Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 15

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 15

–**–**–

#دسویں_چوٹی_حصہ_سوم
قسط15
199نمبر
پریشے کا دماغ بھک سے اڑ گیا.
“کرنل صاحب !میرا ساتھی شدید زخمی ہے. اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے. اس سے ڈیڑھ انچ نہیں چلا جاتا اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں ایک زخمی کو لر ڈیڑھ ہزار میٹر نیچے اتروں؟آر یو آوٹ یور مائنڈ!؟اس کا ضبط جواب سے گیا تھا.
دیکھیں پریشے چھے سوا چھے ہزار میٹر سے اوپر دنیا کا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں آسکتا . ہم آپکو اس صورت ریسکیو کر سکتے ہیں کہ طوفان رک جائے اور آپ ڈیسنڈ کر لیں.
مگر میرا ساتھی زخمی ہے. وہ نہیں چل سکتا. اوپر آپ آ نہیں سکتے. نیچے میں نہیں جا سکتی میں کروں تو کیا کروں ؟
افق نے اس کے ہاتھ پر ہولے سے اپنا ہاتھ اسے اپنا غصہ دبانے کا اشارہ کیا مگر وہ شدید پریشان ہو رہی تھی.
“طوفان تھم جاے تو آپ کوشش کریں. “
کرنل صاحب کا لہجہ اتنا پر سکون اور ٹھنڈا تھا کہ پریشے کو لگا وہ اس کے معاملے میں دلچسپی نہیں لے رہے.
سنگین لہو میں کوشش کرتی ہوں اور ڈیسنڈ کرکے آپ کو بتاتی ہوں. افق کی ہدایت پر اس نے یہ کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا اور ریڈیو فرش پر رکھ کر اسے دیکھا.
“عجیب بے حس لوگ ہیں کوئی اور مر رہا ہے اور انہوں نے رٹ لگا رکھی ہے کہ نہیں سکتے ہیں. وہ بڑبڑائی.
وہ واقعی نہیں آ سکتے وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں. میں جانتا تھا وہ نہیں آئیں گے میری پوری زندگی ہمالیہ میں گزری ہے اس لیے تمہیں کہا تھا وہ آئے تا میں طل لوں گا چھ ہزار سے اوپر ہوا اور دھند اتنی شدید ہوتی ہے کہ ہیلی کاپٹر وہاں نہیں آسکتا. وہ آہستگی سے کہتا اسے سمجھ نے کی کوشش کر رہا تھا.
“تو پھر ہم نیچے کیسے اتریں؟میں کیا کروں ؟ وہ بے حد پریشان تھی.
وہ کتنی دیر اسے چپ چاپ دیکھتا رہا پھر بالاآخر چند قدم گھسٹ کر اس کے نزدیک آیا اور اس کے مثل بیٹھ کر اس کا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنا لگا. میری بات غور سے سنو اور جو میں کہوں ویسے ہی کرو. تمہیں یاد ہے پری! میں نے تمہیں ایک دفعہ بتایا تھا کہ میری ماں بہت بہادر ہے. “
200
وہ سمجھی تھی افق اسے نیچے اترنا کے کسی منصوبے اور حکمت علمی کے متعلق بتائے گا مگر وہ نہایت غیر متعلقہ بات کر رہا تھا.
“ہوں مجھے یاد ہے مگر اس وقت. “
“میری ماں بہت بہادر ہے پری اس نے اپنے تین جوان بیٹوں کی موت کا غم سہا ہے ان کے بیٹوں کے بعد ان کے بچے اس کے پاس ہیں اور وہ ان میں بہت خوش اور مگن ہے. “
” وہ تو ٹھیک ہے افق مگر کرنل صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں …..”
“یقین کرو پری! میرے ماں باپ کے پاس دوسری بہت سی مصروفیات ہیں. وہ خود کو ان سب جھمیلوں میں گم لر سکتے ہیں اور ان کے لیے یہ سب مشکل نہیں ہوگا.
اس نے جیسے پریشے کئ بات سنی ہی نہیں تھی اور پتا نہیں کون سے قصے لے کر بیٹھ گیا وہ الجھنے لگی. وہ کہہ رہا تھا . تمہاری نومبر میں شادی ہے. تمہیں اس کی تیاری کرنی ہوگی. تمہاری پھپھو تم سے بہت پیار کرتی ہے. تمہارے پاپا بھی تو ہے ناں ان کے لیے ایک واحد راشتہ تم ہو پری! میری ماں باپ کی اور بات ہے. “وہ رک رک کر ٹھہر ٹھہر کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا.
میرے ماں باپ عادی ہو چکے ہیں. ان کے دو بیٹے اور بھی ہیں مگر تم اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہو. ایک دم پریشے کے لاشعور میں خطرے کا الارم بجا.
تم…. تم کھل کر بات کرو افق.
پری یہ سب صرف اور صرف میری وجہ سے ہوا ہے. میں تمہیں اس جگہ پھنسانے نہیں دوں گا .کیوں کہ میں جلدی ٹرن اراؤنڈ نہیں کیا. ورنہ اس وقت تم بیس کیمپ میں ہوتی وہ پلک جھپکے بغیر اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا.
نہیں افق میں خود… تم تم کیا کہنا چاہ رہے ہو؟؟ اس طرح بات کیوں کر رہے ہو. کرنل فاروق نے کہا ہے کہ جیسے ہی ڈیڑھ ہزار میٹر ڈیسنڈ کریں گے وہ ہمیں لینے خود آئے گے خود کہا تھا انہوں نے میں کوشش کرتی ہوں. اس نے اسے یاد دلسا.
افق نے اثبات میں سر ہلا دیا میں نے ٹھیک کہا تھا. تم کوشش کرکے ڈیسنڈ کر سکتی ہو.
اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جس پر وہ بری طرح چونکی تم؟کیا مطلب ہے تمہارا ؟ اسے اب کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا تھا.
201
پری تم نیچے جا سکتی ہو تم نیچے چلی جاؤ۔افق پریشے نے تڑپ کر اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑایا ۔
خدا کے لیے پری جزباتی مت بنو۔میری وجہ سے خود کو خطرے میں مت ڈالو۔تم نیچے چلی جاؤ پلیز۔
وہ سناٹے میں رہ گئی ۔
افق تم یہ چاہتے ہو میں تمہیں اس برفانی طوفان میں اکیلا چھوڑ کر چلی جاؤں ۔
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
ہاں تم چلی جاؤ وہ اوپر کبھی نہیں ائیں گے چھ ہزار میڑ پر تم جاؤ میری فکر مت کرو وہ تھکے لہجے میں بول کر پیچھے بیٹھ گیا ۔
تمہیں چھوڑ کر اس ٹینٹ میں چھوڑ کر وہ بے یقین تھی
میں نیچے نہیں جا، سکتا پری کبھی بھی نہیں میں جانتا ہوں میں ادھر مر جاؤں گا اگر تم رہی تو تم بھی مر جاؤ گی۔تمارے پیچھے بہت لوگ ہیں جو تمارے بغیر نہیں رہ پائیں گے تمارے باپ کے بچے نہیں ہیں ۔پری میرے لیے اپنی اور سب کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالو۔تم بہت لوگوں کی زندگی ہو میرا کیا ہے میں تو کوہ پیما ہوں مجھے ازل سے پتہ تھا میری موت پہاڑوں میں آنی ہے ۔میں نے ہمالیہ میں ہی مرنا ہے میرا کیا ہے پریشے میرا رونے والا کوئی نہیں ہے ۔
اس نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا اس نے چھڑا ریا۔
تم کیا سمجھتے ہو مجھے میں اتنی خود غرض اور بے حس ہوں کے تمیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی ۔تم مجھے سمجھتے ہی نہیں کیا سمجھو گے مجھے ۔اس کی آواز میں رونا تھا۔کیا سمجھ کر تم نے مجھے یہ سب کہا۔تمیں لگتا ہے تمارے کہنے سے چھوڑ کر چلی جاؤں گی اتنی بری ہوں میں ۔
پاگل مت بنو خدا کے لیے چلی جاؤ ورنہ تمارے باپ کو تماری لاش بھی نہیں ملے گی ۔سب میری غلطی تھی میں تمہیں پہاڑوں میں لایا تھا ۔پھر برفشار کے بعد تم نے میری جان بچائی میری پٹی کر دی بہت شکریہ
اس سے زیادہ تم میرے لیے کچھ نہیں کر سکتی میں جانتا ہوں
202
میں مر جاؤں گا کبھی بھی نیچے نہیں جا سکوں گا ۔میں ہمالیہ سے جڑا ہوں مجھے یہی مرنا ہے میں یہی خوش ہوں ۔وہ تھک کر گہری سانس لینے لگا۔
میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں تمہیں لگتا ہے زندہ رہ لو گی۔کتنی آسانی سے سب کہہ ڈالا ہے جیسے دونوں کے بیچ کوئی تعلق حثیت نہیں رکھتا ۔
تم رہ لو گی تمارے پاس بہت رشتے ہیں تم چند ماہ میں ہی مجھے بھلا دو گی۔بہت سے کلا ئمبنگ پارٹنر مہموں کے دوران ہی مر جاتے ہیں
سو واٹ؟ کلائمبنگ پارٹنر ؟؟؟کیا یہی ہوں میں تماری؟؟؟
افق نے نقاہت بھرے انداز میں اسے دیکھا تم چلی جاؤ پری اسلام آباد پنجاب جہاں سے آئی ہو واپس چلی جاؤ
ہاں ایک بار ترکی ضرور جانا ڈاؤن ٹاون میں میرا گھر ہے حسن حسین ارسلان کا گھر وہاں میری ماں سے ضرور مل لینا۔اسے بتانا اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا بس راکاشی کے پہاڑوں سے لڑ نہیں سکا اس نے ہار مان لی ۔
پریشے نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تم کیا سمجھتے ہو مجھے یہاں سے بھیج کر قربانی کی مثال پیش کرو گے ۔
تمارے لیے قراقرم محل تعمیر کروایا جائے گا۔تماری بہادری کے قصے سنائے جائیں گے ۔یوں چپ کر کے موت کا انتظار کرنا بہادری نہیں بزدلی ہے ۔ایسے تو ڈر کے چوہا بھی نہیں بیٹھتا تم چوہے سے بھی بزدل نکلے۔۔۔تم تو ۔۔۔۔۔۔
چاٹخ کی آواز کے ساتھ زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔
ایک لمحے کے لئے آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔
شٹ اپ جسٹ شٹ دی ہیل اپ
دفع ہوجاؤ تم یہاں سے مجھے تماری شکل سے نفرت ہے نہیں چاہئے ہمدردی مدد تماری نکل جاؤ یہاں سے وہ بھی ایسے ہی چلی گئیں تھی سب ایک سی ہوتی ہو تم لوگ۔۔۔
203
وہ زور زور سے چلاتےہوئے اسے وہاں سے نکل جانے کو کہہ رہا تھااور اپنے بائیں رخسار پے ہاتھ رکھے وہ سن سی ہو کراسے دیکھ رہی تھی – یقینا”اس کی آنکھوں نے غلط دیکھا تھا، اس کے گال نے تھپڑ محسوس کیا تھا –
“تم نے…….مجھے تھپڑ مارا؟”اس نے بےیقینی سے اپنا ہاتھ رخسار سے ہٹا کر دیکھا جیسے اس پر افق کے ہاتھ کا نشان ہو اور اسے دوبارہ گال پر رکھا-اسے یقین نہیں آرہا تھا –
افق نے اسے تھپڑ مارا؟ افق نے؟وہ بھی اتنے زور سے-اس کا پورا دماغ گھوم گیا؟وہ اتنا طاقتور تھپڑ افق نے مارا؟واقعی؟
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور باہر نکل گئی-
خیمے کے باہر برفانی طوفان اسی طرح جاری تھا – سرد طوفانی ہوا اس کے باہر نکلتے ہی اسے ادھر ادھر لڑھکانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ مظبوطی سے خیمے کے دروازے دو گز دور ،بازو سینے ہے باندھے کھڑی سامنے دیکھتی رہی –
صبح صادق کا وقت تھا – سورج کہیں سے بھی دیکھائی نہ دیتا تھا ، کیونکہ آسمان پر سیاہ بادلوں اور ان سے نیچے برفانی طوفان کا راج تھا – روشنی صرف اتنی تھی کے وہ شدید دھند میں محض پچاس میٹر تک دیکھ سکتی تھی – برف ابھی تک گررہی تھی، مگر رات کی طرح کا شدید وآئٹ آوٹ نہیں تھا –
کتنی دیر وہ برف میں ہاتھ باندھے اسی طرح، ساکت پتلیوں سے پلکیں جھپکے بغیر سامنے دیکھتی رہی،جیسے دھند، برف باری اور طوفان میں کوئی جیتی جاگتی ممی کھڑی ہو-اس کی ٹوپی ہوا کے باعث اڑ کر دو گز دور گرگئی – ہر پل گرتی برف اسے سفید کرتی رہی ، مگر وہ اسی طرح کھڑی دھند میں دیکھتی رہی-دفعتا”اس کے عقب میں دھیمی آہٹ ہوئی –
بہت مشکل اور شدید تکلیف کے عالم میں وہ ski poleکا سہارا لئے چل کر باہر آرہا تھا – اس سے اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اور طوفانی ہواؤں کی چنگھاڑتی آواز کے باوجود اس کی ہر قدم رکھنے کے ساتھ لبوں سے نکلنے والی کراہیں سنائی دے رہی تھیں – وہ بمشکل چلتا ، لنگڑاتا اس کے قریب آیا مگر پریشے گردن کو جنبش دیئے بغیر سامنے دیکھتی رہی – اسے گال پر افق کے طمانچے کی حرارت اور درد ابھی تک محسوس ہورہا تھا –
چندلمحےوہ کچھ کہے بغیر اسے دیکھتا رہا، پھر اس کی نگاہیں پریشے کے چہرے سے پھسلتی اس کے اڑتے بالوں پر جا ٹھہریں – اس نے اردگرد متلاشی نگاہیں دوڑا کر کچھ ڈھونڈنا چاہا،پھر جس
204
طرف ٹوپی گری تھی،اس طرف بڑھنے لگا-
پریشے نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جو لنگڑاتے ہوئے، بدقت ایک ٹانگ پر زور ڈالے چل کر ٹوپی کے قریب آگیا – اس نے جھک کر ٹوپی اٹھائی، اس پر لگی برف جھاڑی اور اسے لے کے واپس پریشے کےقریب آنے لگا – تب اس نے محسوس کیاکہ وہ دایاں پاؤں قدرے ٹیڑھا کرکے رکھ رہا تھا جیسے اس میں بہت تکلیف ہو-
“اسے پہن لو-“اس نے ٹوپی اس کی جانب بڑھائی –
اس نے چپ چاپ ٹوپی تھام کر سر پر پہن لی اور پھر گھنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا ، “اگر تمہیں لگتاہے کہ مجھے تھپڑ مارکر، مجھ پر چیخ چلا کر ، مجھے خود سے متنفر کرکے تم مجھے یہاں سے جانے پر مجبور کردو گے تو تم غلط ہو-میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاوں گی -میں حنادے نہیں ہوں افق میں پریشے ہوں-“
افق نے خاموشی سے سر کو اثبات میں ہلایا –
“اب چلو اندر-“اس نے ڈپٹا – وہ سر جھکائے اس کے آگے چلتا ہوا اندر خیمے میں داخل ہوا-
بیٹھو اوراب اپنا جوتا اتار کر مجھے اپنا پاؤں دیکھاو -“وہ دیوار سے ٹیک لگا کر ٹانگیں سیدھی پھیلائے بیٹھ گیا تو وہ تحکم سے بولی-
میرا پاوں ٹھیک ہے-اسے کچھ نہیں ہوا-“افق نے فورا”اپنا دایاں پاؤں دور ہٹایا –
“میں نے جو کہا ہے،جوگر اتارو-“
“مگر میں تھک گیا ہوں ڈاکٹر -“اس نے جوتے پر یوں ہاتھ رکھ دیا جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنی غلطی چھپانے کی کوشش کرتاہے –
“یہ فیصلہ کرنے والی میں ہوں کہ تم ٹھیک ہو یا غلط-مجھ سے بحث مت کرو اور جوگر اتارو-“
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
“میں کہہ جو رہا ہوں کہ میرا پاوں ٹھیک. ……….”
اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر پریشے نے اس کے چہرے پے زوردار تھپڑ مارا –
“پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہی ہوں – مجھے اپنے سامنے بڑبڑاتے ہوئے مریض زہر لگتے ہیں-ڈاکٹر کے سامنے خاموش رہا کرو-اب اتارواپناجوتا -“
افق نے حیرت اور بے یقینی سے ہاتھ سے رخسار کو ہو لے سے چھوا، جیسے کچھ محسوس کرنے کی کوشش
105
کر رہا ہو۔پھر اس کے تاثرات حیرت سے مدھم مسکراہٹ میں بدل گئے ۔اس نے خاموشی سے سر جھکائے مسکراتے ہوئے جوگر کا تسمہ کھولا۔پریشے نے جیسے کہیں کچھ برابر کر دیا تھا ۔
اس کے پاؤں کا انگوٹھا زخمی تھا ناخن ٹوٹ چکا تھا ۔خون جما ہوا تھا ۔ناخن کے نیچے والی جگہ وہ اس لیے پریشان تھی افق نے اسے بتایا نہیں ۔
مجھے سے یہ زخم چھپاتے ہوئے شرم نہیں آئی۔اس کا زخم صاف کرتے ہوئے طنز کیا۔
بالکل نہیں آئی اس نے معصومیت سے جواب دیا۔
اب پہن لو جرابیں اس نے پٹی کر کے بولا وہ آرام سے جرابیں پہن کر تسمے بندھنے لگا اس کے لبوں پر اداس مسکان تھی ۔
ہمیں ہر حال میں نیچے کا سفر آج ہی شروع کرنا ہے ۔دعا کرو آج طوفان کا زور ٹوٹے اور سورج نکل آئے۔پھر برف باری بھی ہوئی تو ہم ڈسینڈکر لیں گے ۔چولہے پر برف پگھلا کر پانی گرم اچھا افق کے برتن میں ڈالا آدھا خود تھام لیا۔
میں جانتی ہوں تمارا ذخم گہرا ہے مگر ہمت کرنی ہو گی اپنے لیے نہ سہی میرے لیے کرو گے نا افق؟؟
گھونٹ گھونٹ پانی پیتے افق نے اثبات میں سر ہلایا۔
پریشے نے آخری پادر با اس کی طرف بڑھایا کھا لو۔
کھا لو طاقت ملے گی وہ خاموشی سے کھانے لگا۔
پریشے نے گیس کی مقدار چک کرتے ہوئے کہا بس دو دن کی بچی ہے گیس۔وہ بھی پانی بنانے کے لیے ان کو ہر آدھے گھنٹے بعد گرم پانی کی ضرورت پڑتی تھی ۔ساڈھے سات ہزار میڑ دو گھونٹ گرم چائے تھوڑی سی گیس زندگی اور موت کے درمیان فرق کرتے تھے ۔
پاور بار ختم کر کے جانے کب وہ بیٹھے بیٹھے سو گیا ۔پریشے کو پتہ بھی نہیں چلا۔جب وہ اپنے خیال سے باہر نکلی اسے انگھتے دیکھا کتنا کمزور لگ رہا تھا زردی نما سفید چہرہ
106
اس کا سرخ سہنری پن رنگت آج میں نظر نہیں آ رہی تھی ۔
باہر طوفان کا شور وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔نیند میں کبھی وہ ہلکا سا کھانس دیتا۔
اسے افق پر بہت ترس آ رہا تھا ۔اس کی ٹانگ یقیناً اتنی دکھ رہی تھی۔اس کا عزم حوصلہ ہمت جواب دے گیاتھا۔اسے علم ہو چکا تھا کہ وہ مر جائے گا لیکن مرتے مرتے بھی وہ اپنی سانس اسے دینا چاہتا تھا ۔اسے وہاں سے بھیجنا چاہتا تھا ۔وہ اسے لفظوں میں نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ خیمے میں زندگی بچانے نہیں بیٹھی تھی ۔جو اس کے سامنے سویا ہوا تھا وہ اس کی زندگی تھا ۔بعض لوگوں کی زندگی اتنی ہمیں اہم ہوتی ان کے بغیر رہ نہیں جا سکتا ۔ان کے بغیر بس مرا جا سکتا ہے ۔
اسے افق سے پہلی نظر کی محبت ہوئی تھی وہ شاید اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا پری نے اسے کتنا ٹوٹ کر چاہا تھا جب اس نے اسے تھپڑ مارا پھر بھی ایک لمحے کو بھی چھوڑ کر جانے کا نہیں سوچا۔وہ جانتی تھی وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔اس لئے اس کے باہر نکلنے پر پیچھے ہی آ گیا تھا ۔اظہار نہیں کرتا تھا مگر محبت کرتا تھا کتنی خاموش محبت تھی دونوں کی چاہنا بھی اور نہ بتانا بھی کیا ایسے بھی کسی نے محبت کی ہو گی۔
برف باری جاری سورج طلوع نہیں ہو پا رہا تھا غلبا صبع کا ٹائم ہے اس نے ریڈیو کا سلسہ کیمپ سے جوارا۔
احمت ہمیں آج رات تک ہر حال میں ڈیڑھ ہزار میڑ ڈیسنڈ کرنا ہے مگر میرے پاس صرف اسی میڑ لمبی رسی ہے باقی چوری سو میڑ کیسی ڈیسنڈ کروں آواز میں تھکن تھی وہ کوئی سپر مین تو نہیں تھی کہ عصاب جواب نہیں دیتے مگر اس نے ایک شخص کے لیے خود کو ٹوٹنے سے روکا وہ افق کو مرنے نہیں دے گی اس نے عہد کر رکھا تھا ۔
میں کلائمبر نہیں ہوں ڈاکٹر میں کیا کہہ سکتا ہوں ویسے تم نے جو رسی پہلے لگائی تھی وہ کہاں گئی ۔؟
وہ بوف میں دب کر گم گی ہوتی بھی تو کیا فائدہ ہم رستہ بھٹک گئے
207
ہم دوسرے رستے پر آ چکے ہیں تھوڑا سا شمال کی طرف اب سمجھ نہیں آ رہا کے اسی میڑ سے ڈیڑھ ہزار میڑ کیسے ڈیسنڈ کروں؟
کچھ کرو کچھ سوچو۔
افق کیسا ہے؟
اس کے پاؤں پر بھی بہت ذخم تھا صاف کر کے پٹی باندھی اب سو رہا اس نے ایک نظر افق پر ڈالی۔
اچھا وہ ہنس دیا
ہنسے کیوں؟
افق کو پچھلی بار ناگاپربت پر برفشار نے 480 میڑ نیچے پٹخا تھا ۔آٹھ ایک ہی رسی پر تھی ایک گرتا سارے جاتے مگر سب بچ گئے تھے صرف افق کے پاؤں میں چوٹ آئی تھی اس کا باس کہتا تھا تم بے عزتی اور برفشار پروف ہو۔
وہ ہنس دی
یقین کرو ڈاکٹر اگر وہ اس کے باپ کو دوست نہیں ہوتا اب تک اسے شوٹ کر چکا ہوتا مگر اس بار افق نے باس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ راگاپوشی کی چوٹی سے کنکروڑیا بلتورو دیکھ کر واپس آ جائے گا اور پھر کبھی پہاڑوں میں نہیں جائے گا۔
میں نے راگاپوشی کی دیوار سے وہ چوٹیاں دیکھ لی مگر یقین کرو کوئی خوشی نہیں ہوئی وہ زندگی سے زیادہ حسن نہیں ہیں اور سنو وہ کرنل فاروق کدھر ہے ؟
آج سارا دن یہی رہے دور بینوں سے تمہیں کھوجنے کی کوشش کرتے رہے ۔
انہیں کہنا ہم رات تک ڈیسنڈ کرنے کی کوشش کریں گے اور پاپا کی کوئی میل تو نہیں آئی؟
اس نے بے قراری سے پوچھا
آئی تھی کہہ رہے تھے ارسہ کی موت کی خبر نیوز پر آئی
تمارے لئے سخت
208
پریشان ہیں میں نے کچھ سچ کچھ جھوٹ ملا کر تماری طرف سے مکمل خیریت کی اطلاع دی۔
بہت اچھا کیا اور فرید بیس کیمپ پہنچ گیا ہے؟ اسے یہ بات پوچھنا آج یاد آیا
وہ ادھر نہیں آیا۔
پریشے کے قدموں سے زمین نکل گئی
تو پھر وہ کہاں گیا؟ وہ پریشان ہو گئی وہ نیچے نہیں اترا؟
نیچے تو وہ دو دن پہلے ہی آ گیا تھا پھر وہ کریم آباد واپس چلا گیا مجھے لگا تم اس کے آنے کے متعلق پوچھ رہی ہو ۔
احمت تم نے میری جان نکال دی اس کا دل احمت کا سر پھوڑنے کو چاہا۔
پھر کتنے پل گزر گئے طوفان نہ روکا نہ آہستہ ہوا
اگر رسی زیادہ ہوتی تو دونوں طوفان میں بھی نیچے اتر سکتے تھے زخمی ٹانگ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ رسی تھی افق اسی طرح سو رہا تھا اس کی جیب سے کچھ سرخ نظر آ رہا تھا پریشے نے اگے بڑھ کر اس سرخ کپڑے کو کھنچا وہ افق کا ترکی والا مفلر تھا وہ مفلر کو دیکھ کر سوات میں گزرنے والے پل یاد کرنے لگی کتنی دیر وہ مفلر سے کھیلتی رہی۔یہ وہی ترکی کا جھنڈا نما مفلر تھا جو راگاپوشی پر لہرانا تھا پریشے چوٹی پر رکھنے کے لئے ماں کی تصویر لائی تھی۔پاکستان کا جھنڈا وہ بھول آئی تھی
مفلر لمبا سا تھا اس نے اس کے دونوں سرے ہاتھوں پر لپیٹ لئے او خدا اس نے چونک کر سر اٹھایا میں کتنی اسٹوپڈ ہوں مجھے پہلے کیوں نہیں خیال آیا وہ افق کو اٹھانے لگی افق افق ااٹھو وہ مفلر چھوڑ کر اسے جھنجھوڑ کر اٹھانے لگی وہ ہڑ بڑا کر اٹھا چلو جلدی جہاں سے ہمیں نکلنا ہے مجھے سمجھ آگئ کیسے اترنا ہے ۔
209
کیسے؟
وہ حیران پریشان اسے دیکھ رہا تھا ۔آنکھیں نیند کے باعث ابھی تک ٹھیک سے کھلی نہیں تھی ۔
ہم Rapelling کر کے اتر سکتے ہیں رسی کو ڈبل کر کے میرے پاس 80میڑ لمبا رسا ہے ڈبل کر کے اتر سکتے ہیں اٹھو جلدی کرو۔
سارا سامان باندھنے لگی اپنی ہارنس سے افق کی ہارنس باندھنے لگی۔
بیگ ہلگا ہے تمارا افق نے یوہی پوچھ لیا
سب یہی چھوڑو اس نے ادق کو سہارا دیا اور باہر نکل آئے
اس نے برستے طوفان میں کام کرنا تھا ساتھ ساتھ اپنے مرد کا وزن بھی اپنی کمر اٹھانا تھا وہ کوئی نازک چھوٹی موٹی لڑکی نہیں تھی ۔سپورٹس وومن تھی ایک اچھی کوہ پیما وہ یہ سب کر سکتی تھی باوجود اس کے اس نے کچھ کھایا نہیں مگر اسے افق کو بچانا تھا ہر حال میں یہاں سے نکلنا تھا ۔وہی خیمے کے قریب اس نے بال برابر کریک تلاش کیا اب اس نے رسی پی ٹون سے باندھی ایسے کے دونوں سرے ہاتھ میں پکڑ لیے وہ افق کو لیے اترنے لگی
رسی ڈبل ہو کر اب چالیس رہ گئی تھی وہ دونوں چالیس میڑ نیچے اترے۔پریشے نے ایک سرا چھوڑ کر دوسرا سرا زور سے کھنچا پوری رسی اس کے ہاتھ میں آ گئی ۔اب جہاں سے اتری بیگ سے دوسرا پی نکال کر نصب کرنا شروع کیا ۔
طوفانی ہوائیں اوپر نیچے چل رہی تھی افق مسلسل کرا رہا تھا نہ چل سکتا نہ مزید برداشت کر سکتا تھا مسلسل گرتی برف سے پریشے پی ٹون
210
گاڑے نہیں جا رہے تھے ۔شروع کے چند گھنٹے افق چل کر اترا تھا مگر وہ بھی بہر حال کوشش کر رہا تھا مگر ہمت جواب دے گئ اب اسے پریشے سہارا دے کر اتار رہی تھی ۔
پلیز افق ہمت کرو۔تمہیں زندہ رہنا ہے تمہیں پریشے کے لیے زندہ رہنا ہے
پری مت کر اب مجھے ہمت نہیں ہے
میں تمارے سر میں یہ پی ٹون ماروں گی اگر اب ٹر ٹر کی
چپ کر کے اترتے جاؤ اترنے کے دوران اس کے زہین میں سب حادثے آ رہے تھے وہ ایک زخمی کے ساتھ تھی جیسے چلنے کی سکت نہیں تھی
برف گرتی رہی ہواہیں چلتی رہی وہ نیچے اترتے رہے وہ ان کی راہ میں آ جاتا وہ بڑھتی دھند کی دشمن بن جاتی
وہ دوپہر کا وقت تھا مگر شام لگ رہی تھی گلیشئر پر برف پڑ رہی بار بار اسے صاف کرنا پڑتا افق گلاسز کے بغیر اتر رہا تھا وہ شدید تکلیف میں تھا اس کی ٹانگ ٹوٹی اور شدید سردی سے زخم خراب ہو رہے تھے بہادر انسان تھا جانے کیسے برداشت کر رہا تھا ۔
بس ہمت کرو افق ہمیں پہنچنا ہے پھر کرنل فاروق اپنا ہیلی کاپٹر لے کر وہاں پہنچ جائیں گے بس چند گھنٹوں کی بات ہے وہ بمشکل سانس لے کر افق کی ہمت بنا رہی تھی
ایک جگہ وہ گلیشئر میں گلاسسز صاف کرنے رکی تو افق زور سے کھانسا اس کے زہین میں الارم بجا ایڈیما
مگر شکر کے وہ ایڈیما نہیں تھوڑا تنفس پرابلم تھا ایڈیما بھی ہوتا تو کوہ ہمالیہ کا ابِحیات اس کے پاس علاج تھا
211
راکا پوشی پر دھیرے دھیرے شام اترنے لگی-ان کے اطراف میں موجود دیوہیکل سیاہ اور سفید پہاڑ دھند کے پردے میں خاموشی میں ﮈوبے تھے-ہزاروں میٹر نیچے دلکش وادیاں پھیلی تھیں-وہاں فرید کا کریم آباد بھی تھا,جس کی باسیوں کو علم بھی نہ تھا کہ وہ دو نفوس شام کی نیلگوں کی روشنی میں اترائی کا سفر….زندگی کا سفر کر رہے ہیں-آےدن کوہ پیماؤں کے مرنے کی خبریں ملجایا کرتی تھیں,کریم آباد کے باسیوں کے لیے یہ معمول کی بات تھی-
پھر اندھیرا پھیلنے لگا-انہیں اس سفر میں جتنی دیر ہو چکی تھی,اس میں کوئی آدمی لاہور سے پنﮈی جا کر واپس لاہور بھی آ سکتا تھا-اور ان سے ابھی تک ایک کلو میٹر طے نہی ہو پایا تھا-جو سفر صاف موسم میں وہ چند گھنٹوں میں کد سکتے تھے,وہ اب تین گنا زیادہ وقت لے رہا تھا-وہ بار بار میٹر چیک کرتی,مگر سوئیابھی چھے ہزار کے ہندسے سے اوپر تھی-
دفعتا طوفان نے زور پکڑنا شروع کر دیا-برو پھر سے جاگ اٹھا-برف باری میں شدت آ گئی اور بلاآخر افق کی ہمت جواب دے گئی-وہ اترتے اترتے وہیں برف پر نﮈھال سا ہو کر گر گیا-
“نہی اور نہیں…..تم بے شک جاو,میں اور نہی-“طویل سانس لیتا وہ بے ربت جملے کہتا برف پر پڑا تھا-پریشے نے پریشانی سے میٹر دیکھا-6320 میٹر-
“نو نیور….تم جاو…..مجھے……مجھے ادھر ہی مرنے دو….میں اور نہی جا سکتا-“وہ اکھڑتی سانسوں کے درمیان نفی میں سر ہلاتے ہوے انکار کر رہا تھا-
وہ جگہ بلکل امودی تھی-جیسے کسی تکون کی ایک سائﮈ ہوتی ہے یاجیسے کسی چھت کی منﮈیر-چند قدم آگے بڑھتے تو نیچے گر جاتے-وہاں تو خیمہ بھی نصب نہی کیا جا سکتا تھا-
طوفان ہر گزرتے پل وحشی ہو رہا تھا-برفیلی ہوا ہﮈیوں میں گھس کر خون منجمد کر رہی تھی مگر افق اس سے ایک انچ نیچے نہیں اترنا چاہتا تھا-پریشے نے کھینچ کر رسی کو اپنے ہاتھ میں کر لیااور فولﮈ کر کے ایک کندھے پر ﮈال لیا-اب اسے خیمہ گاڑنے کو جگہ ﮈھونﮈنی تھی-کون کہہ سکتا تھا کہ وہ وہی پریشے تھی جو گھوڑے سے ﮈرتی تھی-
اس نے افق کو برف میں دونو اطراف سے رسی گزار کر باندھ دیا,ایک اور ﮈھیلا سا بھی برف کی دیوار میں نصب کر دیا تاکہ وہ نہ گرے-اس کی”سیفٹی روپ”کا کھینچاؤ چیک
212
کر کے وہ خیمے کی جگہ ڈھونڈھنے کی خاطر تاریکی اور طوفان میں گھٹنوں کے بل برف پر رینگتی رہی۔ادھر آئس ایکس مارتے ہوئے کوئی پلیٹ فارم تلاش کرنے لگی۔
کم بصارت گہری تاریکی ہڈیوں کو کھاتی سردی وہ زیادہ دور نہیں جا سکتی تھی اگر سکاف فشر نے کہا کے کوہ ہمالیہ کا اندھیرا آپ کا دوست نہیں ہو سکتا تو بالکل ٹھیک کہا وہ ویسے ہی دیوار کے ساتھ باندھا بیٹھا تھا جیسے وہ چھوڑ کر گئ تھی چہرے پر بڑھتی شیو پر برف کے زرات
وہ تھک کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔طوفان کا شور ناقابل برداشت کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا ۔
یہ سوا چھے ہزار میٹر ہے یہاں ہیلی کاپٹر آ سکتا ہے وہ کانپتے ہوئے بولی جواب میں افق نے کچھ نہیں کہا۔
اس نے ڈرتے ہوئے افق کا کندھا ہلایا افق مگر اس میں جنبش نہیں آئی وہ پھر افق
اس نے بہت ہلکا سا ہوں کیا پریشے کو سکون ہوا
درد ہو رہا ہے؟
نہیں
مگر اس کی آواز سے ظاہر ہو رہا تھا
فکر نہ کرو وہ آتے ہی ہوں گے اس کو سہارا دے رہی تھی یا لے رہی تھی سمجھ نہیں آئی
جانے ہیلی کاپٹر کب آئے گا اس نے کمر سے بندھی ریسک سے ریڈیو نکالا
کم ان بیس کیمپ ہاتھ اتنے منجمد تھے کے بٹن بھی نہیں دب رہے تھے ۔
ائی اہم ہیر احمت کی آواز غنودگی سے بھری تھی
احمت ہم کوئی سواچھے ہزار میڑ کی بلندی پر ہیں ایسا کروں میری کرنک فاروق سے بات کرواؤ انہیں لوکیشن دیتی ہوں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: