Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 16

M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 16

–**–**–

#چوٹی_دسویں_حصہ_چہارم
قسط 16
کرنل فاروق تو چلے گئے
پریشے کو لگا اس نے غلط سنا
کہاں چلے گئے؟
واپس سکردو
جیسے پورا گلیشئر اس کے سر پر پھٹا وہ ریڈیو کو کنگ سے دیکھ رہی تھی
وہ کیسے چلے گئے انہوں نے تو ہمیں ریسکو کرنا تھا اس سے الفاظ ادا نہیں ہو پا رہے تھے جیسے ساری قوت سلب ہوگئ ہو
وہ کہہ رہے تھے موسم خراب ہے اور بھی کوئی پرابلم تآئی ڈونٹ نو صبع ہی چلے گئے
تب پریشے کو حساس ہوا وہ کھلے آسمان تلے تہنا بے بس پڑی ہے
احمت وہ کیسے جا سکتے ہیں ہم نے ان کے کہنے پر ڈیسنڈ کیا اور وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے کیوں؟؟؟؟
اس کا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہا رہا تھا وہ چھے فٹ مرد کو کندھے پر سہارا دے کر یہاں تک لائی اور اب وہ چلے گئے
فکر نہیں کرو صبع تک آجائیں گے ویسے تم نے اتنا زیادہ سفر نیچے کیسے طے کر لیا۔
رسی کو Repelled کر کے
وہ کیا ہوتا ہے؟
تمارا سر ہوتا ہے وہ زور سے چلائی۔
مجھ پر کیوں غصہ ہو رہی ہو میں سارا دن یہاں اکیلا پڑا راگاپوشی کا چہرہ دیکھتا رہتا ہوں شاید تم سے زیادہ سفر کر رہا ہوں وہ خفا سا ہوا
تم غلط وقت پر غلط بات کیوں کرتے ہو بجائے سوری کے اس پر چلائی۔
اچھا تم نیچے اترنے کی کوشش کرنا۔
جیسے مجھے معلوم نہیں خدا کے لیے احمت یہاں حالات بہت خراب ہیں برف
214
بہت پڑی ہے اور افق زخمی پڑا ہے ہم مزید رسی سے نہیں اتر سکتے ہمت نہیں ہے وہ چلائی۔
اچھا ہمت نہیں ہارو وہ صبع تک آ جائیں گے تم بس دو گھنٹے بعد گرم پانی کا کپ پی لو
پتہ ہے مجھے تم دنیا کے واحد ڈاکٹر نہیں ہو اس نے ریڈیو بند کر دیا۔
وہ سب سے رابطہ کر چکا تھا جہاں تک ہو سکا مگر پریشے کو لگا کے احمت اور فوج کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے وہ غصے سے ریڈیو واپس رکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
پاکستان آرمی سے اتنا نہیں ہوتا کے ۔۔۔۔۔
آرمی نے ہماری منت نہیں کی تھی کے اگست میں راگاپوشی جاؤ ہماری غلطی ہے وہ ہمارے لیے جو کر سکے کیا وہ تیز تیز بولتے کھانستے واپس برف سے ٹیک لگا لی۔یہاں سوچنا بھی مشکل کام تھا تازہ برف پڑ رہی تھی
وہ شرمندہ ہوئی شاہد خالص پاکستانی تھی اس لیے جلدی بدگمان ہو جاتی تھی ۔
اب ان کو یہاں پناہ چاہےتھی جو صرف دیوار پر جمی برف دے سکتی تھی اس نے تھکن کے باوجود تیز تیز ہاتھوں سے برف کھودنے لگی برف اس کے چہرے بالوں میں پھسنے لگی۔
215
پورا دن افق کو سہارا دینے سے اس کی کمر میں شدید درد تھا۔وہ اسی دیوار سے بندھا آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا سو رہا تھا یا کچی آنکھیں تھا پریشے نے اسے جگایا ۔
اٹھ جاؤ میں نے ہم دونوں کے لئے ایک زبردست اپارٹمنٹ تیار کیا ہے زرا موسم ٹھیک ہو جہاں سے پورا قراقرم نظر آتا ہے ۔اب ہمیں اس میں شفٹ ہونا ہے دیکھو دار دو میں نے کیسے اکیلے سب کر لیا۔وہ پہلی خوشگوار بات تھی جو اس نے نہایت ناخوشگوار ماحول میں کہی تھی افق کی رسیاں کھولنے لگی یوں لگتا ہے میں نے تمہیں یہاں اغوا کر کے رکھا ہوا ہے وہ اپنی بات پر خود ہی ہنس رہی تھی وہ اسے غنودگی کی حالت میں حیرانی سے دیکھ رہا تھا اسے شک گزرا کے پریشے کا دماغ خراب ہو گیا کہاں اتنا پریشان اور اب اتنی خوش اس کی حس مزاع جھاگ اٹھی۔
وہ افق کو نہیں احساس دلانا چاہتی تھی کہ انہیں اس چھوٹے سے برف کے سراغ میں زندہ رہنا ہے رو رو کر نہیں تو ہنس ہنس کر جی لیں۔
اس نے سرنگ ایسی نبنائی تھی جیسے ٹی سی سکین کے لیے مریض کو لیٹایا جاتا ہے اس میں ان دونوں کو رہنا تھا وہ بس اتنی تھی کے دو آدمی کمر ٹیکا کر ٹانگیں پھیلا کر گھس سکتے تھے برف سے انسان کو صرف برف بچاتی ہے جیسے ہیرے کو ہیرا کاٹتا ہے اسی طرح برف گرمی حرارت بھی پہنچاتی ہے اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے اگر ان کے پاس دو سلیپنگ بیگ ہوتے تو اسے غار نہ کھودنی پڑتی۔ورنہ اسی میں گزارہ ہو جاتا ایک بیگ ان کا برف فشار نے چھین لیا تھا وہ مشکل سے افق کو اس میں لائی اس کو لٹا کر پاس بیٹھ گیا افق کے شوز والے پاؤ غار سے تھوڑا باہر تھے برفانی غار ایسے تھا جیسے کسی نے فریزر کے اوپر ڈال کر اگے سے ڈکن کھولا ہوا ہے ایسا لگ رہا تھا وہ پرانے وقتوں میں چلی گئی ہے جب لوگ غاروں میں دیتے تھے
216
یہ سب سوچتے اسے جلد نیند آ گئی ۔خواب میں اس نے خود کو قدیم زمانے میں پایا ۔وہ لکڑہارے کی بیٹی ہے وہ ایک ذخمی سپاہی کو غار میں چھپا کر بیٹھی ہے دشمن اس کی تعاقب میں ہیں گھوڑوں کے بھاگنے کی آواز اس کے سر پر ہتھوڑے برسا رہی تھی اس کی آنکھ کھلی قدیم کا سارا رومانس غائب تھا اور جو گھوڑوں کا شور تھا وہ طوفان کا تھا۔برفانی غار رات سے اب قدرے گرم تھی۔وہ دوبارہ بیٹھے بیٹھے سو گئ افق بھی ساتھ سو رہا تھا ۔فرق یہ تھا افق چھوٹے بچے کی طرح اس کے گھٹنے پر سر رکھا تھا وہ گہری نیند میں واقعی ہی معصوم بچہ لگ رہا تھا ۔
ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ اس کے جینے کے لیے کافی تھی وہ آتے ہی ہوں گے دور تک دھند میں اس کی نگاہ انہیں گھوج رہی تھی وہ دل کو تسلی دے رہی تھی مگر زمین سے انہیں بچانے کوئی نہیں آیا تھا ۔
دونوں جانے کتنے گھنٹے اس غار میں ٹہھرٹھراتے رہے جو غار کم اور برف کا تابوت زیادہ لگ رہی تھی ۔
افق اٹھ گیا تو اس نے چائے بنا کر خود بھی پی اسے بھی دی۔چائے کیا تھی شکر کے بخیر قہوہ تھا۔افق نے دونوں ہاتھوں سے تھام کے کہنوں کے بل ہو کر گھونٹ گھونٹ کر کے گلے سے اتارا خالی کپ کر کے سائیڈ میں رکھ کر پھر سے پریشے کے گھٹنے پر لیٹ گیا ۔
پتہ نہیں کیا وقت تھا کیا تاریخ تھی حساب بھول گیا
پری افق نے اسے پکارا. ساتھ دور چند انچ دیکھ رہا تھا سو رہی ہو؟
نہیں سو نہیں رہی بس یوہی تھک گئی ہوں اس نے بند آنکھوں سے جواب دیا
217
پری میری جان بچانے کا شکریہ ۔تم نہ ہوتی میں مر گیا ہوتا۔تم نہ ہوتے تو میں شاید مر گئی ہوتی وہ کرب سے مسکرائی
پھر کتنے پل خاموشی چھا گئی
پری سو گئ ہو اس نے پھر پوچھا؟
نہیں آواز بے حد ہلکی تھی ۔
پھر بولتی کیوں نہیں ہو مجھ سے باتیں کرو۔تا کے مجھے لگے میں جہاں برف تابوت میں اکیلا نہیں ہوں وہ اس وقت ڑرا ہوا بچہ لگ رہا تھا شوخ چنچل افق سے اس طرح کی امید نہیں تھی
کیا بولوں تمہیں درد ہو رہا ہے ؟
ہر وقت یہی پوچھتی ہو
اور کچھ سوجتا ہی نہیں
غار میں ایک بار پھر خاموشی
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
وہ کافی دیر کچھ نہیں بولا تو پریشے نے آنکھیں کھول دیں
وہ اسی طرح لیٹے چھوٹی سی تصویر کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔حناوے مر چکی تھی مگر اس کے ہاتھ میں ایسے دیکھ کر اس کے اندر درد کی ٹیس اٹھی۔
پری اس کی آواز بہت دھیمی تھی تم نے کل یہ کیوں کہا تھا میں تمہیں حناوے سمجھتا ہوں میں نے تمہیں کبھی حناوے نہیں سمجھا تم پریشے ہو تم کبھی حناوے ہو ہی نہیں سکتی ۔وہ اسطرح بے ربط فقرے ایسے نہیں بول رہا تھا گرم چاہئے کی بخشی توانائی تھی ۔وہ جواباً کچھ نہیں بولی کیوں کہ اب افق نے سب خود بولنا تھا ۔
جانتی ہو لوگ کے ٹو کو سفاک پہاڑ کہتے ہیں بالکل ٹھیک کہتے ہیں وہ را گا پوشی کا نہیں کے ٹو عاشق تھا قراقرم میں رہنے والے شاہگوری بولتے ہیں اب میرے لیے اس کا نام لینا بھی تکلیف رے ہے وہ کہتے کہتے گھانسنے لگا گھانسی رکی تو کہنے لگا حناوے میرے چچا کی بیٹی تھی بہت خوبصورت
218
بہت مکمل اور بہت آرٹیفیشل ۔اس کی پرفیکشن کے متعلق تو تم تصور بھی نہیں کر سکتی ہمیشہ ٹپ ٹاپ میں رہتی تھی بنی سنوری فل میک آپ بہت آزاد خیال تھی ہمارے درمیان بہت فرق تھا آزار خیال نہیں روشن خیال ہوں اور بھی کئ فرق تھے وہ جیسے زہن پر زور دے کر یاد کر کے بتا رہا تھا ۔ہمارے خیالات کبھی نہیں ملے وہ مجھے بہت اختلافات کرتی تھی غالباً افق لڑتی تھی کہنے سے احتراز برت رہا تھا ۔وہ ہر بات سے مرضی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں نا وہ بھی ان میں سے تھی ہماری شادی کے چار سال ہوئے تھے دو سال بد ترین سال تھے وہ امرات سے آئی تھی وہی جانا چاہتی تھی اور میں ترکی میں اپنے والدین کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا
احمت کو بچپن سے بھانڈا پھوڑنے کی عادت ہے ہو سکتا ہے آپ کو سیدھا لگتا ہو میں اسے اٹھائس سال سے جانتا ہوں وہ میرا ہمسایہ بھی اور دوست بھی ہے احمت انتہائی تیز اور عقل مند ہے وہ جان بوجھ کر بھانڈا پھوڑتا تھا شکل کے بھوپن سے لگتا نہیں ہے ایسا۔ہاں زندگی میں پہلی بار اس نے حناوے کے سامنے اپنا منہ بند رکھا تھا قراقرم اور ہمالیہ کی پریوں کی بات اس نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی مگر نقصان ہو چکا تھا حناوے نے پریوں کے متعلق سن کر اعتبار نہیں کیا مجھے ہر پل طعنے دیتی۔
طوفان اب بھی ویسا ہی تھا پریشے نے پوچھا پھر شادی کیوں کی تھی اس سے؟
میری ماں کی خواہش تھی کہ میں ایک کلائمبر ہوں اور ایک کلائمبر کے ساتھ خوش ہوں گا حناوے بہت زبردست امریکن کلائمبر تھی اس سے پہلے میری
219
میری زندگی میں ایک لڑکی آئی تھی میری کلاس فیلو ہریٰ مجھے گمان گزرا کہ وہ میری آئیڈیل ہے اس کے ساتھ چھوٹا سا افیئر بھی چلا تھا مگر وہ میری آئیڈیل نہیں تھی یونہی ایک کرش تھی میں کوئی بہت فلمی ہیرو نہیں ہوں ۔جس کی اٹھائیس سالہ زندگی میں کوئی لڑکی نہ آئی ہو چھوٹے موٹے افیئر سب کی زندگی میں ہوتے ہیں پھر حناوے آئی میں اپنی جستجو میں ناکام ہو گیا سوچا نارمل انسان کی طرح رہنا چاہئے وہ مرتی نہ بھی تو شاید اب تک ہماری علیحدگی ہو چکی ہوتی میں اسی لیے کچھ اچھا برا سننا پسند نہیں کرتا
غار میں ایک بار پھر خاموشی
افق وہ کچھ دیر بعد بولی کے ٹو پر کیا ہوا تھا؟ تم دو سال پہلے حناوے کے ساتھ سر کرنے آئے تھے ناں؟
کتنی دیر خاموش رہا اس کی آنکھوں میں درد کرب تھا
وہ بھی کے ٹو کو ڈیسنڈ کرتے بہت مشکل ہے وہ بھی جتنے لوگ جاتے بہت کم واپس آتے اسے فتع کر کے انا اسان نہیں پھر کھانسنے لگا اس کی توانائی ختم ہوتی جا رہی تھی وہ بہت سخت طوفان تھا ناگاپریت راگاپوشی ایورسٹ سب جیسا ایک سا طوفان ہوتا ہے میرے ٹیچر کہا کرتے تھے کے ٹو پر طوفان آ جائے سامان پھینک کر زندگی کو بچاؤ بس
میں اور حناوے ساتھ تھے اس کی آکسجن ختم ہو گئی مجھے ایڈیما ہو گیا مجھے آکسجن کی ضرورت تھی ماسک چہرے پر لگائے رکھتا تھا وہ ڈیتھ زون تھا آٹھ ہزار میڑ یاد نہیں بس میں نڈھال ہو کر گر گیا حناوے کو آکسجن چاہیے تھی وہ بغیر اکسجن کے بھی ڈیسنڈ کر سکتی تھی مگر اس نے میرا ماسک سب مجھ سے نوچ کر نیچے چلی گئی وہ میری ساتھی کلائمبر نہیں
220
تھی وہ میری بیوی تھی مگر پھر بھی اس نے ایسا کیا میں بغیر اکسجن کے تین گھنٹے برف پر پڑا رہا کے ٹو کے طوفان کے دوران
حناوے نے کیمپ فور میں جا کر میرے متعلق بتایا کہ میں لاپتا ہو چکا ہوں مجھے دوسرے مہم کے گائیڈ نے اٹھایا اور نیچے لے آیا گرم چائے دی میرا ایڈیما بد ترین ہو رہا تھا میں نیم مردہ تھا وہی گائیڈ مجھے اٹھا کر نیچے لایا جہاں منیجر عاصم نے مجھے پک کیا میرے ہاتھ فراست بائٹ ہو چکے تھے عاصم نے بہت جدوجہد کی دوستی کا حق ادا کیا مجھے وہ لمہ نہیں بھولتا میں برف میں مردہ پڑا تھا مرنے ہی والا تھا دور ہیلی کاپٹر کی نظر مجھ پر آئی میرا نیا جنم ہوا تھا
اور حناوے؟
وہ ڈیسنڈ کے دوران کمیپ تھری میں برفشار کا شکار ہو گئی اس کی رسی ٹوٹ گئی تھی کیونکہ برفشار بہت تیز تھی وہ برف میں گم ہو گئی پھر حناوے کو کبھی کے ٹو نہیں دیکھا دفن کے لیے اس کی لاش بھی نہیں ملی
تم خواب میں بھی ڈر جاتے ہو نا؟
افق نے شاید کرب سے آنکھیں میچ لی
بس خواب پیچھا نہیں چھوڑتے جس مقام پر حناوے مجھے چھوڑ کر گئ تھی میں اس سے آکسجن مانگتا نہیں دیتی پری میری آکسجن بھی نہیں دی. اور مجھے برف پر مرنے کے لئے چھوڑ دیا میں خواب میں بھی دیکھتا ہوں تو درد سفاک شخص کوئی ہو سکتا جیسے وہ تھی ۔
وقت گزر رہا تھا باہر برف غار کا منہ بند کرنے کی سعی کر رہی تھی
221
بس شام تک ہمارے ڈیسنڈ ہوتے ہی وہ آ جائیں گے بس آتے ہی ہوں گے اس کی بے قرار نگائیں باہر دھند میں بھٹک رہی تھی انتظار کے لمبے طویل ہوتے جا رہے تھے دنیا کا سب سے مشکل کام انتطار راگاپوشی پر اور بھی گھٹن تھا
شام تک آ جائیں گے افق ڈونٹ یووری
پھر شام بھی آئی سیاہ رات بھی جن کو نہ آنا تھا نہ آئے
اس کا یقین ڈگمگا گیا مگر پھر بھی اپنی اور اس کی ڈارس باندھ رہی تھی رات گہری ہو رہی تھی انہیں بغیر کچھ تھا کھائے تیسرا دن تھا جو اپنے اختتام کو پہنچ رہا
ایندھن کی بھی ایک آخری بوتل بچی تھی ۔اس نے اسے ایسے تھما تھا جیسے خزانے کی کنجی بس ایک دن کے پانی کی گیس۔پاؤں سے زمین اور سر سے آسمان کھینچ لیا جائے تو کیا حال ہوتا ہے آج علم ہوا جانے کب یہاں سے نکل کر تازہ آکسجن میں سانس لیں گے ۔پریشے کے عصاب جواب دے رہے تھے افق بند آنکھوں سے مسکرایا
222
سو جاؤ ہیلی کاپٹر کے آتے ہی تمہیں اٹھا لوں گی ۔افق کو اس کی بات پر زخمی مسکراہٹ آئی جیسے پریشے یقین سے کہہ رہی تھی پھر وہ وہی نیند میں چلا گیا۔
اس کے سونے کے بعد اس نے ریڈیو نکال کر احمت سے رابطہ کیا
کیسی ہو ڈاکٹر وہ جیسے اس کی کال کے انتظار میں سویا نہیں پتہ نہیں کیسی ہوں میری ای میلز تو پڑھ کر سناؤ۔
اچھا سنو وہ لیپ ٹاپ کے سامنے ہی بیٹھتا تھا پہلی تو میری بیوی سلمی کی ہے لکھتی ہے پیاری پریشے جلدی سے عافیت سے نیچے آؤ۔سلمی کو میری طرف سے جواب دو۔
223
وہ میں پہلے ہی دے چکا ہوں
کیا لکھا ہے؟
تماری طرف سے اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ دیا ہے اور کیا وہ ہنسا۔اچھا یہ کسی کی سیف الملوک سے ای میل آئی ہوئی ہے
پریشے کے لبوں پر یکساں مسکراہٹ غائب ہو گئی سیف الملوک کو میں ان تین دنوں میں بھلا چکی تھی کیا لکھا ہے؟
میں نے اور ندا آپا نے برائیڈل ڈرس اڈر کر دیا ہے ماموں کہہ رہے تھے کارڈ رمضان کے بعد چھپائیں گے اور ماموں پرسوں کے بجائے ایک ہفتے بعد آییں گے ۔اب بس جلدی سے اپنا ایڈونچر ختم کر کے آؤ آنکھیں دیکھنے کو ترس گی ہیں ۔
تمارا سیف
اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے اس نے مشکل سے احمت کو بائے کہا اور ریڈیو بند کر دی ۔
جیسے وہ آسان سمجھ رہی تھی کہ افق کو پاپا سے ملوا دے گی اور تین سال پرانی منگنی توڑ دیں گے تو بہت غلطی پر تھی ۔وہ کبھی بھی کسی غیر ملکی کو اپنے بھانجے پر ترجیح نہیں دیں گے ۔راگاپوشی کے لئے اجازت دے دی مگر یہ ان کی عزت کا مسئلہ ہے وہ اپنے پیار کے لیے اپنے باپ کے خونی رشتوں کو ختم نہیں کر سکتی تھی ادھر اس کی شادی کی تیاری عروج پر تھی ادھر یہ منگنی توڑنے کا سوچ رہی تھی وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔وہ جانتی تھی پاپا بے دلی سے مان بھی گے تو افق کبھی بھی اسے یہاں نہیں چھوڑے گا ساتھ ترکی لے کر جائے گا اسے جانا پڑے گا پیچھے پاپا اپنے رشتے داروں کے ہوتے بھی اکیلے
224
ہوئے بھی ویسے ہی اکیلے ہوں گے ۔جیسے وہ اس وقت ان ویران پہاڑوں میں اکیلی پڑی تھی ۔وہ شخص اس کا باپ تھا وہ انہیں کوئی دکھ نہیں دے سکتی تھی ۔وہ برو کے خطرناک گلیشئر سے لڑ سکتی تھی وہ اپنے رشتےداروں کی منگنی توڑنے کے بعد کی ممکنہ بلیک میلنگ سے ہار گئی تھی ۔رات میں اس برفانی غار میں بیٹھے اسے افق اور اپنے باپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا ۔اس نے ایک نظر گہری نیند اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر سو رہا تھوڑی تھوڑی دیر بعد کراہتا شاہد زخم ناسور بنتا جا رہا تھا ناکابلِ برداشت تکلیف دے رہا تھا اس نے ٹوپی پہن رکھی تھی مگر بھورے بال اس کے ماتھے پر پڑے تھے باہر چاند نہیں تھا روشنی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی ۔
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی
وہ زیرِ لب بڑبڑائی اور آنکھیں موند لی۔اس نے اپنا انتخاب کر لیا تھا ۔
تم مجھے بہت دیر سے ملے ادق ارسلان ۔کاش پہلے ملے ہوتے آنسو اس کی پلکوں سے نیچے گر نے لگے۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: