فوں بند کر کے اس نے پریشے کو تھمایا.
وہ دو دن اس سردی اور موسم میں گزارا کر لیتی مگر افق….. اس نے پھر سے احمت بات کی اور اسے تمام حالات سمجھائے
“اب کچھ کرو احمت! ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہے. “
“میں کچھ کرتا ہوں تم فکر نہ کرو. “
“کیسے فکر نہ کروں؟وہ….مر جائے گا احمت….. خدا کے لیے کچھ کرو وہ مت جائے گا. “شدت بے بسی سے اسے رونا آگیا.
“میں کیا کروں ؟اس کے رونا ہر وہ بوکھلا سا گیا”,اس بیس کیمپ میں میرے اور ایک دوست کے علاوہ کوئی نہیں ہے. بتاؤں میں کیا کروں. “
“کسی بھی اتھارٹی سے بات کرو کہ وہ ہمیں یہاں ریسکیو کریم. الپائن کلن پاکستان سے کہو نذیر صانع سے کہو منسٹری آف ٹورازم سے کہو کسی سے بھی کہو خدا کے لیے
“میں کچھ کرتا ہوں. تم میری کال کا انتظار کرو. احمت نے کہا اور سلسلہ منقطع ہوگیا ۔
195
پریشے کچھ دیر سوچتی رہی پھر اس نے احمت کو کال کی
احمت سنو تم پاکستانی آرمی سے بات کرو۔ان سے کہو کہ کلائمرز کو evacuate کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر بھیجیں۔
دوسری جانب تھوڑی دیر کے لئے خاموشی چھا گئی ۔
ڈاکٹر پریشے کیا سطح سمندر کی انتہائی اونچائی پر انسانی دماغ خراب ہو جاتا ہے ۔؟
کیوں کیا غلط کہا میں نے؟
سنو میری بات دنیا میں کوئی ایسا پائلٹ پیدا نہیں ہوا جو
تمہیں سات ہزار میڑ بلندی سے ریسکیو کر سکے۔اس سے پہلے کہ تماری ہمت انرجی جواب دے جائے تم نیچے آنے کی کوشش کرو۔یہی تمارے مسلے کا حل ہے ۔
استاد مت بنو آرمی سے بات کرو
اس نے ریڈیو رکھ دیا اور افق کو دیکھا جو سر جھکائے اسے بیٹھا تھا جیسے ہمت ہار چکا ہے
افق، پریشے نے دھیرے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے گردن اٹھائی کیا درد ہو رہا ہے ؟
اس نے آہستہ سے گردن کو نفی میں جنبش دی نہیں درد نہیں ہے مگر اس درد جتنا ہو رہا تھا آنکھوں میں تحریر تھا
کیا تم نیچے اتر سکتے ہو کن از کم کیمپ تھری تک؟ اس نے بہت پیار سے پوچھا اس نے نفی میں سر ہلا دیا
چند میڑ بھی نہیں؟
اس ٹانگ کے ساتھ بہت مشکل ہے وہ سمجھ سکتی تھی ۔
اچھا اس ٹینٹ میں جیتا ہو سکے اپنے ہاتھ پیر ہلاتے رہو تا کہ جسم گرم رہے ٹھنڈ سے بھی بچ سکو خود بھی یہی کر رہی تھی مگر افق وہی بیٹھا رہا
196
پھر کتنی دیر گزر گئی احمت نے کوئی رابطہ نہیں کیا طوفان اسی طرح راکاپوشی کو لپیٹ میں لیے ہوئے تھا ۔باہر اولے پڑنے کا شور سنائی دے رہا تھا ۔پریشے نے کھڑکی سے جھانکا باہر مکمل وائٹ آوٹ تھا رات کٹ ہی نہیں رہی تھی ۔ہر لمہ صدیوں بھاری لگ رہا تھا دونوں بغیر کوئی بات کیے بیٹھے تھے ۔پریشے کو احمت کی کال کا انتظار تھا ۔وہ رابطہ کر رہا ہو گا خود کو تسلیاں دے رہی تھی ساتھ جو زبانی سورتیں یاد تھی پڑھ رہی تھی طوفان نے تھما وہ کوئی شہر میں آنے والا طوفان نہیں تھا وہ ہمالیہ کا برفانی طوفان جودن رات رہنے والا ہے
اچانک ریڈیو میں شور پیدا ہوا وہ اس کی جانب لپکی
ہیلو احمت وہ بے تابی سے بولی
ہوں ڈاکٹر میں نے بات کی انہوں نے تمہارے منسٹر سے بات کی
پھر؟
وہ کہہ رہا تھا آرمی سے بات کر کے ۔۔۔۔۔۔
کب کرے گا بات پیپلز احمت تم خود کرو بات مجھے ان پر بھروسہ نہیں ہے ۔
تم میری پوری بات کیوں نہیں سن رہی میں ادھر کوئی جھک نہیں مار رہا
اپنا منہ بند رکھو اور سنو میں نے پائلٹس سوئس سے رابطہ کیا مگر ان کی فلائٹ پر پرابلم ہے ۔چار دن لگ سکتے
مگر افق کے پہ پاس تین دن سوری تم بات مکمل کرو
تم بھی نا اچھا سنو سوئس کا انا مشکل ہے مگر تمارے مارن منسٹر نے پاکستان سے رابطہ کیا میں اتنی دیر میں آرمی والوں ککال کا انتظار کر رہا تھا ابھی دس منٹ پہلے
197
میری بات ہوئی انہوں نے تمارے ریڈیو کی فریکونیسی پوچھی ہے تمارے کپڑوں کا رنگ وغیرہ اور یہ تم انگیزی بول سکتی ہو یا نہیں میں نے کہا بول سکتی ہے ٹھیک کہا نا؟
تو میں تم سے فرنچ میں بات کر رہی ہوں کیا۔
نہیں وہ تماری آررمی ہے تم اپنی زبان میں بھی بات کر سکتی ہو۔
اچھا وہ کب آئیں گے اس نے بے قراری سے پوچھا
ائیں گے کیا مطلب وہ ابھی تم سے رابطہ کریں گے ہر کام آرام سے ہوتا ہے ڈاکٹر۔
اس نے ریڈیو بند کر کے افق کو دیکھا وہ مسکرا دیا اس کی مسکراہٹ میں تھکان اداسی تھی ۔
وہ ابھی آ جائیں گے تمہیں بس جند قدم چل کر ہیلی کاپٹر تک جانا ہوگا ۔چل لو گے نا اس نے افق کا ہاتھ تھپتھپا ۔
چل لو گا اگر وہ آئے تو
وہ ضرور آئیں گے تم اداس مت ہو وہ اس کے ساتھ خود کو بھی تسلی دے رہی تھی ۔پھر آنکھیں موند لی
رات شور غل میں وہ چند گھنٹے سو پائی اس کے ریڈیو کی آواز آئی اس نے آنکھ کھولی اس کی ٹانگ یخ ہو رہی تھی بمشکل ریڈیو ریڈیو کان سے لگایا ۔
کم ان ایکسپڈیشن ٹیم آواز تھی یا نئ زندگی کی نوید
آئی ایم ہیر سر اس نے ریڈیو کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔
ڈاکٹر پریشے جہاں زیب آر افق ارسلان؟ بھاری رب دار آواز میں پوچھا
پریشے جہاں زیب
دس از کرنل فاروق ڈاکٹر جہان زیب
صفحہ نمبر198
“آئی نو,سر!” وہ خوشی سے بولی-وہ یقیننا انہیں بچانے آ رہے تھے اور ہیلی کاپٹر میں سے قبل اس کو اپنی آمد سے آگاہ کرنے والے تھے,اس نے سوچا-
“اوکے گیو می یور اسٹیٹس,پریشے”
ہم نے ایک ٹینٹ پچ کر رکھا ہے جس کا رنگ اورنج ہے ,یہ کیمپ تھری سے خاصہ اوپر ہے-وہ اب اردو بولنے لگی تھی-
“اور بیٹا,آپ کے کپڑوں کا رنگ-“
“میں نے پنک اور لائٹ گرین جیکٹ پہن رکھی ہے-میرے ساتھی کی گرے جیکٹ اور ریﮈیشن براون ٹراوزر ہے-سر پر یلو ہیلمٹ ہے,اوررر” یہ اتنا رنگ برنگا ہلیہ صرف برف میں واضح نظر آنے کے لیے تھا-
اوکے اب مجھے اپنی لوکیشن دیں,ٹھیک ٹھیک-پہاڑ کی ﮈھلان اور فیس کا اینگل بتائیں- وہ بتانے لگی,پھر وہ بولے ,”اوکے,اب آپ میری بات غور سے سنیں,ہم جلد ہی آپ کو لینے آ جائیں گے-“
اسے لگا اس نے غلط سنا ہے,”آجائیں گے?آپ کا مطلب ہے آپ آ نہی رہے?”
“طوفان بہت شدید ہے ﮈاکڑر پریشے-وزیبلیٹی نہی ہے-“
“ےو جب طوفان روکے گا تب تو آپ آ جائیں گے نہ?”وہ کسی امید کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی تھی-
جی بلکل,اب آپ بتائیں-تقریبنا کیا بلندی ہوگی آپکی?اس نے فورأ میٹر دیکھا-
7437 میٹر
دوسری جانب چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی پھر ریﮈیو سے آواز آئی-
“تو پھر آپ یوں کریں کہ کم از کم ساڑھے انیس ہزار تک آ جائیں-“
“میں ساڑھے سات ہزار پر ہوں,گپ انیس ہزار کی بات کر رہے ہیں-میری سمجھ میں نہی آ رہا-“اب اسے کفت ہونے لگی-
“میﮈم!اپ انیس ہزار فٹ تک ﮈیسنﮈ کر لیں”
“فا گاﮈ سیک کرنل فاروق مجھے میٹرز میں بتائیں-وہ جھنجھلائی-
“اوکے,ھپ تقریبا چھے ہزار میٹر تک نیچے اتر آئیں-“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: